حدیث نبوی ﷺ سے ہمارا رشتہ


الواقعۃ شمارہ: 98 – 100، رجب المرجب تا رمضان المبارک 1441ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

الحمد للہ کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں اور حضور نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنی کتاب قرآن مجید فرقان حمید نبی اکرم ﷺ پر نازل فرمائی جو ہماری زندگی کے تمام معاملات کے لیے کافی و شافی ہے۔ ہم مسلمان اس مبارک کتاب کو نہ صرف ہدایت کا خزانہ سمجھتے ہیں بلکہ اس میں اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اٹھنے والے سوالات اور مشکلات کا حل بھی ڈھونڈھتے ہیں اور ان کا حل یقیناً ہمیں یہاں سے ہی ملتا ہے۔ ہم یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ بعثت نبوی کا مقصد ہی انسان کو قرآن کی تعلیم دینا اور حکمت و دانائی سکھانا ہے اور یہی بات قرآن مجید میں اللہ نے بیان کی ہے۔مثلاً

 هُوَ الَّـذِىْ بَعَثَ فِى الْاُمِّيِّيْنَ رَسُوْلًا مِّنْـهُـمْ يَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِهٖ وَيُزَكِّـيْـهِـمْ وَيُعَلِّمُهُـمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَۖ وَاِنْ كَانُـوْا مِنْ قَبْلُ لَفِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (الجمعۃ: 2)۔

۔”وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں ایک رسول انھیں میں سے مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیات پڑھتا ہے، اور انھیں پاک کرتا ہے، اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور وہ بے شک اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔ "۔

كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيَاتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُـوْنُـوْا تَعْلَمُوْنَ (البقرۃ: 151)۔

۔”جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم پر ہماری آیات پڑھتا ہے اور تمھیں پاک کرتا ہے اور تمھیں کتاب اور دانائی سکھاتا ہے اور تمھیں وہ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔”۔

اوپر درج شدہ آیات کی روشنی میں ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایات کے لیے اپنا نبی بھیجا تو اس کو یہ چار واضح ہدایات دے کر بھیجا:-۔

۔1۔ اللہ کے احکامات کو لوگوں تک پہنچانا
۔2۔ لوگوں کو پاک کرنا
۔3۔ اللہ کی کتاب کو کھول کھول کر بتانا
۔4۔ دانائی و حکمت کی وہ باتیں بتانا جو لوگ نہیں جانتے تھے

گویا کہ یہ چار بنیادی باتیں ہی منہج نبوی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو چاہا وہ ا حکامات اپنے بندوں کے لیے جاری کر دیے جو قرآن مجید فرقان حمید کی صورت میں حضور نبی ﷺ پر نازل ہوا اور آپ نے جوں کا توں لوگوں تک وہ پیغام پہنچا دیا۔ نہ اس میں کوئی کمی کی اور نہ کسی زیادتی کے مرتکب ہوئے۔ اللہ کا یہ پیغام آج تک نسل انسانی کے پاس جوں کا توں موجود ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت موجود رہے گا۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ اس کتاب ہدایت میں احکام تو ہیں مگر بہت ساری باتوں کی تفاصیل موجود نہیں۔ جیسے نماز کی ادائیگی کے لیے بلانے کا حکم تو ہے مگر بلانے کا طریقہ نہیں بتایا، نماز کی ادائیگی کا حکم تو ہے مگر نماز پڑھنے کی ترکیب نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان باتوں کا نبی اکرم ﷺ کے اعمال مبارک سے ہمیں پتہ چلتا ہے۔ یعنی اللہ کے احکامات کا صرف پہنچا دینا ہی کافی نہیں تھا بلکہ ان تمام احکامات کی مکمل تفاصیل اور ان کی جزئیات کا مہیا کرنا بھی اللہ کے پیغمبر کی ذمہ داری تھی۔ اور شاید اللہ نے جتنے نبی بھیجے سب اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے بھیجے اور انھوں نے اپنی زندگیوں میں اس ذمہ داری کو نبھانے میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں کی۔ مگر ہوا یوں کہ ان کی امتوں نے نبیوں کی مبارک زندگیوں میں ان ہدایات و احکامات اور ان کے طریقوں کی پاس داری بھی کی اور عملداری بھی کی مگر ان اعمال کو محفوظ نہیں رکھا جو وقت گزرنے کے ساتھ قطع و برید کا شکار ہو گئے اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ ان تمام پیغمبروں کی حیات مبارکہ کا کوئی گوشہ آج ان کی امت کے پاس نہ محفوظ ہے اور نہ ہی ان کی درستگی کا کوئی واضح اشارہ ہے۔ آج اگر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ دیگر امتیں اپنے نبیوں کے ارشادات اور ان کے اعمال سے کس قدر دور ہیں۔ یعنی ایک جدید ریسرچ کے مطابق سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے صرف چالیس دنوں کا حوالہ آج کی انجیل میں ملتا ہے۔ ان کی زندگی کے بقیہ ماہ و سال کیسے گذرے اور انھوں نے کیا احکامات جاری کیے اور کیا سکھایا وہ سب تاریکی میں ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کشمیر چلے گئے اور وہاں ہی تبلیغ دین میں مصروف رہے یہاں تک کہ واپس فلسطین آ گئے۔ کسی کا خیال ہے کہ آپ چین چلے گئے اور پھر واپس آئے۔ مگر کسی کے پاس کوئی واضح ثبوت نہیں سوائے اس کے کہ اللہ کے رسول اپنا علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اور یہی دنیا کے بیشتر مذاہب میں ان کے رسولوں اور نبیوں کے معاملہ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صرف اسلام کا ہی اعجاز ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپ ﷺ کی محبت کا ثبوت حضور پاک ﷺ کی حیات مبارکہ کے تمام گوشوں کو نہ صرف محفوظ کر کے دیا بلکہ اس علم کو ایسا مدون کیا کہ آج تک ہمارے نبی ﷺ کا ایک ایک عمل ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر گوشہ اور آپ ﷺ کے شب و روز اور اس کا ایک ایک عمل ہمارے لیے محفوظ ہے کہ ہم اس سے ہدایت حاصل کریں۔

حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی، اس کے اسرار و رموز کو جانا، قوانین شریعت کو آپ ﷺ سے سیکھا، یہ جانا کہ دنیاوی معاملات میں کس طرح کا سلوک ہونا چاہیے اور اخلاق کی اہمیت اور مقام کو سمجھا بلکہ حضور پاک ﷺ کی تمام حیات مبارکہ کو غور سے دیکھا اور آپ کے تمام اعمال سے، آپ ﷺ کی سیرت سے اور آپ ﷺ کے اخلاق سے اسباق مدون کیے، ان سے سیکھا اور ان تمام حسن سیرت کو اپنی زندگیوں میں نہ صرف یہ کہ ڈھالا بلکہ اس کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات و ہدایات، آپ ﷺ کے مواعظ، نصائح اور تعلیم و تلقین پر گہری نظر رکھی اور ان کو محفوظ کرتے چلے گئے یہاں تک کہ امت کا اپنا ایک مزاج وجود میں آیا جو درست اسلامی سانچے میں ڈھالا ہوا تھا اور امت کا نشان و امتیاز ٹھہرا۔ صحابہ کرام کی زندگیوں پر نظر ڈالیے تو ان کی زندگیوں کا ہر گوشہ انتہائی تابناک دکھائی دے گا۔ اسلامی عقائد و تعلیمات کے ساتھ ان کا رشتہ اس قدر مضبوطی سے جڑا ہوا دکھائی دے گا کہ دین کی تعلیم سے سر مو اختلاف نہیں دکھائی دے گا اور ان کے مزاج کی یہ درستگی اور پختگی صرف تلاوت قرآن اور اس کو سمجھنے کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے رسول اللہ ﷺ کا اپنا بلند اخلاق اور ان کی مبارک زندگی کی روز مرہ کے معاملات کا بھی اثر تھا جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود رہتی تھی۔ مفکر اسلام جناب سید ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں:-۔

۔’’صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ان کے صحیح جانشینوں کی زندگی میں ہمیں عقائد و اعمال کے ساتھ جو خالص اسلامی اخلاق اور ان سب کے ساتھ جو اعلیٰ ذوق اور گہرے دینی جذبات اور دینی کیفیات نظر آتی ہیں وہ تنہا تلاوت کتاب کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کامل ترین، موثر ترین، محبوب زندگی کا اثر بھی ہے جو شب و روز ان کے سامنے رہتی تھی اور اس سیرت و اخلاق کا بھی نتیجہ ہے جو ان کی آنکھوں کے سامنے تھے، اور ان مجالس اور صحبتوں کا بھی فیض ہے اور ان ارشادات اور نصائح و تلقین کا بھی جس سے وہ حیات طیبہ میں برابر مستفید ہوتے تھے۔ اس سب کے مجموعہ سے اسلام کا وہ خاص مزاج وجود میں آیا جس میں صرف قواعد و ضوابط اور ان کی قانونی پابندی نہ تھی بلکہ ان پر عمل کرنے کے محرکات و ترغیبات اور عمل کی صحیح کیفیت اور روح بھی تھی۔ حدود کی پابندی اور حقوق کی ادائیگی کے ساتھ لطیف احساسات اور مکارم اخلاق کے دقائق بھی تھے۔ ‘‘ (حدیث کا بنیادی کردار، مطبوعہ مجلس نشریات اسلام کراچی) ۔

اقوام عالم کی زندگیوں میں ان کے پیغمبروں کے بعد کسی واضح ہدایت اور نمونہ کی کمی نے ان مذاہب کے پیرو کاروں میں کوئی ایسا تشخص نہیں قائم کیا جو ان کو ایک الگ پہچان دے سکتا۔ بعض مذہبی اسکالروں نے اور دین کے علماء نے اپنے پیغمبروں کے دین کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے کی کوششیں کیں اور نبیوں کی تعلیمات کی تشریحات اور عبادات کے اصول و ضوابط کو ضبط تحریر میں لانے کی کوششیں بھی کیں جس کے نتیجہ میں تالمود، مشنہ، اوسطا اور ویدا وغیرہ کے ذریعہ اپنے پیرو کاروں کو ایک راہ پر گامزن کرنے کا عمل ہوا مگر پھر یہ ہوا کہ ان تشریحات اور تفصیلات نے اصل کتاب اللہ کی جگہ لے لی اور اللہ کے نازل کیے ہوئے اصل صحائف غائب اور ناپید ہو گئے۔ ان تبدیل شدہ اور محرف ادیان میں وہ وصف نہیں تھا جس کے ذریعہ سے ان کے ماننے والے دینی نشو و نما اور روحانی بالیدگی حاصل کرتے نتیجہ کے طور پر متعدد جھوٹے قصے اور دیومالائی واقعات سے ان کو بھرا گیا اور وقت گزرنے کے بعد ان کی ایسی مسخ شدہ صورتیں سامنے آتی چلی گئیں جنہوں نے غور و فکر کرنے اور ان کو عقلی بنیادوں پر پرکھنے والوں کو راستہ سے بھٹکانے کا کام بہت آسان کر دیا اور وہ تمام اصول و مبادی جن پر یہ کھڑاگ کھڑا کیا گیا تھا ان کے اپنے ماننے والوں کو بودا اور نا قابل عمل نظر آنے لگا۔ اس کی سب سے عمدہ مثال ہندو مت میں ملتی ہے جہاں نظریہ ضرورت کے تحت مذہبی معاملات میں اتنی تبدیلیاں کی گئیں کہ آج ان کے پاس ایک الٰہ کی بجائے کروڑوں معبود بن گئے اور ہندو جاتی بذات خود کسی ایک عمل پر نہ مطمئن ہے اور نہ اس کو دل وجان سے اپنانے کو تیار ہے۔

الحمد للہ کہ دین محمدی ﷺ کو ایسی کسی صورت حال کا اس لیے سامنا نہیں کرنا پڑا کہ رسول اکرم ﷺ نے نہ صرف اللہ کے احکامات کو لوگوں تک پہنچایا بلکہ اس کی تشریح کے ساتھ قابل عمل ہونے کا راستہ ان تمام احکامات کو اپنی ذاتی زندگی میں داخل کر کے دکھایا اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے حضور پاک ﷺ سے محبت کا ایسا سچا ثبوت دیا کہ ہر وہ عمل جو آپ ﷺ کو کرتے دیکھتے اس کو حرز جان بنا لیتے اور یوں پورے مسلم معاشرہ میں آپ ﷺ کی سنت کاملیت کے ساتھ لاگو ہو جاتی اور اس کے ساتھ ہی ان عاشق پروانوں نے صرف عمل ہی نہیں کیا بلکہ یہ بھی سوچا کہ آنے والی نسلوں کے لیے حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ اور آپ کے مبارک اقوال اور اعمال کو ضبط تحریر میں بھی لے آیا جائے تاکہ نصیحت اور رہنمائی کی شمع ہر لمحہ موجود رہے اور زندگی کے تمام مسائل میں تا قیامت رہنمائی دیتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلامی مذہب کا اپنا ایک واضح تشخص ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے اختلافی عقائد کے باوجود امت مسلمہ ایک ہی رخ پر ہے اور یہ اختلاف صرف فکری حیثیت ہی رکھتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض کینہ پرور اور سازشی ذہن رکھنے والے ان اعمال کو مزید بگاڑنے اور توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں مگر مجموعی تاثر بلا تزلزل ایک ہی رہتا ہے اور امت اسلامی کی ایک ہی راہ رہتی ہے اور یہ صرف اور صرف اس وجہ سے ہے کہ ہمارے پاس ہمارے آقا و مولا کی حیات تابندہ کا ایک ایک گوشہ محفوظ ہے اور روشنی دیتا ہے اور یہی اس امت کی ہدایت اور اسے سیدھے راستے پر رکھنے کا ذریعہ ہے۔

احادیث کی تدوین، روایات کی پرکھ اور جانچ کا ایک ایسا نظام ترتیب دیا گیا جس کی کوئی مثال دیگر ادیان میں نہیں ملتی۔ گویا ایک بالکل مکمل اور انتہائی کامل نظام وجود میں آیا جس نے احادیث کو اس کے ایسے مقام پر پہنچایا کہ آج ہر مسلمان صحاح ستہ کی ہزاروں احادیث پر آنکھ بند کرکے اتباع کرنے پر کوئی رکاوٹ نہیں محسوس کرتا۔ اور پھر احادیث کو مدون کرنے والوں نے ایسی عرق ریزی کے ساتھ انھیں ترتیب دیا ہے کہ ہر معاملہ کو الگ الگ کرکے بیان کیا اور ان کو سمجھنا اور ان کی تلاش کو انتہائی آسان کر دیا ہے۔ آج یہ مجموعہ ہائے احادیث مسلمان کی ہدایت کے لیے کافی و شافی ہے اور ہر وہ مقام جس کی تفصیل اور صراحت قرآن کریم میں واضح نہیں وہ ان احادیث کی روشنی میں پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے۔

اور پھر یہ بھی مد نظر رہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود اپنے قرآن میں حضور نبی اکرم ﷺ کے اعمال کی طرف اشارہ کیا اور اسے مضبوطی سے پکڑے رکھنے کا حکم دیا۔ ارشاد ہوا:-۔

لَّـقَدْ كَانَ لَكُمْ فِىْ رَسُوْلِ اللّـٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: 21)۔

یعنی: "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات ایک اسوہ ہے۔ "۔

یہ خبر دینے کے بعد یہ بھی ارشاد فرمایا:-۔

قُلْ اِنْ كُنْتُـمْ تُحِبُّوْنَ اللّـٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّـٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُـوْبَكُمْ ۗ (آل عمران: 31)۔

یعنی: "آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کریگا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔”۔

ان دو چھوٹے چھوٹے احکامات میں مسلمانوں کی پوری زندگی کو ایک بریکٹ لگا کر بند کر دیا۔ یعنی بس حضور پاک ﷺ کی سیرت مبارک کا مطالعہ کیے جائو اور آپ کی اس خوب سیرت کو اپنی زندگی میں اتارتے جائو اور اس کو اپنی زندگی کے لیے مشعل راہ بنا لو اور تمام احکامات اور اعمال کو پوری ایمانداری اور محبت قلبی سے کیے جائو تو تم قرآن کریم کے ایک ایک حکم پر پورے اترتے جائو گے۔ تمہاری زندگی وہ کامل زندگی ہوگی جو ایک ایمان والے کی زندگی ہوگی جس میں کہیں کوئی کجی ہوگی اور نہ ہی بے راہ روی۔ اس میں اللہ کی وحدانیت پر ایمان کا سامان بھی بہم ہو گیا، عبادات کا میعار بھی قائم ہو گیا اور اگرسچی توجہ اور اخلاص کے ساتھ اس کو اپنایا گیا تو عبادات ایسی ٹھوس مضبوط اور قبولیت سے نپی تلی ہو گی جو شاید بڑی ریاضتوں کے بعد بھی نصیب نہ ہو، معاملات میں خواہ وہ انفرادی سطح کی ہو یا اجتماعی، گھر کے اندر اپنے قریبی عزیزوں کے ساتھ ہو یا گھر کے باہر عامۃ المسلمین کے ساتھ ہو، سب کی سب نکھری اور ملاوٹ و تصنع سے پاک صاف ستھری دلکش اور دل پذیر ہوں گی، تجارت کے معاہدات ہوں یا معمولی روزمرہ کے لین دین کے معاملات ہوں سب کے سب انتہائی پاکیزہ اور اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ہوتا چلا جائے گا۔ صرف اور صرف حضور ﷺ کی حیات طیبہ کو اپنی زندگی میں ڈھال لینے کے بعد اللہ کے قائم کردہ تمام اصول و ضوابط پر خود بخود عمل ہوتا چلا جائے گا اور ایک پاک صاف معاشرہ ابھر کر آئے گا جہاں انصاف بھی ہوگا اور اللہ کے نظام کی عمل داری بھی ہوگی۔ معاشرہ سے تمام اونچ نیچ صاف ہو جائے گی اور ایک ایسا پر سکون ماحول میسر آئے گا جس کے لیے دنیا جہاں کے فلاسفر اور علماء اپنی تھیوریاں پیش کرتے رہے ہیں۔ اور یہ ساری باتیں یقین جانیے کہ کسی دیوانے کی بڑ نہیں ہیں بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے جب اپنے آقا و مولا ﷺ کی زندگی کو اپنی زندگی میں شامل رکھا اور اپنے تمام معاملات کو حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ سے جوڑے رکھا تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا کہ جو تاریخ انسانی کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ سے متصل جو بزرگ تھے ان کے لیے سب کچھ ان کی نظروں کے سامنے ہوا تھا اس لیے ان کو اسے آپ ﷺ کے بعد بھی اپنائے رکھنے میں کوئی دشواری نہیں پیش آئی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب امت اپنے نبی کی تعلیمات سے دور ہوتی گئی اور اپنی ضرورتوں کی خاطر اپنی زندگیوں میں سے تھوڑا تھوڑا سیرت مبارک کو نکالتی چلی گئی تو پھر تو وہ قیامت برپا ہوئی جس کی مثال بھی نہیں ملتی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمایا ہوا ہر دور اور ہر وقت کے لیے سچ ہے۔ اس میں زماں و مکاں کی کوئی قید نہیں۔

وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّـٰهِ قِيْلًا (النساء: 122)۔

۔”اللہ سے زیادہ سچا کون ہے۔”۔

حضور ﷺ کی حیات طیبہ سے متصل قرون اولیٰ کے بزرگوں نے آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں ڈال کر ایک ایسا معاشرہ قائم کرلیا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی مگر وقت گذرنے کے ساتھ ہماری ضروریات کی تکمیل کی خاطر ہم نے ان روشن ہدایات میں تبدیلیاں کر دیں تو پھر معاشرہ میں بگاڑ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے پورے معاشرہ کا حلیہ بدل کر رکھ دیا اور یہ عمل رکا تو ہے نہیں بلکہ جاری و ساری ہے۔ بلکہ اب تو یہ حالات ہیں کہ اللہ کے احکامات اور نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو ہم نے خاطر میں لانا ہی چھوڑ دیا ہے۔ آج کا امت مسلمہ کا مفکر یہ سوچتا ہے کہ کیا امت واپس درستگی کی طرف آ سکتی ہے اور کیا یہ ممکن ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک مرتبہ پھر اسی طرح صاف ستھرا نتھرا ہوا ہو جائے جیسے بزرگوں کے دور میں تھا۔ بہت سے ماڈرن مسلمان اس کو نا ممکن سمجھتے ہیں اور درستگی کو مغرب کی تہذیب اور ان کے فکر و نظر میں دیکھتے ہیں۔ مگر واللہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم آج یہ فیصلہ کریں کہ ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی سنت کو اپنائیں گے اور آپ کی حیات طیبہ کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں گے تو میرا دعویٰ ہے کہ ہمارا معاشرہ یقیناً دوبارہ ویسا ہی ہو جائے گاجیسا خلافت راشدہ کے دور میں تھا۔ مگر آج کے دور میں ہمارا مسلم نوجوان مغرب سے مرعوب ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ حضور پاک ﷺ کی سیرت مبارک کو اپنانا چاہیے مگر وقت جدید کی ر وش اور ضرورتوں نے ایسا کرنا مشکل کر دیا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سنت نبوی اور ان کی تعلیمات ان تمام باتوں کا انکار کر رہی ہے جو مغربی تہذیب کے ر گ و ریشہ میں دوڑ رہی ہے۔ اس تضاد کی وجہ سے ایسے لوگوں نے ہمیشہ حدیث کا انکار کیا اور احادیث میں رد و بدل کیا یا ان کو بالکل خارج کر دینے کا عمل شروع ہو گیا۔ اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ یہ اعلان کر دیا گیا کہ سنت نبوی کا اتباع مسلمانوں کے لیے ضروری نہیں اور اپنی بات کو وزن دینے کی خاطر یہ پرچار کیا گیا کہ احادیث نبوی کی بنیاد ان باتوں پر ہیں جو قابل اعتبار نہیں اور ایسی سخت باتیں بیان کی گئیں کہ ان کو نقل کرتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں۔ مثلا میں نے کسی جگہ کسی جدید عالم صاحب کی یہ تحریر دیکھی جو کسی حدیث کے انکار کے بارے میں تھی اور انھوں نے یہ فرمایا کہ امام بخاری کو یہ بات حدیث کے زمرہ میں شامل کرتے ہوئے لرزہ کیوں نہ طاری ہوا۔ استغفراللہ۔ وہ بزرگ جنہوں نے اپنی زندگی حدیث کو ڈھونڈھنے اور پرکھنے میں صرف کی اور جن کی احادیث پر مسلمانوں کا مکمل اعتبار ہے، ان کے لیے ایسے جملے کہنا یقیناً بڑے دل گردے کی بات ہے۔ اللہ ہمیں ہر قسم کی شیطانیت سے محفوظ رکھے، آمین۔ ایسے لوگوں کا مطمح نظر یہ ہے کہ مسلمانوں کا احادیث پر سے اعتبار اٹھا دیا جائے اور اس کے بعد قرآن کے بہت سارے احکامات کی تاویل وہ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق کر لیا کریں گے۔العیاذ باللہ۔
یاد رہے کہ اسلامی معاشرہ کا خمیر حدیث پاک اور اس کی جزیات سے تیار ہوا ہے۔ صحیح اسلامی معاشرہ صرف اور صرف احادیث کی ترجمانی ہی ہے۔ مغرب زدہ لوگوں کو آج مغرب میں جہاں اور جن باتوں میں اچھائی اور سچائی نظر آتی ہے، سچ جانیے کہ ان تمام اچھائیوں کو اگر غور سے دیکھیں تو وہ ساری اچھائیاں ہمارے معاشرہ سے ہی ادھار لی گئی دکھائی دیں گی اور ان کا صحیح طریقہ پر پوسٹ مارٹم کریں اور زمانہ قدیم میں جا کر ان کے معاشرہ کا حلیہ دیکھیں تو انتہائی قابل نفرت اور کریہ چہرہ دکھائی دے گا۔ وقت کے ساتھ انھوں نے مسلمانوں سے نہ صرف علوم و فنون کو حاصل کیا بلکہ مسلمانوں کے علوم معاشرت اور قوانین زندگی کو بھی اپنی زندگیوں میں شامل کرتے چلے گئے یہاں تک کہ آج کے مغرب زدہ مسلمان (یہاں تک کہ مسلمان علماء) یہاں تک کہتے سنائی دیئے کہ ہم نے اسلامی دنیا میں اسلام کا نام تو سنا مگر اسلام نہیں نظر آیا مگر مغرب میں اسلام کا نام نہیں سنا مگر ہر طرف اسلام ہی نظر آیا۔ بعض اسکالر نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر مغرب کے نظام زندگی میں کلمہ طیبہ شامل کر دیا جائے تو وہ کامل اسلام کا نمونہ پیش کرے گا۔ ہیہات ہیہات۔ کیا کم علمی ہے۔ یہ کیوں نہ سوچا کہ ان مغرب والوں نے پورا کا پورا اسلام اٹھا کر اپنا لیا صرف کلمہ طیبہ کو چھوڑ دیا۔

میں اپنے قاری کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اس بات کا ادراک کرلیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بزرگ و برتر ہے اور جو علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے وہ کامل ہے اور ہر قسم کی برائی، کہنہ پن اور غلاظتوں سے پاک ہے۔ اور اللہ کے اس علم کے سب سے بڑے مبلغ اور تشریح کرنے والے اللہ کے رسول ہیں۔ آقائے نامدار سرور کائنات حضرت احمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہونے کے باعث سب سے بہترین اور کامل ترین اخلاق و عادات کے ساتھ مبعوث ہوئے اور آپ کی تعلیمات رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے رہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ ہیں۔ ہماری دنیاوی زندگی کی بھی اور اُخروی زندگی کی بھی بھلائی اور کامیابی آپ کی تعلیمات کی روشنی میں اطاعت و فرماں برداری کے ساتھ گذارنے میں ہی ہے۔ یہی ہے ہمارے اور آپ کی زندگی کا خلاصہ۔ آخرت میں وہ سب کچھ چاہیے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے تو اس کے حصول کا واحد ذریعہ اتباع نبوی ہے اور بس۔

عزیز دوستو آگے بڑھو اور خود بھی اپنی زندگی کو حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگی کے سانچوں میں ڈھالو اور اپنی آل اولاد اور عزیز و اقارب اور دوست احباب سب کو اس بات کی طرف راغب کرو کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ کریں، اس کو سمجھیں اور آپ کی روشن اور تابناک زندگی کو اپنی زندگیوں میں شامل کرلیں۔ احادیث نبوی کی طرف توجہ مبذول کریں اور اس سلسلہ میں کسی شک و شبہ میں نہ پڑیں۔ کامل اطاعت اور کامل محبت کے ساتھ اپنا مزاج درست کریں اور اسلامی تہذیب و تمدن میں ڈھال لیں تو پھر ہم یقیناً تمام مصائب و آلام سے نجات پا جائیں گے اور دنیا میں بھی عزت و شان و شوکت ملے گی اور آخرت میں جو کچھ کامیابیاں ملیں گی وہ الگ۔ ان شاء اللہ۔ وما توفیقی الا باللہ۔

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.