اشارات – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 94 – 95، ربیع الاول و ربیع الثانی 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جس طرح کسی کی رواداری بے جا ہے اسی طرح کسی کا ہراس بھی غلط ہے۔ تم اپنی بزدلی کو وقت کے جبر کا نام نہیں دے سکتے۔ تاریخ کا بے لاگ فیصلہ محفوظ ہے۔

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

مساجد کی تعمیر بہتے ہوئے آنسوؤں سے نہیں مضبوط ہاتھوں سے ہوتی ہے۔


اے بابری مسجد ! الوداع ! تجھے غیروں کی نظرِ بد اور اپنوں کی ہوس لے ڈوبی۔ جس قوم میں چار زبانیں بھی وقت پڑنے پر ایک بولی نہ بول سکیں، وہاں کسی اجتماعی مفاد کا تصور ہی مفقود ہے۔


نو آبادیاتی دور کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ۷۰/۸۰ برس قبل بڑے پیمانے پر جغرافیائی تبدیلیاں واقع ہوئی تھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اپنا وہی کھیل دوبارہ دہرا رہی ہیں۔


جناح کے پاکستان اور آزاد کے ہندوستان کا موازنہ کسی طرح درست نہیں۔ کیوں کہ آزاد کا ہندوستان تو کبھی بن ہی نہ سکا۔ آج اگر ہندوستان کے مسلمان اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں تو جناح کے پاکستان میں رہنے والے اتنے کم ظرف نہیں کہ وہ آزاد کے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو ان کی شکست خوردگی کا احساس دلائیں۔


جناح درست تھے یا آزاد ؟ ہماری نسل کا یہ سوال ہی نہیں۔ تقدیر کے فیصلوں پر امکانات کی دنیا تعمیر نہیں کی جاتی۔ نہ ماضی کا اسیر بن کر مستقبل کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔ آج جناح زندہ ہوتے تو اپنے پاکستان کی بربادی کا ماتم کرتے اور اگر آزاد واپس لوٹ آئیں تو اپنی قوم کا مرثیہ لکھیں۔


آزاد کے ہندوستان میں اگرآج مسلمان لاچار اور بے بس ہیں تو یہ جناح کے پاکستان کی کمزوری ہے۔ اگر آج جناح کا پاکستان طاقت ور ہوتا تو آزاد کے ہندوستان کے مسلمان بھی کمزور نہ ہوتے۔ کیوں کہ آزاد کے ہندوستان کی طاقت کا راز جناح کے پاکستان کی کامیابی میں پوشیدہ ہے۔


مسلمان خواہ جناح کے پاکستان کے رہنے والے ہوں یا آزاد کے ہندوستان میں بستے ہوں۔ اپنی کوتاہیوں کو نظریات کے پردوں میں چھپا نہیں سکتے۔ تاریخ کے جبر کا بہانہ کوتاہ ہمتوں کی پرانی دلیل ہے جسے وقت کی عدالت میں کوئی وقعت حاصل نہیں۔


آج کا ہندوستان، ہندتوا نظریے کا ہندوستان ہے۔ جو آزاد کے ہندوستان کی قبر پر تعمیر ہو رہا ہے اور جس کا مقصد جناح کے پاکستان کو بھی صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔ ایک ایسی فسطائی حکومت جو اپنے نظریے کے سوا ہر نظریے کی موت چاہتی ہے۔ جس سے لڑنے کے لیے جناح کے پاکستان اور آزاد کے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو صرف محمد بن عبد اللہ الہاشمی ﷺ کا امتی بننا پڑے گا دوسری کوئی راہ نہیں۔ یہ بات دونوں طرف کے مسلمان جس قدر جلد سمجھ لیں اتنا ہی اچھا ہے ورنہ تاریخ میں سانحات کی کمی ہے اور نہ ہی اقوامِ گزشتہ کے المیہ فسانوں کی۔


حبس کا یہ عالم اور ہراس کا یہ موسم، ہمیشہ نہیں رہے گا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ خوف کا یہ دور تمہارے دلوں پر کیا اثر ڈالتا ہے ؟ تم تاریخ کے صفحات پر ایک ہارے ہوئے بھکاری کی جگہ چاہتے ہو یا ایک ایسے فاتح کی جس نے ہاری ہوئی بازی کو جیتنے کا فن سیکھا اور جیت کر دکھایا۔

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.