علمائے صادق پور کی مسمار قبریں اور بھارت کا نظام انصاف


الواقعۃ شمارہ: 94 – 95، ربیع الاول و ربیع الثانی 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کا فیصلہ آ گیا جس نے ایک طبقے کی خوشی کو دوبالا کیا تو ایک طبقے کو مایوس۔ لیکن ظاہر ہے قومیں ماضی کی اسیر بن کر نہیں رہ سکتیں۔ جبر اور نا انصافی کے ساتھ بھی تاریخ کا سفر جاری رکھنا پڑتا ہے۔

ہندوؤں کے بھگوان رام ہندوؤں کے خدا وشنو کے بھیجے گئے ساتویں اوتار تھے۔ ان کا زمانہ اتنا قدیم ہے کہ اس کا درست تعین ممکن نہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس دعوے کو حتمی تسلیم کر لیا گیا کہ وہ ایودھیا میں ٹھیک اس مقام پر پیدا ہوئے جہاں بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی اور اسے بھی باور کر لیا گیا کہ اس مقام پر رام کی یاد میں ایک مندر بنایا گیا تھا جسے مغل بادشاہ بابر کے حکم پر گرا کر بابری مسجد کی تعمیر کی گئی۔ مغل بادشاہ بابر کی وفات 1530ء میں ہوئی اور رام کے سب سے بڑے بھگت تلسی داس کی پیدائش 1532ء میں ہوئی۔ انھوں نے والمیک کی "رامائن” کو ایک نئی زندگی دی اور رام کے حالات ایک نئے انداز سے "رام چرت مانس” کے نام سے لکھے۔ عوام میں والمیک کی "رامائن” سے بھی کہیں زیادہ "رام چرت مانس” کی چرچا ہوئی۔ تلسی داس محض ایک مذہبی عالم ہی نہیں بل کہ اپنے دور کے بہت بڑے شاعر اور ادیب بھی تھے۔ ان کے قلم نے رام چندر جی کو ایک نئی زندگی دی۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے چند کتابیں لکھیں۔ مگر یہ حیرت کی بات ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر کے انتہائی قریبی عہد سے تعلق رکھنے کے باوجود انھوں نے رام کی جنم بھومی کی مسماری پر ایک حرف نہیں لکھا اور نہ ہی بابری مسجد کی تعمیر پر کوئی سوال اٹھایا۔

بایں ہمہ تاریخ کے ان تمام سوالات سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم آ گے بڑھتے ہیں اور بھارتی نظام انصاف کے سامنے ازمنہ قدیم کی نہیں بل کہ تاریخی سفر کے اعتبار سے ماضیِ قریب کی ہونے والی ایک نا انصافی کی مثال پیش کرنا چاہتے ہیں جو بر صغیر کی آزادی کی جدوجہد کی راہ میں انگریزی استعماری حکومت سے پیش آئی، جو ایک ایسی معلوم تاریخی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

علمائے صادق پور کی جدوجہد آزادی تاریخ کا ایک ایسا روشن اور نمایاں باب ہے جسے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ہی تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا زمانہ بھی متعین و معلوم ہے اور ان کے ساتھ کی گئی ظلم و ستم کی داستان بھی مکمل و یقینی شواہد کے ساتھ تاریخ کے اوراق اور سرکاری کاغذات میں محفوظ ہیں۔

آج پٹنہ میونسپلٹی کی عمارت جس جگہ قائم ہے کبھی یہاں علمائے صادق پور کا مسکن تھا یہیں کہیں ان کے آباء و اجداد کی قبریں تھیں۔ نہ صرف ان کے عالیشان مکانات کو گرا دیا گیا بل کہ ان کے اجداد کی قبریں بھی مسمار کرکے سطح زمین کے ساتھ ہموار کر دی گئیں اور اس پر پٹنہ میونسپلٹی کی عمارت اور بازار قائم کر دیا گیا۔

آزادیِ ہند کے بعد جس طرح بھارت نے اپنے قومی ہیروز کی قدر افزائی کی اس سے اس نے اپنے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا۔ مگر یہ حیرت و استعجاب کا باعث ہے کہ گاندھی جی و پنڈت جواہر لال نہرو کے اعترافات کے باوجود نہ علمائے صادق پور کی خدمات کا ان کے شایانِ شاں اعتراف کیا گیا اور نہ ہی ان کی ضبط شدہ جائیداد ان کے ورثا کو واپس دی گئی۔

انگریزی عہد میں بنگال گورنمنٹ کے زیر انتظام عدلیہ نے علمائے صادق پور کے مقدمات کی سماعت کی[1] اور جدوجہد آزادی کی پاداش میں 1282ھ / 1865ء میں یہ منتقمانہ فیصلہ سنایا کہ ان کی تمام جائیداد ضبط کرلی جائے اور انھیں سزائے موت دی جائے۔ موت کی سزا بعد میں کالا پانی کی اسارت میں منتقل کر دی گئی۔ ضبطیِ جائیداد کی منتقمانہ کارروائی کے لیے عین عید کا دن منتخب کیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق مولانا احمد اللہ صادق پوری، مولانا یحیٰ علی صادق پوری اور مولانا عبد الرحیم صادق پوری کی تمام جائیداد ضبط کرلی گئی۔ صرف ان کے عالیشان مکانات ہی منہدم نہیں کیے گئے بل کہ خاندانی قبرستان کو بھی مسمار کر دیا گیا۔

مشہور مورخ کالی کنکر دتہ (1905ء- 1982ء) اپنی مشہور کتاب

"The History of Freedom Movement in Bihar”

۔(بہار میں تحریک آزادی کی تاریخ) میں

"Confiscation of the Properties and Destruction of Graves”

۔(جائیداد ضبط کرنا اور قبروں کی تباہی) کے زیرِ عنوان لکھتے ہیں:-۔

"Shortly after the transportation of the Patna Wahabis, the Government started proceedings for confiscation of their properties. The Zamindari estate of Maulavi Ahmadullah alone had an annual income of about 20000/-. Even the villages granted by Ahmadullah in perpetual lease to his wife in lieu of her dowry, prior to arrest, were not spared.
The transportation of the Maulavis and confiscation of their properties ruined the Sadikpore family of the Wahabis. But it did not put an end to the movement.” (Vol 1, P: 91-92, Published by: The Government of Bihar, Patna 1957)

۔”پٹنہ میں وہابیوں کی سرگرمیوں کے فوراً بعد، حکومت نے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔ صرف مولوی احمد اللہ کی زمینداری اسٹیٹ کی سالانہ آمدنی تقریباً 20000/- تھی۔ حتیٰ کہ وہ گائوں جو گرفتاری سے قبل احمد اللہ نے اپنی بیوی کو حق مہر (یا تحفتاً) مستقل طور پر دیئے تھے، انھیں بھی نہیں بخشا گیا۔ مولویوں کی سرگرمیوں اور ان کی جائیدادیں ضبط کرنے سے وہابیوں کے صادق پوری خاندان برباد ہوگئے۔ لیکن اس کے باوجود تحریک ختم نہیں ہوئی۔”۔

پرناب چندر رائے چوہدری اپنی کتاب

"Inside Bihar”

میں لکھتے ہیں:-۔

"The transportation of Ahmadullah and the other Wahabis was followed by ruthless proceedings against their properties. Their properties were confiscated and even the villages granted by Ahmadullah to her wife in perpetual lease in lieu of her dowry prior to his arrest was not spared. Not only the houses were demolished and turned into level ground and Bazar and Municipal buildings were erected but it is said that the family cemetry was also ploughed up.” (P: 161, Printed by: Bookland Private Limited Calcutta 1962)

۔”احمد اللہ اور دیگر وہابیوں کی سرگرمیوں کے بعد ان کی املاک کے خلاف بے رحمانہ کارروائی کی گئی۔ ان کی املاک ضبط کرلی گئیں۔ حتیٰ کہ وہ گائوں جو گرفتاری سے قبل احمد اللہ نے اپنی بیوی کو حق مہر (یا تحفتاً) مستقل طور پر دیئے تھے، انھیں بھی نہیں بخشا گیا۔ نہ صرف مکانات کو منہدم کرکے سطح زمین کے ساتھ ہموار کر دیا گیا ، ان پر بازار اور میونسپل عمارتیں بھی تعمیر کی گئیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ خاندانی قبرستان کو بھی مسمار کر دیا گیا تھا۔”۔

مولانا عبد الرحیم صادق پوری جب کالا پانی کی کم و بیش 19 سالہ اسارت کے بعد رہا ہوکر اپنے وطن واپس آئے تو تغیر حالات نے ان کے قلب و نظر پر جو اثر ڈالا اس کی کیفیت خود ان ہی کے قلم سے ملاحظہ ہو، لکھتے ہیں:-۔

۔”محلہ ننموہیہ میں پہنچا، جہاں کہ میرے اہل و عیال مقیم تھے، اس کی صبح ہو کے صادق پور گیا تو وہاں دیکھا کہ ہم لوگوں کے مکانات کل منہدم کر کے کف دست میدان بنا دیا گیا ہے اور اس پر بازار اور میونسپلٹی کے مکانات بنا دیے گئے ہیں۔ میں نے چاہا کے اپنے خاندانی مقبرہ کو کہ جہاں چودہ پشت سے ہمارے آبا و اجداد دفن ہوتے چلے آئے تھے جا کر دیکھوں اور خصوصاً اپنے والدین ماجدین عفر اﷲ لہما کے مزار کی زیارت کروں اور اس پر دعائے مغفرت اور فاتحہ پڑھوں۔ مگر ہر چند کہ کوشش کی پتا نہ ملا۔ بعد تجسس و تفحص بسیار و غور و فکر کے قرینہ سے معلوم ہوا کہ حضرت والدین ماجدین کی قبریں کھود کر اس پر عمارت میونسپلٹی بنا دی گئی ہے۔

اے حضرات ناظرین! اس وقت اس حرکت کا جو ہمارے اموات کے ساتھ کی گئی جو صدمہ دل سے گزرا وہ بیرون از حیطہ تحریر و تقریر ہے۔ اس وقت تک اس کی یاد سے بدن کے رونگٹے تک کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے جرم میں ہمارے اموات و آبا و اجداد کی قبریں کیوں کھودی گئیں اور وہ مقبرہ کیوں معرض ضبطی میں آیا، ہماری عادل گورنمنٹ نے کیوں یہ کام کیا ؟ بہرکیف میں نے اسی جگہ کھڑے ہو کر کہ جہاں ان کی قبر میرے خیال میں آئی دعائے مغفرت کر لی اور آج تک بھی ایسا ہی کر لیا کرتا ہوں۔” (الدر المنثور فی تراجم اھل الصادق فور، ص: 144-145، مطبوعہ ہادی المطابع کلکتہ  1901ء)۔

صادق پوری خانوادے کی ضبط شدہ جائیداد کی مجموعی رقم ایک لاکھ اکیس ہزار نو سو اڑتالیس روپے چار آنے ایک پائی تھی۔ اس زمانے کے اعتبار سے یہ بہت بڑی رقم تھی۔ (ملاحظہ ہو: مجاہدین صادق پور (ہند) پٹنہ بہار نمبر سوونیر 1998ء، ص: 24 – 25)۔

آج بھارت کا نظام انصاف اس حقیقت کو بھلے فراموش کر دے لیکن علمائے صادق پور کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ آج بھارت کی آزادی کا پرچم جن آزاد فضائوں میں لہرا رہا ہے اس کی آزادی میں علمائے صادق پور کی جدوجہد بھی شامل ہے۔ اس حقیقت سے نظریں تو چرائی جا سکتی ہیں مگر کبھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ

شامل ہے مرا خون جگر تیری حنا میں

جس طرح آج بابری مسجد کو مسمار کر کے رام کی جنم بھومی کی یاد میں مندر بنائے جانے کا عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے کیا پٹنہ میونسپلٹی اور اس کے ملحقہ بازار کی جگہ بھی علمائے صادق پور کے موجودہ وارثین کو دی جائے گی ؟ کیا بھارت کا نظام انصاف مسلمانوں کے لیے بھی بیدار ہوگا۔ یا پھر بابری مسجد کا فیصلہ اصلاً ہند توا نظریے کی تجدید ہے۔

حاشیہ

۔[1] ان مقدمات کی تفصیل سرکاری ریکارڈ کے مطابق طبع ہو چکی ہے۔ ملاحظہ ہو:۔

"Selections from Bengal Government Records on Wahhabi Trials (1863-1870)” By Muin-ud-din Ahmad Khan, Published by Asiatic Society of Pakistan, Dacca 1961)

 

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.