عبرت زلزلہ


الواقعۃ شمارہ : 92 – 93، محرم الحرام و صفر المظفر 1441ھ

از قلم : علامہ تمنا عمادی

زلزلے زمین پر اللہ رب العزت کے غیض و غضب کی علامت ہیں۔ گزشتہ دنوں 26 ستمبر کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے بعض علاقوں میں 5.6 ریکٹر اسکیل کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے سے مذکورہ علاقوں میں کافی خوف و ہراس پیدا ہوا۔ پاکستان کی تاریخ کا بد ترین زلزلہ 8 اکتوبر 2005ء کو خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں آیا۔ جس کی شدت 7.6 ریکٹر اسکیل محسوس کی گئی۔ جس میں 75 ہزار سے زائد افراد طعمہ اجل ہوئے اور سوا لاکھ سے زیادہ زخمی۔ 2005ء سے قبل پاکستان کی تاریخ میں کل تین زلزلے آئے تھے۔ 1974ء، 1983ء اور 1992ء میں۔ لیکن 2005ء کے بعد سے تھوڑے بہت توقف کے بعد زلزلے آ رہے ہیں۔ 2008ء، 2011ء، 2012ء، 2013ء، 2014ء، 2015ء اور 2019ء میں زلزلے آئے۔

۔1934ء میں بھارتی ریاست بہار اور نیپال میں محسوس کیا جانے والا زلزلہ شدید ترین زلزلہ تھا۔ یہ زلزلہ 15 جنوری 1934ء کی دوپہر میں محسوس ہوا۔ بیسویں صدی عیسوی میں نیپال میں آنے والا یہ شدید ترین زلزلہ تھا۔ اِس زلزلہ میں تقریباً دس ہزار سے بارہ ہزار افراد کی اموات ہوئیں۔ بھارت میں اموات کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے زائد تھی۔ اس زلزلے کے عینی شاہدین میں علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی بھی تھے جنھوں نے اس زلزلے کی شدت کو گوشہ قلب میں محسوس کیا اور عذابِ الٰہی کے اس مظاہر کا جائزہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں لیا۔ انھوں نے اپنے حاصل مطالعہ و فکر کو نظم و نثر میں پیش کیا۔ "مسدس عبرت زلزلہ” کے عنوان سے ان کا کتابچہ "مسلم ایسوسی ایشن پھلواری شریف” کی جانب سے فروری 1934ء میں شایع ہوا جس کی تمام تر آمدنی زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے وقف کی گئی۔ زیر نظر تحریر اسی مسدس کے لیے بطور مقدمہ لکھا گیا ہے۔ یہ تحریر آج بھی ان زندہ قلوب کو دعوت فکر دے رہی ہے، جو اللہ رب العزت سے اپنا تعلق استوار رکھے ہوئے اور رکھنا چاہتے ہیں۔ (ادارہ)۔

۔28 رمضان شریف 1352ھ کہیے یا 15 جنوری 1934ء۔ یہ دو شنبہ کا دن وہ دن گزرا ہے کہ صوبہ بہار کے بچے بچے کو عمر بھر یاد رہے گا، اور اس صوبے کا شمالی حصہ تو غالباً کسی وقت بھی اس کو فراموش نہ کر سکے گا۔ اللہ اکبر ! دو بج کر چودہ یا پندرہ ہی منٹ ہوئے تھے کہ یکایک زمین کی گرج نے ایک دنیا کو متوحش کر دیا۔ پھر تو جو ہونا تھا ہوا جس کو کم و بیش کتنوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ کتنوں نے دیکھنے والوں سے سنا اور کتنوں نے اخباروں کے ذریعے واقفیت حاصل کی۔

یہ ہوا کیوں ؟ سائنس اور طبقات الارض کے ماہرین کی تحقیق تو اخباروں میں خوب خوب شائع ہوئی۔ مجھے بھی اس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔ عقل کی بات عقل ضرور تسلیم کر لے گی۔ لیکن وہ تو علّت مادّی کی تشریح تھی۔ علت غائی کی طرف اب تک کافی توجہ نہیں کی گئی۔ اس لیے یہ سوال اب تک تشنہ جواب ہی ہے کہ "یہ کیوں ہوا” یعنی اس زلزلے کے لیے اس قدر اسباب مادی کے فراہم کرنے اور پھر اس کے واقع کرنے اور اس کے ذریعے اس قدر لوگوں اور اس قدر بستیوں کو تباہ و برباد کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض کیا تھی؟ یہ پہلو علمائے مذاہب کے لیے قابلِ توجہ تھا اور ہے۔ علمائے مذاہب نے بھی اتنا تو ضرور کہا کہ یہ ایک عذاب الٰہی تھا، جو بندوں کی نافرمانی کی وجہ سے خدا کی طرف سے آیا۔ اس لیے تقریباً اکثر مذاہب کے قائدین نے اپنی قوم کو اپنی اصلاحِ حال کی طرف فی الجملہ متوجہ کیا۔

علمائے اسلام بھی غافل نہ رہے، اور مسلمانوں کو توبہ و استغفار کی تلقین کی اور کر رہے ہیں۔ میں بھی اس زلزلے کے اثرات سے بالکل محفوظ نہیں۔ جانیں تو بفضلہ تعالیٰ ہر طرح محفوظ رہیں مگر مالی نقصان ضرور ہوا۔ چنانچہ میرے مکان کا بالائی حصہ بہت چُور ہے۔ اس لیے میں بھی توبہ و استغفار کی طرف خصوصیت کے ساتھ متوجہ ہو گیا۔ مگر خیال یہ بھی آیا کہ عذاب الٰہی کیوں آتا ہے اور کب آتا ہے اور کن لوگوں پر آ سکتا ہے، ذرا ان باتوں کو سرچشمہ ہدایت یعنی قرآن پاک میں بھی تو دیکھوں، اس عالم انتشار و اضطراب میں زیادہ غور و غوض کا موقع کہاں تھا۔ سرسری طور سے چار آیتیں یکے بعد دیگرے سامنے آتی گئیں:-۔

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُـهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّاَهْلُـهَا مُصْلِحُوْنَ (ہود: 10)۔

ترجمہ: "تمہارا پروردگار ایسا نہیں جو بستیوں کو ظلماً ہلاک کر دے، باوجود اس کے کہ اس کے رہنے والے نیک کار ہوں۔”

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّاَهْلُـهَا غَافِلُوْنَ (الانعام: 131)۔

ترجمہ: "(جو اوپر بیان ہوا) وہ اس لیے کہ تمہارے پروردگار (کا یہ دستور ہے کہ) بستیوں کا ہلاک کر دینے والا وہ ظلماً نہیں (ہوتا) درحالیکہ اس کے رہنے والے غافل ہوں۔”

قُلْ اَرَاَيْتَكُمْ اِنْ اَتَاكُمْ عَذَابُ اللّـٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ يُـهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظَّالِمُوْنَ (الانعام: 47)۔

ترجمہ: "کہہ دو کہ دیکھو تو سہی، اگر تم پر عذابِ الٰہی اچانک یا اعلان کے ساتھ آ جائے تو کیا ظالم قوم کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟”
اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَلَمْ يَلْبِـسُوٓا اِيْمَانَـهُـمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَـهُـمُ الْاَمْنُ وَهُـمْ مُّهْتَدُوْنَ (الانعام: 82)۔

ترجمہ: "وہ لوگ جو مومن رہے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے آلودہ نہ کیا، انھیں کے لیے امن و امان ہے اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔”

مذکورہ بالا آیتوں سے تین باتیں معلوم ہو گئیں۔

۔(الف) نیک کاروں پر کبھی عذاب نہیں آتا اور جس بستی کے لوگ نیک کار ہوں وہ بستی کبھی تباہ نہیں کی جاتی۔

۔(ب) جن کا ایمان کفر و شرک اور گناہِ کبیرہ کے لوث سے پاک و صاف ہے (کسی دوسری قوم پر بھی اگر عذاب آئے تو) ان پر تباہی و نقصان کا اثر نہیں پڑتا۔

۔(ج) کسی بستی تک بغیر پیغام ہدایت اور وعدئہ ثواب و وعیدِ عذاب پہنچائے۔ حق و باطل سے غافل رکھ کر اللہ تعالیٰ کبھی اس پر عذاب نہیں نازل فرماتا۔ اور وہاں کے لوگ اعلاناتِ الٰہیہ سے نا واقف ہونے کے باوجود کبھی ہلاک نہیں کیے جاتے۔

ان تین باتوں کے معلوم کرلینے کے بعد میں فوراً ہی اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ میرا ایمان ہرگز لوثِ ظلم سے پاک نہیں، اور جتنے لوگ اس عذاب سے نقصان پذیر ہوئے ہیں وہ میری طرح اپنے ایمان کو لوثِ ظلم سے بچا نہ سکے۔

بلکہ جن کو زیادہ نقصان پہنچا ہے وہ لوثِ ظلم میں زیادہ مبتلا تھے اور جو بستیاں جہاں تک زیادہ تباہ و برباد ہوئی ہیں وہاں تک زیادہ ان کا ایمان لوثِ ظلم سے ملوّث و آلودہ تھا اور وہاں کے لوگ جماعت مصلحوں سے خارج تھے۔

اس کے بعد میرا سب سے پہلا فرض اپنے نفس کا محاسبہ تھا کہ

كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا (بنی اسرائیل: 14) ۔

ترجمہ: "آج تو خود ہی اپنے نفس کے محاسبے کے لیے کافی ہے۔”۔

زلزلے کے بعد ہی اپنے نفس کے محاسبے اور اپنے عقائد و اعمال کی جانچ پڑتال میں لگ گیا۔ آخر اس محاسبے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں آپ اپنے نزدیک کبائر و کبائر اتباع ہوائے نفس کی وجہ سے: اَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهُ هَوَاهُ (الفرقان: 19) کا مصداق بھی تھا۔ نعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا۔ غرض اس علم کے بعد ہی توبہ کی اور ان ارتکابات سے بھی کنارہ کش ہوا۔ اور اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کو بھی، بلکہ سارے انسانوں کو توفیق توبہ عنایت فرمائے اور اپنی سیدھی راہ دکھا دے۔ اور جن کو توبے کی توفیق ہو چکی ہے یا جو ایمانِ کامل پر ہیں ان کو استقامت روزی کرے۔

ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد

اس کے بعد ہی مجھ کو یہ خیال ہوا کہ دیکھوں اور لوگ بھی توبے کی طرف متوجہ ہیں کہ نہیں مگر کیا کہوں دیکھا، اور خوب اچھی طرح دیکھا۔ یا اللہ توبہ! یا اللہ توبہ! تو تقریباً سب کے سب رٹ رہے ہیں، مگر کوئی بھی اپنے نفس کے محاسبے کی طرف مطلقاً متوجہ نہیں۔

کسی نے اس وقت تک اس پر غور نہ کیا کہ ہمارے کس گناہ کی وجہ سے یہ عذاب آیا۔ کیونکہ گناہ تو ہر طرح کے ہیں، قریب تو بعفو و درگزر بھی، اور قریب تر بسزا و غفویت بھی۔ ایک گناہ ابلیس نے بھی کیا تھا جس پر وہ فوراً راندئہ درگاہ ہو گیا اور ایک گناہ حضرت آدم علیہ السلام سے بھی ہو گیا تھا جس پر ان کی تَلَقِّی کلمات کے ذریعے توفیقِ توبہ مرحمت ہوئی اور ان سے درگذر کیا گیا۔

اس لیے یقیناً وہ خاص خاص ہی گناہ ہیں جن پر کوئی انسان یا کوئی قوم یا کوئی فرقہ یا کوئی بستی عذاب کے قابل قرار دی جاتی ہے۔ جن کا تفصیلی پتا قرآن پاک کے گہرے مطالعے اور اگلی امتوں کی تباہی و بربادی کی وجہوں پر منصفانہ غور و تمحیص ہی سے کچھ مل سکتا ہے۔

اس مختصر سے مقدمے میں اتنی گنجائش کہاں کہ اممِ سابقہ اور ان کی بد اعمالیوں اور تباہیوں پر مفصل بحث کی جائے مگر صرف زلزلے کے جو واقعے قرآن پاک میں مذکور ہیں ان کو اگر فقط پیش کر دیا جائے تو عبرت کے لیے کافی ہے۔

زلزلے (1) کو عربی میں رَجفَۃ کہتے ہیں۔ یہ لفظ پورے قرآن پاک میں چار جگہ آیا ہے۔ دو جگہ تو حضرت شعیب علیٰ نبینا و علیہ السلام کی امت اہلِ مدین کے ذکر میں اور ایک جگہ قوم ثمود کے ذکر میں۔ یہ دونوں قومیں عذاب زلزلہ سے تباہ کر دی گئیں اور چوتھی جگہ حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کے قصے میں جب کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ستر آدمیوں کو چن کر میقاتِ الٰہی کی طرف لے گئے تھے اور ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کو زلزلے نے آدھرا تھا۔

حضرت شعیب علیہ السلام کی امت اہلِ مدین کے متعلق ایک تو سورہ اعراف (آیت: 78) میں وارد ہے:-۔

فَاَخَذَتْـهُـمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِىْ دَارِهِـمْ جَاثِمِيْنَ

یعنی: "پھر آ دھرا ان کو زلزلے نے پس رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے۔”۔

اور یہی آیت بعینہٖ انھیں کے متعلق سورہ عنکبوت (آیت: 37) میں وارد ہے۔ اور پھر یہی آیت بعینہٖ کسی فرق کے قومِ ثمود یعنی امت حضرت صالح علیٰ نبینا و علیہ السلام کے متعلق سورہ اعراف (آیت: 91) میں یوں ہی ارشاد فرمائی ہے، جس سے یہ پتا ملتا ہے کہ قومِ ثمود اور اہلِ مدین دونوں پر ایک طرح کے عذاب آئے تھے اور دونوں کی تباہی کی ایک ہی صورت ہوئی۔ باقی رہے بنی اسرائیل کے وہ ستر آدمی جو حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام کے ساتھ میقات پر گئے تھے اور زلزلے میں پڑے۔ یہ واقعہ بھی سورہ اعراف ہی (آیت: 155) میں مفصل مذکور ہے اور تفسیروں میں اور زیادہ وضاحت سے بیان کیا ہے جس کا مآخذ اسرائیلیات اور روایات ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ اس میقات پر بھی بنی اسرائیل کے یہ ستر آدمی جب ایمان نہ لائے تو اللہ کے رسول سے انکار، اللہ کے کلام سے انکار، اللہ کی نشانیوں سے انکار کی وجہ سے فَاَخَذَتْـهُـمُ الرَّجْفَةُ آ دھرا ان کو زلزلے نے، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کس بے تابی سے بارگاہ الٰہی میں عرض کی کہ

رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَـهُـمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّاىَ ۖ اَتُـهْلِكُنَا بِمَا فَـعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا (الاعراف: 155)۔

یعنی: "اے میرے پروردگار تو اگر چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان لوگوں کو ہلاک کر دیتا اور مجھ کو بھی۔ کیا ہمارے بے وقوفوں کے فعل کی وجہ سے تو ہم سب لوگوں کو ہلاک کر دے گا۔”۔

پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعائے مغفرت کی کہ

اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَـمْنَا ۖ وَاَنْتَ خَيْـرُ الْغَافِـرِيْنَ (الاعراف: 155)۔

یعنی: "تو ہی ہم سب لوگوں کا مالک ہے۔ تو بخش دے ہم لوگوں کو اور رحم کر ہم لوگوں پر اور تو سب سے بہتر گناہ بخشنے والا ہے۔”۔

چنانچہ اس دعا کے اثر سے ان لوگوں کی دوبارہ جاں بخشی کی گئی۔ مفصل حال تفسیروں میں دیکھیے۔ غور کیجیے کہ یہاں بھی وہی ہٹ دھرمی اور رسول و کتاب اللہ سے رُو گردانی باعثِ نزولِ عذابِ زلزلہ ہوئی۔

حالاتِ موجودہ سے مطابقت

اب اگر موجودہ حالات پر غور کیجیے تو کون سی بات ہے جو اگلی امتوں کے لیے باعث عذاب ہوئی تھی اور اس وقت ہم لوگوں میں نہیں پائی جاتی۔

کیا اِس وقت انبیاء و رسل کی توہین اور ان سے انکار پہلے سے کم ہے ؟ کیا اِس وقت کتاب اللہ (قرآن پاک) سے انکار اور اس کے احکام کی خلاف ورزی غیر مسلم تو غیر مسلم، خود مسلمانوں میں بدرجہ اتم نہیں ہے ؟
کیا وجودِ ذاتِ الٰہی سے انکار، اور اس کی توحید کے اقرار سے انحراف مختلف حیلوں سے اس احکم الحاکمین کی شانِ پاک میں گستاخیوں کا ارتکاب خود مسلمانوں میں نہیں ہے ؟ کیا شعائر دین کی توہین و ہتک کے مرتکب غیروں کے ساتھ خود مسلمان نہیں ہیں؟ کیا احکام الٰہیہ کی نا فرمانی دلیری کے ساتھ نہیں کی جا رہی ہے ؟

غرض کون سا کام ہے جو اگلی امتیں کرتی تھیں اور اس وقت ہم لوگ نہیں کر رہے ہیں۔

اس لیے پہلے

ہر مسلم و غیر مسلم سے میری یہی التجا ہے کہ مذہب فقط ایک قومی شیرازہ ہی نہیں ہے اور نہ یہ فقط باپ دادا کی تقلید میں اختیار کرلینے کی چیز ہے۔ اس پر نجات آخرت کا دارومدار ہے مرنے کے بعد پچھتانے سے کچھ نہ ہوگا۔

دم آخیر ہے اے داغؔ! توبہ کر توبہ
کہ رُو سیاہ ! ابھی اختیار باقی ہے

اس لیے تعصب، غلو، اور ہٹ دھرمی سے بالکل الگ ہو کر۔ تمام خیالاتِ سابقہ سے اپنے دل کو خالی کر کے تحقیقِ مذہب کی طرف متوجہ ہوں جو مذہب صحیح نظر آئے، یعنی تمام ضروریات انسانی کا پورا پورا کفیل ہو۔ پیدائش سے لے کر موت تک کے لیے پورا پورا دستور العمل سہل و قابلِ عمل پیش کر سکے، اور مرنے کے بعد کی صلاح و فلاح کا صحیح صحیح طریقِ کار بتا رہا ہو، اس کو بغیر کسی شرم و حجاب اور بغیر کسی خوف خطر کے قبول کر لیں۔ اس کے بعد خاص مسلمانوں سے یہ التماس ہے کہ خدارا اپنی پہلی اور موجودہ حالتوں کا مقابلہ فرمائیں۔ وہ پہلی برکتیں اور پہلی سطوتیں ان کی کیوں چھن گئیں اور یہ کیوں ایسے ہو گئے ؟

ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (الانفال: 53)۔

یعنی : "اللہ تعالیٰ کسی قوم کو کوئی نعمت دے کر اس کو متغیر نہیں کر دیتا (اس کو چھین نہیں لیتا) جب تک وہ قوم خود اپنی ان باتوں میں تغیر (بگاڑ) نہ پیدا کرے۔ جن کا تعلق اس کی ذات سے ہے۔”۔

اور وہ باتیں جن کو مَا بِأَنفُسِهِمْ کہا گیا ہے چار ہی ہیں۔ عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق، اور انھیں چاروں کے مجموعے کا نام دین ہے۔ جن کی تکمیل قرآن پاک کے ذریعے کی گئی اور یہ اعلان کیا گیا کہ

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِىْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (المائدۃ: 3)۔

یعنی: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری اور تمام کر دی، اور اسلام کے دین ہونے سے میں راضی ہو گیا۔” ۔

اس لیے کہاں تک ہم مسلمانوں نے اپنی ان چاروں باتوں میں تغیر ڈالا اور ان کو بگاڑا ہے۔ اس کا پتا جب ہی مل سکتا ہے کہ ہم لوگ اپنے اپنے عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق کو قرآن کے مطابق کرتے جائیں اور اس پر زیادہ روشنی ڈالنے کے لیے تعامل عہدِ نبوی کو بھی پیشِ نظر رکھیں جن کا پتا ہمیں احادیثِ صحیحہ ہی سے مل سکتا ہے۔ بغیر اس روشنی کے ساتھ لیے راہِ تطابق میں بہت کچھ ٹھوکر ہی کھانے کا ڈر ہے۔ غرض اس طرح اگر ہم ٹھنڈے دل سے مگر پوری سرگرمی کے کے ساتھ اگر اپنے ظاہر و باطن کا صحیح صحیح جائزہ لیں گے تو یقیناً اپنے تمام بگاڑ اور ساری خرابیوں کا صحیح صحیح پتا مل جائے گا اور اس طرح ہم بڑی آسانی سے اپنی اصلاح کرلیں گے۔

مسلمانو! ہمیں فرمایا گیا ہے کہ

وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً ۚ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (الانفال: 25)۔

یعنی: "ڈرو (یا بچو) اس فتنے (آزمائش) سے جو خاص انھیں لوگوں پر مصیبت نہ ڈالے گا جو تم میں سے مرتکب ظلم ہیں، اور جان لو کہ اللہ بڑے سخت عذاب والا ہے۔”۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ بعض مصیبتیں آزمائشِ عام کے طور سے بھی نازل ہوتی ہیں اور ان میں وہ بھی مبتلا ہو جاتے ہیں جو کچھ زیادہ گنہگار نہ تھے مگر تھے ضرور ورنہ یقیناً مستحقِ امن ہوتے، جیسا کہ اوپر کی چار آیتوں میں ہے۔ آخر کی آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور اگر بعض عقائد و اعمالِ باطلہ اور کبار سے بھی محفوظ ہیں تب بھی ان کو بالکل مطمئن نہ ہونا چاہیے بل کہ آزمائش سے ڈرتے رہنا ضروری ہے کیا ان کو یہ آیت یاد نہیں:-۔

اَمْ حَسِبْتُـمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ مَّسَّتْهُـمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا (البقرۃ: 214)۔

ترجمہ: "کیا تم لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ (یونہیں) جنت میں داخل ہو جاؤ گے اور تمہیں تمہارے اگلوں کی سی باتیں پیش نہ آئیں گی۔ پہنچی ان کو سختی اور تکلیف اور جھنجھوڑے گئے۔”۔

زُلْزِلُوْا کا لفظ زلزلے کی مناسبت سے یہاں لطیف نکتہ پیدا کر رہا ہے۔ غور کیجیے اور لطف لیجیے۔

مسلمانو ! جو ہوا وہ تو ہو چکا مگر یہ نہ سمجھو کہ اب اس کا سلسلہ ختم ہو گیا، اگر ہم لوگوں کی بد اعمالیوں کا سلسلہ علیٰ حالہٖ جاری رہے گا تو یاد رکھنا چاہیے کہ نزولِ بلا کا سلسلہ بھی اسی طرح باقی رہے گا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اب اس سے زیادہ سخت بلائیں آئیں، اللہ محفوظ رکھے۔

اور اگر ہم لوگوں نے اپنی اصلاح کر لی تو پھر سارے نقصاناتِ سابقہ کی تلافی بھی رکھی ہوئی ہے۔ دیکھیے ! اللہ تعالیٰ خود وعدہ فرماتا ہے کہ

اِنْ يَّعْلَمِ اللّـٰهُ فِىْ قُلُوْبِكُمْ خَيْـرًا يُّؤْتِكُمْ خَيْـرًا مِّمَّآ اُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ط وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (الانفال: 70)۔

یعنی: "اللہ تعالیٰ اگر تمہارے دلوں میں نیکی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے لے لیا گیا ہے اس سے کہیں بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔”۔

لوگو! ڈرو اور عذابِ الٰہی سے بچو، اور اپنے حال پر رحم کرو، جو ہوا وہ تمہارے ہی اعمال کا نتیجہ تھا اور جو ہوگا وہ تمہارے ہی اعمال کے مطابق ہوگا۔

الٰہی رحم کر اور ہم لوگوں کو اپنی اصلاح کی توفیق دے اور سیدھی راہ کی طرف ہدایت کر۔ تعصب، غلو، ہٹ دھرمی سے ہم لوگوں کے دلوں کو پاک کر۔ آباء و اجداد کی غلط تقلید، جھوٹے رہ نمائوں کے دامِ تزویر، اور پاسداریِ جماعت کے دھوکے سے محفوظ رکھ۔ قرآنِ پاک کی سچی محبت عطا فرما اور اس کے صحیح معانی کی سمجھ، اپنے رسول ﷺ کی محبت اور ان کی پوری اطاعت کی توفیق عطا فرما۔ آمین ثم آمین

حاشیہ

۔(1) "زلزلہ” خود بھی عربی ہی لفظ ہے اور قرآن میں آیا ہے مگر قیامت کے ذکر میں۔

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.