کشمیر: نظریہ اسلامی کے بقا کی جنگ


الواقعۃ شمارہ : 90 – 91، ذیقعد و ذی الحجہ 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اس وقت دنیا میں بہت سے خطے ہیں جہاں غلامی سے آزادی کی، استعمار سے رہائی کی اور ریاستی جبر سے نجات کی جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ لیکن یہ محض جنگیں نہیں ہیں بلکہ ایک نظریے کے خلاف دوسرے نظریے کی لڑائی ہے۔ جب تک ان نظریوں کو صحیح تناظر میں سمجھنے کی کوشش نہیں کی جائے گی تب تک یہ لڑائیاں جاری بھی رہیں گی اور کسی بھی نتیجے تک پہنچنے سے قاصر بھی۔

فلسطین، برما، شام، سنکیانگ ہر جگہ نظریاتی تصادم نے خوف و دہشت کی فضا قائم کر دی ہے۔ لیکن بھارت کی جانب سے کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر اس وقت نظریاتی تصادم کی اہم ترین آماج گاہ بنا ہوا ہے۔

کشمیریوں کے پاس اگر ایک نظریے کا سہارا نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی 7 دہائیاں طویل ایسی صبر آزما جدوجہد کو برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔ دوسری طرف بھارت نے آرٹیکل 370 کو معطل کرکے دنیا کے سامنے اپنا اصل چہرہ ظاہر کر دیا ہے۔

اس وقت مسلم ممالک سخت انتشار کا شکار ہیں۔ انھیں ایک سلسلے سے مربوط کرنے والے مسلم امہ کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔ اسلامی دنیا کا سب سے بڑا المیہ احساس کہتری ہے۔ وہ اسلام کو بطور ایک نظریہ پیش کرنے سے گھبراتے ہیں اور دنیا کے سامنے اپنے مسئلے کی عالمگیریت کو بہت محدود کرکے پیش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس کشمیر، فلسطین، برما، سنکیانگ، شام جہاں کہیں بھی مسلمانوں کو مبتلائے اذیت و مصائب کیا جا رہا ہے وہ اسی نظریہ اسلامی سے وابستگی کی پاداش میں کیا جا رہا ہے۔ باہم متصادم نظریات کے اس منظر نامے کو بالکل واضح طور پر دیکھنے کے لیے اس وقت کشمیر سے بہتر کوئی مثال نہیں۔ کشمیر کی سر زمین میں اس وقت دو ملکوں کے مفادات کی جنگ نہیں ہے۔ یہ دو مختلف قوموں، دو مختلف مذاہب، دو مختلف تہذیبوں، دو مختلف نظریات، دو مختلف تاریخی و نفسیاتی رجحانات کی جنگ ہے۔

مسلمان ہندوستان میں ہزار برس حکمران رہے، ہندوؤں کے ساتھ ان کا میل جیل 14 سو برس پر مشتمل رہا۔ لیکن اتنے قدیم اور مسلسل تعلقات بھی نفرت کی خلیج کو پاٹنے میں ناکام رہے جسے ہندو انتہا پسندی نے سینچا تھا۔ مسلمان یہاں فاتح بن کر آئے اور ہزار برس حکمران رہے ان کی رواداری کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ ہزار برس کی حکمرانی کے باوجود ہندوستان ہندو اکثریت ہی رہا، اسے اقلیت میں بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ تقسیم سے قبل بھی یہاں ہندوئوں کے کئی اسٹیٹ تھے جہاں راجے مہاراجے عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے۔ لیکن مسلمانوں کی مساوات پر مبنی ہزار سالہ حکمرانی بھی ہندوؤں کے نزدیک ایک غلامی تھی، جب کہ وہ خود اس دوران اقتدار کا حصہ رہے۔

ہزار سالہ اسلامی اقتدار کا سورج غروب ہوا اور اقتدار کی باگ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ میں آئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جو آئی ہی ہندوستان کی دولت پر تصرف حاصل کرنے کے لیے تھی اس نے مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کی نفرت کو انگیز کیا کیونکہ صرف یہی ایک طریقہ تھا جو کمپنی بہادر کو ہندوستان کی سر زمین میں مستحکم کر سکتا تھا۔ تقسیم ہند کے وقت انگریزوں نے دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسی خونی لکیر کھینچ دی جو پار کرنا دونوں ہی کے لیے نا ممکن تھا اور وقت نے ثابت کر دیا کہ 70 برس بعد بھی ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں۔ تقسیم ہند کے وقت کی گئی نا انصافی پورے خطے کی بد امنی کا سبب بنی۔1946ء میں بہار میں مسلمانوں کی نسل کشی پر مبنی فسادات اور عین تقسیم کے وقت سرحدی علاقوں بالخصوص مشرقی پنجاب میں نہتے مہاجرین پر مظالم، کسی بھیانک خواب کی طرح 70 برسوں سے پورے خطے کو ان کا ماضی یاد دلاتے رہے۔ ظلم کرنے والوں کو مزید ظلم پر ابھارتے رہے اور مظلوموں کے لیے ایسا درد بن گئے جس کی کسک لازوال تھی۔

یہ تقسیم درحقیقت کتنے ہی خاندانوں کے اجڑنے کی داستان تھی اور کتنے ہی اپنوں کے بچھڑنے کا افسانہ۔ حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ کی مسلم ریاستیں بھارت نے اپنے قبضے میں کر لیں۔ اس پر اس لیے بھی صبر کر لیا گیا کہ یہ ہندو اکثریتی ریاستیں تھیں مگر کشمیر تو مسلم اکثریتی ریاست تھی اس پر ہندوئوں کے قبضے کا کیا جواز تھا۔ کشمیریوں کو خود اپنی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرنے دیا گیا حالات کا یہی جبر تھا جو تاریخ کا المیہ بن گیا۔

اسلام صرف رسومات پر مبنی ایک مذہب نہیں  ہے، ایک مکمل نظریہ حیات ہے۔ دنیا کے تمام نظریے اسلام کی حیرت انگیز تاثر پذیری سے خائف ہیں۔ اسلام کے بالمقابل جو نظریہ ہے وہ درحقیقت خود اپنی کوئی اساس نہیں رکھتا۔ اسلام کے خلاف نفرت، تعصب اور عناد پر مبنی ہے۔ جمہوری معاشروں میں بھی جہاں انسانی حقوق کی بڑی قدر کی جاتی ہے مسلمان لڑکیوں کا حجاب ایک مسئلہ ہے۔ سیکولر ممالک بھی جو معاشرے کے تمام طبقات کو یکساں نظر سے دیکھتے ہیں وہ بھی اسلام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ کسی خدا پر یقین نہ رکھنے والے بھی تمام باطل خدائوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں مگر اسلام کے نظریہ وحدانیت سے پریشان ہیں۔ اسلام کے بالمقابل جو نظریہ ہے وہ درحقیقت اسلامی نظریے کا ایک رد عمل ہے، جسے اسلام کی حیرت انگیز تاثر پذیری کے خوف نے جنم دیا ہے۔ خوف سے خوف ہی بر آمد ہوتا ہے۔

خاص ہندو انتہا پسندی پر نظر ڈالیں تو اصلاً یہ کوئی نظریہ نہیں ہے۔ اسلام کے خلاف قابلِ نفریں جذبات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جسے اب قابو میں رکھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو گیا ہے۔ نفرت کے شعلے خواہ کتنے ہی بھڑک جائیں جل کر خاکستر تو ہو سکتے ہیں مگر نظریہ نہیں بن سکتے۔ گویا اسلام کے خلاف جو نظریہ ہے وہ در حقیقت رد عمل کی نفسیات ہے جس نے وقتی طور پر ایک نظریے کی شکل اختیار کرلی۔ ایک ایسا نظریہ جو اپنی حقیقی اساس سے محروم ہے۔

کشمیر کا موجودہ بحران جس نے سیاسی ماحول کی حدت میں اضافہ کیا ہے۔ در حقیقت ’’اسلام‘‘ پر ہندوؤں کی ’’فتح‘‘ کی خواہش سے مغلوب ہے۔ نریندر مودی کی پوری سیاست اسلام دشمنی پر انحصار کرتی ہے۔ انھیں بھارت کے انتہا پسند حلقوں میں مقبولیت حاصل ہے اور اگر وہ واقعتاً عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوئے ہیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارت اس وقت انتہا پسندی کے شدید ترین نرغے میں ہے۔ یہ انتہا پسندی خود بھارت کی سالمیت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ نریندر مودی کی سیاست بھارت میں مقیم اقلیتوں کے لیے کسی آسیب کی طرح ہے۔

مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کو جس طرح بھارت میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ اسی نفرت پر مبنی سیاست کا حصہ ہے جو ہمیشہ سے نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کی پہچان رہا ہے۔ مودی کے عزائم سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کشمیر پر قبضے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں خواہ کشمیر کو خون میں نہلایا دیا جائے یا وہاں بچے، بوڑھے، جوان اور مرد و عورت کی تفریق کے بغیر قتل عام کیا جائے۔

نریندر مودی کی سیاست شروع سے انتہا پسندی کی طرف اپنے سفر میں گامزن ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تیزی آ رہی ہے۔ اس بار ان کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ کچھ کر گزرنے کی تمنا میں ہیں۔ جیسے انھیں دیو مالائی تصورات نے جکڑ لیا ہو۔ وہ اپنے چاہنے والوں کے لیے صرف ایک سیاسی لیڈر نہیں بننا چاہتے بلکہ ایک نظریہ بن جانا چاہتے ہیں یا ایک دیوتا جن کی بھکت پوجا کریں۔ یہ خواہش ادھوری ہی رہے گی سوائے اس کے کہ وہ اس انتہا پسندی کو ایک نئی اونچائی تک لے جائیں۔ چنانچہ وہ وہی کر رہے ہیں۔ مودی نے بھارت کے انتہا پسند ہندوئوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے وہ جب چاہیں ایک مجمع اکٹھا کر کے عوام کی املاک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جب چاہیں کسی بھی مسجد کو مسمار کر سکتے ہیں اور جب چاہیں راہ چلتے کسی بھی بے قصورمسلمان کو قتل کر سکتے ہیں۔

اس انتہا پسندی پر پوری دنیا خاموش ہے۔ چند برس قبل تک دنیا میں اسلامی شدت پسندی کا چرچا تھا اور اسلامی رکن جہاد کو با قاعدہ دہشت گردی سے منسلک کیا جاتا تھا۔ مگر یہی دنیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش ہے اور رسمی مزاحمتی الفاظ سے آگے نہیں بڑھتی۔ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں جو شدت پسندی پروان چڑھ رہی ہے اور جنونی ہندوئوں کے ہاتھوں جس طرح اقلیت کی زندگی شدید ترین خطرے سے دوچار ہے اس پر کسی بھی سطح میں بھارت کی قرار واقعی مذمت نہیں کی گئی۔ جیسے شدت پسندی، انتہا پسندی، دہشت گردی، بنیاد پرستی جیسے الفاظ صرف اسلام اور مسلمانوں ہی کے لیے خاص کیے گئے ہیں۔ ان کا اطلاق دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر نہیں ہوتا۔ اصولاً یہ اسلام کے خلاف تمام ملت کفر کا ایک مشترکہ نظریاتی اتحاد ہے۔

کشمیر پر جو عالمی رد عمل ہے وہ اسی مشترکہ نظریاتی اتحاد کی طرف اشارہ ہے۔ عالمی طاقتیں کبھی بھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیں گی۔ عمران خان کو امید ہے کہ صدر ٹرمپ کشمیر میں ثالثی کا فریضہ انجام دے کر کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق منطقی انجام سے ہمکنار کریں گے، تو یہ ایک ایسی امید ہے جس کا زمینی حقائق ساتھ نہیں دیتے اور اس امید پر یقین رکھنا مشکل ہے۔

دوسری طرف مسلم ممالک کا رویہ بھی پاکستان یا اہل کشمیر کے حق میں نہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا تھا کہ اس وقت مسلم امہ کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ محض ایک نظریہ ہے جو پردہ حقیقت پر مرتسم ہونے کا منتظر ہے۔ جس طرح پاکستان نے افغانستان کے مسلمانوں پر بمباری کے لیے امریکا کا ساتھ دیا۔ چین کی ایغور مسلمانوں پر شدید ترین جارحیت کے جواب میں خاموشی اختیار کی۔ برما کے روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم کے خلاف کوئی موثر آواز بلند نہیں  کی، اور ایسا سب کچھ قومی مفاد کے نام پر کیا گیا بعینہ آج دیگر مسلم ممالک اپنے اپنے قومی مفاد کی خاطر کشمیر پر چپ سادھے ہیں۔

در حقیقت کشمیر پر خود پاکستان کی سنجیدگی دنیا اور بالخصوص اسلامی دنیا پر واضح نہیں ہو سکی۔ جب ہم خود ہی کشمیریوں کی اخلاقی تائید سے آگے قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ بھارت کی تمام تر جارحیت کے باوجود اس سے تعلق نبھانے کی خواہش میں مبتلا ہوں تو ایسے میں مسلم ممالک کس طرح پاکستان کے لیے اپنے مفادات قربان کرسکتے ہیں۔ جب کہ امہ کے مفاد پر قومی مفاد کی ترجیح کا فلسفہ بھی ہم ہی نے اسلامی ممالک کو سکھایا ہو۔

پاکستانی عوام بھارت کی ہندو قیادت کی شیطنت سے بخوبی واقف ہیں۔ بھارتی انتہا پسندی اور شوق ہوس گیری صرف کشمیر پر قناعت نہیں کرے گی۔ کشمیر کے بعد اس کا اگلا مرحلہ پاکستان ہوگا۔ پاکستان کے خلاف جنگ میں بھی بھارت کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔ خواہ وہ حد ایٹمی حملہ ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب کہ بھارت کی قیادت انتہا پسندوں اور مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں میں ہو۔ بھارت کے ’’وزیر جنگ‘‘ کی جانب سے ان خیالات کا اظہار بھی کیا جا چکا ہے۔ ایسا ہونا قطعاً غیر یقینی نہیں کیونکہ بھارت کے پاس کوئی جنگی اخلاقیات نہیں۔ اخلاقیات کی دھجیاں تو ہر روز کشمیر کی زمین پر بکھیری جا رہی ہیں۔

دنیا میں دفاع کے نام پر بڑے بڑے مہلک اسلحے بنائے گئے مگر اپنی ہلاکت پذیری میں ایٹم بم سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں۔ یہ ہتھیار آج نہیں تو کل ضرور دنیا کی تباہی کا باعث بنیں گے۔ اسرائیل نے پاکستان کے ایٹم بم کو اسلامی بم قرار دیا تھا جو کبھی بھی مسلم امہ کی حفاظت کے لیے نہیں چل سکا، حتیٰ کہ محض دھمکی دینے کے لیے بھی استعمال نہیں ہوا۔ مگر دنیا کی نظریں بھارت کے ہندو بم کی طرف نہیں جائیں گی کیونکہ بھارت کے ہندو بم کو مسلمانوں کے ملک پاکستان پر گرائے جانے کی بات کی گئی ہے۔

بھارت کی جارحیت کے مقابلے میں ہمارا رویہ ہمیشہ سے بہت نرم رہا ہے۔ اس وقت بھی جب کہ بھارت پاکستان کی شہ رگ کاٹنے میں مصروف ہے ہمارے پاس جواب میں تقریروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ عمران خان کو دنیا سے شکوہ ہے کہ دنیا مودی کو خوش کرنے میں لگی ہوئی ہے مگر ہم تو خود بھارت کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

بھارت نے کشمیر ہڑپ لیا، مگر ہم اُس کے لیے فضائی حدود کھولے ہوئے ہیں۔

بھارت ہماری شہ رگ کاٹ رہا ہے لیکن ہم ابھی تک کرتارپور راہداری کو کھولے بیٹھے ہیں جیسے وہاں سے محبت بھری دوستی کا کوئی جھونکا آنے والا ہے۔

بھارت ہمیں ایٹمی جنگ کی دھمکی دے رہا ہے مگر ہم یہ یقین دلا رہے ہیں کہ ہم ایٹمی جنگ نہیں چاہتے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ بھارت آدھا پاکستان کھا چکا ہے، اُس نے کشمیر کو واقعتاً اپنا حصہ بنا لیا ہے، اور وہ یقینی طور پر بچے ہوئے موجودہ پاکستان کو بھی نہیں بخشے گا۔ بھارت کے ’’عمل‘‘ کے جواب میں پاکستان کی زبانی تقریریں مؤثر نہیں ہو سکتیں۔

قرآنی فلسفہ ہے کہ قصاص میں زندگی ہے۔ اگر صحیح وقت پر قصاص لے لیا جائے تو ظالم کو مزید ظلم کی ہمت نہیں رہتی اور مظلوم کی عزت نفس بھی بحال ہو جاتی ہے۔ بھارت نے ہمیں دو لخت کر کے جو نا قابل فراموش زخم دیا تھا اس کے گھائو بھر نہ سکے تھے کہ نئے نئے زخموں کے سوغات مل رہے ہیں۔ قصاص سے محروم رہ جانے والی قوم میں تذلل و عاجزی کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔

پاکستان اگر واقعی مسلم امہ کے تصور کو زندگی کی حرارت دینا چاہتا ہے تو اسے مسلم ممالک سے شکوہ کناں ہونے کی بجائے اپنی صلاحیت پر جرأت مندانہ قدم اٹھانا چاہیے۔ پاکستان کا قائدانہ کردار تمام اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے لیے نہ سہی لیکن اسلامی دنیا کے لیے عمل کا ایک پیغام بنے گا، جسے کسی صورت دبایا نہ جا سکے گا۔ اسلام کے خلاف عالمی نظریاتی اشتراک کے مقابلے میں صرف یہی ایک راہ ہے۔

ہم ابھی تک کشمیر کو ایک قومی مسئلہ اور خطہ زمین پر قبضے کی جنگ باور کرا رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایک ہندو مفکر و مصنف کپل کومی ریڈی نے واشگاف الفاظ میں لکھا:-۔

“The Kashmir crisis isn’t about territory. It’s about a Hindu victory over Islam.”

(کشمیر کا بحران زمین کے خطے کے لیے نہیں ہے۔ یہ اسلام پر ہندوؤں کی فتح کے بارے میں ہے۔)

کپل کومی ریڈی کا یہ مضمون امریکا کے مشہور اخبار “واشنگٹن پوسٹ” میں 16 اگست کی اشاعت میں شایع ہوا۔

بہتر ہوگا کہ ہم بھی اس حقیقت کا ادراک جلد کرلیں کہ کشمیر میں جو جنگ لڑی جا رہی ہے وہ نظریہ اسلامی کے بقا کی جنگ ہے۔ بھارت کی تمام تر مساعی کا حاصل اسلام کو نابود کرنا ہے اور نظریہ اسلامی کے خلاف یہ جنگ صرف کشمیر ہی میں نہیں لڑی جا رہے فلسطین، برما، شام اور ہر اس جگہ لڑی جا رہی ہے جہاں مسلمان مبتلائے اذیت و مصائب ہیں۔ فریقِ مخالف یہ جنگ پورے شعور و اذعان سے لڑ رہا ہے۔ مگر ہمیں اس کا ادراک کرتے ہوئے شرم آ رہی ہے، کیونکہ ہم نظریہ اسلامی کی بات نہیں کر سکتے۔

اپنے مسئلے کے لیے دوسروں کی ثالثی پر بھروسہ مت رکھیں۔

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

قرآن نے بہت پہلے بتا دیا تھا:-۔

وَلَنْ تَـرْضٰى عَنْكَ الْـيَهُوْدُ وَلَا النَّصَارٰى حَتّـٰى تَتَّبِــعَ مِلَّـتَـهُـمْ (البقرۃ: 120)۔

“اور یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرو گے۔”

وقت آہستہ آہستہ سرک رہا ہے لیکن ابھی اس کی ڈور ہمارے ہاتھوں سے نکلی نہیں ہے ہم اگر چاہیں تو اب بھی تاریخ بدل سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے وقت کے تقاضوں کو نہ سمجھا تو

وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْـرَكُمْۙ ثُـمَّ لَا يَكُـوْنُـوٓا اَمْثَالَكُمْ (محمد: 38)۔

“اور اگر تم نہ مانو (حکم الٰہی سے منہ پھیر لو) گے تو وہ تمہیں دوسری قوم سے بدل دے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔”

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.