تقسیم سے قبل برصغیر میں مذہبی انتشار: قادیانیت کے تناظر میں


الواقعۃ شمارہ : 90 – 91، ذیقعد و ذی الحجہ 1440ھ

از قلم : عبید الرحمن عبید، گجرانوالہ

اٹھارہویں صدی کے نصف دوم اور انیسویں صدی کے نصف اول میں جب برصغیر میں اسلامی اقتدار رو بہ زوال ہوا تو مغربی طاقتوں نے اس زرخیز خطہ ارض میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ چنانچہ وہ تجارت، مشنریت، سفارت اور سیاحت کا پیراہن زیبِ تن کر کے آئے اور رفتہ رفتہ مسندِ اقتدار پر قابض ہو گئے۔ ان کی آمد نے نہ صرف یہاں کی سیاسی آب و ہوا میں تغیر پیدا کیا بلکہ یہاں کی مذہبی فضا بھی اس سے مکدر ہوئے۔ اپنے اقتدار کو بڑھانے کے لیے انھوں نے یہاں کی عوام کو کبھی مذہب کے نام پر، کبھی ملت اور کبھی زر و زمین کے نام پر آپس میں لڑوایا۔ مسلم حکمران اگرچہ اپنے شب و روز کی تزئین میں حد درجہ مگن تھے مگر ان کے اقتدار کا سورج ابھی ڈوبا نہیں تھا۔

تاریخ گواہ ہے کہ محمد بن قاسم کی آمد سے لے کر سراج الدین ظفرؔ کی معزولی تک اس خطے میں مذہب کے نام پر کبھی اتنی خونزیری نہ ہوئی تھی، جتنی اس ایک صدی میں چشمِ فلک نے دیکھی۔ اس دور کے دیگر کئی فتنوں میں سے ایک فتنہ مذہب کا بھی تھا۔ جب ان فسادات سے خاطر خواہ مفاد حاصل نہ ہو سکا تو یہاں کی فضا میں مزید شدت پیدا کرنے کے لیے چند نئے عقائد و مذاہب کو رواج دیا گیا جن میں عیسائیت، آریہ سماج اور بہائیت کے علاوہ قادیانیت سرفہرست ہے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کی معیت میں مغرب سے عیسائی مشنری مغرب سے تین چیزیں؛ تجارت، سیاست اور مذہب ساتھ لائے تھے، جسے انھوں نے یکے بعد دیگرے مروج کیا۔ مذہبی انتشار کی اس تفصیل طلب داستان سے چند اقتباسات ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں۔

کمپنی کے مذہبی انتشار کے ابتدائی اثرات دربارِ اکبری سے ملتے ہیں، کیونکہ اس کے دربار میں جو مباحث ہوتے تھے، ان میں عیسائی پادری بھی شریک ہوتے تھے، ان پادریوں کا سربراہ روڈولف تھا۔ پادری جب دربار میں انجیل لائے تو اکبر نے نہ صرف اسے بوسہ دیا بلکہ احتراماً اسے سر پر بھی رکھا۔ عیسائی مشنری تثلیث کے حق ہونے پر دلائل بھی پیش کرتے، اکبر ان کے دلائل کو خاموشی سے سن لیتا جس پر انھیں مزید شہ ملی اور وہ عیسائیت کا زور و شور سے پرچار کرنے لگے۔ ہندوستان میں ایسٹر (عیسائیت کا مذہبی تہوار) کا آغاز بھی اکبر کے عہد میں ہوا۔

بائبل کا پہلی بار فارسی میں ترجمہ بھی اکبر کے عہد میں ہوا، اس مقصد کے لیے شیخ ابو الفضل (صاحبِ آئین اکبری) کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ابو الفضل نے جب بسم اﷲ کے بجائے’’اے نامی دے ژژو کرستو‘‘ (یعنی اے وہ ذات تو بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے) لکھا تو اس پر فیضیؔ نے دوسرا مصرعہ ’’سبحانک لا سواک یا ہو‘‘ (یعنی [اے ﷲ] تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں) لگایا۔

جہانگیر کے زمانے میں جب فرمانروائے انگلستان ( جیمس اول) کی جانب سے طامس سفیر بن کر آیا (1615ء) تو اسے شاہی دربار میں بڑی قدر و منزلت سے نوازا گیا اور جہانگیر اسے جلوت و خلوت کی محفلوں میں ساتھ رکھتا، جس کے بعد اس نے بادشاہ سے یہ رعایت حاصل کی کہ انگریزی مال پر کوئی محصول عائد نہ کیا جائے۔ جہانگیر نے اپنی طبعی اخلاق و شرافت سے اسے یہ مراعات دے دیں۔ 1650ء میں انگریزوں کو بنگالہ میں تجارت کرنے اور کوٹھیاں تعمیر کرنے کی اجازت دے دی گئی، چنانچہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہدِ حکومت تک وہ برصغیر میں کئی فیکٹریوں اور جائیدادوں کے مالک بن چکے تھے۔

بنگال میں جب انگریزوں کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھنے لگیں تو نواب شایستہ خان نے ان کے مال پر محصول لگا دیا، جس پر وہ جنگ کرنے پر آمادہ ہو گئے اور انگلستان سے دس جہازوں میں فوج کے دستے منگوائے۔ بعد ازاں اورنگ زیب عالمگیر کی مداخلت پر یہ معاملہ کچھ دیر کے لیے رفع دفع ہو گیا، مگر عالمگیر کی وفات کے بعد ان کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھ گئیں اور رفتہ رفتہ وہ پورے برصغیر پر قابض ہو گئے۔

سر جون ’’ہسٹری آف سی پوائی‘‘ میں لکھتا ہے:-

’’بغاوت کے نام پر مجرموں کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی ہلاک کیے جا رہے تھے۔ انگریز یہ فخر کرنے میں نہیں ہچکچاتے تھے کہ انھوں نے کسی کو نہیں چھوڑا، ہلاک کرنا ان کے لیے خوش گوار تفریح تھی۔‘‘

جان شور لکھتا ہے:-

’’ہمیں اس کی کیا پروا کہ لوگ کیا سوچتے ہیں ۔۔۔۔۔ عام طور پر انگریز مع جوتوں کے مسجدوں میں گھس جاتے، اگر کوئی ملا احتجاج کرتا تو اسے پیٹ دیا جاتا۔‘‘

سرسید احمد خان لکھتے ہیں:-

’’بعضے صاحب (انگریز افسران) اپنے ملازموں کو حکم دیتے تھے کہ ہماری کوٹھی پر آ کر پادری صاحب کا وعظ سنو اور ایسا ہی ہوتا تھا۔ اس بات نے ایسی ترقی پکڑی کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کی عملداری میں ہماری اولاد کا کیا مذہب ہو گا۔‘‘ (اسباب بغاوتِ ہند)

مزید لکھتے ہیں:-

’’پادری صاحبان صرف انجیل کے وعظ پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ غیر مذہب کے مقدس لوگوں اور مقدس مقاموں کو بہت برائی اور ہتک سے یاد کرتے تھے۔‘‘

 ۔1857ء کی جنگِ آزادی کے دیگر اسباب میں سے دو وجوہات یہ بھی تھیں کہ اولاً تو انگریزوں نے اپنے مذہب کی ترغیب اور دیگر مذاہب کی تردید کے لیے عقلی دلائل کی بنا پر حملے کیے اور ثانیاً مقامی فوج کو ایسے کارتوسوں کے استعمال کا حکم دیا گیا جن کے اوپر چربی کی جھلی چڑھی ہوتی تھی، اس کارتوس کو چلانے کے لیے چربی کی جھلی کو دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ عام خیال یہ تھا کہ یہ چربی گائے اور سور سے حاصل کی گئی ہے۔ اس کارتوس کے استعمال پر بھی عوام اور حکمرانوں کے مابین بہت سے فسادات ہوئے۔

انگریزی حکومت میں ہندو مسلم اتحاد ان کے پرامن اقتدار کی راہ کا کانٹا تھا، جسے انھوں نے ’’پھوٹ ڈالو اور حکمرانی کرو‘‘ کے اصول کے تحت انتہائی مکاری سے لاگو کیا۔ استعماری سامراج اگرچہ مسندِ اقتدار پر براجمان ہو چکا تھا مگر اب بھی وہ مسلمانانِ ہند کے جذبہ جہاد سے خائف تھا۔ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر نے ’’ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘ میں واضح طور پر لکھا کہ ’’مسلمانوں میں جہاد کا تصور ان کی سلطنت کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔‘‘ مسلمان چونکہ اختلافِ عقائد کے باوصف متحد ہو کر لڑتے تھے، اس لیے جہاد کے خوف کو دور کرنے کے لیے انھوں نے جہاد کے خلاف مباحث پیدا کر کے اسلام میں تحریف کا سامان کرنا شروع کر دیا۔ برصغیر دار الحرب یا دار الاسلام، کی تاویلوں سے مشرق و مغرب سے نام نہاد علما سے تنسیخِ جہاد پر من مانے فتاویٰ لکھوائے گئے، کلام ﷲ اور تفاسیر کے معانی و مفاہیم کو اپنے مزاج کے مطابق بدلوانے کی کوششیں بھی کی گئیں، تحریکِ مجاہدین کا زور توڑنے کے لیے انھیں ’’وہابی‘‘ قرار دیا گیا اور اس تحریک کی آڑ میں کئی علما کو املاک اور مال و متاع سے محروم کر دیا گیا، علمائے حق پر جہاد کی پاداش میں مقدمے چلائے گئے اور انھیں کالا پانی کی سزائیں دی گئیں۔

ان عوامل سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے علما کو جہاد سے ہٹانے کی غرض سے مغرب سے پادریوں کی بہت بڑی کھیپ بلائی گئی، جس نے آ کر کتاب و سنت پر رکیک حملوں کی بنا ڈالی۔ نتیجتاً جو علما جہاد کے محاذ پر تھے، شریعت و سیرت کے دفاع کی غرض سے میدان میں آ گئے۔

 یوپی کا لیفٹیننٹ گورنر ولیم میور نے 1868ء میں لائف آف محمد (حیات محمد ﷺ) لکھ کر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی شانِ اقدس میں دریدہ دہنی کی۔ اس کتاب میں اس خبیث نے لکھا کہ انسانیت کے دو بڑے دشمن ہیں؛ محمد ( ﷺ) کی تلوار اور محمد (ﷺ) کا قرآن۔ نعوذ باﷲ من ہفوات ذلک۔ اس پر کئی ردود لکھے گئے، جن میں سرسید احمد خان کی ’’خطباتِ احمدیہ‘‘ لائقِ تحسین ہے۔

مشنریوں کی پالیسی یہ تھی کہ عیسائیت کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہندومت اور اسلام کو مکمل طور پر رد کر دیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ یہ مذہب گمراہ کن ہیں۔ چنانچہ پادری صاحبان نے نہ صرف عیسائیت کی تبلیغ پر کتب چھاپنا شروع کر دیں، بلکہ ان کتب میں دوسرے مذاہب پر اعتراضات کیے اور پیغمبروں اور مقدس لوگوں کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ بھی لکھے، جس سے لوگوں کو بہت رنج ہوا۔ نتیجتاً مسلمان علما اور ہندو سوامی میدان میں نکل آئے، جس سے مناظرہ کا کلچر پیدا ہوا۔ ان مناظروں میں کارل گوٹلیب فنڈر نامی عیسائی مبلغ بہت مشہور ہوا جو ترکی، عراق اور ایران ایسے ممالک میں قیام کے بعد 1837ء میں برصغیر میں آیا۔ اگرچہ فنڈر بڑے عزائم کے ساتھ آیا تھا، مگر مسلمان علما کے سامنے اس کی ایک نہ چلی اور وہ پسپا ہو کر واپس لوٹ گیا۔

اس میں شک نہیں کہ استعماری سامراج نے سائنسی علوم کو ترقی دے کر انسانی آسائشوں اور راحتوں کی خاطر بے شمار ایجادات کیں، مگر ان کی سفاکیت کا نمونہ دیکھنے کے لیے ان کے ایجاد کردہ آلاتِ حرب و ضرب کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے، ان آلات کو انھوں نے صرف بنایا ہی نہیں بلکہ انسانیت پر آزمایا بھی خوب تھا۔ استعمار کی ان سفاکانہ ایجادات کے مظاہر دیکھنے کے لیے مولانا ظفر علی خان کی ’’معرکہ مذہب و سائنس‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

انگریزوں نے آریہ سماج (ہندوؤں کے بے شمار فرقوں میں سے ایک فرقہ) کے چند پیشوائوں کو بھی انعام و اکرام کا لالچ دے کر خوب بھڑکایا۔ انھوں نے انگریز کے ایما پر تحریک چلائی کہ مسلمان غیر ملکی غاصب ہیں لہٰذا انھیں بھارت ورش کی پوتر بھومی (ہندوستان) سے یا تو ہانک کر نکال دیا جائے یا ان سب کو ’’گئو موتری‘‘ پلا کر شدھ شودروں اور چنڈالوں میں شامل کر لیا جائے۔ اور دوسرا ان کی جانب سے اسلام کی ہجو میں یہ محاورہ بہت معروف ہوا کہ مسلمانوں کے تیوہار چار ہیں: کاٹا (کاٹنا۔ یعنی عید الاضحی)، پیٹی (پیٹنا۔ یعنی محرم الحرام)، پھوکا (پھونکنا۔ یعنی شب برات)، پھاکی (فاقہ کشی۔ یعنی رمضان المبارک)۔
انگریز نے برصغیر پاک و ہند مذہبی انتشار کی خاطر اپنی نو آبادیوں میں نبوت و رسالت تشکیل دینے کے لیے مرزا حسین علی مازندرانی (اس بارے میں تفصیلی مطالعہ کے لیے علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی تالیف ’’البہائیہ‘‘ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے) سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن مرزا حسین علی ایران اور عرب کو چھوڑ کر ہندوستان میں ان کی خدمات بجا لانے پر آمادہ نہ ہوا تو انھوں نے ہندوستان میں بھی ایک مرزا تلاش کر لیا، جو غلام احمد قادیانی (وفات: 1908ء) کے نام سے معروف ہے۔

برصغیر ایسا عظیم خطہ ارض کہ جس پر مسلمان سات سو برس تک حکمران رہے ہوں، اس میں بغیر کسی استمداد و معاونت کے تن تنہا ایسی ریشہ دوانیاں پیدا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ چونکہ اس وقت حکومت کی باگ فرنگیوں کے ہاتھوں میں تھی، لہٰذا اس مذہب کی پرورش و پرداخت اسلام دشمن قوتوں کے زیرِ سایہ کی گئی، انھیں ترحم سے نوازا، سرکاری عہدوں پر فائز کیا اور ان کے بچوں کو تعلیمی وظائف بھی مہیا کیے گئے۔

قادیانیت کی اساس قریباً 1868ء میں اس وقت رکھی گئی جب مرزا غلام احمد قادیانی (وفات: 26 مئی 1908ء) ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں معمولی تنخواہ پر ملازم تھا۔ دورانِ ملازمت میں اس نے سیالکوٹ کے پادری مسٹر بٹلر سے کئی روز تک تخلیہ میں اس کی طویل ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ جب استعمار نے اسے اپنی مطلوبہ خصوصیات کا حامل پایا تو اسے مذہبی انتشار کی اس تحریک کا بانی بنا دیا۔ اس بات کا ثبوت 1869ء میں برٹش پارلیمنٹ کی جانب روانہ کی جانے والی

"The arival of british empire in India”

نامی رپورٹ سے ملتا ہے، جس میں لکھا تھا:-

’’ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی آقاؤں کی اندھا دھند مقلد ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو پاسٹالک پرافٹ (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر برطانوی مفادات کے لیے مفید کام لیا جا سکتا ہے۔‘‘

مرزا صاحب نے 1875ء میں انگریز ہی کے اشارے سے پہلے مجددِ دین ہونے کا اعلان کیا، 1880ء میں ملہم من ﷲ ہونے کا اعلان کیا، پھر دسمبر 1888ء میں اعلان کیا کہ ﷲ تعالیٰ نے انھیں بیعت لینے کا حکم فرمایا ہے۔ 1891ء میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور اسی سال مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کے دس سال بعد 1901ء میں اس نے مستقل نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ تمام انبیا اور رسولوں سے افضل ہے۔

مرزا صاحب کی استعمار پرستی کا اندازہ ’’تبلیغ رسالت‘‘ (6/65) پر مرقوم اس عبارت سے بھی لگایا جا سکتا ہے:

’’میرے مریدوں کی ایک جماعت تیار ہوئی ہے جو اس گورنمنٹ کے دلی جانثار ہیں۔‘‘

مرزا صاحب کی ناوک کشی سے کوئی دین محفوظ رہا اور نہ کوئی دیندار۔ اولاً مرزا صاحب نے آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند اور ان کے معتقدین پر تحریری کیچڑ اچھالا اور ہندوؤں کو اسلام کے خلاف اکسایا۔ ثانیاً اس نے عیسائی مشنریوں پر بھی رکیک حملے کیے، نتیجتاً انھوں نے بھی اسلام ہی کو ہدفِ تنقید بنایا۔ مرزا صاحب کی رگیل صفتی نے اسی پر اکتفا نہ کیا بالآخر ۱۹۰۱ء میں دعوائے نبوت کر کے اسلام اور مسلمانوں کا نام بھی خوب خراب کیا۔

قادیانیوں کی حمایت میں ہندوؤں اور صیہونیوں نے بھی قلم اٹھایا اور ہر طرح سے ان کا دفاع کیا۔ چنانچہ قادیانیت کی تردید میں جب علامہ اقبال نے ایک مفصل و مدلل مضمون لکھا تو جواہر لال نہرو نے اس پر قادیانیوں کی حمایت و مدافعت میں کئی مضمون لکھے۔ (دیکھیں: الفضل: 11 جون 1936ء) بعد ازاں علامہ مرحوم نے بھی نہرو کے مضامین کا مفصل جواب بعنوان ’’اسلام اور احمدی ازم‘‘ لکھا۔ اور اگر قادیانی ازم پر یہودیوں کی عنایات کا اندازہ کرنا ہو تو غلام احمد قادیانی کے پوتے مرزا مبارک احمد کی کتاب ’’آور فارن مشنز‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

فتنۂ قادیانیت کی تردید جاری ہونے والا پہلا متفقہ فتویٰ تکفیر استادِ ہند سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ (وفات: 1902ء) نے لکھا، جس میں صراحت کی کہ ایسے عقائد کا حامل (مرزا قادیانی) اور اس کے پیروکار اسلام سے خارج ہیں۔ نہ ان کی نمازِ جنازہ جائز ہے اور نہ انھیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ مرزا اور امتِ مرزا کی تکفیر پر یہ پہلا متفقہ فتویٰ ہے جو مولانا محمد حسین بٹالوی (وفات: 1920ء) کی مساعی سے چھپا۔ مولانا بٹالوی نے اس فتویٰ پر وقت کے دو سو نامور علما سے تصدیق کروائی اور اسے ملک کے طول و عرض میں پھیلا دیا۔

استعماری عہد میں مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ کرنے کا یہ سب سے کامیاب مہرہ تھا جسے انگریزوں نے پیدا کیا اور اپنے فتنے کے آغاز سے لے کر آج تک قادیانیت مسلمانوں کے ایمان کے لیے ایک خطرہ ثابت ہوئی ہے۔ لیکن استعمار کا یہی وہ مہرہ ہے جو آج مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد بھی پیدا کر سکتا ہے کیونکہ عقیدہ ختم نبوت تمام مسلمانوں کی مشترکہ اساس ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے غیر مشروط محبت – جس کے بغیر ایمان کا تصور بھی ممکن نہیں – کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان ختم نبوت کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں اور ایمان بالرسالت کے منکرین کے خلاف مشترکہ جدوجہد کریں۔

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.