تفسیر سورۃ الزمر آیت : 53


الواقعۃ شمارہ: 86 – 87، رجب المرجب و شعبان المعظم 1440ھ

از قلم : مولانا ارشاد الحق اثری

قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہ اِنَّ اللہ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ [الزمر: 53

’’کہہ دے: اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے بے شک وہی تو ہے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا۔‘‘

پہلے مسلسل کئی آیات میں مختلف اسالیب میں شرک کی تردید اور مشرکین کے انجام کا ذکر اور ان کے بعض افکار کی تغلیط بیان ہوئی، اب یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت اور اس کی بخشش و مغفرت کا بیان ہے۔ قرآن مجید کا یہ عمومی اسلوب ہے کہ جہنم کے ساتھ جنت کا، کفار ومشرکین کے عقائد و اعمال کے ساتھ اہلِ ایمان کے عقائد و اعمال کا اور ترہیب کے ساتھ ترغیب و بشارت کا بیان ہوتا ہے، جیسے فرمایا:-

نَبِّیْٔ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ وَ اَنَّ عَذَابِیْ ھُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ [الحجر: 49-50

’’میرے بندوں کو خبر دیدے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہوں۔ اور یہ بھی کہ بے شک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔‘‘

قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ ’’کہہ دے: اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی!‘‘ بعض لوگوں نے قُلْ یٰعِبٰدِیْ کی یہ عجیب و غریب تاویل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ’’اے میرے بندو‘‘ کہہ کر خطاب کا حکم کیا ہے! مگر یہ تاویل نہیں، قرآن مجید کی بد ترین تحریف ہے۔ رسول اللہﷺ نے عمر بھر سب کو اللہ کا بندہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن مجید میں بھی انسانوں کو اللہ کا بندہ قرار دیا ہے اور انھیں عبدي، عبدنا، عبادنا، عبادي، عبدہ، عبادہ کے الفاظ سے مخاطب کیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:-

مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللہ وَ لٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَ بِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ [آل عمران: 79

’’کسی بشر کو کبھی حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جائو اور لیکن رب والے بنو، اس لیے کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم پڑھا کرتے تھے۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-

"لا یقولن أحدکم ’’عبدي‘‘، فکلکم عبید اللہ۔” (صحیح مسلم، رقم: 2249 وغیرہ)

’’تم میں سے کوئی کسی کو ’’عبدي‘‘ (میرا بندہ) نہ کہے، تم سب اللہ کے بندے ہو۔‘‘

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ شرک اور اس کی انواع و اقسام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-

’’بعض وہ ہیں کہ ان کی زبانیں اپنے معبودوں کو ’’اللہ کا بندہ‘‘ کہنے میں لڑکھڑا جاتی ہیں، وہ ان کا نام ’’ابناء اللہ‘‘ (اللہ کے بیٹے) رکھتے ہیں اور اپنا نام ’’ان کا بندہ‘‘ رکھتے ہیں، جیسے: عبد المسیح، عبد العزیٰ ہے۔ یہ جمہور یہود و نصاریٰ اور مشرکین کی حالت ہے اور اسی طرح ہمارے زمانے میں دینِ محمدی ﷺ کے بعض غالی منافقین کی بیماری ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ: 1/41)

رسول اللہ ﷺ عمر بھر اس کی تردید کرتے رہے کہ کوئی انسان کسی انسان کا ’’عبد‘‘ نہیں۔ عبد الشمس اور عبد العزیٰ نہ بنو، عبد اللہ اور عبد الرحمان بنو۔ وہی اگر زندگی کے کسی مرحلے میں فرما دیں کہ تم اب عبدِ محمد، عبد النبی یا عبد المصطفیٰ ہو تو کیا یہ ’’کلکم عبید اللہ‘‘ کی نفی نہیں؟ اس لیے یٰعِبٰدِیْ کی یہ تاویل کہ نبی ﷺ نے مخاطبین سے فرمایا کہ ’’میرے بندو‘‘ تو یہ سراسر معنوی تحریف ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:-

’’بعض مشرکین نے بہت زیادہ قتل کیے اور بہت زنا کیا تو وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے کہ آپ جس کی دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے، کاش آپ بتائیں کہ جو کچھ ہم نے کیا اس کا کوئی کفارہ ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:-

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللہ اِلٰہًا آخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللہ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ [الفرقان: 48

’’اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پکارتے اور اس جان کو، جسے اللہ نے حرام کیا ہے، قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔‘‘

(اس کے بعد کی آیات میں ذکر ہے کہ توبہ اور عملِ صالح کرنے والوں کی برائیاں اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دیتا ہے اور اللہ نہایت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے)، پھر یہ آیت نازل ہوئی: قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا … إلخ۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث: 4810 ، صحیح مسلم)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (8/550) میں فرمایا ہے کہ طبرانی کی روایت میں ہے کہ یہ سائل وحشی بن حرب تھے۔ طبرانی میں یہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وحشی بن حرب کو بلوایا اور اسے اسلام کی دعوت دی، اس نے عرض کیا کہ آپ جس دین کی دعوت دیتے ہیں، اس میں آپ فرماتے ہیں کہ جس نے قتل کیا، شرک کیا، زنا کیا اسے بہت گناہ ہوگا، قیامت کے روز اسے دگنا عذاب ہو گا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور میں یہ کام کر چکا ہوں، کیا آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:-

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَّ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَحِیْمًا [الفرقان: 70

’’مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا نیک عمل، تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ سے بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘

وحشی بن حرب نے عرض کیا: یہ تو بہت سخت شرط ہے کہ وہ ایمان کے بعد نیک عمل کرے، ہو سکتا ہے میں اس پر پورا نہ اُتر سکوں! پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:-

اِنَّ االلہ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ [النساء: 48

’’بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔‘‘

وحشی نے عرض کیا: اے محمد ﷺ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ اس میں بھی بخشش و مغفرت اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، میں نہیں جانتا کہ میری بخشش ہو گی یا نہیں۔ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی صورت بخشش کی ہے ؟ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الزمر کی یہ آیت: قُلْ یٰعِبٰدِیَ … إلخ نازل فرمائی۔ وحشی نے کہا: اب ٹھیک ہے۔ پھر اس نے اسلام قبول کر لیا۔ لوگوں نے کہا: اگر ہم بھی وحشی کی طرح گناہ کر بیٹھیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ حکم سب مسلمانوں کے لیے ہے۔

طبرانی کے علاوہ یہ روایت ’’شعب الایمان‘‘ میں بھی ہے، اور بھی کئی مفسرین نے اسے نقل کیا ہے، مگر یہ روایت ضعیف ہے۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے بھی الدر المنثور (5/330) میں اس کی سند کو ’’لین‘‘، یعنی کمزور قرار دیا ہے۔ علامہ ہیثمی نے فرمایا ہے کہ اس کا راوی ’’ابین بن سفیان‘‘ ہے جسے حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔ (مجمع الزوائد: 7/101) ابین بن سفیان کو بعض نے ’’ابان بن سفیان‘‘ بھی کہا ہے اور اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: لایکتب حدیثہ۔ امام ابن عدی، ابن حبان اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے، بلکہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی موضوع روایت بھی ذکر کی ہے۔ (میزان: 1/77-78

اس لیے یہ روایت سخت ضعیف ہے، پھر یہ روایت صحیح بخاری کی روایت (حدیث: 4072) کے بھی خلاف ہے جس میں وحشی بن حرب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں اہلِ مکہ کے ساتھ واپس چلا گیا، اسلام مکہ میں پھیلا تو میں طائف نکل گیا۔ اہلِ طائف نے نبی ﷺ کی خدمت میں وفد روانہ کیا تو میں بھی ان کے ساتھ گیا، ’’حتی قدمت علی رسول اللہ ﷺ فلما رآني قال: أنت وحشي؟‘‘ (حتیٰ کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے جب مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا: کیا تُو وحشی ہے؟) میں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: تُو نے حمزہ کو قتل کیا؟ عرض کیا: وہی بات ہوئی جو آپ تک پہنچی ہے۔ فرمایا: کیا ہو سکتا ہے کہ تم اپنا چہرہ میرے سامنے نہ کرو۔ ابوداود طیالسی کی روایت میں ہے: اپنے چہرے کو مجھ سے چھپا لو، میں تمھیں نہ دیکھوں۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد آپ ﷺ نے مجھے نہیں دیکھا۔ (فتح الباری: 7/370

گویا وفدِ طائف میں حضرت وحشی رضی اللہ عنہ خود حاضرِ خدمت ہوئے، انھیں بلایا نہیں گیا اور ان سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کی تصدیق کے بعد فرمایا کہ ’’دوبارہ مجھے نظر نہ آنا‘‘ اور کہاں وہ ساری داستان جو ابین بن سفیان جیسے راوی نے بیان کی ہے، دونوں میں بُعد المشرقین ہے۔

بہرحال اس آیت کے شانِ نزول میں حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ نہایت ضعیف ہے۔

حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے بارے میں شانِ نزول کی اسی طرح روایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جسے علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ کے حوالے سے الدرالمنثور میں ذکر کیا ہے، و اللہ اعلم۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہجرت کے لیے ہم تین ساتھی تیار ہوئے؛ میں، عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص بن وائل۔ ہم نے بنو غفار کے کنویں کے پاس جمع ہونے کا فیصلہ کیا (بنو غفار کا یہ کنواں مکہ مکرمہ سے دس میل کی مسافت پر تھا) اور کہا کہ جو صبح وہاں نہیں پہنچے گا، ہم سمجھیں گے کہ اسے ہجرت سے روک دیا گیا ہے، اس لیے دوسرے ہجرت کے لیے روانہ ہو جائیں، چنانچہ ہشام بن عاص روک لیے گئے (اور ہم سفر پر روانہ ہوگئے)۔

جب مدینہ طیبہ پہنچے تو ہم بنو عمرو بن عوف کے ہاں ٹھہرے، ادھر ابو جہل بن ہشام اور حارث بن ہشام مدینہ طیبہ آئے اور عیاش بن ابی ربیعہ سے ملے۔ عیاش ان کا ماں جایا بھائی تھا، انھوں نے عیاش سے کہا: تمھاری ماں نے نذر مانی ہے کہ جب تک عیاش آئے گا نہیں، میں بالوں کو کنگھی نہیں کروں گی، مگر میں نے عیاش کو کہا: یہ تمھیں دین سے منحرف کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ کی قسم، جب تیری ماں کو جوئیں پڑیں گی تو کنگھی کرلے گی اور جب مکہ مکرمہ کی گرمی محسوس کرے گی تو سائے میں بیٹھ جائے گی، مگر عیاش نے کہا: میرا وہاں مال ہے، میں اسے لے آؤں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم، تم جانتے ہو کہ میں قریش کا سب سے زیادہ مال دار شخص ہوں، میں تمھیں نصف مال دیتا ہوں، تم ان کے ساتھ واپس نہ جاؤ، مگر وہ نہ مانا اور ان کے ساتھ چلا گیا۔ جب وہ جانے لگا تو میں نے کہا: تم نے جانا ہی ہے تو میری اونٹنی لے جاؤ، یہ بڑی سدھائی ہوئی ہے، چنانچہ وہ ان کے ہمراہ روانہ ہو گیا۔

راستے میں ابوجہل نے اسے کہا: میری اونٹنی تھک گئی ہے، کیا تم مجھے اپنے ساتھ اونٹنی پر بٹھا لیتے ہو ؟ عیاش نے کہا: ہاں، آؤ، بیٹھ جاؤ۔ اس نے اونٹنی بٹھائی تو انھوں نے بھی اونٹنی بٹھائی، تاکہ اتر کے اس کے ساتھ بیٹھ جائے، مگر جب اونٹنی سے اترے تو انھوں نے عیاش کو باندھ لیا اور باندھ کر اسے مکہ مکرمہ لے گئے اور اسے فتنے میں مبتلا کر کے دین سے منحرف کر دیا۔ ہم کہتے تھے کہ جو یوں دین کو سچا جاننے کے بعد دین سے منحرف ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گا۔ ہم یہی باتیں کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لے آئے تو ایسے مرتدین کے بارے میں ہماری باتوں کے بارے میں اور مرتدین کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا ……

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ آیات لکھ کر ہشام بن عاص کے پاس بھیجیں۔ ہشام کہتا: میں یہ آیات پڑھتا تھا تو میرے دل میں بات آئی کہ یہ میرے بارے میں نازل ہوئی ہیں، چنانچہ میں نے اپنی اونٹنی لی اور اس پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ طیبہ حاضر ہو گیا۔

سیرت ابن ہشام (1/288، طبع ملتان) میں یہ ابن اسحاق کے واسطے سے ہے اور اسی کی سند سے یہ روایت مستدرک (2/ 13-14) ، بیہقی (9/ 13-14) ، معرفۃ الصحابۃ لأبي نعیم (5/4532) ، بزار، ابن سکن، المختارۃ از ضیاء مقدسی وغیرہ میں ہے۔ اس کی سند حسن صحیح ہے۔ علامہ ہیثمی نے فرمایا ہے: اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع: 4/ 41) حافظ ابن حجر نے بھی اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ (الاصابہ: 4/284، ترجمہ: ہشام) امام حاکم نے اسے شرطِ مسلم پر صحیح کہا ہے۔ (مزید دیکھیے: الاستیعاب فی بیان سبب الاختلاف: 3/ 173-174

شانِ نزول ہی کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ آیت مشرکینِ مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ علامہ سیوطی نے لباب النقول میں اسے صحیح کہا ہے۔ اس کے علاوہ جتنی روایات اس حوالے سے منقول ہیں، وہ تمام ضعیف ہیں، تفصیل الاستیعاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔

حضرت ابن عباس اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یٰعِبٰدِیَ میں عبدیتِ عامہ مراد ہے، مگر علامہ رازی اور بعض دیگر مفسرین کی رائے ہے کہ اس کے مخاطب مومن ہیں، کفار نہیں کیوں کہ ’’عبادی‘‘ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اور قرآن کے عرف میں اس کا اِطلاق اہلِ ایمان پر ہوتا ہے۔

مگر ان کا یہ استدلال درست نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:-

وَ یَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبٰدِیْ ہٰٓؤُلَآئِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوْا السَّبِیْلَ [الفرقان: 17

’’اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کر لے گا، پھر کہے گا: کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے ؟‘‘

یہاں مشرکوں ہی کے بارے میں تو ’’عبادی‘‘ میرے بندے کہا گیا ہے، اس لیے یہ استدلال درست نہیں کہ ’’عبادی‘‘ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد مومن ہی ہوتے ہیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:-

 اللہ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ یَقْدِرُ لَہُ [العنکبوت: 742، القصص: 82

’’اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے۔‘‘

یہاں بھی ’’عبادہ‘‘ میں تمام بندے مراد ہیں، مومن ہوں یا کافر، بلکہ جنھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور ان کی والدہ کو معبود بنایا ہے۔ ان کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے:

اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ [المائدۃ: 118

’’اگر تُو انھیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں۔‘‘

اس لیے کافر اور مشرک بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، مگر نا فرمان بندے ہیں۔ یہ عبدیتِ عامہ ہے۔ بلاشبہ ’’عباد‘‘ یا ’’عبد‘‘ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا غالب استعمال مومن اور فرماں بردار کے لیے ہوا ہے اور یہ عبدیتِ خاصہ ہے جس میں اطاعت و اتباع ہے، محبت و انکسار ہے۔ علامہ رازی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مشرکین اپنا نام عبد العزیٰ، عبد المسیح رکھتے تھے اور عبد اللہ ہونے کا اعتراف مومن ہی کرتے ہیں۔ حالانکہ مشرکین جہاں عبد العزیٰ وغیرہ نام رکھتے تھے وہاں عبد اللہ بھی رکھتے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے منکر نہیں تھے۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ تمام مومنین و مشرکین اس آیت کے مخاطب ہیں اور تمام مُسرِفین کو یہ شامل ہے۔ مشرک کی بخشش توبہ پر مو قوف ہے جس کی تائید حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأ ت سے ہوتی ہے، وہ اس کو یوں پڑھتے تھے:-

اِنَّ اللہ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا لِمَنْ یَشَآءُ

’’بے شک اللہ جن کے چاہے گا، تمام گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی ہے:-
اِنَّ اللہ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ [النساء: 28، 114

’’بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے جسے چاہے گا۔‘‘

اس لیے شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہو گا۔ ایک اور مقام پر اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے:

اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَّکَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَحِیْمًا [الفرقان: 70

’’مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا نیک عمل تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔‘‘

نیز دیکھیے سورت مریم، آیت: ۴۰۔

قابلِ غور بات ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہی ایک آیت لکھ کر ہشام کی طرف بھیجی تھی، بلکہ اس کے بعد کی دو آیات بھی تھیں، جیسا کہ ابن ہشام میں ہے، جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آنے اور اس کے فرماںبردار ہو جانے کا، یعنی اسلام لے آنے کا ذکر ہے۔

رہے اہلِ ایمان تو اللہ تعالیٰ چاہے انھیں اپنے فضل و احسان سے معاف کر دے اور چاہے تو ان کا محاسبہ فرمائے۔ اس کی مزید وضاحت ان شاء اللہ عنقریب بیان ہو گی۔

اَسْرَفُوْا یہ ’’سرف‘‘ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں: کسی کام میں حدِ اعتدال سے تجاوز کرنا۔ عموماً اس کا استعمال مال خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرنے پر ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا ہے:-

وَ الَّذِیْنَ اِذَا اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا [الفرقان: 47

’’اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں۔‘‘

اور یہ اِسراف مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولا جاتا ہے۔ امام سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی میں ایک حَبّہ بھی صرف کرنا اِسراف ہے۔(مفردات)

یہاں اِسراف سے معاصی میں افراط مراد ہے اور سب سے بڑا اسراف و افراط کفر و شرک ہے جن کے بارے میں فرمایا گیا ہے:-

وَاَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ ہُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ[المؤمن: 43

’’اور یقیناً حد سے بڑھنے والے، وہی آگ میں رہنے والے ہیں۔‘‘

انبیائے کرام سے وعدۂ نجات کے ساتھ ساتھ مشرکین کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:-
ثُمَّ صَدَقْنٰہُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰہُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِیْنَ [الأنبیاء: 9

’’پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کر دیا تو ہم نے انھیں نجات دی اور اسے بھی جسے ہم چاہتے ہیں اور ہم نے حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کردیا۔‘‘

عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ ’’اپنی جانوں پر۔‘‘ مقصد یہ ہے کہ تمھارے حد سے تجاوز کرنے کا نقصان تم ہی کو ہے۔ کوئی عقلمند انسان اپنی جان کا نقصان برداشت نہیں کرتا، وہ جان بچانے کے لیے سب جتن کرتا ہے، اس لیے تمھارے گناہوں اور تمھارے کفر و شرک کی سزا تم ہی کو برداشت کرنا پڑے گی۔ دنیا میں جو چوری یا زنا کرتا ہے، وہ اس کی سزا پاتا ہے، یہاں نہیں تو آخرت میں تو اس کی سزا پائے گا، اسی طرح جو کفر و شرک کا مرتکب ہو گا وہ بھی سزا پائے گا اور کوئی کسی کو بچا نہیں سکے گا:-

لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ [فاطر: 18

’’کوئی بوجھ اُٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی۔‘‘

اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اس اِسراف سے تمھارا اپنا نقصان ہے، میرا اس میں کوئی نقصان نہیں۔ تم سب کے سب کافر اور نا فرمان بن جاؤ، اس میں میرا کوئی نقصان نہیں، نہ میری بادشاہت میں کوئی کمی یا کجی واقع ہو گی، اس لیے اپنے نقصان سے بچو اور اپنی بھلائی کی فکر کرو۔

لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ ’’اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ۔‘‘ یہ قَنَطَ اور قَنِطَ، یعنی باب ضَرَبَ اور سَمِعَ سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں: بھلائی سے نا اُمید اور مایوس ہونا۔ شرک کے اسباب و عوامل میں سے ایک بڑا سبب اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے مایوسی یا بدگمانی بھی ہے۔ مشرک اپنی بخشش و مغفرت کے لیے کوئی وسیلہ ڈھونڈتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں کسی کو اللہ کا مقرب سمجھ کر اس کو راضی کرنے اور خوش رکھنے کے لیے اس کی نذر و منت، اس کے دربار کی بار بار حاضری، حتیٰ کہ اسے سجدہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا، تاکہ یہ خوش ہو کر میری شفاعت کرے اور میرا بیڑا پار ہو جائے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی پر اکتفا نہیں کرتا اور اپنے تصورِ عمل کی بنا پر سمجھتا ہے کہ میری التجا شاید سنی ہی نہ جائے، میں اس کا اہل ہی نہیں ہوں کہ اللہ تک رسائی حاصل کر سکوں۔ اس لیے وہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے سفارشی تلاش کرتا ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہاں مشرکین سے فرمایا ہے کہ اللہ سے مایوس ہو کر کوئی سہارا تلاش نہ کرو، اللہ سے بخشش ومغفرت طلب کرو، وہ تمھارے سارے گناہ معاف فرما دے گا۔ عیسائیت میں تو بخشش کے لیے پادری کو وسیلہ بنائے بغیر بخشش کا تصور ہی نہیں! وہ پادری کے ہاں جا کر اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے اور پادری اس کے لیے دعا کرتا ہے، مگر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس کی نا فرمانی کی ہے، صدقِ دل سے اسی کے سامنے گڑگڑاؤ اور بخشش طلب کرو، اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔

اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ’’بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔‘‘ الذُّنُوْبَ میں الف لام استغراق کا ہے کہ سب کے سب گناہ، مگر جَمِیْعًا کے ساتھ مزید تاکید فرما دی کہ چھوٹے بڑے سب گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس لیے بڑے سے بڑے گناہ، یعنی شرک و کفر کی وجہ سے مایوس نہ ہو جاؤ، وہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔ مغفرت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ چھپا دے گا، نہ اس سے ظاہراً مواخذہ ہو گا، نہ باطناً اور اللہ تعالیٰ اسے عذابِ جہنم سے بچا لے گا۔

بعض نے یہ کہا ہے کہ صحائف ہی سے انھیں ختم کر دے گا، مگر یہ درست نہیں۔ اگر صحائف سے بھی محو ہو جائیں گے تو وزنِ اعمال کیسے ہو گا؟

اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ’’بے شک وہی تو ہے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا۔‘‘ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفت اَلْغَفُوْرُ کے بارے میں سورۂ فاطر (آیت: 30) میں جو بیان ہوا ہے، اس پر نگاہ ڈال لیجیے۔ اَلرَّحِیْمُ یہ ’’فَعِیْل‘‘ کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے اور اس میں ’’رحم‘‘ سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے، جیسے: غضبان، شبعان اور عریان میں ہے۔ رحیم کی نسبت رحمان کے الفاظ زیادہ ہیں اور زیادتیِ الفاظ زیادتیِ معنی پر دلالت کرتی ہے۔ ہر نیک اور گناہ گار، بلکہ ساری مخلوق اس سے مستفید ہوتی ہے اور یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ایسا صفاتی نام ہے جو اسی کے ساتھ متصف ہے، جیسے رازق، خالق وغیرہ ہیں اور یہ بطور علَم کے تنہا استعمال ہوتا ہے، جیسے:

اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی [طہ: 5

قُلِ ادْعُوا اللہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی [بني إسرائیل: 110

اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ [الرحمان: 1-2

مگر اَلرَّحِیْمُ کا غالب استعمال یا تو اللہ تعالیٰ کے دیگر اسمائے مبارکہ کے ساتھ ہے یا مقید طور پر ہوا ہے، جیسے:-

الْبَرُّ الرَّحِیْمُ [الطور: 28

الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ [الشعراء: 9

الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ [یونس: 107

وَ کَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا [الأحزاب: 43

اور مخلوق پر بھی اس کا اطلاق ہوا ہے، جیسے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہے:-

حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ [التوبۃ: 128

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ’’الرحمٰن‘‘ اللہ تعالیٰ کا نام ہے، لوگوں کا اس نام پر کوئی حق نہیں ہے۔ اللہ نے یہ اپنا نام رکھا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)

مسیلمہ کذاب نے اپنا نام ’’رحمان السمامۃ‘‘ رکھا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل و رسوا کیا اور ’’مسیلمہ کذاب‘‘ کے نام ہی سے مشہور ہوا اور ہر مدعیِ نبوت کی مذمت اسی کے ساتھ تشبیہ دے کر کی جاتی ہے!

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’الرحمان‘‘ کے معنی ہیں کہ وہ ذات جس کی صفت رحمت ہے اور ’’الرحیم‘‘ وہ ہے جو رحم کرنے والا ہے، یعنی صفتِ فعلی مراد ہے۔ اسی لیے وَ کَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا اور اِنَّہٗ بِہِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ آیا ہے، ’’رحمان بھم‘‘ یا ’’رحمان بالمؤمنین‘‘ نہیں فرمایا۔ (بدائع الفوائد: 1/24

اللہ تبارک و تعالیٰ کی دیگر صفات، جیسے: ربوبیت، قدرت، بادشاہت اور علم وغیرہ کے آثار کا ظہور ہوتا رہتا ہے اسی طرح اس کی رحمت کے آثار بھی بے حد و بے شمار ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے ہمیں انسان بنایا، ایمان کی دولت نصیب فرمائی، ہماری ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، اپنی کتابیں نازل فرمائیں، اپنی معرفت عطا فرمائی، اسی کی رحمت سے سورج چاند اور رات دن کا نظام قائم ہے، اسی کی رحمت سے بڑے بڑے حیوان؛ ہاتھی، اونٹ، گھوڑے، چوپائے، حتیٰ کہ جہاز وغیرہ سفر اور دیگر ضروریات کے لیے ہیں۔ اسی کی رحمت سے ماں، باپ، بہن بھائیوں، دوست و احباب کے مابین مودّت و رحمت ہے۔ الغرض کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر ایک کو محیط ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:-

وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ [الأعراف: 156

’’اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔‘‘

اللہ کا غضب ہر چیز کو محیط نہیں، رحمت محیط ہے!

حاملینِ عرش اللہ سے دعا کرتے ہوئے اسی صفت کا وسیلہ لیتے ہیں:-

رَبَّنَآ وَسِعْتَ کُلَّ شَیْئٍ رَحْمَۃً وَّ عِلْمًا [غافر: 7

’’اے ہمارے رب! تُو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-

"و لو یعلم الکافر ما عند اللہ من الرحمۃ ما قنط من جنتہ أحد۔” (مسلم: 2755

’’اور اگر کافر جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی بھی نا امید نہ ہو۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-
’’اللہ کی رحمت کے ایک سو درجے ہیں، ان میں سے دنیا میں ایک درجہ رحمت کا اظہار فرمایا ہے اور اسی کی وجہ سے جن وانس اور چوپائے باہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، وحشی جانور اپنی اولاد سے محبت کرتے اور چوپایا اپنا پائوں اُٹھاتا ہے کہ میرے بچے پر نہ پڑے، باقی ننانوے درجات کا اظہار قیامت کے روز ہو گا۔‘‘ (صحیح بخاری: 9469، صحیح مسلم:  2752 وغیرہ

امام حماد بن سلمہ فرماتے ہیں:-

’’اگر کہا جائے کہ قیامت کے روز والدین سے اپنی قسمت کا فیصلہ کروا لو تو میں اسے قبول نہیں کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ میرا فیصلہ فرمائے کیوں کہ وہ ماں باپ سے بھی زیادہ رحیم ہے۔‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-

’’أترون ھذہ المرأۃ طارحۃ ولدھا في النار؟ قلنا: لا و اللہ۔‘‘

’’کیا خیال ہے یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کی قسم، بالکل نہیں!‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا:-

"اللہ أرحم بعبادہ من ھذہ بولدھا۔” (صحیح بخاري: 5999، صحیح مسلم: 2754

’’اس ماں کی اپنے بیٹے پر رحمت سے بھی زیادہ اللہ اپنے بندوں پر رحیم ہے۔‘‘

بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:-

کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ [الأنعام: 54

’’تمھارے رب نے رحم کو اپنے آپ پر لازم کر لیا ہے۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-

’’جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے اپنے پاس کتاب میں، جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے، اپنے متعلق لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔‘‘ (بخاری: 7404

لیکن قیامت کے روز یہ رحمت اس کے مومن بندوں کے لیے ہے، جیسے فرمایا:-

وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ [الأعراف: 156

’’اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکاۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیات پر اِیمان لاتے ہیں۔‘‘

اس لیے قیامت کے روز تو رحمت خاص اہل ایمان کے لیے ہو گی، البتہ دنیا میں اس کی رحمت سے مسلمان اور کافر سبھی مستفید ہوتے ہیں۔

اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے دس وجوہ سے اپنی رحمت کی امید دلائی ہے، چنانچہ علامہ رازی نے ذکر کیا ہے:-

۔1 اس میں پہلے یٰعِبَادِیْ فرمایا ہے اور انھیں اپنا بندہ و غلام قرار دیا ہے۔ جسے اللہ اپنا کہہ دے، اسے عذاب کی نہیں، امن واطمینان کی امید ہوتی ہے۔

۔2 اسے اپنا غلام کہا، غلام تو محتاج اور مسکین ہوتا ہے اور اس کی مسکینی اسے مالک کے رحم و کرم کا حق دار بنا دیتی ہے۔

۔3 اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ گناہوں کا نقصان انھی کو برداشت کرنا ہے، گویا ان کے نقصان کے لیے ان کے گناہ ہی کافی ہیں، کسی اور ضرر کی حاجت نہیں یعنی اللہ تعالیٰ اس پر اور کوئی ضرر یا بوجھ نہیں ڈالے گا۔

۔4 پھر فرمایا: لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ جس میں نااُمید ہونے کی ممانعت ہے۔ اور رحیم و کریم جب اُمید دلاتا ہے تو اس سے رحمت ہی کی اُمید ہوتی ہے۔

۔5 یٰعِبَادِیْ (اے میرے بندو!) اس خطاب کے بعد کلام کا تقاضہ یہ تھا کہ کہا جاتا: ’’لا تقنطوا من رحمتي‘‘ کہ میری رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، مگر ’’من رحمتي‘‘ کی بجائے فرمایا: مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ یعنی اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو جاؤ کیوں کہ ’’اللہ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ میں سب سے بڑا اسم مبارک ہے اور اس کی تمام صفات کا جامع ہے، اس لیے رحمت کی اضافت ظاہر اسم ’’اللہ‘‘ کی طرف کی ہے جو اللہ کی عظیم رحمت اور فضل کو متقاضی ہے۔

۔6 جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ (اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ) تو اس کا تقاضہ تھا کہ اس کے بعد یوں فرمایا جاتا: ’’إنہ یغفر الذنوب جمیعا۔‘‘ مگر اس کی بجائے دوبارہ اپنا نام لے کر فرمایا: اِنَّ اللہِ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا (بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) اور اپنے نام مبارک کے ساتھ ’’إن‘‘ لفظ تاکید ذکر فرمایا ہے جس میں دراصل رحمت و مغفرت کے وعدے میں مبالغے کا اظہار ہے۔

۔7 اگر اللہ تبارک و تعالیٰ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ ہی فرما دیتے تو مقصد پورا ہو جاتا کیوں کہ الف لام استغراق کے لیے ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ جَمِیْعًا فرما کر مزید تاکید فرما دی کہ چھوٹے بڑے سب کے سب گناہ معاف فرما دیتا ہے۔

۔8 اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت اَلْغَفُوْرُ بیان فرمائی اور یہ مبالغے کا صیغہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ (جس طرح ’’اسراف‘‘ حد سے تجاوز اور گناہوں میں مبالغہ ہے اسی طرح اس کی بخشش و رحمت کے لیے الْغَفُوْرُ مبالغے کا صیغہ ذکر فرمایا ہے۔

۔9 اس کے بعد دوسری صفت اَلرَّحِیْمُ بیان فرمائی ہے اور یہ بھی مبالغے کا صیغہ ہے اور اس میں مغفرت کے ساتھ مزید فائدے کی طرف اشارہ ہے۔ اَلْغَفُوْرُ میں موجباتِ عذاب و عقاب کے ازالے کی طرف اشارہ ہے اور اَلرَّحِیْمُ میں موجباتِ رحمت و ثواب کے حصول کی طرف اشارہ ہے۔
۔10 اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ میں ’’ہو‘‘ ضمیر فصل ہے جو حصر کا فائدہ دیتی ہے، یعنی اس کے سوا گناہوں کو کوئی بخشنے والا رحم کرنے والا نہیں، جیسے فرمایا: وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہ [آل عمران: 135] ’’اور اللہ کے سوا کوئی گناہ بخشتا ہے ؟‘‘

یہ تمام وجوہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کمالِ بخشش و رحمت پر دلالت کرتے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے التجا ہے کہ ہمیں اپنے فضل و رحمت سے عذاب سے بچائے اور کامیابیوں سے ہم کنار فرمائے۔‘‘ (التفسیر الکبیر:4/27

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس آیت کے بدلے میں مجھے دنیا و مافیہا بھی مل جائے تو یہ مجھے پسند نہیں۔ (المجم الأوسط للطبراني) علامہ ہیثمی نے فرمایا ہے کہ اس کی سند حسن ہے۔ (مجمع الزوائد: 10/214

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں اس آیت سے بڑی بشارت والی اور کوئی نہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سارا قرآن پڑھا، مجھے سب سے پراُمید آیت یہ نظر آئی ہے:-

نَبِّیْٔ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ[الحجر:49

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے سب سے اچھی پراُمید آیت سورۃ المومن کی ابتدائی آیات لگی ہیں جن میں فرمایا ہے:-

غَافِرِ الذَّنْبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِیْ الطَّوْلِ [المؤمن:3

’’گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، بہت سخت سزا والا، بڑے فضل والا ہے۔‘‘

علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ مجھے تو یہ آیت سب سے اچھی پرامید نظر آتی ہے:-

اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَلَمْ يَلْبِـسُوٓا اِيْمَانَـهُـمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَـهُـمُ الْاَمْنُ وَهُـمْ مُّهْتَدُوْنَ [الأنعام: 82

’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا، یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔‘‘ (تفسیر قرطبی:10/ 322-323

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے بارے میں استغفار سے اجتناب کرتے تھے، حتیٰ کہ ہم نے رسول اللہﷺ سے یہ آیت سنی:-

اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ [النساء:48

’’بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے جسے چاہے گا اور جو اللہ کا شریک بنائے تو یقیناً اس نے بہت بڑا گناہ گھڑا۔‘‘

اور فرمایا:-

"أخرت شفاعتي لأھل الکبائر یوم القیامۃ۔” (البزار و إسنادہ جید، مجمع الزوائد: 10/210

’’میں نے اپنی شفاعت کبائر کے مرتکبین کے لیے قیامت کے دن موخر کی ہے۔‘‘

اس آیت میں جس بے پایاں مغفرت و رحمت کا ذکر ہے اسی کی بنا پر علامہ شوکانی نے فرمایا ہے کہ

’’اللہ تبارک و تعالیٰ توبہ کے بغیر جس کے چاہے گا سب گناہ معاف فرما دے گا، بلکہ جن حضرات نے اس آیت کو توبہ کے ساتھ مشروط کیا ہے ان پر شدید نکیر کی ہے اور کہا ہے کہ اگر اس آیت میں بخشش کی عظیم بشارت توبہ کے ساتھ مشروط ہے تو اس بشارت کا کوئی محل و موقع نہیں، توبہ کے ساتھ تو شرک بھی بالاتفاق معاف ہو جاتا ہے۔ اگر یہاں بھی توبہ ہی کی شرط ہے تو شرک کی معافی کے لیے توبہ کی شرط بے فائدہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:-

وَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِہِمْ [الرعد: 6

’’اور بے شک تیرا رب یقیناً لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے۔‘‘ (فتح القدیر: 4/470

علامہ آلوسی نے بھی کہا ہے کہ ظاہر آیت کا تقاضہ یہی ہے کہ یہ آیت توبہ سے مشروط نہیں ہے۔

بلاشبہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بلا توبہ معاف کر دینے پر قادر ہے، مگر یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے، جیسے فرمایا ہے:-

یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ [آل عمران: 129، المائدۃ: 18، الفتح: 14

’’وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔‘‘

یا جیسے فرمایا ہے:-

وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ [النساء: 28، 116

’’اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔‘‘

لیکن توبہ و اِستغفار سے اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، جیسا کہ سورۂ مریم (آیت: 60) اور سورۃ الفرقان (آیت: 69-70) میں ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا:

وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللہَ یَجِدِ اللہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا [النساء: 110

’’اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے، وہ اللہ کو بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔‘‘

بلکہ ایک جگہ ارشاد فرمایا:-

وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ [الأنفال: 33

’’اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں، جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔‘‘

اور یہ بھی فرمایا:-

اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ [التوبۃ: 104

’’کیا انھوں نے نہیں جانا کہ بے شک اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘

جنھوں نے ایک کی بجائے یہ کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے، انھیں جہنم کی سزا سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:-

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَی اللہِ وَیَسْتَغْفِرُوْنَہٗ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ [المائدۃ:74

’’تو کیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘
حافظ ابن کثیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں مغفرت کے لیے بلاتا ہے جنھوں نے یہ سمجھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ہی اللہ ہے، جنھوں نے کہا کہ مسیح علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہے، جنھوں نے کہا کہ عزیر علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہے، جنھوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے، جنھوں نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اور جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے، ان سب سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:-

’’کیا تم اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے اور اللہ بے حد بخشنے والا نہایت مہربان ہے!‘‘

اللہ تعالیٰ نے تو اسے بھی توبہ کی دعوت دی جس نے ان سے بھی بڑی بات کہی تھی کہ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی (میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں) اور اس نے یہ بھی کہا:-

مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ [القصص:38

’’میں نے اپنے سوا تمھارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:-

’’جس شخص نے اس کے بعد بھی اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کیا، اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا، مگر بندہ تبھی توبہ کرے گا جب اللہ اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر: 4/76-77

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگ سے بھری ہوئی خندقوں میں ڈالنے والوں سے فرمایا:-

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوْا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَھُمْ عَذَابُ جَھَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیقِ [البروج: 10

’’یقیناً وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہ کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔‘‘
حضرت حسن بصریa فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس جود و کرم کو یاد رکھو، ان لوگوں نے اللہ کے دوستوں کو قتل کیا، پھر بھی وہ انھیں توبہ اور مغفرت کی دعوت دے رہا ہے! (تفسیر ابن کثیر)

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیثِ قدسی میں مروی ہے:-

"یا عبادي! إنکم تخطئون باللیل و النھار وأنا أغفر الذنوب جمیعا، فاستغفروني أغفرلکم۔” (صحیح مسلم، رقم: 2577

’’اے میرے بندو! بے شک تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں سب گناہ معاف کرتا ہوں، لہٰذا تم مجھ سے بخشش مانگو، میں تمھیں معاف کر دوں گا۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:-

"أذنب عبد ذنبا، فقال: اللّٰھم اغفر لي ذنبي، فقال تبارک و تعالی: أذنب عبدي ذنبا فعلم أن لہ ربا یغفر الذنب و یأخذ بالذنب۔ ثم عاد فأذنب، فقال: أي رب! اغفر لي ذنبي، فقال تبارک و تعالی: عبدي أذنب ذنبا فعلم أن لہ ربا یغفر الذنب و یأخذ بالذنب۔ ثم عاد فأذنب، فقال: أي رب! اغفر لي ذنبي، فقال تبارک و تعالی: أذنب عبدي ذنبا فعلم أن لہ ربا یغفر الذنب و یأخذ بالذنب، اعمل ما شئت، فقد غفرت لک۔” (صحیح مسلم، رقم: 2758

’’ایک بندے نے گناہ کیا، پھر اس نے کہا: اے میرے رب! مجھے میراگناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے ایک گناہ کیا، پھر سمجھ لیا کہ اس کا رب گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مواخذہ کرتا ہے۔ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا: اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے ایک گناہ کیا، پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتا ہے۔ پھر اس نے گناہ کیا اور کہا: اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا، پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا اور اس پر مواخذہ کرتا ہے۔ (میرے بندے!) تُو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا۔‘‘

گویا بار بار گناہ کر کے بھی انسان اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں، مگر جب معافی طلب کرے تو صدقِ دل سے کرے۔ شیطان اسے پھر پھسلا دے تو پھر معافی مانگ لے۔ یہ توبہ کی شروط میں سے ہے کہ اس میں ندامت کا اظہار اور آئندہ اجتناب کا پختہ عہد ہو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:-

"یا ابن آدم! إنک ما دعوتني و رجوتني غفرت لک علی ما کان منک و لا أبالي۔ یا ابن آدم! لو بلغت ذنوبک عنان السماء، ثم استغفرتني غفرت لک ولا أبالي۔ یا ابن آدم! إنک لو أتیتني بقراب الأرض خطایا، ثم لقیتني لا تشرک بي شیئا، لأتیتک بقرابھا مغفرۃ۔”(جامع ترمذي و حسنہ، رقم: 3540

’’اے آدم کے بیٹے! جب تک تُو مجھ سے مانگے اور مجھ پر اُمید رکھے تو میں تجھے بخشوں گا، خواہ تُو نے کتنا ہی برا کام کیا ہو اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تُو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تُو مجھ سے اس حال میں ملے کہ تیرے گناہوں سے زمین بھری ہو اور میرے ساتھ تُو کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو میں تیرے پاس زمین بھری ہوئی بخشش لے کر آئوں گا۔‘‘(یہ روایت مسند امام احمد اور دارمی میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان مردود نے بارگاہِ الٰہی میں کہا تھا:-

’’مجھے تیری عزت کی قسم! جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہوں گی اس وقت تک میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا۔‘‘

اس کے جواب میں رب العزت نے فرمایا:-

"عزتي وجلالي وارتفاع مکانی، استغفرلھم ما استغفروني۔” (مسند أحمد، مشکاۃ۔ مدارج: 1/310

’’مجھے میری عزت اور میرے جلال اور میرے بلند مرتبے کی قسم جب تک یہ بخشش مانگتے رہیں گے میں انھیں معاف کرتا رہوں گا۔‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-

’’مجھے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، اگر تم اس قدر گناہ کرو کہ تمھاری خطائیں زمین و آسمان کے خلا کو پر کر دیں، پھر تم اللہ سے بخشش طلب کرو تو وہ تمھیں بخش دے گا۔ مجھے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو لائے گا جو گناہ کریں گے، پھر بخشش طلب کریں گے تو اللہ انھیں معاف کر دے گا۔‘‘ (مسند احمد: 3/238، ابو یعلیٰ، حدیث: 4211)

علامہ ہیثمی نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد: 10/215)

اسی موضوع کی اور روایات بھی انھوں نے ذکر کی ہیں، بلکہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم اور ترمذی میں بھی مروی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-

’’جب اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اتنا خوش ہوتے ہیں کہ اتنا خوش وہ شخص بھی نہیں ہوتا جو اپنی سواری پر صحرا میں ہو اور سواری پر اس کا کھانا اور پانی بھی ہو، پھر وہ سواری گم ہو گئی۔ وہ نا امید ہو کر تھکا ماندہ ایک درخت کے نیچے سایے میں لیٹ جاتا ہے۔ اچانک اس کی سواری اس کے پاس آ کھڑی ہوتی ہے۔ اس نے اس کی رسی پکڑ لی اور نہایت خوشی سے اس کے مُنھ سے یہ نکل جاتا ہے: اے اللہ! تُو میرا بندہ، میرا تیرا رب ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث: 2747
صحیح بخاری و صحیح مسلم (حدیث: 2744) میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی معروف روایت ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے ننانوے قتل کیے، اس نے ایک راہب سے پوچھا کہ کیا میری توبہ ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا: نہیں! اس شخص نے راہب کو بھی قتل کر دیا۔ قاتل نے کسی اور سے اپنی بخشش کا پوچھا تو اسے بتلایا گیا کہ فلاں بستی میں جائو (وہاں کے لوگ اللہ کے عبادت گزار ہیں، ان کی صحبت حاصل کرو اور وہاں توبہ کرو)، وہ اس بستی کی طرف چل نکلا۔ راستے میں موت نے آگھیرا تو اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکایا، اس کے بارے میں رحمت اور عذاب کے فرشتوں کے مابین اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کی بستی کو حکم فرمایا کہ اس کے قریب ہو جا، سکڑ جا۔ اور جس جگہ سے وہ چلا تھا، اسے فرمایا کہ دور ہو جا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: دونوں بستیوں کی مسافت شمار کرو، کون سی بستی اس کے قریب ہے۔ فرشتوں نے ایسا ہی کیا تو نیک لوگوں کی بستی ایک بالشت برابر قریب تھی، چنانچہ اسی (قرب کی) وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا۔

اسی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تو اس کو بھی معاف فرما دیا جس نے گناہوں سے ڈرتے ہوئے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ مجھے جلا دینا اور میری آدھی راکھ دریا میں بہا دینا اور آدھی صحرا میں اُڑا دینا، اگر میں اُٹھا لیا گیا تو اللہ مجھے ایسی سخت سزا دے گا کہ ایسی سزا کسی اور کو نہیں دے گا، چنانچہ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دریا اور صحرا کو حکم فرمایا کہ اس کی راکھ ایک جگہ کردو۔ وہ جمع ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کیا اور پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا:-
’’من خشیتک یا رب!‘‘
’’اے میرے رب! تیرے ڈر سے۔‘‘
تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 3445، 7506۔ صحیح مسلم، حدیث:2756

اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے گناہ گار بندے کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ خواہ گناہوں کے کتنے ہی انبار کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے قطعاً مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جس طرح نماز زکاۃ وغیرہ کا حکم دیا ہے، اسی طرح توبہ اور استغفار کا بھی حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:-

وَ تُوْبُوْا اِلَی اللہِ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ [النور: 31

’’اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘

احکام کی نا فرمانی کیا، ان کی پابندی میں بھی کوتاہی ہو جاتی ہے، چنانچہ توبہ کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس لیے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ توبہ کرو، اسی میں تمھاری فلاح ہے۔ اور جو توبہ نہیں کرتا، اس کی مذمت کی گئی ہے:-

وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الظَّالِمُوْنَ [الحجرات: 11

’’اور جس نے توبہ نہ کی، سو وہی اصل ظالم ہیں۔‘‘

توبہ بھی پکی اور خالص توبہ ہو، جیسے فرمایا:-

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَصُوحًا [التحریم: 8

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو خالص توبہ، صاف دل سے توبہ۔‘‘

اور یہ تبھی ہوگی جب دل سے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے ندامت محسوس کرے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الندم توبۃ۔: (سنن ابن ماجہ، رقم: 4252

’’ندامت توبہ ہے۔‘‘

پھر آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے، جیسا کہ فرمایا:-

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ [آل عمران: 135

’’اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے! اور انھوں نے جو کیا اس پر اِصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔‘‘

اور اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو حتی الامکان اس کی ادائیگی کی کوشش کرے یا معافی مانگ لے۔

’’استغفار‘‘ کے معنی ہیں بخشش طلب کرنا اور گناہ کے شر سے بچنے کی التماس کرنا۔ جس طرح توبہ کا حکم ہے، اسی طرح استغفار کا بھی حکم ہے۔

اَنَّمَا اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْا اِلَیْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ [حم السجدۃ: 6

’’تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، سو اس کی طرف سیدھے ہو جاؤ اور اس سے بخشش طلب کرو۔‘‘

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو، اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو استغفار کا حکم دیا، جیسا کہ سورت نوح (آیت: 10-11) اور سورۃ النمل (آیت: 24) میں ہے۔

بعض مقامات پر تو استغفار اور توبہ دونوں کا حکم ہے:-

وَاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ [ہود: 3

’’اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو تو وہ تمھیں ایک معیّن مدت تک اچھا ساز و سامان دے گا اور ہر زیادہ عمل والے کو اس کا زیادہ ثواب دے گا۔‘‘

استغفار اور توبہ دونوں کا حکم حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت شعیب علیہم السلام نے بھی اپنی اپنی قوم کو دیا تھا، جیسا کہ سورۂ ہود (آیت: 52، 61، 90) میں ہے۔
حافظ ابن قیم نے فرمایا ہے کہ جہاں تنہا استغفار کا حکم ہے وہاں یہ حکم توبہ کو بھی شامل ہے اور جہاں دونوں کا ذکر ہے وہاں ’’استغفار‘‘ کے معنی گزشتہ گناہوں کی بخشش کے ہیں اور ’’توبہ‘‘ سے آئندہ کے گناہوں کی بخشش مراد ہے اور اس عزم کا اظہار ہے کہ آئندہ یہ غلطی نہیں کروں گا۔ یا یہ کہ ’’استغفار‘‘ نقصان کے ازالے کے لیے ہے اور ’’توبہ‘‘ نفع حاصل کرنے کے لیے۔ یا یہ کہ ’’استغفار‘‘ گناہوں کے شر سے بچنے کے لیے ہے اور ’’توبہ‘‘ شر سے بچائو کے بعد پسندیدہ چیز کو حاصل کرنے کے لیے ہے۔ (مدارج السالکین: 1/335

حافظ ابن رجب نے فرمایا ہے کہ جہاں استغفار اور توبہ کا اکٹھا ذکر آیا ہے وہاں ’’استغفار‘‘ سے زبان کے ساتھ بخشش مانگنا مراد ہے اور ’’توبہ‘‘ سے دل اور اعضائے بدن سے گناہوں کو چھوڑ دینا مراد ہے۔ جو شخص زبان سے کہتا ہے: ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِيْ‘‘ (اے اللہ! مجھے بخش دے) مگر اس کا دل گناہوں سے اٹا پڑا ہے تو یہ محض دعا ہے، اللہ چاہے قبول کرے، چاہے قبول نہ کرے۔

توبہ اور استغفار کے باوجود اپنے گناہ سے خوف زدہ رہنا چاہیے کہ کہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ قیامت کے روز اس کے بارے میں سوال نہ کرلیں۔ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت اِبراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام، باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کا اعلان فرما دیا ہے، مگر پھر بھی وہ خوف زدہ ہوں گے کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان سے سوال نہ کر لیں، جیسا کہ حدیثِ شفاعت میں بیان ہوا ہے۔

گناہ سے توبہ کے بعد اس گناہ کا چھوٹ جانا اور عملِ صالح کا اہتمام قبولیتِ توبہ کی علامت ہے، تاہم اس کے خوف سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ رب تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْئَلُوْنَ [الانبیاء: 23

’’اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔‘‘

ایمان خوف و رجا کے مابین ہے۔ نہ تو رب تعالیٰ کی رحمت کے سہارے بے خوف اور بے عمل ہونا چاہیے اور نہ اس کے غضب سے خوف زدہ ہو کر نا اُمید ہونا چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی زندگی ہمارے سامنے ہے کہ جنت کی بشارتوں کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے کتنا ڈرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے، اس پر موت کی حالت طاری تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اپنے بارے میں کیا محسوس کرتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا: مجھے اللہ کی رحمت کی اُمید ہے اور اپنے گناہوں سے خوف زدہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "لا یجتمعان في قلب عبد فی ھذا الموطن إلا أعطاہ اللہ ما یرجو و آمنہ مما یخاف۔” (ترمذي، رقم: 983

’’اس مرحلے میں جس بندے کے دل میں یہ دونوں جمع ہوں، اللہ تعالیٰ اسے اس کی اُمید کے مطابق نوازتا ہے اور جس سے خوف زدہ ہوتا ہے، اس سے امن عطا فرماتا ہے۔‘‘

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.