دجال کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے ؟


الواقعۃ شمارہ: 82 – 85، ربیع الاول تا جمادی الثانی 1440ھ

اشاعت خاص : فتنہ دجالیت

از قلم : محمد شاہ رخ خان – کراچی

دجال کا موضوع ان موضوعات میں سے جس کے مختلف پہلوؤں پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، بعض حضرات نے تو دجال کو ایک نظام قرار دے دیا بعض نے میڈیا کو دجال قرار دیا، بعض نے امریکہ کو دجال قرار دیا اور بعض نے دجال کو تین مختلف اشخاص قرار دیا، لیکن یہ تمام آراء قرآن و حدیث اور سلف کے فہم کے خلاف ہیں، قرآن و سنت سے مستفاد جس نظریئے پر اسلافِ امت اور مستند علماء کرام ہر دور میں رہے ہیں وہ یہی ہے کہ احادیث میں دو طرح کے دجالوں کا ذکر پایا جاتا ہے۔ ایک تو وہ دجال جو دجالِ اکبر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جسے عوام الناس کانا دجال بھی کہتے ہیں، اور دجالوں کی ایک قسم وہ ہیں جنھیں دجالِ اصغر یا دجال من الدجاجلۃ کہا جاتا ہے، اور احادیث میں ان لوگوں کو دجال کہا گیا ہے جو نبوت کا دعوی کریں، یاد رہے کہ دجالِ اکبر بھی نبوت کا دعوی کرے گا لیکن وہ اس سے بھی آگے بڑھ کر خدا ہونے کا بھی دعویٰ کرے گا یعنی رب ہونے کا، جس کی وجہ سے احادیث میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں ہے۔

ہم اس مضمون میں دجالِ اکبر کی ماہیت پر مختلف علماء کرام کی آراء کو پیش کریں گے کہ آیا دجالِ اکبر جن ہوگا، یا انسان، یا پھر ان دونوں کا مرکب یا پھر ابلیس ہی دجال ہے یا خروج کے وقت ابلیس دجال کے اندر داخل ہوگا۔ دجال کی حقیقت و ماہیت پر بحث کرنے کی نوبت اور فکر کا آغاز جب ہوتا ہے جب آپ دجال کے موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ جس طرح نصوص میں دجال کی ہیبت اور اس کی طاقت نیز اس کے فتنے کی شدت کو بیان کیا گیا ہے گویا وہ بھی ابلیس سے کم نہیں یا کم از کم ابلیس کے بعد دوسرے نمبر پر اسی کا نام آتا ہے۔ چنانچہ ذیل میں ہم دجال کی حقیقت و ماہیت پر اہل علم کی مختلف آراء کو پیش کرتے ہیں۔

پہلا قول بعض اہلِ علم کا یہ ہے کہ دجال شیطان ہے، اس قول کے قائلین میں سے مشہور محدث المعروف ذھبی العصر امام عبد الرحمن بن یحیی المعلمی رحمہ اللہ ہیں، وہ فرماتے ہیں:-

"فأما الجساسة فشيطان، وأما الدجال : فقد قال بعضهم إنه شيطان. وعلى هذا فلا إشكال،كشف الله تعالى لتميم وأصحابه فرأوا الدجال وجساسته وخاطبوهما ثم عاد حالهما إلى طبيعة الشياطين من الاستتار، وإن كان الدجال إنساناً: فلا أرى ذاك إلا شيطاناً مثّل في صورة الدجال ؛لأن النبي – ﷺ- قال: أرأيتم ليلتكم هذه فإن رأس مائة سنة۔”(الانوار الكاشفۃ: ۱۸۶-۱۸۷)

’’جساسہ تو شیطان ہے، اور رہی بات دجال کی تو اس کے بارے میں بعض اہل علم نے کہا ہے کہ وہ شیطان ہے اور اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا، پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے تمیم داریt اور ان کے سا تھیوں کے لیے یہ پردہ کھول دیا تھا اور انھوں نے دجال اور جساسہ کو دیکھا اور ان سے بات کی پھر وہ دونوں (دجال اور جساسہ) اپنی اصلی حالت یعنی شیطان ہونے کی طرف لوٹ گئے پردے سے، اور اگرچہ دجال انسان ہے لیکن میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ شیطان ہی ہوگا جو دجال کی صورت اختیار کرلے گا۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: میں نے اس رات دیکھا کہ سو سال بعد اس زمین پر کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔‘‘

اسی طرح علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے بھی ’’اعلاء السنن‘‘ (۱۲/۶۵۰) میں اسی رائے سے اتفاق کیا ہے۔

بلکہ یہی موقف کئی ایک تابعین سے بھی منقول ہے جیسا کہ امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’التذکرۃ باحوال الموتیٰ والامور الآخرۃ‘‘ میں سیف بن عمر سے اس کی کتاب ’’الفتوح والردۃ‘‘ کے حوالے سے ابن صیاد کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ جب مسلمانوں نے بعض علاقہ جات (موجودہ ایران) کو فتح کرنے کے لیے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا تو چند راہب اور پادری حضرات نے آکر ان کو مخاطب کیا اور کہا کہ ہم نے اپنے علماء اور پچھلے لوگوں سے سنا ہے کہ یہ قلعہ صرف دجال ہی فتح کر سکتا ہے یا ایسی قوم جن کے درمیان دجال ہو، اس لیے اگر تو تم میں دجال ہے تو تم اسے عنقریب فتح کر لو گے اور اگر دجال نہیں تو اس کا حصار کر کے اپنے آپ کو تھکاؤ نہیں۔ چنانچہ اس لشکر میں ابن صیاد بھی موجود تھا وہ غصے سے قلعہ کے دروازے کے پاس آیا اور اسے اپنے پیر سے کھٹکھٹایا اور کہا بیریاں کٹ گئی، تالے ٹوٹ گئے، دروازے کھل گئے اور مسلمان داخل ہوگئے۔ (تاریخ طبری میں بھی موجود ہے: ۲/۵۰۰)

اور اس کی ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کی وفات سے ایک ماہ پہلے فرماتے ہوئے سنا : ’’تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہو تو اس کا (حقیقی) علم اللہ کے پاس ہے۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ سو سال نہیں گزرے گا کہ آج کے زندوں میں سے کوئی زندہ جان باقی نہ ہوگی۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۵۳۸)

کیونکہ اس حدیث میں ہر ایک نفس کے سو سال کے اندر اندر مر جانے کا ذکر ہے اور دجال کے حوالے سے صحیح مسلم میں تمیم داری رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث کے مطابق دجال کو ایک غار میں قید کیا گیا ہے اور وہ ایک مقرر وقت پر نکلے گا، لہٰذا اگر دجال انسان ہے تو اس کو مر جانا چاہیے البتہ ابلیس کو قیامت تک زندہ رہنے کی مہلت دی گئی ہے۔ لیکن بعض علماء نے اس استدلال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہیں کہ اس حدیث میں وہ دجال والی حدیث اس سے مستثنی ہے (شیخ عبد المحسن العباد: شرح سنن ابی داود) اور استثنی کے حوالے سے یہی موقف امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ (موسوعۃ الالبانی فی العقیدۃ: ۹/۲۶۱)
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حدیثِ جساسہ (یعنی تمیم داری رضی اللہ عنہ) والی حدیث پر بعض علماء نے سند اور متن کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے جن میں شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ جیسے کبار علماء بھی شامل ہیں اور ان کی دلیل بھی یہی ہے کہ سو سال بعد ہر نفس وفات پا جائے گا تو دجال کیسے کسی غار میں زندہ رہ سکتا ہے، شیخ ابن عثیمین نے ماضی قریب کے مشہور عالم دین شیخ رشید رضاa صاحب ’’تفسیر المنار‘‘ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ انھوں نے بھی اس حدیث کے متن پر اعتراض کیا ہے۔ (دیکھیے شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ کی کتاب: لقاء الباب المفتوح:۸/۲۸)
اسی طرح دکتور حاتم المطیری نے بھی اس کی سند اور متن پر تفصیلی نقد کیا ہے ، دیکھیے ان کی ویب سائٹ پر ان کا مضمون:-

http://www.dr-hakem.com/Portals
/Content/?info=TmpJMkpsTjFZEJo WjJVbU1RPT0rdQ==.jsp

بعض اہل علم کی جانب سے اس حدیث کی ۱۰۰سال تک کسی نفس کے زندہ نہ رہنے والی حدیث کے ساتھ یہ توجیہ بھی پیش کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تمیم داری رضی اللہ عنہ (جو کہ اس واقعہ کے وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) کی حرف بحرف تصدیق یا موافقت نہیں کی تھی بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا:-

"وحدثني حديثاً وافق الذي كنت أحدثكم عن مسيح الدجال۔”

’’تمیم داری نے مجھے ایسی بات بتائی ہے جو اس بات کے مواقف ہے جو میں تمہیں دجال کے حوالے سے بتایا کرتا تھا۔‘‘

یعنی اصل مضمون اور مدعی میں تو موافقت ہے لیکن حرف بحرف موافقت نہیں۔ لیکن یہ ایک لفظ کی بنا پر ایسی توجیہ پیش کی گئی ہے جس کو رد بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ کوئی بھی ایسا قرینہ نہیں جو اس توجیہ کو قبول کرنے پر ہمیں مجبور کرسکے۔

بہر حال یہ اعتراضات اتنے مضبوط نہیں کہ کبار ائمہ کی اس حدیث کے حوالےسے تصحیح اور مداولت کے بعد ان کو لائقِ التفات سمجھ کر حدیث کو مشکوک ٹھہرایا جائے بلکہ دکتور حاتم المطیری نے اس حدیث پر سند کے اعتبار سے جو اعتراضات کیے ہیں، (بالخصوص اس حدیث پر تفرد کا اعتراض) تو حافظ ابن حجر نے ’’فتح الباری‘‘ (۱۳/۳۴۰) میں اس کا جواب دیا ہے اسی طرح امام مسلم رحمہ اللہ سے لے کر آج تک تقریباً جتنے کبار محدثین گذرے ہیں کسی نے صراحت کے ساتھ اس کی تضعیف کا ذکر نہیں کیا بلکہ الٹا جو اشکالات پیدا ہوئے ان کو رفع کیا۔ جن میں سب سے پہلے تو امام بخاریa کا نام قابل ذکر ہے جن سے امام ترمذی نے حدیثِ جساسہ کے بارے میں پوچھا تو امام بخاری نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

"سألت محمدا ـ يعني البخاري ـ عن حديث الجساسة، فقال: يرويه الزهري عن أبي سلمة، عن فاطمة ابنة قيس. قال محمد: وحديث الشعبي عن فاطمة بنت قيس في الدجال هو حديث صحيح۔” (العلل الکبیر للترمذی: ۱/۳۲۸)

اس کے بعد امام مسلم (جنھوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے)، امام ابن عبد البر (الاستذکار: ۸/۳۳۳، ط: دار الکتب العلمیة)، امام بیہقی (فتح الباری: ۱۳/۳۲۶) نیز امام قرطبی (التذکرۃ)، امام نووی (شرح مسلم)، امام ابن تیمیہ (الفرقان: ۱/۳۲۱)، ابن کثیر (البدایۃ والنہایۃ: ۱/۵۵)، امام ابن الاثیر (اسد الغابۃ: ۱/۲۵۶)، امام مزی (تہذیب الکمال)، امام ابن حجر (فتح الباری) وغیرہم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ بلکہ امام مقریزی نے تو سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی شرح میں باقاعدہ ایک کتاب تصنیف فرمائی، ان کی کتاب کا نام ’’الضوء الساری فی معرفۃ خبر تمیم الداری‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ اس حدیث کو محدثینِ کرام نے اصولِ حدیث کے ایک باب: روایة الاکابر عن الاصاغر کے ما تحت بطورِ مثال درج فرمایا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بڑوں کا اپنے چھوٹوں سے روایت کرنا اور کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں تمیم داری رضی اللہ عنہ یعنی اپنے سے چھوٹے شخص سے روایت کی، اس لیے محدثین نے اس روایت کو اس قاعدے کے جواز کے لیے بطور ِ دلیل اور مثال پیش کیا اور ساتھ ہی میں اس کو سیدنا تمیم داریt کی منقبت قرار دے دیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ ان سے روایت کر رہے تھے، چنانچہ امام مزی فرماتے ہیں:-

"روى عنه النبي – ﷺ – حديث الجساسة، وهي منقبة شريفة جدا ۔” (تھذیب الکمال: ۴/۳۲۷)

’’(تمیم داری رضی اللہ عنہ) سے نبی ﷺ نےجساسہ والا واقعہ روایت کیا اور یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے۔ ‘‘

یہ تمام باتیں اس چیز پر دال ہیں کہ یہ روایت محدثین کے ہاں مقبول و متداول رہی ہے، اور بغیر کسی عقلی یا فنی اعتراض کے ائمہ دین اس روایت کو آگے بڑھاتے آئے ہیں نیز اسی روایت سے اس نظریے نے جنم لیا کہ دجال ایک غار میں پابند سلاسل ہے اور یہ نظریہ مسلمانوں میں تواتر کی حیثیت رکھتا ہے جو کے صدیوں سے تمام مسالک کے علماء اور عوام میں رائج ہے۔

اس روایت کے تفصیلی دفاع کے لیے دیکھیے مضمون: "الاجادۃ بطرق حدیث الجساسۃ”

http://majles.alukah.net/t106090/

بلکہ اس نظریے کی تائید بعض دیگر قرائن سے بھی ہوتی ہیں، چنانچہ امام نعیم بن حماد رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الفتن‘‘ میں ایک روایت لائے ہیں جو کہ کئی ایک تابعین سے مروی ہیں، جس کا مضمون یہ ہے:-

"الدجال ليس هو إنسانًا، وإنما هو شيطان، موثق بسبعين حلقة، في بعض جزائر اليمن، لا يعلم من أوثقه سليمان النبي أو غيره، فإذا آن ظهوره؛ فك الله عنه كل عام حلقة، فإذا برز؛ أتته أتان عرض ما بين أذنيها أربعون ذراعًا، فيضع على ظهرها منبرًا من نحاس، ويقعد عليه، ويتبعه قبائل الجن؛ يخرجون له خزائن الأرض۔”

’’دجال انسان نہیں ہے، بلکہ وہ تو صرف اور صرف شیطان ہے، ستر حلقوں (کڑوں) کے ساتھ بندھا ہوا ہے، یمن کے کسی جزیرے پر، یہ تو نہیں معلوم کہ اسے سلیمان علیہ السلام نے وہاں باندھا ہے، یا کسی اور نے، البتہ جب اس کے نکلنے کا وقت آئے گا، اللہ تعالی اس کا ہر حلقہ ایک سال میں کھلتا چلا جائے گا، پس جب وہ ظاہر ہو گا، اس کے پاس ایک گدھی آئے گی، جس کے کانوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس ذراع ہو گا، پھر اس کی کمر پر ایک منبر رکھا جائے گا، جو تانبے سے بنا ہوگا، اور وہ (دجال) اس (منبر) پر بیٹھے گا اور جنات کے قبیلے آکر اس کی بیعت کریں گے اور ان کے لیے زمین کے خزانے نکالیں گے۔ ‘‘

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس اثر کے بارے میں فرماتے ہیں:-

"وهذا لا يمكن معه كون ابن صياد هو الدجال، ولعل هؤلاء مع كونهم ثقات تلقوا ذلك من بعض كتب أهل الكتاب۔” (اتحاف الجماعۃ بما فی الفتن والملاحم وأشراط الساعۃ: ۲/۳۶۱)

’’اور یہ ممکن نہیں اگر ابن صیاد کو دجال مانا جائے تو، اور شاید باوجود اس کے کہ یہ تمام روات اور ائمہ ثقہ ہیں لیکن انھوں نے یہ روایت اہل کتاب سے اخذ کی ہے۔ ‘‘

غور طلب بات یہ ہے کہ ابلیس کے بارے میں بھی ایک حدیث میں آتا ہے کہ وہ سمندر پر اپنا تخت لگاتا ہے اور پھر اپنی مجلس لگاکر چھوٹے شیاطین اور اپنے کارکنان سے دن بھر کی رپورٹ طلب کرتا ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم کے مقدمے میں امام مسلم رحمہ اللہ نے عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن عمرو بن العاص سے روایت بیان کی ہے کہ سمندر میں ایسے شیاطین بندھے ہوئے ہیں جنھیں سلیمان علیہ السلام نے باندھا تھا وہ عنقریب رِہا ہو کر لوگوں پر قرآن پڑھیں گے۔ (صحیح مسلم، مقدمہ: ۷)

یہ تمام روایات اس نظریے کو مضبوط کرتی ہیں کہ دجال اور ابلیس کے درمیان کوئی گہرا ربط ضرور ہے اور یہ نظریہ قدیم زمانے سے لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ دجال کا تعلق جنات کے ساتھ نہایت گہرا اور مضبوط ہے۔ دجال اور ابلیس کی بہت سی حرکات و سکنات ایک جیسی ہے جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے:-

حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’فتنہ دجال کے مقابلے میں مجھے تمہارے آپس کے فتنہ فساد کا زیادہ خطرہ ہے۔ پہلے لوگوں (پچھلی امتوں) میں جو کوئی اس فتنے سے محفوظ رہا وہ دراصل محفوظ ہے اور آج تک دنیا (جب سے دنیا ہے) میں جو کوئی بھی چھوٹا یا بڑا فتنہ ظاہر ہوا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ ‘‘ (مسند احمد: ۲۳۳۰۴، علامہ شعیب ارناؤط رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے)

حالانکہ دجال کا نکلنا تو آخری زمانے میں ایک مقررہ وقت پر ہے تو کیسے دنیا کہ تمام فتنوں کا وہ سبب بن سکتا ہے، لیکن اگردجال کو ابلیس سمجھ لیا جائے یا ابلیس کے ساتھ اس کا تعلق تسلیم کر لیا جائے تو اس کا ایک حل نکل آتا ہے کیونکہ دنیا کہ تمام فتنے ابلیس کہ وجہ سے ہیں اور اس پر سب کا اتفاق ہے اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ تمام نبیوں نے دجال سے اپنی امتوں کو ڈرایا ہے۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ دجال کی پیدائش کے حوالے سے اہلِ علم میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور یہ اختلاف تو معقول بھی ہے کیونکہ جب دجال کی اپنی ماہیت ہی مختلف فیہ ہے تو اس کی اصل پر بھی اختلاف لازمی ہوگا، لہٰذا جن کے نزدیک دجال ابن صیاد ہے تو ابن صیاد کے تو والدین کا ذکر ملتا ہے لیکن جن کے نزدیک دجال صاحب الجساسہ یا ابلیس ہے تو ان کے نزدیک دجال کی پیدائش کا معاملہ بھی مبہم ہے۔ لہٰذا جن کے نزدیک دجال ابن صیاد ہے تو ان کی طرف سے دجال کو ابلیس ماننے میں یہ اشکال رکاوٹ بن سکتا ہے کیونکہ ابلیس تو خود ابو الجن ہے، نیز وہ مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، اور دجال کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام قتل کر دیں گے حالانکہ ابلیس کو تو اللہ تعالی نے مہلت دے رکھی ہے۔

دجال کے والدین کا ذکر بعض روایات میں آیا کہ دجال کے والدین کے ہاں تیس سال تک اولاد نہیں ہوگی پھر جاکر ولادت ہوگی اور وہ بچہ دجال ہوگا (مفھوما)۔ لیکن اس طرح کی تمام روایتیں سند کی کمزوری کی وجہ سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ (دیکھیے: ضعیف الجامع: ۶۶۴۵، ضعیف الترمذی: ۳۹۲، جامع الترمذی: ۲۲۴۸) امام بیہقی نے بھی اس روایت کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (فتح الباری: ۱۷/۲۵۳، ابن صیاد کے والدین کے ثبوت کے لیے دیکھیے: بخاری: ۱۳۵۴، مسلم: ۲۹۳۱)

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے دجال کو قتل کرنے کی بات کو شیخ صالح العثیمین نے دجال کے انسان ہونے کی دلیل بنایا ہے (مجموع فتاوی و رسائل، باب یوم الآخر) کہ اسے عام انسانوں کی طرح ہی قتل کیا جائے گا لیکن دجال کے بارے میں احادیث میں یہ موجود ہے کہ دجال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی گھلنا شروع ہو جائے گا، چنانچہ حدیث میں آتا ہے:-

’’”جب نماز کے لیے تکبیر اقامت کہی جاچکی ہوگی تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہو جائیں گے اور مسلمانوں کی امامت (اس نماز کے بعد دوسرے مواقع پر کریں گے) اور اللہ کا دشمن انھیں دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گھل کر ہلاک ہو جائے مگر اسے اللہ ان کے ہاتھوں قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میں اس (دجال) کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔‘‘ (مسلم: ۷۲۷۸)

اس حدیث میں ذکر ہے کہ اگر دجال کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے تو وہ گھل گھل کر ہی مر جائے گا لیکن عیسیٰ علیہ السلام اس کو اپنے ہاتھوں سے قتل کریں گے اور گھل گھل کر مرنا انسانوں کی صفت نہیں۔ لہٰذا شیخ ابن عثیمین کا استدلال محل نظر ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا یہ کہنا کہ اگر اسے ایسے ہی چھوڑ دیا جائے تو وہ خود ہی پگھل کر مر جائے گا، میں ایک راز ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے ہی خود بخود مرتے چھوڑ دینا تو اللہ تعالی کا فعل ہوا اور بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کا اس میں کوئی کردار نہیں رہا، لہٰذا اللہ نے اپنی حکمت سے اسباب کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اس کو قتل کروائے گا۔ (شرح مشکاۃ للطیبی: ۱۲/۸۰)

اسی طرح صحیح مسلم کی ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی کسی بات پر ابن صیاد غصے میں آکر گلی کے برابر پھول کر بڑا ہو گیا جس سے خود ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی گھبرا گئے تھے اور اسے دجال تصور کرنے لگے تھے اور ظاہر ہے یہ بات کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ ان سب باتوں کا جواب یہ ہے کہ بہت ممکن ہے دجال کی بقیہ زندگی تو عام انسانوں کی طرح ہو یعنی انسانی عوارض اور لوازمات سے اس کو گذرنا پڑے گا جیسے پیدا ہونا اور مرجانا وغیرہ لیکن ظہور کے وقت ابلیس کا حلول اس میں ہو گا اور اس کے مرتے وقت ابلیس اس کے جسم سے خارج ہو جائے گا۔ کیونکہ اگر دجال اور ابلیس کو ایک مان لیا جائے تو بہت سے اشکالات اور تضادات جنم لیں گے جن کا حل بہر حال ممکن نہیں ہوگا۔

اس بات کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ابن صیاد اس خواہش کا اظہار کرچکا تھا کہ اگر مجھے دجال بنایا جائے تو میں برا نہیں مانوں گا۔ چنانچہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے:-

’’ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے مجھ سے ایسی بات کہی جس سے مجھے شرم آئی، کہنے لگا کہ لوگوں کو تو میں نے معذور جانا اور تمہیں میرے بارے میں اصحابِ محمدﷺ کیا ہو گیا ؟ کیا اللہ کے نبی ﷺ نےیہ نہیں فرمایا کہ دجال یہودی ہوگا؛ حالانکہ میں اسلام لا چکا ہوں اور کہنے لگا کہ اور اس کی اولاد نہ ہوگی؛ حالانکہ میری تو اولاد بھی ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے اس پر مکہ کو حرام کر دیا ہے، میں حج کر چکا ہوں اور وہ مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا قریب تھا کہ میں اس کی باتوں میں آجاتا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور ماں کو بھی جانتا ہوں اور اس سے کہا گیا: کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو ہی وہ آدمی ہو ؟ اس نے کہا: اگر یہ بات مجھ پر پیش کی گئی تو میں اسے نا پسند نہیں کروں گا۔ (صحیح مسلم: ۷۳۴۹)

اس سے یہ اشکال بھی حل ہو جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ خواب میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا اور اسی خواب میں آپ ﷺ نے دجال کو ایک شخص ابْنِ قَطَن کی طرح شکل و صورت میں کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا (بخاری: ۳۴۴۰) حالانکہ یہ معروف ہے اور تواتر سے احادیث میں ثابت ہے کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا لیکن کیونکہ نبی ﷺ نے اسے مکہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا ہے اور نبی ﷺ کا خواب بھی سچا اور وحی ہوتا ہے جس کا خارج میں واقعہ ہونا یا کوئی مستعار تعبیر کا متحقق ہونا ضروری ہے، اور اگر اس نظریے کو مان لیا جائے کہ ابن صیاد ہی دراصل دجال ہے اور جیسا کہ اس نے کہا کہ وہ دجال بننا پسند کرے گا نیز اسے سب معلوم ہے کہ دجال اس وقت کہا ہے اور ابن صیاد مکہ مدینہ میں بھی گھومتا پھرتا رہا ہے، البتہ جب اس کے خروج کا وقت آئے گا تو ابلیس اس کے جسم میں حلول کر جائے گا اور وہ انتہائی طاقت ور ہو جائے گا یہاں تک کہ اس کی موت واقعہ ہو جائے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ دجال کا داخلہ حرمین میں اس وقت ممنوع ہوگا جب وہ بطور مسیح دجال ظاہر ہو گا (فتح الباری: ۶/۴۸۸-۴۸۹)، اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ایک حدیث میں آتا ہے:-
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ  نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مدینہ پر دجال کا رعب بھی نہیں پڑے گا اس دور میں مدینہ کے سات دورازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے۔ (بخاری: ۱۸۷۹)
اور دجال کا رعب اس وقت ہوگا جب وہ ایک طاقتور فتنے کے طور پر ظاہر ہوگا، واللہ اعلم۔

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:-

"ولا یبعد ان یکون بالجزیرۃ ذلک الوقت ویکون بین اظھر الصحابۃ فی وقت آخرالی ان فقدوہ یوم الحرۃ ۔” (التذکرۃ: ۱۳۴۰)

’’کوئی بعید نہیں کہ (ابن صیاد) کچھ وقت جزیرے پر ہوتا ہو اور کچھ وقت صحابہ کے درمیان، یہاں تک کہ صحابہ نے اس کو کھو دیا یوم حرۃ کے دن۔‘‘

یاد رہے اس بارے میں بھی دو قول پائے جاتے ہیں کہ ابن صیاد گم ہو گیا تھا یا اس کی وفات ہو گئی تھی۔
ایک اشکال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ دجال کے حوالےسے حدیث میں جو لفظ آیا وہ "رجل” کا آیا ہے جو کہ عربی لغت میں انسان کہ لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا جواب یہ کہ ایسا ہونا ہمیشہ ضروری نہیں بعض اوقات جنات وغیرہ کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے جیسا کہ سورۃ الجن (آیت: ۶) میں فرمایا گیا ہے:-

وَاَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِـرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُـمْ رَهَقًا

اس آیتِ مبارکہ میں جنات کے لیے بھی رجال کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو رجل کی جمع ہے۔ اس بحث سے دجال کے حوالے سے حسبِ ذیل موقف سامنے آتے ہیں:

1- بعض اہلِ علم اس طرف گئے ہیں کہ دجال دراصل ابلیس ہے جو قرب قیامت دجال کی صورت میں ظاہر ہوگا لیکن یہ مؤقف شاذ اور کمزور ہے کیونکہ اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ دجال کہ مرنے کا ذکر عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ہے اور ابلیس کو تا روزِ قیامت زندگی دی گئی ہے۔ اسی طرح دجال کے کانے ہونے کا ذکر ہے لیکن ابلیس کے بارے میں ایسی کوئی تصریح نہیں کی گئی۔

2- دوسرا نظریہ ابن صیاد کے ابلیس و دجال ہونے کا ہے لیکن ابن صیاد تو انسان ہے اسی لیے بعض اہلِ علم نے یہ نظریہ اختیار کیا ہے ابن صیاد کے جسم میں ابلیس حلول کر جائے گا اور اس کی وفات کے وقت وہ نکل جائے گا۔ لیکن محققین نے اس نظریے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

3- بعض نے دجال کو ان دونوں سے الگ کوئی شخصیت قرار دیا ہے جس کو صاحب الجساسہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی وہ غار والی شخصیت جس کی ملاقات سیدنا تمیم داری سے ہوئی تھی۔

4- ایک موقف شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی اہلِ علم کی جانب سے ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ دجال کا والد انسان اور والدہ جن گویا ان دونوں کے مرکب کا وہ نتیجہ ہے، لیکن یہ موقف بھی بہر حال بے دلیل ہی ہے۔ (مجموع فتاوی و رسائل، باب یوم الآخر)

حرفِ آخر یہ کہ اس باب میں اجتہاد کی گنجائش تا حال موجود ہے اور ضرورت ہے کہ احادیثِ صحیحہ کو مدارِ تحقیق بناتے ہوئے کوئی تحقیق پیش کی جائے لیکن چونکہ دجال کی حقیقت اور اس کی شخصیت کا مکمل ادراک سوائے بارئ تعالی کے کوئی نہیں رکھتا اس لیے اس باب میں صرف اپنے موقف کو ہی حرفِ آخر قرار دے دینا درست نہیں بلکہ وحی الٰہی کے بقیہ محتمل معانی پر نرا تحکم ہے جو کہ بڑا جرم ہے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.