دجال کون ہے ؟


الواقعۃ شمارہ: 82 – 85، ربیع الاول تا جمادی الثانی 1440ھ

اشاعت خاص : فتنہ دجالیت

از قلم : مولانا اصغر علی روحی

دجال مشتق ہے دجل سے، جس کا معنے خلط، لبس، خدع، (فریب اور دھوکا) کے ہیں۔ چونکہ وہ شخص دین میں فتنہ عظیم کا باعث ہوگا، اس لیے اس کو دجال کہا گیا اور اس کا لقب مسیح ہوگا اور اس کے اس لقب کی وجہ یا تو یہ ہے کہ اس کے چہرہ کی ایک جانب معہ آنکھ کے مستوی یعنی بے نشان ہوگی اور یا یہ کہ وہ حدودِ زمین کو قطع کرے گا۔ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا لقب بھی مسیح ہے اس لیے بغرضِ تفریق حضور ﷺ نے فرمایا:-
"الدجال مسیح الضلالۃ۔”
یعنی: ’’ لوگوں کو گمراہ کرے گا۔ ‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام "مسیح الھدایۃ” ہوں گے اور آپ کے اس لقب کی وجہ یہ ہے کہ آپ جس بیمار کو مسح فرماتے وہ تندرست ہوجاتا۔ بعض نے اور وجوہ بھی قلمبند کیے ہیں۔
بعض لوگوں نے ابنِ صیّاد کو جو حضور ﷺ کے زمانہ میں تھا دجال قرار دیا ہے، مگر حق یہ ہے کہ یہ غلط ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے ’’فتح الباری شرح صحیح بخاری‘‘ میں اس موضوع پر خوب بحث کی ہے اور مذکورہ بالا رائے کو غلط قرار دیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو بروایت جابر رضی اللہ عنہ صحیح بخاری میں آ چکی ہے چنانچہ وہ حلف کے ساتھ فرمایا کرتے کہ ابن صیّاد ہی دجال ہے اور اس کی وجہ یہ بتلایا کرتے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ کے سامنے حلفاً یہ فرماتے سنا کہ ابنِ صیّاد دجال ہے اور حضور ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کے قول پر انکار نہیں فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے جس میں ابن صیاد اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا قصہ مذکور ہے اور ان احادیث کے بعد لکھتے ہیں کہ ان احادیث میں کوئی نص نہیں کہ ابن صیاد دجال تھا کیونکہ حضور ﷺ نے بطور رد کے فرمایا : "ان یکن ھو……” (اگر ابن صیّاد ہی دجال ہے تو……) اور یہ رد بھی اوائلِ ہجرت میں تھا۔ بعد میں تمیم داری رضی اللہ عنہ نے اپنے واقعہ کی خبر دی کہ انھوں نے اسے فلاں جزیرہ میں محبوس دیکھا ہے تو آپ ﷺ نے ان کی خبر کی تصدیق فرمائی۔ رہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حلفاً بیان کرنا سو یہ محض ان کا اپنا اجتہاد تھا کیونکہ حضور ﷺ کے سکوت سے انھیں یہ خیال ہو گیا کہ واقعی ابن صیّاد دجال ہے اور جابر رضی اللہ عنہ کا حلفاً بیان کرنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حلف پر مبنی تھا۔ رہا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کا واقعہ سو اس کا جواب یہ ہے کہ ابن صیّاد بھی منجملہ ایسے لوگوں کے تھا جو دجال کی سی روش رکھتے ہیں (چنانچہ ہمارے زمانہ میں بھی بعض لوگ ایسے ہوئے ہیں جو دجال سے کسی صورت میں کم نہیں [ 1 ])۔
اور ابو داود کی حدیث جو بروایت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے جس میں لکھا ہے کہ دجال کے والدین تیس سال تک بے اولاد رہیں گے۔ پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو یک چشم ہوگا چنانچہ ہم نے یہود میں ایک ایسے بچے کے پیدا ہونے کی خبر سنی اور تصدیق کی۔ سو اس کی نسبت بیہقی لکھتے ہیں کہ صرف علی بن زید کی روایت سے مروی ہے اور قوی نہیں۔
اور بیہقی حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کی نسبت لکھتے ہیں کہ اس میں بجز سکوت جناب پیغمبر ﷺ کے کوئی حجت نہیں مگر آپ ﷺ کا سکوت اوائل میں تھا۔ بعد میں تمیم داری رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو سن کر آپ ﷺ کا تردد جاتا رہا۔ اس کے بعد حافظ ابن حجر حدیث تمیم داری رضی اللہ عنہ کی تقویت مختلف طریق سے کرتے ہیں۔ صحیح مسلم میں یہ حدیث اس طرح پر مذکور ہوئی کہ حضور ﷺ کے منادی نے نماز کے لیے ندا کی۔ جب نماز ہو چکی تو حضور ﷺ بر سر منبر تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں  جمع کیا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں  نے تمہیں کسی ترغیب و ترہیب کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ اس امر پر آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ ایک عیسائی شخص تھا جس نے اسلام قبول کیا۔ اس نے مجھے ایک ایسا واقعہ سنایا ہے جس کی بابت میں  تمہیں خبر دیا کرتا تھا (مسیح دجال کا واقعہ) چنانچہ اس نے ذکر کیا کہ میں بنی لخم اور بنی جذام کے تیس آدمیوں کے ساتھ جہاز پر سوار ہوا۔ سمندر کی موجیں ایک مہینہ بھر تک جہاز کو ادھر اُدھر لے جاتی تھیں۔ آخر یہ لوگ ایک جزیرہ میں داخل ہوئے۔ وہاں انھیں ایک دابّہ (حیوان) نظر پڑا جس کے بال بڑے موٹے اور گھنے تھے انھوں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ میں جُسّاسہ ہوں (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں  واقع ہوا ہے کہ یہی دابۃ الارض ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے اور قربِ قیامت میں خروج کرے گا اور لوگوں سے ہمکلام ہوگا) تب اس نے کہا کہ آئو اس شخص کی طرف جو دَیر میں بیٹھا ہے، چلیں کیونکہ وہ تمہارے حالات دریافت کرنا چاہتا ہے۔ جب اس نے اس آدمی کا ذکر کیا تو یہ لوگ ڈر گئے مبادا (دابّہ) کوئی شیطان ہو۔ آخر یہ لوگ بہت جلد اس کے ساتھ دَیر کی طرف گئے۔ وہاں انھوں نے ایک بڑا مضبوط آدمی دیکھا جس کے ہاتھ گردن کی طرف زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ہم نے اسے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ پہلے تم مجھے خبر دو کہ تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے کہا کہ ہم اہلِ عرب ہیں جہاز میں سوار ہو کر یہاں پہنچے ہیں۔ پھر اس نے پوچھا کہ نخلِ بَیسان (شام میں ایک بستی ہے) کا کیا حال ہے ؟ کیا وہ پھل دیتا ہے ؟ ہم نے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ عنقریب وہ پھل نہیں دے گا۔ پھر اس نے پوچھا کہ بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے ؟ آیا اس میں پانی موجود ہے ؟ پھر خود ہی کہا کہ عنقریب اس میں پانی نہیں ملے گا۔ پھر اس نے زُغر (بستی کا نام ہے) کی بابت پوچھا کہ وہاں زراعت ہوتی ہے ؟ ہم نے کہا کہ ہاں نہایت اچھی طرح سے۔ پھر اس نے پوچھا کہ نبی امّی کی بابت خبر دو اس کا ظہور ہو گیا ہے یا نہیں ؟ ہم نے کہا ہاں مکہ میں ظاہر ہو گیا اور اب وہ یثرب (مدینہ) میں ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ آیا اہلِ عرب اس سے لڑتے ہیں ؟ ہم نے کہا کہ ہاں وہ گرد و نواح کے قبائل پر غالب آیا ہے۔ تب اس نے کہا کہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے کہ اس کی اطاعت کر لیں اور میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ میں مسیح (دجال) ہوں اور عنقریب مجھے خروج کا حکم ہوگا اور میں بجز مکہ و مدینہ کے تمام بلاد میں پھر جائوں گا کیونکہ ان میں داخل ہونے سے خدا تعالیٰ کا ملک مجھے مانع ہوگا۔ جب حضور ﷺ [ 2 ] یہ فرما چکے تو آپ ﷺ نے چھڑی سے اشارہ فرمایا کہ یہ ہے طیبہ (مدینہ) اور میں تمہیں پہلے یہی خبر سنا چکا ہوں۔ حاضرین نے عرض کیا کہ ہم آپ سے یہ خبر پہلے بھی سن چکے ہیں۔
محدث بیہقی فرماتے ہیں کہ دجال اکبر جو آخیر زمانہ میں خروج کرے گا وہ ابنِ صیّاد نہیں بلکہ ابن صیّاد منجملہ دجّالین کے ایک دجال تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے ابن صیاد کو دجال گمان کیا ہے انھیں تمیم داری رضی اللہ عنہ کی حدیث جو پیشتر مذکور ہو چکی نہیں پہنچی ورنہ ابن صیاد والی اور تمیم داری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں تطبیق دشوار ہے۔
ایک حدیث میں بروایت انس رضی اللہ عنہ وارد ہے کہ دجال اصفہان کے قریہ یہودیہ سے خروج کرے گا۔
حافظ ابن حجر کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال معہود ابن صیاد کے علاوہ ہے اور ابن صیاد کے دجال ہونے کے احادیث نصِ صریح نہیں بلکہ تمیم داری رضی اللہ عنہ والی حدیث سے جساسہ [ 3 ] کا دجال ہونا زیادہ صحیح ہے کیونکہ حدیث تمیم رضی اللہ عنہ ابن صیاد کے قصہ سے متاخّر ہے لہٰذا تمیم رضی اللہ عنہ والی حدیث ابن صیاد والی حدیث کی ناسخ ہوگی۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ ابن صیاد دجال اکبر نہیں ہو سکتا۔ مع ہٰذا صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ یہ خیال کہ دجال انسان ہوگا یا شیطان علمائے اسلام میں مختلف فیہ ہے۔
اکثر علماء کا خیال ہے کہ دجال شیطان ہوگا جو انواع و اقسام کے خرق عادت سے لوگوں کو گمراہ کرے گا۔ یہ خیال بھی اس امر کا مؤید ہے کہ ابن صیّاد دجال نہیں بلکہ نبوت کا مدعی ہوا تھا اس لیے باوجود اس کے اسلام لانے کے اسے دجال کا لقب دیا گیا جس طرح بعد کے بعض لوگوں کو بوجہ الحاد کے دجال کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

حواشی

[ 1 ] دجال کاذب مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف اشارہ ہے۔ (ادارہ)۔

[ 2 ] اصل میں ایسا ہی ہے، شاید سہو کتابت ہو۔ کیونکہ یہ پورا قصہ خود سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سنایا تھا۔ اس لیے اس مقام پر ان ہی کا نام مناسب ہے۔ (ادارہ)۔

[ 3 ] یہاں بھی سہو کتابت کا امکان لگتا ہے۔ "جساسہ نہیں، بلکہ جساسہ کا مذکور شخص جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔” (ادارہ)۔

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.