امید اور مایوسی – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 80 – 81، محرم الحرام و صفر المظفر 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

امید زندگی ہے اور مایوسی موت۔ جس طرح ایک شخص کے لیے اس کی اپنی زندگی میں امید کی ایک کرن زندگی کا سہارا بن جاتی اور مایوسی موت کا پیغام بن جاتی ہے، اسی طرح قوموں کی زندگی اور ان کے عروج و زوال میں بھی امید قوم کی حیات بن کر ظاہر ہوتی ہے اور مایوسی فنا کا جام لے کر آتی ہے۔

اس وقت عالم اسلام جس دورِ مایوسی سے گزر رہا ہے اس سے نکلنے کے لیے صرف ایک سچی "امید” درکار ہے۔ "امید” ہی ہے جو ایک مایوس انسان کو زندگی کی طرف مائل کرتی ہے اور یہی "امید” جب یقین میں بدلتی ہے تو نا قابل تسخیر قوت بن جاتی ہے۔ انسان وہ کچھ کر گزرتا ہے جس کی قبل ازیں کوئی "امید” بھی نہ تھی۔

اور یہی "امید” جب اللہ رب العزت کی ذات گرامی سے وابستہ ہو تو محض ایک "امید” نہیں رہتی بلکہ "ایمان” و "یقین” کی ایک کیفیت میں تبدیل ہو جاتی ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت زیر نہیں کر سکتی۔ کیا کفر سے تمتع اٹھانے والے اور رب تعالیٰ سے نا امید بہتر ہیں یا پھر وہ شخص:-

هُوَ قَانِتٌ آنَآءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَائِمًآ يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْـمَةَ رَبِّهٖۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّـذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَۗ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُو الْاَلْبَابِ – الزمر: ۹

"جو رات کے اوقات میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عبادت کر رہا ہو، آخرت سے ڈر رہا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید کر رہا ہو، کہہ دو کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں، سمجھتے وہی ہیں جو عقل والے ہیں۔”

جو لوگ اللہ ربّ العزت سے رشتہ امید قائم کرتے ہیں وہ کبھی اللہ سے مایوس نہیں ہوتے، خواہ حالات کا جبر اور ماحول کا گھٹن کتنا ہی بڑھ جائے:-

وَلَا تَيْاَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّـٰهِ ۖ اِنَّهٗ لَا يَيْاَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّـٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُوْنَ – یوسف: ۸۷

"اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔”

ہر دور میں مادیّت پرستی میں گھرے انسان کا یہ المیہ رہا ہے کہ وہ بادہِ مخالف سے چلنے والی ہوا کے محض ایک جھونکے سے مایوس ہو جاتا ہے۔

لَّا يَسْاَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَيْـرِۖ وَاِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوْسٌ قَنُـوْطٌ – فصلت: ۴۹

"انسان خیر مانگنے سے نہیں تھکتا، اور اگر اسے کوئی شر چھو جائے تو مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے۔”

لیکن مادیّت پرستی سے بالاتر ہو کر جن لوگوں کے لیے "امید” محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایمانی کیفیت کا نام ہے۔ ان کے عمل کی دنیا بھی اسی "امید” سے سنورتی ہے۔

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَـآءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٓ ٖ اَحَدًا – الکہف: ۱۱۰

"پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔”

گویا ربّ تعالیٰ سے "امید” کے لیے "عمل صالح”، "انکارِ شرک” اور "اثباتِ توحید” لازم ہے۔ اس کے بغیر اللہ ربّ العزت سے رشتہ امید کبھی استوار نہیں ہو سکتا۔

آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے "طولِ امل” (بے جا خواہشات) سے اپنی زندگیوں کو آراستہ کر لیا ہے، اور ہماری "امیدیں” دنیا سے شروع ہو کر دنیا ہی پر ختم ہو جاتی ہیں۔ ہم نے جن سے "امیدیں” وابستہ کرلی ہیں وہ خود ہی "متاع الغرور” کی تفسیریں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبگینہ دل کو بار بار ٹھیس لگتی ہے۔ کاش ہماری جبینِ نیاز ایک بار خلوص اور یقین کے ساتھ اس در پر جھکے جہاں سے کوئی مایوس نہیں جاتا اور جس منزل پر پہنچ کر انسان کو "امید” کی لازوال نعمت ملتی ہے۔ ایک ایسی "امید” جو کبھی شکستِ خوردگی کی ذلت سے ہمکنار نہیں ہونے دیتی۔ اب بھی وقت نہیں گزرا، آج بھی دربارِ الٰہی سے یہی اعلان سامعہ نواز ہوتا ہے:-

يَا عِبَادِىَ الَّـذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِـمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْـمَةِ اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُـوْبَ جَـمِيْعًا ۚ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِـيْمُ – الزمر : ۵۳

"اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا، بے شک وہ بخشنے والا، رحم والاہے۔”

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.