کیوں، اور لا دینیت کی بے بسی


الواقعۃ شمارہ : 78  – 79 ذیقعد و ذی الحجہ 1439ھ

از قلم : مجیب الحق حقی، کراچی

اللہ کو ماننا ایک ڈسپلن کو قبول کرنا ہوتا ہے۔
اگر کوئی نہ ماننا چاہے تو نہ مانے۔۔۔ مگر، جو اللہ کو نہیں مانتا وہ یہ بتا دے کہ:
کائنات کیوں بنی ؟
زندگی کا ظہور کیوں ہوا ؟
زندگی لاکھوں کروڑوں شکلیں بدل کر انسان کے روپ میں کیوں عیاں ہوئی؟
ارتقاء کے عمل میں ابتدائی اور پچھلے آثارِزندگی کیوں معدوم نہیں ہوئے اور آبی حیات آج بھی کیوں زندہ ہے۔
حشرات الارض معدوم کیوں نہیں ہوئے ؟
شعور کیا اورکیوں ہے ؟
اچھائی اور برائی ہیں ہی کیوں ؟
زندگی باہر کے ماحول کی محتاج کیوں ہے، خود رو زندگی آزاد کیوں نہیں ؟ کیوں ہر نفس سانس لیتا ہے ؟
کیوں درخت زندہ رہنے کے لیے آکسیجن نہیں لیتے ؟
کیوں رات اور دن ایک نظام کے تحت آتے اور جاتے ہیں ؟
کیوں سب انسان تمام رنگ ایک سا دیکھتے ہیں ؟
کیوں ہر پھل اور سبزی اپنا بیج لے کر پیدا ہوتے ہیں ؟
کیوں سب انسانوں کا خون سرخ ہوتا ہے ؟
کیوں خون کے گروپ ہوتے ہیں ؟
کیوں ہر انسان کا دل ایک ہی طرح دھڑکتا ہے ؟
کیوں ہر انسان کا دماغ بھی ایک جیسا ہوتا ہے ؟ مگر کیوں انسان مختلف طرح سوچتے ہیں ؟
کیوں ہر انسان جین میں وراثت لے کر پیدا ہوتا ہے ؟
جذبات کیوں ہوتے ہیں ؟
کیوں حیوان اور انسان کی مادہ میں ممتا کا جذبہ موجزن ہوتا ہے ؟
انسان اور ہر جاندار کے جوڑے کیوں ہوتے ہیں اور ان میں آپس میں کشش کیوں ہوتی ہے ؟
یہ ہزاروں سوالات میں سے چند ہیں، جن کے جوابات کے لیے ایک منکر خدا مجبور ہے کہ سائنس کا سہارا لے۔
کیونکہ سائنس ہی ہمارے اطراف موجود عظیم تر سائنس کی تشریح کرتی ہے، لیکن سب جان لیں کہ سائنس صرف "کیا” یعنی واٹ اور "کیسے” یعنی ہاؤ کا جواب دے سکتی ہے مگر کیوں کا حتمی جواب نہیں۔۔۔۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کیوں کے جواب کے اندر مزید کیوں بھی چھپے ہوتے ہیں۔
گویا سائنس کے پاس "کیوں” کے جوابات نہیں ہوتے بلکہ کیا اور "کیسے” کے ہوتے ہیں۔!
لیکن متجسّس ذہن صرف کیا اور کیسے کا ہی نہیں بلکہ کیوں کے جواب کا بھی متلاشی ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم سائنس پر انحصار کر کے ہر "کیوں” سے کنارہ کش ہو جائیں ؟
تو ادھورے جوابات، مغالطوں، وسوسوں اور شک کی بنیاد پر اندھی زندگی گزارنی ہے تو سائنس کو رہبر بنائیں ورنہ اپنی عقل استعمال کریں۔
کیا ہم اپنی زندگیوں سے "کیوں” کو خارج کر سکتے ہیں ؟ نہیں!
پھر آخر کیوں کا جواب کس کے پاس ہے ؟
اسلام ایمان بالغیب کی تعلیم دیتا ہی اسی لیے ہے کہ انسان کو ہر طرح سے مطمئن کیا جائے۔
انسان کے اطراف موجود سپر سائنس ایک خالق کی تخلیق ہے اور ہر "کیوں” کا جواب اس سپر سائنس کے خالق کے پاس ہے۔۔۔۔
وہ خالق ۔۔۔ جو حواس سے تو اوجھل مگر شعور میں جگمگاتا ہے۔
جو اللہ ہے۔۔۔۔۔
اور لادینیت کے پرچارک دوستوں!
اور اگر خدا نہیں ہے تو پھر خالق کا متبادل بتلا دیں! بے شک آپ سائنس کا سہارا بھی لے لیں۔۔
اور اگر آپ نہ بتا سکیں تو یہ خیال رہے کہ کہ اس میں بیچ کی کوئی راہ ہے نہیں۔ یا تو خالق کو قبول کرو یا دلیل سے مسترد کرو۔
اور یہ بھی واضح رہے کہ۔۔اللہ کو خالق قبول کرنا۔ ۔ پورا پیکج لینا ہوتا ہے، ادھورا نہیں۔
لو تو پورا ۔۔۔پیکج ۔۔ورنہ ادھورے میں نقصان ہی نقصان۔۔۔۔
سیکولر ازم، لبرل ازم، سوشلزم اور روشن خیالی وغیرہ۔۔ یہ سب ادھورے پیکج ہیں جن کی نظریاتی بنیادیں ہیں ہی نہیں۔
اگر تخلیق کے حوالے سے سائنس، لبرلز اور سیکولرز کے پاس پختہ نظریات ہیں تو سامنے لائیے ۔
ورنہ سادہ لوح مسلمانوں اور کم علم نوجوانوں کو ورغلائیں نہیں۔
روشن خیالی کے نام پر دین کو مسخ نہ کریں اور نہ اپنی خواہشات کا غلام بنائیں۔
اللہ کے دین میں پورا کا پورا داخل ہونے کی کوشش کریں۔۔۔
اگر نہ کر سکیں تو اپنی اس کمزوری کا انتقام اسلام سے نہ لیں۔ اس کا حلیہ نہ بدلیں اپنے آپ کو بدلیں۔
اپنی خواہشات کو خدا کے دین کا نام نہیں دیں۔ قرآن کے احکامات کہ متنازعہ نہ بنائیں۔
کچھ کہنے اور لکھنے سے پہلے سوچیں کہ اللہ کیا چاہتا ہے، اس کی خواہش جاننے کا ذریعہ یا واسطے کیا ہیں۔
ان واسطوں کو تلاش کیجیے۔
بے دین ہونے سے بچیں کیونکہ جو نظریہ اللہ کو نظر انداز کرے وہی لادینیت کا ٹھکانہ ہے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.