فلسطین، فلسطینیوں کا ہے قسط : 1


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : ڈاکٹر بہاء الدین محمد سلیمان، نیو کیسل، آن ٹائن، برطانیا

فلسطین جسے قدیم زمانے میں ماٹو، پھر سرگون اعظم کے زمانہ میں ارض ایمورائٹ، یونانیوں کی تاریخ میں سیریا، رومیوں نے فلسطائنا، فونیقیوں کی مناسبت سے فونیشیا، بابلی نوشتوں میں کنعان، بمعنی نشیبی زمین، عربوں نے شام بمعنی بایاں، ترکوں نے سنجاک آف یروشلم یا ولایت بیروت، یہود نے ارض اسرائیل اور عیسائیوں نے ارض مقدس کہا ہے۔ آج سیاسی لحاظ سے دنیا کا اہم ترین قطعہ ارض بنا ہوا ہے۔ مذہبی طور پر یہاں یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں اور سیاسی طور پر تینوں اقوام کے مفادات اس خطے سے وابستہ ہیں۔ دونوں قسم کے عوامل اس قدر جاندار ہیں کہ ان کے باعث پوری دنیا تباہی کے کنارے آن لگی ہے۔ تینوں اقوام میںسے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ تینوں کا خیال ہے کہ فلسطین پر صر ف ان کا حق ہے اور کسی دوسرے کو اس میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ ہم آج کی نشست میں مسئلہ فلسطین کے حقیقی پس منظر کو ایک غیر جانبدار مؤرخ کی نظر سے دیکھ کر قارئین پر اس کے صحیح خدوخال واضح کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہاں کے اصل باشندے کون سے ہیں،کیونکہ وہی اس کے صحیح حق دار ہیں۔ اور کون کون سی اقوام کہاں کہاں سے آکر کن کن ادوار میں کن مقاصد کی خاطر یہاں آباد ہوئیں۔ ہماری نظر میں اس مسئلے کے حل میں مذہب کو دخل نہیں دینا چاہیے۔کیونکہ تینوں اقوام کے مقدس مذہبی مقامات یہاں موجود ہیں اور کوئی بھی قوم طبعی طور پر اپنے مقامات مقدسہ سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ جس طرح ہم اپنے قبلے بیت اللہ سے دستبردار نہیں ہو سکتے، اسی طرح عیسائی اور یہودی بھی فلسطین میں موجود اپنے قبلے سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ جس طرح ہم مسجد اقصیٰ سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یادگاروں اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کی یادگاروں سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ ہماری نظر میں اس مسئلے کا واحد حل "فرزندِ زمین” کا نظریہ ہے کہ زمین انہی کی ہے جو وہاں کے اصل باشندے ہیں۔ اس لیے زیر نظر مضمون کے آغاز میں ہم یہی بحث کرنا چاہتے ہیں کہ فلسطین کے قدیم ترین باشندے کون سے ہیں۔ آیا وہ قوم دنیا میں اب موجود ہے۔ اگر موجود نہیں ہے تو ان کے بعد قدیم ترین کون سے ہیں۔ اگر وہ نسل بھی اب موجود نہیں ہے تو کون سی قدیم ترین نسل موجود ہے جسے فلسطین کا وارث تصور کیا جائے اور فلسطین کے آتش کدہ کو سرد کیا جا سکے۔ آئیے ہم آپ کو اس مقصد کی خاطر ازمنہ گزشتہ میں لے چلتے ہیں۔
فلسطین اپنی مخصوص تاریخ کے اعتبار سے محض ایک قطعہ ارض کبھی نہیں رہا،بلکہ جغرافیے نے اسے کچھ ایسی اہمیت عطا کر دی ہے کہ تاریخ ہمیشہ مصیبت میں مبتلا رہی ہے اور یہ ہر دور میں بین الاقوامی استخوان نزاع بنا رہا ہے۔ اس قطعہ ارض میں انسان اس وقت سے آباد ہے جب سے انسانی زندگی تاریخ کی روشنی میں آئی ہے۔ یہ بات یروشلم کے شمال مغرب میں واقع "وادیِ نطوف” کے وسطی حجری دور کے آثار قدیمہ سے پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے۔ حالیہ کھدائی سے جو بابلی اور مصری ریکارڈ ظاہر ہوا ہے اس کی مدد سے ہم عبرانیوں سے قبل کی تاریخ بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ ان کے ذریعے فلسطین میں اسرائیلیوں سے قدیم تر باشندوں کا پتہ چلتا ہے۔ آثار قدیمہ کی کھدائیوں کے لیے ۱۸۶۵ء میں لندن میں فلسطین ایکسپلوریشن فنڈ قائم کیا گیا۔ پھر جرمن اورینٹل سوسائٹی اور فرنچ بابلی سکول آف یروشلم وجود میں آئے۔ جن کی کاوشوں سے ۱۸۹۱ء میں جنوبی جوڈیا میں کھدائیوں کا عملی کام شروع ہوا، اور ارض مقدس سے متعلق بہت سی معلومات منظر عام پر آئیں جن کے مطابق تین ہزار قبل مسیح میں یہاں سامی آباد تھے اور ان سے پہلے یہاں کوئی اور نسل آباد تھی جن کے غیر سامی ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ ڈاکٹر میکس بینکن ہارن کے مطابق اس علاقے میں کم از کم دس ہزار سال پہلے انسان آباد ہوا۔ یہ لوگ غاروں میں رہتے تھے کیونکہ ایک غار سے شیر کی ہڈیوں کے ساتھ انسانی پنجر بھی ملا ہے۔ کھدائیوں کے باعث ایک ایسے دور کے آثار بھی ملے ہیں جب لوگوں کا گزارہ صرف شکار پر تھا۔ یہ لوگ غیرسامی تھے کیونکہ وہ اپنے مُردوں کو جلا دیتے تھے جو آریاؤں کی رسم ہے۔ (سامی اپنے مُردے کو دفن کرتے ہیں)۔ معلوم ہوتا ہے کہ غاروں کے یہ مکین ہورائٹ یا ہورم تھے جو ابڈومائٹس کے اجداد تھے۔ اسی بنا پر بعض علماء کا خیال ہے کہ کنعان و فلسطین کے اصل باشندے یہی ہیں۔ مصری نوشتوں کے مطابق کنعانی یہاں کے قدیم باشندے ہیں۔ یہ نام ہیٹوں کے پرانے پایہ تخت کی مناسبت سے ہے۔ یہ لوگ غیر سامی تھے۔ تورات سے بھی یہاں غیرسامی اقوام کاوجود ملتا ہے۔ اسی لیے علماء کی اکثریت کا کہنا یہ ہے کہ تین ہزارسے ڈھائی ہزار سال قبل مسیح تک فلسطین میں غیر سامی آباد تھے جن کی طاقت عبرانیوں نے ختم کی اور طویل جدوجہد اور لڑائیوں کے بعد ارض مقدس پراپنا تسلط جمانے میں کامیاب ہو گئے اور اسی تسلط کی بنا پر وہ آج بھی اس علاقے کے دعویدار ہیں۔
سامی حضرت نوح علیہ السلام کے صاحبزادے سام سے منسوب ہیں اور تاریخ میں ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو شمال میں سیرین کے نام سے، جنوب میں عربوں کے نام سے، مغرب میں موآبیوں، فونیشیوں اور عبرانیوں کے نام سے آباد تھے۔ اس سارے علاقے کو ہلال زرخیز کہتے ہیں۔ سامیوں کا اصل وطن عرب تھا جہاں سے آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں میں جاکر آباد ہوتے رہے۔ تاریخ میں ایسی چار ہجرتوں کا پتہ چلتا ہے۔ کنعان یافلسطین میں سامیوں کاآکر آباد ہونا دوسری ہجرت کہلاتا ہے۔ عبرانیوں کے یہاں آنے سے پہلے سامیوں کے دو گروہ کنعانی اور اموری یہاں آباد تھے۔ کنعانی ساحلی علاقوں میں رہتے تھے اور اموری پہاڑوں میں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہاں پہلے اموری آئے، پھر کنعانی۔ یہ دونوں گروہ اگرچہ ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان میں کوئی مشابہت نہ تھی۔ ان کے بعد جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ سامیوں کا ہی ایک اور گروہ جسے بعد میں عبرانی اور آگے چل کر اسرائیلی اور یہودی کہا گیا علاقہ فلسطین میں آکر آباد ہوا۔
تورات کے مطابق عبرانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں جو سمیریوں کے دار الحکومت "اُر” سے ہجرت کرکے کنعان یا فلسطین میں آکر آباد ہوئے۔ "اُر” ‘حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دو ہزارسال قبل تہذیب و تمدن کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ مشرق سے آنے والے خونخوار قبیلوں نے اس عظیم سلطنت کو تباہ کر دیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ طوفان نوح جیسے ایک اور طوفان نے ان کو تباہ کر دیا ہو کیونکہ اس سلطنت کے شہر تاریخ میں چار ہزار سال تک پھر کہیں نظر نہیں آئے۔ بہرحال کسی بھی وجہ سے اگرچہ یہ سلطنت برباد ہو گئی تاہم ان کا تحریری اثاثہ موجود رہا، جو مصر پہنچا۔ پھر اسیریا یا بابل کی سلطنتوں میں پہنچا۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سمیریا کی یہ سلطنت مشرقی اور مغربی تہذیبوں کی مآخذ ہے۔ ان تحریروں سے معلوم ہوتا کہ ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح میں جب کہ مصر میں بھی وحشت کا دور دورہ تھا "اُر” کے لوگ سونے چاندی اور دیگر دھاتوں سے شاہکار تخلیق کرتے تھے۔ یہاں کے ماہرین تعمیرات دور جدید کے اصول تعمیر سے خوب واقف تھے۔ اہل سمیریا کتابت کو کافی ترقی دے چکے تھے۔ فن سپہ گری میں طاق تھے۔ خشکی اور سمندری راستوں سے دنیا کے دیگر ممالک سے تجارتی تعلقات رکھتے تھے۔ لکڑی کا کام بہت عمدہ کرتے تھے۔ نہروں کا جال بچھا ہوا تھا۔ بیلوں سے ہل چلا کر کھیتی باڑی کرتے تھے۔ ان کا اپنا مجموعہ قوانین اور منظم و مذہب تھا۔ اور قدیم زمانے میں اس علاقے سے زیادہ خوشحال کوئی علاقہ نہیں دیکھا گیا۔
اس علاقے سے ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کی اور آٹھ سو میل کا فاصلہ طے کر کے کنعان پہنچے۔ راستے میں پہلے حران (ترکی میں ہے) پہنچے۔ پھر ساحل کے ساتھ ساتھ اس پرانے کاروانی راستے پرچلتے گئے جو فرات اور نیل کے شہروں کو ملاتا ہے۔ شاید وہ دمشق میں بھی رُکے لیکن یہاں ماحول کو سازگار نہ پاکر آگے پہاڑی علاقوں کی طرف چل دیئے۔ جہاں اگرچہ کاشت مشکل تھی لیکن امن و سکون میسر آ سکتا تھا۔ یہ کنعان کا وہ حصہ تھا جسے بعد میں فلسطین کہا گیا۔ کنعانیوں نے ان نو واردوں کو ابوس یا ابرم (دوسری جانب) کہا۔ یعنی دریائے فرات و اردن کے دوسری جانب سے آنے والے۔ یہی لفظ بعد میں ہبریو یعنی عبرانی بن کر اس نسل کے لیے مخصوص ہو گیا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ فلسطین عبرانیوں کا اصل وطن نہیں ہے بلکہ ان کا یہاں نووارد ہونا خود ان کے نام میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہد قدیم میں عبرانیوں نے فلسطین کو کبھی اپنا وطن نہیں سمجھا اور جب انھیں محسوس ہوا کہ کسی اور علاقے میں انھیں زیادہ مفادات مہیا ہو سکتے ہیں تو یہ فوراً دوسری جگہوں کی جانب چل دیئے۔ جس کی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ان کا مصر آکر آباد ہو جانا ہے۔ ہوا یوں تھا کہ حضرت ابراہیمu کے پڑ پوتے حضرت یوسفu فروخت کر کے مصر پہنچا دیئے گئے جہاں مغربی ایشیا کے سامی النسل چرواہوں کا ایک قبیلہ ہائیکساس حکمران تھا۔ یہ قبیلہ خود غیر ملکی تھا، اس لیے غیر ملکیوں کی حوصلہ افزائی کرتا اور مصریوں کو دباتا تھا۔ اس قبیلے کی حکومت میں حضرت یوسف علیہ السلام اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث وزیر خوراک کے منصب تک پہنچ گئے۔ اس زمانے میں ایک عالمگیر قحط سے مجبور ہو کر ان کے بھائی مصر آئے۔ جنہیں نیل کے ڈیلٹا میں ارض گوشن میں آباد کر دیاگیا۔ اس طرح عبرانی فلسطین سے مصر منتقل ہو گئے اور صدیوں تک یہیں مقیم رہے۔ اس وقت تک ان کے ذہن میں کبھی یہ خیال پیدا نہ ہوا تھا کہ فلسطین ہمارا وطن ہے، اور نہ ہی انھوں نے مصر کو اپنا وطن قرار دیا۔ بلکہ سیاسی اور معاشی اغراض سے مصر میں مقیم رہے۔ اور جب یہاں یہ اغراض پورا ہونا بند ہو گئیں تو پھر مصر سے نکل کھڑے ہوئے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ہائیکساس جب عیاشیوں میں مصروف ہو کر جانبازی سے عاری ہو گئے، تو مصریوں نے ان کے خلاف بغاوت کر کے پندرہویں صدی قبل مسیح میں مصر میں ایک نئی اور مضبوط حکومت قائم کر دی۔ جس نے بڑی بڑی تعمیرات کا سلسلہ شروع کیا جس کے لیے بیگار کی ضرورت تھی۔ گوشن کے علاقے میں صحت مند عبرانیوں کو جو غیر ملکی ہونے کے باوجود صدیوں سے وہاں آباد تھے، انھیں کھٹکنے لگے اور بیگار کا قُرعہ ان کے نام پڑ گیا۔ نیز یہ مصری حکومت اس بات سے بھی خائف تھی کہ ایک خاص علاقے میں آباد خوشحال اور مضبوط غیر ملکی قوم کہیں ان کے اقتدار کو چیلنج نہ کر دے، اس لیے انھوں نے عبرانیوں پر سختیاں شروع کر دیں۔ جن سے تنگ آکر اور کچھ وقتی مذہبی اسباب کے تحت یہ لوگ حضرت موسیٰu کی سرکردگی میں مصر سے نکل گئے اور فلسطین کی راہ لی۔ ان کا خیال تھاکہ کنعانی پہلے کی طرح کوئی مزاحمت نہ کریں گے۔ لیکن انھیں شدید مزاحمت سے واسطہ پڑا جس کے نتیجہ میں یہ لوگ ہمت ہار بیٹھے اور چالیس سال تک دشت نوردی کرتے رہے۔ بعد ازاں شکست و فتح کا کھیل کھیلتے ہوئے رفتہ رفتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں فلسطین میں سر چھپانے میں کامیاب ہو گئے۔ تورات گویا ہے:-
"جب یوشع بوڑھا ہو گیا تو خدا نے اسے کہا تم بوڑھے ہو گئے ہو لیکن ابھی بہت سا علاقہ فتح کرنے کے لیے باقی ہے جس میں مصر کی سرحدوں سے لے کر وہ تمام علاقہ شامل ہو جو کنعانیوں کا علاقہ کہلاتا ہے۔ میں بنی اسرائیل کے داخلے سے قبل وہاں کے اصلی باشندوں کو نکال باہر کروں گا۔ تم بنی اسرائیل کو ان کی جگہ لینے کے لیے تیار کرو۔”
فلسطین میں مکمل برتری حاصل کرنے سے قبل عبرانی جہاں جہاں آباد ہوئے وہاں انھوں نے قلعہ بند شہر بنا لیے تھے اور کنعانیوں سے دوستانہ روابط پیدا کر کے زراعت میں مشغول ہو گئے۔ کنعانی بھی ایسے ہی شہروں میں رہتے تھے جو اکثر میدانی علاقوں اور خال خال پہاڑی علاقوں میں واقع تھے اور اکثر رقبہ خالی پڑا تھا۔ یہی بات یہاں عبرانیوں کے قدم جمانے کا باعث بنی۔ بعد میں جب دونوں اقوام کے مفادات ٹکرائے تو ان میں پھر حالت جنگ پیدا ہو گئی۔ جنگ گبسن کی کہانی عبرانیوں میں اسی دور کی یادگار ہے جس کے مطابق امورائٹس کے بادشاہ نے عبرانیوں پر حملہ کر کے انھیں بے گھر کر دیا تھا (تورات میں کنعانیوں کو امورائٹس اور ہٹی بھی کہا گیا ہے)۔ بعد میں پانسہ پلٹ گیا اور عبرانیوں نے کنعانیوں کے شہر حبرون اور ڈیبر وغیرہ فتح کر لیے اور تقریباً گیارہ سو سال قبل مسیح میں فلسطین کے منظر پر کنعانیوں کی بجائے عبرانی جلوہ گر ہو گئے ورنہ اصل میں یہ سر زمین کنعانیوں کی ہی تھی جیسا کہ تورات میں ہے : "وہ جگہ جہاں تم اجنبی ہو کنعانیوں کی سرزمین ہے۔”
کنعانیوں کی اس سر زمین پر عبرانیوں نے قابض ہو کر ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ جس کا دار الحکومت حبرون تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے خیال میں یہ جگہ پایہ تخت کے لیے مناسب نہ تھا۔ اس لیے انھوں نے موجودہ یروشلم کو جسے اس وقت جیو سائٹ کہتے تھے، منتخب کیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عبرانیوں کی مرکزی عبادت گاہ تعمیر کرائی جسے ہیکل کہا گیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام  ۹۷۰ ق م میں بادشاہ ہو کر ۹۳۱ ق م میں فوت ہو گئے جس کے فوراً بعد شیشاک مصری نے ہیکل تباہ کر دیا اور معبد کا قیمتی طلائی سامان لوٹ کر لے گیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد عبرانیوں کی سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک کا نام جوڈیا تھا جس کا پایہ تخت یروشلم تھا۔ اس کا حکمران حضرت سلیمان علیہ السلام کا بیٹا رحبعام بنا۔ اور بعد ازاں اولاد سلیمان عرصہ تک یہاں حکمران رہے۔ دوسری ریاست کا نام اسرائیل تھا جس کا دار الحکومت سامریہ تھا۔ یہاں عبرانیوں کے دس قبائل آباد تھے۔ ان دونوں ریاستوں کی داخلی تاریخ باہمی قتل و غارت اور سازشوں سے پُر ہے۔ آخر ۷۲۱ ق م میں اسرائیل کی ریاست اشوریوں کے ہا تھوں اور ۵۸۸ ق م میں جوڈیا کی ریاست بابلیوں کے ہاتھوں ختم ہو گئی۔ بخت نصر شاہنشاہ بابل نے ۶۰۷ ق م، ۵۹۷ ق م اور ۵۸۸ ق م میں یکے بعد دیگرے جوڈیا پر حملے کیے اور آخری حملے میں ہیکل کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا۔ خزانہ اور متبرک اشیا لوٹ کر ساتھ لے گیا اور بیشمار عبرانیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر لا تعداد افراد کو گرفتار کرکے بابل لے گیا اور بیگار کیمپوں میں محبوس کر دیا۔ تآنکہ ایرانی بادشاہ سائرس نے ۵۳۶ ق م میں بابل فتح کر لیا اور بابلیوں کے مقبوضات اس کے قبضے میں آگئے۔ اس نے عبرانیوں کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی اور ۵۱۷ ق م میں یہ لوگ دوبارہ ہیکل تعمیر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ سکندر نے ایران پر غلبہ حاصل کیا تو فلسطین اور عبرانی سکندر کے محکوم ہو گئے اور اس کی موت کے بعد یہ چیزیں اس کے جرنیل پٹولمی کے حصہ میں آئیں۔
۷۰ق م میں ہیکل پر پھر تباہی نازل ہوئی۔ اس کی بنیادوں میں ہل چلا دیا گیا۔ ۳۱ق م کے بعد ہیروڈ نے اسے دوبارہ بنوا دیا۔ لیکن ۶۹ء ٹائیٹس نے فلسطین کو تہ و بالا کر کے ۲۹ اگست ۷۰ء کو یروشلم پر قبضہ کر کے آگ لگا دی۔ ہیکل کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ مقدس صحیفوں کو نکال کر فتح کی یادگار کے طور پر روم لے گیا اور یروشلم کے گرد غیر یہودی آبادیاں قائم کر دیں۔ قیصر ہادریان (۱۱۷ء تا ۱۳۸ء) نے ہیکل کی جگہ پر جوپیٹر کا مندر بنوا دیا اور پانچ لاکھ یہود کو قتل کروا دیا اور پورے سال میں صرف ایک دن انھیں یروشلم آنے کی اجازت ملتی جس روز ٹائٹس نے بیت المقدس کو مسمار کیا تھا تاکہ خدا کے پیاروں کے نا خلف آکر یہاں رولیں۔ اس شخص نے یروشلم کے کھنڈرات پر ایک نیا شہر تعمیرکر کے اس کا نام "ایلیا کاپی تولینا” رکھا۔ اس واقعہ کے بعد فلسطین میں عبرانیوں کا یا تو داخلہ ہی ممنوع رہا اور اگر آئے بھی ہیں تو قیام اسرائیل تک محکوموں کی حالت میں۔
آج یہ قوم فلسطین کے دعویداروں میں سرفہرست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی سر زمین ہمارا ورثہ ہے اور جس طرح ہر قوم کا ایک وطن ہوتا ہے، اسی طرح یہ علاقہ ہمارا وطن ہے جہاں سے ہمیں جبراً نکال دیاگیا تھا۔ لیکن جیساکہ اختصار کے ساتھ بتایا جا چکا ہے کہ یہ لوگ عہد قدیم میں بھی یہاں باہر سے آکر اور مقامی باشندوں کو دبا کر آباد ہوئے تھے اور جوں ہی ان کے مفادات متقاضی ہوتے یہ بے دریغ نئے علاقوں کی طرف چل دیتے رہے ہیں اس لیے ان کاموجودہ دعویٰ قطعاً بے بنیاد ہے۔ اس کی مزید تفصیل اگلے صفحات میں آپ ملاحظہ فرمائیںگے اب ذرا دوسرے دعویداروں سے تعارف حاصل کر لیں۔
یہود کی جلا وطنی کے بعد فلسطین رومی قیصروں کے زیرنگیں رہا۔ اس دور میں یہاں عیسائیت نے جڑیں پکڑیں۔ تآنکہ ۳۳۶ء میں رومی قیصر قسطنطین نے عیسائیت قبول کرلی جس نے اس مذہب کے فروغ کے لیے بھرپور مساعی کا آغاز کر دیا۔ اس نے ہیکل سلیمانی کی جگہ گرجا بنوا دیا۔ یروشلم میں کئی اور گرجے بھی بنوائے اور مسیح کی یادگاروں پر عمارات تعمیر کروائیں جن کی زیارت کے لیے ہزار ہا عیسائی یہاں آنے لگے جن کے لیے مسافر خانے تعمیر کروائے گئے۔ اس طرح یروشلم ایک عیسائی شہر اور فلسطین ایک عیسائی ملک کی صورت اختیار کر گیا۔ صلیب مقدس تلاش کی گئی۔ قسطنطین کی ماں سینٹ ہیلنا نے یروشلم کی زیارت کے سفر کو مقدس مذہبی رنگ دے دیا۔ بعد کے قیصروں نے بھی ایک عیسائی شہر بنانے میں بھرپور حصہ لیا اور ان کی زیر سرپرستی عیسائیوں کی جانب سے یہود یا عبرانیوں پر مظالم کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔ عیسائیوں کا خیال تھا کہ مسیح اور ان کے اولین پیرو کاروں پر عبرانیوں نے جو مظالم کیے تھے ان کا بدلہ لینے کا وقت آ چکا ہے۔ گریشین اور تھیوڈوسیس اعظم بڑے متعصب عیسائی بادشاہ تھے۔ انھوں نے غیر عیسائیوں کو سخت سزائیں دیں۔ ۳۹۱ء میں سکندریہ کا مشہور کتب خانہ جلا دیا (یہ وہی کتب خانہ ہے جس کے جلانے کا الزام مستشرقین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر لگاتے ہیں)۔ ظلم و تعصب کا یہ دور ۶۱۴ء تک جاری رہا۔ پھر خسرو شاہ ایران نے رومیوں سے ہتھیا لیا اور عیسائی مکافات عمل کی زد میں آ گئے۔ ہزار ہا عیسائی تہ تیغ کر دیئے گئے۔ کلیسا اور دوسرے چرچ تباہ کر دیئے گئے۔ ہیکل پہلے سے ہی برباد ہو چکا تھا۔ پھر ۶۲۸ء میں ہرقل نے خسرو کو شکست دے کر یروشلم پر دوبارہ عیسائی قبضہ بحال کیا اور یہود کے یہاں داخلے کی پھر سے ممانعت کر دی تآنکہ ۶۳۹ء میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے ایک غلام کو اونٹ پر بٹھائے بیت المقدس کی چابیاں حاصل کرنے کے لیے شہر مقدس تشریف لائے اور بطریق بیت المقدس بے اختیار پکار اٹھا کہ مصحف آسمانی کا لکھا پورا ہو گیا۔ "وہ اپنے غلام کے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے شہر میں داخل ہو گا۔” اس طرح شہر مقدس ایک اسلامی شہر کی حیثیت سے منظر عام پر آیا۔ گویا ۳۳۸ء سے ۶۴۱ء تک یہ شہر عیسائی حکومت کے زیرنگیں رہا اور تین صدیوں کا یہ قبضہ ان کے دعویٰ فلسطین کی ایک بنیاد بن گیا۔
عیسائیوں کا فلسطین پر دعویٰ ہر دور میں رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ان کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے ولادت ہے۔ وہ یہیں پروان چڑھے۔ یہیں انھیں نبوت ملی۔ ان کی تبلیغ کا میدان بھی یہی علاقہ ہے۔ یہیں انھیں پھانسی دی گئی۔ اور پھر آسمان پر جانے سے قبل وہ یہیں دفن ہوئے۔ ان کا قبلہ و کعبہ یہی علاقہ ہے۔ مزید برآں ابتدائی عیسائیوں میں عبرانی یہودیوں کی کثیر تعداد شامل تھی اس لیے اگر فلسطین عبرانیوں کی میراث ہے تو یہ اب عیسائیوں کی جانب منتقل ہو جانی چاہیے۔ اپنی یہ میراث حاصل کرنے کے لیے ان لوگوں نے ہر دور میں کوشش کی ہے۔ ہم ان کے دعویٰ پر بحث کرنے سے قبل اس ارض مقدس کے دعویداروں میں تیسرے فریق کا بھی اختصار کے ساتھ ذکر کر دینا چاہتے ہیں جو مسلمان ہیں۔
خطہ فلسطین مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے۔ یہاں فاتحانہ ورود سے پہلے ہی مسلمان اس جگہ سے قلبی وابستگی رکھتے تھے۔ واقعہ معراج میں یروشلم مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ فتح بیت المقدس کے بعد مسلمانوں نے اس کی عظمت و تقدیس کو چار چاند لگا دیئے۔ مکمل مذہبی آزادی عطا کی۔ باشندوں کے جان و مال و آبرو کی مکمل حفاظت کی۔ یہاں لا ثانی مذہبی عمارات تعمیر کرائیں۔ ولید بن عبد الملک اموی نے مسجد اقصیٰ بنوائی۔ سلیمان بن عبد الملک اموی نے رملہ نامی شہر بسا کر اسے فلسطین کا دار الحکومت بنایا۔ یہود نے اپنی صدیوں پرانی اکیڈمی آف طبریاس یروشلم میں منتقل کرلی۔ عبد الملک اموی نے عربی زبان کو سرکاری زبان قرار دے کر جب اس کی نشو و نما کے لیے اقدامات شرو ع کیے تو عبرانیوں کو بھی اپنی مردہ زبان کی نشاۃ ثانیہ کا خیال آیا جس کے نتیجہ میں عبرانی زبان پھر سے محفوظ ہو گئی۔ گویا اس ارض مقدس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ تینوں مذاہب کے لوگ مکمل امن و امان سے رہنے لگے تآنکہ عیسائیوں نے اپنے سابقہ اقتدار کے نشے میں گیارہویں صدی عیسوی میں اس علاقے میں مسلم اقتدار کو چیلنج کرکے مسلسل دو صدیوں تک کے لیے امن و امان کا سلسلہ درہم برہم کر دیا۔ یہ دور تاریخ میں صلیبی جنگوں کا دور کہلاتا ہے۔ ان جنگوں کے اسباب مذہبی کم اور سیاسی زیادہ تھے۔ مثلاً ایشیائے کوچک واپس لینے کی ایک کوشش میں رومی بادشاہ بذات خود گرفتار ہو گیا۔ اسے خطرہ پیدا ہوا کہ مسلمان اب اس کے پایہ تخت کو بھی روند ڈالیں گے۔ لہٰذا اس نے عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرکے مسلمانوں کے مقابل لا کھڑا کیا۔ کلیسائے روم کا پاپائے اعظم عالم عیسائیت میں تفوق و برتری کی سب سے بڑی علامت تھا لیکن کلیسا ئے یونان اس کا اقتدار تسلیم نہ کرتا تھا۔ جو ۱۰۵۴ء سے الگ حیثیت منوا چکا تھا۔ یروشلم پر قبضہ کی صورت میں دونوں کلیساؤں کے ایک ہو جانے اور پاپائے روم کے غلبہ کی امید تھی اس لیے اس نے مذہب کی آڑ لے کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی۔ یورپ کے عوام کی معاشی حالت ناگفتہ بہ تھی اور وہ شام و فلسطین کے مسلمانوں کی مال و دولت کے قصے سنا کرتے تھے۔ لوٹ مار کے شوق نے مذہب کا لبادہ اوڑھ لیا اور یہ سب عوامل اس ایک واقعہ سے کھل کر سامنے آگئے جب کہ فاطمی خلیفہ الحاکم نے عیسائیوں کی صلیب مقدس کے ساتھ ان کے بقول غیر شائستہ سلوک کیا تھا اور یہ خطہ دو صدیوں تک جنگ کی آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ تیرہویں صدی عیسوی میں یہ جنگیں ختم ہوئیں اور عیسائی اپنی پوری مشرقی سلطنت دے کر کمبل سے جان چھڑا سکے۔ دعویٰ فلسطین بھی بظاہر واپس لے لیا گیا۔ کیونکہ رچرڈ شیر دل نے یہ علاقہ اپنی بہن کے جہیز میں مسلمانوں کو دینے کی پیشکش بھی کر دی تھی۔ قسطنطنیہ میں عیسائی سلطنت راکھ کا ڈھیر بن گئی اور یہ عظیم شہر آج بھی مسلمانوں کا شہر ہے۔ یونان و بلقان جو کسی زمانے میں رومن صوبے تھے مسلمانوں کی کالونی بن گئے۔ اس سے آگے بڑھ کر مسلمانوں کو یورپ میںعمل دخل کاموقع مل گیا جس سے وہاں جہالت کا خاتمہ اور سیاسی بیداری کا آغاز ہوا۔ شاید یہی ایک فائدہ تھا جو دو صدیوں کی جنگوں سے عیسائیوں کو حاصل ہوا۔
صلیبی جنگوں کے بعد یہ علاقہ مسلمان حکمرانوں ہی کے زیرنگیں رہا۔ اس کی پاسبانی کے فرائض عثمانی ترک سر انجام دیتے رہے۔ ۱۵۱۷ء میں سلطان سلیم نے اس پر قبضہ کیا تویہود یہاں آکر آباد ہونے لگے۔ اس سے قبل اسپین ان کا محبوب علاقہ تھا۔ یورپی ممالک کے ستائے ہوئے یہودی وہاں جاکر پناہ لیتے تھے اور وہاں کے علمی ماحول میں پہنچ کر علم و فن کے خادم بن جاتے تھے۔ موسیٰ بن میمون، جس نے شریعت یہود کو از سر نو مرتب کیا تھا، ا سپین ہی کا رہنے والا یہودی تھا۔ پھر ا سپین سے مسلمانوں کے اخراج کے بعد یہود پر بھی وہاں کی فضا تنگ ہو گئی اور ان کا رخ فلسطین کی جانب ہو گیا۔ عثمانیوں نے انھیں مذہبی آزادی عطا کی۔ یہاں ان کی مذہبی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا جس کا مرکز سیفد نامی جگہ بنی جہاں اسپین سے بھاگ کر آیا ہوا ایک یہودی عالم جیکب براپ آباد ہو گیا تھا۔ عثمانی سلطان نے ایسے پناہ گزینوں کو آباد کاری کے لیے طبریہ کے گرد زمین عطا کی۔ عیسائیوں سے ان کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ ان کے بھگوڑوں کو عیسائی جہازوں میں سفر کرنے کی اجازت بھی نہ دی۔ ترکوں کے ہمدردانہ رویہ کے باعث یروشلم اور فلسطین میں ان کی تعداد میں اضافہ شروع ہوا۔ مشہور سیاح گبروندی کے مطابق ۱۲۶۷ء میں یروشلم میں صرف دو یہودی خاندان آباد تھے۔ ۱۴۸۸ء میں پورے فلسطین میں ان کے خاندانوں کی تعداد ۷۰ تھی جو ۱۴۹۵ء میں بڑھ کر ۲۰۰ ہو گئی۔ ترکوں کی رواداری کے باعث یہ تعداد بڑھتی گئی تآنکہ انیسویں صدی کے آغاز میں فلسطین میں یہود کی آبادی آٹھ ہزار ہوگئی۔ ترک مسلمانوں کے حسن سلوک کا بدلہ اس احسان فراموش قوم نے یہ دیا کہ فلسطین میں وطن الیہود کے قیام کی کوششیں شروع کر دی۔ ۱۸۹۷ء میں لارڈ ہرزل نے صیہونی تحریک شروع کر کے سلطان عبد الحمید سے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ سلطان کے انکار پر اس نے قیصر ولیم آف جرمنی سے اس شرط پر سفارش کروائی کہ یہودی سلطان کے تمام قرضے چکائیں گے اور ترکی میں فیکٹریاں لگائیں گے لیکن سلطان نے کورا جواب دے دیا۔ اس پر ان لوگوں نے زیر زمین سازشوں کاسلسلہ شروع کر دیا۔ ۱۹۰۸ء میں سلطان معزول کر دیا گیا۔ عرب و عثمانی کی تفریق کر کے دونوں کو ایک دوسرے سے لڑانا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں ۹ دسمبر ۱۹۱۷ء کو جنرل ایلن بی نے فلسطین فتح کر لیا اور اس طویل مسلم دور کا خاتمہ ہو گیا جو سیدنا عمر فاروقt کی فتح بیت المقدس سے شرو ع ہوا تھا۔ بعد ازاں اس علاقے کو دو حصوں میں بانٹ کر اُردن اور اسرائیل کی حکومتیں قائم کر دی گئیں۔ لیکن مسلمانوں نے اس تقسیم کو قبول کرنے سے انکا رکر دیانتیجۃً کئی جنگیں ہو چکی ہیں اور تا حال اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا۔
بہر حال یہ ہیں فلسطین کے تیسرے دعویدار۔ آئندہ نشست میں ہم یہ دیکھیں گے کہ کس کا دعویٰ مبنی بر حقائق ہے اور کون محض دھونس اور دھاندلی سے کام لے رہا ہے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.