ختم نبوت اسلام کا اساسی عقیدہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : مولانا عبد المعید مدنی، نئی دہلی، بھارت

مولانا عبد المعید مدنی ہندوستان کے نامور عالم و دانشور ہیں۔ انھوں نے "الواقعۃ” کی اشاعت خاص برائے "ختم نبوت” کے لیے ہماری استدعا پر ذیل کا مضمون تحریر فرمایا تھا مگر افسوس یہ مضمون بر وقت نہ پہنچ سکا۔ جس کی وجہ سے اشاعت خاص میں شامل نہ کیا جا سکا۔ اب مولانا کے شکریے کے ساتھ اسے "الواقعۃ” کے صفحات کی زینت بنایا جا رہا ہے۔ (ادارہ)۔

ختم نبوت کا اعلان
رسول پاک ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہی۔ سلسلہ نبوت کی آپ پر انتہا ہو چکی ہے۔ اس اساسی عقیدے کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے کلام پاک میں موجود ہے اور رسول کریم ﷺ کے ارشادات میں بھی موجودہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:-
مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْ مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَ کَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَاً – الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَ یَخْشَوْنَہٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا – مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْماً (الاحزاب:۳۸۔۴۰)
"نبی کے لیے اس کام میں کوئی الجھن نہیں جس کو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا۔ یہی دستور الٰہی ان لوگوں کے لیے بھی رہا جو ان سے پہلے رہ گذرے ہیں۔ اور اللہ کا حکم تو تھا ہی پوری طرح طے شدہ۔ اولین انبیاء اللہ کا پیغام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے رہے اور وہ اللہ کے سوا کسی سے ڈرتے نہ تھے۔ اوراللہ ہی حساب لینے کے لیے کافی ہے۔ محمد تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں وہ تواللہ کے رسول، اور نبیوں کے مہر ہیں اور اللہ ہر شے سے پوری طرح واقف ہے۔ ”
آیت ۴۰ ختمیت رسالت و نبوت کا ڈیکلیریشن ہے ربانی قانون ہے الہ واحد نے رسول پاک محمد ﷺ کی رسالت کی فائنلٹی پر اس آیت کے ذریعہ مہر لگا دی ہے۔ ختمیت رسالت کا مطلب ہے، ہدایت الٰہی اور شریعت ربانی کا سلسلہ رسول پاک ﷺ پر ختم ہے۔ اب نہ کسی دیگر نبی کی آمد کی ضرورت ہے نہ کسی دیگر شریعت و ہدایت کی آمد کی ضرورت ہے۔
آیات ثلاثہ ۳۸ تا ۴۰ کا بغور مطالعہ کریں ایک رسم تھی تبنی کی۔ بیٹا بنانے کی۔ اس کے مطابق متبنی کو حقیقی بیٹے کا درجہ مل جاتاتھا۔ وراثت رشتوں کی حرمت و حلت اور سلسلہ نسب میں وہ حقیقی بیٹے کے حقوق اثر نگیزی اور نسبت رکھتا تھا۔ تبنی کو تو اسلام نے برقرار رکھا۔ لے پالک کے مسئلے کو مباح قرار دیا لیکن مذکورہ تین امورمیں اسے حقیقی بیٹے کا درجہ نہیں دیا۔ اس نا معقول رسم کو اللہ تعالیٰ نے باطل قرار دیا۔ رسول پاک کے اصحاب کو یا پورے معاشرے کو جو اس دستور کو ڈھو رہاتھا اللہ تعالیٰ نے خطاب کیا اور انسانی دستور کو چھوڑ کر دستور الٰہی اپنانے کا حکم دیا۔ صلبی بیٹے کے طے شدہ حقوق جو متبنی کو ناروا طورپر مل رہے تھے اس کو ان سے بازرکھا۔ اس دستور دنیا کی تردیدمیں اسی آیت سے تنصیص ہو گئی۔ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ
امام بغوی نے اس کی تشریح کی۔ لیس ابا احد من رجالکم الذین لم یلدھم فیحرم علیہ نکاح زوجتہ بعد فراقہ ایاھا (تفسیر البغوی ۶۲/۳۵۸) "محمد ﷺ تم میں سے ان مردو ں میں کسی کے باپ نہیں ہیں جن کو ان سے ولدیت کا انتساب نہیں ہے کہ ان پر ان لوگوں کی منکوحہ بیوی سے ان کے طلاق کے بعد ان کے لیے نکاح کرنا حرام ہو۔”
حضرت زید کو رسول پاک ﷺ نے عہدۂ نبوت سونپے جانے سے پہلے بیٹا بنا لیا تھا۔ انھوں نے اپنے والدین کنبہ قبیلہ اور گھرانے کو چھوڑ کر رسول پاک ﷺکی رفاقت کو ترجیح دی تھی۔ انھوں نے حقیقی بیٹے کا سا ثبوت دیا تھا لیکن اللہ کو منظور تھا کہ رسم دنیا کے بجائے شریعت اسلامیہ کا انسانوں کی زندگی میں تنفیذ ہو، اس لیے متنبی کو صلبی بیٹا کا درجہ دینے سے روک دیا گیا اور اس کی عملی شکل یہ قرار پائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زید  کی مطلقہ حضرت زینب کو رسول پاک ﷺ کے حبالہ عقد میں دیدیا۔
اس وقت کا زندہ یا مردہ جاہلی سماج اس امر معمول بہ کی مخالفت برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ کار رسالت کی ادائیگی میں رکاوٹ اور منصب نبوت کی عظمت پر دھبہ لگنے کا شدید امکان تھا۔ نبوت کے حساس منصب کے لیے یہ مسئلہ سوا تھا مگر رب کریم کا حکم تھا اور سامان تسلی بھی کہ نبی اللہ کے تفویض کردہ کام کو انجام دینے میں کسی طرح کی الجھن اورخلش محسوس نہیں کرتے۔ انبیاء کے لیے یہی طے شدہ طریقہ تھا اور اللہ کے فرامین امر محکم ہوتے ہیں ان میں کسی چوں چرا کی گنجائش نہیں ہوتی۔ وہ مفوضہ کام کی انجام دہی میں صرف اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کے سامنے جو اب دہی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ان ارشادات کی اساس پر اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ یا عام سماج کو خطاب کیا کہ رسول رسم دنیا نبھانے نہیں آئے ہیں۔ وہ رسم دنیا کے مطابق کسی کے لیے ابوت اور ابنیت کی نسبتیں طے کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ اس رسم دنیا کی ناروا تنفیذ اورتحقق کے انکار و ابطال کے بعد، اللہ تعالیٰ نے رسول پاک ﷺ کے عظیم منصب رسالت اور آپ کی نبوت کی ختمیت کا اعلان کیا۔ قابل غور ہے اور توجہ کا طالب کہ انسان کے وضع کردہ قانون کے رد و ابطال پر ختمیت نبوت کا اعلان ہوا۔ یعنی سارا نظام عالم قیامت تک نبوت محمدی کے مطابق چلے یہی اللہ کا حکم ہے۔ نبوت محمدی کے مطابق اگرنظام عالم نہیں چلتا تو انسان مجرم ہے اللہ کے حکم کا باغی ہے۔ رسول پاک ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اس کے مصالح اور اسرار کا حل اور علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
سلسلہ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے چلا اور رسول پاک ﷺ پر ختم ہو گیا۔ نبوت و رسالت کا مسئلہ انسانی اختیارات اور ادراکات سے ماوراء ہے۔ اس کا سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جس طرح وہ معبود برحق ہے تنہا عبادت کا مستحق، رب کائنات ہے تنہا رب کائنات جس طرح وہ الرحمن الرحیم اورمالک یوم الدین ہے۔ اسی طرح وہ اکیلا الہادی بھی ہے۔ نبوت ہدایت اور نجات کا واحد ذریعہ ہے اور صرف اللہ الہادی ہے انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہدایت ہے۔ اگر اللہ کی ہدایت انسان کو نہ ملے تو اس کی دنیا و آخرت تباہ ہو جائے گی۔ اسی لیے (اھدنا الصراط المستقیم) کی دعا ہر رکعت اورہر صلاۃ میں کی جاتی ہے۔

ختم رسالت کا مطلب
آیت رسول گرامی ﷺ کی ختمیت نبوت اور خاتم النبیین ہونے پر سورج سے زیادہ روشن دلیل ہے بدیہی حقیقت کی طرح واضح ہے (خاتم) مہر کا مطلب واضح ہے۔ مہر وثیقہ اور دستاویز کو بند کرنے کے بعد لگایا جاتاہے تاکہ وثیقہ یا دستاویز کے ساتھ ملاوٹ نہ ہو اس کے ساتھ جعل سازی نہ ہو سکے یا تحریر کے آخر میں مہر لگائی جاتی ہے کہ نص دستاویز یا وثیقہ میں کسی بھی زیر و زیر کی تحریف یا حک و اضافہ نہ ہو سکے۔
خاتم النبیین کا مطلب یہی ہے کہ رب پاک نے منصب نبوت کا سلسلہ بند کرکے اس پر مہر لگا دی ہے کہ اب اس سلسلہ کے اندر اضافہ یا بیش و کم کی گنجائش نہیں ہے۔ یا یہ کہ رسول پاک ﷺ کی آمد اس سلسلے کا اختتام ہے۔ لفظ خاتم کی تشریح میں کسی طرح کی گنجائش ہے ہی نہیں کوئی سچ نکالاجائے اور کہا جائے کہ رسول پاک ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بے شرمی اور ڈھٹائی اپنا سر نکالے کذب اور دجالیت کو مہمیز ہو۔
امام بغوی (م۵۱۶) فرماتے ہیں: ختم اللہ بہ النبوۃ وقرأ عاصم خاتم بفتح الفاء علی الاسم ای آخرہم وقرأ الآخرون بکسر التاء علی الفاعل؟ لانہ ختم بہ النبیین فھو خاتمھم (تفسیر البغوی ۶/۳۵۸)
"اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبوت ختم کر دی۔ عاصم نے خاتم کو بر بنائے اسم ت پر فتحہ پڑھا ہے یعنی آخری نبی۔ دیگر لوگوں کی قرأت تاء کے کسرہ کے ساتھ ہے بر بنائے فاعل ختم جس کا مطلب ہوا آپ پر انبیاء کی آمد ختم ہو گئی اور آپ ان کے خاتم یعنی سلسلہ نبوت کی انتہا کرنے والے ہیں۔”
آیت کی تشریح میں امام ابن جریر طبری (م۳۱۰ھ) فرماتے ہیں:
یقول تعالی ذکرہ : ماکان ایھا الناس محمدا بازید بن حارثہ ، ولا ابا احد من رجالکم الذین لم یلدہ محمد فیحرم علیہ نکاح زوجتہ بعد فراقہ ایاھا ولکنہ رسول اللہ وخاتم النبیین، الذی ختم البنوۃ فطبع علیہا، فلا تفتح لاحد بعدہ الی قیام الساعۃ وکان اللہ بکل شئی من اعمالم ومقالکم وغیر ذلک،ذا علم لا یخفی علیہ شئی (تفسیر الطبری ۱۹/۱۲۱)
"اللہ جس کا ذکربلند ہو فرماتاہے اے لوگوں محمد نہ زید بن حارثہ کے باپ ہیں نہ تم سے مردوں میں کسی کے باپ جن کی نسبت ولدیت محمدﷺسے نہیں ہے کہ ان پر اس کی بیوی سے طلاق کے بعد ان کے لیے نکاح کرنا حرام ہو۔ اس کے برعکس وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں جن کے ذریعہ نبوت کا اختتام ہوگیا اور ان سے نبوت پر مہر لگ گئی۔ اب قیامت تک ان کے بعد کسی کے لیے نبوت کا دروازہ نہ کھلے گا اور اللہ کو تمہارے کردار گفتار اور دیگر امور کا بخوبی علم ہے۔ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔”

ختم نبوت حسین محل
اس آیت یا ختم نبوت کی تشریح سے متعلق رسول پاک ﷺ کے چند ارشادات لائق ملاحظہ ہیں۔ ابی بن کعب  سے روایت ہے وہ رسول پاک کا ارشاد نقل کرتے ہیں آ پ نے فرمایا :-
مثلی فی النبیین کمثل رجل نبی دارا فاحسنھا واکملھا وترک فیھا موضع لبنۃ لم یضعھا فجعل الناس یطوفون بالبنیان و یعجبون منہ، ویقولون لو تم موضع ھذہ اللبنۃ فانا فی النبیین موضع تلک اللبنۃ (مسند احمد ح ۲۱۲۴۳، ۲۱۲۴۴، ترمذی، مناقب ح ۳۶۱۳)
"نبیوں کے درمیان میری مثال ایسے ہے جیسے ایک آدمی کی مثال جس نے ایک گھر بنایا حسین اور کامل گھر اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی وہاں اینٹ نہیں رکھی، لوگ آتے اسے چاروں طرف سے دیکھتے اور اس کے حسن و کمال پر عش عش کرتے اور کہتے کاش اس اینٹ کی جگہ بھی مکمل ہو جاتی۔ آگاہ رہو میں ہی نبیوں کے درمیان اس اینٹ کی جگہ ہوں۔”
نبوت کا حسین اور کامل محل رسول پاک ﷺ کی آمد سے کامل ترین ہو گیا اور ایک جگہ جو اس میں باقی تھی وہ پر ہوگئی۔ حدیث کی معنویت قابل توجہ ہے نبوت ایک معنوی شے ہے اور اس کی آمد بھی ایک معنوی شے ہے نبوت کو محل قرار دیا گیا اور اس کے تسلسل کو تعمیر محل بتایا گیا اس کا حسن و کمال مثالی اور نشاط انگیز قرار پایا۔ اس محل میں ایک کمی تھی کہ ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ آخری نبی کی جگہ۔ یہ خالی جگہ پر ہو گئی۔ نبوت کے اس محل کی آخری اینٹ رسول پاک ﷺ کی نبوت تھی آپ کی آمد سے نبوت کا محل مکمل ہو گیا اور نبوت کی آخری اینٹ نے اس کو کامل کر دیا۔
معنوی شے کو حسی بنانے اور استعارہ و تشبیہ کے لباس فاخرہ میں اسے پیش کرنے کا مطلب کیا ہے یہی کہ نبوت کے حسن و کمال، نبو ت کی انتہا اور خاتم الرسول کی ختمیت نبوت کو کم فہم شخص بھی جان لے اور اسے اس پر تاویل کا پھاوڑا چلانے کی گنجائش نہ رہے۔
حدیث میں رسول پاک ﷺ نے ختم نبوت کی جو تفہیم کی ہے اس سے نبوت، سلسلہ نبوت، انبیاء کی آمد، رسول پاک ﷺ کے خاتم الرسل ہونے کی حیثیت بہت خوبصورت انداز میں واضح ہو گئی ہے۔ انسانی لسانیات اس سے بہتر انداز میں کسی شے کی وضاحت نہیں کرسکتیں۔ اس میں نبوت کے محل کے حسن و کمال کے متعلق انسانی اعترافات کا بھی ذکر ہے اور اصالۃ اس کی زبردست تردید بھی ہے کہ خاتم النبیین رسول پاک ﷺ کے بجائے کوئی دوسرا ہو، ساتھ ہی اس کی بھی تردید ہے کہ رسول عربی کے بعد کوئی دوسرا نبی آئے گا یا سلسلہ نبوت جا ری رہے گی۔ اس طرح اس حقیقت کو بھی آشکارا کیا گیا ہے کہ نبوت کے کامل اور حسین محل کو دیکھ کر اور اس کا جائزہ لے کر لوگوں نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور اس کے اندر آخری ایک کمی کو پورا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ نبوت، حسن نبوت، کمال نبوت، ختم نبوت کی ضرورت اور اس کی فائنلٹی کا انسانوں کا فطری اعتراف ہے۔
اس پورے اظہار و اعتراف کے فطری و احتیاجی عمل میں کہاں گنجائش ہے کسی مکر و فریب ادعا اور کذب کے لیے کہ اس الٰہی عمل کے بر خلاف ان کا عملی و لسانی اظہار ہو۔
اس حدیث کی مانند حضرت جابررضی اللہ عنہ کی روایت بھی ہے :-
قال : قال رسول اللہ ﷺ مثلی ومثل الأنبیاء کمثل رجل بنی دارا فاکملھا واحسنھا الا موضع لبنۃ فکان من دخلھا فنظر الیھا قال ما احسنھا الا موضع ھذہ اللبنۃ فانا موضع ھذا اللبنۃ ختم بی الانبیاء علیھم السلام (بخاری، مناقب، باب خاتم النبیین حدیث ۳۵۳۴) مسلم فضائل حدیث (۲۲۸۷) ترمذی الامثال، باب ماجاء فی مثل النبی ﷺ والانبیاء قبلہ حدیث ۲۸۶۲ ومثلہ عن ابی ہریرۃ مسند احمد حدیث مسلم فضائل ۲۲۸۶ (۲۱)
یہ حدیث بھی حضرت ابی بن کعب کی حدیث کی مانند ہے البتہ اس میں اتنے الفاظ کا اضافہ ہے (ختم بی الانبیاء علیہم السلام) مجھ پر انبیاء کا اختتام ہو گیا ہے۔ اس اضافہ سے (فانا موضوع ہذہ اللبنۃ) کی تشریح مزید ہوگئی ہے۔
اس طرح کی حدیث حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے۔ فجئت انا فاتممت تلک البنۃ (مسلم ۲۲۸۶) میں آیا اور میں نے آکر اس اینٹ کا اتمام کر دیا۔

ختم نبوت کا منصب
حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے:-
قال قال رسول اللہ ﷺ انی عند اللہ خاتم النبیین، وان آدم علیہ السلام لمجندل فی طینۃ (مسند احمد حدیث: ۱۷۱۵ ارناؤط (۱۷۰۸۵) لشاکر۔ ارناؤط نے اس حدیث کو صحیح لغیرہ کے درجے میں رکھاہے۔اور علامہ احمد شاکر نے اس کے متعلق فرمایاہے۔(اسنادہ صحیح )
رسول پاک ﷺنے فرمایا میں بارگاہ الٰہی میں اس وقت خاتم النبیین تھا جب کہ آدم ابھی مادہ خاکی ہی میں پڑے تھے۔
حدیث پاک گویا ہے کہ رسول عربی ﷺکی ختمیت نبوت کا فیصلہ تخلیق بشر سے پہلے ہو چکا تھا۔ آپ کا خاتم النبیین ہونا اتنا عظیم امر ہے کہ پوری تاریخ بشریت پر پھیلا ہوا ہے بلکہ تاریخ بشریت سے پہلے ہی اس کے وجود کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ اور رسول پاکﷺ کا یہ منصب انبیاء کومعلوم تھا اوران تمام مخلوقات کومعلوم تھا جن کو معلوم ہونا اللہ کی مشیت تھی۔

ختم نبوت کے تقاضے
حضرت ابوہریرہ  سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-
فضلت علی الأنبیاء بست اعطیت جوامع الکلم، ونصرت بالرعب، واحلت لی الغنائم، وجعلت لی الأرض طھورا ومسجدا وأرسلت الی الخلق کافۃ، وختم بی النبیون۔ (مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ حدیث ۵۲۳ مسنداحمد ۔ترمذی فی السیر باب ماجاء فی الغنیمۃ حدیث (۱۵۵۳) ابن ماجۃ فی الطہارۃ وسننہا، باب ماجاء فی السبب (۵۶۷)
"مجھے انبیاء پر چھ امور کے ذریعے فضیلت بخشی گئی ہے۔ مجھے جوامع الکلم بخشا گیا ہے۔ اور میری مدد دبدبے کے ذریعے کی گئی ہے۔ غنیمتیں میرے لیے حلال کی گئی ہیں۔ زمین میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنائی گئی ہے، مجھے ساری مخلوق کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہے اور میرے ذریعے نبیوں کی آمد کا اختتام ہوگیا۔”
یہ عظیم ترین حدیث ہے۔ ساری دنیا کے خیر کامیابی اور عظمت کے خزانے اس میں بھر دیئے گئے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ رسول پاک ﷺ کو دیگر سارے انبیاء پر چھ امور کی بناء پر فضیلت بخشی گئی ہے۔ ان میں پانچ چیزیں ختم نبوت کا تقاضا بن سکتی ہیں یا پانچوں امور کے لیے ختم نبوت ضرورت اور تقاضا ہے۔ ختم نبوت کی پانچوں دیگر امور لازم اور ملزوم ہیں۔ چھ خصائص نبوی میں پانچ کو ختم نبوت اور صفت اور تقاضا ماننا چاہیے کیوںکہ انھیں ختم نبوت اور تقاضا اور وصف ماننے سے ختم نبوت کی معنویت اثر آفرینی اور کار فرمائی طے ہوتی ہے۔
جس طرح ختم نبوت میں عمومیت اور اطلاق ہے۔ یعنی اب رسول پاکﷺ کی نبوت و رسالت رہتی دنیاتک تمام انسانوں کے لیے ہے۔ کسی دورمیں کسی علاقے میں کسی فرد کے لیے اس کو مانے بغیر چارہ نہیں ہے۔ تنہا نبوت محمدی ہی سے ہدایت مل سکتی ہے۔ اب کسی دیگر نبی کے آنے کا امکان نہیں۔ اسی طرح نبوت محمدی کے خصائص بھی ہمہ گیر ہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ رسول پاک ﷺکو جوامع الکلم بھی ملیں ان کی معنویت گہرائی اورہمہ گیری ختم نبوت کے عین مطابق ہے۔ جوامع الکلم کیا ہیں ؟ یہی نہ کہ چند جملوں میں حقائق غیب و مشہود کھل کر موثر انداز میں سامنے آ جائیں اور لوگ دینی، دنیوی اور اخروی سچائیوں کا پوری طرح ادراک کرلیں۔
ختم نبوت کا تقاضا ہے اور وصف بھی کہ رسول عربی ﷺ کا دبدبہ دور دورتک قائم رہے۔ اگر رسول پاک ﷺکی نبوت علاقائی ہوتی، وقتی ہوتی اور خاص لوگوں کے ہوتی تو دور دور تک دبدبہ رسول کے قائم ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ ختم نبوت کے ساتھ ہمہ گیری تاثیر زور اور دبدبہ لابدی امر تھا۔ جس عظیم ہستی کا عہدہ نبوت زمان و مکان کی سرحدوں کے اندر محدود نہ تھا ضروری تھا کہ اس کی پہنچ اور زور و دبدبہ بھی زمانی مکانی سرحدوں کو پار کر جائے۔ یہ ایک دینی اور تاریخی حقیقت ہے جس کی عملی تشریح ہو چکی ہے اور اتباع نبی جب کامل طورپر رسول کی راہ پر چلیںگے تو رسول عربی ﷺکا یہ امتیازی دبدبہ کسی بھی دورمیں اور کسی بھی جگہ رونما ہوگا اور ساڑھے چودہ صدیوں میں بارہا یہ امتیازی دبدبہ رونما ہوچکا ہے۔
خاتم النبیین کے لیے غنائم کو حلال کر دیا گیا ہے۔ خاتم النبیین کے لیے انھیں کیوں حلال کیا گیا ؟ اگلے انبیاء کے لیے غنائم حلال نہیں تھے بلکہ ان کاجل جانا جہاد و قتال کی قبولیت کا اعلان الٰہی مانا جاتا تھا۔ رسول گرامی ﷺ کی نبوت کی خاتمیت، اس کی ہمہ گیری اثر آفرینی اور کار فرمائی ہے کہ ایک طرف امت ختم الرسل کی اعتقادی و عملی حالت دیگر امتیوں کے مقابلے بہت زیادہ بہتر بلکہ امتیازی بنی اور ختم الرسل کی امت کا مشن بھی قیامت تک کے لیے طے ہوا پھر ختم الرسل ﷺ کا وقفہ نبوت طویل ہے اور حالات دنیا پہلی امتوں کے وقفوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متعدد الجہات کثیر الجوانب ہیں، عدد آبادی اسباب حیات کی شماریات بے پناہ ہے ایسی صورت حال میں غنائم کی کثرت کا ثمرہ اور ان کی افادیت طے ہے پھر مخلص مجاہدین کا ان سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔ اس لیے ان کو حلال کر دیا گیا تاکہ ان کی افادیت ممکنہ سے محرومی نہ ہو اور ختمیت نبوت کے مشن میں ان کا بھرپور تعاون برقرار ہے۔
ختم الرسل کی ختمیت کا تقاضا تھا کہ اس کو ہر مفید و ممکن آسانی ملے اور اس کی راہ زندگی سے کلفتوں، الجھنوں اورپریشانیوں کو دورکر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے عطا ہائے الٰہی میں یہ بھی شامل ہے کہ اس نے ختم نبوت کے ساتھ آسانیوں کو جوڑ دیا ہے۔ بڑھتی امت کی آبادی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے یہ سہولت امت محمدیہ کو دی۔ نیز عبادت معبود کو مرکزی عمل بنا دیا اور رسول پاک ﷺ کی عموم نبوت کے ساتھ معبود کی عبادت کو عموم ملا۔ جہاں بھی بندہ فرد یا جماعت چاہے تو معبود کے سامنے سر جھکا دے۔ عبادت کا یہ عموم اور عبادت کے لیے طہارت و تطہیر کا عموم ختمیت رسالت اور رسول پاک ﷺ کی نبوت کے عموم سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
ساری زمین سجدہ گاہ، اور پاک مٹی طاہر اور مطہر۔ کتنی بڑی سہولت۔ دیگر مذاہب کی عبادات کے شروط و قیود کو دیکھئے اور ختم الرسل کی اس خصوصیت کو دیکھئے۔ رسول پاک ﷺکی اطلاقی رسالت عمومی نبوت، اور ختمیت نبوت کے ہم آہنگ ٹھہرا کہ وہ طاہر ہو کہ کسی جگہ بھی سجدہ کیا جا سکے اور مطہر ہو کہ عبادت کے لیے اس کے ذریعہ طہارت حاصل ہو ختم الرسل کی رسالت کی معنویت ملاحظہ ہو۔ گھر، بازار، فیکٹری، اسکول گراؤنڈ، پارلیمنٹ، باغ، شاہراہ، ندی اور سمندر کے کنارے کہیں بھی ایک مسلمان سجدہ ریز ہو سکتا ہے، نظر بظاہر اگر نجاست نہ ہو۔ قیامت تک جہاں بھی پانی کا بحران ہو یا انسان مریض ہو تو طہارت کے لیے مٹی موجود ہے۔ ختمیت نبوت کا اور بارگاہ الٰہی میں انسانی سروں کو جھکانے کا یہ تقاضا تھا کہ یہ سہولتیں اور آسانی انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے۔ قابل غور ہے اگر یہ سہولتیں اللہ کی طرف سے ختم الرسل کے ذریعہ نہ ملی ہوتیں تو تعبدی شعور اور تعبدی عمل کی سرگرمی کے امکانات اسی طرح سمٹ کر رہ جاتے جس طرح پہلے مذاہب کے اندر سمٹ کر رہ گئے تھے اور انسانیت مرجھا کر رہ جاتی۔ عبادت کی ساری سرگرمیاں رسم دنیا بن کر رہ جاتیںزندگی کا بہت معمولی گوشہ اس کے لیے واگذار ہو پاتا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا جو ہمہ گیر عقیدہ اور عمل نبوت محمدی نے دیا ہے اس سے انسان کا لمحہ لمحہ سرفراز اور سرشار ہے۔ اگرساری زمین سجدہ گاہ اور مٹی طاہر و مطہر نہ ہوتی تعبدی عملی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ جاتیں۔ نبوت محمدی نے نوع بہ نوع عبادات کی تعلیمات صلاۃ، صیام، حج، ذکر دعا، توکل، انابت، رغبت و رہبت شکر، اخلاص، تسبیح، تحمید، تلاوت کے ذریعہ انسان کے اندرون بیرون ظاہر باطن نہاں خانوں اور عیاں زاویوں کو عبادت کے نورِ تواضع خشیت خشوع و خضوع سے تابناک اور روشن بنا دیا ہے۔ عبادت معبود کی عمومیت کو بسا اوقات قدغن لگ جاتی اگر زمین سجدہ گاہ اور مٹی پاک نہ ہو۔ دیکھئے ذرا دیگر مذاہب کی خانہ ساز عبادتوں کو، کس طرح محدودیت اور پابندیوں کا شکار ہیں اور ان پابندیوں کے باوجود طہارت ظاہرہ تک کا کوئی تصور نہیں۔ نہ جگہ کی طہارت کا تصور، جسم کی طہارت کا تصور، نہ کپڑوں کی طہارت کا تصور، نہ خیالات کی طہارت کا تصور، نہ اسباب طہارت کا پتہ یہ ساری تفصیلات ختم الرسل کی ختمیت نبوت کے ساتھ سوٹ کرتی تھیں اس لیے رب پاک نے ان کو رسول پاک ﷺ کے ساتھ خاص رکھا اور انھیں عنایت کی گئیں۔
ختم نبوت کے ساتھ کلی ہم آہنگی تھی عموم رسالت کی۔ اس لیے نبو ت محمدی کی ایک خاصیت یہ بھی ٹھہری کہ (ارسلت الی الخلق کافۃ) اس جملے میں ارسال، مرسل، خلق اور کافۃ کا ذکرہے۔ ارسال رسل کی انتہا ہو گئی جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور خاتم المرسلین پر اس کی انتہا ہو گئی۔ مرسل رب کریم ہادیٔ خلق اللہ تعالیٰ ہے۔ آیت میں مرسل رسول پاک محمد ﷺ ہیں۔ خلق میں مکلف انسان اور جن آتے ہیں، کافۃ سے طے ہوتاہے۔ بعثت نبوی سے لے کر انتہائے دنیا تک ہر فرد بشر و جن کے لیے آپ نبی و رسول ہیں اور جو آپ کو آخری نبی نہ مانے وہ نجات نہیںپا سکتا ہے۔ دنیا میں مجرم اور آخرت میں ابدی جہنمی۔
خلق و کافۃ میں اگر تکلیف شرعی کے علاوہ افضیلت خلق الٰہی کو شامل مانیں تومطلب ہو گا کہ تمام خلق الٰہی میں آپ کو افضلیت حاصل ہے جن و بشر آپ کی لائی ہوئی شریعت کو مانیں، آپ کو نبی آخر الزماں تسلیم کرلیں اور افضل الخلق مانیں اور دیگر مخلوق آپ کی افضلیت کو تکوینی طورپر مانتی اور جانتی ہے۔ اللہ کاعطا کردہ یہ منصب آپ کے لیے ہے۔ اس کا سب کو پتہ ہے اورسب کے نزدیک کلی طورپر مسلم ہے۔
مکلف جن و بشر جو رسول مصطفی ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہ کریں۔ نہ آپ کی نبوت کو مانیں وہ دنیا میں مجرمانہ زندگی گذارتے ہیں اللہ کے باغی ہیں۔ عذاب الٰہی ان کے لیے طے ہے۔ یہی مطلب ہے رسالت کی عمومیت کا۔
(ختم بی النبیون) انبیاء کی آمد کا سلسلہ رسول کریم ﷺ پر ختم ہو گیا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اب دنیا میں تمام جن و بشر کو صرف نبی کریم ﷺکی لائی ہوئی شریعت کے مطابق زندگی گذارنی ہے۔ اس کے سوا دنیا میں کوئی دوسرا قانون اور ضابطہ یا عقیدہ و عمل نہیں چل سکتا۔ شریعت اسلامیہ کے بر خلاف دیگر سارے اصول ضابطے عقیدہ و عمل قانون اور نظام سب غیر مقبول غلط اور نا جائز ہیں۔ دنیا کے سارے نظام حیات اور عقیدہ و اعمال اللہ سے بغاوت مانے جائیں گے۔
اسی معنی میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے فرماتے ہیں:-
خرج علینا رسول اللہ ﷺ یوما کالمودع فقال: أنا محمد النبی الأمی ثلاثا ولا نبی بعدی۔ اوتیت فواتح الکلم وجوامعہ وخواتمہ وعلمت کم خزنۃ النار، وحملۃ العرش، وتجوزبی وعوفیت وعوفیت أمتی فاسمعوا وأطیعوا ما دمت فیکم فاذا ذھب بی فعلیکم بکتاب اللہ أحلوا حلالہ وحرموا حرامہ (مسند احمد الحدیث (۶۶۰۶) اسنادہ حسن: بالاسناد قبلہ وسیاتی الحدیث (۶۶۰۷) باسناد آخر صحیح عقب ھذا (شاکر)
"ایک دن رسول اللہ ﷺ ہم سب کے درمیان تشریف لائے ایسے جیسے وداعی لینے آئے ہوں پھر تین بار فرمایا میں نبی امی محمد ہوں مجھے کلمات کے فواتح جوامع اور خواتم عطا ہوئے ہیں۔ مجھے معلوم ہے جہنم کے نگہبان کتنے ہیں۔ عرش کے حاملین کتنے ہیں۔ مجھے معراج سے سرفراز کیا گیا، مجھ کو تحفظ عطا گیا اور میری امت کو بھی تحفظ ملا۔ جب تک میں تمہارے درمیان ہوں میری سنو اور میری مانو جب مجھے اٹھا لیا جائے گا تو تم کتاب اللہ سے وابستگی اختیار کیے رہنا۔ اس کے حلال کو حلال رکھنا اوراس کے حرام کو حرام رکھنا۔
اس حدیث کا پہلا ٹکڑا ہے۔ (انا محمد النبی الأمی ثلاثا ولانبی بعدی) انا ضمیر متکلم کی تعیین، محمد اسم کی تعیین، النبی الامی دو صفات معینہ اور پھر لا نبی بعدی سے ان صفات کی تاکید، صحابہ کے مجمع میں اس حقیقت کا اعلان۔ رخصتی کے وقت کے ماحول میں اور انا کے ضمیرکے ساتھ اور محمد نام کی تعیین یعنی لوگو ! سن لو آخری تاکیدی بیان ہے میں محمد ہوں نبی ہوں امی ہوں سب عطیہ الٰہی ہے۔ نبوت علم، ختمیت رسالت رحمت للعالمینی سارے عالم جن و بشر کے لیے قیامت تک کے لیے ہدایت اور نجات کا واحد ذریعہ۔ سب کچھ عطیہ الٰہی ایک بار نہیں حقیقت کا اعلان تین بار۔ ان خصائص پر مہر لگ گئی اب نبی نہیں آئے گا۔ کیا اس صریح وضاحت کے بعد ادنی درجے کے شک وشبہے کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ جعلی منافق دشمن اسلام کفار کے کسی ایجنٹ کو نبوت کا دعوی کرنے کی گنجائش رہ جائے۔
لا نبی بعدی کے منصب پر متمکن ہونے کے بعد رسول اکرم ﷺ نے اس حدیث میں مذکور چند خصائص کا ذکرکیاہے۔
اوتیت فواتح الکلم وجوامعہ وخواتمہ گفتگو انسان کی خاصیت ہے ملکۂ خاص ہے (علمہ البیان) عطیہ الٰہی ہے لیکن ساری گفتگو اور سارے گفتگو کرنے والے یکساں نہیں ہوتے، زبان و بیان اور اصحاب زبان و بیان یکساں نہیں ہوتے۔ پھر گفتگو کی ابتداء انتہاء یا خاصیت و جامعیت کی بات ہوتی ہے۔ ایسی گفتگو جو معیاری ہو جامع ہو اثر آفریں اور دیرپا ہو بہت کم ہوتی ہے بلکہ شاذ و نادر ہوتی ہے۔ ایسی گفتگو جو مقصدیت کی حامل ہو اور از اوّل تا آخر یکساں معیاری ہو حشو و زوائد سے پاک ہو، بے مقصدیت سے پاک ہو، سطحیت سے دور ہو، کم مل سکتی ہے۔ ایسی گفتگو صرف خاتم النبیین کی ہو سکتی ہے۔ معجزانہ اور معجز نما کلام صرف ان ہی سے صادر ہو سکتے ہیں۔
ختم نبوت کے محاسن کمالات اور تقاضوں میں یہ شامل تھا کہ رسول پاک ﷺ کے کلام کو یہ ساری خوبیاں حاصل ہوں۔ اگر کلام نبوت کا موازنہ بنی نوع بشر کے کلام سے کیا جائے توچند کلام نبوت سارے کلام ہائے بشر پر بھاری ثابت ہوں گے۔ کلام نبوت کا ادبی حسن بھی بہت اعلی ہوتا ہے اور معنوی حسن بھی اعلی درجے کا ہوتا ہے اور تعلیمات تو دونوں جہاں میں کامیابی کا ضامن ہوتے ہیں۔ حسنات دنیا و آخرت دونوں کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان میں حسن عقیدہ، حسن عمل اور حسن کردار بھی نمایاں ہوتا ہے۔ عقیدہ و عمل اور کردار کی متناسب تشکیل ہوئی ہے۔ دونوں جہاں کے حقائق اور سچائیاں عیاں ہوتی ہیں۔ مقصدِ حیات اور مقصدِ تخلیق طے ہوتا ہے۔ ہر ہر مخلوق کی حیثیت طے ہوتی ہے ہر ہر مخلوق کا دائرہ کار طے ہوتا ہے۔ کام کے اصول و ضابطے طے ہوتے ہیں۔ انجام نیک و بد نمایاں ہوتا ہے۔ کامیابیوں اور کمالات کی راہیں کھلی ہوتی ہیں۔ غلبہ و نصرت کے اسرار نمایاں ہوتے ہیں۔ ناکامی کے وجوہ واضح ہوتے ہیں۔ ہر ہر مخلوق کے حقوق طے ہوتے ہیں۔ عدل و انصاف ظلم و ستم کے اصول طے ہوتے ہیں۔ جزا و سزا کے ضابطے متعین ہوتے ہیں۔
دوسروں کے سارے کلام ان خصائص سے خالی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ معمولی حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں۔ ہمہ گیری، گہرائی، گیرائی اور مستقل اثر آفرینی سے خالی۔ یا پھر فساد اور فتنہ ہوتے ہیں جن سے دنیا جہنم زار اور زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ خاتم النبیین کی ختمیت نبوت کے لیے یہ طے تھا کہ اس کے مناسب انھیں کلام بھی ملیں از اول تاآخر خیر ہی خیر اور آخری حدتک معیاری اور آخری حدتک مستند موثق مدلل برہان و حجت سے دستاویز قانون و ہدایت اور قیامت تک کے لیے موثراور کار فرما۔
(لانبی بعدی) کے معالم میں یہ بھی ہے کہ جہنم کے محافظین اور حاملین عرش کی تعداد معلوم ہو۔ ظاہر ہے یہ علم عطیہ الٰہی ہے علم ذاتی تو نہیں۔ اس لدنی علم سے خاتم النبیین کو حاملین عرش کی تعداد معلوم ہو ظاہر ہے یہ علم عطیہ الٰہی ہے۔ علم ذاتی تو نہیں اس لدنی علم سے خاتم النبیین کا مرتبہ و مقام بلند ہوا کیونکہ انھیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کبریائی اور عظمت کا پوری طرح اندازہ اور اعتراف تھا۔
(لانبی بعدی) کی وسعتوں اور پہنائیوں کے لیے ضروری تھا کہ رسول پاک ﷺکی سرفرازیاں بھی حدود سے بالا اور پرے ہوں۔ اس لیے (تجوزبی) کے ذریعہ معراج کا سفرنامہ مکمل ہوا۔ رسول پاک ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سہولتوں کے ذریعہ ساری مادی سرحدوں کو پار کر دیا۔ خاکی انسان کے مادی وجود کے لیے سرحدیں اور لکریں ہوتی ہیں خاکی بشر ہو کر وہ ان لکیروں اور سرحدوں کو پار نہیں کر سکتا۔ لیکن جس طرح اس ذات عظیم کے سرپرختمیت کا تاج رکھا گیا اور اس ختمیت کے لیے زمان و مکان کی سرحدوں کو ختم کر دیاگیا۔ اسی طرح ذات پاک کو ایسا رتبہ ملا اور اسے ایسے حقائق کا مشاہدہ کرایا گیا کہ کسی دوسرے کے لیے قطعاً اس کا امکان بھی نہ تھا نہ ہے۔
(عوفیت، و عوفیت امتی) (لانبی بعدی) کے کمالات و خصائص میں یہ بھی داخل ہوا کہ رسول پاک ﷺکی حیات کو اللہ کی طرف سے تحفظ کی ضمانت ملے (واللہ یعصمک من الناس) کا مژدہ اس امر کی دلیل ہے۔ آپ کی حفاظت ہوئی اور آپ نے نبوت کا مشن پورا کیا اور ختم نبوت کا نبوی مشن قیامت تک پورا کرنے کے لیے امت محمدیہ کے بقاء کی ضمانت اللہ تعالیٰ نے دی۔ یعنی اس کا کلی وجود عذاب کے سبب یا خود دیگر اقوام کی دشمنی اور قتل و خوں ریزی کے سبب ختم نہیں ہو سکتا، امت بھی قیامت تک رہے گی اور (طائفہ منصورہ) بھی قیامت تک رہے گا۔ جو (ما انا علیہ واصحابی) کا آئینہ دار ہو گا۔ دیگر ادیان و مذاہب اور افکار و نظریات قومیں اور جماعتیں سب ختم ہو جائیں گی۔
ختمیت رسالت کا کلی تقاضا ہے کہ رسول کی کامل اطاعت ہو (للہ وما یقصر لیقصر) کا بٹوارہ نہ ہو۔ دین و سیاست کی باغیانہ تقسیم نہ ہو۔ اوریہ سلسلہ وفات نبوی کے بعد قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی تعلیمات سے رشتہ اس طرح مضبوط رہے جس طرح حیات مبارکہ میں لوگوں کا دین سے مضبوط رشتہ تھا۔ اس کی لائی ہوئی شریعت کی مکمل پابندی ہو۔ حرام حلال کے ضابطوں میں فرق آنے نہ پائے۔
ختمیت رسالت کے متعلق مزید ایک حدیث کا مطالعہ کرلیں۔ یہاں اس موضوع سے متعلق احادیث کا احصاء مقصود نہیں ہے۔ ختم نبوت سے متعلق عموماً روایات انھیں تین مفاہیم کی آئی ہیں۔ نبوت کے شاندار محل کی آخری انیٹ۔ لانبی بعدی، ختم بی النبییون اور الحاشر العاقب کے الفاظ کے ساتھ۔ دو قسموں کی چند احادیث کا ذکرہوا تیسری قسم کی چند احادیث کا ذکر ہو جائے۔
حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے۔ انھوں نے رسول پاک ﷺ کو ارشاد فرماتے سنا آپ نے فرمایا:-
ان لی اسماء انا محمد وأنا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی، وأنا العاقب الذی لیس بعدہ نبی (صحیح البخاری فی المناقب /باب ماء جاء فی اسماء رسول اللہ ﷺ حدیث رقم ۵۲۲۲ وفی التفسیر/ باب سورۃ الصف حدیث رقم ۴۸۹۶ صحیح مسلم /الفضائل حدیث ۲۳۵۴)
"بیشک میرے کئی نام ہیں میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں اللہ میرے ذریعہ کفر مٹاتا ہے میں الحاشر ہوں، میری پس آمد لوگ اٹھائے جائیںگے اور میں العاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔”
ختم نبوت کی مکرر سہ کرر باتیں ہیں محمد اور احمد نام بھی ان ہی معانی کا حامل ہیں۔ محمود کائنات سب سے زیادہ قابل تعریف منصب ختم نبوت کے کلی ہم آہنگ ہے۔ یا یوں کہیے محمد و احمد کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ خود ان اسماء محمودہ کے لیے ختم نبوت زیبا ہے اور یہ ختم نبوت کے لیے زیبا ہیں۔ ان دو ا سماء محمودہ محبوبہ کے بعد الماحی آتاہے اور کمال ہے حصر و تعین کا انا بھی ہے ال بھی ہے یعنی رسول پاک ﷺ کے ذاتی اسماء احمد محمد اپنے معنوی خصائص کے سوا صرف آپ ہی کے لیے ہو سکتے تھے اور بات بھی تاریخی حقیقت ہے ایسا نام آپ سے پہلے کسی کا تھا بھی نہیں۔ اسی لیے جب مادر مہربان اور جد امجد کے رکھے نام لوگ سنتے تو حیرت کرتے۔ نیا نام۔ رب کریم نے جہاں اپنے حبیب کے لیے دیگر خصائص اور امتیازات کا انتظام کیا وہیں آپ کے لیے اچھے ناموں کا انتظام کیا۔
انا الماحی ضمیر متکم اور متکلم سید البشر الماحی ال معرفۃ کے ساتھ یعنی ماحی کفر آپ کے سوا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا اور اس کا بھی رب کریم نے انتظام کیا ہے۔ مہدی اور عیسیٰ  آپ کی شریعت کے ذریعے کفر کو مٹا دیں گے۔ سارے عالم سے کفر مٹ جائے گا۔
وانا الحاشرمیں ضمیر متکلم اور متکلم سید البشر محشر آپ کے بعد بپا ہو گا، کسی دیگر نبی کے آنے، ابلاغ نبوت کا کام کرنے، امت بنانے، اور جدوجہد کرنے کے سارے امکانات اور مواقع ختم، دیگر امت کے آنے اوران کے حساب و کتاب کا امکان ختم۔ فروغ انسانیت، فروغ خیر، فروغ تہذیب، فروغ تمدن سب آپ کے بعد انتہا پر انسان کی ساری صلاحیتوں خواہ شر ہوں یا خیر ہوں کے بروئے کار آنے کا وقفہ۔ الحاشر کی آمد کے بعد کا وقفہ ہے۔ آپ کے بعد فترۃ رسل اور انقطاع نبوت کا مسئلہ ہے۔ نہ کہ آمد کا۔ الحاشر کے بعد محشر بپا ہو یہی تخلیق کے تسلسل کے بعد انقطاع کا تقاضا ہے۔ جب ختم نبوت سارے امکانات کے پورا ہونے کا وقفہ ہے۔ پھر کوئی لاجک اس میں نہیں ہے کہ کاروبار ہدایت کا نیا سامان کیا جائے۔ رسول پاک ﷺکی نبوت سے قبل اللہ تعالی کی جس طرح کی دنیا تھی اس دنیا میں اور رسول پاک ﷺکی آمد کے بعد کی دنیا میں بڑا تفاوت ہے۔ پہلے انبیاء قبیلے اور علاقے کی ضرورتوں کے مطابق آتے تھے۔ رسول پاک ﷺ قیامت تک ساری کائنات جن و بشر کے لیے نبی ہیں۔ قیامت تک ان سب کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے آپ کی شریعت کافی ہے۔ اسی سے انھیں فلاح دارین حاصل ہو سکتاہے۔ جب سارا نظام الٰہی ایسا ہے کہ نبوت محمدی قیامت تک انسان کے صلاح، فلاح، ہدایت اور نجات کے لیے کافی ہے۔ پھر ان کے بعد محشر بپا ہو تو درمیان میں کسی دیگر نبوت کی ضرورت کیوں کر ہو۔ اور سو باتوں میں ایک بات جب رسول پاکﷺ فرما رہے ہیں وہی حشر بپاکرنے والے ہیں یعنی ان کے بعد بس ابدی حساب کتاب کا ٹائم آئے گا توپھر اس کے بعد بحث و حجت کیا ؟ آپ سے بڑا صادق و مصدوق کون جنما ہے جس کی بات کو آپ کی بات چھوڑکر مانا جائے۔
(وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی) میں ہی ہوں جو تمام انبیاء کے عقب میں آیا ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس حدیث میں ختم نبوت کے دلائل ہی دلائل ہیں۔ اللہ و رسول کے کلام میں ختم نبوت کی بات آگئی۔ اس کے بعد پھر کسی بھی ناحئیے سے اس عقیدہ کے اندر بال کی کھال نکالنا بھی گمراہی ہے۔ ختم کا مطلب ان نصوص کے برعکس نکالنا گمراہی۔ ختم ولایت کے دعاوی اور ختم نبوت کے مقابلے میں کھڑا کرنا گمراہی۔
رسول پاک ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا واقعہ ایک کائناتی حقیقت ہے۔ سارا کائناتی اعتراف اور آگہی اس پر گواہ ہے۔ کل نظام دین و عقیدہ ختم نبوت سے ہم آہنگ ہے۔ کائنات جن و بشر، کائنات نور اور کائنات غیر ناطق ساری کی ساری اس حقیقت کو جانتی ہے۔ کون اس سے بے خبرہے۔ رب کریم اپنے محبوب بندوں کے حالات سے ان کو بھی آگاہ کر دیتا ہے تبھی تو انھیں محبوبیت ملتی ہے اور ان کے حق میں وہ دعا کرتی ہیں۔خیریہ تو فضل و کرم کی بات ہوئی۔
ختم نبوت کی کار فرمائی اور اثر آفرینی پوری بشری و جنی زندگی میں قیامت تک برقرار رہے گی۔ اور اس کے نتائج نیک و بد دونوں جہاں میں مرتب ہوں گے، بلکہ عالم برزخ میں بھی بروئے کار آئیں گے۔ شفاعت کبری اور حوض کوثر دونوں ختم الرسل کی افضلیت کی دلیل ہیں۔
حیات دنیا میں ختمیت رسالت، اور قیامت تک اس کی حتمی شرعی حیثیت قائم ہے۔ اگر یہ ٹوٹ جائے تو رسول پاک ﷺ کی رحمۃ للعالمین بے معنی، تمام انسانوں اور جنوں کے لیے آپ کی رسالت بے سود، آپ کی شریعت قیامت کے لیے ہونے کا مطلب بے کار، اکمال دین، اتمام نعمت اور اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے کا اعلان بے اثر اور غیر معقول۔ رسول پاک ﷺ کے شاہد، مبشر اور نذیر ہونے کی حیثیت ختم۔ اسوہ حسنہ ہونے کا فیصلہ کالعدم۔
ختم رسالت کے ساتھ یہ تمام نبوی خصائص وابستہ ہیں۔ ایک دوسرے سے جڑے ہیں اگر ایک خاصیت ٹوٹے گی تو خود بخود سارے خصائص بے معنی رہ جائیںگے۔
ختمیت رسالت کے ساتھ یہ سارے خصائص کلی طورپر جڑے ہوئے ہیں جیسے اکمال دین، اتمام نعمت، اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے، رسول پاک رحمۃ للعالمین ہیں، تمام انسانوں کے لیے نبی ہیں، تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر ہیں، مستقلاً تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ ہیں۔ تمام انسانوں کے لیے شاہد ہیں۔ اخلاق کے اتمام کے لیے آئے ہیں، نور اور کتاب مبین لے کر آئے ہیں۔ قرآن کریم کی ابدی حفاظت کی اللہ تعالیٰ نے ضمانت لی ہے۔ کوئی دین و شریعت اسلام کے سوا قابل قبول نہیں ہے۔ ہدایت رحمت شفاء صرف نبوت محمدی سے مل سکتی ہے۔ اگر رسول پاک ﷺ کی نبوت کے بعد نبوت کا تسلسل مانا جائے تویہ سارے نعمہائے الٰہی، فرامین ربانی بے معنی ثابت ہوں گے اور ختم نبوت کی حیثیت بے کار ہو جائے گی۔ ختم نبوت پر شک کرنے، اس کے انکار کرنے یا اس کے اوپر گرد اڑانے سے کل سلسلہ نبوت ہی مشکوک بن جاتاہے ۔
ختم نبوت کے ساتھ جڑے ان معانی تعلیمات اور ارشادت پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ ختم نبوت ایک حکم الٰہی ہے اور اس کی عظیم ترین معنویت مضمرات اور مقاصد ہیں۔ ان کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔

 رسول ﷺ شاہد، مبشر اور نذیر
رسول خاتم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان مناصب سے سرفراز فرمایا۔ آپ شاہد، مبشر، نذیر اور داعی ہیں۔ سارے مناصب ختم نبوت کے تلازمات ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:-
یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا – وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا – وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ فَضْلًا کَبِیْرًا – وَ لَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَدَعْ اَذٰھُمْ وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا (الأحزاب: ۴۵۔۴۸)
"اے نبی ہم نے تم کو گواہی دینے والا، خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے اذن سے، اور روشن چراغ اور مومنوں کو خوش خبری سنادو کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانو اور ان کی تکلیف دہی کو نہ دیکھو اور اللہ پر بھروسہ کرو اور اللہ ہی کارسازی کے لیے کافی ہے۔
ان آیات میں رب کریم نے رسول پاک ﷺ کو شاہد، مبشر، نذیر، داعی اور سراج منیر بتلایا ہے۔ شہادت حق، بشارت رسانی، انذار، دعوت اور ہر قدم پر اللہ کے اذن و حکم کے مطابق اور حق کا اجالا پھیلانا۔ یہ عظیم ہمہ گیر کام تھے جن کی انجام دہی کے آپ ذمہ دار بنائے گئے اور قیامت تک تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے ان سارے کاموں کی انجام دہی کو آپ کے ذمے لگایا گیا ان کی انجام دہی کے نتیجے ہی میں آپ کو شاہد، مبشر، نذیر، داعی، ماذون اور سراج منیر کا منصب ملا۔ ان سارے کاموں پر ختمیت رسالت کی مہر لگی ہے۔ ان تمام کاموںمیں عموم و شمول ہے۔ یعنی ان امور کی اور ان کی انجام دہی کی ہمہ گیری اور اثر آفرینی میں زبان و مکان کی حد بندی نہیں ہے۔ قیامت تک ہر دور اور ہر زمانے کے لیے ہے۔ اگر ان امور میں، اطلاق اور عموم نہ مانا جائے ان کے لیے کوئی خاص وقفہ طے کریں یا کسی خاص جگہ کے لیے ان کی انجام دہی خاص کریں۔ تو آیت کا مطلب بگڑ جائے گا۔ اس کے لیے کوئی قرینہ درکار ہے جو ہے نہیں۔ اطلاق اور عموم کو بلا قرینہ زماں و مکان سے مقید کرنا آیا ت سے کھیلنا ہے جو حرام ہے۔ یہ سب ختم نبوت کے خواص ہیں۔ اگر ان کے اوپر سے ختم نبو ت کی مہر ہٹا دیں تو پھر ان سب کے ہمہ گیر اثرات اور اطلاقی عمومی مفاہیم معنویت اور افادیت ختم ہو جائے گی۔ ان آیات میں شہادت حق، تبشیر انذار دعوۃ اور نور و جلوہ محدودیت کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔ دراصل رسول پاک ﷺ کے ان اوصاف کے اندر اتنی طاقت توانائی اور اثر آفرینی رکھی گئی ہے کہ آپ کی شہادت حق کے فریضے کی ادائیگی قیامت تک سارے انسانوں کے لیے طے ہے۔ شہادت حق کی ادائیگی کا اللہ تعالیٰ نے انتظام کیا۔ ابدی قرآن کی تعلیمات، اسوہ رسول احادیث کی شکل میں۔ پھر امت میں ان کے مخلص حاملین و دعاۃ دنیا کے سامنے حق کی دعوت پیش کرتے رہیںگے۔ دین کو سمجھنا، اس کا حامل بننا، اس پر عمل کرنا اور لوگوں تک اسے پہنچانا ایک سنہرا عمل ہے اس میں انقطاع نہیں ہے۔
یہی حال آپ کی بشارت اور انذار کا ہے اور مخلصانہ دعوت دین کا ہے۔ حین حیات آپ سراج منیر بن کر رہے۔ سارے انسانوں کو بشارت دیتے رہے، ڈراتے رہے اور اللہ کی خاطر دعوت دیتے رہے اور آپ کی وفات کے بعد سراج منیر کی حیثیت عملی و اعتقادی ہر اعتبار سے برقرار ہے تاریخ نے بھی آپ کی یہ حیثیت نمایاں اور سنہرے حروف میں برقرار رکھاہے اور قیامت تک کے لیے آپ کی یہ حیثیت برقرار رہے گی اور اسوہ کی حیثیت سے بھی آپ کی ختمیت رسالت برقرار رہے گی۔ دعوت بشارت اور انذار کا کام ہوتا رہے گا۔
غور کا مقام ہے آیت میں ان مذکورہ مناصب کے اطلاق و عموم کو اللہ تعالیٰ نے فرمان حکم اور ابدی قانون کے طورپر بیان کیا ہے (یا ایہا النبی انا ارسلنک) اے نبی ہم نے تم کو بھیجا ہے بحیثیت شاہد، مبشر، نذیر، داعی اور داعی ہر قدم پر پابندحکم الٰہی یعنی خاص الخاص داعی مخلصانہ دعوتی عمل کے لیے اور سراج منیر نہ زمان کا ذکر نہ مکان کا ذکر نہ خاص مدعو کا ذکر، ہر دور میں ہر جگہ ، تمام لوگوں کے لیے آپ کی یہ مذکورہ حیثیات۔ کوئی دیگر ان کا اس میں سہیم و شریک نہیں۔ کیا اللہ کے لیے مشکل تھا کہ تعیین زمان و مکان اور مدعو ہو۔ یا نعوذ باللہ اس سے ذہول و سہو ہو گیا۔ جو لوگ خاتم المرسلین کے بعد کسی نبوت کے اجراء کو مانتے ہیں۔ لازمی طورپر نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ زمان و مکان اور مدعو کی تعیین کو اللہ کے لیے مشکل مانتے ہیں۔ یا اس کے ذھول اور سہو کے قائل ہیں۔ اور یہ سب کفریہ سوچ ہے۔
رسول پاک ﷺ کی مذکورہ حیثیات کی مستقل اور حیات دنیا کے آخری دن تک اس اجراء کو طے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ رسول پاک ﷺ کی یہ حیثیات مؤمنوں کے لیے فضل کبیر ہے۔ ان حیثیات کا قیامت تک اجراء ان کے لیے فضل کبیر ہے اور ان حیثیات کو تسلیم کرنے اور ان کے نتائج کو اخذ کرنے کے نتیجے میں فضل کبیر ہے۔ یہ مؤمنوں کے لیے بشارت کبری ہے ساتھ ہی جو لوگ رسول پاک ﷺ کی ان حیثیات کو نہ مانیں ان کی مذمت اور تردید ہے اور حکم قطعی ہے کہ ان حیثیات کے برخلاف کفار اور منافقین کی کوئی بات قطعاً نہ سنی جائے۔ ان کی ایسی ساری باتیں لا یعنی صفر اور کالعدم ہیں۔یہاں بھی اطلاق حکم ہے یعنی ان لوگو ںکی اس سلسلے میں ادنی بات اور ادنی گفتگو قابل تسلیم نہیں ہے ۔اس سلسلے میں ان کی بات سننے، غور کرنے، توجہ دینے، ان سے بلا وجہ بحث و مباحثہ کرنے، ان کی تشکیک میں پڑنے سے روکا گیا ہے الا یہ کہ گفتگو امت کو ان کی گمراہی سے بچانے کے لیے ہو۔
آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ بھی دیدیا ہے کہ رسول پاک ﷺ کی حتمی اور ابدی حیثیات کو ماننے اور منوانے میں مشکلات آئیں گی ہر دور کے کفار و منافقین اس راہ میں مسلمانوں کو ایذا پہونچائیں گے لیکن مسلمانوں کو برداشت کرنا ہو گا۔ ان سے الجھنے کے بجائے ان حیثیات کو منوانے اور ان کی کارفرمائی کو جاری رکھنے کے لیے آگے بڑھتے رہنا ہو گا، رسول پاک ﷺ کو اس سلسلے میں یہ حکم خا ص طورپر ہے اس کے ساتھ اس سلسلہ عمل کو برقرار رکھنے اور آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان بھی برداشت اور نظر انداز کرنے کا وطیرہ اپنائیں۔ اس بارے میں بھی ساری محنت و مشقت کرنے کے بعد انجام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں چھوڑ دینا چاہیے جو نتیجہ سامنے آئے اس پر خوش رہنا مقصود دین ہے۔ اگر کام دین کے فروغ کے لیے ہو اللہ تعالیٰ کے لیے ہو تو اللہ وکیل ہے۔ کار ساز ہے۔ وہ سارے کام بنا دے گا اور انجام بھی بہترین سامنے لائے گا۔

رسول ﷺ رحمۃ للعالمین
وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (الانبیاء: ۱۰۷)
"اور ہم نے تم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔”
ختم نبوت کے منصب کا لازمہ ہے رحمۃ للعالمینی۔ ختم نبوت کے منصب سے سرفراز ی کا اعلان اس کا متقاضی تھا کہ اس کے لوازم اور مقتضیات بھی پورے ہوں۔ جب رسول پاک ﷺ خاتم الانبیاء ٹھہرے تو لازم تھا کہ آپ کی ذات تمام عالمیوں کے لیے رحمت اور وجہ رحمت بنے۔ اور آپ کی شریعت رحمت اور وجہ رحمت بنے۔ ختم نبوت کی اہمیت ہمہ گیری اور افادیت کا تقاضا تھا کہ ختم نبوت کے ساتھ رحمۃ للعالمینی جڑی رہے۔ رحمت للعالمینی نبوت و رسالت وحی الٰہی، عصمت، استناد، ہدایت اور قانون کے ہمہ گیر معانی اور مفاہیم کا حامل ہے۔ یہ ایسا منصب ہے جو انسانی اکتساب سے کلیتاً جدا ہے۔ یہ ربانی اصطفاء کا مسئلہ ہے۔ رحمۃ للعالمینی رسول پاک ﷺ کی ختم نبوت کے ہم آہنگ ہمہ گیر عالمی آفاقی وصف ہے اور یہ بھی الٰہی عطیہ ہے۔ ختم نبوت کے منصب اور اس کے ہم آہنگ وصف رحمۃ للعالمین سے ختم نبوت کی مرتبت حسن و کمال اثر آفرینی اور ہمہ گیری مجلی اور معظم ہو جاتی ہے۔
منصب ختم نبوت کی جس طرح کار آفرینی اجراء ختمیت اور نفاد قیامت تک ہے اور ہر زمان و مکان میں فرد و شخص کے لیے کار فرما ہے لازم ہے کہ اس کے ہم آہنگ رحمۃ للعالمین کا وصف اور اس کی ہمہ گیری اور آفرینی قیامت تک ہر زمان و مکان ہر فرد جن و بشر کے لیے قائم رہے۔
رسول پاک ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں۔ آپ کی رحمۃ للعالمینی کے نوع بہ نوع پہلو ہیں۔ آپ کی ذات رحمت ہے آپ کی تعلیمات رحمت ہیں۔
رسول پاک ﷺ محبوب الٰہی ہیں۔ افضل البشر ہیں آپ کی دعائیں فرد و امت سب کے لیے رحمت تھیں اور قیامت تک رحمت کے مستحقین کے لیے کار فرما ہیں۔
خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (التوبہ:۱۰۳)
"ان کے اموال سے زکوۃ لو اور اس سے ان کی صفائی اور تزکیہ کرو اوران کے لیے دعائے خیر کرو تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔”
رسول پاک ﷺ کو حکم ربانی ہے کہ اصحاب کرام سے زکاۃ لیں اور احکام زکاۃ کی تنفیذ کریں اس سے ان کے ظاہر و باطن روح و غذا کا تزکیہ کریں اور ہر طرح کی آلائش سے صاف ستھرا بنائیں اور ان کے لیے دعا کریں رسول پاک ﷺ کی دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب و السرائر تسکین کی خبر دے رہا ہے۔ بھلا اس میں کسی شک کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ دلوں کے لیے یا فرد کے پورے وجود کے لیے رسول پاک ﷺ کی دعا سکینت ہے۔ اصحاب کرام سے لے کر قیامت تک ہر مسلمان جو زکاۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرے رسول پاک ﷺ کی دعا اور دعا کی سکینت کا مستحق بن سکتا ہے۔
رسول پاک ﷺ امت کے لیے رحمت ہیں بلکہ امت دعوۃ اور امت اجابہ دونوں کے لیے رحمت بن سکتے ہیں امت کے اجابہ کے لیے براہ راست۔ اور امت دعوۃ کے لیے بالواسطہ ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا :-
سألت ربی أن لایھلک أمتی بالسنۃ فاعطاینھا وسألتہ ان لایھلک أمتی بالغرق فاعطاینھا (صحیح مسلم حدیث ۷۲۶۰)
"میں نے اپنے رب سے التجا کی وہ میری امت کو قحط سالی سے نہ ہلاک کرے اس نے میری یہ التجا پوری کر دی۔ اور میں نے اس کی مانگ کی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تواللہ نے میری یہ مانگ پوری کر دی۔”
یہ کیاہے رحمۃ للعالمین کی رحمۃ للعالمینی تمام امت کے لیے غلط کار اورگناہ گار جو عذاب کے طورپر ان کا شکار ہو سکتے تھے قیامت تک ان کو ان سے تحفظ مل گیا۔ اگلی امتوں میں اس طرح کے عذاب آئے ہیں۔ نوح علیہ السلام  کی امت ڈوب کر مر گئی۔ بھکمری کا شکار ہو کر غیر امتی مرے اور مرتے ہیں۔ لیکن اس دعا رحمت کے نتیجے میں امت کو ان دو عذابوں سے تحفظ مل گیا۔
رسول گرامی ﷺ نے باہم تراحم کی تعلیم دی، بہت سے اعمال کی بجا آوری پر رحمت کی دعا کی۔ دعا و ذکر اور تلاوت پر رحمت و سکینت کے فرشتوں کے اترنے کا حال بیان کیا۔ شب قدر میں فرشگاں رحمت کی آمد کی خبر دی۔ ہر تشہد میں رحمت کی دعا سکھلائی ملاقات پر سلام و رحمت کا باہم تحفہ دینے کی تعلیم دی۔
آپ کی اطاعت باعث رحمت (آل عمران: ۱۳۲) رب کریم کی رحمانیت اور رحیمیت کا عقیدہ طے۔ رحمت الٰہی کے فرشتے ذاکرین کی مجلس کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ قرآن رحمت، باعث رحمت دنیا و آخرت ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر ہر ذرے ہر شے پر اس کی رحمت کا سایہ۔ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر حاوی۔ رحمت الٰہی کی وسعت اور فراوانی کی حد نہیں۔ یہ اور اس کے بے شمار رحمت کے عناوین ہیں۔ ان کا ادراک و شعور کس نے دیا رسول پاک ﷺ نے، یہی ادراک و شعور جب انسان کے عمل میں اتر آتا ہے تو ساری انسانیت اس رحمت سے سیراب ہوتی ہے اور اس وقت جو کچھ انسان کے اندر فیض رسانی اور منفعت بخشی کا جذبہ ہے وہ رحمۃ للعالمین ﷺکی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ رحمۃ للعالمین کی رحمۃ للعالمینی علمی بھی ہے اور عملی بھی ہے یعنی آپ کی تعلیمات ساری دنیا مان لے تو ان کے اندر اتنا امکان ہے کہ دنیا جنت کا نظارہ پیش کرے اور امکان اسلام کے کامل ظہور کے وقت آمد مسیح و مہدی پر پورا ہوگا۔ رحمۃ للعالمین کی رحمۃ للعالمینی عملی اسی طرح ہے کہ آج ساری دنیا میں جہاں بھی جو کچھ بھی حق قانون انصا ف اور رحمدلی کی بات نظر آتی ہے آپ کی تعلیمات اور جہود کے نتیجے میں ہے۔
یہاں رحمۃ للعالمین کی بخشا ئش اور جود و عطا کی ہمہ گیریوں اور اثر آفرینیوں سے متعلق گفتگو کو طول نہیں دیا جا سکتا بات ختمیت رسالت کے عموم و شمول کے ہم آہنگ رسول پاک ﷺ کی رحمۃ للعالمینی کا ذکر مقصود ہے۔ ختم نبوت کے ہم آہنگ اللہ تعالیٰ نے دیگر اوصاف بھی رسول پاک ﷺ کو دیئے ہیں۔ جن جھوٹے نبوت کے دعویداروں نے ختم نبوت کے اجراء کو تسلیم نہ کرتے ہوئے نبوت کا دعوی کیا ان کے پاس جھوٹ کے سوا کیا تھا ختم نبوت سے ہم آہنگ اوصاف وہ مفتونین کہاں سے لاتے ۔

نبوت محمدی ﷺ کی عمومیت
اللہ تعالیٰ نے رسول پاک ﷺ کو ختم نبوت سے سرفراز کیا توکئی آیتوں میں نبوت محمدی کی عمومیت کا ذکر کیا ارشاد ہے:-
وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (سبا : ۲۸)
"اور تمہیں ہم نے تمام لوگوں کے لیے خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔”
یہاں (کافۃ) کی کلیت کا عموم بھی ہے۔ ناس کا عموم بھی ہے اور پھر الناس میں عموم معنوی بھی ہے اور ال (جنسی) کا عموم لفظی بھی ہے۔ ان عموم سے ختم نبوت کے مفہوم اور معنویت کی وضاحت اور تشریح ہوتی ہے اور اخلاقی طور پر دیوالیہ مدعیان نبوت اور علمی طورپر صفر ختم نبوت کی غلط تفہیم کرنے والوں کی آسمانی تردید ہے۔
تمام نوع بشریت کے لیے رسول پاک ﷺ نبی ہیں اور زمان و مکان کی حد بندیوں سے ورے ہر جگہ اور ہر وقت کے لیے قیامت تک۔ نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خطاب کیا۔ ارشاد ہے:-
قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ (الاعراف: ۱۵۸)
"تم بتادو اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ وہ اللہ جس کی ملکیت میں سارے آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت ہے وہی معبود برحق ہے۔ وہی زندگانی بخشتاہے وہی موت دیتا ہے لہٰذا تم اللہ پر ایمان لے آؤ اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جس کا اللہ پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔”
قیامت تک پیدا ہونے والے اور حیات سے سرفراز ہونے والے تمام لوگ اس (الناس) میں مخاطب ہیں۔ ال جنس نے قیامت تک سلسلہ حیات میں لگے پوری نوع بشریت کو اپنے اندر سمو لیا پھر الیکم کے کم ضمیر خطاب نے سب کو اپنے اندر شامل کر لیا اور ان دو عموم و شمول کی تعبیرات کے لیے جمیعا کو موکد بنا دیا گیا ال اور کم حرف و ضمیر کے لیے جمیعا کے لفظ سے تاکید ہو گئی ختم نبوت کے لیے کیا ان تاکیدات کے معنی نہیں ہیں ؟ یقیناً ہیں مطلب یہ ہے کہ ان ساری تعبیرات میں مکان و زمان کی بندش نہیں علی الاطلاق عموم ہے۔ تاکیدات عموم ہیں۔ ان عموم اور تاکیدات عموم کے درمیان پھر کسی رسالت و نبوت اور رسول و نبی کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔
آیت انتہائی توجہ طلب ہے۔ خطاب عام اور سہ تاکیدات عموم و شمول کے۔ فرمان الٰہی دیکھئے تو ذرا غور سے۔ انسان کے لیے کیا کیا انعامات ہیں۔ رسالت کی عظمت، رسول کی عظمت کی وضاحت کے لیے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ یہ رسول اس اللہ کا فرستادہ ہے جو سارے آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے معبود برحق ہے ساری کائنات اس کی عبادت بجا لاتی ہے۔ موت و حیات کا مالک بھی وہی ہے۔ آخری رسالت کا سرا کہاں سے جڑا ہے اس کی وضاحت ہوئی۔ ساری کائنات عیاں و نہاں اور سلسلہ موت و حیات کا اختیار کل اور ملکیت کل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں۔ اس کی معبودیت سب کو فطرتاً عملاً و اعتقاداً تسلیم، رسالت ان سچائیوں کی وضاحتِ بیان اور ان کو تسلیم کرانے کا وہبی ربانی ذریعہ اور ہدایت کا واحد ذریعہ۔ اس لیے تمام بنی نوع بشر کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ملا کہ اللہ پر بھی ایمان لاؤ اور رسول پر بھی پھر رب پاک نے خاتم الانبیاء کی تعریف کی اور تعارف دیا کہ رسول بحیثیت رسول صاحب کتاب توہیں ہی نبی بھی ان کا منصب ہے یعنی رسالت تو ان کا منصب ہے ہی کسی دیگر صاحب کتاب رسول کی آمد کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اسی طرح بلا کتاب رسول کی تعلیمات کی توضیح کے لیے اب کسی نبی کی بھی آمد کا امکان نہیں ہے۔ ان پر ایمان لانے کے ساتھ ان کی پیروی و اتباع کرنے کا حکم بھی بنی نوع بشر کو ملا اور اس کی وجہ یا افادیت بھی بتلا دی گئی (لعلکم تہتدون) تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

نبوت محمدی کی عمومیت
تمام نوع بشر کو قرآن کریم میں (یایہا الناس) کے ذریعہ کئی بار خطاب کیا گیا اور اس خطاب میں قیامت تک آنے والے سبھی لوگ شامل ہیں۔ تمام اہل کتاب کو بار بار خطاب کیاگیا۔ وہ بنی اسرائیل کے تاریخی وقفے، علاقے اور یہودی قبائل کے حدود میں محدود تھے انھیں رسول پاک ﷺ کی ختمیت رسالت کا پتہ تھا۔ انھیں ان کی تنگنائے سے نکلنے اور نبوت محمدی کی آفاقیت سے جڑجانے کی دعوت دی گئی۔
قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ (آل عمران: ۶۴)
"تم بتادو اے اہل کتاب جو بات ہمارے تمہارے درمیان یکساں ہے اس کی طرف آؤ۔ وہ یہ کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا کارساز نہ سمجھے اگریہ لوگ نہ مانیں تو ان سے کہدو گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔”
رسالت کی سچائیوں اور تعلیمات کو نہ ماننے پر نصاریٰ کو مباہلہ کی دعوت دی گئی۔ رب پاک نے رسول کریم ﷺ کو اس کا حکم دیا۔ (آل عمران: ۶۱)
یہ اور اس طرح کی ساری آیتیں ختم نبوت کے عموم کے لوازم، تقاضے اور تاکیدات ہیں اور رہتی دنیا تک رسالت محمدی کے اجراء کی دلیل ہیں۔ ختم نبوت کی تاکید اجراء استناد دستوریت اور آخری ہدایت ہونے کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی۔
وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (آل عمران:۸۵)
"اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہو گا وہ اس سے ہرگز نہ قبول کیا جائے گا۔”

دین کی تکمیل ہو چکی
اللہ تعالیٰ نے دین کی تکمیل کر دی تکمیل دین کا مطلب کیا ہوا۔ یہی ناکہ اب کسی نبوت و رسالت جدیدہ کی ضرورت باقی نہ رہی۔ نقص کو پر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کامل مکمل شے میں نقص نہیں ہوتا نہ اسے پر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ارشادباری تعالی ہے:-
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ (المائلدہ:۳)
"آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کر دیا، اور تمہارے اوپر اپنی نعمت کی انتہا کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو پسند فرمایا۔”
آیت میں کئی امورکی طرف توجہ دلائی گئی :-
1- لکم علیکم لکم کاکلی عمومی خطاب۔ اس کا مطلب کیا ہوا۔ تمام بنی نوع بشر مخاطب ہیں اور قیامت تک کے لیے
2- یہ دین سب کے لیے ہے
3- اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل بنا دیا ہے۔ اکمال کس کے لیے ہے ؟ اس لیے کہ قیامت سب کے لیے کامل ہدایت اور نجات کا ذریعہ بنا رہے۔ ہدایت اور نجات پانے کے معاملہ میں کسی نقص کا احساس نہ ہو انسان کی جائز ضرورتوں رہنمائیوں اور فطری تقاضوں کو پورا کرے۔ ساری گمراہیوں سے انسانوں کو بچائے، اور سارے دنیوی و اخروی مصالح کے تحفظ کی ضمانت دے۔
4- اتمام نعمت کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے۔ اللہ کی نعمتیں انسان کو پل پل مل رہی ہیں۔ ایک لمحہ کے لیے اگر انسان کو نعمت الٰہی نہ ملے یا اس کائنات پر اس کی نعمت و رحمت کا فیضان نہ ہو تو نہ انسان بچے نہ کائنات لیکن ان نعمہائے عامہ کثیرہ کثیرہ کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے نعمت دین اور اکمال دین کو اپنے فیضان نعم کا منتہا بتلایا اور اسے اتمام نعمت قرار دیا۔
5- اسلام اللہ کی پسند ہے۔ یہی پسندیدہ دین ساری دنیا کے انسانوں کے لیے قیامت تک مستند اور معتبر دین قرار پایا۔ بقیہ سارے ادیان مردو د اور باطل قرار دیئے گئے۔ یہود و نصاریٰ کے ہاں اسلام تبدیل ہو کر نصرانیت اور یہودیت قرار پایا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان پربھی خط تنسیخ پھیر دی۔
یہ سارے انتظامات، اکمالات، اتمامات، اہتمامات اور رضا کا مطلب کیا ہے۔ دین کامل کے بعد نہ نئی نبوت کی ضرورت رہی۔ نہ نئی رسالت کی نہ نئے رسول کی، نہ نئے نبی وکتاب کی۔

حفاظتِ کتاب
اکمال دین کی تاکید اور نتیجے کے طورپر کسی نئی نبوت کی آمدکے استحالہ پر یہ آیت بھی پڑھیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:-
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۹)
"بے شک اس کتاب نصیحت کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔”
اس حفاظت اور نگہبانی کا مفہوم کیا ہے ؟ اور اس حفاظت کانتیجہ کیا ہے ؟ ظاہر ہے تمام آسمانی کتابیں اللہ تعالیٰ نے اتاری تھیں لیکن ان کی حفاظت کا ذمہ اس نے انسانوں پر لگایا تھا۔ وہ ان کی حفاظت نہ کر سکے۔ ان کے اندر انسانی تحریفات کی آمیزش ہو گئی۔ اس لیے رب پاک نے ان پر خط تنسیخ کھینچ دی۔ قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری خود رب پاک نے لی تاکہ اس کے اندر انسانی تصرفات بے جا نہ ہو سکیں اور قرآن اپنی اصلی شکل میں قیامت تک باقی رہے۔ دوسری آسمانی کتابوں کی حفاظت نہ ہو سکی اور ان کے اندر تحریفات در آئے قرآن کریم کی حفاظت ہونے اور قیامت تک اصلی شکل میں اس کے باقی رہنے کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ قرآن کریم کے بعد کسی رسول کی آمد کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ نبوت محمدی کا جراء قیامت تک کے لیے ہو چکا ہے۔ قرآن کریم کی حفاظت ہوئی وہ اصل شکل میں کامل مکمل موجود ہے اور اللہ کی یہی مشیت تھی کہ اصل شکل میں موجود رہے یہ فیصلہ الٰہی ہے اور یہ اس لیے بھی ہے کہ رسول پاک ﷺ خاتم النبیین ہیں کسی نبی کی آمد کا امکان ہی ختم کر دیاگیا حفاظت قرآن ختمیت رسالت کا لازمہ اوراس کی دلیل ہے۔

مکارم اخلاق کا اتمام
رسول پاک ﷺ نے فرمایا:-
بعثت لاتمم مکام الاخلاق (مسند احمد حدیث نمبر۸۹۳۹)
"مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں مکارم اخلاق کا اتمام کر دوں۔”
رسول گرامی ﷺ کی بعثت سے قبل مکارم اخلاق کی تکمیل نہیں ہوئی تھی۔ بعثت محمدی سے قبل جس مقدار میں مکارم اخلاق کی ضرورت تھی وہ انسان کے لیے مہیا تھے۔ حالات و ظروف اور ضرورت کے مطابق انسان کو مکارم اخلاق ملے ہوئے تھے۔ بعثت محمدی کے بعد نبوت محمدی کی کارفرمائی قیامت تک کے لیے ہے۔ اس طویل وقفے کے حالات و ظروف، انسانی ضرورتیں، تہذیبوں کا پھیلاؤ، جغرافیائی سرحدوں کا تعلق عامہ میں حائل نہ ہونا، زمانی سرحدوں کا سمٹ جانا، رسل و رسائل کا پھیلاؤ، معلومات کی ہمہ گیر وسعت، بشری وسائل و صلاحیتوں کا نفج وکمال …. ان سب کا تقاضا تھا کہ مکارم اخلاق کی تکمیل ہو جائے۔ رسول پاک ﷺ کی قولی و عملی تعلیمات نے مکارم اخلاق کی تکمیل کر دی اس کے بعد پھر نبوت کے نام پرکسی جھوٹے کو دکان لگانے کی ضرورت کیا ہے۔

رسول کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ
رسول کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ قیامت تک ساری بنی نوع بشر کے لیے دین کی تشریح و تطبیق کا ایک منہاج ہے۔ اور پوری کائنات بشر کے لیے ایک مثال سٹ اپ ہے اس سے دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل ہو سکتی ہے ارشاد ہے:-
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (الاحزاب:۲۱)
"فی الواقع تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔ اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملنے کا تمنائی ہو، یوم آخرت کا امیدوار ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یادکرتاہو۔”
رسول پاک ﷺ تمام انسانوں کے لیے اسوہ حسنہ ہیں لکم خطاب عام ہے۔ اسوہ حسنہ کا مطلب کیا ہے ؟ یہی کہ آپ نے تعلیمات دین کو سمجھنے کا طریقہ متعین کر دیا ہے اور ان پر چل کر ان کی عملی تطبیق کی شکل پیش کر دی ہے اور مباحات و مجہتدات میں طریقہ استنباط بتلا دیا ہے۔ قیامت تک یہ کامیاب حسین اور کامل نمونہ تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ رہتی دنیا تک رسول اللہ ﷺ کایہی اسوہ حسنہ رضائے الٰہی کا ضامن ہے اور آخرت کی کامیابی کا انحصار اسی پر ہے۔
اسوہ رسول کامل مکمل ہے عام ہے قیامت تک کے لیے کامیابی کی ضمانت ہے پھر دیگر نبوت نبی اور اسوہ نبی کی ضرورت کیا باقی رہ گئی۔
یہ اور اس طرح کی عمومی آیتیں جو رسالت محمدی پیغام محمدی اور تعلیمات اسلام کے حسن کمال عموم اور آفاقیت پر دال ہیں ختم نبوت کے لازمے تقاضے اور دلیل ہیں۔ ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

خلق عظیم
اسی معنی میں تقریباًیہ آیت بھی ہے۔
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم:۴)
"اور بے شک آپ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہیں۔”
خلق عظیم پر رسول پاک ﷺ فائز المرام تھے، مکارم اخلاق کی تکمیل کی اور خلق عظیم کے حامل بنے۔ خلق عظیم کیا ہے مختصر لفظوں میں اسے سلیقہ حیات کہہ سکتے ہیں۔ مخلوقات سے بھری دنیا میں زندگی گذارنے کا سلیقہ کسے آتاہے اور عظیم سلیقہ تو صرف رسول پاک ﷺ کو عنایت ہوا۔ اخلاق کا مطلب ہوتا ہے کہ انسان مخلوقات کے درمیان اس طرح سفر حیات طے کرے کہ اس کی ذات سے کسی بھی مخلوق کی حق تلفی نہ ہو۔ خلق الٰہی کے لیے مفید تر بن کے رہے۔ اپنی ذات سے، اپنے علم سے، اپنی مساعی جمیلہ سے اور انسان کی ہدایت رہنمائی، خیر خواہی منفعت بخشی اور احترام باہمی کا ہدف سامنے رکھے۔
اس ناحیے سے جب رسول پاک ﷺ عظمت کی ساری منزلوں کو طے کر کے عظیم بن گئے اور ان کی امت کے صلحاء، مجاہدین اور علماء آپ کے کل مشن کے حامل بنائے گئے اور دین بھی محفوظ رہا پھر کیوں نہ ختم نبوت کا اعلان ہو۔

نور و کتاب مبین
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو تمام انسانوں کے لیے نور اور کتاب مبین (المائدہ:۱۵) بناکر اتارا (کم) سے خطاب ہے جس میں قیامت تک آنے والے سارے انسان شامل ہیں۔ خطاب کے عموم کے لیے کوئی تخصیصی قرینہ موجودنہیں ہے۔ ظاہرہے اس عموم کے بعد کسی نبوت اور نبی کی آمد کا خود کار طور پر رد ہو جاتا ہے۔

دین غالب
ختم نبوت کے تلازمات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسو ل پاک ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت اور دین حق کو دیگر تمام ادیان پر غلبہ عطا فرمایا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:-
ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (التوبہ:۳۳، الفتح : ۲۸، الصف :۹)
"وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غلبہ عطا فرما دے۔”
جس دین کو فطرتاً اور عملاً بھی ظہور و غلبہ حاصل ہے پھر اسے نئی نبوت اور نئے نبی کے آنے کی ضرورت کیا ہے۔ پہلے انبیاء کے بعد انبیاء آتے تھے نبی کے بعد نبی آتے تھے۔ کیونکہ نبوت کے دائرہ کارعلاقہ، خاص وقفہ مختصر اور خاندان و قبائل تھے۔ اور نبی کے امتی، امت محمدی کے مقابلے میں مختصر ہوتے تھے ان انبیاء کے حواریین کے بعد ہی سب کچھ بگڑنے لگتا تھا اور کتاب وحی میں تحریفات در آتی تھیں اس لیے ان کی تعلیمات کو ظہور و غلبہ حاصل نہیں ہو پاتا تھا بلکہ اصل دین ہی مٹ جاتا تھا اس لیے دیگر نبی یا انبیاء کے آنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ رسول پاک ﷺ کی تشریف آوری کے بعد دین مضبوط بھی محفوظ بھی ہے اس لیے آ پ ﷺ کی نبوت کا اجراء قیامت تک کے لیے ہو گیا۔

طائفہ منصورہ
دین غالب کے ہم آہنگ امت رسول میں طائفہ منصورہ بھی موجود ہے۔ دین غالب کا پاسدار، حق کی خاطر فدا، امر حق پر قربان، حق کی راہ میں مطمئن، استقامت پذیر اور حق پر جما ہوا۔ ارشاد نبوی ہے:-
لا تزال طائفۃ من أمتی ظاھرین علی الحق لا یضرھم من خذلھم حتی یأتی أمر اللہ وھم کذلک (مسلم حدیث ۱۹۲۰)
"میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ان کا ساتھ چھوڑنے والے یا ان کے دشمن یا مخالف انھیں نقصان نہیں پہنچا سکیں قیامت تک یا امر الٰہی آنے تک وہ اس طرح رہیں گے۔”
دین غالب ہے۔ غالب گروہ ہے۔ ان کی حق پرستی کی راہ کو ان کا پکا دشمن بھی کھوٹا نہیں کر سکتا قیامت تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

اباطیل کا رد
صورت یہ ہے اس ختم نبوت کا اعلان الٰہی آیا۔ یہ بھی ختم نبوت کے تلازمات میں سے ہے۔ یہی گروہ دین میں کسی باطل کی آمیزش نہیں ہونے دے گا۔ ارشاد نبوی ہے:-
یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین، وانتحال المبطلین وتاویل الجاھلین (الشریعۃ آجری ح۱ مشکوۃ حدیث ۲۴۸)
"اس علم (شریعت) کے حامل ہر خلف کے عادل لوگ ہوں گے۔ وہ اس سے غلو پسندوں کی تحریف، باطل پسندوں کی بدعات اور جاہلوں کی تاویلات کو ہٹاتے رہیں گے۔”
اللہ تعالیٰ نے علم دین کا تحفظ بھی فرمایا ہے۔ دین میں بگاڑ کی ساری شکلوں کی تردید کے لیے مستند اور معتبر علماء کو تیار کیا ہے۔ اس عظیم انتظام کے بعد کہاں گنجائش رہ گئی نئی نبوت کی۔
ختم نبوت کے یہ تلازمات ہیں ان سے ختم نبوت کی حقیقت مبرہن اور روشن ہو جاتی ہے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.