امت مسلمہ کی غفلت – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

نئے عیسوی سال کی آمد کے ساتھ امت مسلمہ نئے مشکلات سے ہمکنار ہوئی۔ طاغوتی قوتوں کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور امت مسلمہ کی غفلت اور سراسیمگی بدستور بر قرار۔
امریکا، پاکستان کو برباد کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں اور مزید کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ لیکن ہمارے سیاسی ڈرامے ختم نہیں ہو رہے۔ ہمارے یہاں چند بد طنیت بچوں سے زنا بالجبر کا شوق پورا کر رہے ہیں اور ہم انھیں سزائیں دینے سے قاصر ہیں۔ قوم تھک کر چور ہو چکی ہے اور رہ نمایانِ ملت اپنی چوری کو سندِ جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہیں تبدیلی سے مایوس ہو کر شادیاں ہو رہی ہیں اور کہیں ایک ہی جماعت کے ۷۲ فرقے بنائے جانے کی تیاریاں۔
ایک ملحدہ وفات پاتی ہے تو مر کر بھی اس کی امت دین کا تمسخر اڑانے سے باز نہیں آتی۔ جنازے کا جنازہ نکال کر اس طبقے نے دین اسلام کے خلاف اپنا بغضِ باطن عیاں کر دیا ہے اور لبرل ازم دنیا میں خواہ کسی معنوں میں استعمال ہوتا ہو پاکستان میں ایک فرقہ نہیں بلکہ مستقل دین بن کر ظاہر ہوا ہے، جس کی اساس استہزائے شریعت پر استوار کی گئی ہے۔
عرب ممالک کی صورت حال بھی کچھ کم تشویشناک نہیں۔ عالمی طاقتیں اس کے حصے بخرے کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں اور ولی عہد مملکت قوم کو روشن خیالی کا سبق پڑھانے کی فکر میں غلطاں ہیں۔نفس پرستی نے فسق و فجور کا نام ترقی و خوشحالی رکھ چھوڑا ہے اور فحاشی و عریانیت کو روشن خیالی کے لباسِ فریب سے سنوارا ہے۔
ارض مقدس کے حکمران ! جو کبھی رب تعالیٰ کی وحدانیت کے سب سے بڑے علمبردار تھے، عصر حاضر کے سب سے بڑے طاغوت کے سامنے سرنگوں ہیں۔ کیا طبقہ علماء میں کوئی نہیں جو سلطان جائر کے سامنے کلمہ حق ادا کر سکے۔ بد قسمتی تو یہ ہے کہ زبانِ تنقید اگر کھلتی بھی ہے تو فرقہ وارانہ عصبیتوں کے زیر اثر ہو کر، ایک وہابی کو کسی حنفی کی تنقید کی ضرورت نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اللہ کی خاطر اور اللہ کے لیے حق پرستی کی راہ دکھائے۔
اسرائیل نے بیت المقدس پر اپنے قانونی قبضے کا عندیہ دے دیا ہے اور عالمی طاقتیں اس خواہش کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہو گئی ہیں۔ مسلمان ممالک کی جانب سے فلسطینیوں کی اخلاقی تائید کا عمل جاری ہے۔آہ، یہ ناداں کب سمجھیں گے : "ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات”
حکمران خواہ سعودی عرب کے ہوں یا پاکستان کے، ان کی طاقت کا سرچشمہ حقیقی صرف اللہ کی فرماں برداری سے مشروط ہے۔ ورنہ سلطنتیں کتنی ہی قائم ہوئی ہیں اور تخت و تاج کتنوں کے تاراج ہوئے ہیں۔ اللہ نے سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور مصر کو جو طاقت عطا کی ہے وہ اپنی عملداری میں استہزائے دین و شریعت کے لیے نہیں دی پرچم اسلام کی سر بلندی کے لیے دی ہے۔
سالِ گزشتہ ہم فلسطین کا ماتم کر رہے تھے، میانمار کے لیے آنسو بہا رہے تھے، ارضِ شام کی کشیدگی پر اظہارِ مذمت کر رہے تھے۔ ان ممالک کے حالات آج بھی نہیں بدلے بس ہم ہی اظہارِ مذمت کر کر کے تھک چکے ہیں۔ عالمی سازشی طاقتیں سطح زمین پر اپنی جنگیں لڑ رہی ہیں اور ہم فیس بک پر اس کا جواب دے رہے ہیں۔جنگ کا نتیجہ معلوم ہے اس سال کسی نئے خطے کے اجڑنے کا انتظار کیجیے۔ زمین پیاسی نہیں، بہت پیاسی ہے جب تک شہداء کے لہو سے اس کی پیاس نہیں بجھتی یہ جنگ جاری رہے گی۔
لیکن غفلت شعار مسلمانوں تمہیں بیدار ہونے کی ضرورت نہیں، ابھی برباد ہونے کے لیے امت مسلمہ کے پاس زمین بہت ہے اور مرنے کے لیے زندگی سے محروم مردہ جسموں کی بھی کمی نہیں۔
ہم دورِ فتن میں جی رہے ہیں مگر افسوس اس کا احساس تک نہیں۔ ہم روز اپنے اعمال بد کے نتائج دیکھ رہے ہیں مگر شعور و احساس کی کوئی دستک ہمارے دلوں کو بیدار نہیں کر رہی۔ ہر گزرتی ساعت کے ساتھ ہماری مدہوشی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ عظمتِ رفتہ کے نقوش کتنے ہی شاندار کیوں نہ ہوں پژمردہ حال کا کفارہ نہیں بن سکتے

تمیز خواب و حقیقت ہے شرط بیداری
خیال عظمت ماضی کو چھوڑ حال کو دیکھ

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.