غفلت


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

غفلت، بادِ سموم کے جھونکے کی طرح ہوتی ہے۔ انسان جب مسموم فضا میں ہوتا ہے تو اپنی ہر سانس کے ساتھ اپنے جسم میں زہر اتارتا جاتا ہے حتیٰ کہ جسم زندگی کی حرارت سے محروم ہو جاتا ہے اور دل کی دھڑکن ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔
غفلت سب سے پہلے انسانی قلب پر حملہ آور ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ پورے جسم پر اپنا تسلط کر لیتی ہے۔ غفلت جب پہلے پہل حملہ آور ہوتی ہے تو قلب میں بڑی ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ انسانی ضمیر رہ رہ کر کچوکے لگاتا ہے مگر غفلت کا سب سے بڑا ہتھیار خود "غفلت” ہے۔ یہ انسانی ضمیر کے ہر کچوکے اور قلب کی ہر ہلچل کے جواب میں صرف اعراض و تغافل برتتا ہے، جواباً کوئی حملہ نہیں کرتا، یہاں تک کہ یہی اعراض و تغافل پورے قلب پر اپنا قبضہ جما لیتا ہے۔ جس کے بعد ضمیر خاموش اور قلب مردہ ہو جاتا ہے۔ خیر و شر کا امتیاز مٹ جاتا ہے۔
غفلت کی ابتدا بے خبری، عدم توجہی یا فراموشی (سھا) سے ہوتی ہے، غفلت کے سبب انسان کی توجہ اپنے مقصد سے ہٹ جاتی ہے اور وہ فراموش کار بن جاتا ہے۔
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ – الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْنَ (الماعون: ۴-۵
"پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے، جو اپنی نمازوں سے بے خبر ہیں۔”
الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ غَمْرَۃٍ سَاھُوْنَ (الذاریات : ۱۱
"جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، بالکل بے خبر ”
یہاں ساھون کا لفظ جو سھی/سھا سے ہے، "سجدہ سہو” کی اصطلاح معروف ہے۔ سہو دراصل اس عمل کو کہتے ہیں جو غفلت کی وجہ سے سرزد ہو، اس میں اگر ارادہ کو دخل نہ ہو تو قابلِ مواخذہ نہیں لیکن قصد و ارادہ بھی شامل ہو تو نہ صرف قابل مواخذہ ہے بلکہ ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو آگے چل کر شدید ترین غفلت میں مبتلا ہوتی ہے جس کا یقینی نتیجہ ہلاکت و بربادی ہے۔
بے خبری اور فراموشی کی یہی ابتدا انسان کو مستقل غفلت میں مبتلا کر دیتی ہے اور ایمان کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے:-
وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُم وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّ ھُمْ لَا یُؤْمِنُونَ (مریم : ۳۹
"اور انھیں یومِ حسرت سے ڈرائیے، جبکہ فیصلے تمام ہو جائیں گے اور یہ غفلت میں پڑے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔”
یہاں ایمان نہ لانے کا سبب غفلت کو قرار دیا گیا ہے۔
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْن (الانبیاء : ۱
"لوگوں کے لیے ان کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور وہ غفلت میں پڑے اعراض کر رہے ہیں۔”
قیامت کے دن خاسر اور ناکام رہ جانے والے پکار اٹھیں گے:-
یٰوَیْلَنَا قَدْ کُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْن (الانبیاء : ۹۷
"ہائے ہماری ہلاکت ! ہم اس سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بنے۔”
وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا (الکہف : ۲۸
"اور اس کی پیروی نہ کرو جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا، اور جو ہوائے نفسانی کا پیرو اور اپنے امور میں حد سے متجاوز ہے۔”
اللہ ربّ العزت نے غافل کی نشانی بھی بیان کر دی، ایسا شخص حظ و لذائذ نفسانی کا پیرو ہوتا ہے اور اس کے امور مبنی بر اعتدال نہیں ہوتے بلکہ افراط و تفریط پر مشتمل ہوتے ہیں۔
"اغفلنا” کا لفظ بتا رہا ہے کہ غفلت اس درجہ شدید تھی کہ اللہ رب العزت نے غافل کرنے کی نسبت بھی اپنی جانب کی ہے۔ یہی "اغفلنا” قلب پر مہر (ختم) لگانا ہے۔ جب عدم توجہی اور فراموش کاری کی عادت پختہ ہو جاتی ہے تو دل مردہ ہو جاتے ہیں، کان کلمہ حق و نصیحت سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور نگاہیں زیرِ حجاب آ جا تی ہیں کہ خیر و شر میں تمیز کر سکیں۔ یہی "اغفلنا”، ” طبع” اور پھر "ختم” کی منزل ہے، جس کے بعد ہدایت کی ساری راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور صرف عذاب عظیم کا در کھلا ہوتا ہے۔
بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا ( النساء : ۱۵۵
"بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان پر مہر لگا دی پس یہ ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے ہی۔”
خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ عَلٰی سَمْعِھِمْ وَ عَلیٰٓ اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ وَّ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (البقرۃ : ۷
"اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی سماعت پر، اور بصارت پر پردہ ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔”

طبع” اور "ختم” میں بہت معمولی سا لیکن ایک اہم فرق ہے۔ "طبع” چھاپنے/پرنٹ کرنے کو کہتے ہیں۔ اور "ختم” سر بمہر کر دینے کو۔

طبع” کی منزل پرقبولیتِ ایمان کا خفیف سا امکان رہتا ہے جب کہ "ختم” کے بعد صرف عذاب عظیم کا در کھلتا ہے کیونکہ جس کے قلب و نظر پر اللہ ربّ العزت ضلالت و گمراہی کی مہر لگا دے تو پھر کون ہے جو اس کے سینے میں ایمان و ہدایت کی روشنی داخل کر سکے۔
مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَا ھَادِیَ لَہ (الاعراف: ۱۸۶
"جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے کوئی ہادی (ہدایت کنندہ) نہیں۔”
وہ غفلت جس میں انسان پوری زندگی مبتلا رہ کر اللہ سے اعراض کرتا رہا وہ موت کے وقت اس کی نگاہوں سے ہٹا دی جائے گی کیونکہ موت کی غشی حق کے ساتھ آئے گی:-
وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ (ق : ۱۹
تو اس وقت نگاہوں کا حجاب اٹھا دیا جائے گا:-
لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآئَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ (ق : ۲۲
"تم اس سے غفلت میں پڑے رہے پس ہم نے تمہارا یہ پردہ ہٹا دیا تو آج کے دن تمہاری نظر بہت تیز ہے۔”
لیکن نظر کی یہ تیزی کچھ کام نہ آئے گی کیونکہ (قضی الامر) فیصلے تمام ہو چکے ہوں گے۔
بلا شبہ غفلت کے مختلف مدارج ہیں لیکن اپنی غفلت سے تنبیہ اور اِس حالت سے بیداری راہ معرفت کا پہلا قدم ہے:-
وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ (الاعراف: ۲۰۵

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.