خاتم النبییٖن سے خاتم الامۃ تک – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 70 – 71 ربیع الاول و ربیع الثانی 1439ھ

اشاعت خاص : ختم نبوت

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام میں توحید اور ختم نبوت، یہ دو ایسے عقیدے ہیں جو محض رسمی نظریات نہیں بلکہ عملی قوت کی حیرت انگیز تاثیر رکھتے ہیں۔ توحید کا تقاضا تو ہر امت اور ہر فردِ بشر سے کیا گیا اور اس میں اسلام اور مذاہب گزشتہ کی کوئی تخصیص نہیں مگر ختم نبوت کا عقیدہ صرف اس امتِ آخر سے مخصوص ہے اور سر دست یہاں اسی عقیدے سے متعلق گزارشات پیش کرنا مقصود ہے۔
عقیدہ ختم نبوت کا نظریہ مسلمانوں کی ہیئت اجتماعی کے لیے موت و حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک عقیدہ نہیں جسے مسندِ دل پر مقام تقدیس عطا کر دیا جاتا ہے یہ ایک زندہ نظریہ ہے جو اپنی ہمہ گیر تاثیر رکھتا ہے۔ اس نظریے کی یہی زندگی، اس امت اور گزشتہ امتوں کے درمیان مابہ الامتیاز ہے۔
نبی کریم ﷺ کو اللہ رب العزت نے اپنی وحی و الہام کا آخری مخاطب بنایا اور اس طرح آپ ﷺ تمام نبوتوں کے خاتم بنے۔ اس غیر معمولی عز و شرف کی بدولت ان کی امت بھی پیغام ربانی کی آخری مخاطب بنی۔ نبی کریم ﷺ خاتم النبییٖن ہیں تو اس شرف کے ساتھ کہ ان کی امت خاتم الامۃ بنی۔
امت مسلمہ کو اپنا یہ فخر سلامت رکھنا ہے تو عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ لازم ہے۔ یہ تحفظ فرائض امت کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک ہے اور اسلامی وحدت کی بقا ختم نبوت ہی پر منحصر ہے۔
یہ امت جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے احسانات سے کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتی۔ جنھوں نے انتہائی نا مساعد حالات میں بھی اس عقیدے کا تحفظ کیا اور ہر مدعی نبوت کاذبہ کو کیفر انجام تک پہنچایا۔
اس عقیدے کی عظمت حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے اسوہ سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انھوں نے اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کروانا پسند کیا مگر ایک کاذب کی تصدیق گوارا نہیں۔
اقبال نے کہا تھا : ’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘‘، ترکیب کا وہ نسخہ ختم نبوت ہی ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس عقیدے کی تہذیبی قدر و قیمت بیان کرتے علامہ اقبال فرماتے ہیں
’’اس کے معنی بالکل سلیس ہیں محمد ﷺ کے بعد جنھوں نے اپنے پیروئوں کو ایسا قانون عطا کر کے جو ضمیر انسان کی گہرائیوں سے ظہور پذیر ہوتا ہے، آزادی کا راستہ دکھا دیا ہے، کسی اور انسانی ہستی کے آگے روحانی حیثیت سے سر نیاز خم نہ کیا جائے۔ دینیاتی نقطہ نظر سے اس نظریہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسلام کہتے ہیں مکمل اور ابدی ہے۔ محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے جس سے انکار، کفر کو مستلزم ہو جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔‘‘ (حرف اقبال، ص ۱۲۷)
اس عقیدے نے نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے ساتھ ایک ایسی خاص نسبت دی ہے جس سے گزشتہ امتیں محروم تھیں۔
اس لیے یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کے لیے بھی اپنی اس متاعِ گراں مایہ سے دستبردار ہو جائے۔ آج عالم کفر کے جہابذہ علم و دانش اس نکتے کو جان گئے ہیں۔ اسی لیے وہ نبی کریم ﷺ سے مسلمانوں کی محبت کی آزمایش کرتے رہتے اور عقیدہ ختم نبوت پر زد لگانے کی پیہم کوشش کرتے ہیں۔ یہ رشک و حسد کی وہ قسم ہے جو منفی ذہنیت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ جس میں انسان کی نفسانی کیفیت اس درجہ غالب آ جاتی ہیں کہ حق کی شناخت کے باوجود وہ تسلیم حق کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ بھی اس نسبت میں مسلمانوں کے شریک ہو جاتے۔ اسلام صرف مسلمانوں کا دین نہیں ہے اور نہ ہی رسول کریم ﷺ صرف مسلمانوں کے پیغمبر ہیں۔ اسلام کی آفاقیت دائمی اور ابدی ہے اور اپنے دامن میں ہر طالبِ حق و صداقت کے لیے جگہ رکھتی ہے۔مبارک ہیں وہ سعید روحیں جنھوں نے اپنے قلب کی اس پکار کو سنا اور قبولِ حق کی سعادت حاصل کی

اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
— ٭ — ٭ — ٭ — ٭ –٭–

عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے اور اس عظیم فخر میں ہر مسلمان یکساں شریک ہے۔ کوئی مسلمان عقیدہ ختم نبوت کا اقرار کیے بغیر مسلمان نہیں رہ سکتا۔ ایسے میں کسی بھی طبقے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی محبت پر اپنی اجارہ داری قائم کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے عقیدہ ختم نبوت پر نقب زنی کی مذموم کوشش کی تھی تو ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہر مسلمان نے اس کی مخالفت کی۔ تمام مکاتب فکر کے اکابر آگے بڑھے اور انھوں نے اس دجالِ کاذب کے دعویٰ نبوت کی سختی سے تردید کی۔ آج مسلکی عصبیت اور فرقہ وارانہ تعصب کے زیرِ اثر ایک طبقہ دوسرے طبقے کی خدمات کا اعتراف نہیں کرتا اور ہر طبقہ اپنے طبقے کے اکابر کےذخیرہ حسنات کو محض اپنے طبقے کی خدمات باور کراتا ہے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری، پیر مہر علی شاہ گولڑوی، علامہ انور شاہ کشمیری کو دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے خانوں میں دیکھنا خود ان کی خدمات کو چھوٹا بنا دینا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے ایمانی غیرت کا تقاضا سمجھ کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ انجام دیا ہے۔ جس نے عقیدہ ختم نبوت کی چوکیداری کی وہ سب ہی امت کے محسن ہیں۔ اس میں کسی قسم کی تفریق غیر مناسب ہے۔

اس اتفاق میں ہرگز دراڑ نہ ڈالی جائے۔ ورنہ اسلامی وحدت کا سارا تصور مجروح ہو کر رہ جائے گا۔ اس عقیدے کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے عالم کفر کے نمائندے کم نہیں ہیں ہمیں شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کے کارِ مذموم کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور اس ضمن میں کی جانے والی ایسی ہر کوشش کو جو وحدت اسلامی کے تصور کو مجروح کرے سختی سے مسترد کر دینا چاہیے۔
آفرید کارِ عالم انسانیت نے ہمیں "خاتم الامۃ” بنا کر "خیر الامۃ” کے مقام رفیع پر فائز کیا ہے مگر ہم نے اس مقام کی قدر نہیں کی۔ نتیجہ معلوم زمانے کی ٹھوکریں ہمارا مقدر بن گئیں۔ اب بھی وقت نہیں گزرا، درِ توبہ و انابت کھلا ہے۔ آئو اپنے سر نہیں دل جھکا دو۔ کمر کو خم نہیں روح کو خمیدہ کردو۔
ہم اگر چاہیں تو آج بھی دنیا بدل سکتی ہے۔ اگر مصائب کے پہاڑ بلند ہیں تو کیا ہوا ہمارے عزائم کی بلندی سے بلند نہیں ہو سکتے۔ اگر پوری کائنات بھی رب کی توحید اور رسول کی رسالت کے خلاف در آئے تو کیا غم ہے، ہمارے ایمان کی طاقت کو زیر نہیں کرسکتی۔ ظلمتوں کی دھند خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو حق کا آفتاب کبھی تاریکی سے گہنا نہیں سکتا اور تیرہ و تیرگی خواہ کتنی ہی بڑھ جائے مگر روشنی کی ایک کرن کے سامنے ہار جاتی ہے۔غدارانِ ختم نبوت اور منکرین نبوت محمدی خواہ کچھ ہی کر لیں، نبی کریم ﷺ کی قدر و منزلت کے لیے : وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ فیصلہ الٰہی اور نوشتہ تقدیرہے، نا ممکن ہے کہ کبھی رسالت محمدیﷺ پر کوئی حرف آ سکے۔
آج بھی مسلمان اگر قرآن کے مخاطب مسلمان بن جائیں۔ آج بھی مسلمان اگر رسول کے متوالے مسلمان بن جائیں۔آج بھی مسلمان اگر نقوشِ صحابہ کو اپنا معیار زندگی بنا لیں۔ فلسفہ دجل و فریب کی پرستش ترک کر کے صدیق اور فاروق کو اپنا امام بنا لیں تو دنیا فتح کر سکتے ہیں۔ہم صرف ایک بار توحید کی عملی طاقت اور ختم نبوت کے پیغام وحدت کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بنا لیں تو یقین جانیے ہم تاریخ بدل دیں گے۔

Advertisements

One thought on “خاتم النبییٖن سے خاتم الامۃ تک – اداریہ

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s