عقیدہ ختم نبوت کو متنازعہ نہ بنایا جائے ! – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 68 – 69، محرم الحرام و صفر المظفر 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

عقیدہ ختم نبوت، اسلام کے نظریہ ایمان و ہدایت کا ایک بنیادی و اساسی عقیدہ ہے۔ جس کے اعتراف کے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ مشترکہ اسلامی میراث ہے جس پر کسی فرقہ کی کوئی اجارہ داری نہیں۔ کوئی مسلمان ایک لمحے کے لیے بھی اس عقیدے سے انحراف نہیں کر سکتا۔
یہ محض رسمی طور پر اظہار و بیان کرنے والا عقیدہ نہیں بلکہ انسانی زندگی میں نہایت دیرپا اور عمیق انقلاب پیدا کردینے والا عقیدہ ہے۔ اس عقیدے کی یہی حیرت انگیز تاثیر ہے جس نے عالم کفر کو سراسیمہ کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار اس عقیدے کے خلاف سازشوں کے تار بنے جاتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور یہ امت خاتم الامة۔ اس عقیدے سے نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عز و شرف کا اظہار ہوتا ہے بلکہ امت محمدیہ کی اہمیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔ اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی امت پیدا ہوگی۔ امت محمدیہ اللہ رب العزت کی آخری مخاطب امت ہے اور اس کائنات ارضی پر رب تعالیٰ کی توحید و وحدانیت کے پیغام کی نشر و اشاعت کی واحد ذمہ دار۔ سلسلہ ہدایت و رہبری کے لیے تنزیلِ وحی کا خاتمہ ہو گیا اور کتابِ ہدایت آگئی۔ گزشتہ کتابیں جانے کے لیے تھیں اس لیے چلی گئیں ان کے الفاظ محفوظ نہ رہ سکے۔ لیکن قرآنِ کریم اللہ کی ہدایت کا آخری کلام تھا جو جانے کے لیے نہیں، بلکہ دنیا پر ہمیشہ کے لیے چھا جانے کے لیے آیا تھا، اسی لیے اپنے نزول سے لے کر آج تک محفوظ و مامون ہے۔ اور جس امت پر یہ کتاب نازل کی گئی وہ نبوی فرائض کی ادائیگی کی ذمہ دار قرار پائی۔ اس سے قبل نہ کوئی امت اس کی مستحق ٹھہری تھی اور نہ ہی کسی امت کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا، ممکن نہیں ہے کہ امت محمدیہ اپنے مشترکہ اسلامی میراث کے عظیم فخر سے ایک لمحہ کے لیے تغافل کرے۔
مقام نبوت کی رفعتیں اپنی جگہ اور سلسلہ کذابین کی کاوشیں اپنی جگہ۔ امت نے ہر دور میں ان دجالوں و کذابوں کو دھتکار دیا اور تقدیرِ الٰہی نے ہر بار انھیں نشانہ عبرت بنا دیا۔ عقیدہ ختم نبوت کی چوکیداری پوری امت نے کی ہے ہر مکتبہ فکر کا اس میں حصہ ہے۔ یہ کسی کی تنہا میراث نہیں۔ للہ اسے متنازعہ نہ بنایا جائے۔ کل تک صرف بیرونی اشارے ہی اس عقیدے کے خلاف سازشیں کرتے اور ہرزہ سرائی کرتے تھے لیکن اب اندرونی تار بھی بنے جانے لگے ہیں۔ سازش کاروں کی سازش ان کے زعم کے مطابق اپنے انجام کار کی طرف بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں امت کے کسی فرد میں ایسی جرات نہیں تھی کہ وہ اس عقیدہ سے انحراف کی بات بھی زبان پر لا سکے۔ لیکن آج بر سر عام کہی جا رہی ہے۔ ایمان کے لبادے میں کفر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سازش کے خلاف پوری امت محمدیہ کو متحد و متفق رہنا ہے۔ صدیوں سے فرقہ پرستی کے جس ناسور کو شیطان نے سنبھال سنبھال کر سینچا ہے، وہی فرقہ پرستی اور عصبیتِ مذہبی اس عقیدے کو متنازعہ بنانے کا سبب بنی گی۔ ہمیں بخوبی سمجھ لینا چاہیے کہ ایک طرف عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہے اور دوسری طرف فرقہ پرستی کا قعر مذلت۔ ایک طرف مشترکہ اسلامی میراث ہے جس سے کسی مسلمان کو دستبردار نہیں ہونا چاہیے اور دوسری طرف مسلکی حمیت و غیرت کا وہ ناسور جو اسلام کی غیر معمولی آفاقیت کی جگہ انتہائی محدود لیکن انتہائی پست ذہنیت کا حامل بنا دیتا ہے۔
قانونِ الٰہی کل بھی وہی تھا اور آج بھی تغیر پذیر نہیں ہوا۔ غدارانِ ختم نبوت کل بھی رسوا ہوئے تھے اور آج بھی ان کے سر پر خاک ہی پڑے گی۔ اللہ اس امت میں ایسے لوگ ہمیشہ پیدا کرتا رہے گا جو ختم نبوت کے چوکھٹ کی چوکیداری کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ آج جو منافقین اپنے بیرونی آقاﺅں کے اشارے پر ایمان کی اس اساس پر ضرب کاری لگانا چاہتے ہیں، قریب ہے کہ اپنے ذلت آمیز انجام کو پہنچیں۔ یہ انجام انھوں نے خود ہی اپنے لیے تیار کیا ہے۔ ممکن نہیں کہ قانونِ الٰہی اپنا اعادہ نہ کرے۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو عقیدہ ختم نبوت کی چوکھٹ کا محافظ بنائے اور فرقہ وارانہ عصبیت کی پستیوں سے بلند کرے۔ آمین

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.