تبصرہ کتب : تصوف و احسان، زبان خامہ کی خامیاں


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

تصوف و احسان، علمائے اہلِ حدیث کی نظر میں

مؤلف : ابن محمد جی قریشی
صفحات : ١٥٧
طبع اوّل : دسمبر ٢٠١٦ء
ناشر : پورب اکادمی، اسلام آباد
کتاب ایک مقدمہ اور چھ ابواب میں منقسم ہے، ابواب کے عناوین حسبِ ذیل ہیں، جن سے کتاب کے مباحث کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
1 تصوف و احسان اور مسلکِ علمائے اہلِ حدیث
2 خدمات صوفیاء اور علماء اہلِ حدیث کا اعتراف
3 اکابرین اہل حدیث کی تحصیل السلوک کے لیے دعوت و فکر
4 تصوف کیا ہے ؟
5 مسلک اہل حدیث اور بیعت و ارادت
6 صوفیا اہل حدیث اور طریق السلوک
بلاشبہ اپنے موضوع پر یہ کتاب بڑی اچھوتی اور دل چسپ ہے۔ مصنف کی تحریر سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا اس کتاب کو لکھنے کا مقصد اہلِ حدیث کی جانب سے تصوف سے متعلق جو بد گمانیاں ہیں ان کا ازالہ کرنا ہے۔ تاکہ وہ مطلقاً تصوف اور اکابر صوفیہ کی تنقیص و تحقیر سے اعراض کریں کیونکہ تصوف واقعتا کوئی غیر اسلامی نظریہ ہوتا تو اکابر اہل حدیث تصوف کی طرف ہرگز مائل نہ ہوتے۔ دوسرا مقصد انھوں نے خود بتا یا ہے کہ اشغالِ نقشبندیہ کو اختیار کیا جائے یہی اصل اسلام کا نمونہ ہے اور صوفیہ اہل حدیث کا منہج۔
مؤلف نے کتاب میں عمومی طور پر وہی رویہ اختیار کیا ہے جو تصوف کی امہات کتب میں ملتا ہے۔ جہاں ایک باب علمائے ظاہر کی ان غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے لکھا جاتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہمارا تصوف قرآن و حدیث سے ماخوذ ہے۔ قرآن و حدیث کے علاوہ یا اس کے بر خلاف ہم کسی عقیدے کے قائل نہیں۔ تصوف کی تمام کتابوں میں یہ دل کش اور پُر فریب تصویر پوری قوت سے پیش کی جاتی ہے۔ خود مصنف کی یہ کتاب توحیدو سنت کے دعوے سے شروع ہو کر شرکیہ وکفریہ عقائد کے چور دروازے کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ قرآن و حدیث سے اپنی خود ساختہ معنی و مفہوم حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مؤلف کے پیر و مرشد امیر محمد اکرام اعوان صاحب فرماتے ہیں:
”اہل حدیث حضرات میں بڑے بڑے اہل اللہ ہوئے اور انھوں نے رہ نمائی کا حق بھی ادا کیا اور جو کچھ علماء و صوفیائے اہل حدیث سے نقل ہوا ہے، بخدا یہی تصوف ہے نہ اس سے کم نہ زیادہ۔” (ص ١١،١٢)
مؤلف نے کتاب کے صفحہ ١١٣ پر اپنے مذکورہ پیر و مرشد صاحب کی مجلس ذکر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :
”توجہ، لطائف، مراقبات ثلاثہ، مراقبہ سیر کعبہ، مراقبہ روضہ اطہر و مسجد نبوی کے مراقبہ فناء فی الرسول کروایا جاتا ہے جس میں سالک کو روحانی طور پر بارگاہِ نبوی میں پیش کیا جاتا ہے۔”
اس پر کسی اہل حدیث کا حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی پوری کتاب میں ان اشغال کے لیے کتاب و سنت سے کوئی دلیل پیش کی ہے ۔
ایک مقام پر مؤلف لکھتے ہیں:
”یہاں پر میں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ امت میں آج تک اہل علم ”تصوف” کو بمعنی ”احسان و تزکیہ” ہی کہتے اور سمجھتے رہے ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی پہچان لفظ ”صوفی” سے ہوتی رہی ہے، اور اس پر اہل علم کے ہاں کوئی اختلاف نہیں ملتا۔ یہ الفاظ مفسرین اور محدثین کے ہاں بھی انھی معنوں میں مستعمل رہے ہیں۔ اس لیے ایسے حضرات جو لفظ ”تصوف” یا ”صوفی” پہ چیں بہ جبیں ہوتے ہیں، انھیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔” (ص ٢٤، ٢٥)
احادیث میں جسے احسان و سلوک کہا گیا ہے، اگر اس کا نام اصطلاحِ جدید میں ”تصوف” رکھ لیا جائے تو کوئی حرج نہیں کہ لا مشاحة فی الاصطلاح ۔ مقصودِ اصلی واضح ہو جانے کے بعد نام کی کوئی اہمیت نہیں۔ مگر افسوس اسی بات کا ہے کہ تصوف صرف الہامی تعلیمات پر قانع نہیں رہ سکا۔ مؤلف کا یہ دعویٰ تو قطعاً محلِ نظر ہے کہ محدثین تصوف کو انہی معنوں میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ ”صحیح مسلم” کا مقدمہ پڑھ جائیے جس میں طبقہ صوفیہ کو جھوٹا کہا گیا ہے اور ایسا جھوٹا کہ یہ اگر سچ بھی بولنا چاہیں تو ان کی زبان سے جھوٹ ہی نکلتا ہے۔
امام احمد بن حنبل کی مشہور صوفی حارث بن اسد محاسبی پر تنقید معروف بات ہے۔
مؤلف لکھتے ہیں:
”تصوف اسلامی کی اصل دشمن غیر مسلم قوتیں ہیں جو کہ اس بات کو اچھی طرح جانتی ہیں کہ اگر تصوف اسلامی عالم اسلام میں رائج ہو گیا تو پھر یہ سویا ہوا شیر بیدار ہو جائے گا۔” (ص ٣٤)
مؤلف کی یہ بات کسی شگوفے سے کم نہیں، پتہ نہیں ابھی تک سلوک کی کونسی منزل پر ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ موصوف کو کشف ہوا ہو یا یہ تحریر لکھتے وقت حالتِ سکر میں ہوں، خیر جو بھی ہو۔ پوری اسلامی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ غیر اسلامی شرکیہ و کفریہ عقائد کو پھیلانے کا سب سے سہل ترین راستہ خانقاہی نظام تصوف ہی ہے۔ مؤرخین سے لے کر خود اہلِ تصوف کو بھی اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اہل تصوف ہمیشہ دانستہ یا نا دانستگی میں غیر اسلامی عقائد و نظریات کا پرچار کرتے رہے۔ قبر پرستی، پیر پرستی، غیر اللہ کو سجدہ یہ وہ اعمال ہیں جنہیں کتبِ تصوف میں ادب و احترام کا درجہ حاصل ہے جب کہ اسلام کی رو سے یہ عبادات میں داخل ہیں جو کسی غیر اللہ کی نہیں کی جا سکتی۔
صفحہ ٨١ پر ”ارشاداتِ رحیمیہ” کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”حضرت خواجہ محمد یحیٰ بن حضرت عبید اللہ (قدس اللہ اسرارھما) سے منقول ہے کہ اصحاب تصرف کئی قسم پر ہیں۔ بعضے ما ذون و مختار ہیں کہ حق سبحانہ کے اذن اور اپنے اختیار سے جب چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں اور اس (طالب) کو مقام فنا اور بیخودی پر پہنچا دیتے ہیں اور بعض دوسرے اس قسم کے ہیں کہ باوجود قوت تصرف کے سوائے امر غیبی کے تصرف نہیں کرتے۔ جب تک درگاہِ الٰہی سے مامور نہ ہوں کسی کو توجہ نہیں دیتے اور بعض دیگر اس طرح کے ہیں کہ ان پر کبھی کبھی کوئی صفت یا کوئی حالت غالب ہو جاتی ہے۔ تو اس غلبہ حال کے وقت مرید کے باطن میں تصرف کرتے ہیں اور ان کو اپنے حال سے متاثر کر دیتے ہیں۔ جو شخص نہ مختار ہو اور نہ ماذون ہو اور نہ مغلوب ہو اس سے تصرف کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔”
اس عبارت پر کیا تبصرہ کیا جائے ؟ کیا یہ اہلِ حدیث کے تصورِ توحید کے مطابق ہے ؟ مؤلف کو تو کتاب میں اہل حدیث کا تصوف پیش کرنا تھا ، یہ کیا پیش کر دیا ؟
اس عبارت کے بعد ”تنبیہ” کے زیر عنوان مؤلف لکھتے ہیں :
”اس فیض و برکت کا ذکر کتب سابقہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی نسل کے انبیائے بنی اسرائیل کے حالات میں بھی  ملتا ہےاور اسے انگریزی میں (ٹو گو بلیسنگس) کہتے ہیں۔ یعنی کسی کو فیض و برکت بخشنا۔” (ص 81) ۔

یہ کتبِ سابقہ ، اہل حدیث کی کتابیں اور علمائے بنی اسرائیل کیا اہلِ حدیث تھے ؟
صفحہ ١١٣ پر مؤلف لکھتے ہیں:
”بیعت سلوک کے اس مختصر سے تذکرے کے بعد آئیے ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں کہ صوفیائے اہل حدیث کا طریقہ تربیت تصوف و سلوک کیا تھا۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ حضرات صوفیاء اہلِ حدیث کا تصوف سلوک بعینہ وہی ہے جو خاندان شاہ ولی اللہ اور سلسلہ نقشبندیہ میں ملتا ہے۔ یعنی توجہ، لطائف اور مراقبات وغیرہ۔ صوفیاء کی اصطلاح میں ان کو اشغال کہا جاتا ہے اور یہی طریقہ آج بھی صوفیاء عظام کے ہاں ملتا ہے۔ راقم الحروف نے اس عہد کے جید عالم دین اور عظیم صوفی و مفسر قرآن حضرت امیر محمد اکرم اعوان  کی مجلس ذکر میں دیکھا ہے۔ توجہ ، لطائف، مراقبات ثلاثہ، مراقبہ سیر کعبہ، مراقبہ روضہ اطہر و مسجد نبوی کے بعد مراقبہ فنا فی الرسول  کروایا جاتا ہے جس میں سالک کو روحانی طور پر بارگاہِ نبوی میں پیش کیا جاتا ہے، راقم الحروف ایک دو نہیں بیسیوں ایسے خوش قسمت سالکین کو جانتا ہے، جنہیں بارگاہِ نبوی کی حاضری نصیب ہے۔ یہ بہت اونچا مقام ہے اور اہلِ ذوق کے لیے ہے۔”
کیا مؤلف یہ بتانا پسند کریں گے کہ یہ طریقہ تربیت و سلوک قرآن کی کس آیت یا نبی  کی کس حدیث سے ماخوذ ہے اگر اکابر اہل حدیث کا طریقہ دعوت و سلوک اسی قسم کا تھا تو پھر امیر اکرم اعوان کا حوالہ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ ان مراقبات ، توجہ و کشف سے سوائے حیرت و وہم کے کچھ حاصل نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ خود اکابر صوفیہ نے بھی اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے دیکھیے : ”مکاتیب معصومی”
مؤلف نے سب سے پہلے جس شغل کا ذکر کیا ہے وہ ”توجہ”ہے۔ اس ”توجہ” سے متعلق حضرت مولانا عبد اللہ غزنوی کیا فرماتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے۔ ان کے ایک شاگرد قاضی محمد خان پوری نے ان سے ”توجہ” کی فرمائش کی تو مولانا عبد اللہ غزنوی نے فرمایا:
”میں پہلے یہ کام کیا کرتا تھا لیکن چونکہ یہ امر خلاف سنت ہے اس لیے میں نے اسے ترک کر دیا ہے تمہارے لیے سب سے بڑھ کر یہ مفید ہے کہ نماز معنیٰ کا خیال رکھ کر پڑھا کرو، اس سے بڑھ کر کوئی ذکر نہیں۔” (تذکرہ علماء خان پور ، ص ١٧٩)
صفحہ ١١٥ پر ”طرہ امتیاز نسبتِ اویسیہ” کے زیر عنوان مؤلف لکھتے ہیں:
”اس سلسلہ کا طرہ امتیاز آقائے نامدار e کے دست اقدس پر بیعت ہے اور بحمد للہ یہ کوئی ڈھکی چھپی یا راز کی بات نہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں ماسوائے سلسلہ عالیہ کے اس دولت کے امین اور اس کا بانٹنے والا کوئی نہیں ملتا، خلوص فی النیت، خلوص فی العمل اور رضائے باری کی تڑپ لے کر جس کا جی چاہے آئے اور خود دیکھ لے۔”
لگتا ہے آپ نے ابھی تک اپنی خانقاہ سے باہر قدم ہی نہیں رکھا، آپ دنیا چھوڑیے صرف پاکستان کے مختلف درگاہ و مزارات کا دورہ کر لیجیے، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ دولت کتنی وافر مقدار میں موجود ہے۔ پیر کامل کا تو خیر ذکر ہی کیا ایک چرسی، موالی اور بھنگ پینے والے کا کشف و مراقبہ آپ نے دیکھ لیا تو اپنے اس دعویٰ پر سوائے شرمندگی کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔
مؤلف اہل حدیث کا تصوف پیش کرنا چاہتے تھے مگر وہ کسی اور ہی ڈگر پر نکل گئے۔ آخر میں ہم مشہور محدث شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی کے مجموعہ مکاتیب سے چند اقتباسات پیش کر رہے ہیں جس سے اس امر کی وضاحت ہو سکے گی کہ اہل حدیث کے نقطہ نظر کے مطابق احسان و سلوک کیا ہیں :
”چلہ کشی سے اس قدر فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے جس قدر کہ تہجد سے دل کی کشادگی و صفائی صوفیائے کرام نے پائی ہے مگر پہلے دل کو دنیا و ما فیہا سے فارغ رکھنا چاہیے۔” (مکاتیب نذیریہ ، ص ٢١)
”بندہ کو بجز بارگاہِ مولیٰ اور توبہ کے چارہ نہیں ہے۔” (ص ٤٢)
”اگرچہ عوارف المعارف آپ کی مطبوع خاطر ہے لیکن صحاح ستہ کو میں زیادہ پسند کرتا ہوں۔” (ص ٧٢، ٧٣)
”میری باتیں صرف اللہ اور اس کے رسول کا قول ہے صحاح ستہ میں باب رقاق کو دیکھا اور پڑھا ہے وہ سب تصوف و فقیری ہے اور درویشوں نے کہاں سے حاصل کیا ہے اسی فصل رقاق سے۔” (ص ٨٦)
”اگر تہجد کے وقت خلوص دلی میسر ہو اور کسی طرف توجہ نہیں ہو تو یہ خلوص ہزار چلّوں کے برابر ہے۔” (ص ٨٦)
”خدا کے پہنچنے کا مقام مسجد ہے نہ قبر، مسجد سے جو کوئی بھاگے اور مزار پر بیٹھے وہ خدا سے بھاگتا ہے، اس کی تقدیر میں خدا رسیدگی نہ ہوگی۔”(ص ٨٦، ٨٧)
”نادان بے وقوف کی بیعت سے احتیاط کریں آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ میں پیری و مریدی سے بیزار ہوں مگر توبہ مسنونہ کی بیعت لینی بہترین نتائج کے حصول کا سبب ہے بندہ فقیر نے پیری کی دوکان نہیں لگائی ہے کہ ہر خاص و عام آئیں اور روپیہ دے کر سودا لیں ۔” (ص ٩٧)
بہر حال مؤلف نے کتاب علمائے اہل حدیث کے تصوف سے شروع کی اور اختتام مروّجہ مراسم صوفیت پر کیا۔ ان مراسم کا اثبات وہ علمائے اہل حدیث سے ثابت کرنے میں قطعاً ناکام رہے۔

(مبصر : محمد کامران صدیقی)

زبانِ خامہ کی خامیاں

از قلم : علیم ناصری
اضافہ : مولانا محمد اسحاق بھٹی
صفحات : ٢٢٢
طبع اوّل : مئی ٢٠١٧ئ
ناشر :دار ابی الطیب، گلی نمبر ٥، گل روڈ، حمید کالونی، گوجرانوالہ 055-3823990
کسی بھی زبان کی زندگی اسی میں ہے کہ اس کے اصول و قواعد زندہ ہوں۔ نظم و نثر ہو یا زبان و بیان ، ان میں اس کی پابندی کی جائے۔ چنانچہ اہل علم ادباء کا گروہ ہر دور میں زبان و قلم کی اصلاح پر متوجہ رہتا ہے۔ جس زبان کی اصلاح پر توجہ منعطف نہیں کی جاتی وہ زبانیں جلد یا دیر معدوم ہو جاتی ہیں۔
اردو ایک زرخیز و درخشاں زبان ہے، اور اپنے آغاز سے لے کر تا ہنوز مسلسل وسعت پذیر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب اردو تحریر و انشا میں سرزد ہونے والی بعض اغلاط کی اصلاح پر تحریر کی گئی ہے۔ کتاب کے فاضل مصنف جناب علیم ناصری مرحوم اردو زبان کے بڑے غیور طبع اور پایہ کے ادیب تھے۔ تنقید نگاری کا بھی انھیں نہایت عمدہ سلیقہ حاصل تھا۔ زیر تبصرہ کتاب بھی دلچسپ تنقیدی پیرایے میں لکھی ہے۔
اردو میں کسی دوسری زبان کی غیر ضروری آمیزش کے وہ خلاف ہیں۔ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
”راقم الحروف کی نظر میں انگریزی کا لفظ وہاں استعمال کرنا چاہیے، جہاں ہماری زبان کا کوئی متبادل لفظ موجود نہ ہو اور انگریزی کا لفظ عام ہو۔” (ص ١٠٥)
ایک جگہ قدرے تلخ لہجے میں لکھتے ہیں:
”اردو زبان اتنی گئی گزری نہیں کہ انگریزی کے گھسے پٹے الفاظ سے عبارت کو بوجھل، بلکہ بعض اوقات مہمل بنا دیا جائے۔ یہ ضروری نہیں کہ لوگوں پر اپنی انگریزی دانی کا رعب گانٹھنے کی کوشش کی جائے۔” (ص ٧٠)
”لا” سے بنائے گئے الفاظ سے متعلق لکھتے ہیں:
”لا، عربی کا حرفِ نفی ہے، ہمارے ہندوستانی بزرجمہروں نے ”لا” کے ساتھ بہت سے الفاظ بنا رکھے ہیں، مثلاً : لا پتہ، لا پروا، لا چار۔ شاید کچھ اور بھی ہوں، مگر یہ تین الفاظ بہت استعمال ہوتے ہیں اور تینوں غلط ہیں۔ زبان کے قواعد کے تحت عربی لفظ کے ساتھ اردو، ہندی الفاظ کو ملا کر مرکب بناناسراسر غلط ہے۔” (ص ١٦٠)
مرکبات کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”ارباب قواعد و نحو نے اس کے اصولوں میں یہ اصول خاص طور پر قائم کر رکھا ہے کہ عربی یا فارسی کے مرکبات کے لیے مرکب کے دونوں لفظ یا عربی ہوں یا فارسی، ایک زبان کا لفظ دوسرے زبان کے لفظ سے ملا کر مرکب بنانا معیوب ہے، لیکن مسلمانوں کی اخوت نے عربی، اردو، فارسی کو چونکہ مادری زبانوں کی طرح عزیز بنا دیا ، اس لیے ان دونوں زبانوں کے الفاظ (کم از کم ہمارے ملک میں اور شاید ایران میں بھی) کے مرکب کا استعمال جائز بنا لیا ہے، جیسے پیکرِ حرمت، جوشِ جہاد، رگِ حمیت، گرد و غبار وغیرہ، مگر اردو (ہندی) کے الفاظ میں اس کی ممانعت بدستور ہے۔” (ص ٧١)
بعض غلط العام الفاظ کی اصلاح بھی کی گئی ہے، اور یہ اصلاح بھی بڑے عمدہ اسلوب میں کی گئی ہے۔ اساتذہ کے کلام کو بھی حوالے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ”نگہت” کا لفظ عام ہے اور عموماً مستورات کا نام نگہت بھی رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ درست نہیں ، صحیح ”نَکہَت” ن اور ہ پر زبر کے ساتھ۔ مؤلف لکھتے ہیں:
”نَکھَت، فارسی لفظ ہے جس کے معنی خوشبو، پھول کی مہک ہے۔ موسم بہار میں پھول کھلتے ہیں تو ان کی خوشبو ہوا میں بھی دور تک جاتی ہے۔ کسی رنجیدہ خاطر شاعر کو ایسی ہی مہکتی ہوا کا جھونکا آیا تو اس نے اس کو مخاطب کر کے کہا

نہ چھیڑ اے نکہت بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

آشفتہ خاطری میں خوشبو بھی بری لگتی ہے۔ یہ انشا اللہ خاں انشاء کی بڑھاپے کی غزل ہے جب وہ شاہی دربار سے بھی معطل ہو گئے تھے!”(ص١٤١، ١٤٢)
”بارات” سے متعلق لکھتے ہیں:
”بارات، کوئی لفظ نہیں ہے۔ ”برات” قسمت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے کہتے ہیں :”فلاں چیز میری برات میں نہ تھی ، لہٰذا گم ہو گئی۔” اقبال کا مصرع ہے

شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

شادی میں دلہن لانے کے لیے عزیز و اقارب کی ایک جماعت جاتی ہے، اس کو بھی ”برات” کہتے ہیں۔ یہ ”بر” (خاوند) اور ”آت” (آنا) سے مرکب ہے۔ اس کو ”بارات” لکھنا یا بولنا غلط ہے۔” (ص ١٦٠، ١٦١)
یہ اصلاح اصلاً جناب علیم ناصری کے مضامین کا مجموعہ ہے جو ہفت روزہ ”الاعتصام” لاہور میں ”زبانِ خامہ کی خامیاں” کے زیر عنوان شائع ہوئے۔ اسی دوران مولانا محمد اسحاق بھٹی کے بھی چند مضامین متعلقہ موضوع پر طباعت پذیر ہوئے، اور بعض اہل علم کی تنقید و اصلاح بھی ”الاعتصام” کی زینت بنیں۔ یہ تمام مضامین اب اس کتاب کا حصہ ہیں۔ کتاب کی تقریبِ طباعت کچھ اس طرح رہی کہ ہمارے محترم دوست حافظ شاہد رفیق جو عمدہ ادبی ذوق رکھتے ہیں، ان مضامین کی ادبی اہمیت کے پیش نظر اسے یکجا کیا اور طباعت کے لیے تیار کیا۔ کتاب پر مولانا حافظ صلاح الدین یوسف نے پیش لفظ لکھا ہے اور جناب محسن فارانی نے نظر ثانی کے فرائض انجام دیئے۔ یہ” نظر ثانی ” آج کل کے چلن کے مطابق محض ”حصولِ برکت” کے لیے نہیں بلکہ قرارِ واقعی نظر ثانی ہے۔ چنانچہ بعض مقامات پر ان کے حواشی بھی موجود ہیں۔
کتاب بہت عمدہ اور دل چسپ ہے۔ ارباب نثر کے لیے تو اس کا مطالعہ ہر اعتبار سے مفید ہے ہی لیکن جو افراد اردو زبان کے محاسن سے متعارف ہونا اور اچھی اردو بولنا چاہتے ہیں انھیں اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

(مبصر: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی)

 

 

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s