علم کے نام پر بے علمی کی باتیں


الواقعۃ شمارہ : 64-65، رمضان المبارک و شوال المکرم 1438ھ

از قلم : ابو نصر فاروق

الرَّحْمَنُ (۱) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (۲) خَلَقَ الْاِنسَانَ (۳) عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (۴) (الرحمن: ۱-۴)
"رحمن نے قرآن کی تعلیم دی۔ اُس نے انسان کو پیدا کیا اور اُسے بولنا سکھایا۔”
اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ (۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (۴) عَلَّمَ الْاِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ(۵)(العلق : ۳-۵)
"‘پڑھو اور تمہارا ر ب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔”
اہل دنیا کے پاس حیات و کائنات سے متعلق جتنی معلومات ہیں اُن کا ایک ذریعہ تو اللہ اور اُس کے آخری نبی ﷺ کے اقوال ہیں۔ اور دوسرا ذریعہ انسانوں کا قیاس و گمان اور آدھی ادھوری معلومات ہیں۔اللہ اور رسول کے عطا کردہ علم سے محروم انسان کا حال شاعر نے اس شعر میں بخوبی بیان کیا ہے:
سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنی
ـنہ ابتداکی خبر ہے نہ انتہامعلوم
اس کے برعکس اہل ایمان کو قرآن ازل کی بھی خبر دیتا ہے اور حشر میں کیا ہوگا یہ بھی بتاتا ہے۔اس لیے بے علمی کا مسئلہ سچے اہل ایمان کا نہیں ہے۔علم حقیقی Ultimate realityصرف اہل ایمان کے پاس ہے اور وہ بھی مخصو ص اہل ایمان کے پاس جن کی خصوصیت قرآن یہ بتاتا ہے:-
اِنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء (فاطر: ۲۸)
"حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔”
یعنی علم حقیقی صرف اُن لوگوں کے پاس ہے جن کے دل میںخوف خدا ہے۔خوف خدا سے محروم مسلمان بھی علم حقیقی سے محروم ہے۔یہ بات معلوم ہو چکی کہ علم اللہ نے انسان کو دیا ہے۔انسان نے بذات خود علم حاصل نہیں کر لیا ہے۔جس طرح اللہ جس کو جتنی چاہتا ہے روزی دیتا ہے اسی طرح جس انسان کو جتنا چاہتا ہے علم دیتا ہے۔ جس شخص کو علم کی تمنا ہو اُسے یہ دعا پڑھنی چاہیے:-
رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْماً (طہٰ: ۱۱۴)
"‘یا اللہ مجھے مزید علم عطا فرما۔”
یہ دعا صرف اہل تقویٰ اوراہل ایمان ہی کر سکتے ہیں۔ تقویٰ اورایمان سے محروم انسان اس دعا کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرتا، کیونکہ وہ قرآن پر ایمان نہیںرکھتا ہے۔علم کے معاملے میں انسان اللہ کی رحمت کا کتنا محتاج ہے اِس کا ثبوت اِس آیت سے ملتا ہے:-
وَلاَ یُحِیْطُونَ بِشَیْء ٍ مِّنْ عِلْمِہِ اِلاَّ بِمَا شَاء
"اُس کی معلومات میں سے کوئی چیزاِن کی گرفت ادراک میں نہیںآ سکتی الا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے۔” (البقرۃ:۲۵۵)
بحث اِس پر بھی ہوتی ہے کہ علم کیا ہے اور کیا علم نہیں ہے۔اِس موضوع پر بات کرنے سے پہلے بولنے والے کو قرآن اور احادیث رسول ﷺ کا علم حاصل کرنا چاہیے تب وہ اشیا کی حقیقتیںجان سکے گا۔ ورنہ محض اپنے قیاس و گمان سے بے علمی کی باتیں کرے گا۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا:-
"اصل علم تین ہی ہیں آیات محکمات (قرآن کریم) سنت قائمہ(وہ سنتیں جو قائم چلی آ رہی ہیں) اور فریضہ عادلہ۔ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ لا یعنی ہے ۔ "‘ (ابو داود،ابن ماجہ)
علم کی تعریف سورہ علق کی آیت کی روشنی میں یہ کی گئی ہے: یَعْلَمُ مَا لَا یَعْلَمُ(جو بات نہیںمعلوم تھی اسے جان لینا علم ہے۔)یہ علم کی عام تعریف ہے۔علم کی اتنی قسمیں ہیں کہ اُن کا شمار ممکن نہیں ہے۔میرے نزدیک علم کو تین حصوں میں تقسیم کیاجانا چاہیے۔علم کا ایک حصہ وہ ہے جس کی حیثیت فرض اور لازم Compulsoryکی ہے۔علم کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کی حیثیت اختیاریOptionalہے۔اور علم کاتیسرا حصہ وہ ہے جس کی حیثیت امتیازیExtra ہے۔ جس علم کو حاصل کرنے کے بعد انسان اللہ کا فرماں بردار متقی اور صاحب احسان بندہ بن جاتا ہے وہ فرض ہے۔اِس علم میں عقل و شعور، حکمت و دانائی، سلیقہ مندی، تہذیب و شائستگی جیسی اعلیٰ قدریںبھی شامل ہیں جو آدمی کو اشرف المخلوق بناتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-
” تم میں کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو عمدہ اخلاق کے حامل ہیں۔”‘(ترمذی)
اخلاق کوایمان سے جوڑ کر نبی مکرم ﷺ ۖنے اپنے ماننے والوں کو قوموں کی امامت کا منصب عطا کر دیا۔اہل دنیا عمدہ اخلاق اپنی ضرورت کے تحت اپناتے ہیں لیکن اہل ایمان اگر بد اخلاق ہوگا تو اس کا ایمان ہی ناقص ہوجائے گا۔اندازہ کر سکتے ہیں کہ اہل ایمان جیسے اخلاق مند ہو سکتے ہیں ایمان سے محروم لوگ ویسے حسین اخلاق کے حامل نہیں ہو سکتے ہیں۔
علم کے دوسرے حصے کا تعلق، جسے میںنے اختیاری کہا، وہ ہے جس کا تعلق معاش سے ہے۔ شریعت کا حکم ہے کہ فرض نماز اداکرنے کے بعد حلال روزی کمانا فرض ہے۔صنعت و حرفت سیکھے بغیر کوئی فرد حلال روزی نہیں کما سکتا ہے۔چنانچہ ہر اہل ایمان پر حلال روزی کمانے کے لیے کسی نہ کسی صنعت و حرفت کا سیکھنابھی فرض ہے۔لیکن اس فرض میں فرق یہ ہے کہ کسی ایک ہی حرفے اور پیشے کا سیکھنا سب پر لازم نہیں ہے بلکہ ہر انسان اپنے حالات اور شوق کے مطابق حرفے اور پیشے کو اختیار کرے گا۔گویا علم کا یہ حصہ فرض بھی ہے اور اختیاری بھی ہے۔
عام لوگوں کی بہ نسبت خاص لوگ معاشرے میںامتیازی مقام پاتے ہیں۔اِس کے لیے اُن کے اندر کوئی ایسی خوبی ہونی چاہیے جو عام لوگوں میں نہیں پائی جاتی ہو۔چنانچہ اِس شوق کے حامل لوگ اپنے اندر کوئی ایسی صفت پیدا کرنا چاہیں گے جس سے ان کو معاشرے میںامتیاز ملے۔اس زمرے کے علم اور کمال کو میںنے اضافیExtraکے درجے میں رکھا ہے۔اس زمرے میں قرآن کی رو سے جو چیز درجہ اول مقام کی ہے وہ تقویٰ ہے۔ قرآن کہتا ہے:-
اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ (الحجرات:۱۳)
"‘تمہارے اندر سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔”
رسول اللہ ﷺۖ نے فرمایا:-
” تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو قرآن کا علم سیکھے اور سکھائے۔”(ترمذی)
اسلام اپنے ماننے والوں کو انسانیت کا ہمدرد اور خیر خواہ بناتاہے اور دنیا سے زیادہ آخرت کی کامیابی کی تلقین کرتا ہے چنانچہ اس رجحان کو پروان چڑھانے والے اس فرمان رسول ۖکو پڑھیے: –
"‘حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا :جو آدمی اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے بجائے دنیا کمانے کی غرض سے علم سیکھتا ہے اسے قیامت کے دن جنت کی ہوا بھی نہیں لگے گی۔”(احمد، ابوداود، ابن ماجہ )
یعنی علم سیکھنے کی اصل غرض اللہ کی خوشنودی ہونی چاہیے نہ کہ زر پرستی۔ اللہ کے بندوں کی خدمت کرنے سے اللہ خوش ہوتا ہے۔
لیکن عصر حاضر میں پوری مسلم ملت، نوجوانوں کو انگریزی اور سائنس پڑھنے کی جو تبلیغ، تلقین اور تاکید کر رہی ہے اس کا مقصد صرف روپے کمانا اور دنیا کی زندگی عیش و عشرت کے ساتھ گزارنا ہے۔ اللہ کی خوشنودی اور رسول ﷺ سے محبت کا اس تعلیم سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔علم اور تعلیم کے یہ مشورے نئی نسل کو تباہی کی طرف لے جانے کے لیے دیے جارہے ہیں یا دونوں جہاں کی کامیابی کے لیے دیئے جا رہے ہیں۔ فیصلہ ہر شخص خود کر لے۔
ایک شخص دین کا علم سیکھتا ہے کہ بندگان خدا کو خدا پرست بنائے گا،دوسرا آدمی قرآن کا علم حاصل کرتا ہے کہ لوگوں کو کلام الٰہی سے قریب کرے گا اور اس میںموجود علم و حکمت کی باتیں لوگوںکو سکھائے گا،تیسرا آدمی زبان و ادب سیکھتا ہے تاکہ لوگوںکو اچھی زبان بولنا سکھائے گا،چوتھا آدمی،عصر حاضر کے علوم سیکھتا ہے تاکہ لوگوں کو دور حاضر کے تقاضوں سے آگاہ کرے گا،پانچواں آدمی ڈاکٹر بنتاہے کہ معمولی اجرت پر اللہ کے بندوں کا علاج کرے گا، چھٹا آدمی انجینئر بنتا ہے کہ حقیر قیمت پر لوگوں کا مکان بنوایاکرے گا،ساتواں آدمی ملکی قانون کا علم حاصل کرتا ہے تاکہ اگرکوئی بندۂ خدا کسی شیطان کے شکنجے میں پھنس جائے تو اس کی قانونی مدد کر کے اس کو راحت دلائے گا،آٹھواں آدمی صحافت سیکھتا ہے تاکہ مظلوم اور ناتواں انسانوںکے مسائل کو اجاگر کرے اور ان کو انصاف دلانے کی کوشش کرے، نواں آدمی مکینک بنتا ہے تاکہ لوگوں کی مشینیں درست کر کے ان کو آرام پہنچائے، دسواں آدمی ضرورت کے سامان بیچتا ہے تاکہ لوگ مناسب قیمت پر اصلی اور اچھا سامان خرید سکیں۔یہ سارے لوگ بظاہر دنیا داری کے کام کر رہے ہیںلیکن درحقیقت مجاہد ہیں کیونکہ ان کا مقصد دولت کمانا نہیں بلکہ بندگان خدا کی خدمت کرنا ہے۔ان کا کام ویسی ہی اعلیٰ عبادت ہے جیسے کوئی اسلام کی حمایت کے لیے میدان جنگ میں جا کر اپنی جان دے دیتا ہے یہ سارے لوگ نیک، متقی اور خدا ترس کہے جائیں گے اور ان کی منزل جنت الفردوس ہوگی۔(لیکن اہل علم کے درمیان بے علموں کے بیچ نہیں)۔
دوسری طرف………… ایک شخص عالم بنتا ہے،لیکن کسی کو دین کا علم نہیں سکھاتا، قرآن کورٹ لیتا ہے ، نہ خود قرآن جانتا ہے اور نہ کسی کو مفت میںقرآن پڑھاتا ہے،ایک شخص نمازی اور حاجی بن جاتا ہے لیکن اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کہ لو گ اسے دین دار کہیں۔اس طرح کا عمل کرنے والے سار ے لوگ شیطان کی ٹولی کے لوگ ہیںکیونکہ انہوں نے ایسے علوم سیکھے جو آخرت سازی کے لیے حاصل کیے جاتے ہیںلیکن ان کا استعمال دنیا کمانے کے لیے کرنے لگے۔یہ سب لوگ پکے دنیا دار کہے جائیں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم کی سلگتی آگ ہوگا۔(لیکن اہل علم کے بیچ، بے علموں میں نہیں)۔
کچھ بے علم لوگ علم کی اہمیت جتانے کے چکر میں قرآنی احکام کی غلط تعبیر و تشریح کرتے ہیں اور فرمان رسول کے نام پر غیر مستند اور جھوٹی باتیں بیان کرتے رہتے ہیں۔ان کو نہیں معلوم کہ وہ کتنا بڑا گناہ کرتے ہیں۔حدیث رسول میں مذکور ہے کہ قرآن کے متعلق جس کسی نے اپنے دل سے کوئی بات کہی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔یہی وجہ ہے کہ اردو زبان کے مفسرین قرآن بہت احتیاط کے ساتھ آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ جہاں انہیں کسی آیت کی تفسیر حدیث یا عربی تفاسیر میںنہیں ملتی وہاں وہ خاموش رہتے ہیں۔ اور آیات کی صراحت کرتے ہوئے بھی لکھتے ہیںکہ صحیح علم اللہ کے پاس ہے۔ایک حدیث کامفہوم یہ ہے کہ جس نے میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی ہے تو وہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ چنانچہ محدثین جب تک اطمینان نہیں کر لیتے تھے کہ جو بات کہی جارہی ہے وہ قول رسول ہے ،اس کو قبول کرتے ہی نہیں تھے۔یہ بھی فرمان رسول ۖ ہے کہ سنی ہوئی(پڑھی ہوئی بھی) بات کی جب تک تصدیق نہ کر لی جائے اسے نقل نہ کیا جائے۔ ایسا کرنے والا جھوٹا ہے۔لیکن دور حاضرکے بے علم لوگ نہایت اطمینان کے ساتھ مہمل اور لایعنی باتیں حدیث کے نام پر بیان کرتے رہتے ہیں۔اُن کو نہ خدا کا خوف ہے، نہ رسول ﷺ سے محبت اور نہ فکر آخرت۔
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداںہے اسے کیا کہیے

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s