قرآن ایک ابدی فیضان


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : پروفیسر عبد العظیم جانباز

ارشادِ ربانی ہے:-
اِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ یِہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ أَقْوَمُ
"بلاشبہ یہ قرآن سب سے سیدھے راستے کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔” (سورة بنی اسرائیل:۹)
ایک مقام پر پوری انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا:-
یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء تْکُم مَّوْعِظَة مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاء لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ وَہُدًی وَرَحْمَة لِّلْمُؤْمِنِیْنَ
"اے لوگو! تمھارے پاس، تمھارے رب کی جانب سے نصیحت آئی ہے اور شفاء دلوں کے روگ کی اور یہ ہدایت و رحمت ہے مسلمانوں کے لیے۔” (سورة یونس:۵۷)
ایک اور مقام پر فرمایا:-
قَد جَاءَکُم مِّنَ اللّہِ نُور وَکِتَاب مُّبِیْن
"لوگو ! یقیناً اللہ کی طرف سے تمھارے پاس نور اور کتاب مبین آ چکی ہے ۔” (سورة المائدة:۱۵)
سورة ابراہیم میں فرمایا گیا:-
کِتَاب أَنزَلْنَاہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّورِ
"‘یہ کتاب ہے، جسے ہم نے آپﷺ کی طرف نازل کیا ہے تا کہ آپﷺۖ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں۔”
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم وہ نور ہدایت ہے جو بنی نوع انسان کو کفروشرک کی تاریکیوں سے ایمان و ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ وہ نور ہے جو ہدایت کی راہ پر گامزن کرتا ہے، ایسی راہ دکھاتا ہے جو واضح اور روشن ہے جو صراطِ مستقیم اور دین حنیف کا راستہ ہے۔ حضرت ابو ذر کہتے ہیں کہ میں نے حضورِ اکرمﷺۖ سے درخواست کی کہ مجھے کچھ وصیت فرمائیں تو حضور اکرمﷺۖ نے فرمایا: –
"تقویٰ کا اہتمام کرو کہ یہ تمام امور کی جڑ ہے۔” میں نے عرض کیا کہ اس کے ساتھ کچھ اور بھی ارشاد فرمائیں تو آپﷺۖ نے ارشاد فرمایا: "‘تلاوت قرآن کا اہتمام کرو کہ یہ دنیا میں نور ہے اور آخرت میں ذخیرہ۔” (ابن حبان)
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺۖ نے فرمایا:-
"‘جس نے قرآن مجید میں سے ایک حرف پڑھا، اسے اس کے بدلے میں ایک نیکی دی جائے گی اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے، میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ "‘الم” ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام بھی ایک حرف ہے اور میم بھی ایک حرف ہے۔” (ترمذی)
اللہ تعالیٰ تلاوت کرنے والے کو ہر حرف پر دس نیکیوں کا اجر عطا فرماتا ہے۔ انسان اگرایک لمحہ کے لیے سوچے کہ ایک نیکی کرنا خود ایک فعل انجام دینا ہے، مثلاً راستہ میں چلتے ہوئے درمیان میں کانٹا آ جائے یا بیچ راستے میں پتھر، لکڑی وغیرہ ہو، جس سے مسافروں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اسے ہٹا دینا چاہیے اور یہ فعل ایک نیکی ہے، اب اس کے مقابلے میں تلاوت کے اجر کو دیکھیں تو صرف "‘الم”‘ پڑھنے سے تین نیکیاں نامہ اعمال میں جمع ہو جاتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق قرآنِ مجید میں حروف کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے، اس طرح لاکھوں نیکیاں بندۂ مؤمن کے نامۂ اعمال میں جمع ہو جاتی ہیں۔ اگر ہر ماہ ایک قرآن مکمل کیا جائے اور سال کے بارہ مہینے قرآنِ پاک کی تلاوت جاری رہے تو تین کروڑ اٹھاسی لاکھ اکیاون ہزار سے زیادہ نیکیاں ملتی ہیں۔ اگر اتنے ہی نیک کام کر کے اجر کے حصول کی کوشش کی جائے تو کتنی طویل عمر درکار ہو گی؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر خاص عنایت فرمائی کہ انھیں تلاوت قرآنِ مجید کا اتنا عظیم الشان اجر عنایت فرماتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ۖ نے فرمایا:-
"‘قیامت کے دن صاحب قرآن آئے گا اور قرآن اپنے رب سے عرض کرے گا، یا اللہ اسے تاج پہنا، پھر اسے کرامت کا تاج پہنایا جائے گا۔ قرآن عرض کرے گا یا اللہ اسے زیادہ دے چنانچہ اسے کرامت کا جوڑا بھی پہنایا جائے گا، پھر قرآن عرض کرے گا، یا اللہ ! اس سے راضی ہو جا، تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ پڑھتا اور سیڑھیاں (درجات) چڑھتا جا اور ہر آیت کے بدلے ایک نیکی زیادہ کی جائے گی۔” (ترمذی)
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید پڑھنے والوں کو ایسی کامیاب تجارت کی خوش خبری دی ہے جس میں کسی قسم کا گھاٹا نہیں۔ فرمایا:-
اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُونَ کِتَابَ اللَّہِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرّاً وَعَلَانِیَةً یَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ
"‘وہ لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے اور نماز قائم کرتے ہیں جو کچھ ہم نے انھیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں، جس میں ہر گز خسارہ نہ ہو گا۔” (سورة فاطر: ۲۹)
حضرت عبد اللہ بن عباس کی حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قرآنِ مجید بہ نسبت دن کے، رات کو پڑھنا زیادہ افضل ہے، کیونکہ آپ ﷺۖ ہر رات جبرائیل کو قرآن سناتے تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی مکرمﷺۖ نے فرمایا:-
"‘صاحب قرآن سے (روزِ قیامت) کہا جائے گا قرآن پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اس طرح آہستہ آہستہ تلاوت کر کے جس طرح تو دنیا میں ترتیل سے پڑھتا تھا۔ پس تیرا مقام وہ ہو گا جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہو گی۔” (ابو داؤد)
ظاہر ہے ایسا وہی شخص کر سکتا ہے جس کے سینہ میں قرآن محفوظ ہو۔
حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺۖ نے فرمایا:-
"جو شخص اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اکٹھے ہوں، وہ اللہ کی کتاب پڑھیں اور اسے پڑھائیں، ان پر سکینت( اطمینان) نازل ہوتا ہے، رحمت انھیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر ان فرشتوں سے کرتا ہے جو اس کے پاس موجود ہیں۔” (صحیح مسلم)
رسولِ کائنات ﷺۖ کا ارشادِ گرامی ہے: –
"‘اللہ تعالیٰ نے ہر امت کو ایک شرف عطا فرمایا ہے، اس امت کے لیے سب سے بڑا شرف اور سب سے بڑا سرمایۂ افتخار قرآنِ مجید ہے۔ ”
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺۖ نے ارشاد فرمایا:-
"‘قرآن ایسی شفاعت کرنے والا ہے کہ اس کی شفاعت قبول کی گئی اور ایسا جھگڑالو ہے کہ اس کا جھگڑا تسلیم کر لیا گیا، جو شخص اسے آگے رکھے (اس کی تعلیمات پر عمل کرے، اس کی ہدایت پر غور وفکر کرے اور اسے اپنا پیشوا اور امام بنائے) یہ اسے جنت کی طرف کھینچتا ہے اور جو اسے پس پشت ڈال دے، یہ اسے جہنم میں گرا دیتا ہے۔” (ابن حبان، مستدرک حاکم)
حضرت عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺۖ نے ارشاد فرمایا:-
"‘اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآنِ مجید) کے ذریعہ بہت سی قوموں کو اونچا اٹھاتا ہے (بلند مقام پر فائز کرتا ہے) اور دوسری قوموں کو اس (پر عمل نہ کرنے) کی وجہ سے نیچے گراتا ہے۔” (صحیح مسلم)
اس امر پر تاریخ شاہد ہے کہ جب مسلمان قرآن کی تعلیمات اور ارشاداتِ نبوی ﷺۖ پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا عروج عطا فرمایا کہ تاریخ جس کی نظر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ صحراء ودریا ان کی ٹھوکر سے دو نیم ہوئے، پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی بنے، فارس اور روم کی سپر طاقتیں ان کے قدموں تلے روندی گئیں، مشرق ومغرب ان کے زیرِ نگیں ہوئے۔ دنیا میں علم کی روشنی پھیلی، ہدایت کا نور عام ہوا، توحید سے دنیا منور ہوئی، لیکن جب اس غالب قوم کے بعد آنے والوں نے قرآن اور اس کی تعلیمات سے منہ موڑا تو ذلت اور پستی ان کا مقدر بن کر رہ گئی۔ اب پوری امت کا یہ دینی اور منصبی فریضہ ہے کہ قرآنِ مجید کےپیغام، اس کی تعلیمات اور ابدی فیضان کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، اس ہدایت کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ "‘قرآن اور مسلمان”‘ یا "‘مسلمان اور قرآن”‘ لازم و ملزوم ہیں۔ امتِ مسلمہ کی عظمت و سربلندی، عزت و وقار، دین و دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات اور سرخروئی کا راز صرف اور صرف قرآن و سنت سے وابستگی میں مضمر ہے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s