جنرل راحیل شریف


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

پاکستان کی افواج کا شمار مملکت کے تمام سرکاری اداروں میں سر فہرست رہا ہے۔ ماضی میں بھی اور موجودہ دور میں بھی، بیشتر مواقع پر فوج کے کردار سے پوری قوم نے اتفاق کیا اور اس پر اپنے مکمل بھروسے اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ہر مشکل گھڑی میں فوج نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر قوم کے مفاد اور حکومتی احکامات کو بجا لانے میں کسی کوتاہی کا ارتکاب نہیں کیا۔ پاکستانی اداروں کا تو یہ حال ہے کہ قوم ہر کام کے لیے فوج کی طرف دیکھتی ہے۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت جو فوج کی سب سے اولین ذمہ داری ہے ، سے لے کر سیلاب میں خدمات دینے کے علاوہ انتخابات کے انتظامات اور حد تو یہ کہ پولیو کے قطرے پلانے کے لیے بھی فوج پر ہی اعتماد کیا جاتا ہے۔ قومی انحطاط جو روز اول سے نیچے ہی نیچے گرتا جا رہا ہے ، ملک کے بڑے بڑے ساکھ والے اداروں کو کھا گیا۔ نیشنل شپنگ، پی آئی اے، اسٹیل مل، ریلوے جیسے بڑے ادارے آج مفلوج ہوگئے ہیں۔ ایسے میں صرف پاک فوج کا ادارہ ہی وہ واحد ادارہ ہے جس نے اپنے معیار کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اس کو برابر بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور یہ سب کچھ صرف کہنے کی بات نہیں ہے بلکہ اس کا شہرہ ملک سے باہر بھی ہے۔ پاکستانی افواج نے یہ سب کچھ اپنی بہترین روایات کو برقرار رکھتے ہوئے انتہائی سمجھداری اور لگن سے کیا ہے۔ ناروا اقربا پروری سے اجتناب، نااہل افراد کی حمایت کرکے ان کو آگے بڑھانا اور ان کی ترقی، دنیا کی بہترین افواج میں تبدیل پذیر رویے ، جدید سامان جنگ کی فراہمی اور ان کی موجودگی میں تبدیل ہوتی ہوئی روز بروز دفاعی حکمت عملی وغیرہ وغیرہ جیسی تمام چیزوں پر فوج نے بڑی گہری نظر رکھی ہے۔بہترین اور لائق افراد کو ترقی دینا اور ان کو اہم ذمہ داریاں سونپنا ایک انتہائی جدید اور سائنٹیفک طریق کار کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور اسی پورے نظام نے قوم کے ایک بطل جلیل کو سنوار کر کے اور تیار کرکے اپنی فوج کی سپہ سالاری کا بوجھ اس کے کندھے پر ڈالا۔ اور وہ تھا – – جنرل راحیل شریف۔

راحیل شریف صاحب نے ۲۹ نومبر ۲۰۱۳ء کو پاکستانی فوج کے پندرہویں سپہ سالار ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور تین برس کے قلیل عرصہ میں اپنے بہترین اقدامات کرتے ہوئے اور جانفشانی سے سے کام لیتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو اتنی خوش اسلوبی سے انجام دیا کہ پوری قوم کے توقعات پر پورا اترتے ہوئے انتہائی پروقار انداز میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے اور نئے آنے والے کو فوج کی کمانڈ حوالہ کرکے ریٹائرمنٹ پر چلے گئے۔ تین برس کے اس قلیل عرصہ میں انہوں نے پوری فوج کو جس انداز سے چلایا اور جس تیزی اور سرعت سے تمام کام انجام دیئے جو اس عہدہ کے کسی بھی افسر کے لیے انتہائی غیر معمولی تھا۔ ملک کو جو بھی مسئلہ درپیش ہوا راحیل شریف کی ذات پر قوم نے بھی بھروسہ کیا اور حکومت نے بھی۔ ۲۰۱۳ء میں ملک طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں جس تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا اور جس طرح بم دھماکے ہو رہے تھے اور ہندوستان اور افغانستان کے دہشت گرد جس آزادی سے پورے پاکستان میں جہاں چاہ رہے تھے اپنی کارروائیوں میں مصروف تھے، اس کے آگے بند باندھنے والے فرد کا نام راحیل شریف تھا۔ ضرب عضب جیسا انتہائی نازک آپریشن جس میں ذرا سی کوتاہی اور غلط پلاننگ پورے ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ بن جا تی ، اس کو نہ صرف انتہائی دیدہ ریزی سے ترتیب دیابلکہ اپنی زیر نگرانی اس تمام آپریشن کو آگے بڑھایا جس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر کے رکھ دی۔ صبح کو وہ پشاور میں ہوتے تھے تو شام کو افغانستان میں ۔صبح کو میران شاہ ، رزمک ، وانا اور وزیرستان کے دیگر علاقوں میں بریفنگ لے رہے ہیں تو شام کو چین پہنچ گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ اللہ نے یہ بندہ ایسا بنا یا ہے جو تھکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اس قدر پھرتی اور تیزی سے کام کیا کرتے کہ شاید ان کے ساتھی بھی ان کے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہوئے ہانپ جاتے ہوں گے۔

ان کے جسم کے ہر تن مو میں ملک کی محبت کی تڑپ تھی۔ ایسا مکمل اور جان نثار پاکستانی ایک ایسے ہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس کا ہر فرد پاکستان کے لیے قربان ہونے کے لیے نہ صرف تیار رہا بلکہ اپنی جانیں بھی دے دیں۔ ان کے والد میجر شریف ایسے محبّ وطن تھے کہ ان کی داستانیں آج بھی پرانے فوجی دہراتے ہیں۔ ان کے ماموں جناب عزیز بھٹی شہید نشان حیدر، ۱۹۶۵ء کی جنگ کے ہیرو ، ان کا بڑا بھائی شبیر شریف نشان حیدر ۱۹۷۱ء کی جنگ کا ہیرو جس نے پوری جنگ میں ہر دن ایک نئی تاریخ بہادری اور جانبازی کی رقم کی اور اپنی جان ملک پر نثار کر دی۔ ایسے خانوادے کا فرد یقیناً ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ اس نے ہندوستان جیسے بڑے اور رکیک دشمن کے ہوش و حواس ایسے اڑائے رکھے کہ اس ابتلا اور آزمائش کے دور میں جہاں اس کے لیے پاکستان پر حملہ کرنا نتہائی آسان تھا، ایک قدم آگے بڑھانے کی جرأت نہ کرسکا۔ افغانستان کی دہشت گردوں کی حمایت کے سلسلہ کو بھی توڑا اور خود افغان حکومت کو بھی ایسا پیغام دیا جو شاید ہماری منتخب حکومت بھی نہ دے سکی تھی۔ اور تو اور خود ،حکومت پاکستان کو ہر لمحہ اور ہر موقعہ پر ہدایت اور رہنمائی سے نوازا۔ اسلام آباد کا دھرنہ ، جو انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر گیا تھا اور وزیر اعظم کے ہاتھ سے نکل گیا تھا اس میں راحیل شریف کی مداخلت اور سوجھ بوجھ نے قوم کو ایک بڑے بحران سے نکال لیا ۔گوادر اقتصادی راہداری کا معاملہ بلوچ دہشت گردوں کی وجہ سے انتہائی پیچیدہ ہوگیا تھا جس کی انتہائی کامیابی کا سہرا بھی انہیں کے سر رہا کہ انہوں نے بلوچستان کے حکومت کو سہارا دیا اور وہ تمام فوجی اقدامات کیے جس کی بدولت نہ صرف یہ کہ بلوچوں کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کامیاب ہوئے بلکہ بلوچوں کو اس راہداری کی افادیت بھی سمجھ میں آئی اور پھردہشت گردوں کے ہتھیار ڈالتے ہی گوادر کی بندرگاہ نے اپنا کام شروع کردیا اور یہاں سے پہلا تجارتی قافلہ روانہ ہوا۔ حکومت پاکستان کے اوپر اپنی پوری شدت سے زور ڈالا کہ ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کے کھلے یا ڈھکے چھپے مذاکرات نہ کیے جائیں جو شاید حکومت وقت کی ہند پالیسی کے انتہائی خلاف تھا مگر پاکستان کے حق میں مفید ثابت ہوا۔ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کے دانت ایسے کھٹے کیے کہ دہشت گردی میں تقریباً ساٹھ فیصد کمی واقع ہوئی جو اس لحاظ سے بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس سے پہلے کے تمام اقدامات کے باوجود دہشت گردی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان تمام کاموں کے علاوہ اور بھی بے شمار اقدامات انہوں نے اٹھائے جو آنے والے دور کا مورخ یقیناً سنہرے الفاظ میں لکھے گا۔ پوری پاک فوج کو ایک نیا ولولہ اور جوش عطا کیا ۔ فوج کو نئے انداز کی ٹریننگ دی گئی اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں افسر اور جوان کے درمیان دوری کو ختم کرکے آپس میں ایک دوسرے کا ہمدم اور ایک دوسرے کے دست و بازو بنا دیا۔ فوج کو دنیا کی دوسری بڑی فوجوں کے ساتھ جنگی مشقیں کرائیں جو فوج کی جدید انداز میں تربیت کا ایک اہم حصہ ثابت ہوا۔امریکہ کے علاوہ ترکی اور سب سے بڑھ کر روس کے ساتھ کی جنگوں مشقوں نے فوج کی جو تربیت کی وہ تو کی مگر اس کے ذریعہ ہندوستان جس طرح دبائو میں آیا وہ راحیل شریف کا ایک کارنامہ ہے۔ ہمارا میزائل پروگرام پہلے ہی پاکستان سے محبت کرنے والے اور وفادار سائنسدانوں کی بدولت دنیا کے ایک بہترین میزائل سسٹم کے طور پر ابھرا تھا، اس کو راحیل شریف نے مزید بلندیوں تک پہنچایا اور نہ صرف اس کی مار میں اضافہ کیا بلکہ اس کے بارود اٹھا کر انتہائی درستگی کے ساتھ دوردراز علاقوں تک مار میں بھی انتہائی مہارت بہم پہنچائی۔

راحیل شریف ایک ایسی پوزیشن میں بیٹھے تھے اور ان کی خدمات ایسی جامع اور بھرپور تھیں کہ نہ صرف حکومت بلکہ پورا پاکستان اس بات کا شدید خواہش مند تھا کہ وہ مزید تین سال کے لیے اپنے عہدے کو نہ چھوڑیں۔ مگر ان کے فیصلہ سے قوم کو جہاں مایوسی ہوئی وہاں ان کا قد عوام کی نظروں میں اور بھی بڑھ گیا کیونکہ یہاں تو رواج یہ رہا ہے کہ اقتدار سے چپکے رہو مگر انہوں نے ترقی کے عمل کے آگے دیوار نہیں کھڑی کی۔ راحیل شریف یہ تمہارا ہی جگرا تھاورنہ اس قوم نے ماضی میں کیسے کیسے لوگ نہیں دیکھے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ کا یہ قد آور شخص اپنے تین سال کے دور میں ایک ایسی تاریخ رقم کر گیا ہے جو ہمیشہ تابندہ رہنے والی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنے جان نشیں کے لیے ایسی مثال چھوڑی ہے جس کے اوپر پورا اترنا نئے آنے والے کے لیے انتہائی دشوار ہوگا۔ مگر ہمیں امید ہے کہ پاکستان فوج اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے نئے چیف کو کبھی مایوس نہیں کرے گی اور جو کچھ راحیل شریف کر گئے اس کو مزید آگے بڑھائے گی اور اس ملک کی محافظت اور اس کی بہتری اور بھلائی پہلے سے بھی زیادہ تن دہی سے سر انجام دے گی۔

راحیل شریف صاحب پاکستان کی یہ زخم خوردہ قوم آپ کی شکر گذار ہے۔ آپ کو اپنا بہت بڑا ہیرو اور خیر خواہ سمجھتی ہے۔ آپ نے ہماری عزت میں اضافہ کیا ہے اور ہم سب آپ کے حق میں دعا گو ہیں کہ اللہ آپ کو مزید عزت عطا کرے اور امت مسلمہ مل کر ایک ایسی فوج بنائے جس کا سربراہ آپ کو مقرر کرے اور وہ تمام کام جو آپ نے پاکستان کے لیے کیا اب پوری امت محمدیہ ﷺ کے لیے آپ کر سکیں۔

اللہ کے حضور یہ التجا ہے کہ اللہ اس کام کے لیے اسباب پیدا کر دیں اور مسلم ممالک کے حکمران وقت کی نزاکتوں کو سمجھیں۔ اللہ کرے کہ متحدہ اسلامی فوج جنرل راحیل شریف کی قیادت میں امت محمدیہ کی بہترین خدمات انجام دے سکے۔ آمین یا رب العالمین۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s