عقیدہ ختم نبوت کو متنازعہ نہ بنایا جائے ! – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 68 – 69، محرم الحرام و صفر المظفر 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

عقیدہ ختم نبوت، اسلام کے نظریہ ایمان و ہدایت کا ایک بنیادی و اساسی عقیدہ ہے۔ جس کے اعتراف کے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ مشترکہ اسلامی میراث ہے جس پر کسی فرقہ کی کوئی اجارہ داری نہیں۔ کوئی مسلمان ایک لمحے کو پڑھنا جاری رکھیں

بیرسٹر عبد العزیز، عزیز ملت


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : سید محمد رضی ابدالی

دسمبر ۱۹۰۶ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ ڈھاکہ کے اجلاس میں صوبہ بہار کے مسلم زعماء میں جسٹس شرف الدین، مظہر الحق بار ایٹ لاء، سر سیّد علی امام، جسٹس حافظ سیّد عنایت کریم، نواب نصیر حسین خیالؔ عظیم آبادی اور مولانا شمس الہدیٰ وکیل نے شرکت کی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ بہار کے رہنماؤں میں ایک اہم نام بیرسٹر عبد العزیز کا بھی ہے۔ انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے عوامی اجلاس کے جو دسمبر ۱۹۳۸ء کو پٹنہ میں منعقد ہوا، کے تمام اخراجات برداشت کیے تھے۔ بیرسٹر عبد العزیز ۱۸۸۲ء کو پٹنہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سیّد حفاظت حسین ایک بلند پایہ حکیم تھے۔ آپ کے والدین کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ آپ نے اسکول کی تعلیم جسٹس شرف الدین کے گھر میں رہ حاصل کی جو آپ کے قریبی عزیز بھی تھے۔ بعد ازاں پٹنہ اسکول میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سینٹ کولمبس کالج ، ہزاری باغ سے انٹر میڈیٹ کیا، انٹر میڈیٹ کے بعد آپ کو بیرسٹری کے لیے لندن بھیج دیا گیا۔ انگلستان میں قیام کے دوران آپ نے مقامی اخباروں میں مضامین لکھے جس کی وجہ سے انھیں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ۱۹۱۱ء میں آپ نے لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کی اور ۱۹۱۲ء میں وطن واپس لوٹے۔ بیرسٹر سیّد عبد العزیز نے وکالت کا آغاز کلکتہ ہائی کورٹ سے شروع کیا جہاں آپ کو سر سیّد علی امام اور سیّد حسن امام کے ساتھ وکالت کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۲۶ء میں کلکتہ میں ہندو مسلم فساد ہوا اور مسلمانانِ کلکتہ کو بہت بڑی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا ان کے مقدمات کی پیروی کے لیے مسلمانوں کی نظر انتخاب بیرسٹر عبد العزیز پر پڑی۔ ان کی قانون سے متعلق صلاحیتوں کے پیشِ نظر حکومت برطانیہ نے دلی سازش کے مقدمہ کی پیروی کے سلسلے میں ۱۹۳۲ء میں ان کی خدمات حاصل کیں۔

مسلمانانِ بہار نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے ہمیشہ بڑی کوشش کیں۔ لیکن جب شدھی اور سنگھٹن تحریک شروع ہوئی اور بہار میں ہندو مہا سبھائیوں نے مسلمان برقع پوش عورتوں کی زندگی اجیرن بنا دی تو مسلمانانِ بہار نے ’’انجمن محافظت‘‘ قائم کی، جس کے صدر سر سیّد علی امام منتخب کیے گئے اور نائب صدارت کے لیے بیرسٹر عبد العزیز کا انتخاب عمل میں آیا۔ آپ نے انگریزی اور اردو میں ’’پروگریس‘‘ اور ’’پیام‘‘ کے نام سے دو اخبار جاری کیے ان اخبارات کے ذریعے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ آپ اپنی آمدنی سے آنکھ کے مریضوں کاہر سال کیمپ بھی قائم کیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۳ء تک قائم رہا۔ مریضوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی کوئی تخصیص نہ تھی۔

بیرسٹر عبد العزیز نے وکالت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی ہمیشہ دلچسپی لی اور بہار صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ۲ مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ آپ اس صوبے کے وزیر زراعت اور وزیر تعلیم بھی مقرر ہوئے۔ ۱۹۳۵ء کے انڈیا ایکٹ کے نفاذ کے بعد بر صغیر کے مسلمانوں نے ہر صوبے میں مقامی طور پر سیاسی جماعتیں تشکیل دے دیں۔ بیرسٹر عبد العزیز نے بھی ایک پارٹی قائم کی جس کا نام ’’یونائیٹڈ پارٹی‘‘ تھا۔ ۱۹۳۷ء میں مسلم لیگ کی تنظیم کے لیے قائد اعظم پٹنہ آئے تو اس موقع پر بیرسٹر عبد العزیز نے اپنی پارٹی کو آل انڈیا مسلم لیگ میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔

بیرسٹر عبد العزیز آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور بہار مسلم لیگ کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا پہلا جلسہ محمد علی پارک کلکتہ میں ۲۷ دسمبر ۱۹۳۷ء کو منعقد ہوا تھا۔ اس موقع پر قائد اعظم نے بیرسٹر عبد العزیز کو انجمن کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر دعوت نامہ ارسال کیا۔ دسمبر ۱۹۳۸ء کے آخری عشرے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس پٹنہ (بہار) میں منعقد ہوا اور آپ مجلس استقبالیہ کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنی افتتاحی تقریر میں انھوں نے محمد علی جناح کو ’’قائدِ اعظم‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ پنجاب کے ایک مسلم لیگی رضا کار میاں فیروز الدین نے مسٹر جناح کے پنڈال میں داخل ہوتے وقت ’’قائدِ اعظم زندہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کیا جو بعد میں سارے ہندوستان میں مشہور ہو گیا۔ پٹنہ کے اجلاس میں آل انڈیا خواتین مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ آل انڈیا مسلم لیگ پٹنہ کے سالانہ اجلاس کے بعد بیرسٹر عبد العزیز نے پٹنہ میں ایک جلسہ عام طلب کیا جس کی صدارت سردار اورنگ زیب خان (سابق وزیر اعلیٰ سرحد) نے کی۔ نواب بہادر یار جنگ کو خصوصی طور پر مدعو کیا تھا اس جلسہ میں ریاستی مسلم لیگ کی بنیاد پڑی اور نواب بہادر یار

کو پڑھنا جاری رکھیں

ایمان، فریبِ نفس و نظر کے پردے میں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جس طرح تمناؤں کا سورج کبھی مایوسی کے آسمان پر طلوع نہیں ہوتا، اور جس طرح کسی مردہ جسم میں دل زندگی بن کر نہیں دھڑکتا، بالکل اسی طرح اعمال صالحہ کا بیج کبھی نفاق کی سر زمین پر بار آور نہیں ہوتا۔ ایمان ، یقین محکم کا دوسرا نام ہے، وہ خوف کے حصار اور مایوسی کے گرداب میں کبھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔  کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب : تصوف و احسان، زبان خامہ کی خامیاں


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

تصوف و احسان، علمائے اہلِ حدیث کی نظر میں

مؤلف : ابن محمد جی قریشی
صفحات : ١٥٧
طبع اوّل : دسمبر ٢٠١٦ء
ناشر : پورب اکادمی، اسلام آباد
کتاب ایک مقدمہ اور چھ ابواب میں منقسم ہے، ابواب کے عناوین حسبِ ذیل ہیں، جن سے کتاب کے مباحث کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے: کو پڑھنا جاری رکھیں

مسئلہ باغ فدک اور صاحب عون المعبود


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : مولانا ابو علی اثری، اعظم گڑھ

مولانا ابو علی اثری کا یہ مضمون ہفت روزہ ”الاعتصام” لاہور ٢٠ دسمبر ١٩٦٠ء میں طبع ہوا تھا۔ مسئلہ باغِ فدک سے متعلق صاحبِ ”عون المعبود” علامہ ابو الطیب شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی (١٨٥٧ء -١٩١١ئ) کا مؤقف خاتمہ اختلاف کا باعث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے رفعتِ کردار کے عین مطابق ہے۔ اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر اسے قارئینِ ”الواقعة” کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)

مولانا مجیب اللہ ندوی دار المصنفین کو پڑھنا جاری رکھیں

علمی خزینوں کی جستجو میں – قسط 1


الواقعۃ شمارہ : 64-65، رمضان المبارک و شوال المکرم 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سالِ رواں مجھے پنجاب کے کئی شہروں میں علمی خزینوں کی جستجو میں نکلنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ گو اس سے قبل بھی کئی مرتبہ پنجاب جا چکا ہوں مگر سفر چند شہروں تک محدود رہا لیکن اس بار "‘محدودیت”کی ساری حدیں توڑ دیں۔ سفر اور مسلسل سفر رہا۔ لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سمبڑیال (سیالکوٹ)، مری، اسلام آباد، فیصل آباد، ماموں کانجن، اوکاڑہ، خانیوال، ملتان، شجاع آباد اور جلال پور پیروالہ جانے کا اتفاق رہا۔ الحمد للہ سفر کی مشقت برداشت کی تو انعاماتِ الٰہی کا غیر معمولی فضل بھی ہوا۔ قیمتی اور نادر ذخیرئہ کتب کو دیکھنے کی سعادت ملی۔ متعدد اشخاص سے ملنا اور کئی علمی اداروں میں جانے کا کو پڑھنا جاری رکھیں

علم کے نام پر بے علمی کی باتیں


الواقعۃ شمارہ : 64-65، رمضان المبارک و شوال المکرم 1438ھ

از قلم : ابو نصر فاروق

الرَّحْمَنُ (۱) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (۲) خَلَقَ الْاِنسَانَ (۳) عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (۴) (الرحمن: ۱-۴)
"رحمن نے قرآن کی تعلیم دی۔ اُس نے انسان کو پیدا کیا اور اُسے بولنا سکھایا۔”
اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ (۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (۴) عَلَّمَ الْاِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ(۵)(العلق : ۳-۵)
"‘پڑھو اور تمہارا ر ب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔”
اہل دنیا کے پاس حیات و کائنات سے متعلق جتنی معلومات ہیں اُن کا ایک ذریعہ تو اللہ اور اُس کے آخری نبی ﷺ کے اقوال ہیں۔ اور دوسرا ذریعہ انسانوں کا قیاس و گمان اور آدھی ادھوری کو پڑھنا جاری رکھیں

علامہ عبد اللہ یوسف علی


الواقعۃ شمارہ : 64-65، رمضان المبارک و شوال المکرم 1438ھ

از قلم : اے، ایف، ایم خالد حسین

بنگلہ سے انگریزی ترجمہ : محمد عالمگیر

انگریزی سے اردو ترجمہ : ابو عمار سلیم

علامہ عبد اللہ یوسف علی موجودہ دور کے مسلم ممالک کے علماء میں قرآن مجید فرقان حمید کے عالمانہ انگریزی ترجمہ اور اس کی دانشمندانہ تفسیر کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ عالم اسلام کے لاکھوں مسلمانوں نے ان کی انگریزی زبان پر غیر معمولی مہارت، مرقع و مسجع جملوں کی بناوٹ، سائنسی اور عقلی معیار پر پورا اترنے والے تجزیے، کو پڑھنا جاری رکھیں

قرآن ایک ابدی فیضان


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : پروفیسر عبد العظیم جانباز

ارشادِ ربانی ہے:-
اِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ یِہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ أَقْوَمُ
"بلاشبہ یہ قرآن سب سے سیدھے راستے کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔” (سورة بنی اسرائیل:۹)
ایک مقام پر پوری انسانیت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا:- کو پڑھنا جاری رکھیں

عقل و عشق کا حسین امتزاج


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : مولانا شاہ محمد جعفر ندوی پھلواروی

ہر انسان کے اندر دو جوہر بہت نمایاں ہوتے ہیں ، عقل اور عشق۔ یہ دونوں جوہر انسانی الگ الگ وظائف و اعمال رکھتے ہیں اور ان کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چلتی۔عقل کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ معاملات زندگی کو سمجھ کر ایک صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں مدد دیتی ہے اور خطرات اور مہالک سے بچاتی ہے اور عشق کا وظیفہ یہ ہے کہ اقدار عالیہ کے حصول کی لگن پیدا کرتا ہے اور انہیں حاصل کرنے کے لیے کو پڑھنا جاری رکھیں

آئیے ! خاتمہ خیر کا نوحہ پڑھ لیں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ابھی کل کی بات تھی کہ ہمارے قلم نے حلب کی سر زمین پر آتش باری کا نوحہ لکھا تھا اور آج ادلب کی سوگوار فضا کا المیہ در پیش ہے۔ ارباب آئین و ریاست ہوں یا اصحاب منبر و محراب یا پھر ہنر مندانِ قلم و قرطاس کسی کے پاس فرصت نہیں کہ دم توڑتی لاشوں اور خوف و ہراس کی سراسیمہ فضاؤں پر ایک حرف تعزیت ہی ادا کریں۔ نغمہ شادی کے متوالوں کے پاس نوحہ غم کی فرصت کہاں ؟ کو پڑھنا جاری رکھیں

امام ابن رجب حںبلی رحمہ اللہ


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : راشد حسن سلفی مبارک پوری، نئی دہلی

نام و نسب

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ امام صاحب کس قدر اللہ تعالی سے قریب تھے۔ ان کے زہد و اتقاء کی شان یہ تھی کہ انہیں اپنے محبوب سے جلد ملاقات کی بابت پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا، اللہ تعالی ہمارے اندر ایسے صالح جذبات پیدا فرما دے اور اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

امام حافظ علامہ زین الدین عبد الرحمن بن شیخ امام أحمد ابن شیخ امام محدث عبد الرحمن ابو رجب بن الحسن بن محمد بن أبی البرکات مسعود السلامی البغدادی ثم الدمشقی الحنبلی۔ یہ آپ کا مکمل نسب نامہ ہے مگر آپ علمی حلقوں میں "ابن رجب حنبلی” کے نام سے معروف ہوئے۔ (یہ نسبت قبیلہ بنی سلاماں کے ایک شخص یا بغداد کے شہر مدینة السلام کی طرف ہے۔ الأنساب:٢٠٨٧)

ولادت

آپ کی ولادت ۷۳۶ھ میں بغداد میں ہوئی۔ (ولادت کے سن کے سلسلہ میں اختلاف ہے مگر راجح یہی ہے)۔

تاریخ میں ابن رجب نام کی اور شخصیتیں بھی ملتی ہیں مگر جب بھی "ابن رجب” بولا جائے تو علی الاطلاق مراد امام ابن رجب حنبلی ہی ہوتے ہیں، یہ ان کے علم و فضل میں عظمت و بلندی کی دلیل ہے۔

امام ابن رجب بغداد کے علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے آباء و اجداد اس زمانہ کے علم و فضل کے ستون سمجھے جاتے تھے، آپ کے دادا کی علمی مجلسوں کی خاص شہرت تھی اور خود آپ بھی ان کی مجلسوں کے حاضر باشوں میں سے تھے۔

سلف صالحین علم و فن کی بلندیوں کے ساتھ ساتھ مکارم اخلاق اور فضائل کی طرف خاص توجہ فرماتے تھے، امام ابن رجب کو اللہ تعالی نے علمی گہرائی اور پختگی کے دوبدو زہد و تقوی، خشیت و پاکبازی اور اللہ سے قربت و تعلق، نفس کی پاکیزگی و تزکیہ جیسی صفات سے پوری فیاضی کے ساتھ نوازا تھا۔

سیر و تراجم کی کتابوں میں تقریباً اتفاق ہے کہ امام ابن رجب کے اندر زہدو قناعت اور خدا ترسی کا جذبہ فراواں تھا، دنیوی رنگینیوں سے بہت دور رہتے تھے، سلف صالحین کے طرز پر نہایت سادہ زندگی گذاری، کبھی حکمرانوں اور امراء سے قریب نہیں ہوئے، نہ تو مال و دولت کو کبھی خاطر میں لاتے، زندگی بالکل زاہدانہ اور اللہ سے بے پناہ تعلق و قربت کی زندہ مثال تھی، ان کی زندگی کا یہ پہلو بہت نمایاں ہے چنانچہ اگر ان کی کتابوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ اس دنیا میں کس قدر گمنامی اور اجنبیت چاہتے تھے، صالحین کی صحبت اور علمی مذاکرہ پر خصوصی توجہ تھی۔

ابن ناصر الدین کہتے ہیں:-

"أحد الأئمة الزھاد والعلماء العباد۔” (الرادالوافر، ص : ١٠٦)

"وہ متقی ائمہ اور عبادت گذار علماء میں سے ایک تھے۔”

ابن فہد کہتے ہیں:-

"کان رحمہ اللہ اماما ورعا زاہدا، مالت القلوبُ بالمحبة لیہ، وأجمعت الفرقُ علیہ۔” (لحظ الألحاظ، ص : ١٨١)

"امام ابن رجب زاہد اور پرہیز گار امام تھے، لوگوں کے دل محبت میں ان کی طرف مائل تھے اور تمام فرقے کے لوگوں کا ان کی نیک نفسی پر اجماع تھا۔”

امام ابن حجر فرماتے ہیں:-

”وکان صاحب عبادة و تھجد۔” (نباء الغمر بأبناء العمر : ١٧٦٣)

"آپ عبادت کرنے والے تہجد گذار تھے۔”

امام صاحب دنیا سے نہایت بیزار تھے، لوگوں سے ملنا چلنا بہت کم رکھتے تھے اور زندگی کے آخری ایام میں یہ چیز زیادہ ہوگئی تھی، ابن مجی لکھتے ہیں:-

"کان لایخالط أحدا ولا یتردد لی أحد۔” (نباء الغمر : ١٧٦٣)

"وہ کسی سے ملتے جلتے نہ تھے اور نہ کسی کے پاس آتے جاتے تھے۔”

امام ابن رجب رحمہ اللہ کی مجالس روحانیت اور قرب الٰہی کا سرچشمہ ہوا کرتی تھیں، علم حدیث، عقیدہ اور فقہ و فتاوی میں غیر معمولی دستگاہ رکھتے تھے، ان موضوعات پر ان کی عظیم تالیفات بہترین شاہد ہیں۔

بعض حضرات نے اما م صاحب کو صوفیاء میں شامل کرنے کی بے جا کوشش کی ہے، کیوں کہ کتابوں میں -جن میں ”کشف الکربة” بھی ہے- صوفیاء کے اقوال نقل کیے ہیں، لیکن حقیت یہ ہے کہ امام صاحب صوفی بالکل نہیں تھے، خالص علماء سلف کے متبع تھے، محض اقوال نقل کر دینے سے انھیں صوفیت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسلامی تاریخ میں جن مشائخ و علماء نے صوفیاء کے اقوال نقل کیے یا زہد و عبادت کی طرف ان کا میلان زیادہ ہوا تو انہیں صوفیاء میں شمار کر لیا گیا۔

حتیٰ کہ یہ ظلم شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تک کے ساتھ کیا گیا، جن کی زندگی شرک و تصوف اور باطل افکار و نظریات کے ردو قدح میں گذری، زہدو تقوی، خشیت و پرہیزگاری اور کثرت عبادت ہی تو اصل اسلام ہے جس کی طرف خود امام ابن تیمیہ نے مجموع فتاوی میں اشارہ کیا ہے۔ ایک دوسرا تجاوز یہ ہے کہ تصوف کی مشابہت سے بچنے کی خاطر لوگ عبادت گذاری اور پرہیزگاری سے اس قدر دور ہوگئے کہ وہ ہر عبادت و ریاضت کو زبردستی تصوف سے جوڑنے لگے یہ عجیب معاشرتی تضاد ہے، جو اہل حدیثوں کے خانہ میں آتا ہے۔

بہر حال امام ابن رجب رحمہ اللہ کو تصوف سے جوڑنا بڑا مضحکہ خیز ہے، ان کی کتابوں میں کتاب و سنت سے الگ کوئی چیز نہ ملے گی اور کیوں کر ایسا نہ ہو جب کہ وہ اما م ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے خاص شاگرد امام ابن القیم کی مجلسوں کے حاضر باشوں اور فیض یافتگان میں سے تھے، امام ابن تیمیہ کی کتابوں کے خوشہ چینوں میں سے تھے، سلف صالحین کے عقیدہ پر سختی کے ساتھ کاربند بھی تھے۔ اس تصریح کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سے غلطی کا امکان نہیں، حاشا و کلا وہ تمام علماء کی طرح ہیں ان سے بھی غلطی کا امکان ہے لہٰذا ان کو بشری صفات سے الگ نہ سمجھا جائے۔ لیکن بایں ہمہ بطور متبع سنت کے ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم ان علماء سلف کی تعظیم و توقیر کریں، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم محض کسی معمولی غلطی کی وجہ سے کسی سے بھی بالکلیہ دستبردار ہوجاتے ہیں، ان کی کتابوں سے استفادہ نہیں کرتے، یہ چیز بہرحال قابل ستائش تو نہیں کہی جا سکتی، ہاں اتنا کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ایسی کتابیں جو ملحدانہ ہوں اور ان سے عقیدہ میں بگاڑ آئے تو ان سے بچنا لازمی ہے، علماء عرب نے اسی وجہ سے ”کتب حذر منھا العلماء” جیسی کتابیں تالیف کیں اور ان کتابوں کے مطالعہ سے سختی سے روکا جن سے فکری انحراف پیدا ہو سکتا ہے۔

امام ابن رجب رحمہ اللہ کی پوری زندگی کتاب و سنت کی خدمت میں گذری، بہت سی کتابیں تالیف کیں، ان میں مخطوط و مطبوع ۶۷ کتابیں ہیں۔ بعض اہم کتابوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

١۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری

٢۔ جامع العلوم والحکم

٣۔ شرح علل الترمذی

٤۔تفسیر سورۂ الاخلاص

٥۔ تفسیر سورة النصر

٦۔ فضل علم السلف علی علم الخلف

٧۔ أھل القبور

٨۔ لطائف المعارف فیما لمو اسم العام من الوظائف

٩۔ ذم المال والجاہ

١٠۔ نزھة الأسماع فی مسألة السماع

١١۔ذیل طبقات الحنابلہ

١٢۔اختیار الأولی فی شرح حدیث اختصام الملأ الأعلی

١٣۔ القواعد الفقہیة

١٤۔ کشف الکربہ فی وصف حال أھل الغربة

١٥۔ الحکم الجدید بالذاعة۔

آپ کی وفات ماہ رجب یا ماہ رمضان ۷۹۵ھ میں بمقام دمشق ہوئی اور مقبرہ باب صغیر میں شیخ ابو الفرج عبدالواحد الشیرازی المقدسی کے بغل میں دفن کیے گئے۔

ان کی وفات سے متعلق ایک عجیب و غریب قصہ مشہور ہے، ابن ناصرالدین کہتے ہیں:-

"جس شخص نے امام ابن رجب کی قبر بنائی اس نے بیان کیا کہ وفات سے چند روز قبل امام ابن رجب ان کے پاس تشریف لائے اور کہا میرے لیے یہاں قبر کھودو، میں نے قبر کھودی تو وہ قبر میں جاکر لیٹ گئے اور فرمایا یہ بہتر ہے پھر نکل گئے، وہ کہتے ہیں بخدا کچھ دنوں کے بعد ان کی نعش لائی گئی اور میں نے ان کو اسی جگہ دفن کیا۔” (الرد الوافر، ص : ١٠٧)

کو پڑھنا جاری رکھیں

محبت اور عشق میں فرق


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : محمد زبیر شیخ ، ملتان

کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کے لیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت فرق ہے۔  کو پڑھنا جاری رکھیں