عبد الرحمٰن طاہر سورتی


الواقعۃ شمارہ 56، محرم الحرام 1438ھ

از قلم : عبد الوہاب بن محمود سورتی

نام و نسب

عبد الرحمن بن محمد بن  يوسف بن محمد بن احمد بن علی بن ابراہیم سورتی۔

تخلص

طاہر سورتی۔

ولادت

 آپ کی ولادت اپنے آبائی گاوں سامرود میں 1919 میں ہوئی۔

ابتدائی زندگی

 آپ کا تعلق ایک علمی خاندان سے تھا ،جس کے علماء عرب و عجم میں دینی خدمات کیلئے مشہور تھے۔ آپ کے والد مولانا محمد سورتی ایک بلند پایا ادیب ، ماہر لغات اور علم الانساب و اسماء الرجال کے ممتاز ترین علماء میں سے تھے۔ کتاب و سنت کے خلاف کچھ بھی برداشت نہ کرتے تھے ۔ اسکی ایک جامع مثال یہ ہے کہ ایک مرتبہ جامعہ ملیہ میں دوران تدریس ایک طالب علم داخل ہوا جس کی ازار ٹخنے سے نیچے تھی آپ غیض و غضب میں کھڑے ہوئے اور اس کی ازار کا وہ حصہ کاٹ دیا جو ٹخنے سے نیچے تھا, اس سے آپ کی تعلیم وتربیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مولانا عبد الغفار حسن رحمانی رحمہ اللہ (سابق مدرس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ) لکھتے ہیں ” (مولانا محمد سورتی)  اپنے تینوں صاحبزدگان عبد اللہ, طیب اور طاہر([1]) جن کی عمر علی الترتیب 8 ، 10، 12 سال ہوگی صبح سویرے غلس کے وقت نمازے فجر کیلئے اپنے ہمراہ لایا کرتے تھے ۔ یہ اہتمام بلاناغہ جاری رہا ہے۔ آج کل دینداروں اور خاص طور پر علمائے کرام کے حلقے میں یہ اہتمام شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے”([2])۔

حلیہ و لباس

یحى خلیل عرب(وفات 2012ء) لکھتے ہیں "وہ دراز قد تھے ، گندمی رنگ تھا،روشن اور بڑی بڑی چمکدار آنکھیں تھیں ،مناسب گھنی داڑھی تھی…۔ عام طور پر پاجامہ کرتا اور شیروانی پہنتے تھے۔ مگر سردیوں کے موسم میں گرم پتلون کے ساتھ اسی رنگ کی شیروانی زیب تن فرماتے تھے، (یہ) ان کا خود ایجاد کردہ لباس تھا” ([3])۔

ہند و پاک کی مشہور ادیبہ ، درجنوں کتابوں کی مصنفہ ،سابق صدرشعبہ عربی  کراچی  یونیورسٹی اور کلیۃ الآداب للبنات رياض سعودی   عرب كی معلمہ پروفیسر ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب (وفات 2016ء) لکھتی ہیں”طاہر بھائی کو اللہ تعالی نے حسن صورت اور حسن سیرت دونوں سے نوازا تھا،انکا رنگ صاف ہی نہیں تھا بلکہ ان کا چہرہ آخر عمر تک نورانی نظر آتا تھا۔ اس پر جوانی میں سیاہ داڑھی،اور ذہانت و فطانت کی چمک سے روشن اور بولتی ہوئی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں ” ([4])۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

ہم نے  کردار کو  کپڑے کی طرح پہنا ہے

تم نے کپڑوں  ہی کو کردار سمجھ رکھا  ہے

          اخلاق و عادات

عطيہ خليل عرب لکھتی ہیں ” نرم و شیریں لہجہ،کم سخن… ،بزلہ سنجی اور نکتہ رسی، متوازن شخصیت کے مالک تھے۔ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنا یہی ان کی فطرت ثانیہ تھی” وہ مزید لکھتی  ہیں کہ "سادگی و سادہ لوحی ان کا مزاج تھا۔ نہ ستائش کی تمنا، نہ صلہ کی پرواہ ،نہ کسی کی دل آزاری ،نہ کسی قسم کا رسمی انداز گفتگو بلکہ ایک دلکش مسکراہٹ ہر وقت ان کے لبوں پرکھیلتی رہتی تھی۔ اور یکسوئی کے ساتھ ہر حال میں خوش اور قناعت پسند ، اور شہرت ،عزت اور دولت سے بے نیاز یہ ہے  عبد الرحمن طاہر سورتی کی ایک چشم دید جھلک "([5])۔

محترمہ غالیہ سورتی اپنے والد کے بارے میں لکھتی ہیں کہ "تواضع و خاکساری کے ساتھ زندگی بسر کی اور کبھی اپنے لئے دولت اکھٹی نہیں کی۔ آپ کے گھر کے دروازے اہل علم ، دوست و احباب کے لئے ہمیشہ کھلے رہے ۔ بات بھی اتنی آہستہ کرتے کہ کان لگا کر سننا پڑتا تھا”([6]), وہ مزید لکھتی ہیں ” عربی زبان کا سمندر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ایک قطرہ سمجھتے تھے, انتہائی سادہ لوح انسان تھے, تکبّر سے دور رہتے تھے”([7])۔

تعليمی مراحل

طاہر سورتی صاحب نے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی، آپ کی تعلیم و تربیت میں آپ کی والدہ مریم سعیدی کا بہت بڑا کردار رہا، وہ ہندوستان کے مشہور طبیب ، حکیم سعید احمد ٹونکی کی صاحبزادی اور مشہور شاعر بسمل سعیدی کی بہن تھیں، اردو ،فارسی ،انگریزی زبان کی ادیبہ تھیں ۔

والدہ کے بعد آپ کی تعلیم میں بہت بڑا کردار آپ کے والد علامہ محمد سورتی کا رہا جن کی نگرانی میں آپ نے مختلف تعلیمی مراحل طے کئے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

(1) انیس سو پچیس 1925 سے 1936ء تک ابتدائی و ثانوی تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں حاصل کی۔

(2) انیس سو سینتیس 1937ء سے 1942ء تک اپنے والد علامہ محمد سورتی سے تفسیر و حدیث و لغت و ادب پڑھتے رہے۔

(3) لکھنؤ یونیورسٹی سے 1943ء میں فاضل ادب عربی کی ڈگری حاصل کی۔

اپنے والد علامہ سورتی کی وفات کے بعد آپ نے علامہ خلیل عرب یمانی  کی شاگردی اختیار کر لی ۔ جو آپ کے صرف استاذ ہی نہیں بلکہ روحانی باپ بھی تھے۔ علامہ سورتی نے مرتے وقت اپنے دوست علامہ خلیل عرب کو وصیت کی تھی کہ وہ ان کی وفات  کے بعد ان کے بچوں کی تربیت کریں ۔علامہ خلیل عرب نے دوستی کو خوب نبھایا ، علامہ محمد سورتی کی وفات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی تھی ۔ ان کی اہلیہ مریم سعیدی اور بچے بھی وہیں تھے ۔ علامہ خلیل عرب وفات کے وقت علی گڑھ گئے اور ان کے بچوں کو بھوپال اپنے گھر لے آئے اور اپنے ہی بچوں کی طرح سورتی صاحب کے بچوں کی تربیت کی۔ کبھی ان کو اپنے آبائی گاوں سامرود یا ننیھال کے مسکن ٹونک کے اقارب کی کمی محسوس نہ ہونے دی ۔ جب سارے بچے بڑے ہو گئے تو سب نے اپنی اپنی مناسب راہ اختیار کر لی ۔ پھر کوئی ٹونک جا کر بس گیا تو کوئی سامرود تو کسی نے بھوپال ہی کو اپنا مسکن بنالیا۔

ہائے علامہ خلیل عرب اب ایسے لوگ کہاں! ان کی دوستی بھی اللہ کیلئے تھی اور عداوت بھی۔ دوستی میں خلوص تھا ریا نہ تھی۔ وہ بغیر کسی حرص و طمع کے ایک خاندان کی آبیاری کرنے والے۔ نہ جانے کتنے پیاسوں کو اس چشمے نے سیراب کیا۔ عبد الرحمن طاہر سورتی ہی نہیں بلکہ پورے سورتی خاندان کی تاریخ علامہ خلیل عرب کے ذکر کے بغیر ناقص ہے۔ بس علامہ خلیل عرب کے بارے میں یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ:

ہم  آشفتہ  سروں  نے  راہ  صداقت   میں

وہ قرض بھی اتارے جو ہم پر واجب نہ تھے

              تدريسى خدمات

طاہر سورتی رحمہ الله  فراغت کے سال ہی تدریس سے منسلک ہوگئے۔  یہاں ان مدارس و جامعات کا ذکر ہے  جس میں آپ نے تدریس کے فرائض انجام دیے۔

  • مدرسہ عربیہ لکھنؤ میں 1943 میں کچھ ماہ تک مدرس رہے۔
  • پنجاب ہائی اسکول دہلی 1944۔
  • دار الحدیث ممبئی : یہ مدرسہ رپن روڈ ممبئی پر واقع تھا ، اس کے بانی آپ کے والد محترم علامہ محمد سورتی تھے ۔ آپ نے اس ادارہ میں 1945 تا 1946 دو سال تدریسی خدمات انجام دیں۔
  • کوکن مسلم ہائی اسکول : یہ اسکول بھیونڈی میں آج بھی موجود ہے۔ پہلے اس اسکول میں عربی زبان کے تعلم پر کافی توجہ تھی اب یہ اسکول کس حالت میں ہے اس کا علم نہیں ہے۔ آپ اس ادارے میں 1947 سے 1950 تک مدرس رہے۔
  • آپ نے ممبئی میں عربی زبان کو فروغ دینے کیلئے ایک ادارہ قائم کیا۔ اور اس کا نام "انجمن ترقی عربی” رکھا۔ آپ اس کے بانی بھی تھے اور مدرس بھی ۔ 1948 سے 1950 تک یہ ادارہ قائم رہا لیکن آپ کے پاکستان ہجرت کر جانے کے سبب یہ ادارہ بند ہوگیا۔
  • ہجرت کے بعد آپ "دار السلام جوہرآباد ” سرگودھا میں 1953 سے 1956 تک مدرس رہے۔
  • 1957 میں آپ نے دوبارہ انجمن ترقی عربی کی بنیاد رکھی اور تا حیات اس میں پڑھاتے رہے۔
  • 1957 سے 1963ء تک لیڈی میکلیگن کالج لاہور نیز دیگر مقامات پر  طلبہ کو عربی ادب کی تعلیم دی۔
  • 1963 سے 1978ء ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر تربیت اسکالروں کو عربی زبان وادب کی تعلیم دی([8])۔

 پاکستان میں آپ نے کراچی ، اسلام آباد ، لاہور و دیگر شہروں میں اس انجمن کے مراکز قائم کئے اور یہ آپ کی وفات تک قائم رہے۔

تلامذہ

آپ 45 سال تک تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے لیکن بڑے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ راقم الحروف کو باوجود تلاش و استفسار کے آپ کے صرف چند تلامذہ کے ہی اسماء مل سکے جو مندرجہ ذیل ہیں:

  • ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب : عربی اردو کی مشہور ادیبہ تھیں اور درجنوں کتابوں کی مصنفہ تھیں, بتاریخ 04/01/2016ء کوامارت میں وفات پائیں۔
  • ڈاکٹر محمود احمد غازی : علوم الحدیث و تاریخ کے ماہرین میں سے تھے , درجنوں کتابوں کے مصنف بھی تھے, 2010ء میں وفات پائی۔
  • افتخار احمد ادیب : عربی ادب کے ممتاز علماء میں سے ہیں۔
  • غالیہ طاہر سورتی : آپ کی صاحبزادی ہیں عربی و انگریزی زبان کی مترجم ہیں۔
  • محمد على نجیب سورتی: انہوں نے مختلف ممالک کے سفارت خانے میں اپنی خدمات انجام دی ہیں۔

 تصنیفی خدمات

طاہر سورتی رحمہ اللہ نے مختلف موضوعات پر مختلف زبانوں میں کتابیں لکھیں۔ درجنوں کتابوں کے ترجمے کئے،اور نادر کتابوں کی تحقیق کی اور اسے علمی حلقوں میں عام کیا ۔

ہم نے طاہر سورتی صاحب کی تصنیفی خدمات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:

الف – تصنیفات ومقالات بزبان عربی۔

ب – تصنیفات ومقالات بزبان اردو۔

ج – تراجم۔

تصنیفات ومقالات بزبان عربی

  • سیرةالامام مجاہد بن جبر ۔
  • سيرة ابی القاسم القشيری۔
  • تلخيص الرسائل القشیریہ۔
  • غالب وشعرہ
  • المجتمع الاسلامی فی باکستان

تصنيفات ومقالات بزبان اردو

  • عربی زبان :دو جلدوں میں ہے ممبئی سے شائع ہوئی ہے۔
  • پیارے نبی کی پیاری زبان :24 حصوں میں ہے مقتدرہ قومی زبان سے شائع ہوئی ہے۔
  • نصاب عربی : چار جلدوں میں ہے حکومت پنجاب پاکستان کے منظور شدہ کورس میں داخل ہے۔
  • لسان العرب :چار جلدوں میں ہے پاکستان کے حکومتی اداروں میں داخل نصاب ہے۔
  • عربی کی کتاب :تین جلدوں میں ہے ۔ مغربی پاکستان کے اداروں میں داخل نصاب ہے۔
  • زبان عربی : تین جلدوں میں ہے لاہور سے شائع ہوئی ہے۔
  • قواعد عربی ۔
  • بحر عرب : عربی اردو لغت ہے 1500 صفحات پر مشتمل ہے۔
  • متوسط عربی اردو لغت : انجمن ترقی اردو ہند دہلی سے شائع ہوئی ہے۔
  • لغات القرآن : لاہور سے شائع ہو ئی ہے۔
  • ابن مریم اور پرویز : یہ کتاب منکرین حدیث غلام پرویز کے رد میں ہے۔ المکتبہ العلمیہ لاہور نے شائع کی ہے۔
  • اسلام کی اخلاقی تعلیمات۔
  • معاشرتی اصلاحات ۔
  • اسلامی معاشرتی تعلیمات۔
  • روز مرہ کی دعائیں۔
  • تصانیف اقبال کے عربی تراجم۔
  • احسان کا قرآنی مفہوم۔
  • رسول اللہ ﷺ: پیامبر امن۔
  • حج پیغام وحدت انسانیت۔
  • عہد عباسی میں قبرص کے متعلق ایک استفتاء۔

یہ ایک مختصر فہرست ہے مطول و مفصل تذکرہ  ان شاء اللہ کبھی وقت ملا تو کیا جائے گا  ۔

(ج)  تراجم

طاہر سورتی رحمہ اللہ نے کئی علمی و ادبی کتابوں کے ترجمے کئے ۔ ترجمے کا اسلوب ایسا کہ گویا خود ایک مستقل تصنیف نظر آتے ہیں ۔ ہم نے تراجم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

  • عربی سے اردو تراجم۔
  • اردو سے عربی تراجم۔
  • عربی سے اردو تراجم
  • ترجمہ کتاب الاموال ۔

مؤلف :ابو عبيد القاسم بن سلام 224ہجری وفات۔

یہ کتاب دو جلدوں میں ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد پاکستان سے  آپ کے مفصل مقدمہ کے ساتھ شائع ہوئی۔

  • ترجمہ کتاب الصوم : یہ کتاب الصوم صحیح بخاری کا ترجمہ ہے, سرگودہ سے شائع ہو چکا ہے۔
  • ترجمہ کتاب العبودیہ ۔

مؤلف : شيخ الاسلام ابن تيميہ  رحمہ الله۔

يہ ترجمہ مجلس نشریات اسلام کراچی نے شائع کیا ہے۔

  • ترجمہ تاریخ ادب عربی

مؤلف: احمد حسن زيات

يہ ترجمہ کئی مکتبات سے شائع ہو چکا ہے۔

  • میرے گدھے نے مجھ سے کہا۔

مؤلف : توفيق الحكيم مصری

 یہ ایک عربی ناول کا ترجمہ ہے ،اس کا اصل نام "انا و حميری” ہے۔

  • اردو سے عربی تراجم
  • ترجمہ فلسفہ خودی

شاعر :علامہ اقبال

آپ نے علامہ اقبال  کی اس نظم کو عربی زبان میں "کلمہ لا الہ الا اللہ” کے نام سے ترجمہ کرکے 1979ء  میں شائع کیا۔

  • ترجمہ شکوہ و جواب شکوہ

شاعر :علامہ اقبال

یہ ترجمہ راقم الحروف کو ابھی تک مل نہیں پایا ہے۔

  • دیوان غالب عربی زبان میں۔
  • کلیات اقبال :عربی زبان میں مکمل ترجمہ کیا۔
  • ترجمہ اشعار علامہ محمد بن یوسف سورتی ۔

یہ ان اشعار کا ترجمہ ہے جن کو آپ کے والد علامہ محمد سورتی نے لکھا تھا۔ اس کے نمونے کیلئے "مولانا محمد سورتی حالات زندگی اور علمی خدمات ” کتاب کی طرف رجوع کریں۔

اعزازات و مناصب

طاہر سورتی رحمہ اللہ اپنی علمی و ادبی لیاقت و صلاحیت کی بنیاد پر مختلف اعزازات سے نوازے گئے ،اور بہت سارے عہدے و مناصب آپ کے سپرد کئے گئے ۔ یہاں پر اس کا اختصارا ذکر کیا جا رہا ہے۔

  • مؤسس انجمن ترقی عربی ہند و پاک۔
  • مدیر ماہنامہ "کردار نو” 1956 سے 1957۔
  • مدیر ماہنامہ "فکر و نظر ” اردو 1968 تا 1969۔
  • مدیر مجلہ ” الدراسات الاسلاميۃ”عربی 1975 سے 1978ء۔
  • مترجم مجلس نشر و تألیف بھوپال۔
  • مترجم انجمن ترقی اردو دہلی۔
  • معاون الجمعیہ العربیہ کراچی پاکستان۔
  • ممتحن عربی اوپن یونیورسٹی اسلام آباد۔
  • ممتحن عربی نیشنل سینٹر۔
  • پی ٹی وی کے پروگرام "بصیرت” میں ایک طویل مدت تک تفسیر قرآن کرتے رہے۔
  • ” بابائے عربی” یہ خطاب آپ کو روزنامہ "پاکستان ٹائمز ” نے دیا۔
  • ادارہ تحقیقات اسلامی میں آپ کے نام سے "سورتی چیئر” قائم ہے۔
  • شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود اور اردن کے شہزادے حسن بن طلال کی پاکستان آمد پر آپ کو حکومت نے ان کا مترجم مقرر کیا([9])۔
  • قطر کے بادشاہ "خلیفہ حمدان آل ثانی” نے آپ سے امام مجاہد بن جبر کی تفسیر کی تحقیق کروائی اور اس کو اپنے نفقہ سے شائع کیا۔ یہ کتاب  وزارۃ الشوون الاسلامیہ  حکومت قطر سے دو جلدوں میں شائع ہو چکی ہے([10])۔
  • بطور مہمان خصوصی آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور جامعہ ازہر مصر کے کئی علمی دوروں میں شرکت کی۔

طاہر سورتی اہل علم كی نظر میں

  • حکیم اجمل خان (مدیر مجلہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں”علامہ طاہر مرحوم اپنے والد مرحوم کی طرح عربی کے بالغ النظر عالم ،محقق اور مصنف تھے، علوم اسلامیہ میں ان کی علمی و ادبی خدمات بر صغیر میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں”([11])۔

حکیم اجمل خان مزید لکھتے ہیں "…عربی زبان کی اشاعت ،اس کے ذوق کی تعمیم نیز قرآن کریم کے مطالب و مفہوم  کی تسہیل کے میدان میں جو کام آپ نے کئے بر صغیر میں اس کی مثال نہیں ملتی”([12])۔

  • عربی کی مشہور ادیبہ عطیہ عرب لکھتی ہیں "…اور یوں بھی طاہر سورتی جیسے عبقری پر قلم اٹھانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ،بلکہ اگر ہم اسے بڑا چیلنج کہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ کوئی رسمی تکلف نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عبد الرحمن طاہر سورتی کا عالمانہ تبحر،محققانہ بصیرت اور فاضلانہ وقار و تمکنت ، ادیبانہ متانت و حق گوئی ، شرافت قلم و صداقت جزبہ فکر ایسے روشن حقائق ہیں ،جو ان کی عبقریت پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس تناظر میں ان کے سامنے ہماری حیثیت کسی طفل مکتب سے زیادہ نہیں”([13])۔
  • خالد ایم اسحاق (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ پاکستان) لکھتے ہیں "مولانا طاہر سورتی کا شمار پاکستان کے عظیم علماء میں ہوتا تھا۔ ان کی علمی دوستی ، اسلامی علوم میں تبحر اور اسی معیار کی انکساری ان کا طرہ امتیاز تھے۔ انہوں نے علامہ ابن تیمیہ کی کتاب "عباد ت” کو موضوع تحقیق و ترجمہ بنا کر اسلامی ملت پاکستان کی بڑی خدمات انجام  دی ہے "([14])۔

طاہر سورتی کے ابناء و احفاد

طاہر سورتی رحمہ اللہ کا نکاح محترمہ خدیجہ(وفات 1997ء) بنت علامہ خلیل عرب سے ہوا تھا۔ وہ نہایت ہی صالحہ ،عفیفہ اور اخلاق حمیدہ سے متصف تھیں۔ ان کے بطن سے کئی اولادیں ہوئیں جن کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں:

  • انس اقبال : انس اقبال آپ کے بڑے صاحبزادےہیں, ان کا نکاح فوزیہ بیگم سے ہوا تھا۔ ان سے ان کے  دو بچے ہیں۔

  منال  اور سعد۔

  • محمد على نجیب :انہوں نے اپنی تعلیم جامعہ دمشق سے حاصل کی, عربی اردو اور انگریزی زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں, اور اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں ، ان کی شادی محترمہ میمونہ بیگم سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی سلوی اور بیٹے کا نام حسام ہے۔
  • جمال عبد الناصر : ان کی اہلیہ کا نام ناصرہ اور بیٹی کا نام حنان اور بیٹوں کا نام جلال اور طاہر ہے۔
  • غازی صلاح الدین: ان کی شادی اپنی پھوپھی صفیہ سورتی کی صاحبزادی محترمہ انجم صاحبہ سے ہوئی ان کے بیٹے کا نام حارث اور بیٹی کا نام یمنی ہے۔
  • عالیہ :یہ آپ کی بیٹی ہیں ان کی شادی  علامہ داود غزنوی کے بھتیجے ڈاکٹر  مسعود غزنوی سے ہو ئی ۔ وہ ایک مدت تک کناڈا میں مقیم تھی  فی الحال وہ امریکہ  میں رہ رہی ہیں, عربی میں بی اے کرچکی ہیں۔
  • غالیہ : یہ کافی پڑہی لکھی ہیں۔ عربی و انگریزی زبان پر کافی عبور رکھتی ہیں۔ ان کی شادی جناب شوکت علی صاحب سے ہوئی ۔ ان کےایک بیٹے کا نام جبران اور دوسرے کانام عثمان ہے([15])۔

یہ مختصر تعارف تھا طاہر سورتی رحمہ اللہ کے ابناء و احفاد کا ۔ اللہ سب کو قرآن و سنت کا متبع بنائے, اور دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !

وفات

 10 جنوری 1987ء  کو آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کے انتقال کی خبر پاکستان کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوئی ۔ اور ہندوستان میں آپ کی وفات پر حکیم اجمل خان صاحب نے ماہنامہ اہل حدیث میں ایک مختصر مگر جامع تحریر لکھی ۔

اللہ تعالی مرحوم طاہر سورتی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین!

حواشی

([1])  علامہ صاحب کے کسی بیٹے کا نام طیب نہیں تھا بلکہ وہ عبد اللہ کا لقب تھا, اور تینوں بیٹوں کے نام بالترتیب یہ ہیں : عبد اللہ طیب (ولادت 1917 ء) عبد الرحمن طاہر (ولادت 1919ء) اور احمد (ولادت 1921ء)۔

([2])  مولانا محمد سورتی حالات زندگی اور علمی خدمات, ص: 54, 55۔

([3])   گلزار یمن, ص: 106

([4])  رسالہ عبادت, ص: 19

 ([5])  رسالہ عبادت, ص: 19

 ([6])  مکتوب غالیہ سورتی بنام راقم الحروف

([7])  مجلہ دستک مری, جنوری تا مارچ 2011ء, ص: 27,28

([8])   ماخوذ از مختصر خود نوشت طاہر سورتی, ص: 1,2

([9])   دستک مری, ص: جنوری تا مارچ ص: 27

([10]) اس تفسیر کا امام مجاہد بن جبررحمہ اللہ کی طرف نسبت کرنا محل نظر ہے۔

([11])  مجلہ اہل حدیث دہلی, 21 جون 1987ء, ص: 2

([12]) مجلہ اہل حدیث دہلی, 21 جون 1987ء, ص: 2

([13])  رسالہ عبادت, ص: 16

([14])  رسالہ عبادت, ص: 6

([15]) گلزار یمن, ص: 113 تا 120۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s