نبوت عظمیٰ کا جانشین ثالث


عثمان ذی النورین بن عفان الاموی العبشمی

الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا فدا علی طالب

حضرت عثمان کی شرافتِ خاندانی اور قومی وجاہت عام طور پر مسلم ہے ، خاندانِ بنی امیہ کا اقتدار اور ان کی سیادت و وجاہت تاریخ میں اس شرح و بسط کے ساتھ مذکور ہے کہ اس پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عثمان کا نسب باپ کی طرف سے چار واسطوں سے اور ماں کی طرف سے دو واسطوں سے رسول اللہ ﷺ کے نسب سے مل جاتا ہے۔

عثمان عبد الشمس بن عبد مناف کے پوتے ہیںاور رسول ہاشم بن عبد مناف کے فرزند ہیں۔ حضرت عثمان کی والدہ ام حکیم، عبد المطلب کی بیٹی ہیں اکثر مؤرخین کی رائے ہے کہ ام حکیم اور رسول ﷺ کے پدر بزرگوار سیدنا عبد اللہ تو ام پیدا ہوئے تھے۔ سرور عالم ﷺ کے قریبی قرابت دار ہونے کے علاوہ عثمان رضی اللہ عنہ کو رسول ﷺ کی دامادی کا فخر بھی حاصل ہے۔ اور اس شرف میں ان کو ایسی خصوصیت ہے کہ بنی آدم میں کوئی اس منزلت میں ان کا شریک نہیں ہے۔ رسول ﷺکی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے ان کے عقدِ نکاح میں آئیں۔ "سنن بیہقی” میں منقول ہے کہ خلقتِ آدم سے لے کر عہدِ رسول ﷺ تک سوا حضرت عثمان کے اور کسی کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا کہ کسی نبی کی دو بیٹیاں اس کے نکاح میں آئی ہوں۔ حضرت ام کلثوم کی وفات کے بعد رسول ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان کے ساتھ کرتا۔ "اسد الغابہ” میں حضرت علی سے بسندِ صحیح مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے چالیس بیٹیاں ہوتیں تو میں ان سب کا یکے بعد دیگرے عثمان کے ساتھ نکاح کرتا یہاں تک کہ ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں رہتی۔ حضرت علی سے کسی نے عثمان غنی کے بابت کچھ پوچھا علی مرتضیٰ نے جواب دیا کہ عثمان ملاء اعلیٰ میں ذی النورین مشہور ہیں اس لیے کہ وہ پیغمبر کی دو بیٹیوں کے شوہر تھے ( سیوطی) ۔ رقیہ بنت نبی ﷺ کی وفات کے بعد ایک دن عثمان رضی اللہ عنہ مغموم و ملول رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سرور کائنات نے عثمان غنی کو رنجیدہ دیکھ کر ان کے حزن و ملال کا سبب پوچھا تو آپ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ جو مصیبت مجھ پر نازل ہوئی ہے وہ شاید دنیا میںکسی پر نہ نازل ہوئی ہوگی بنت رسول نے دنیا سے رحلت کی تو میرے اور آپ ۖ کے درمیان جو رشتہ تھا وہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوگیا۔ سرور دوعالمﷺ نے فرمایا کہ عثمان تم یہ کہہ رہے ہو اور جبریل امین اللہ کا حکم لے کر آئے ہیں کہ میں رقیہ کی بہن ام کلثوم کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں (ابن خلدون)۔ عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ جواب دے کر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ خیر الشفع لعثمان و ما انی ازوج تبانی و لکن اللہ بزوج من۔ ( ریاض )
اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے گوشت کا ایک ٹکرا بطور ہدیہ حضرت عثمان کے پاس بھیجا ۔ اسامہ خود حضور ۖ کے قاصد تھے۔ اسامہ بن زید فرماتے ہیں میں عثمان ذوالنورین کے پاس آیا ، شمع جل رہی تھی اور رقیہ بنت رسول ﷺ اپنے شوہر کے پاس بیٹھی تھیں اور شمع کی روشنی سے دونوں کا چہرہ منور ہو رہا تھا میں ان کے حسن کو دیکھ کر حیران ہو گیا۔ جب واپس آیا تو رسول کریم ﷺ نے پوچھا کہ ھل رأیت زوجاً احسن منھما ؟ قلت : لا یا رسول اللہ (سیوطی) (کیا تم نے اس سے قبل ان دونوں جیسا خوبصورت جوڑا دیکھا ہے تو میں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ ﷺ نہیں دیکھا۔)
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے ام کلثوم کا نکاح عثمان کے ساتھ کیا اور بیٹی سے فرمایا، یا قرة عینی بعلک اشبہ الناس بجدک ابراہیم و ابیک محمد (سیوطی)۔ ان روایتوں سے جو ‘مشتے نمونہ از خروارے ‘ بیان ہوئیں حضرت عثمان کا مرتبہ اور تقدس روز روشن کی طرح عیاں اور ظاہر ہے۔ نسبی فخر اوراعزاز کی جو انتہائی خوبیاں ہو سکتی ہیں وہ تمام و کمال ان کی ذات میں جمع ہیں۔
اسلام لانے میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا چوتھا نمبر ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کی روایت طبقات ابن سعد میں اس طرح منقول ہے کہ عثمان اور طلحہ و زبیر کے ساتھ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ رسول کریم ﷺنے ان کو اسلام لانے کی ہدایت فرمائی اور قران کی چند آیتیں ان کو پڑھ کر سنائیں۔ عثمان اور طلحہ دونوں صاحب مشرف بہ اسلام ہوئے۔حبیب رب العالمین کی دست بوسی کرنے کے بعد عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم شام کے سفر سے آ رہے ہیں۔ اثنائے سفر میں ہم ایک جگہ مقیم ہوئے اور سوگئے خواب میں ہم نے ایک منادی کرنے والے کو دیکھا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ سونے والو اٹھو اور دوڑو احمد مرسل ۖ ﷺ مکہ میں مبعوث بہ رسالت ہو چکے۔ ہم یہ خواب دیکھ کر اٹھے اور جلد سے جلد خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے۔
حضرت عثمان فرمایا کرتے تھے کہ مجھ میں دس خصوصیتیں ایسی ہیں جو دوسروں میں جمع نہیں ہیں۔ اسلام لانے میں میرا چوتھا نمبر ہے۔ نبی ۖ کی دو بیٹیاں میرے نکاح میں آئیں۔ علاوہ مشہود بالجنة بولنے کے میں نے تین مرتبہ رسول ﷺ ۖ کے ہاتھ سے جنت خریدی ۔ جس ہاتھ سے میں نے رسول ﷺ سے بیت کی اس کو کمر کے نیچے نہیں لے گیا۔مجھے اسلام کی طرح جاہلیت کے زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے کبائر سے محفوظ رکھا۔ اسلام میں بر بنائے تقویٰ اور جاہلیت میں بوجہ نا پسندیدگی میں نے زنا، سرقہ اور شرب خمر وغیرہ معاصی سے ہمیشہ پرہیز کیا۔ قرآن کو جمع کیااور رسول ﷺ کو سنایا ساری امت کو ایک قرآن کی تلاوت پرجمع کیا۔ بیعت الرضوان کا باعث ہوا اور میرا ہی ہاتھ رسول ﷺ کا ہاتھ قرار پایا۔ جب سے ایمان لایا کوئی جمعہ خالی نہیں گیا کہ میں نے ایک بندہ اللہ کے نام پر آزاد نہ کیا ہو۔ (ابن خلدون، ابن الاثیر ، استیعاب)
اسلام اور جاہلیت دونوں زمانوں میں عثمان رضی اللہ عنہ اغنیائے قریش سے سمجھے جاتے تھے صحا بہ کے گروہ میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہمیشہ بے حد معزز و مکرم رہے۔ عبد اللہ ابن عمر فرماتے ہیں کہ سابقین مہاجرین کی فضیلتوں اور حفظ مراتب کا خیال کرکے ہمیشہ عہد نبوت میں یہی کہا جاتا تھا کہ ” ابو بکر و عمر و عثمان۔ ( تہذیب التہذیب و صحیح بخاری)
عبد اللہ بن عباس و ابن عمر وغیرہ اجلّہ صحابہ فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ ، أَمَّنْ ہُوَ قَانِت آنَاء اللَّیْلِ سَاجِداً وَقَائِماً یَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَیَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّہِ (الزمر:۹) عثمان ذو النورین کی شان میں نازل ہوئی (سیوطی ، تاریخ الخلفاء)۔ کلبی اور دیگر مفسرین لکھتے ہیں کہ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ( العصر:۳) سے مراد عثمان ذی النورین ہیں۔ (تاریخ الخلفاء)
ابن عساکر بسند صحیح حضرت زید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ عثمان میرے قریب سے گذرے اور میرے پاس ایک فرشتہ بیٹھا ہوا تھا اس ملک مقرب نے عثمان کو دیکھ کر مجھ سے کہا کہ یہ شخص اپنی قوم کے ہاتھ سے شہید ہوگاحالانکہ ہم ملائکہ بھی اس سے حیا کرتے ہیں۔ (تاریخ الخلفاء ، فتح الباری)
ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہإِن الْمَلَائِكَة تَسْتَحي من عُثْمَان كَمَا تَسْتَحي من الله وَ رَسُوله۔ بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے عثمان کو دیکھ کرفرمایا کہأَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ۔( فتح الباری)
ترمذی نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عثمان سے فرمایا کہ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ۔جامع ترمذی میں مرة بن کعب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک فتنہ کا ذکر فرما رہے تھے کہ ایک شخص کپڑے سے اپنے منہ کو ڈھک کر ادھر سے گذرا رسول ﷺ نے فرمایایہ شخص اس فتنہ میں حق پر ہوگا۔میں نے اٹھ کر اس آنے والے کو دیکھا تو وہ عثمان تھے۔ میں نے ان کا چہرہ نبی ﷺ کی طرف پھیرا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ شخص حق پر ہوگا تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ہاں۔( تلخیص المستدرک)
جامع ترمذی میں مروی ہے کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جیش عسرة کی مدد کی اور رسول ﷺنے فرمایا مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْم۔
حضرت ابو ہریرہ سے بسند صحیح روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایاکہ عنقریب میری امت میں اختلاف و فتنہ پیدا ہوگا ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم اس وقت کیا کریں۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ تم امیر اور اس کے ساتھیوں کے بہی خواہ رہو۔ یہ فرمایا اور عثمان کی طرف اشارہ کیا(تلخیص المستدرک)۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ: ہَلْ یَسْتَوِیْ ہُوَ وَمَن یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَہُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ( النحل : ۷۶) عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی۔ ( ابن سعد ، تاریخ الخلفاء)
حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺفرمایا کرتے تھے أَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ۔ ( اصابہ، تہذیب التہذیب)
ابن عون فرماتے ہیں کہ كان أعلمهم بالمناسك عثمان، و بعده ابن عمر۔ ( تاریخ الخلفاء)
قرآن کریم کے ساتھ حضرت عثمان کو ایک خاص خصوصیت ہے۔ عثمان ذوالنورین کا جامع القران ہونا اور شبانہ روز قرآن کی تلاوت میں بسر کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو معتبر اسناد سے تاریخ و حدیث میں مرقوم ہے۔ تمام صحابہ رسول ۖ میں یہ امتیاز انہیں کو حاصل ہے کہ ایمان لائے تو قرآن کو سن کر، ساری زندگی قرآن کی تلاوت میں بسر کی، قرآن کریم کو جمع کیا ۔ اختلاف قرأ ت کو رفع کیا ۔ تمام مسلمانوں کو ایک قرآن کی تلاوت پر راضی کیا اور قرآن ہی کی تلاوت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
بیعۃ الرضوان کا واقعہ تاریخ اسلام کے اہم ترین واقعات میں ہے۔اس بیعت کے کرنے والوں سے اللہ نے اپنی کامل خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے۔صحابہ رسول میں اصحاب بدر و اُحد کے بعد اصحاب بیعۃ الرضوان کا مرتبہ ہے۔اس بیعت سے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ایک خاص تعلق ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس بیعت کا اصل سبب ہی عثمان ذی النورین ہیں تو بالکل بجا اور درست ہے۔رسول اللہ ﷺنے عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ معظمہ بھیجا۔ حضرت عثمان کے مکہ پہنچنے کے بعد مسلمانوں میں یہ غلط خبر مشہور ہو گئی کہ مشرکین مکہ نے حضرت عثمان کو قتل کر ڈالا ہے۔حبیب رب العالمین ۖاس خبر کو سن کر بے حد رنجیدہ ہوئے۔ اور وفور غم میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اپنے شیدائیوں سے ایک درخت کے نیچے مشرکین مکہ سے لڑنے اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں فدا کرنے کی بیعت لی۔بیعت مکمل ہوچکی تو معلوم ہوا کہ خبر غلط ہے۔ اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ زندہ اور صحیح وسالم موجود ہیں۔ چونکہ یہ بیعت اللہ کی بارگاہ میں بے حد مقبول ہونے والی تھی۔اللہ کے رسول ﷺ نے یہ نہ چاہا کہ خود ان کا رسول ﷺ اس بیعت کے برکات سے محروم رہے ۔ صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایاکہ عثمان اللہ اور رسول کے کام کے لیے گئے ہیں۔ میں ان کو اس بیعت سے محروم نہیں کرنا چاہتا۔ یہ فرمایا اور اپنا دست راست اٹھایا اور کہا کہ یہ ہاتھ عثمان کا ہے اور اپنے ہاتھ سے دست چپ پر رکھ کر عثمان غنی کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔ظاہر ہے کہ رسول ﷺ کا ہاتھ سارے بائعین کے ہاتھوں سے افضل و اعلیٰ ہے۔ جس طرح عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس بیعت کے بانی ہیں۔ اسی طرح ان کی بیعت بھی سارے صحابہ کی بیعت سے کہیں زیادہ اشرف و اعلیٰ ہے۔( فتح الباری، استیعاب )
عثمان ذی النورین اپنی خصوصیات میں بیان فرماتے ہیں کہ میں نے جس ہاتھ سے رسول ﷺ ۖ سے بیعت کی اس ہاتھ کو کمر کے نیچے نہیں لے گیا۔ اس روایت سے حضرت عثمان کا تقدس اور طہارت ظاہر ہے۔ سچ ہے کہ جس طاہر اور مطہر انسان کا ہاتھ سرور عالم ۖ کا دست اقدس ہو جو پروردگار کے نزدیک ید اللہ کا مرتبہ رکھتا ہو اس کی فطری اور خلقی طہارت کا مقتضیٰ یہی ہے کہ وہ اس مرتبہ کا پاکباز ہو۔اس بیعت کے بعد تو عثمان رضی اللہ عنہ کا اس احتیاط کو مد نظر رکھنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ لیکن اس کے قبل سے ان کا اپنے ہاتھ کی اس قدر نگہداشت کرنا ضرور ایسا تقدس اور عرفان ہےجس کی مثال مشکل سے کسی شخص کے حالات میں مل سکے گی۔
قرآن کریم کے علاوہ احادیث نبوی ﷺ کی روایت میں بھی حضرت عثمان کو ایک خاص خصوصیت حاصل ہے۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے تقریباً دو سو حدیثیں رسول کریم ﷺ سے روایت کی ہیں۔ اور جس خوبی کے ساتھ احادیث نبوی کو سامعین تک پہنچایا اس کی بابت معتبر اقوال احادیث و رجال میں منقول ہیں۔ طبقات ابن سعد میں عبد الرحمٰن ابن حاطب سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے سنا کہ حاطب فرمایا کرتے تھے : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا حَدَّثَ أَتَمَّ حَدِيثًا وَلا أَحْسَنَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ۔ (طبقات ابن سعد)
جن صحابہ اور تابعین نے حضرت عثمان سے حدیثیں روایت کیں ان کے اسماء حسب ذیل ہیں ابان بن عثمان، سعید بن عثمان، عمرو بن عثمان، عمران ہانی البربری، ابو صالح، ابو سہلہ، یوسف، مروان بن الحکم، عبد اللہ بن مسعود، زید ابن ثابت، عمران بن حصین، ابو قتادہ، ابو ہریرہ، انس بن مالک، سائب بن یزید، ابو امامة، ابو امامة بن سہل، طارق بن شہاب ، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، عبد الرحمن بن ابی عمرہ، عبد اللہ بن عدی، عبد الرحمن بن حارث، ابو عبید، احنف بن قیس، سعید ابن المسیب، ابو سہل بن حصین ابن المنذر، سعید ابن العاص، شفیق بن سلمہ، ابو عبد الرحمن علقمہ بن قیس، عبد اللہ بن شفیق ، عمرو بن سعید ، مالک بن اویس ، مالک بن ابی عامر ، محمد بن علی ، محمود بن لبید الانصاری، ابو سلمۃ بن عبد الرحمن بن عوف و آخرون۔ (تہذیب التہذیب)
امیر المومنین عمر فاروق کی شہادت کے بعد عثمان ذی النورین خلیفہ رسول ۖ مقرر ہوئے۔عمر فاروق نے جن لوگوں پر خلافت کو محول کیا تھا ۔ان میں عثمان رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔قرعہ انتخاب انہی کے نام پڑا۔ اور تمام اکابر مہاجر و انصار نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلافت کی خبر تمام ممالک اسلام میں شائع ہوئی۔ اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود نے اہل کوفہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ امیر المومنین عمر فاروق نے دنیا سے رحلت فرمائی۔ ہم اصحاب رسول ۖ نے پسماندگان میں سے سب سے بہترین شخص کو اپنا حکمران اور رسول کریم ﷺ کا جانشین تسلیم کیا ہم سب نے عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے تم بھی میرے ہاتھ پر ان کی بیعت کرو۔ (استیعاب، ابن الاثیر)
حضرت عثمان نے گیارہ روز کم بارہ برس خلافت کی، ان کی حکومت کا اول نصف حصہ اچھا سمجھا جاتا رہا اوراخیر نصف کی بابت مشہور ہے کہ خراب رہا ۔ ۳۴ ہجری ان کی خلافت کا وہ پر آشوب سال سمجھا جاتا ہے جن واقعات کا نتیجہ ۳۵ ہجری میں خود خلیفہ کی شہادت تسلیم ہوا۔۳۴ و ۳۵ ہجری کے واقعات کچھ اس پیرایہ میں رو نماہوئے کہ عوام کے نزدیک ساری خرابیوں اور فتنہ انگیزی کی بناء خلیفہ وقت کی کمزوری اور غلط حکمت عملی قرار پائی اور یہی غلط اور مہمل خیال آج تک لوگوں کے دل و دماغ میں جاں گزیں ہے۔ فتنہ انگیزیوں کے جو اسباب مورخین نے لکھے ہیں وہ صرف یہ ہیں کہ انہوں نے اپنے اقرباء اور اعزہ کو حکومت کے بڑے بڑے عہدے عطا کیے اور بیت المال کا کچھ روپیہ اپنے قرابت داروں میں تقسیم کیا۔ ان اصل اعتراضات کے د و ضمیمے اور مقرر کیے گئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ بہترین لوگوں کے ہوتے ہوئے کم مرتبہ اشخاص کو عمال مقرر کیا اور صحابہ رسول نے ان کو اس غلطی پر متنبہ کیا۔ معزز صحابہ رسول کے ساتھ سختی سے پیش آ ئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو ذر اور عما ر جیسے جلیل القدر صحابی ان سے ناخوش ہوگئے اور ان بزرگوں کی ناخوشی اور عمال عثمان کی نا اہلی نے دنیائے اسلام میں فساد برپا کیا۔ مروان کو اپنا دست راست اور کاتب و وزیر بنایا اور اس کی انتہائی خطا پر بھی اسے سزا نہ دی جس کی وجہ سے ساری خرابیاں رونما ہوئیں۔
دوسرے یہ کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے شیخین کی اتباع سنت کا اگرچہ اقرار کر لیا تھا لیکن اس پر کاربند نہ رہ سکے۔ شیخین نے اپنے قبیلے کے کسی فرد کو عامل نہیں مقرر کیا بہ خلاف اس کے انہوں نے اکثر اُمویین کو حکومت پر فائز کیا۔
لیکن فی نفسہ نہ تو ان اعتراضات میں کوئی اہمیت ہے اور نہ ان کے ثابت ہوجانے پر خلیفہ وقت پر کسی طرح کی کمزوری یا غلطی کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔ ہم ان تمام اعتراضات کو فرداً فرداً لغو اور مہمل ثابت کرتے ہیں اور اسی کی ضمن میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ فتنہ انگیزی کا اصل راز کیا ہے جس نے ساری دنیائے اسلام کو تہ و بالا کر ڈالا۔ اگرچہ ان تمام اعتراضات کا مختلف کتابوں سے اقتباس کرنا اور ان کی روایتوں کو رجال اور نیز درایت سے جانچنا اور ان پر صحیح انتقاد کرنا تو اس بات کا مقتضی ہے کہ حضرت عثمان کی ایک مکمل سوانح عمری تیار کی جائے، لیکن اس وقت نہ اس کا موقعہ ہے اور نہ اس کا کافی سامان موجود ہے ممکن ہے کہ آئندہ چل کر اللہ اس بات کی توفیق عطا کرے اور موافق سامان و اسباب پیدا ہو جائیں۔
(۱) یہ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اعزہ اور قرابت داروں کو حکومت میں بڑے بڑے عہدے عنایت کیے۔ قبل اس کے کہ ہم اس اعتراض کو غلط ثابت کریں۔ ہم حضرت عثمان غنی کے تمام عمال پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔علامہ ابن حجر عسقلانی "الاصابہ فی تمیز الصحابة” میں حضرت عثمان کے حالات کے ضمن میں کہتے ہیںکہ ان کے آخر عہد میں چار رکن عثمان رضی اللہ عنہ کے اعزہ میں بر سر اقتدار تھے۔ یعنی شام پر معاویہ بن ابی سفیان ، بصرہ پر سعید ابن العاص ، مصر پر عبد اللہ ابن سعد اور خراسان پر عبد اللہ ابن عامر ۔ اس تحریر کے مطابق جب ہم غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزام بالکل لغو اور مہمل ہے۔ اس لیے کہ ان چاروں امیروں میں معاویہ بن ابی سفیان اور سعید ابن العاص تو عمال عمر رضی اللہ عنہ میں داخل ہیں جو عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں بھی اپنی اپنی خدمتوں پر بحال رہے، صرف عبد اللہ بن عامر اور عبد اللہ بن سعد دور عثمانی کی یادگار ہیں۔ اور اگر یہی دونوں عامل سارے فساد اور کل فتنہ انگیزیوں کا باعث سمجھے جاتے ہیں تو واقعہ یہ تھا کہ ان میں سے بھی کوئی خالص اموی نہیں ہے۔ ایک صاحب یعنی ابن سعد حضرت عثمان غنی کے رضاعی بھائی ہیں۔ اور دوسرے عامل یعنی عبد اللہ ابن عامر عثمان رضی اللہ عنہ کے حقیقی ماموں زاد بھائی کے فرزند ہیں۔ ابن عامر کو جو قرابت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے وہی تعلق رسول ﷺ ۖ اور علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ہے۔ عامر عبد المطلب بن ہاشم کے نواسے ہیں اور عبد الشمس بن عبد مناف کے پوتے ہیں۔ یعنی عامر عثمان رضی اللہ عنہ کے حقیقی ماموں کے فرزند اور رسول اللہ ﷺ ۖ اور علی مرتضیٰ کی حقیقی پھوپھی کے بیٹے ہیں۔ باپ کی طرف سے ابن عامر کو ہم مجازاً اُموی کہہ سکتے ہیں نہ کہ حقیقتاً۔ کیونکہ ان کے اسلاف امیہ بن عبد الشمس کی اولاد میں نہیں ہیںبلکہ امیہ کے بڑے بھائی کی نسل سے ہیں اور ظاہر ہے کہ ہر اموی تو ضرور عبشمی ہے، لیکن ہر عبشمی اموی نہیں ہے۔ عبد اللہ ابن سعد کو خاندان بنی امیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بزرگ قبیلہ بنی عامر کے ایک رکن ہیں اور بنی عامر کا قبیلہ قریش ظواہر میں داخل ہے نہ کہ قریش بطحیٰ میں۔ عسقلانی کا "اصابہ” ، جزری کا "اسدالغابہ” اور ابن عبدالبر کا "استیعاب”، رجال کی معتبرکتابیں موجود ہیں جن میں ابن عامر اور ابن سعد کا نسب اور ان کے حالات تفصیل سے مرقوم ہیں۔ ان کتابوں کے دیکھنے سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ دور عثمانی کے پر آشوب زمانہ میں خود عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ عمال میں کوئی بھی خالص ا موی النسل نہ تھا ۔بلکہ عبد اللہ ابن سعد ابی سرح بھی عمال فاروقی میں داخل ہیں۔ علامہ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ حضرت عمر کے عہد معدلت میں عمرو بن العاص فاتح مصر، ملک کے گو والی تھے ان کی ماتحتی میں بالائے حصہ مصرپر جس کو سعید کہتے ہیں، عبد اللہ بن سعد ابی سرح حاکم تھے۔ اور نشیبی حصہ مصر پر ایک دوسرا شخص حکمران تھا۔ معترضین کو ان کے بابت صرف یہ اعتراض تھا کہ جس شخص کا خون سرور عالم ﷺ نے مباح کر دیا تھا۔ اس کو مسلمانوں پر حکمران مقرر کرنا نازیبا ہے ورنہ ان کی سیاست اور ان کا تدبر موافق اور مخالف ہر شخص کے نزدیک مسلمہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جس شخص نے افریقہ جیسے ملک کو اس خوبی اور تدبر کے ساتھ فتح کیا ہو کہ جس کی نظیر اسلامی تاریخ میں موجود نہیںاس پر کون نااہلی کا الزام قائم کر سکتا ہے۔اب رہا یہ امر کہ یہ ان لوگوں میں داخل ہیں جن کو سرور کائنات ﷺ ۖ نے واجب القتل قرار دیا تھا، تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے گذشتہ خطائوں سے توبہ کرکے اعمال صالحہ کی برکت سے اپنے آپ کو ایک سچا اور پکا دیندار بنا لیا ہو اس کا تقویٰ محض اس وجہ سے کہ کسی زمانہ میں یہ شخص فاسق تھا۔ ہرگز ہرگز قابل نظر اندازی نہیں ہے۔” آدمی را بچشم حال نگر”۔ ان بزرگ نے رسول ﷺ کے دست مبارک پر دوبارہ توبہ کرنے کے بعد جس سلامت روی کے ساتھ ز ندگی بسر کی اور جس زہد و تقویٰ پر اخیر عمر تک قائم رہے اور جس طرح وفات پائی اس کا مفصل حال "اسد الغابہ” ، "اصابة” اور "استیعاب "میں مفصل مرقوم ہے۔ ابن عامر کی سخاوت، شجاعت اور وجاہت سارے قبائل عرب میں مشہور ہے۔ "اسد الغابہ” اور "استیعاب” وغیرہ کتب رجال میں مرقوم ہے کہ بنی عبد الشمس میں انہی کو یہ شرف حاصل تھاکہ ہم شکل پیغمبر ۖ تھے۔ علامہ جرزی کہتے ہیں کہ ابن عامر جب پیدا ہوئے تو نبی کریم ﷺ کے حضور میں لائے گئے۔ سرور عالم ﷺ نے ان کو اپنے آغوش رحمت میں لیا ، پیار کیا اور اپنی زبان ان کو چوسائی اور ان کے حق میں دعائے خیر کی۔ یہ ضرور ہے کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں عمال میں تغیر و تبدل ہوتا رہا لیکن یہ انتظام اور تبادلہ قطعاً سیاست کے منافی نہیں ہے۔ خلیفہ وقت نے جس شخص کو جہاں اور جب مناسب سمجھا عامل اور حکمران مقرر کیا۔ امیر المومنین کے ان دونوں عمال پر بھی بہت سے بیجا الزامات عائد کیے جاتے ہیںلیکن ان کے کارنامے سارے شبہات کو دور کر دیتے ہیں۔ اور ہر شخص کا اپنے فرائض منصبی کو پورے طور پر ادا کرنا اس کی قابلیت اور دیانت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ابن سعد اور ابن عامر دونوں ساحبوں نے جس قابلیت اور دیانت کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دیا اس نے موافق اور مخالف سبھوں کو بتا دیا کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے یہ دونوں عامل سیاست و تدبر اور دانائی میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے کسی عامل سے کم مرتبہ نہیں ہیں۔ ابن سعد کے ہاتھوں افریقہ کا سا ملک فتح ہوا۔ ابن عامر نے خراسان جیسے ملک کو فتح کرکے مسلمانوں کی شوکت و عظمت کو دوچند بلند و بالاکیا۔
(۲) یہ کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے بیت المال کا کچھ روپیہ اپنے قرابتداروں میں تقسیم کیا۔یہ اعتراض بھی بے معنی اور مہمل ہے کہ عثمان غنی نے اپنا حق بیت المال سے لیا اور بجائے اس کہ اس کو خود اپنے گھر میں رکھتے اپنے صلہ رحم کے لحاظ سے اپنے اعزہ میں تقسیم کر دیا۔ یہ سچ ہے کہ شیخین نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن اگر کسی جائز شے کوابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں کیا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا وہ جانشین اس جائز امر سے فائدہ نہ اٹھائے۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے تو اپنا حق بیت المال سے لے کر اپنے اعزہ میں تقسیم کیا۔ لیکن ان کے پیش رو حاکم وقت نے نیک نیتی اور مصلحت کے لحاظ سے خالص بیت المال کے روپیہ سے اس طرح کی رعایتیں مد نظر رکھیں۔ شیخین کا عہد تو درکنار خود عہد رسالت میں بھی اس کی مثال ملتی ہے خلافت اولیٰ میں بھی ایک مسلمان کے عوض بیت المال کو مقتول کا خون بہا ادا کرنا پڑا خلیفہ رسول نے نیک نیتی اور مصلحت وقت کا لحاظ کرکے اس امر کو جائز رکھا کہ ضرورت کے وقت اگر بیت المال پر اس قسم کا بار پڑے تو کوئی مضائقہ نہیںہے۔ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ خود بدولت جناب سرور کائنات ﷺ اور نیز صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جن لوگوں کے ساتھ اس قسم کی رعایتیں کیں وہ علاوہ مسلمان ہونے کے رسول ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قرابت دار بھی تھے۔اس مبحث پر میں زیادہ لکھنا مناسب نہیں سمجھنا۔ اس لیے صرف اسی قدر عرض کرنا کافی ہے کہ حاکم اور امیر مصلحت ملکی یا اور کسی اور وجہ سے جو نیک نیتی پر مبنی ہو ہر وقت اس قسم کی رعایتیں کرنے کے مجاز و مختار ہیں۔
(۳) عثمان رضی اللہ عنہ نے عالی مرتبہ لوگوں کے ہوتے ہوئے کم پایہ اشخاص کو عامل اور حاکم مقرر کیا۔یہ اعتراض ہی پہلے دو اعتراضوں کی طرح بے معنی ہیں۔ عمال شیخین کے نام تاریخ اور رجال کی کتابوں میں مرقوم ہیں۔ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہمانے بھی جن عامل کو مقرر کیا ان سے بھی بہتر لوگ صحابہ رسول میں موجود تھے مگر حاکم وقت نے مصلحت ملکی کا لحاظ کر کے جس فرد کو جہاں کے لیے مناسب سمجھا وہاں اس کو مقرر فرمایا۔ جس شخص نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اسے بخوبی معلوم ہے کہ شیخین کے عمال بھی سابقین و مہاجرین و انصار پر حکمراں تھے۔خلیفہ اول کے عہد میں خالد بن ولید سارے صحابہ کے افسر لشکر تھے اور ظاہر ہے کہ خالد رضی اللہ عنہ نہ اصحاب بدر میں شامل ہیں اور نہ احد و اہل بیعت الرضواں میں آپ کا شمار ہے۔ اسی طرح فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بعض عمال بھی جن میں امیر معاویہ ، عمرو ابن العاص ،یزید بن ابی سفیان، سعید ابن العاص و غیرہ داخل ہیں۔ سابقین مہاجرین و انصار میں شامل نہیں ہیں۔یہ سچ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں میں ابوذر و عمار رضی اللہ عنہما وغیرہ حضرات کا سا زہد و تقویٰ نہ تھا لیکن سارق و زانی، بد دیانت، دغا باز و بد کار بھی نہ تھے۔ صوم و صلوة کے پابند تھے۔ امیر کے حکم کے مطیع اور غیر مسلموں کے سر کوب تھے۔ ان کی سیاست اور قابلیت ان کے فتوحات سے ظاہر ہے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی فتوحات دنیائے اسلام میں مشہور ہیں۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ کا زمانہ بھی اعلائے کلمة اللہ اور ملکی فتوحات کی کثرت کے اعتبار سے دور فاروقی سے کچھ کم مبارک نہیں ہے۔ حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں جو ثروت مسلمانوں کو حاصل ہوئی اس کی مثال مشکل سے کسی اور زمانہ میں مل سکتی ہے۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ مال غنیمت کی تقسیم میں ہر مسلمان کو لاکھوں درہم و دینار ملےہیں۔ ولید ہوں یا ابن عامر۔ ابن سعد ہوں یا ابن ابی سفیان۔ حضرت عثمان نے ان صاحبوں کو خانہ کعبہ کا متولی، آستانہ رسول ﷺکا جاروب کش، اصحاب صفہ کا نگراں کار یا حجاج کا ساقی نہیں مقرر کیا تھا۔بلکہ یہ لوگ صوبوں کے عامل اور فوجی حاکم تھے۔ اگر خالص دینی خدمت پر ان کا تقرر ہوتا اور مسجد کے امام یا اوقاف کے متولی مقرر کیے جاتے تو البتہ یہ کہنا صحیح ہوتاکہ ان کے عمال میں عمار و مقداد رضی اللہ عنہما کا سا زہد و تقویٰ نہیں ہےاور اس لیے ان کا تقرر موزوں و مناسب نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جس خدمت پر یہ مامور کیے گئے اس کو انہوں نے خوبی اور دیانت کے ساتھ انجام دیا یا نہیں۔حضرت عثمان کی خلافت کا آخری دو ر ۳۱ ہجری سے شروع ہوتا ہے۔ سرور عالم ﷺ ۖ کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس سال گذر چکے تھے۔ جدید ممالک کی فتوحات سے مسلمانوں کی تعداد میں بے حساب اضافہ ہو چکا تھا۔ مصر و شام ، کوفہ اور بصرہ کے مسلمان رسول ﷺۖ کی صحبت سے مستفید نہیں ہوئے تھے جدید ممالک جن حکومتوں کے زیر اثر تھے وہاں کے حکام اور امراء دنیاوی جاہ و جلال کے شیدائی اور ظاہری عظمت و شان کے دلدادہ تھے۔ان ممالک کے عاملوں کو محض بوریا نشیں اور محض متوکل علی اللہ ہونا زیادہ مناسب اور موزوں نہ تھا۔یہی وجہ تھی کہ فاروق اعظم نے بھی اپنے بعض عمال کے ظاہری جاہ و جلال پر زیادہ باز پرس نہیں کی۔ عثمان ذی النورین کے عہد میں اسلامی عاملوں کو ان جدید ممالک میں اپنی عظمت برقرار رکھنے کے لیے جاہ و حشمت کے سامان مہیا کرنے پڑے خلیفہ وقت نے ان سے باز پرس کی اور عمال نے مناسب الفاظ میں امیر المؤمنین کو مطمئن کر دیا۔ خلیفہ رسول ان کے معروضات سن کر خاموش ہو جاتےہیں۔لیکن جن صحابہ نے اپنی ریاضت اور عبادت کی وجہ سے اپنے آپ کو بالکل دنیا سے کنارہ کش کر لیا ہے وہ دنیاوی مصلحتوں پر توجہ نہیں فرماتے اور عمال کو اپنا سا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان صحابہ کو اس کوشش میں ناکامی ہوتی ہے اور یہ حضرات عمال اور کارکنان خلافت پر اعتراض کرتے ہیں۔ان بزرگوں کے اعتراض سے وہ مسلمان جو خلیفہ وقت کی وقعت اور ذاتی عظمت اور بزرگی سے واقف نہیں ہیں۔ امیر المؤمنین سے برگشتہ ہوجاتے ہیںاور دنیائے اسلام میں فساد برپا ہوجاتاہے۔ فتنہ و فساد کے اسباب کا یہ خلاصہ ہے جسے محض اجمالی طور پر بیان کیا ہے ورنہ اس مبحث پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ ابن سبا کے واقعات تاریخ میں مفصل موجود ہیں۔ اس یہودی نے اسلام کی تباہی پر کمر باندھی اور بڑے غور و فکر کے بعد اس وہ اس تہ کو پہنچا کہ اسلامی سیلاب فتوحات کو روکنے کی اس سے بڑھ کر اور کوئی تدبیر نہیں ہے کہ خود مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو جس سے کارخانہ خلافت درہم و برہم ہو کر مسلمانوں کا شیرازہ منشتر ہو جائے۔ یہ منافق اس راز کو اچھی طرح سمجھے ہوئے تھا کہ امیرالمومنین عثمان کی ذات ایک حصن حصین ہے جس کی وجہ سے اسلام میں کوئی فتنہ برپا نہیں ہو سکتا، ان کا قدم درمیان سے اٹھ جائے تو اختلاف اور عناد کا دروازہ مسلمانوں پر کھل جائے گا۔ اور بالآخر اس کی ریشہ دوانی کارگر ہوئی اور شہادت عثمان کے ساتھ اسلام کا شیرازہ اتحاد بکھر گیا۔
(۴) عثمان رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ رسول کے ساتھ سخت کلامی کی اور ان میں سے ایک صاحب کو حکومت سے معزول اور دوسرے کو مدینہ سے خارج البلدد کر دیا۔ بہ ظاہر تو اس اعتراض سے جس قدر ان صحابہ سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے اسی قدر حضرت عثمان کی طرف سے انسان بد گمان ہوتا ہے۔ لیکن غور و فکر کے بعد ہر شخص کو اس بات کا کامل یقین ہوتا ہے کہ امیر المومنین نے جو کچھ کہا وہ عین دانائی اور تدبر پر مبنی تھا۔ ابن مسعود کے بابت تو صحیح روایت یہ ہے کہ اگرچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو خدمت سے معزول کرکے مدینہ واپس بلا لیا۔ لیکن ابن مسعود نے نہ کبھی خلیفہ کی شکایت کی اور نہ ان کو کبھی نشانہ ملامت بنایا۔ ابن عبد البر "استیعاب” میں اور ابن سعد "طبقات الکبریٰ” میں لکھتے ہیں کہ حضرت عثمان نے عبد اللہ ابن مسعود کو طلب کیا ، مسلمانوں نے ابن مسعود سے کہا کہ تم نہ جائواور خلیفہ کی طرف سے مطمئن رہو وہ تم کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ابن مسعود نے کہا کہ امیر المومنین کے احکام کی تعمیل کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ کہا اور مدینہ طیبہ میں حاضر ہو گئے۔ابن مسعود فرماتے تھے کہ لوگ عثمان کو برا کہتے ہیں لیکن میں ان کو نشانہ ملامت نہیں بناتا۔ اللہ کی قسم اگر یہ لوگ عثمان کو قتل کریں گے تو مسلمانوں کو عثمان کے بعد ان کا سا آدمی خلافت کے لیے میسر نہ آنے کا۔ ابن مسعود مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو امیر المومنین ان کی عیادت کو گئے اور دونوں صاحب گلے ملے اور ایک دوسرے کے حق میں دعائے مغفرت کی۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ اور عمار رضی اللہ عنہ کے بابت ہم کو معتبر تاریخوں اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں صاحبوں پر اور بالخصوص حضرت ابی ذر الغفاری پر انتہائی خلوت نشینی اور زہد و ورع کی وجہ سے جذبی حالات طاری ہوگئے تھے اور اللہ و رسول ۖ کی محبت نے ان کو عالم اسباب اور اس کے ماحول سے ایسا بے نیاز کر دیا تھا کہ یہ حضرات اپنی تقریروں اور فتوؤں میں دنیاوی مصلحتوں پر بہت کم توجہ فرماتے تھے۔ امیر المومنین نے ان کے حالات پر نظر کرکے ان کو فتویٰ دینے سے روکا لیکن یہ اصحاب ایسے مغلوب الحال ہو چکے تھے کہ خلیفہ وقت کی ممانعت کا ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔ حضرت عثمان نے انہیں بارہا روکا لیکن ان صاحبوں نے خلیفہ وقت کی ممانعت پر توجہ نہ کی بلکہ خود امیر المومنین سے سخت کلامی اور اپنے خیال کے مطابق ان پر اعتراضات کیے۔ امیر المومنین نے دنیاوی مصلحتوں کے لحاظ سے ان میں سے ایک صاحب کو خود ان کی اپنی خواہش کے مطابق مدینہ سے علیٰحدہ کر دیا اور دوسرے صاحب یعنی عمار رضی اللہ عنہ کو اور زیادہ سختی کے ساتھ ممانعت کی۔ ابو ذر غفاری جب مدینہ سے روانہ ہونے لگے تو امیر المومنین نے ان کے زاد سفر اور سواری کا انتظام فرما دیا اور ان کا معقول وظیفہ مقرر فرمایا۔ابوذر رضی اللہ عنہ نے ربذہ میں قیام کیا اور تھوڑے دنوں میں رحلت فرمائی۔امیر المومنین نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر سنی اور ان کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی۔ حضرت ابوذر کی صاحبزادی یا تو خود امیرالمومنین کے حکم اور ان ہی کے زیر انتظام اور یا حضرت عبد اللہ ابن مسعود کے ہمراہ مدینہ حاضر ہوئیں۔ حضرت عثمان نے بنت ابی ذر کو اپنے عیال میں داخل فرمایا اور ان کے کفیل اور مربی رہے (استیعاب ، ابن الاثیر)۔ فاروق اعظم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدرصحابہ رسول کو روایت حدیث سے روکا تھابلکہ ایک بار ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سخت باز پرس کی اور ان کو عدو اللہ اور عدو الاسلام کے الفاظ سے یاد کیا۔ فاروق اعظم کے اس سلوک سے ابو ہریرہ وغیرہ بھی ان سے ناراض رہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جب کوئی عمر فاروق کا ذکر کرتا تو وہ یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے: اللّٰھم اغفر لامیر المومنین۔ ابو ہریرہ، ابو سعید ، ابو ذر اور عمار رضی اللہ عنہم کے جلیل القدر ہونے میں شبہ نہیں لیکن فاروق اعظم اور عثمان ذی النورین ان صاحبوں سے بہ مراتب افضل و اعلیٰ ہیں۔ جس طرح ابو ہریرہ وغیرہ اصحاب رسول کی ناراضی سے فاروق اعظم کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اسی طرح ابو ذر اور عمار کے کبیدہ ہونے سے عثمان ذی النورین کی منقصت لازم نہیں آتی۔
(۵) یہ اعتراض کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے شیخین کی حکمت عملی کے خلاف بنی امیہ کو بر سر اقتدار کیا حالانکہ ابو بکر و عمر نے کسی تیمی اور عدوی کو حاکم و عامل مقرر نہیں کیا۔ میرے نزدیک اس اعتراض کو بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ابو بکر رضی للہ عنہ تیمی تھے اور عمر رضی اللہ عنہ عدوی تھے لیکن عثمان رضی اللہ عنہ اُموی تھے۔ بنی تیم اور بنی عدی دونوں قبیلے اگرچہ شرافت اور طہارت نسب کے اعتبار سے بنی امیہ اور بنی ہاشم سے کم مرتبہ نہیں تھے لیکن حکومت اور سیادت ہمیشہ آل عبد مناف کے پاس رہی۔ آل عبد مناف میںبنی اُمیہ روسائے قریش اور بنی ہاشم مذہبی پیشوا رہے۔جس طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی انتہائی دانائی تھی کہ انہوں نے تیمی اور عدوی کو عامل نہیں مقرر کیا اسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ اور نیز علی رضی اللہ عنہ کی انتہائی فراست تھی جو انہوں نے آل عبد مناف کو اپنے اپنے دور خلافت میں حاکم و عامل بنایا۔ جاہلیت میں ابو سفیان سردار قریش اور رئیس مکہ تھے اسلام میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور یہ خود بھی مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ابو سفیان اور نیز دیگر اُموی ہر زمانہ میں اپنے کو مستحق سیادت اور امارت کا اہل سمجھتے رہے۔ سرور کائنات ۖ اور شیخین کے زمانوں میں بھی اس خاندان کے افراد معزز اور بر سر اقتدار رہے ہیں جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:-
غناب ، خالد ، ابان ، عمرو و ابو سفیان یہ پانچ اراکین قبیلہ بنی امیہ کے عہد رسالت میں عامل اور حاکم تھے۔ فتح مکہ کے بعد غناب یہاں کے حاکم مقرر ہوئے۔ غناب جس وقت حاکم مقرر کیے گئے ان کا سن بیس سال سے کچھ زائد تھا۔ ابو سفیان صدقات کے عامل تھے اور خالد یمن کے، ابان بحرین کے اور عمرو خیبر کے حاکم تھے۔ خالد و ابان اور عمرو ، تینوں بھائی عہد رسالت میںمعزز عامل کی حیثیت سے اپنے اپنے صوبوں پر بر سر اقتدار رہے۔ سرور عالم ﷺ کی وفات کے بعد تینوں بھائی مدینہ طیبہ واپس آئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان صاحبوں سے فرمایا کہ تم لوگ کیوں واپس آئے ہو تم تو رسول ﷺ ۖ کے عامل ہو۔ ظاہر ہے کہ عمال رسول ۖ سے بہتر ہم کو کون حاکم مل سکتا ہے۔ تم تینوں بھائی اپنے اپنے مستقر کو واپس جائومیں تم کو تمہاری خدمتوں پر بحال رکھتا ہوں۔ لیکن ان صاحبوں نے عرض کیا کہ ہم لوگ بنو ابی احیجہ اور عبد الشمس بن عبد مناف کے فرزند ہیں ، ہم رسول ﷺ ۖ کے عامل رہنے کے بعد کسی اور شخص کی ماتحتی میں حاکم رہنا پسند نہیں کرتے یہ کہا اور شام کو چلے گئےاور وہیں تینوں بھائی جہاد میں شہید ہوگئے۔ فتح مکہ کے بعد بیت اللہ کے علاوہ جو گھر کہ دارالامن قرار دیا گیا وہ ابو سفیان کا مکان تھا۔ خلیفہ رسول اللہ حضرت ابو بکر نے یزید بن ابی سفیان کو جب شام کا عامل مقرر کیا تو پا پیادہ ان کے ساتھ مشایعت کی۔ عتبہ ، یزید اور معاویہ ، ابو سفیان کے تینوں بیٹے عمر فاروق کے عامل تھے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ بنی امیہ میں سوا عثمان ذی النورین کے بنی ہاشم کا سا تقویٰ اور ورع نہ تھا لیکن سیاست ، تدبر اور انتظام مملکت میں یہ لوگ ہمیشہ دیگر قبائل قریش سے بہتر سمجھے گئے۔فاروقی عہد معدلت خلافت راشدہ کا بہترین زمانہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس با برکت عہد میں ہی جو لوگ برسر اقتدار اور بہترین عامل تسلیم کیے گئے وہ اسی خاندان کے افراد یعنی معاویہ ، یزید اور سعید ا بن العاص ہیں۔ عشرہ مبشرہ کے علاوہ کوئی تیمی رسول ﷺ ۖکے عہد میں اور کوئی عدوی رسول ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ممتاز اور بر سر اقتدار نظر نہیں آتا۔ بر خلاف امویین کے جو عثمان رضی اللہ عنہ سے پیشتر بھی ہر زمانہ میں معزز عہدوں پر فائض اور سارے قبائل قریش میں ممتاز و سرفراز رہے۔ اگر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بنی تیم کو جو ان سے پیشتر رسول ﷺ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ نے بنی عدی کو جو ان سے قبل رسول ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانوں میں بھی بر سر اقتدار نہ تھے اپنی حکومت میں شریک کار نہیں بنایاتو ان کے اس طرزِ عمل سے نہ تو ان کے اعزہ کو ان سے شکایت کا موقع مل سکتا تھا اور نہ خود ان کو کسی قسم کی دقت کے پیش آنے کا احتمال ہو سکتا تھا۔بہ خلاف عثمان کے کہ اگر یہ امویین کو جو ان کے قبل ہی سے عامل اور حاکم ہوتے چلے آرہے تھے اپنی حکومت کے زمانہ میں بھی بر سر اقتدار نہ رکھتے تو ایک طرف تو ان کے بھائی ان کو قاطع رحم کے لقب سے یاد کرتے اور دوسری طرف وہ حکومت بعض قابل ترین کارکنوں کی امداد سے محروم ہو جاتی۔ آل عبدمناف کی موجودگی میں شیخین کا حاکم اور بر سر اقتدار ہونا بنی تیم اور عدی کے لیے کچھ کم باعث تعجب نہ تھاجو وہ اور کسی فرد کی حکومت یا امارت کی تمنا کرتے۔مثال کے طور پر ایک واقعہ عرض کرتا ہوں جس سے میرے قول کا پورا ثبوت مل جاتا ہے۔رسول ﷺ ۖ نے دنیا سے رحلت فرمائی اور ابو بکر صدیق خلیفہ مقرر کیے گئے۔ کسی بہی خواہ نے ان کے باپ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی مبارک دی ۔ حضرت ابو قحافہ مبارکباد دینے والے کو کاذب سمجھے اور فرمانے لگے کہ تم جھوٹ بولتے اور مجھ سے مزاح کرتے ہو۔ یہ امر ممکن ہی نہیں کہ آل عبد مناف سوا اپنے کسی دوسرے قریشی کے سامنے سر جھکائیں مبارک باد دینے والے نے شدید قسمیں کھائیں جب جا کر ان کو یقین آیاکہ ابو بکر صدیق مسلمانوں کے سردار تسلیم کر لیے گئے۔ سرور عالم ﷺ ۖ کی رحلت کے بعد تیرہ برس کا زمانہ ایسا ملتا ہے جس میں عرب و حجاز پر تیمی و عدوی حکمرانی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ قلیل مدت ہی آل عبد مناف پر گراں گزرتی مگر شیخین کا اقتدار ، ان کا تقدس ، ان کا تقویٰ و ورع ، ان کی وجاہت اور شخصیت، ان کا اسلامی اور ایمانی امتیاز، ان کی صداقت اور راستی، ان کا عدل و انصاف ایسا زبردست اور قوی تھا کہ آل عبدمناف میں کسی فرد کو بھی چوں وچرا کی گنجائش نہ ہوئی۔ لیکن جہاں ابو بکر و عمر اپنے حالات اور اپنی شخصیت سے بخوبی واقف تھے وہاں وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ہر تیمی صدیق اکبر اور ہر عدوی فاروق اعظم نہیں ہےجو سادات قریش کو اپنی شخصیت سے قابو میں رکھ سکے۔ لیکن عثمان رضی اللہ عنہ یہ جانتے تھے کہ ہر اُموی سید قریش ہے اور رئیس بطحی ٰ ہے اور اس قبیلہ کے ہر فرد میں حکومت اور سیادت کرنے کے جوہر موجود ہیں۔فرماں روائے وقت کی انتہائی دانائی اور فراست یہ ہے کہ وہ قوم کے بہترین ہاتھوں کو اپنا شریک کار بنائے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہی سمجھ کراموی افراد کو اپنا دست راست اور حکومت کا کارکن بنایا لیکن افسوس کہ خلیفہ وقت کو نا فہموں کے ا عتراضات اور نو مسلم اعراب کی حرص و طمع اور بعض صحابہ کے زہد اور دنیاوی بے تعلقی نے اس بات کا پورا موقعہ نہ دیا کہ وہ اپنی دانشمندانہ سیاست سے اسلام اور فتوحات اسلام کو پورا فائدہ پہنچاتے۔ رہی یہ بات کہ امیرالمومنین کا یہ خیال غلط اور ان کی پالیسی تباہ کن یا یہ کہ ان کی رائے بالکل صحیح اور ان کی سیاست باعث ترقی و فلاح تھی اور بنی امیہ حاکم ہونے کی قابلیت رکھتے تھے یا یہ کہ محکوم رہ کر اپنی زندگی بسر کرنے کے لائق تھے، اس کا فیصلہ تاریخ کے صفحات کر سکتے ہیں۔امیر معاویہ کی سطوت و سیاست ،ان کا تدبر و جاہ و جلال ان کے فتوحات کی کثرت، ولید و ہشام کے کارنامے اور زوال سلطنت عرب کے بعد عبد الرحمن الداخل کا اندلس پہنچنا اور وہاں کی خود مختار سلطنت کا سنگ بنیاد رکھنا اموی حکمرانوں کی شوکت و عظمت اور ان کے عہد کی علمی ترقیاں یہ ایسے واقعات ہیں جن کا زبان سے اعتراف نہ کرنا ممکن لیکن ان کو تاریخ کے صفحوں سے مٹانا محال ہے۔
امیر المومنین عثمان کی فتوحات دو قسم کی ہیں۔ ایک قسم یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم کی شہادت کے بعد بعض بعض شہروں میں بغاوت پھوٹ نکلی ذو النورین رضی اللہ عنہ نے اس بغاوت کو فرو کرنے اور ان ممالک کو دوبارہ فتوحات اسلامیہ میں داخل کرنے کی کوشش فرمائی اور اس میں انتہائے سیاست و تدبر سے کام لے کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے۔ اس قسم کے ممالک کے نام حسب ذیل ہیں:-
ہمدان، مرسے ، اسکندریہ، آذربائیجان اسی کے ساتھ بلاد آرمینیاوغیرہ فتح ہوکر دائرہ اسلامی میں داخل ہوئے۔
دوسری قسم فتوحات کی وہ ہیں جو خود ان کے عہد میں حاصل ہوئیں اس سے پیشتر یہ ممالک بلاد اسلامی حلقہ مملکت میں داخل نہ تھے یہ فتوحات حسب ذیل ہیں:-
افریقہ جو عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے ہاتھوں فتح ہوا۔ اندلس جس کو عبد اللہ بن نافع القیس نے فتح کیا۔ قبرص جس کی مہم امیر معاویہ کے ہاتھوں سر ہوئی۔ فارس اور خراسان کا زور ٹوٹا اور یزدجر کی زندگی کا خاتمہ انہیں کے زمانے میں ہوا۔ کابل، زابلستان، ہرات، طالقان، فاریاب اور طبرستان کے میناروں پر انہیں کے زمانہ خلافت میں اسلامی علم نصب کیا گیا۔ (ابن خلدون، ابن الاثیر، مراة الجنان )
کتب سیر اور معتبر تاریخ کی کتابوں مثلا ً ابن سعد، ابن الاثیر اور ابن خلدون کی ورق گردانی سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت عثمان کو امور سیاسی میں بہت اچھا ملکہ تھا۔ حضرت عثمان نے وظائف اور نیز ما یحتاج زندگی کی تقسیم کرنے کے دن مقرر کر رکھے تھے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کا منادی آواز دیتااورلوگوں کو ضروری چیزوں کے لینے کی دعوت دیتا۔ مسلمان صبح کو جاتے اور جو دن جس چیز کی تقسیم کا معین ہوتا اسے لے آتے۔ اللہ کی قسم اس خیر و برکت کے زمانہ میں مسلمانوں کو ایسی ثروت اور مرفہ الحالی نصیب ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔رزق کے دروازے کشادہ ہوگئے اور سارے بلاد اسلام میں امن و امان کا سکہ جاری ہوگیا۔ایک مسلم کو دوسرے سے سوا ا مداد و نصرت کے کبھی بدخواہی کی امیدنہ تھی۔ لیکن ناشکروں نے اور سفلہ مزاج افراد نے امیر المومنین کی ذات اور ان کی شخصیت کی قدر نہ کی اور اپنی تلوار نیام سے نکالی جس کی سزا یہ ملی کہ وہی تلوار جو کفار کو مغلوب اور مقہور کرکے ائرہ اسلامی کو روز بروز بڑھا رہی تھی خود مسلمانوں کے درمیان چلنے لگی امیر المومنین کی شہادت سے اسلام کا حصن حصین ٹوٹ گیا اور ہم پر قیامت تک کے لیے فتنہ و فساد کا دروازہ کھل گیا۔ (استیعاب)
امیر المومنین عثمان ذی النورین ہرممکن طریقہ سے رعایا کی خبر گیری رکھتے اور عمال اور بلاد اسلام کے حالات ہر ممکن طریقہ سے دریافت فرماتے اور عمال سے پرسش اور رعایا کی اصلاح کرتے رہتے تھے۔ طبقات ابن سعد میں منقول ہے کہ نماز جمعہ میں مسلمان دور دور سے آتے اور امیرالمومنین سے اپنی حاجتیں پیش کرتے۔ جمعہ میں اس قدر حاجتمندوں کا ہجوم ہوتا کہ اکثر خطبہ کے درمیانی وقفہ میں بھی امیر المومنین حاجتمندوں سے ان کے حالات دریافت فرماتے تھے۔
ابن الاثیر میں لکھا ہے کہ حضرت امیر المومنین نے بلاد اسلام میں عام فرامین جاری کردیئے تھے کہ جس شخص کو میرے کسی عامل سے کوئی شکایت ہو وہ حج میں حاضر ہو کر اپنی شکایت پیش کرے۔اس کے ساتھ عمال کو یہ حکم تھا کہ ہر ذمہ دار افسر موسم حج میں امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہو۔ مکہ معظمہ میں عمال اور رعایا کے مقدمات پیش ہوتے تھے اور امیر المومنین ہر شکایت کو اس خوبی سے رفع فرماتے تھے کہ عامل اور سائل دونوں بالکل مطمئن ہو جاتےتھے۔ہر سال معتبر صحابہ رسول عمال کے حالات دریافت کرنے کے لیے بلاد اسلام میں روانہ کیے جاتے تھے۔ محمد بن مسلمہ اور عبد اللہ بن عمر وغیرہ جلیل القدر صحابہ رسول کو یہ خدمت سپرد کر دی گئی تھی۔ زمانہ خلفشار میں بھی یہی حضرات عمال کے حالات دریافت کرنے کے لیے ممالک اسلام میں بھیجے گئے تھے۔ ان صاحبوں نے مدینہ منورہ واپس آکر عمال کی طرف سے امیر المومنین اور دیگر صحابہ کو مطمئن کر دیا تھا۔ ریاض و ابن خلدون میں حضرت حسن کی روایت سے مرقوم ہےکہ امیر المومنین عثمان دوپہر کا کھانا کھا کر مسجد نبوی میں قلیولہ کے لیے لیٹ جاتے تھے لوگ یکے بعد دیگرے ان کے پاس آتے اور وہ اٹھ کر بیٹھ جاتے تھے اس طرح برابر سائلوں اور حاجتمندوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اس طرح مسجد میں لیٹے رہنے سے ان کے بازو پر سنگریزوں کے نشانات بن جاتےتھے۔
عثمان ذی النورین کے مزاج میں باوجود دولت و ثروت کے بے حد سادگی تھی۔ابن خلدون میں شرحبیل بن حسنہ کی روایت سے مرقوم ہے کہ امیر المومنین مہمانوں اور سائلوں کو نفیس کھانے کھلایا کرتے تھے اور خود شہد اور زیتون کا تیل کھایا کرتے تھے کبھی کبھی محض بھنے گوشت اور سرکہ پر اکتفا فرماتے تھے۔ عبد اللہ ابن شداد فرماتے ہیں کہ میں نے امیرالمومنین کو جمعہ کے دن نماز پڑھتے دیکھا ، اللہ کی قسم ان کو دیکھ کر مجھے بے حد عبرت ہو ئی کہ جس امام عادل کے دروازے پر ہزارہا روپیہ کی جنس اور کپڑے محتاجوں کو تقسیم ہوتے تھے خود اس کے جسم پر جو کپڑا تھا اس کی قیمت پانچ درہم سے زائدنہ تھی۔
اسی کتاب میں حضرت حسن سے مرقوم ہے کہ عثمان غنی کی چادر ان کی خلافت کے زمانہ میں آٹھ درہم سے زائد کی نہ ہوتی تھی۔ حالانکہ ان کے دروازے پر صدہا روپیہ روزانہ کی خیرات ہوا کرتی تھی اور ان کی جوتیاں وسط سے کٹی ہوئی باریک تسمہ دار ہوتی تھی۔
ابن خلدون اور سیوطی نے لکھا ہے کہ صدقات میں ان کا یہ عالم تھا کہ صحابہ میں ان کی نظیر نہیں مل سکتی۔ جب سے اسلام لائے ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کیا کرتے تھے۔ اگر اتفاق سے کسی جمعہ کو غلام آزاد نہ کر سکے تو دوسرے جمعہ کو دو بردہ اللہ کے نام آزاد فرمایا کرتے تھے۔
"ابن خلدون” اور "ریاض” وغیرہ معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ میں ایک مرتبہ بہت بڑا قحط پڑا۔ ایک روز شام کو اہل مدینہ حضرت خلیفہ رسول کی خدمت میں حاضر ہوئےاور آپ نے حاضرین سے فرمایا کہ صبر کرو اللہ کے ایک محبوب ترین بندے کے ہاتھوں تمہاری مشکل حل ہو جائے گی۔اسی رات ایک ہزار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے حضرت عثمان غنی کے یہاں آئے اور باوجود اس کے کہ تجار مدینہ پندرہ گنے قیمت پر خریدنے کے لیے تیار تھے لیکن ذی النورین نے مال فروخت کرنے سے قطعی انکار کیا اور سارا غلہ صدقہ میں دے دیا۔ اس واقعہ سے جس طرح کہ خلیفہ رسول صدیق اکبر نے حضرت عثمان کے حق میں کلمات خیر فرمائے وہ حضرت عبد اللہ ابن عباس سے بسند صحیح تمام کتابوں میں مرقوم ہے۔
امیرالمومنین کی فیاضی اور دریا دلی کا یہ عالم تھا کہ اپنی خلافت میں بھی حج ہر سال کرتے اور موسم حج میں سارے حجاج کو کھانا کھلاتے اور اس مد میں جو رقم صرف ہوتی اسے خود ادا فرماتے۔ بیت المال کو ان مصارف سے کوئی تعلق نہ تھا۔ چنانچہ یہ واقعات ابن خلدون اور ریاض وغیریہ معتبر کتابوں میں مرقوم ہیں۔
سرور عالم ﷺ کے بابرکت عہد میں اپنی سیر چشمی اور دریا دلی کی وجہ سے حبیب رب العالمین ﷺ کے ہاتھوں بارہا جنت خریدی اور مغفرت کا وہ مژدہ سنا جو کسی صحابی کے لیے منقول نہیںہے۔جن الفاظ اور جس آواز میں خود اللہ نے سرور عالم ﷺکو مژدہ مغفرت سنایا انہی الفاظ میں رسول اللہ ﷺ نے عثمان ذی النورین کو جنت اور مغفرت کی بشارت دی۔ ابن عبد البر "استیعاب” میں اور علامہ جرزی "اسد الغابہ” میں باسناد صحیح روایت کرتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے عثمان غنی کو مخاطب کرکے فرمایا : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا عُثْمَانُ مَا قَدَّمْتَ وَمَا أَخَّرْتَ، وَمَا أَسْرَرْتَ وَمَا أَعْلَنْتَ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔
احیائے علوم میں جمع قرآن کا کارنامہ مشہور و معروف ہے۔ جس طرح امیر المومنین نے ساری امت کو ایک قرآن اور ایک قرأت کی تلاوت پرجمع کیا اور جس جرأت اور شفقت اور جس حسن انتظام کے ساتھ اس کام کو انجام دیا اس کا حال تمام معتبر کتب احادیث و رجال میںصحیح روایات سے منقول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عثمان ذی النورین نے یہ احسان ایسا امت محمدی پر کیا ہے کہ شکریہ نہ ادا کرنا در حقیقت اللہ کی ناسپاس گزاری ہے۔”استیعاب”، "اسد الغابہ”، "فتح الباری” اور "ابن جریر طبری” وغیرہ مستند کتابوں میں اس کارنامہ کے حالات اور اس کے فوائد و برکات تفصیل کے ساتھ مندرج ہیں محققین صحابہ اور تابعین فرمایا کرتے تھے دو خصلتیں عثمان رضی اللہ عنہ میں ایسی پائی جاتی ہیں کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما میں ان کا وجود نہیں ہے۔ ایک راضی برضا ے الٰہی ہو کر انتہا صبر و استقلال کے ساتھ اللہ کی راہ میں شہادت کا مرتبہ حاصل کرنا دوسرے ساری امت کو ایک قرآن کی تلاوت پر جمع کر دینا۔
جمع قرآن کے علاوہ حضرت عثمان خود قرآن کی قرأت اور تلاوت کی تعلیم بھی دیا کرتےتھے۔ تابعین میں بہت سے حضرات حضرت عثمان ذی النورین کے شاگرد تھے جن کی قرأت کا سلسلہ آج تک دنیا میں رائج ہے۔چنانچہ اس کا تفصیلی حال ابن جریر طبری اور نیشا پوری کی معتبر تفسیروں میں ناظرین خود دیکھ سکتے ہیں۔
حضرت عثمان کی شہادت کا واقعہ تفصیل کے ساتھ تاریخوں میں مرقوم ہے۔ اسباب شہادت میں سب سے بڑا سبب مروان کا لکھا ہوا خط ہے جو محمد ابن ابی بکر کے خلاف عامل مصر کے نام خلیفہ وقت کی طرف سے لکھا گیا تھا۔
محمد بن ابی بکر نے راستہ میں قاصد کو گرفتار کیااور اس کی تلاشی لینے کے بعد خط کو حاصل کیا اور اسے لے کر مدینہ واپس آئے۔ صحابہ رسول نے حضرت عثمان سے اس خط کی بابت دریافت کیا انہوں نے اس تحریر سے اپنی لا علمی ظاہر کی اور بہ قسم بیان کیا کہ مجھے اس خط کا کوئی اطلاع نہیں۔ صحابہ رسول اور نیز دیگر بلوائیوں نے حضرت عثمان سے مروان کو طلب کیا تاکہ اسے کذب آمیز خط لکھنے کی سزادی جائے۔ حضرت عثمان نے مروان کو ان صاحبوں کے حوالہ کرنے سے انکار کیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بلوائیوں نے ہجوم کرکے خود امیر المومنین کو شہید کیا۔
اس بات کی تحقیق کرنا کہ در اصل مروان ہی اس خط کے کاتب تھے یا خود ملزم کے قول کی بناء پر دشمنان خلافت کی کسی سازش سے یہ کارروائی کی گئی۔ بے حد مشکل امر ہے۔ عثمان ذی النورین سے جب لوگوں نے مروان کو طلب کیا تو آپ نے یہی جواب دیا کہ اگر میں مروان کو تم لوگوں کے سپرد کروں تو تم اسے قتل کرڈالوگے اور کسی مشتبہ شخص کو جب تک اس پر پورا جرم ثابت نہ ہو سزا دینا شریعت کے بالکل خلاف ہے۔ جس طرح میں اس خط کے متعلق بہ حلف اپنی لا علمی کا ظاہر کرتا ہوں اسی طرح مروان بھی شرعی قسم کھا کر یہ بیان کرتا ہے کہ اس نے قاصد کو نہ عامل مصرکے پاس بھیجا اور نہ ابن سعد کے نام کوئی نامہ لکھا۔ تم پیشتر اسے مجرم ثابت کرلو اس کے بعد مجھ سے اسے مانگو اور سزا دو کیا معلوم کہ یہ کام کسی دوسرے نے کیا ہو۔لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور خلیفہ کے مکان کا محاصرہ کر کے انہیں شہید کردیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اہل شہر اور منافقین کو مروان کا نہ قتل مقصود تھا اور نہ اسے تباہ کرنے کے لیے وہ مدینہ میں آئے تھے۔ان کا مقصد تو اسلام کے حصن حصین کو توڑنا اور اس میں فتنہ وفساد کو ہمیشہ کے لیے داخل کرنا تھا۔ جس کا بدیہی اور بین ثبوت یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ مروان بھی اس مکان میں موجود ہیں لیکن ان سے کوئی باز پرس نہیں کرتا۔ محمد بن ابی بکر کے ساتھ ان کے دو ساتھی مکان میں داخل ہوتے ہیںلیکن مروان کی نہ کوئی تلاش و جستجو کرتا ہے اور نہ اس سے کسی قسم کا تعرض کیا جاتاہے۔ جامع القرآن ، کلام الٰہی کی تلاوت میں مشغول ہیں اسی حالت میں ان پر وار کیا جاتا ہے۔ بلوائیوں کے اس طرز عمل سے کہ انہوں نے مروان کو زندہ اور صحیح و سالم چھوڑا اور عثمان غنی پر تلوار و نیزے کی بوچھاڑ کی ضرور اس خیال کو تقویت ہو تی ہے عجب نہیں کہ یہ خط جس کی بناء پر خلیفہ مظلوم شہید اور ان کے بعد مسلمان تباہ و برباد ہوئے کسی مدعی خلافت اور دشمن اسلام ہی کی سازش کا نتیجہ ہو۔اگرچہ یہ مبحث دقیق ہے اور ایک مقبول عام خیال کو خواہ وہ کتنا ہی غلط اور لغو کیوں نہ ہو رد کرنا اور حقیقت واقعی کو ظاہر اور دلائل سے ان کا انکشاف کرنا دقت اور تفصیل کا محتاج ہےاور اس کا اس وقت موقعہ نہیں ہے۔ لیکن اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ جس طرح جرم کا ارتکاب کرنا مذموم ہے اسی طرح مجرم کی بے جا حمایت بھی قبیح اور ہر طرح پر ناپسندیدہ ہے۔ اگر یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ جاتا کہ کاتب تحریر مروان ہیں اور عثمان رضی اللہ عنہ اپنے ایک عزیز قریب کی بے جا حمایت کر رہے ہیں تو امیر المومنین سے باغیوں کے مقابلہ میں قتال کی رائے دیتے وقت عبد اللہ بن سلام ، عبد اللہ بن عمر ، عبد اللہ بن عباس ، ابو ہریرہ ، زید ابن ثابت وغیرہ جلیل القدر اصحاب رسول امیر المومنین سے یہ کہتے کہ انت علیٰ الحق و ھم علیٰ باطل ؟۔ اور نہ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حسنین جیسے فرزندوں کو خلیفہ وقت کی حفاظت کے لیے مقرر فرماتے۔
بلوائیوں کا خلیفہ بر حق پر ہجوم ہواتو صحابہ رسول ۖ میں بہت سے حضرات جانبازی کے لیے امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ لیکن سبھوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ مجھے مسلمان پر تلوار چلانا منظور نہیں ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ۖ فرماتے ہیں کہ میرے بعد بد ترین زمانہ اسلام کا وہ ہوگا جب مسلمان خود ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آرا ہوں گے میں نہیں چاہتا کہ میرا عہد زمانہ شر سے تعبیر کیا جائے۔
مغیرہ بن شیبہ زمانہ محاصرہ میں خلیفہ رسول ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ امیرالمومنین آپ امام المسلمین ہیں ، آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے اوپر کیسی مصیبت نازل ہے۔ میں تین باتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے کسی ایک پر عمل فرمائے۔ اول یہ کہ ان باغیوں جو اہل شر اور منافق ہیں قتال کیجئے۔ اگر یہ منظور نہیں ہے تو مدینہ کو چھوڑ دیجئے اور یا تو مکہ معظمہ میں کچھ دن قیام فرمائیے اور یا شام میں معاویہ کے پاس چلے جائیے۔ امیر المومنین نے جواب دیا کہ تمہاری یہ رائے کہ میں ان بلوائیوں سے لڑوں یہ تو ہرگز پسندیدہ نہیں ہے ۔کیا رسول ﷺ کے بعد میں پہلا شخص ہوں جو ان کی امت پر تلوار اٹھائے اور صرف ایک جان کے بچانے کے لیے ہزارہا کلمہ گو افراد کو خاک و خون میں ملائے حاشا و کلا، یہ تو مجھ سے کسی طرح بھی ممکن ہی نہیں ۔ تمہاری دوسری رائے کہ میں مکہ معظمہ چلا جائوں، میں عمل نہیں کرسکتا ۔ رسول اللہ ۖ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قریش کا ایک شخص مکہ میں پناہ گزیں ہوگا اس پر نصف عذاب عالم نازل ہوگا۔ تمہاری تیسرے رائے کہ میں شام میں معاویہ کے پاس چلا جائوں اس پر بھی میں عمل نہیں کرسکتا۔ مجھے اپنے دار ہجرت اور اپنے محبوب کے آستانہ کی مجاورت چھوڑ کر سوا اللہ کے اور کسی بندے کے پاس جانا منظور نہیںہے۔ ( تاریخ الخلفاء ، استیعاب ، ابن خلدون ، ابن الاثیر)
عبد اللہ بن سلام امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عثمان نے پوچھا کہ ابن سلام کیوں آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی کہ آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں۔ امیرالمومنین نے کہا کہ تم ان اشرار اور بلوائیوں کو اگر کچھ سمجھا سکتے ہو تو سمجھائو مجھے مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ عبد اللہ بن سلام خلیفہ کے مکان سے باہر آئے اورانہوں نے بلوائیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ تم لوگ مجھے جانتے ہو کہ میں کون ہوں، رسول ﷺ ۖ نے میرا نام عبد اللہ رکھا اور اللہ نے میرے حق میں فرمایا شھد شاھد من بنی اسرائیل و من عندہ علم الکتاب میں تم لوگوں کو آگاہ کرتا ہوںکہ یہ وہ سرزمین ہے جس کے جوار میں ملائکہ رہتے ہیں تم لوگ اللہ کے غضب سے اب تک محفوظ ہو ۔ اللہ کے قہر کی تلوار تمہارے لیے اب تک نیام میں ہے۔ دیکھو اس شخص کوکوئی صدمہ نہ پہنچائو خلیفہ وقت کی ذات اسلام کے لیے حصن حصین ہے اگر ان کا قدم درمیان سے اٹھا اور تم نے ان کو قتل کیا تو واللہ تم ملائکہ کے جوار سے محروم ہو جائو گے اور اللہ کے غضب کی تلوار نیام سے نکل آئے گی اور تم قیامت تک فتنہ و فساد میں مبتلا رہو گے۔اگر تم نے عثمان کا خون زمین پر گرایا تو تم پر آسمان سے خون برسے گا اور تمہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ لیکن ابن سلام کی اس تقریر کا بھی بلوائیوں پر کچھ اثر نہ ہوا اور حضرت ابن سلام روتے ہوئے اپنے مکان میں واپس گئے۔ (ترمذی ، ابن الاثیر، ابن خلدون)
بلوائیوں کا ہجوم دیکھ کر خود امیر المومنین ان کے سامنے آئے اور اشرار کو مخاطب کرکے فرمایا ایھا الناس ، تم جانتے ہو کہ رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو شخص بئر رومہ کو خرید کر اس کا پانی مسلمانوں پر وقف کر دے اس کے لیے جنت ہے۔ میں نے اس کنویں کو اپنے خالص مال سے خریدا اور اسے تمہارے لیے وقف کیا۔ سارے مجمع سے آواز آئی۔اللّٰھم نعم۔ امیر المومنین نے فرمایا بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج اسی کنویں کا پانی تم نے میرے اوپر بند کر دیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کو جو شخص فلاں ٹکرا زمین کا خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے اس کے لیے قصر جنت ہے۔ میں نے اس زمین کو خریدا اور اسے تمہارےلیے عام کیا سبھوں نے جواب دیا : اللّٰھم نعم۔ حضرت عثمان نے فرمایا کس قدر افسوسناک ہے کہ تم اسی مسجد میں مجھے دو رکعت نماز تک ادا نہیں کرنے دیتے۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول ﷺ ۖنے فرمایا تھا کہ جو شخص جیش عسرة کی امداد کرے اس کے لیے جنت ہے۔ میں نے اپنے خالص مال سے مجاہدین کے لیے ساز و سامان مہیا کیا اور رسول ﷺ نے میرے حق میں فرمایا کہ رفیقی فی الجنة عثمان۔ بلوائیوں نے جواب دیا: اللّٰھم نعم۔ امیر المومنین نے ان اشرار کو سمجھایا اور ان سے کہا کہ دیکھو مجھے بے گناہ قتل نہ کرو اگر تم نے میرا قدم درمیان سے اٹھایا تو اللہ کی قسم تم پھر کبھی جمع نہ ہو گے اور اسلام میں فتنہ وفساد داخل ہوجائیں گے اور مسلمانوں کی جماعت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ لیکن اشرار نے بجائے اس نصیحت پر عمل کرنے کے امیر المومنین پر پتھر پھینکے۔ حضرت عثمان انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے سامنے سے ہٹ گئے۔ ( ابن سعد ، ابن الاثیر، ابن خلدون، استیعاب وغیرہ)
زید ابن ثابت جیسے جلیل القدر صحابی انصار کی ایک بڑی جماعت کو اپنے ساتھ لے کر آستانہ خلافت پر حاضر ہوئے اور امیر المومنین سے کہا کہ انصار دروازے پر حاضر ہیں۔ اگر آپ حکم دیں تو ہم دوبارہ اللہ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کریں۔ امیرالمومنین نے جواب دیا کہ اگر تمہارا منشا قتال ہے تو یہ مجھے منظور نہیں۔ ( ابن سعد)
حضرت ابو ہریرہ امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ان اشرار کا فتنہ دفع کیجئے۔ ہمیں حکم دیجیے کہ ہم ان کو مدینہ کے باہر کر دیں۔ حضرت عثمان نے جواب دیا کہ اگر یہ امر بغیر قتال کے ممکن ہے تو ایسا کرو ورنہ ہرگز اس کا ارادہ نہ کرو۔ (ابن سعد، ابن خلدون)
خلیفہ خود محصور ہیں اور حج کا زمانہ آگیا۔ حضرت عثمان، عبد اللہ ابن عباس کو امیر الحج مقرر کرکے مکہ روانہ کرتے ہیں۔ عبد اللہ ابن عباس خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیںاور عرض کرتے ہیں کہ امیر المومنین مجھے ان اشرار اور منافقین سے جہاد کرنا طواف بیت اللہ سے زیادہ عزیز ہے۔ عثمان ذی النورین انہیں مناسب الفاظ میں سمجھا کر واپس کر دیتے ہیں۔ امیر المومنین اپنے غلاموں کو بھی جن کی تعداد تقریبا ً چار سو ہے آمادہ قتال دیکھ کر فرماتے ہیں من اغمد سیفہ فھو خیراللہ۔ اور اس طرح سارے غلام آزاد ہو جاتے ہیں۔ ( طبقات ابن سعد)
شہادت سے دو روز قبل بلوائیوں کا اور زیادہ ہجوم ہوا۔ حضرت حسن سبط رسول ﷺ ، حسین ابن علی، محمد بن طلحہ ، عبد اللہ بن عمرو ، عبد اللہ ابن زبیر ، خلیفہ رسول کی محفاظت کے لیے ان کے مکان پر آئے اور برابر بلوائیوں کو دفع کرتے رہے۔( ابن الاثیر)
عین شہادت کے روز امیر المومنین نے روزہ رکھا اور صبح کو آرام کیا۔ خواب سے جاگے تو اپنے چند ہم نشینوں سے فرمایاکہ اگر لوگ یہ نہ کہیں کہ عثمان کو اپنے قتل کی تمنا اور اس فتنہ کی آرزو تھی تو میں تم لوگوں سے ایک بات کہوں۔ ان صاحبوں نے عرض کیا کہ معاذ اللہ خلیفہ رسول اللہ کے بابت کبھی ایسا خیال قائم نہیں کر سکتے۔ امیر المومنین نے فرمایا کہ میں نے ابھی اپنے حبیب کو خواب میں دیکھا کہ میرے پاس تشریف لائے اور ان کے ہمراہ میرے دونوں بھائی ابوبکر و عمر بھی تھے ۔ رسول ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عثمان آج شام کو تم ہمارے پاس آکر روزہ افطار کرو۔ابو بکر و عمر نے بھی مجھ سے کہا کہ آئو اور ہمارے پاس روزہ افطار کرو۔ اب تم لوگ میرے پاس سے جائو اور اپنے اپنے مکانوں میں آرام سے بیٹھو۔ امیر المومنین نے ان صاحبوں کو رخصت کیا اور خود قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوئے اور اسی حالت میں شہید ہوئے۔
بلوائیوں کے ہجوم کے وقت امیر المؤمنین سے جو صحابہ کا گروہ ان اشرار سے قتال کرنے کے بابت زیادہ اصرار کرتا تھا ان سے آپ یہ فرما دیتے تھے کہ میرے حبیب جو عہد مجھ سے لے چکے ہیں میں اس پر قائم ہوں ۔ یہ عہد بھی عثمان رضی اللہ عنہ اور رسول ﷺ کے درمیان ایک عجیب راز و نیاز ہے جو ام المومنین صدیقہ طاہرہ سے بسند صحیح اس طرح مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے رحلت سے ایک ر وز قبل کچھ افاقہ پا کر فرمایا کاش میرا کوئی محبوب صحابی اس وقت میرے پاس آتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بلائیں۔ رسولﷺ نے فرمایا نہیں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کو بلائیں، آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے علی رضی اللہ عنہ کا نام لیا اس پر بھی آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ آخر میں میں نے پوچھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوائیں ، آپ نے فرمایا کہ اللّٰھم نعم۔ عثمان حاضر ہوئے اور آپ ۖ نے اشارہ سے ہم سب کو اپنے پاس سے دور ہٹا دیا۔ رسول ﷺ نے اپنے ہاتھ سے عثمان کا سر جھکایا اور دیر تک ان سے سرگوشی فرماتے رہے میں دیکھ رہی تھی کہ رسول ﷺکچھ باتیں کر رہے ہیں اور عثمان کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو رہا ہے۔ رسول ﷺ کی وفات کے پچیس برس بعد ہم پر کھلا کہ یہ سرگوشی اسی واقعہ کی بابت تھی اور یہ وہی عہد تھا جس کے بابت عثمان بار بار ذکر کیا کرتے تھے۔ (طبقات ابن سعد)
امیر المومنین شہید ہوئے آپ کی بی بی نے کوٹھے پر چڑھ کر بآواز بلند کہا کہقُتِلَ اَمِیرُ المومنین۔ صحابہ رسول اپنی اپنی جگہ سے دوڑے امیر المومنین علی مرتضیٰ نے اپنے صاحبزادوں ،اور طلحہ اور زبیر کے بیٹوں کو سخت و سست الفاظ سے یاد کیا اور روتے ہوئے واپس گئے۔ (ابن الاثیر)
عبد اللہ بن سلام نے شہادت کی خبر سنی اور رو کر فرمایا کہ الیوم ھلکت العرب ۔ ( طبقات ابن سعد)
زید بن ثابت نے شہادت کی خبر سنی تو اس قدر روئے کہ روتے روتے بے ہوش ہو گئے۔ (طبقات ابن سعد )
ثمامیہ بن عدی، رسول ﷺکے معزز صحابی کو شہادت کی خبر پہونچی اور انہوں نے فرمایا کہ آج خلافت نبوت کا خاتمہ ہوا اور حکومت جبری ہوگئی۔ اب جس کا غلبہ ہوگا وہ اپنا بھلا کرے گا۔ (ابن سعد)
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جب سنا کہ امیر المومنین شہید ہوئے تو رو کر فرمایا کہ ایک دن وہ تھا کہ ہم اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھنے کے لیے مدینہ میں آئے تھے۔ ایک آج کا دن ہے کہ ہم اپنے ایمان کو بچانے کے لیے مدینہ سے بھاگتے ہیں۔ ( تاریخ الخلفاء)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے شہادت کی خبر سنی اور واویلا مچانے لگے۔ جب گریہ و زاری سے افاقہ ہوا تو فرمایا کہ یا رسول اللہ ۖ آپ سچے صادق القول تھے، حضور نے فرمایا تھا کہ ۳۵ ہجری میںاسلام کی چکی کا رخ پھر جائے گا۔ واللہ اس مظلوم کی شہادت نے ہم کو بڑی مصیبتوں میں مبتلا کر دیا۔ حذیفہ بن یمان صاحب سر رسول اللہ نے واقعہ شہادت کو سنا اور رو کر فرمایا کہ اسلام میں پہلا فتنہ عثمان کا قتل ہے اور آخری فتنہ دجال کا خروج ہوگا۔ خدا کی قسم جس شخص کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی قاتل عثمان کی محبت ہوگی وہ اگر دجال کو پائے گا تو زندگی میں اس پر ایمان لائے گااور اگر نہ پائے گا تو قبر میں اس پر ایمان لائے گا۔(تاریخ الخلفاء)
امام ذہبی نے حضرت عثمان کے فضائل اور ان کی خصوصیات کو نہایت مختصر جامع اور دل چسپ پیرایہ میں کہا ہے ۔ میں امام موصوف کی عبارت کو بجنسہ ذیل میں درج کرتا ہوں۔
أمير المؤمنين عثمان ابن عفان ذو النورين: ومن تستحي منه الملائكة، ومن جمع الأمة على مصحف واحد بعد الاختلاف، ومن افتتح نوابه إقليم خراسان وإقليم المغرب، وكان من السابقين الاولین الصادقين القائمين الصائمين المنفقين في سبيل الله، ممن شهد له رسول الله ﷺ بالجنة، وهو أفضل الصحابۃ بعد الشیخیں، اکمل الحیاء والایمان، جامع اٰیات القرآن، وکان ممن جمع بین العلم والعمل والصیام والتھجد والجھاد فی سبیل اللہ وصلۃ الارحام والاحسان، حاصر رؤس الفتنۃ والشر، وقاتلوہ قتلھم اللہ تعالیٰ فصبر وکف نفسہ وعبیدہ حتی قتل صبر فی دارہ والمصحف بین یدیہ۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s