دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے


الواقعۃ شمارہ : 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حادثے اس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ واقعات کا اعتبار اٹھ سا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسے زمانہ پرورش کر رہا تھا برسوں ، وہ حادثے اب رونما ہو رہے ہیں۔ عالم اسلام پر ہر طرف سے یلغار ہی یلغار ہے۔ چمنستانِ اسلام کا کونسا گوشہ ہے جو درد و الم کی سسکیوں اور آہ و غم کی صداؤں کے شور سے بوجھل نہیں۔ وہ کونسی فصل ہے جس کی آبیاری خونِ مسلم سے نہیں ہو رہی۔ پہلے کسی ایک ملک کی باری ہوتی تھی جسے اچھی طرح تباہ کیا جاتا تھا حتیٰ کہ امت مسلمہ اس کی تباہی کو قبول کر لیتی تھی۔ فلسطین، کشمیر، افغانستان ،اور عراق میں خون مسلم بہتا رہا اور ہم اسے فراموش کرتے رہے۔ لیکن اس بار طاغوت کے طریقے بدل چکے ہیں اب رفتار تیز ہو چکی ہے ، باری باری ایک ایک ملک کی پالیسی تبدیل ہو گئی ہے۔ دنیا کی تاریخ بدلنے والے اب انتظار کی زحمت اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف محمد عربی ﷺ کی امت بھی بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں۔
دنیا جل رہی ہے، مگر کونسی دنیا ؟ وہ دنیا جہاں اسلام کے نغمہ توحید کی صدائیں گونجتی ہیں۔ وہ دنیا جو محمد رسول اللہ ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھتی ہے۔ جلنے کے لیے اس وقت دنیا میں صرف وہی ایک "دنیا” ہے۔ ہر روز اسی "دنیا” کے سیکڑوں باسی آتشِ بارود میں جل کر خاک ہو رہے ہیں۔ مگر دنیا کو کوئی فکر نہیںہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ انہی مظلومانِ اسلام کے شریکِ کلمہ مسلمان بھائی جو سکھ و چین کی نیند سو رہے ہیں ان کے پاس بھی اپنے بے بس و لاچار بھائیوں کے لیے نوحہ غم پڑھنے کی فرصت نہیں۔
ہماری یہ مجرمانہ غفلت خواہ کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو جائے مگر ہم نوشتہ تقدیر کو بدل نہیں سکتے۔ ہم نے پہلے دن سے پسپائی کی جو راہ از خود اختیار کرلی تھی ، اس کے نتائج بڑی تیزی کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہیں۔
نوبت تو یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ طیبہ کی فضاؤں میں بھی آتشِ باردو کی سیاہی شامل ہو گئی۔ حرمین شریفین پر ہونے والے سانحے تاریخ اسلام میں گو کہ نئے نہیں۔ پہلی صدی ہجری ہی میں دو خلیفہ راشد مدینۃ النبی میں شہید ہوئے۔ نواسہ صدیق عبد اللہ بن زبیر کی نعش کعبۃ اللہ میں لٹکائی گئی۔ ایک ایسا دور بھی آیا جب کعبۃ اللہ کا ایک گوشہ کئی برس تک حجر اسود سے محروم رہا۔
حرمین میں سانحے خواہ کبھی بھی رونما ہوئے ہوں اہل ایمان اس کی کسک ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
سعودی عرب اس وقت حالتِ جنگ میں ہے، وہاں بم دھماکے قطعاً اچنبھے کی بات نہیں لیکن جس بات نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا وہ مدینۃ النبی ﷺ میں خاص مسجد نبوی ﷺ سے قریب ہونے والابم دھماکہ ہے۔ ہمارے لیے یہ تو آسان ہے کہ ہم اپنے گھر جلتے دیکھ لیں لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ مشکل، دردناک اور باعث اذیت ہے کہ ہم طیبہ کی فضاؤں میں سیاہ بارودی دھوئیں کی ملاوٹ دیکھ سکیں۔
ارضِ طیبہ ! جہاں نبی کریم ﷺ محو استراحت ہیں۔ وہاں ہونے والا دھماکہ مرقد نبوی ﷺ کی بھی توہین ہے۔ اس توہین کے لیے پوری امت مسلمہ مجرم ہے۔ اپنی مجرمانہ غفلت کے عذر میں روزِ حشر ہم کیا جواب دیں گے ؟
ایک ایسے وقت پر جب کہ پورا عالم کفر مسلمانوں کے خلاف در آیا ہے، اس سانحے کے بعد امت کے سنجیدہ حلقوں کو نظریاتی سطح پر یکجا ہوجانا چاہیے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی خاص نشانے پر ہیں بد قسمتی سے تینوں ہی ممالک کی گزشتہ تاریخ نا اہل حکمرانوں سے بھری پڑی تھی۔ گو آج یہ ممالک تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں۔
1979ء میں کعبۃ اللہ پر حملہ ہوا ، 1986ء میں حملے کی کوشش ہوئی اور اس کے بعد1990ء میں عراق و کویت خلفشار کے نتیجے میں سعودیہ میں امریکی افواج کی غیر معمولی تعداد مقیم ہوگئی اور اس کے بعد ایک طویل عرصے سے خاموشی رہی ہے، یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے اور طوفان کی آمد سے قبل کا سناٹا ہے۔ یہ سناٹا گزشتہ دنوں مدینہ میں ہونے والے بم دھماکے نے توڑ دیا۔
داعش کا وجود پورے عالم اسلام کے لیے ایک عفریت بن گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ داعش کا وجود عالمی سازشی عناصر کا پیدا کردہ ہے۔ اسے اس قدر قوت بھی انہیں ذرائع سے ملی ہے۔ اس کا وجود امت مسلمہ کے قلب میں ایک دہکتے ہوئے ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تنظیم عالمی خطرہ بنتی جا رہی ہے مگر کس کے لیے اسی دنیا کے باسیوں کے لیے۔ یہ تنظیم افریقا میں داخل ہو گئی، شام اور عراق میں بے گناہ انسانوں کے گلے کاٹے، سعودی عرب اور کویت میں بم دھماکے کیے، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا تک اس نے اپنی دہشت پھیلائی، پاکستان میں بھی جڑیں پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔مگر تنظیم کے کار پرداز احسان فراموش نہیں ہیں اسی لیے انہوں نے کبھی اپنے بانیوں کی طرف اپنی دہشت و سفاکی کا رخ نہیں کیا۔ اسرائیل ہو، یا شام کا بشار الاسد یہ کبھی ان پر حملہ آور نہیں ہوا۔ اس کے وجود نے اسرائیل اور اس کے حواریوں کی طاقت میں اضافہ ہی کیا۔
عالمی سازشی طاقتیں کبھی داعش کا خاتمہ نہیں چاہتی ہیں۔ داعش تو ان کے مکروہ چہرے کا ایک نقاب ہے، اور ابھی نقاب اتار پھینکنے کا وقت نہیں آیا۔
اگر دنیا سے انصاف رخصت نہیں ہو گیا،اور ارباب دانش اپنی بصارت و بصیرت سے محروم نہیں ہو گئے تو یقیناً اور بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کو نسے ممالک ہیں جن کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ کونسے ممالک ہیں جو مستقل خطرات کے گھیرے میں ہیں۔ یہی امر حق اور باطل کے مابین مابہ الامتیاز ہے۔
ایسے میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ مصر اور ترکی کے بعد سعودی عرب بھی اسرائیل کو سفارتی سطح پر تسلیم کرنے والاہے ، جو یقیناً افسوسناک ہے۔ ہمارے خیال سے اگر سعودی عرب دنیا کا واحد اور آخری ملک بھی رہ جائے تب بھی اسے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔
افسوس کہ سعودی عرب کو اپنی اصل طاقت کا اندازہ نہیں۔ اس کی طاقت کا راز اسلحے اور بارود کے ڈھیر، اور تعدادِ افواج کی قلت و کثرت میں نہیں بلکہ اس کا نسخہ کامرانی اس "تجلی نور” میں مستور ہے جو فاران کی بلندیوں سے انسانیت کے لیے ہر امراضِ روحانی کی شفا بن کر نازل ہوا ہے۔
سعودی عرب جس انجانے خوف کا اسیر بن رہا ہے ، اس کا حل کہیں اور نہیں خود اس کے اندر موجود ہے۔غفلت سے بوجھل آنکھیں اگر کھل جائیں، برسہا برس کے قفل کو توڑ کر شعور اگر بیدار ہو جائے اور ہم من حیث المجموعی قوانین ربوبیت کے پابند ہو جائیں تو یستخلفنھم فی الارض کی سنت الٰہی اب بھی پوری ہو سکتی ہے۔ وَلَن یَّجعَلَ اللّٰہَ لِلکَافِرِینَ عَلَی المُؤمِنِینَ سَبِیلا کا وعدہ تو ضرور پورا ہوگا بشرط کہ ہم عہدِ وفا استوار کر لیں۔
شاہ سلمان کو اپنے مختصر سے عرصہ اقتدار میں غیر معمولی کامیابیاں ملیں۔ امت مسلمہ میں بڑی پذیرائی بھی حاصل ہوئی لیکن یہ ساری کاوشیں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتے ساتھ ہی ھباءً منثورا ہو جائیں گی۔ سعودی عرب کی بقا اسرائیل کی دوستی میں نہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی میں مستور ہے۔ جس قوم نے تاریخ کے ہر دور میں قانونِ الٰہی سے بغاوت و سرکشی کی روش اختیار کی ہو ، اس کی دوستی بھی مغضوبیت کی ذلت سے ہمکنار کرے گی۔
خادم الحرمین الشریفین کو بخوبی جان لینا چاہیے کہ ہماری عزت صرف اسلام سے ہے۔ ہم کبھی اس قوم سے دوستی کر کے رحمت کے مستحق نہیں ہو سکتے جس نے اپنے نبی سے کہا تھا : –
فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاا ِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ ( المائدۃ: 24)
"تم اور تمہارا رب جائے اور لڑے ہم تو یہیں کھڑے ہیں۔”
— — — — —
احادیث میں آیا ہے کہ دجال مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتا ، بجا لیکن اس کے حواری تو داخل ہو سکتے ہیں۔ان حادثوں میں سچ پوچھیے تو دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s