ترکی : عزیمت کے راستے پر یا ۔۔۔۔۔۔۔


الواقعۃ شمارہ 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

15 جولا ئی 2016 ء کو رات کے 10بجے ترک فوج کے ایک باغی دستے نے اچانک فوجی بغاوت کا اعلان کردیا اور حکومت کی مشینری کے مختلف اداروں پر قبضہ کرلیا۔ ان لوگوں نے مختلف جگہوں پر فائرنگ بھی کی، ٹینک بھی سڑک پر نکل آئے اورفضائیہ کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ سے پولیس کی عمارت پر اور دیگر کئی اور حکومتی عمارتوں پر فائرنگ بھی کی گئی اور بمباری بھی کی گئی ،اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے دو ڈھائی سو نہتے اور معصوم لوگ اس حملے کا شکار ہوگئے۔ اور تقریبا ً دو ہزار سے اوپر افراد زخمی ہوئے۔ اس تمام کارروائی کے دوران ہی ترکی کے صدر طیب اردگان نے اپنے موبائل کے ذریعہ سے قوم سے خطاب کرکے ترکی کو لاحق خطرے سے آگاہ کیا اور ان سے اس بغاوت کو فرو کرنے کی اپیل کی۔ اور اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ ترکی کی دلیر عوام کس طرح باغی فوجوں کے سامنے آئی ، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیااور مشین گنوں کو اپنے نہتے ہاتھوں سے خاموش کرا یا اور وہ بغاوت جو بڑے کروفر سے اٹھائی گئی تھی عوام کی طاقت کے بل بوتے پر صرف پندرہ سولہ گھنٹوں کے اندر ہی ٹھنڈی پڑ گئی۔ باغی فوجوں نے انہی نہتے عوام کے سامنے ہتھیار ڈال دئے۔ اور ترکی کی منتخب حکومت دوبارہ بر سر اقتدار آگئی۔ صدر اردگان کو اس بغاوت کے بعد صفائی کے لیے جو کچھ کرنا چاہئے تھا وہ کیا اور ایک بڑی تعداد باغیوں کے حامیوں اور ان سے تعلق رکھنے والوں کی گرفتاری کا عمل رو پذیر ہوا اور ابھی بھی بڑی تیزی سے جاری ہے۔

ترکی اور پاکستان ( برصغیر کے مسلمانوں) کے درمیان صدیوں سے ایک قریبی رشتہ ہے۔ پاکستان بننے کے بعد اس رشتہ کو مزید استوار کیا گیا اور آج ہمارے دل ترک بھائیوں کے دل کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ترکی کی اپنی تاریخ بڑی ہی معتبر اور زریں ہے۔ شاہ مراد نے 1362ء میں سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی اور اپنے سترہ اٹھارہ سال کے دور حکومت میں اس کو بڑی مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس تخت پر بڑے قابل اشخاص کو بٹھایا۔ سلیمان عالیشان جس کو مغرب کے تاریخ دان بھی عظیم تسلیم کرتے ہیں اور اسے Solomon the Magnificient کے نام سے یاد رکھتے ہیں اپنے دور حکومت میں عوامی بھلائی کے اور رفاہی کام کیے وہ آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ سلطان محمد فاتح جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کیا ، ایک عظیم جرنیل تھے۔ سلطنت عثمانیہ نے بازنطینی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ان کی ہزاروں برسوں کی قائم بڑی طاقت کو ایسا رگیدا کہ یورپ کے ایک بڑے حصہ کو ان سے چھین کر اپنی حکومت میں شامل کرلیا۔ یورپی قوموں کا یہ حال تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے سامنے ان کا بس نہیں چلتا تھا اور یہی پرجوش ، پر عزم اسلام کے سچے شیدائی چھ سو برس تک ان یورپیوں کے سینے پر سوار رہے۔ تاہم جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ ہر عروجے را زوالے است۔ ارض دنیا کی یہ بڑی طاقت بھی آخر کار انحطاط اور سازشوں کا شکار ہوئی۔ تن آسانیاں ، عیش کوشی، آرام طلبی اور نا اہل حکمرانی نے ان کو کھوکھلا کر دیا ۔ ان کی معیشت کا اتنا برا حال ہوا کہ وہ خزانے جو صدیوں تک لبالب بھرے رہتے تھے خالی ہوگئے یہاں تک کہ بیسویں صدی کے اوائل میں سلطان کے پاس اپنے سرکاری ملازموں کو تنخواہ دینے کے لیے بھی کچھ نہ رہا۔ اس بگڑتی ہوئی صورت حال نے سلطان وقت کو یہودیوں اور دیگر سود خور طاقتوں نے اپنے شکنجے میں لے لیا اور پھر پہلی جنگ عظیم، بلقان کی جنگ، مشرق وسطیٰ کے شیخوںکی بغاوتوں کے ساتھ ساتھ ترکی کے اپنے اندرونی علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں نے جن میں مصطفےٰ کمال پیش پیش تھے اور جن کی پشت پر برطانیہ کی حکومت بھی تھی اس عظیم الشان حکومت کو 1924ءمیںختم کر دیا۔ یہودیوں کو ان کا علاقہ مل گیااسرائیل کی حکومت قائم ہوگئی، مشرق وسطیٰ میں شیخوں کی حکومتیں قائم ہوگئیں جن میں سب سی بڑی سعودی حکومت بنی۔ ترکی میں سیکولرحکومت کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ اور یوں مسلمانوں کی خلافت کا جنازہ نکال دیا گیا اور پوری امت مسلمہ اپنی خلافت اور خلیفة المسلمین کے بغیر یتیم و مسکین ہوگئی۔ مغرب کے لوگ مسلمانوں کی خلافت کے خوف میں مبتلا تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ خلافت قائم ہوئی تو مسلمان پھر سے اکٹھے ہو جائیں گے اور ان کی طاقت کو مٹانا مشکل ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک مسلمانوں کو اکٹھا ہونے سے روک رہے ہیں مستقل ایک دوسرے کے ساتھ الجھا رہے ہیں اور ہم مسلمان اپنا اچھا برا سمجھنے کی بجائے پیسوں کے لالچ میں ان کی ہر بات مان رہے ہیں اور ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔

جدید ترکی مصطفےٰ کمال کی سربراہی میں ایک سیکولر طرز حکومت اور مادر پدر آزاد معاشرے میں تبدیل ہو گیا۔ مساجد سے اذان بند ہوگئی، خواتین نے نیم برہنہ لباس پہننے کا آغاز کر دیا، نائٹ کلبوں اور ڈانس کلبوں کا آغاز ہوگیا۔مدارس میں دینی تعلیم بالکل بند ہوگئی عربی رسم الخط کو یکسر ختم کردیا گیا۔کل کا کل ملک ایک ایسی راہ پر چل نکلا جو اسلام کے بتائے ہوئے راستوں سے بہت دور تھا۔ پچھلے ستر سے اسّی برس کے اندر ترکی نے معاشی ترقی تو کی مگر کوئی اسلامی تشخص قائم کرنے کی بجائے اپنے آپ کو یورپ کا نمائندہ کہلانے میں زیادہ فخر محسوس کیا۔مغربی طاقتوں کے زیر تسلط ترکی نے ناٹو میں شمولیت اختیار کی اور ناٹو کی افواج کے ساتھ مل کر اپنے ہی علاقوں میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر فوج کشی کی۔ آج بھی ترکی کا ناٹو میں شامل ہونا اور مغربی ظالم فوجوں کی مدد کرنا عالم اسلام کو سخت ناپسند ہے۔ موجودہ ترکی صدر طیب اردگان ترکی کے لیے ایک نئی امید لے کر آئے ہیں۔ اور اپنے عوام میں ترکوں کے نجات دہندہ کے طور پر جانے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ترک عوام نے ان کے خلاف بغاوت میں ان کی ایسی شاندار مدد کی جس کی مثال انسانی تاریخ خال خال ہے۔ وہ 2012 ء میں ترکی کے صدر منتخب ہوئے جبکہ اس سے قبل ترکی کے منتخب وزیر اعظم تھے۔ ان کو اب تک قریباً چودہ سال ہوگئے ہیں ایوان حکومت میں آئے ہوئے مگر اس دوران انہوں نے بڑے کارہائے نمایاں سر انجام دئے ہیں۔ آئیے ان کی ایک چھوٹی سی جھلک مندرجہ ذیل سطور میں دیکھتے ہیں:-

(1) جب اردگان حکومت میں آئے تو حکومتی قرضوں کا ایک بڑا بوجھ ملک کے اوپر تھا۔ جس میں صرف آئی ایم ایف کا قرضہ تقریباً 24 ارب امریکی ڈالر تھا۔ اس قرضہ کو اتارنا ایک کار دارد تھا مگر 2012 میںاس باہمت شخص نے اس قرضہ کو نہ صرف یہ کہ مکمل طور پر اتارکر آئی ایم ایف کا طوق اپنے عوام کی گردن سے نکال پھینکا بلکہ مزید کسی قرض کے سمجھوتے سے بھی انکار کر دیا اور آئی ایم ایف کو دعوت دی کو وہ ترکی سے قرض لے۔ 

(2) ترکی کے مرکزی بینک میں 2002 ء میں تقریباً 26 ارب ڈالر تھے جو 2011میں بڑھ کر 92 ارب ہوگئے۔

(3) ان کے دور حکومت میں ترکی میں ائرپورٹ کی تعداد 26 سے بڑھ کر 50 ہوگئی۔

(4) 1350کلو میٹر ایکسپریس وے نئی تعمیر ہوئیں۔

(5) 5500کلو میٹر ریلوے لائنوں کی تبدیلی اور مرمت کی گئی جب کہ 1076 کلو میٹر لمبی نئی ریلوے لائن ڈالی گئی۔

(6) تعلیمی اخراجات کا بجٹ2002میں ساڑھے سات ارب تھا جو2011میں بڑھ کر 34 ارب ہوگیا۔

(7) ترکی کی معیشت کا یہ برا حال تھا کہ اردگان کے برسر اقتدار آ نے کے وقت ایک امریکی ڈالر 222 ترکی لیرا کے برابر تھا۔ اور آج یہ تقریباً3 ترکی لیرا کے برابر ہے۔ ذرا سوچیے 222 سے کم کرکے 3 کے برابر لے آنا۔

یہ جائزہ صرف اس لیے پیش کیا گیا کہ یہ دکھایا جائے کہ ایک شخص جو اپنے ملک کی بہتری کے لیے قابل عمل پالیسیاں بنا رہا ہے عوام سے بھی محنت کرا رہا ہے اور خود بھی باتدبیر لوگوں کے ساتھ ملک کے ہر معاملہ میں اپنے ملک کی بہتری میں پیش پیش ہے اس کو اگر عوام پسند کرتے ہیں تو اس کے لیے اپنا خون بھی بہا نے کو تیار ہو سکتے ہیں۔ اردگان کی کوششیں صرف معیشت کے میدان میں ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ایک با عمل مسلمان ہونے کے ناطے ملک میں اسلام کے بھولے ہوئے نغمے بھی دوبارہ سے سنوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملک کی مساجد میں اذان دوبارہ اسی نے شروع کرائی۔ اسلامی مدارس کو نئے سرے سے زندہ کیا۔ اپنی ایک تقریر میں اردگان نے ایک واقعہ سنایا جو اس کے اسلامی مزاج کا آئینہ ہے۔ اردگان نے اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے والد سے سوال کیا کہ ابا مجھے یہ بتائے کہ ہماری نسل کیا ہے۔ کیا ہم لازب نسل سے ہیں یا ترک ہیں یا کسی اور نسل کے ہیں۔ اس کے والد نے جواب دیا کہ بالکل یہی سوال ایک دن میں نے اپنے دادا سے کیا تھا۔ تو جو انہوں نے جواب دیا تھا اسے غور سے سنو۔ انہوں نے کہا کہ "بیٹا جب تم جب اس دنیا سے اُس دنیا میں جائوگے تو تم سے سب سے پہلا سوال یہ ہوگا کہ من ربک؟ یعنی تمہارا اللہ کون ہے؟ ۔ دوسرا سوال ہوگا کہ من نبیک ؟ یعنی تمہارا رسول کون ہے۔ اور تیسرا سول ہوگا کہ ما دینک ؟ وہاں تم سے تمہاری نسل کے بارے میں کوئی سوال نہیں ہوگا۔ ما نسلک کا کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔” بھلا سوچیں کہ جس کو اپنی آخرت کے لیے اتنی فکر مندی ہوگی وہ کیوں اسلامی ریاست قائم نہیں کرے گا۔

اب جب لوگوں کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ اردگان کی پشت پر اس کی اپنی عوام ہے تو وہ جنہیں اسلام کے نام سے ہی ہول چڑھنے لگتا ہے وہ بڑے ہی خوف زدہ ہیں اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ کس حد تک جا سکتا ہے۔ اردگان نے ایک بڑا ہی زبردست قدم یہ اٹھایا کہ پوری اسلامی دنیا کی مرضی کے خلاف اسرائیل کو اس نے تسلیم کرلیا بلکہ اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی بڑھائے۔ اسلام کے نام لیوائوں نے بڑا شور مچایا کہ یہودیوں سے کیوں گٹھ جوڑ بڑھایا ہے۔ مگر دیکھیں کہ اسرائیل سے اس معاہدہ کے فوراً بعد اس نے اسرائیل کو اس بات پر رضامند کر لیا کہ وہ غزہ میں امدادی کام کرنے اور وہاں امداد پہنچانے میں ترکی کی مدد کرے۔ یوں فلسطین کے ان مارے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک راحت کا سامان پیدا کردیا اور برسوں سے بند امدادی سامان غزہ ترسیل ہونے لگا۔ 

مغرب اب اس بات پر پریشان ہے کہ ترکی کہیں ناٹو سے باہر تو نہیں نکل جائے گا اور یہ کہ کیا وہ اس کے بعد روس کی مدد کے لیے اس کے ساتھ معاہدہ کرلے گا۔ اگر ایسا ہوا تو اپنی بڑھتی ہوئی قوت اور روس کی مدد کے ساتھ ترکی تو ناٹو کو ناکوں چنے چبوادے گا۔ اور پھر مغرب کو یہ بھی فکر لا حق ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ترکی پھر سے اسلامی ممالک کا اتحاد قائم کرلے اور خلافت اسلامیہ کا آغاز کردے اور خلافت عثمانیہ کا ایک بار پھر احیاء ہو جائے۔ہماری دعا تو یہی ہے کہ ایک اسلامی ملک تو ایسا اٹھ کھڑا ہو جس کو اپنے اسلامی تشخص پر اعتماد ہو اور وہ اسلامی معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کرے بہت ممکن ہے کہ اس کے بعد دیگر اسلامی ممالک اس کے ہم قدم ہوجائیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ کے حکم سے اسلامی خلافت کا پھر سے احیاء ہو جائے۔ ان شاء اللہ۔ 

مغربی تحفظات اپنی جگہ مگر ترکی میں جس طرح عالمی سازشی عناصر نے بغاوت کی کوشش کی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے دن ترکی کے لیے مزید سخت بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ترکی اپنے اندرونی سازشی عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نپٹنے میں ناکام رہا تو خاکم بدہن یہ عناصر دوبارہ بھی پوری قوت سے ایسی کارروائی کر سکتے ہیں اور کامیاب بھی ہو سکتے ہیں ۔ ان عناصر کے خلاف ترکی کو اپنی بقا کی جنگ لڑنی ہی ہوگی اس کے علاوہ ترکی کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ اللہ مسلمانانِ ترکی کا مددگار ہو۔ آمین 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s