ہمارے بے اثر رمضان


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

ہمارے دین اسلام کی تمام عبادتوں کا مقصد انسان کو اللہ کے قریب کرنا اور خشیت الٰہی میں اضافہ کرنا ہے۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة سب کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی پاکیزگی پیدا ہو جائے جہاں اللہ کی عظمت اور اس کے مالک کل ہونے کا احساس اس طرح جاں گزیں ہو جائے کہ اللہ کی رضا سے الگ نہ کوئی زندگی کا مصرف رہے اور نہ ہی زندگی گزارنے میں اس کے احکامات کی پامالی کا ذرہ برابر اندیشہ ہو۔ نماز ہمارے اند ر نہ صرف خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے اور اللہ کے حضور حاضری کا احساس اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ ہماری اس طرح تربیت کرتی ہے کہ ہم ہر لمحہ اپنے اللہ کے حضور جھکے رہیں اس کے آگے سجدہ ریز رہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا رہنے کا عزم کرتے رہیں۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کے خالق و مالک ہونے کا احساس ہمارے دلوں میں راسخ ہوتا جاتا ہے اور اس کی رضا اور خوشنودی ہماری زندگی کا مقصد و مطمح نظر بن جاتی ہے۔ اور یہی ہے جس کو قرآن مجید نے بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ حج جو زندگی میں صرف ایک بار بہ شرط استطاعت فرض ہے، ایک بہت بڑی عبادت ہے اور انسان کے مالی اخراجات، جسمانی قوت، وقت اور ساری دنیا سے منہ موڑ کر اللہ کی راہ میں نکل پڑنا اور اخراجات کا برداشت کرنا انسان کے اوپر ایک بہت بڑا بار ہے۔ ان تمام چیزوں کا پر خلوص استعمال ہی اس عبادت کا جوہر اور اس کی قبولیت کا ضامن ہے۔ آج دنیا کے کونے کونے سے اللہ کے بندے ہزاروں لاکھوں مصیبتیں اٹھاتے اور اخراجات کرتے ہوئے اللہ کی رضا کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر عازم سفر ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں سفر کی بے انتہا سہولیات اور آسانیوں کے باوجود اس عبادت کے لیے گھر بار چھوڑ کر نکلنا پرانے زمانوں کی مشقتوں سے تو کم ہے مگر سفر کے لوازمات کے پورا کرتے کرتے انسان کافی تھک جاتا ہے اور پھر یہ سفر اتنا آسان نہیں رہتا کہ جتنا سمجھا جاتا ہے۔ جدید دور کی تمام آسائشوں کے باوجود یہ عبادت ایک مشکل عبادت ہے جو انسان صرف اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے ادا کرتا ہے اور پھر یہ بھی کہ اس کے بدلے اللہ کی طرف سے ایک ایسا عظیم وعدہ ہے کہ جو حج کر کے واپس آئے تو ایسے واپس آتا ہے گویا ابھی ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ اللہ اللہ پوری زندگی کے گناہ، بد اعمالیاں اور گمراہیاں بہ یک جنبش قلم غائب ہو جائیں کیا عظیم ثواب کا وعدہ ہے۔ان تمام عبادتوں سے بڑھ کر ایک بڑی آزمائش والی عبادت ہے زکوٰة کی ادائیگی۔ انسان کو ہمیشہ سے مال کی محبت بہت شدید رہی ہے۔ بڑی جان جوکھم میں ڈال کر پیسہ کماتا ہے اور اسے سینت سینت کر رکھتا ہے۔ زندگی کی آسائشوں کی بہم رسانی اپنی اور اپنے گھر والوں کی روٹی کپڑے مکان اور دیگر ضروریات کی فراہمی اسی پیسے کے بدولت ہی پوری ہوتی ہے۔ انسان اپنے مال کو اپنے لیے بہت بڑا وسیلہ سمجھتا ہے اور اس کے حصول کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھ کر تمام عمر سرگرداں رہتا ہے۔ ہزار کوشش، سر دردی اور محنت کے بعد جو کماتا ہے اس کا ایک حصہ اللہ کے حکم کے تحت غریبوں اور کم حیثیت لوگوں پر لٹا دینا ایک بڑا ہی ناگوار خاطر کام محسوس ہوتا ہے۔گو یہ بھی اللہ کی رضا اور اس کی عبادت کا ایک ضروری حصہ ہے۔ اس کا مقصد بھی اس بات کا اظہار ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی عنایتوں سے ملا ہے وہ جو چاہتا ہے دیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھین بھی لیتا ہے۔ اس لیے جب یہ سب کچھ اس کی عنایتوں سے ملا ہے تو اس میں اللہ نے جن کا حصہ رکھا ہے وہ ادا کرنا اللہ رب کائنات کی رضا اور اس کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔

اوپر ذکر کی گئی تمام عبادتیں یقیناً اللہ کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہیں مگر ایک ایسی عبادت جو انسان کو نکھار کر ایسا کر دے کہ جیسے سونا کندن بن جائے تو وہ ہے روزہ۔ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رمضان المبارک کے مہینہ میں روزہ رکھنا ایک بڑی ہی عظیم عبادت ہے۔ قرآن مجید کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں روزہ ضرور مقرر کیا اور اس کی ادائیگی کو فرض قرار دیا مگر یہ عبادت تمام امتوں کی جبلت پر گراں گزری اور رفتہ رفتہ اس کو بھلا دیا گیا اور اب تو ما سوائے یہود کے کسی مذہب میں ایسے روزہ کا تصور ہی موجود نہیں جو اللہ کی رضا کے لیے رکھا جائے۔ روزہ اللہ کے حکم کے مطابق رمضان کے مہینہ میں فرض کیا گیا ہے اور اسی مہینہ میں روزہ رکھنا اللہ کے احکامات کو بجا لانے کا ذریعہ ہے۔ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ میں جتنے بھی روزے رکھے جائیں وہ باعتبار فرضیت اس زمرہ میں شامل نہیں ہونگے۔ 

قرآن کریم کے احکامات کے مطابق ایمان والوں کے لیے حکم ہے کہ اگر تم رمضان کو پاؤ تو اس میں روزے رکھو۔ یہ گنتی کے چند دن ہیں مگر اجر و ثواب میں لا محدود ہیں۔ اور پھر یہ حکم بھی دیا گیا کہ رمضان میں جو روزے چھوٹ جائیں ان کی گنتی بعد میں پوری کرلی جائے۔اور احادیث مبارک میں تو بے تحاشہ ایسی احادیث موجود ہیں جو روزہ رکھنے اور اس سے حاصل ہونے والے اجر و ثواب کی تفاصیل بتاتی ہیں۔ ان تمام احادیث میں بخاری شریف اور مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث قدسی کہ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ رب کائنات کی طرف سے اپنی امت کو خبر دی کہ 

"كل حسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف إلا الصيام فإنه لي وأنا أجزي به”

"ہر نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک ہوگا سوائے روزہ رکھنے کے،کہ یہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔”

اس ایک جامع واحد حدیث کے ذکر کرنے کے بعد روزے کی اہمیت اور اس کے اجر و ثواب کے بارے میں کچھ اور کہنابے سود ہوگا۔ یعنی یہ ایک ایسی عبادت ہے جو خالصتاً اللہ رب العزت کی رضا اور دلجوئی کی خاطر کی جاتی ہے اور اس کی اہمیت اللہ کی نظر میں اتنی ہے کہ اس نے اس کے اجر و ثواب کی کوئی حد مقرر نہیں کی بلکہ یہ فرمایا کہ میں خود اس کا ثواب اداکروں گا۔ اس سے یہ بھی مقصد نکلتا ہے کہ اللہ ہر ایک کے دل کا حال جانتا ہے کسی شخص کے روزہ رکھنے میں اس کی نیت کا جو خلوص ہے اس کو اللہ سے زیادہ کون جانے گا تو اسی لیے اس کا ثواب بھی اللہ اپنے علم کے مطابق روزہ دار کو عطا کرے گا۔ بات میں زور پیدا کرنے کے لیے بعض علماء نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ کا اجر میں خود ہوں۔ یعنی ایک ایسا عمل جو اللہ کو اس قدر عزیز ہے کہ اس نے روزے کے بدلہ اپنے آپ کو اپنے بندے کے حوالے کر دیا۔ اور یقیناً اللہ سے بڑا قدر دان اور منصف کون ہو سکتا ہے اور پھر جس کو اللہ مل جائے اسے اور کیا دولت چاہیے۔ کیا اس کو اس کے بعد سب کچھ نہیں مل گیا۔ سبحان اللہ۔

روزہ کی اہمیت اور اس کے فائدے اور روحانی محاسن کے حصول کے سلسلہ میں علماء نے دفتر کے دفتر لکھ رکھے ہیں اور طالب علم کو ان سے استفادہ کر کے یقیناً بہت سی باتوں کا پتہ چل جائے گا ۔ روزہ نہ صرف روحانی ترقی کے لیے تیر بہدف نسخہ ہے بلکہ اس کے گوناگوں دیگر اخلاقی اور معاشرتی فضائل اور فوائد ہیں جس میں جسمانی فائدے طبی نقطہ نگاہ رکھنے والے علماء نے بڑی تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ اوپر کی سطور سے صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ روزہ ایک ایسی عالی شان عبادت ہے کہ جس کو نہ تو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی بے دلی کے ساتھ ادا کیا جا سکتا ہے بلکہ جتنا زیادہ خشوع و خضوع ہوگا، روزہ اتنا ہی اعلیٰ درجے کا شمار ہوگا اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوگا۔ میں اپنے قاری کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ آج کی دنیا میں ہم لوگوں نے روزے کو اس کے اصل اصول سے ہٹ کر ایک دکھاوے کی عبادت بنا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے روزے بالکل بے اثر اور پُھس پُھسے ہو کر رہ گئے ہیں۔ہم پورے رمضان کے روزے رکھتے ہیں مگر نہ تو ہمیں ان روزوں سے کوئی جسمانی فوائد مل رہے ہیں نہ روحانی ترقی ہو رہی ہے اور نہ ہی معاشرتی برائیوں اور گھناؤنے اعمال سے نجات مل رہی ہے۔ بلکہ ایسی بری طرح روزے رکھے جا رہے ہیں کہ ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں ایسے روزوں کے بدلے میں حشر کے دن الٹا ہم سے باز پرس نہ شروع ہوجائے اور پھر ہم بڑے بُرے عذاب میں گرفتار کر دیئے جائیں۔ العیاذ باللہ۔ 

بہترین روزہ وہ ہے جو احتساب اور ایمان کے ساتھ رکھا جائے۔ روزہ کے دوران جن چیزوں سے اجتناب منع ہے اگر ان کی پابندی نہ کی جائے تو روزہ کی روح بری طرح مجروح ہوتی ہے۔ خواہشات نفسانی جس میں کھانا پینا اور جنسی مباشرت سے رکے رہنا اصل ہے اور واجب ہے کہ ان کا ارتکاب ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح بہت ساری باطنی چیزیں بھی ہیں جن سے باز رہنا انتہائی ضروری ہے مثلاً جھوٹ، غیبت، چوری، بے ایمانی، دھوکہ دہی وغیرہ یہ تمام وہ اعمال ہیں جو روزہ کو اگر توڑتی نہیں ہیں تو اسے فاسد ضرور کر دیتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ تمام باطنی اعمال وہ ہیں جن سے رکے رہنے کی وجہ سے معاشرہ میں برائی ختم ہوتی ہے اور اچھائی کے پھیلنے اور بڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ یہ تمام باطنی اعمال ایک مسلمان کی زندگی میں عام طور سے جاری و ساری رہنا چاہیے اور ان کا روزہ کی شرائط سے کوئی واسطہ نہیں ہے مگر روزہ کو بے اثر کرنے اور اس کا ثواب گھٹانے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 

ہم اگر اپنے رمضانوں اور اپنے روزوں کا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ ہم روزہ اور اس کی مقبولیت کے عمل سے بہت دور ہیں۔مسلمان کو رمضان کی آمد کا انتظار بڑے زور شور سے رہتا ہے جبکہ ان میں بہت سے مسلمان وہ بھی ہوتے ہیں جن کو رمضان کی بندشوں اور پابندیوں کی وجہ سے اپنی آزادی سلب ہوتی نظر آ تی ہے اور وہ درحقیقت دل سے یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح رمضان آئے ہی نہیں۔ وہ جو رمضان کو خوش آمدید کہتے ہیں ان کا جوش وخروش بڑا دیدہ زیب اور بھلا معلوم ہوتا ہے۔ شروع کے رمضانوں میں مساجد بھی بھری نظر آتی ہیں اور ان میں چہل پہل بھی بہت ہوتی ہے ۔ نوافل کی ادائیگی اور تلاوت کلام پاک بڑے جوش و خروش سے ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ دلچسپی کم ہو جاتی ہے جوش ماند پڑ جاتا ہے۔ تراویح میں بھی اور پنجگانہ نمازوں میں بھی نمازیوں کی تعداد گھٹ جاتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی بازاروں میں گہما گہمی بڑھ جاتی ہے۔اور بازار میں جو شیطانی کارروائی ہو رہی ہوتی ہے اللہ اس سے سب کو محفوظ رکھیں۔ صرف اس ایک مقدس مہینہ میں بازاروں میں عید کی خریداری اور تیاریوں کے نام سے جتنی فحاشی نظر آتی ہے، جتنا گناہ بکھیرا اور بٹورا جاتا ہے اس کا کوئی حد و حساب ہی نہیں ہے۔ شائد اس ایک اکیلے مہینے میں ان بازاروں میں ہم جتنا گناہ سمیٹ لیتے ہیں پورے سال میں اتنا گناہ نہیں کرتے۔ فحاشی کا مظاہرہ ، نظر بازی ، غض بصر کے احکامات سے رو گردانی اور شر م و حیا کا تقدس جس طرح پامال ہوتا ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی۔اس کے بعد بھی ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم ایک مقدس مہینے میں داخل ہیں اور اس کے فیوض و برکات لوٹ رہیں۔ ہیہات، ہیہات، کیا نادانی ہے اور کس غفلت میں ہم پڑے ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہ لوگ جو روزہ بڑی پابندی سے پورے ماہ بڑے اہتمام سے رکھتے ہیں وہ بھی صرف روزہ ہی رکھتے ہیں۔ روزے کے واجبات کو تو پورا کرتے ہیں مگر وہ باطنی اعمال جو روزہ کو توڑتے تو نہیں مگر روزے کے ثواب میں رخنہ انداز ہوتے ہیں ان سے اجتناب کرنے میں اتنا اہتمام نہیں کرتے۔ بہت سے لوگ روزے میں ہوتے ہوئے جھوٹ بھی بول رہے ہوتے ہیں کیونکہ آج کے دور میں ہماری ایمانی کمزوری نے ہمیں یہ بآور کرایا ہے کہ کاروباری معاملات میں جھوٹ کو داخل کر دینے سے کاروبار کو بڑا نفع ہوتا ہے۔ روزہ رکھ کر ایک سبزی فروش اور پرچون کی دکان پر بیٹھا ہوا کاروباری آدمی حسب عادت کم تول کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دوست احباب کی مجلسوں میں غیبت بالکل ایسے ہی چل رہی ہوتی ہے جیسے کوئی بری بات ہی نہیں ہو رہی ہے۔سرکاری دفاتر میں رشوت کا کاروبار انتہائی شد و مد سے تیز ترین رفتار پکڑ لیتا ہے اس لیے کہ سینئر افسروں کو تحفے تحائف بھی دینے ہوتے ہیں اور پھر اپنی بیگم صاحب کو بھی تو اتنا خرچ دینا ہے جس میں وہ پڑوسن سے زیادہ مہنگے کپڑے اور زیور خرید سکیں۔ سڑکوں پر پولیس والے چالان کا اہتمام بڑے سائنسی بنیادوں پر کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے ہر وہ آدمی جو آج سڑک پر آیا ہے کچھ جرمانہ بھر کر جائے۔ چالان کے نام پر، عیدی کے نام پر، اور خدا جانے کن بہانوں سے لاکھوں روپیہ ہر شہر میں ہر روز ہتھیا لیا جاتا ہے۔ بھتہ خوروں نے بھی عیدی اور زکوٰة کے نام پر اپنی دکان چمکائی ہوتی ہے۔ پس رہا ہوتا ہے ایک عام مسلمان جو یہ تمام زیادتیاں برداشت کرتے کرتے اور پستے پستے ایسا ہوگیا ہے کہ اب اس کی پیشانی پر ناگواری کے اثرات بھی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ وہ خوش اس بات پر ہوتا ہے کہ چلو کم پیسوں میں جان چھوٹ گئی۔ یعنی عرف عام میں یہ کہا جائے کہ بے غیرتی عام ہو گئی ہے۔ برائی کے آگے ڈٹ جانے والا کوئی نہیں دکھائی دیتا۔ جب ہی تو ہم اخلاقی اور معاشرتی گراوٹ میں انتہائی تیزی سے ڈوبتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ اور افسوس یہ کہ ظلم کرنے والا بھی روزہ رکھ کر اللہ کو خوش کرنا چاہ رہا ہے اور ظلم سہنے والا بھی روزہ سے ہی ہے۔ بیچارہ رمضان ہی گھاٹے میں ہے۔ اس کے آنے کا امت مسلمہ پر کوئی اثر ہی نہ ہوا بلکہ برائیاں پہلے سے بھی بڑھ کر سامنے آ گئی ہیں۔

رمضان کے آتے ہی ہم اپنے روزو شب کے تمام معاملات کو الٹ دیتے ہیں۔ روزہ رکھ کر اکثر لوگ سارا دن سوئے رہتے ہیں یا پھر دل کے بہلانے کو ٹیلی وژن اور فلموں میں اپنا وقت گزارتے رہتے ہیں اور اس میں بعض حضرات تو نماز وغیرہ کی پابندی بھی نہیں کرتے جب کہ روزہ کھولنے کے بعد تمام دنیا الٹی ہو جاتی ہے۔ گھومنا پھرنا ایک دوسرے کو کال آن کرنا بچوں کا کھیل کے میدان کو آباد کر دینا، بازاروں میں جا کر عید کی خریداری کرنا یہ تمام کام رات کے لیے مختص ہو جاتے ہیں۔بعض جگہ تو پورا دن بازار بند ہوتا ہے اور افطار کے بعد دکانیں کھلتی ہیں اور تمام رات سحری تک ان کی چہل پہل دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ وہ رمضان جو قیام لیل کے لیے بہترین قرار دیا گیا اور اس کی بڑی فضیلت بتائی گئی ہے کہ اس سے بڑے اعلیٰ درجے کا ثواب مل سکتا ہے، ہم بہت زیادہ کرتے ہیں تو صرف عشاء کی نماز ادا کرلیتے ہیں۔ بعض لوگ جو تراویح پڑھنی ضروری سمجھتے ہیں وہ تین روزہ ، پانچ روزہ یا دس روزہ تراویح میں شامل ہوتے ہیں اور قرآن مجید کو رمضان مبارک میں سننے کی ریت پوری کر لیتے ہیں۔ بقیہ رمضان میں نہ تو تراویح یاد آتی ہے اور نہ ہی تلاوت قرآن۔ ہم ویسے تو اپنی زندگیوں میں قرآن کے ساتھ بڑی زیادتیاں کرتے ہیں یعنی نہ قرآن کو پابندی سے پڑھنے کا پورے سال میں کوئی اہتمام کرتے ہیں نہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو قرآن پڑھنا نہیں جانتے ہیں، جو پڑھنا جانتے ہیں وہ اس کو سمجھتے ہی نہیں اور معدودے چند جو کچھ تھوڑا بہت سمجھ لیتے ہیں وہ اس کے احکامات پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔ مگر رمضان میں آکر تو حالات اور بھی برے ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اس ماہ میں ایک قرآن نماز میں سن لیں یا پھر ایک ختم کرلیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن اسی مبارک مہینہ میں نازل ہوا اس لیے اس ماہ میں تو قرآن کو پڑھنے ، سمجھنے اور اس کے رموز کے بارے میں جاننے کا بہت اہتمام ہونا چاہیے۔ علماء اور مساجد کے پیش اماموں کو چاہیے کہ مساجد میں قرآن سے متعلق مختلف پروگرام تشکیل دیں اور عوام الناس کو قرآن کے نزدیک لانے کی سعی کی جائے۔ مگر یہ حضرات تو رات کو ایک پارہ قرآن سنا کر اس قدر تھک جاتے ہیں کہ بقیہ پورا دن یا تو سوتے ہیں یا پھر اپنا دور مکمل کرنے میں وقت گزارتے ہیں۔ آپ کو شائد اس سے اتفاق نہ ہو مگر مجھے کہنے دیجئے کہ ہم مسلمان رمضان کے ماہ میں قرآن کا ہجران کرتے ہیں۔ پورا سال ہم قرآن کے نزدیک بھی نہیں جاتے مگر دل میں ایک چور تو ہوتا ہے کہ غلط کر رہے ہیں قرآن پڑھنا چاہیے۔ مگر رمضان کے آتے ہی وہ چور بھی چور دروازے سے نکل جاتا ہے اور اس بات پر ہم راضی ہو جاتے ہیں کہ یہ ایک ماہ کمانے کا آیا ہے اس میں اپنی معاشی دیکھ بھال کر لیں قرآن پھر اس کے بعد پابندی سے پڑھیں گے۔ مگر وہ ساعت آتی ہی نہیں یہاں تک کہ اگلا رمضان آ جاتاہے۔

روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ اس کو دوسری تمام عبادتوں پر یک گونہ فضیلت دو باتوں کی وجہ سے ہے، ایک تو یہ کہ روزہ کھانے پینے اور جنسی خواہشات سے رک جانے سے عبارت ہے اور یہ اعمال باطنی اعمال ہیں جن کا کوئی شاہد نہیں۔ کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ کوئی شخص ان کاموں سے رکا ہوا ہے مگر اس کے مقابلہ میں دیگر تمام عبادتیں دوسروں کو آنکھوں سے دکھائی دیتی ہیں۔ روزہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو نظر نہیں آتا۔ یعنی انسان روزہ رکھ کر باطنی اعمال پر صبر کرتا ہے اور ان سے گریز کرتا ہے اسی لیے روزہ شیطان لعین و مردود پر غلبہ کا دوسرا نام ہے۔ اور یہ روزے کی دوسری فضیلت ہے۔ شیطان انسان کو ورغلانے کے لیے ان ہی شہوات کو اجاگر کرتا ہے اور انسان کو ان کی طرف مائل کرتا ہے تاکہ انسان ان میں پڑ جائے۔ مگر وہ جو اللہ کے خوف سے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ روزہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے رکھا جائے اور اس کی پابندیوں کا احترام کیا جائے تو شیطان کے راستے مسدود ہوتے ہیں اور وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ اس کا قلع قمع ہوتا ہے اس کے چلنے کی راہیں مسدود ہوتی ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ اللہ پاک اپنے دشمن کو شکست دینے کے لیے اپنے بندے کو طاقت عطا کرتا ہے اور اس کو نصرت سے نوازتا ہے۔مگراللہ کی یہ نصرت بندے کی اپنی مدد و نصرت پر موقوف ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ 

ان تنصروا اللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم  ( محمد : 7) 

یعنی : "اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے گا۔”

خلاصہ یہ ہے کہ کوشش کا اجر ، بندے کا اپنا فعل ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کی جزا اللہ کے ذمہ ہے۔ 

اب ایک بار پھر رمضان شریف کا مہینہ آگیا ہے، اس مرتبہ پھر ہم انہی خرافات میں مبتلا ہو جائیں گے جن میں ہمیشہ سے مبتلا رہے ہیں۔ کہنے کو روزہ بھی ہوگا اور کھانے پینے سے پورا دن ہاتھ بھی کھینچے رہیں گے (یہ الگ بات ہے کہ روزہ افطار ہوتے ہی ساری کسر نکال دیں گے۔ چلیں یہ تو جائز ہے اور اس کی اجازت ہے مگر میانہ روی کے ساتھ۔ اگر کوئی نہ کرے تو ایسا گناہ بھی نہیں)۔ مگر روزے کے ساتھ شیطان کے دامن میں بھی پناہ لیے رہیں گے۔ کاروبار میں جھوٹ اور بے ایمانی بھی ہوگی، چغلی اور رشوت و دھوکہ دہی کا کاروبار بھی پورے زور و شور سے چلتا رہے گا۔ مساجد میں حاضری بھی رہے گی قرآن بھی سنا اور سنایا جائے گا۔ تلاوت بھی زور و شور سے جاری رہے گی اور پورا رمضان اسی طرح بازاری اور عبادتی سرگرمیوں اور گہما گہمی میں گزر جائے گا۔ مگر کیا رمضان کے ختم ہو جانے کے بعد ہمارا نفس صاف ستھرا اور روشن ہوجائے گا ؟ خشیت الٰہی سے بھر جائے گا اور ہم بہتر انسان ہو جائیں گے یا ہمیشہ کی طرح ویسے کے ویسے ہی رہیں گے؟۔ کیا روزہ رکھ کر اور تمام اجتناب کرنے والی چیزوں سے اجتناب کرکے ہم اپنے اندربھی ایک خوشگوار تبدیلی پیدا کرلیں گے اور اپنے معاشرہ سے بہت ساری برائیاں دور کر کے اسے ایک اچھے معاشرہ میں تبدیل کر لیں گے؟ کیا ایک پورا ماہ انتہائی خشوع و خضوع سے عبادت کرنے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے بعد ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ ہم اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں اور ہماری دعائیں فٹا فٹ بغیر کسی تاخیر کے قبول ہو جائیں گی ؟ 

مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ میرے اندازے کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہے۔ ہماری عبادتوں سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ہماری عبادتیں ہماری اپنی تطہیر اور صفائی کے لیے ہوتی ہیں۔ ان عبادات سے جڑے ہوئے ثواب کے جو وعدے ہیں وہ تو آخرت کے لیے ہیں وہ وہاں ملیں گے۔ یہ وہ خزانہ ہے جو ہم دنیا کی کھیتی میں سے کما کرآگے بھیج رہے ہیں تاکہ وہاں کے لیے ہمارے اکاؤنٹ میں ایک ضخیم منافع جمع ہو جائے۔ بقیہ رہی بات دنیاوی فائدے کی تو ہر عبادت ہمارے نفوس میں سے ایک خاص قسم کی گندگی کو دور کرتی ہے یا پھر ایک خاص قسم کی قوت اور صلاحیت کو ہمارے اندر اجاگر کرتی ہے۔ اللہ کے احکامات پر عمل درآمد سے ہمارے اعمال بہتر ہوتے ہیں اور ہماری زندگیوں میں سے کوئی نہ کوئی میلا حصہ دور ہو جاتا ہے اور ایک نئی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے ایک نیا جذبہ اور ولولہ ابھرتاہے۔ ہماری عبادتیں گو کہ انفرادی سطح پر ہماری تطہیر قلب کرتی ہیں اور جو پاکیزگی روح کو ملتی ہے وہ ایک اکیلے انسان کے اندر بھلائی پیدا کرتی ہے۔ مگر جب معاشرہ کے تمام لوگ مل کر یہ پاکیزگی حاصل کرلیتے ہیں تو پورے معاشرہ میں اس کے اثرات پھیل جاتے ہیں۔ اگر معاشرہ کا ہر فرد جھوٹ کو غلط سمجھے اور اس سے اجتناب برتے تو وقت کے ساتھ پورے معاشرے میں اس کے اثرات پہنچنا شروع ہو جائیں گے اور ہمارے اندر سے جھوٹ کی یہ وبا جو آج عام ہے دور ہوجائے گی۔ اسی ایک مثال کو دیگر تمام برائیوں اور معاشرے کے ناسور پر محمول کرلیں تو بھی بات واضح ہو جاتی ہے۔ اکثر اپنے احباب سے گفتگو کے دوران جب اس مسئلہ پربات ہوتی ہے تو لوگوں کی اکثریت کو اس بات کے ماننے پر تامل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ معاشرے میں اخلاقی برائیاں اس قدر کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں کہ آج کے دور میں ان سب کو ختم کرنا اور ان کا سدباب کرنا نہ صرف یہ کہ ناممکن ہے بلکہ شائد اب قیامت تک یہ سب کچھ ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کا ایک واحد جواب جو میرے پاس ہے وہ یہ ہے کہ اسلام سے قبل جزیرہ نمائے عرب میں جتنی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں وہ آج کے دور سے کسی طرح بھی کم نہیں تھیں۔ مگر ہمارے آقائے نامدار حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی انتھک اور انتہائی کوششوں سے جب لوگ مسلمان ہونے لگے تو آ پ ﷺ نے اور تو کچھ نہیں کیا سوائے اس کے کہ ان نئے مسلمانوں کو ان اسلامی تعلیمات کا علم دیا ، انہیں عبادات پر اس طرح لگا دیا کہ وہ اس کی روح کو سمجھ کر اس پر عمل کریں۔ لوگوں کے اوپر پہرے تو نہیں بٹھائے جو ان کو غلط کام کرنے سے روکیں۔ لوگوں کو عبادات پر لگایا اور ان تمام عبادات کی صحیح سمجھ ان میں پیدا کی۔ یہی تطہیر تھی جو آپ نے خود انجام دی اور اپنے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے کروائی۔ یوں لوگوں کے دلوں میں اللہ کی خشیت پیدا ہوئی برے اعمال کا وبال ان کو کھٹکنے لگا اور انہوں نے ایک پاکیزہ زندگی کو اپنانا شروع کردیا۔ چند ہی برس گزرے تھے کہ ان کی حالت میں مثبت تبدیلی آ گئی اور تاریخ گواہ ہے کہ وہی وحشی، جنگلی اور اجڈ عرب ایک ایسا معاشرہ لے کر اٹھے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے پوری دنیا کو ان تابندہ اعمال اور روایات سے ایسا منور کر دیا کہ جو اس کو سمجھ گیا وہ اس سے دور نہیں رہا اور اسلام جس تیزی سے دنیا میں رائج ہوا اتنی تیزی سے آج تک کوئی اور مذہب نہ پھیل سکا۔ یہی مسلمان تھے کہ جب دشمن کے سامنے انتہائی قلیل تعداد میں اپنے ناکافی ہتھیار کے ساتھ جاکر کھڑے ہوتے تو اللہ ان کی مدد کے لیے فرشتے بھیج دیتا۔ کتنے ہی معرکے ایسے ہیں جو مسلمان مجاہدوں نے سر انجام دیئے اور ان میں فتح حاصل کی کہ آج بھی مغرب ان پر حیرت زدہ ہے اور سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں نے کیا طریقہ اختیار کیا کہ ان کو فتح ہوئی۔ یہی مسلمان تھے کہ جب وہ کھڑے ہوکر اجتماعی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو ان کی دعا فوراً قبول ہوتی۔ بارش مانگتے تو بارش ہوتی، بارش تھمنے کی دعا کرتے تو موسلا دھار بارش تھم جاتی۔ کسی مریض کے اوپر ہاتھ پھیرتے تو اللہ اس مریض کو اس کی بیماری سے شفا عطا کر دیتا۔ کیونکہ وہ اپنے پاکیزہ اعمال اور تطہیر شدہ زندگیوں کے ساتھ اللہ کے مقرب بن گئے تھے اور ایسے مقرب کہ بقول حدیث شریف ان کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوتا، ان کی آنکھیں اللہ کی آنکھیں ہوتی اور ان کی زبان اللہ کی زبان ہوتی۔

ہم آج پندرہویں صدی میں اسلام کا نام تو ضرور لیتے ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم اسلام سے کوسوں دور ہیں۔ ہمیں اسلام کے اصول و ضوابط سے تھوڑا بہت میلان تو ہے مگر ہم اپنی بے وقوفی میں ان تمام باتوں کو اپنے دنیاوی فائدوں کے لیے پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ میں تمام برائیاں اپنے عروج پر ہیں۔کسی بھی معاشرتی برائی کا نام لیں، ہم اس میں ملوث ملیں گے۔ اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ برائیاں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں سے دور لے جاتی ہیں اور اللہ کے غیض و غضب کو آواز دیتی ہیں۔اللہ بہت مہربان ہیں اور اپنے بندوں کو بہت ڈھیل بھی دیتا ہے کہ وہ سمجھ جائیں اور سدھر جائیں۔ رسی دراز ہوتی رہتی ہے اور سرکشی اور بد اعمالیوں میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے اگر غلط راستوں پر چل رہے ہوتے تو یقیناً اللہ کے عذاب کا شکار ہو جاتے۔ اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کریں تو ہمیں اپنی حالت ان سے مختلف نہیں لگے گی۔ ایسے میں ہماری عبادتیں جو ہمیں اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ ہیں خالی خولی اور بے مقصد ہو جاتی ہیں۔ نہ ہم اللہ کے نزدیک آتے ہیں نہ اللہ ہماری طرف متوجہ ہوتا ہے۔ نہ ہماری حالت سدھرتی ہے نہ ہمارے معاشرہ میں کوئی مثبت تبدیلی آتی ہے بلکہ برائیوں اور اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے اور نہ صرف یہ کہ انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں بلکہ معاشرہ میں نہ تو کوئی انصاف باقی رہتا ہے ، نہ شرم و حیا ہوتی ہے، نہ کسی قسم کی پاکیزگی کے ملنے کا امکان رہتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے گندے معاشرے میں بھی ہر وقت موجود ہوتے ہیں اور سدھار کی حتی الامکان کوشش بھی کرتے ہیں مگر یا تو ان کی کوششیں درست راستہ پر نہیں ہوتی ہیں یا پھر وہ خود بھی بسا اوقات اپنا دامن بچا کر چلتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر معاشرہ بگڑتا ہی چلا جاتا ہے۔

آج ہم عبادتیں بھی کرتے ہیں مگر ان میں کوئی روح نہیں ہے۔ نماز پڑھتے ہیں مگر برائیوں سے دور نہیں ہوتے زکوٰة دیتے ہوئے جان جاتی ہے اور اس میں بھی ڈنڈی مارتے ہیں۔ روزے رکھتے ہیں مگر وہ بھی صرف دکھاوے کے۔ کھانے پینے سے اجتناب کا نام روزہ نہیں۔ اگر اللہ کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل نہ کریں تو یہ روزہ کسی فائدے کو تو راہ نہیں دکھائے گا۔ نہ ہم خود انفرادی طور پر درست ہوں گے اور نہ ہی ہمارا معاشرہ کسی طور درست ہوگا۔ جو بد اعمالی، نا انصافی اور دیگر سماجی برائیاں ہیں وہ اپنی جگہ پھلتی پھولتی رہیں گی۔ ہم جتنی مرضی دعائیں مانگیں اچھائی ہماری طرف رخ نہیں کرے گی اس لیے کہ ہم اصولی طور پر خود ہی درست نہیں ہونا چاہتے۔ ہم درست ہونے کی کوشش کریں گے تو اللہ کی فتح و نصرت ہمارے ساتھ ہوگی۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان اپنے کلام پاک میں فرمایا ہے :

ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم  ( الرعد : 11 )

"اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اچھی حالت میں تبدیل نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت کو تبدیل نہ کرے۔” 

آیئے آج یہ عہد کریں کہ اس رمضان میں ہم اپنی حالت ضرور بدلیں گے۔ روزہ رکھیں گے اور اس طرح رکھیں گے جیسے کہ روزہ رکھنے کا حق ہے۔ جو واجب ہے اس کی پابندی تو یقیناً کریں گے اور ان کے ساتھ وہ تمام اعمال جو اوپر بیان ہوئے ہیں جو روزہ کے ثواب میں کمی کا باعث ہوتے ہیں ان سے اجتناب ضرور کریں گے۔اللہ کے احکامات کو اپنی نظروں کے سامنے رکھیں گے اور اپنی انتہائی کوشش کریں گے کہ ان کی پامالی نہ ہو۔ اور یہ بھی یاد رکھیئے کہ ہم صرف اپنے ذمہ دار ہیں دوسرا کیا کر رہا ہے اس کی طرف ہمیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی اور نے جو برائی اپنائی تو اس کا جواب وہ خود دے گا میں اور آپ نہیں۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم سیدھے اور سچے راستے پر چلتے رہیں۔اگر ہم نے چند رمضان اس نہج سے گذار لیے جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے رمضان کا طرہ امتیاز تھا تو ہمارا معاشرہ تبدیل ہو جائے گا اور یہ پاکستان جنت نشان بن جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s