پاکستان — سیکولر ازم کی راہ پر


الواقعۃ شمارہ 48 – 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : رحمت بانو

وہ حقیقت جس کا اظہار کرتے ہوئے بھی ارباب اقتدار کئی بار سوچا کرتے تھے ہمارے موجودہ عزت مآب وزیر اعظم کئی بار کہہ چکے ہیں، ایک ایسے ملک کو جو خالصتاً اسلام کے جذباتی نعروں کے ساتھ وجود میں آیا ، اسے کئی بار سیکولر بنانے کا سرکاری اشارہ دیا جا چکا ہے۔ بات صرف سرکاری دعوؤں تک محدود نہ رہی بلکہ اسے عملی شکل بھی دی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ ویسے تو کئی برسوں سے جاری ہے لیکن اب یہ حقیقت بالکل عیاں ہو کر سامنے آگئی ہے۔

میڈیا کی مادر پدر آزادی، خواتین اینکروں پر دوپٹہ پہننے کی پابندی، غیر مسلم تہواروں پر عام تعطیل، تعلیمی نصاب میں سیکولر ذہنیت کے مطابق تبدیلی …………… یہ ایسی تبدیلیاں ہیں جنہیں محض سطحی نظر سے دیکھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں ہندوؤں کی کوئی خاص قابل ذکر آبادی نہیں ہے لیکن ان کی خوشنودی یا شاید عالمی دنیا کی خوشنودی کے لیے ہماری دین سے بے بہرہ حکومت نے ہولی کی عام تعطیل کا اعلان کیا، یہ اعلان سندھ حکومت نے کیا۔ اقلیتوں کے حقوق کا اسلام مخالف نہیں۔ پورے صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کرنا ، سرکاری اداروں اور اسکولوں کو بند رکھنا جب کہ اس کا عام عوام سے براہ راست کوئی تعلق بھی نہیں آخر کس رجحان کو ظاہر کرتا ہے ہندو برادری کو بطور خاص چھٹی دی جا سکتی تھی اس کے لیے عام سرکاری اداروں اور اسکولوں کو بند رکھنے کا کیا جواز تھا ؟ غور فرمائیے تو اس کے منفی اثرات بھی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی بھارتی میڈیا نے اپنی جڑیں گاڑ رکھی ہیں۔ بچوں کی اخلاقیات پر بھارتی میڈیا کے تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اب منگنی کی جگہ سگائی ، نکاح کی جگہ پھیرے ، لاش کی جگہ چِتا جیسے الفاظ عام بولے جانے لگے ہیں خواہ یہ الفاظ مذاقاً ہی بولے جائیں لیکن قوم کے رجحانات کو ظاہر کرتے ہیں۔ جن چھوٹے بچوں کو ہولی کی چھٹی کی دی گئی جب وہ بچے اپنے بڑوں سے دریافت کریں گے کہ یہ چھٹی کس بات پر دی گئی ہے اور انہیں بتایا جائے گا کہ یہ ہولی کی چھٹی ہے، جسے وہ اپنے گھر میں موجود میڈیا اسکرین پر بار بار دیکھتے ہی رہتے ہیں تو پھر ان کا معصوم ذہن اسے بھی ایک مقدس تقریب سمجھنا شروع کر دے گا۔ آہستہ آہستہ یہ چیزیں ہماری نئی نسل کو متاثر کریں گی۔ جس حکومت کو یومِ صدیق اکبر یا یوم فاروق اعظم منانے کی کبھی توفیق نہ ہوئی اسے آخر ہولی ہی کا دن کیوں یاد آگیا ؟ عنقریب 22 جمادی الثانی کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یوم وفات آئے گا کیا اس دن بھی حکومت سندھ عام تعطیل کا اعلان کرے گی ؟ کیا اس دن بھی پاکستان کی میڈیا 2 – 4 گھنٹہ نہ سہی 1 گھنٹے کا بھی کوئی پروگرام کرے گی تاکہ ہم اپنی نئی نسلوں کو بتا سکیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کون تھے ؟

افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اپنے اسلاف و اکابر کا نام لینے میں شرم آنے لگی ہے ہم نے اپنی تاریخ سے اپنا رشتہ توڑ لیا ہے۔ تعلیمی نصاب کی تبدیلی بھی انتہائی تشویشناک ہے سرکاری نصاب میں خلفائے راشدین، ازواجِ مطہرات، بنات رسول، صلحائے امت، مجاہدینِ اسلام اور ہمارے قومی ہیروز کی جگہ مغربی سائنسدانوں کو ملنے لگی ہے ، سائنس کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن دنیا میں مسلمان سائنسدانوں کی بھی کمی نہیں۔ خود سائنس کا فن مسلم سائنسدانوں کے احسانات سے کبھی سبکدوش نہیں  ہو سکتا یہ بھی بتانا چاہیے۔

بقول علامہ شبلی نعمانی : ” افسوس اس بات کا نہیں کہ ہمارے زندوں پر یورپ کے زندوں کا قبضہ ہے افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے مردوں پر بھی یورپ کے مردوں کا قبضہ ہے۔”

یقیناً موجودہ وقت تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے مگر یہ تبدیلی مثبت ہونی چاہیے نہ کہ منفی۔ ہمیں اپنی اقدار و تہذیب کو فراموش  نہیں کرنا چاہیے۔

معاشرے میں سیکولر رجحانات کی ترویج و اشاعت زوروں پر ہے۔ عالمی میڈیا سے شکوہ کیسا؟ ہمارا اپنا قومی میڈیا بھی مفہوم و مطلب سے یکسر نا آشنا ہو کر جدیدیت اور آزادی کے خوشنما نعروں اور دعوؤں کا اسیر ہے۔

مدر ڈے، فادر ڈے، ٹیچر ڈے، کلرز ڈے، ویلنٹائن ڈے وغیرہ ڈے منائے جانے لگے ہیں۔ ان دنوں نے اسلامی تصور حیات کو مجروح کیا ہے۔ صرف ایک دن ماں یا باپ سے محبت کا اظہار کر کے اولاد اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہو جاتی۔ صرف ایک دن اپنے استاد کو پیار بھرا پیغام بھیج کر طالب علم استاد کے حقوق ادا نہیں کر دیتا۔ اور محبت کا اظہار قطعاً غلط نہیں لیکن یہ اظہار ان رشتوں کے ساتھ ہونا چاہیے جن کی دین اور اخلاق ہمیں اجازت دیتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کے نام پر بے حیائی اور بے غیرتی کی جو رسم چل پڑی ہے اور جسے میڈیا کا غیر مشروط تعاون حاصل ہے سراسر غیر اسلامی رجحان کا عکاس ہے۔ نہ صرف ہماری دینی تہذیب بلکہ ہماری مشرقی اقدار کے بھی منافی ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں ۔ دینی و اخلاقی روّیوں کا تحفظ کریں۔

پاکستان سیکولر ازم کی جس راہ پر گامزن ہو چکا ہے اس کے اثرات محض سطحی نوعیت کے نہیں بلکہ انتہائی دور رَس ہیں۔ معصوم بچوں کے ذہن کی تبدیلی گویا پوری قوم کے مستقبل کی تبدیلی ہے اسے کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری آج کی خاموشی کل کی سزا بن جائے گی۔ ہم اپنی آئندہ نسلوں کے مجرم قرار پائیں گے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s