غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ : دستور پاکستان اور قادیانیت


الواقعۃ شمارہ 48 - 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : شکیل عثمانی

حال ہی میں وطنِ عزیز کے ممتاز دانش ور، جناب جاوید احمد غامدی کا ایک مضمون "اسلامی ریاست : ایک جوابی بیانیہ” ان کے ماہنامہ "اشراق” لاہور اور چند دوسرے رسائل اور جرائد میں شائع ہوا ہے۔ موضوع کی اہمیت اور اپنے سنجیدہ اور علمی اندازِ بیان کے سبب یہ مضمون گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اس لیے بھی کہ یہ ملک میں جاری اسلام اور سیکولر ازم کی اُس کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ ذیل کی سطور میں مضمون کے صرف چند نکات کا اختصار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس مضمون کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ "ریاست کا کوئی مذہب یا دین نہیں ہوتا۔” ماضی میں بھی اس موضوع پر بحث ہوتی رہی ہے جس میں "جوابی بیانیے” کے مصنف کا نقطۂ نظر وہی رہا ہے جو پاکستان کے راسخ العقیدہ اسلامی مفکرین کا ہے۔ حوالے کے لیے ملاحظہ فرمایئے، ماہنامہ اشراق ستمبر 1988ء میں غامدی صاحب کا مضمون جو سابق صدر ضیاء الحق کی وفات کے تناظر میں لکھا گیا۔ قارئین کی سہولت کے لیے مضمون کا متعلقہ حصہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔ ( خط کشیدہ جملے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں )

"صدر جنرل محمد ضیاء الحق بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات ہماری تاریخ کا ایک نا قابلِ فراموش سانحہ ہے۔ نفاذِ دین کے لیے جو حکمتِ عملی انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اختیار کیے رکھی، مجھے اگرچہ اس سے سخت اختلاف تھا لیکن ابھی پچھلے ماہ میں نے جب "شریعت آرڈیننس” کے نفاذ کے بعد ان کی حکمت عملی پر تنقید لکھی تو اس میں یہ بھی لکھا :

"مجھے اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ بہرحال اس ملک کی تاریخ میں پہلے سربراہِ مملکت ہیں جنہوں نے اسلام کے ساتھ اپنے تعلق کو بغیر کسی معذرت کے پورے اعتماد کے ساتھ ظاہر کیا۔ اسے برملا اس مملکت کی اساس قرار دیا۔ اس کے بارے میں صاف صاف کہا کہ وہ جس طرح ہماری انفرادی زندگی کا دین ہے، اسی طرح ہماری ریاست کا بھی دین ہے۔

اپنی سربراہی کے پہلے دن سے اس کے نفاذ کے لیے کوشاں ہوئے۔ علماء اور اہلِ دین کے ساتھ بہت عقیدت مندانہ رویہ اختیار کیا۔ ہر قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر، جہاں انہیں موقع ملا، وہ قرآن کی آیات پڑھتے اور اسلام پر اپنے غیرمتزلزل یقین کا اظہار کرتے نظر آئے، اور اس ملک میں جہاں اکثر اربابِ سیاست اب بھی اس حماقت میں مبتلا ہیں کہ مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے اور ریاست کے معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے، وہ ہر جگہ اور ہر موقع پر اس تصور کی بیخ کنی کرتے رہے۔”

صدر صاحب کی وفات کے بعد اب اس ملک کے در و دیوار ان حقائق کا اعتراف کر رہے ہیں۔” ( ص : 6 )

خط کشیدہ جملوں میں موصوف نے صدر ضیاء الحق کے ان الفاظ کا حوالہ دیا ہے کہ اسلام جس طرح ہماری انفرادی زندگی کا دین ہے اسی طرح ہماری ریاست کا بھی دین ہے اور یہ حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے صدر ضیاء الحق کے نقطۂ نظر سے کسی اختلاف کا اظہار نہیں کیا بلکہ کہا کہ ملک کے جو ارباب ِسیاست یہ کہتے ہیں کہ مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے اور ریاست کے معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے، وہ حماقت میں مبتلا ہیں۔ اب "جوابی بیانیے” میں موصوف کا یہ کہنا کہ ریاست کا کوئی دین نہیں ہوتا، یہ ان کے نقطۂ نظر میں ایک بڑی تبدیلی ہے اور جب تک وہ نہیں بتاتے کہ اس تبدیلی کی وجوہات یا محرکات کیا ہیں اور یہ "جدید وحی” کب اور کیوں نازل ہوئی، بحث کو آگے بڑھانا مفید نہیں ہوگا۔ کیوں سے ہماری مراد سبب (cause) ہے۔ ہم ان کے جواب کے منتظر رہیں گے۔ ویسے ہمیں صرف ایک فیصد امید ہے کہ وہ اپنے ان تجربات اور مشاہدات کو بیان کریں گے جو اس تبدیلی کے محرک ہوئے کیونکہ "اشراق” کے مذکورہ مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے ان کی یادداشت کی "ایک اور” کمزوری واضح ہو جائے گی۔ یہاں یہ عرض کرنا نا مناسب نہ ہوگا کہ یہ نقطۂ نظر میں محض تبدیلی نہیں بلکہ یوٹرن (U-turn) ہے جس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے :

جو لکھا پڑھا تھا نیاز نےسو وہ صاف دل سے بھلا دیا

جناب جاوید احمد غامدی "جوابی بیانیے” میں لکھتے ہیں کہ خلافت کوئی دینی اصطلاح نہیں ہے۔

خلافت دینی اصطلاح ہے یا نہیں، اس سلسلے میں ہم جاوید احمد غامدی صاحب کے جلیل القدر استاذ امام امین احسن اصلاحی اور اُن ( غامدی صاحب ) کے استاذ الاستاذ امام حمید الدین فراہی کی تحریریں پیش کرتے ہیں۔ ان علماء کا انتخاب ہم نے اس لیے کیا کہ خود غامدی صاحب لکھتے ہیں :

"حالؔی غالؔب کے شاگرد تھے۔ ان کے مرثیے کا اختتام انہوں نے جن شعروں پر کیا ہے، انہیں لوگوں  نے اُس زمانے میں حالی کے حسنِ عقیدت پر محمول کیا ہوگا۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ غالب وہی تھا جسے حالی کی آنکھوں نے دیکھا۔ میں نے بھی بہت سے عالم دیکھے، بہتوں کو پڑھا اور بہتوں کو سنا ہے، لیکن امین احسن اور ان کے استاد حمید الدین فراہی کا معاملہ وہی ہے کہ :

غالبِ نکتہ داں سے کیا نسبت

خاک کو آسماں سے کیا نسبت

( مقامات، طبع دوم، ص : 130 -131 )

مولانا امین احسن اصلاحی سورہ آل عمران کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر و اولئک ھم المفلحون ۔ و لا تکونوا کالذین تفرقوا و اختلفوا من بعد ما جاءھم البینٰت و اولئک لھم عذاب الیم ( آل عمران: ١٠٤- ١٠٥ )

ترجمہ : "اور چاہیے کہ تم میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو نیکی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو پراگندہ ہو گئے اور جنہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ہدایات آ چکی تھیں اور وہی ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔”

"خلافت” کے قیام کا بنیادی مقصد

یہ امت کو اس اہتمام و انتظام کی ہدایت فرمائی گئی ہے جو اعتصام بحبل اللہ پر قائم رہنے اور لوگوں کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ ہدایت ہوئی کہ مسلمان اپنے اندر سے ایک گروہ کو اس کام پر مقرر کریں کہ وہ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے۔ معروف و منکر سے مراد شریعت اور سوسائٹی دونوں کے معروفات و منکرات ہیں اور ان کے لیے امرونہی کے جو الفاظ استعمال ہوئے ان کا غالب قرینہ یہی ہے کہ یہ کام مجرد وعظ و تلقین ہی سے نہیں انجام دینا ہے، بلکہ اختیار اور قوت سے اس کو نافذ کرنا ہے جو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ یہ گروہ امت کی طرف سے سیاسی اقتدار و اختیار کا حامل ہو۔ اگر تنہا دعوت و تبلیغ ہی سے یہ کام لینا مدنظر ہوتا تو اس مطلب کو ادا کرنے کے لیے یدعون الی الخیر کے الفاظ کافی تھے یا مرون بالمعروف ( الآیہ ) کی ضرورت نہیں تھی۔ ہمارے نزدیک اس آیت سے اس امت کے اندر خلافت کے قیام کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی حکم کی تعمیل میں مسلمانوں نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد پہلا کام جو کیا وہ خلافت علیٰ منہاج النبوت کا قیام تھا۔” ( تدبر قرآن، جلد دوم، ص : 154 – 155، فاران فاؤنڈیشن لاہور )

مولانا امین احسن اصلاحی اپنی ایک اور تالیف میں لکھتے ہیں :

"ریاست کا اسلامی تصور اس اصطلاح کے اندر چھپا ہوا ہے جو اسلام نے ریاست کی تعبیر کے لیے اختیار کی ہے۔ اسلامی لٹریچر پر نگاہ رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اسلام نے اپنے اصولوں پر قائم شدہ سیاسی تنظیم کے لیے ریاست، سلطنت یا حکومت کی اصطلاحیں نہیں اختیار کی ہیں بلکہ خلافت یا امارت یا امامت کی اصطلاحیں اختیار کی ہیں۔” ( اسلامی ریاست، ص : 8، شائع کردہ مرکزی انجمن خدام القرآن، لاہور )

غامدی صاحب اگر اس کتاب کے شروع کے صرف پندرہ صفحات ہی پڑھ لیں تو وہ ان کے لیے چشم کشا ثابت ہوں گے اور خلافت کے دینی اصطلاح ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ان کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔

مولانا حمید الدین فراہی نے سورۂ والعصر کی تفسیر میں ایک عنوان قائم کیا ہے :

"لفظ وتواصوا سے خلافت کا وجوب”

اس سورة کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا نے سورۂ آل عمران کی حسب ذیل آیت کا حوالہ دیا ہے :

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر و تومنون باللہ ( آل عمران: ١١٠ )

ترجمہ : "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے اٹھائے گئے ہو۔ تم نیکی کا حکم دو گے، برائی سے روکو گے، اللہ پر ایمان لاؤ گے۔”

[ مولانا لکھتے ہیں ] : اس آیت سے معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس امت کے اہم فرائض میں سے ہے، چنانچہ اس کے متعلق دوسری آیات بھی وارد ہیں۔ لیکن یہ امر واضح ہے کہ اس کی اصلی ذمہ داری، جیسا کہ ولتکن منکم امۃ سے متبادر ہوتا ہے، امت کے لیڈروں پر ہے۔ البتہ تواصی ایک فرضِ عام ہے جس میں تمام مسلمان برابر کے شریک ہیں۔

اس سے معاملے کی اصل حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ عملِ صالح کریں، پھر ادائے حقوق کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کریں، اور چونکہ ادائے حقوق بغیر خلافت و سیاست کے ناممکن ہے، اس لیے ضروری ہے کہ خلافت قائم کریں۔” ( مجموعہ تفاسیر فراہی، ص : 343 – 344، فاران فاؤنڈیشن، لاہور )

اب ہم "جوابی بیانیے” کے نکتہ نمبر 4 پر اپنے معروضات پیش کرتے ہیں۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں :

"دنیا میں جو لوگ مسلمان ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں، مگر کوئی ایسا عقیدہ یا عمل اختیار کر لیتے ہیں جسے کوئی عالم یا علما یا دوسرے تمام مسلمان صحیح نہیں سمجھتے، ان کے اس عقیدے یا عمل کو غلط قرار دیا جا سکتا ہے، اسے ضلالت اور گمراہی بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن اس کے حاملین چونکہ قرآن و حدیث ہی سے استدلال کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں غیر مسلم یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح کے عقائد و اعمال کے بارے میں خدا کا فیصلہ کیا ہے، اس کے لیے قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔ دنیا میں ان کے حاملین اپنے اقرار کے مطابق مسلمان ہیں، مسلمان سمجھے جائیں گے، اور ان کے ساتھ تمام معاملات اسی طرح ہوں گے جس طرح مسلمانوں کی جماعت کے ایک فرد کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔” ( ماہنامہ اشراق، فروری 2015ء، ص : 22 )

غامدی صاحب کے اس کلیے کے مطابق جناب غلام احمد پرویز اور ان کے متبعین اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین (جنہیں احمدی یا قادیانی کہا جاتا ہے ) کو غیرمسلم یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ دونوں گروہ اپنے مسلمان ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور قرآن اور حدیث ہی سے استدلال کرتے ہیں۔ اگرچہ جناب غلام احمد پرویز کو منکرِ حدیث اور منکرِ سنت کہا جاتا ہے لیکن وہ بھی اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں بعض احادیث پیش کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایسا کرتے ہوئے وہ ان احادیث کو سیاق و سباق سے الگ کر دیتے ہیں۔ مثلاً درج ذیل حدیث :

عن ابی سعید الخدری، ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: لا تکتبو عنی، و من کتب عنی غیر القرآن فلیمحه، و حدثوا عنی، و لا حرج۔ ( صحیح مسلم )

"ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے کچھ نہ لکھو، اور جس نے مجھ سے قرآن کے سوا کچھ اور لکھا تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے مٹا دے۔ اور مجھ سے روایت کرو، کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔” ( صحیح مسلم )

کا حوالہ دیتے وقت وہ صرف شروع کا حصہ یعنی "ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے کچھ نہ لکھو اور جس نے مجھ سے قرآن کے سوا کچھ اور لکھا تو اس کو چاہیے کہ اسے مٹا دے” بیان کرتے ہیں اور بقیہ حصہ "اور مجھ سے روایت کرو کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں” چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ اور اس طرح کی دوسری احادیث کا محل کیا ہے، اس سلسلے میں قارئین علما کی وہ کتابیں ملاحظہ فرمائیں جن میں حجیتِ حدیث سے بحث کی گئی ہے۔ بہر حال مندرجہ بالا حدیث کی جامع اور مختصر توضیح امام نووی نے اپنی شرح مسلم میں کی ہے۔

پرویز صاحب کے عقائد اور افکار کے بارے میں غامدی صاحب کے کلیے یا "جوابی بیانیے” کے نکتہ نمبر 4 کا اطلاق ان کے رفقا کس طرح کرتے ہیں اس سلسلے میں ماہنامہ اشراق، اکتوبر 2008ء کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ غامدی صاحب کے ادارے "المورد” کے رکن محمد رفیع مفتی کے بقول ادارے کے اسکالرز خطوط اور ای میلز کے ذریعے موصول شدہ دینی موضوعات پر جن سوالوں کے جواب دیتے ہیں ان میں منتخب سوالات و جوابات کو افادۂ عام کے لیے یسئلون کے عنوان کے تحت "اشراق” میں شائع کیا جاتا ہے۔ اب "قرآن فہمی کے متعلق اختلافِ رائے” کے زیرعنوان مندرجہ ذیل سوال اور اس کا جواب ملاحظہ فرمایئے :

سوال : جاوید احمد صاحب غامدی علامہ پرویز صاحب کی قرآن فہمی سے کس حد تک متفق ہیں ؟ علمائے کرام نے پرویز صاحب پر کفر کے بہت فتوے لگائے، غامدی صاحب کی پرویز صاحب کے بارے میں کیا رائے ہے، کیا وہ صحیح تھے یا غلط ؟ ( صفدر اقبال )

جواب : معاملہ یہ ہے کہ غامدی صاحب اور پرویز صاحب کی قرآن فہمی میں کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ان دونوں حضرات کے قرآن فہمی کے اصولوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ غامدی صاحب نے اپنے قرآن فہمی کے اصولوں کو اپنی کتاب "اصول و مبادی” میں "مبادی تدبر قرآن” کے عنوان کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے، انہیں آپ وہاں دیکھ سکتے ہیں، اور پرویز صاحب نے اپنی تفسیر "مفہوم القرآن” کی ابتدا میں اپنے اصولوں کو بیان کیا ہے۔ ان دونوں حضرات کے اصولوں میں پائے جانے والے ایک بنیادی فرق کو میں یہاں بیان کر دیتا ہوں۔

غامدی صاحب کے نزدیک قرآن فہمی کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کے الفاظ کے وہی معنی لیے جائیں جو نزولِ قرآن کے زمانے میں عربوں میں مستعمل تھے۔ جبکہ پرویز صاحب کے نزدیک کسی لفظ کے معنی اس کے مادے (root) سے طے کیے جائیں گے۔

تفصیل کے لیے آپ ان دونوں حضرات کی قرآن فہمی سے متعلق کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

ہمارے نزدیک کسی پر کفر کا فتویٰ لگانا درست نہیں۔ ہم دوسرے کی آرا سے اختلاف کر سکتے ہیں، ان کے خیالات کو غلط قرار دے سکتے ہیں، لیکن کسی کو کافر کہنے کا حق ہمیں حاصل نہیں۔ ہمارے نزدیک دین کے معاملے میں پرویز صاحب کی کئی آرا یکسر غلط تھیں۔ (اشراق، اکتو بر 2008ء، ص 67 )

جواب کی آخری تین سطور خصوصی توجہ کی مستحق ہیں جن میں کہا گیا ہے "ہمارے نزدیک کسی پر کفر کا فتویٰ لگانا درست نہیں۔ ہم دوسرے کی آرا سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس کے خیالات کو غلط قرار دے سکتے ہیں، لیکن کسی کو کافر کہنے کا حق ہمیں حاصل نہیں۔”

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسئلہ تکفیر اور پرویز صاحب کی تکفیر کے فتوے کے بارے میں امام امین احسن اصلاحی کے نقطۂ نظر سے بھی آگاہی حاصل کی جائے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 1960ء کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے تقریباً ایک ہزار علما نے جناب غلام احمد پرویز کو اُن کے عقائد کی بنا پر کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا تھا۔ ان علما کا تعلق دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور شیعہ مکاتب فکر سے تھا۔ فتوے کی اشاعت کے بعد مولانا امین احسن اصلاحی کو پرویز صاحب کے ایک سرگرم حامی کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں بقول مولانا پہلے تو اُن علما پر بڑی لے دے کی گئی تھی جنہوں نے پرویز صاحب پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا، پھر مولانا سے پُر زور مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ پوری ایمان داری کے ساتھ اس فتوے پر اپنی رائے ظاہر کریں۔ اس خط کے علاوہ مولانا کو "کافر گری” کے عنوان سے خود پرویز صاحب کی طرف سے بھی ایک پمفلٹ موصول ہوا۔ اس تناظر میں مولانا اصلاحی ماہنامہ "میثاق” لاہور ( مئی 1962ء ) کے اداریے میں لکھتے ہیں:

"[ پرویز صاحب اور ان کے حامی ] یہ مؤقف اختیار نہ کریں کہ علما کو کسی پر کفر کا فتویٰ لگانے کا حق نہیں ہے۔ اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی نظام میں کسی کے کفر و ارتداد پر اس کو سزا دینا حکومت کا کام ہے، لیکن یہ بتانا کہ کیا چیز کفر ہے اور کیا چیز اسلام ہے، ہر حال میں علما ہی کی ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری ان پر اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے ڈالی گئی ہے۔ اگر وہ اس کو ادا نہ کریں گے تو اس کے لیے وہ عند اللہ ذمہ دار ٹھیریں گے۔ یہ ذمہ داری یوں تو ان پر ہمیشہ رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی، لیکن خاص طور پر اس زمانے میں تو اس کے تنہا حامل وہی ہیں، اس لیے کہ اس دور میں مسلمان حکومتوں کو لوگوں کے کفر و ایمان کے معاملے سے کوئی تعلق باقی ہی نہیں رہ گیا ہے۔ وہ یا تو سیکولر ازم کے پردے میں غیر جانبدار بن کر بیٹھ گئی ہیں یا پھر مغربیت کے زیر اثر آزادی و بے قیدی کی سر پرستی کر رہی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر علما بھی لوگوں کی ہدایت و ضلالت کے معاملے سے بالکل بے تعلق ہو کر بیٹھ جائیں تو اس کا نتیجہ اس کے سوا اورکیا نکلے گا کہ نبی اُمی ﷺ کی امت شیطان اور اس کی ذریات کی صرف ایک چرا گاہ بن کر رہ جائے۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ اس فتوے کے جواب میں تاویل بازی اور مغالطہ انگیزی کی جو روش اختیار کی گئی ہے یہ بالکل غلط ہے۔ علما نے جو فتویٰ دیا ہے وہ پرویز صاحب کی کسی مبہم عبارت یا کسی مغلق تحریر یا مجمل قول پر مبنی نہیں ہے کہ اس کی توضیح و تشریح کی ضرورت پیش آئے۔ یہ فتویٰ پرویز صاحب کے ایسے عقائد و نظریات پر مبنی ہے جن کو وہ ایک مدت دراز سے بیان کر رہے ہیں۔

پرویز صاحب نے مختلف گروہوں کے علما کے ایک دوسرے کے خلاف فتووں کا جو ریکارڈ شائع کیا ہے، یہ بھی ان کے حق میں کچھ سود مند نہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ مختلف مسلکوں کے غالی مولویوں نے گروہی تعصبات و نزاعات کے جوش میں ایک دوسرے کے خلاف فتوے دے ڈالے ہیں، لیکن اس سے اُس فتوے کی اہمیت ذرا کم نہیں ہوتی جو انہوں نے پرویز صاحب کے خلاف دیا ہے۔ کچھ بریلویوں کا دیوبندیوں کے خلاف یا کچھ دیوبندیوں کا بریلویوں کے خلاف کوئی فتوے دے دینا الگ چیز ہے اور کم و بیش ایک ہزار علما کا جن میں مسلمانوں کے ہر مسلکِ فقہی و کلامی کے علما شامل ہیں، پرویز صاحب کے کفر پر اجماع کر لینا ایک مختلف چیز ہے۔ اس قسم کا اجماع قادیانیوں کے سوا کسی کے کفر پر بھی اس ملک میں نہیں ہوا ہے۔

آخر میں ہم یہ بات بھی واضح کیے دیتے ہیں کہ پاک و ہند کے جن علما کے اس فتوے پر دستخط ثبت نہیں ہیں، ان کو اس فتوے سے الگ خیال کرنا محض ایک مغالطہ ہے۔ اگر کچھ لوگوں نے اس پر دستخط نہیں کیے ہیں تو اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ فتووں پر دستخط کرنا ان کے رجحانِ طبیعت اور ذوق کے خلاف ہے، یا یہ ہے کہ اس دور میں اس چیز کو وہ کچھ زیادہ مفید نہیں پا رہے ہیں۔ میرے جیسے لوگوں کے لیے یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ فتوے لکھنا یا اس پر دستخط کرنا میں نے اپنے منصب سے ہمیشہ ایک اونچی چیز سمجھا ہے، لیکن یہ بات کہنے میں مجھے ذرا حجاب نہیں کہ پرویز صاحب کے خیالات و عقائد کو میں نے ہمیشہ کفر و ضلالت سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے کہ وہ زندگی کا صحیح رخ اختیار کریں اور دین سے نا واقفوں کے لیے فتنہ نہ بنیں۔”  ( ص 5’6’9 )

اب ہم "جوابی بیانیے” کے نکتہ نمبر 4 کی طرف دوبارہ رجوع کرتے ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا غامدی صاحب "بیانیے” میں یہ کہتے ہیں کہ "دنیا میں جو لوگ مسلمان ہیں، اپنے مسلمان ہونے کا اقرار بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں، مگر کوئی ایسا عقیدہ یا عمل اختیار کر لیتے ہیں جسے کوئی عالم یا علما یا دوسرے تمام مسلمان صحیح نہیں سمجھتے، ان کے اس عقیدے یا عمل کو غلط قرار دیا جا سکتا ہے، اسے ضلالت اور گمراہی بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن چونکہ اس کے حاملین قرآن و حدیث ہی سے استدلال کر رہے ہوتے ہیں اس لیے انہیں غیر مسلم یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔” ہمارا معروضہ یہ ہے کہ اس استدلال کی رو سے احمدیوں یا قادیانیوں کو بھی غیر مسلم یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ بھی اپنے مسلمان ہونے کا اقرار، بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں اور قرآن و حدیث سے ہی اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔ بانی تحریکِ احمدیت مرزا غلام احمد قادیانی قرآن مجید کی آیہ خاتم النبیین کی ایسی تعبیر کرتے ہیں جس سے اجرائے نبوت ثابت ہوتی ہے، جب کہ عام مسلمان اجرائے نبوت کو کفر سمجھتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے پیش نظر پاکستان کی قومی اسمبلی نے 7 ستمبر 1974ء کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے مرزا صاحب کے متبعین کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ اب غامدی صاحب کے "جوابی بیانیے” نے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔ لبرل اور سیکولر حلقے اور بائیں بازو کے بعض رہنما اور دانشور مثلاً نیشنل عوامی پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل قسور گردیزی، پارٹی کے ایک رہنما شیر محمد مری المعروف جنرل شیروف، پاکستان ورکرز پارٹی کے رہنما عابد حسن منٹو، پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے ڈائریکٹر ورکشاپ جناب حسین نقی، معروف ادیبہ اور کالم نگار محترمہ زاہدہ حنا پہلے ہی 7 ستمبر 1974ء کی آئینی ترمیم یا 1984ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس پر نکتہ چینی کر چکے ہیں، اب غامدی صاحب کے "بیانیے” کی بنیاد پر اس آئینی ترمیم کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

7 ستمبر 1974ء کی آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کی راہ جناب جاوید غامدی غیر شعوری طور پر پہلے ہی ہموار کر چکے ہیں۔ ہم نے "غیر شعوری” اس لیے کہا کہ ہمیں ان کی نیت پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ان کی ویب سائٹ http://www.javedahmadghamidi.com پر ان کے ایک لیکچر کی وڈیو بعنوان Ghamidi on Ahmadiyya Prophethood claim موجود ہے جس میں انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت اور تحریکِ احمدیت پر گفتگو کی ہے۔ ہم نے جب اس لیکچر کو transcribe کرنے کا ارادہ کیا تو ایک دشواری پیش آئی کہ لیکچر کے دوران جب کوئی سامع سوال کرتا تھا تو غامدی صاحب اسی وقت اس کا جواب دیتے تھے۔ اتفاق سے سوالات انتہائی low volume میں ریکارڈ ہوئے ہیں اور تقریباً نا قابلِ فہم ہیں۔ اس طرح لیکچر کا ربط متاثر ہوتا ہے۔ ہم نے غامدی صاحب کے چند لیکچرز میں شرکت کی ہے، ان کے آڈیو کیسٹس بھی سنے ہیں، ایک کیسٹ کو transcribe بھی کیا ہے۔ وڈیو کیسٹس بھی دیکھے ہیں۔ ان لیکچرز میں جو روانی ہے ہمیں اس وڈیو میں مفقود نظر آئی۔ اس میں جملوں کی ساخت اور الفاظ کی تقدیم اور تاخیر میں الجھاؤ ہے۔ ان وجوہات کے پیش نظر مناسب معلوم ہوا کہ اس لیکچر کا خلاصہ پیش کر دیا جائے۔ یہ خلاصہ درج ذیل ہے :

جاوید غامدی صاحب نے کہا : "مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بنیادی طور پر صوفی تھے۔ تصوف سے ان کا اشتغال تھا۔ آپ ان کی ابتدائی زندگی پڑھیں تو اوراد، وظائف اور چِلّے نظر آئیں گے۔ انہی چیزوں کو وہ بیان کرتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں۔ آہستہ آہستہ انہوں نے پھر یہ کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ پھر انہوں نے کہا میرا مطلب اصطلاحی نبوت نہیں ہے۔ میں تشریعی نبی نہیں ہوں۔ میں بروزی نبی ہوں، میں ظلی نبی ہوں۔ بروزی کا مطلب یہ ہے کہ بس جیسے مجھ پر نبوت کا ایک سایہ پڑ رہا ہے، یا نبوت کا ایک پرتو میرے اندر آ گیا ہے۔ اس طرح کی بہت سی باتیں انہوں نے فرمائیں اور پھر آہستہ آہستہ انہوں نے دبے دبے الفاظ میں ایسی باتیں بھی کہیں جن سے یہ معلوم ہوا کہ وہ اس زمانے کے نبی بنا دیے گئے ہیں۔ لیکن میں آپ سے عرض کروں کہ خود مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی جو تحریریں ہیں، جتنی بھی ہیں، ان میں بالصراحت نبوت کے دعوے کی کوئی تحریر نہیں ہے۔ آپ ان کی تصانیف جو روحانی خزائن کے نام سے مختلف جلدوں میں چھپی ہیں، پڑھیں تو معلوم ہوگا ایسی ہی باتیں ہیں۔ یعنی انہوں نے اس بات کے بہت دلائل دیے ہیں کہ نبوت کا مطلب یہ ہے اور الہام جاری رہنا چاہیے، وحی جاری رہنی چاہیے۔ یہ خدا کی نعمت ہے، اس سے محروم کیسے ہو گئے، بنی اسرائیل میں سب لوگوں کو ہوتا تھا۔ محمد رسول اللہ کی امت کیوں محروم کر دی گئی۔ اس طرح کے عقلی دلائل انہوں نے دیے۔ پھر الہام، وحی یعنی خدا سے رابطہ، اس کو انہوں نے اسی طرح کی تعبیروں میں بیان کیا جو تمام صوفیانہ تعبیرات ہیں، اور زندگی بھر کرتے رہے۔ اور پھر کسی موقع پر نبی کا لفظ استعمال کیا، تو انہوں نے کہا میرا مطلب یہ ہے، یا میری مراد یہ ہے۔ ختم نبوت کے بارے میں بھی انہوں نے کہا کہ میں اس کا قائل ہوں، لیکن میرا مطلب یہ ہے، حضور ﷺ کی ختم نبوت سے مراد یہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد دو گروہ ہو گئے اور ان کے جو قدیم ترین صحابہ تھے، ان کی اصطلاح کے مطابق، انہوں نے تو یہ کہا کہ ایسا نہیں تھا۔ وہ مجدد تھے۔ یہ جو لاہوری جماعت ہے وہ اسی تعبیر پر وجود میں آئی۔ مرزا بشیر الدین صاحب محمود، جو ان کے فرزند تھے انہوں نے اصل میں اس کو زیادہ صریح کیا اور کہا کہ نہیں وہ با قاعدہ … ورنہ معاملہ ٹھیک ہو جاتا، اتنا ہی رہتا جتنا صوفیوں کا ہے۔ انہوں نے اس کو پھر اس منتہائے کمال تک پہنچا دیا۔ جہاں پہ توضیح کی ضرورت نہ رہی۔ پھر وہ [ مرزا صاحب ] تو اپنی ہی نبوت کی بات کرتے تھے۔ بعد میں جب بحثا بحثی ہوئی، مناظرے ہوئے تو پھر یہ ہوا کہ نہیں نبوت کا دروازہ چوپٹ کھلا ہوا ہے۔ کل اور بھی آ جائیں گے۔ یعنی معاملہ پھر ذرا مزید آگے بڑھ گیا۔ ان کے جو ابتدائی لوگ ہیں، یہ جو لاہوری جماعت کے جتنے لوگ ہیں وہ ان کے بڑے اکابر ہیں، معمولی لوگ نہیں ہیں۔ جہاں تک ان کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین صاحب کا تعلق ہے تو ان کے معاملے میں تو کوئی زیادہ اختلاف نہیں پیدا ہوا۔ لیکن ان کے بعد جب خلافت کا معاملہ ہوا تو یہ ساری بحث سامنے آئی۔ حکیم نور الدین صاحب کے زمانے میں بھی صورت حال یہ نہیں تھی، اس طرح کی یعنی صورت حال ایسی تھی جیسی میں نے آپ کو سنائی ہے اور زیادہ سے زیادہ بات جو وہ کہتے تھے وہ اسی طرح کی بات تھی جیسے ابن عربی نے کہہ دی۔”

نوٹ : احتیاط کے پیش نظر اس تلخیص میں غامدی صاحب کے اکثر اصل جملے شامل کیے گئے ہیں۔

جاوید غامدی صاحب کے لیکچر کی اس تلخیص سے مندرجہ ذیل تین نکات اخذ ہوتے ہیں :

  • مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی تحریروں میں بالصراحت نبوت کے دعوے کی کوئی تحریر نہیں ہے۔
  • مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین، مرزا صاحب کو اصطلاحی نبی نہیں سمجھتے تھے۔
  • احمدیوں کا لاہوری فریق ( مولوی محمد علی لاہوری گروپ ) شروع سے مرزا صاحب کو مجدد سمجھتا رہا ہے۔

بہر حال غامدی صاحب نے یہ بھی کہا کہ مرزا صاحب کے دعاوی اور تعبیرات میں اور صوفیہ کے دعاوی اور تعبیرات میں مماثلت ہے۔ تصوف ہمارا موضوع نہیں ہے۔ اہلِ تصوف مناسب سمجھیں گے تو اس کا جواب دیں گے۔ اس لیے ہماری گفتگو مندرجہ بالا تین نکات تک محدود رہے گی۔

1-مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت

غامدی صاحب کا ارشاد ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی تحریروں میں بالصراحت نبوت کے دعوے کی کوئی تحریر نہیں ہے۔ صریح تحریریں پیش کرنے سے قبل ہم قارئین سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ پروفیسر الیاس برنی مؤلف "قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ” کے بقول مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نور الدین اور دوسرے قادیانی اساطین کی کتابوں میں اس درجہ تکرار، تضاد، ابہام اور التباس ہے کہ اکثر مباحث بھول بھلیاں نظر آتے  ہیں۔ اس تضاد اور التباس کے پیش نظر ممتاز ادیب اور صحافی شورش کاشمیری نے مرزا صاحب اور دوسرے قادیانی رہنماؤں کی تحریروں اور تعبیروں کو دوشیزہ کی کہہ مکرنیاں قرار دیا ہے۔ ہماری رائے میں ان تحریروں اور تعبیروں پر یہ مصرع پوری طرح صادق آتا ہے :

جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

اگر جنابِ شیخ کا کُھرا اٹھایا جائے تو اِن شاء اللہ قارئین صریح تحریروں تک پہنچ جائیں گے۔ در اصل مرزا صاحب نبوت کی طرف ایک قدم بڑھاتے تھے اور جب مسلمانوں کی طرف سے مخالفت ہوتی تھی تو اسے پیچھے ہٹا لیتے تھے جیسا کہ مولوی عبد الحکیم سے ایک معاہدے مورخہ 3 فروری 1892ء میں جو "تبلیغ رسالت” حصہ دوم ص 95 میں چھپا ہے، مرزا صاحب تمام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے رسائل "فتح اسلام”، "توضیح المرام” اور "ازالۂ اوہام” میں لکھا ہے کہ محدث ایک مفہوم میں نبی ہوتا ہے۔ اگر مسلمان بھائی ان لفظوں سے ناراض ہیں تو وہ بجائے لفظ "نبی” کے "محدث” کا لفظ ہر جگہ سمجھ لیں اور اس کو ( یعنی لفظ نبی کو ) کاٹا ہوا خیال فرما لیں۔ واضح رہے کہ یہ 1892ء کی تحریر ہے۔ جوں جوں مرزا صاحب کے معتقدین میں اضافہ ہوتا گیا، حصولِ نبوت کے جذبے میں جان پڑتی گئی۔ یہاں تک کہ 1901ء میں ایک ٹریکٹ "ایک غلطی کا ازالہ” میں نبوت کا اعلان کر دیا۔ "ایک غلطی کا ازالہ” سے اقتباس ہم بعد میں پیش کریں گے، یہاں عرض یہ کرنا ہے کہ مرزا صاحب مامور من اللہ، مجدد، محدث، مسیح موعود اور مہدی کے مراتب سے "ترقی” کرتے ہوئے بتدریج نبوت کے منصب تک پہنچے۔ اس لیے ان کے ابتدائی دور کے دعوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے آخری دور کے دعووں پر توجہ مرکوز کرنی چاہے۔

اب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی ان چند تحریروں کو پیش کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو لغوی معنی میں نبی ( یعنی پیشین گوئیاں کرنے والا ) قرار نہیں دیتے بلکہ اللہ کا بنایا ہوا نبی قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے انہیں نبی کے نام سے پکارا اور ان کا نام نبی رکھا۔

1-مرزا صاحب کا آخری عقیدہ جس پر ان کا خاتمہ ہوا، یہی تھا کہ وہ نبی ہیں، چنانچہ انہوں نے اپنے آخری خط میں جو ٹھیک ان کے انتقال کے دن اخبارِ عام میں شائع ہوا، واضح الفاظ میں لکھا کہ : "میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا، اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں ؟ میں اس پر قائم ہوں اُس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔” ( اخبار عام، 26 مئی 1908ء، منقول از حقیقۃ النبوة از مرزا محمود، ص 271، و مباحثہ راولپنڈی ص 136 )

یہ خط 23 مئی 1908ء کو لکھا گیا اور 26 مئی کو اخبارِ عام میں شائع ہوا اور ٹھیک اسی دن مرزا صاحب کا انتقال ہوگیا۔

واضح رہے کہ مباحثہ راولپنڈی جماعت احمدیہ راولپنڈی اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام راولپنڈی ( لاہوری گروپ ) میں تحریری طور پر ہوا تھا۔ بنیادی موضوعات دو تھے، اولاً "کیا مرزا صاحب نبی تھے”، ثانیاً "کیا مرزا صاحب نے اپنے نہ ماننے والوں کی تکفیر کی”۔ فریقین کے پرچے "مباحثۂ راولپنڈی” کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کیے گئے۔ اس کتاب کے مستند ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتوں کے مشترکہ اخراجات سے شائع ہوئی۔

2-مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لکھتے ہیں : "چند روز ہوئے ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے، حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی اس میں سے ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا بار، پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے! ” ( ایک غلطی کا ازالہ، ص 3، روحانی خزائن جلد 18، ص 206 )

3-مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں : "تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ، بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے، گو ستر برس تک رہے، قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔” ( دافع البلا، ص 14، روحانی خزائن، ص 154 )

4-مرزا قادیانی صاحب ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں : "غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امورِ غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں، کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں نہیں پائی جاتی۔” ( حقیقتہ الوحی، ص 391 )

مرزا صاحب کا تشریعی نبوت کا دعویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی کے صریح دعویٰ نبوت کے چار حوالے پیش کیے جا چکے ہیں۔ ان کی اس قسم کی بیسیوں تحریریں موجود ہیں جن کو نقل کرنے کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے ترقی پذیر (developing) دعووں کے ایک مرحلے میں تشریعی نبی یا صاحبِ شریعت ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔ وہ لکھتے ہیں :

"ما سوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے ؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمومنین یغضو من ابصارهم ویحفظوا فروجهم ذلک ازکی لهم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں نہی بھی۔ اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان هذا لفی الصحف الاولی صحف ابراهیم و موسی۔ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔” ( اربعین 4، طبع چہارم، مطبوعہ چناب نگر ( ربوہ ) روحانی خزائن ج : 17، ص :435 – 436 )

مذکورہ بالا عبارت میں مرزا صاحب نے واضح الفاظ میں اپنی وحی کو تشریعی وحی قرار دیا ہے۔ عربی اور اردو کے صاحبِ طرز ادیب اور نامور عالمِ دین مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اس سلسلے میں لکھتے ہیں :

"بعض اہم قطعی و متواتر احکام شریعت کو پوری صراحت و قوت کے ساتھ منسوخ و کالعدم کر دینا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ [ مرزا صاحب ] اپنے کو ایسا صاحبِ شریعت اور صاحبِ امر و نہی نبی سمجھتے تھے جو قرآنی شریعت کو منسوخ کر سکتا ہے، چنانچہ جہاد جیسے منصوص قرآنی حکم کو جس پر امت کا تعامل اور تواتر ہے اور جس کے متعلق صریح حدیث ہے "الجهاد ماضٍ الیٰ یوم القیامة” کی ممانعت کرنا اور اس کو منسوخ قرار دینا اس کا روشن ثبوت ہے۔ جہاد کی منسوخی و ممانعت کے سلسلے میں یہاں ان کی صرف ایک کتاب کا اقتباس کافی ہوگا۔ وہ "تریاق القلوب” ( صفحہ نمبر 15 ) میں لکھتے ہیں :

"میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنتِ انگریزی کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعتِ جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اورجہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔”

تنسیخِ جہاد کے اعلان کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ "خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا ہے جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔” ( دافع البلاء، ص 13، روحانی خزائن ج 18، ص 233 )

ہمارا معروضہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام تشریعی نبی تھے اور جو شخص آپ سے "تمام شان میں” یعنی ہر اعتبار سے بڑھ کر ہو تو وہ تشریعی نبی کیوں نہیں ہو گا ؟

عقل عام اور مذاہبِ عالم کی تاریخ کے مطابق جب بھی کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو حق و باطل کی بحث سے قطع نظر، اس کے دعوے کو درست تسلیم کرنے والے اور انکار کرنے والے دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، اور دعویٰ نبوت کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ اس جدید نبوت پر ایمان نہیں لاتے ان کی تکفیر کی جائے۔ چنانچہ مرزا صاحب اپنے دعوے کے منکر کی تکفیر کرتے ہیں۔ بہر حال مرزا صاحب کی بعض ایسی تحریریں بھی پیش کی جاتی ہیں جن میں انہوں نے فرمایا "میرے دعوے کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا” یہ اسی قسم کا تضاد اور التباس ہے جو ان کی تحریروں کا خاصہ ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب حقیقت الوحی ( ص 148 تا 150 ) میں خود تسلیم کیا ہے کہ "براہین احمدیہ” میں انہوں نے لکھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا، اور اس کے بارہ سال کے بعد "ازالۂ اوہام” میں لکھا "آنے والا مسیح میں ہوں۔”

مرزا صاحب اپنے دعوے کے منکر کو کافر قرار دیتے ہیں :

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی خود کو صرف لغوی یا مجازی معنوں میں نبی نہیں کہتے بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا منکر مسلمان نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سردست مرزا صاحب کی صرف دو تحریریں پیش کی جاتی ہیں :

1۔ مرزا صاحب اپنے مکتوب مورخہ مارچ 1906ء بنام ڈاکٹر عبد الحکیم میں لکھتے ہیں :

"خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، مسلمان نہیں ہے۔” ( تذکرہ ایڈیشن چہارم ص 519 )

 2۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں :

"کفر دو قسم پر ہے۔ ( اول ) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا و رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے، اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں، کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوصِ صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔” ( حقیقۃ الوحی، ص 179 – 180 )

مرزا کی نبوت اور حکیم نور الدین

مرزا غلام احمد قادیانی کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین صاحب انتہائی ذہین شخص تھے۔ انہوں نے اپنے دورِ خلافت ( 1908ء تا 1914ء ) میں مسلمانوں سے تعاون بڑھانے کے لیے اعتدال پسندانہ روش اختیار کی۔ انہوں نے مصلحتاً مرزا صاحب کی نبوت اور ان کے دعووں پر ایمان نہ لانے والوں کی تکفیر پر زور نہیں دیا۔ اس طرح انہوں نے احمدیوں اور عام مسلمانوں کے درمیان نفرتوں کی وہ خلیج پاٹنے کی کوشش کی جو مرزا صاحب کے الہامات، پیش گوئیوں اور اشتعال انگیز تحریروں نے پیدا کر دی تھی۔ بہر حال ان کے اصل عقائد کے سلسلے میں ان کی دو تحریریں پیش کی جاتی ہیں :

(1) حکیم نور الدین صاحب لکھتے ہیں :

"ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہو سکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں، عام ہے، خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے، ہندوستان میں ہو یا کسی اور ملک میں، کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں، بتاؤ کہ یہ اختلافِ فروعی کیونکر ہوا۔” ( مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج : 1، ص 275، بحوالہ اخبار الحکم ج : 15، نمبر 8 مورخہ 7 مارچ 1911ء )

(2) نیز حکیم صاحب ایک اور موقع پر لکھتے ہیں :

"محمد رسول اللہ ﷺ کے منکر یہود و نصاریٰ اللہ کو مانتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں کو مانتے ہیں۔ کیا اس انکار پر کافر ہیں یا نہیں ؟ کافر ہیں۔ اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح رسول کا منکر کیوں کافر نہیں ؟ اگر اسرائیلی مسیح موسیٰ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع ایسا ہے کہ اس کا منکر کافر ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع کیوں ایسا نہیں کہ اس کا منکر بھی کافر ہو۔ اگر وہ مسیحا ایسا تھا کہ اس کا منکر کافر ہے تو یہ مسیح بھی کسی طرح کم نہیں۔” ( مجموعہ فتاویٰ احمدیہ، ج1، ص 385 )

مرزا کی نبوت اور جماعتِ احمدیہ لاہور

جاوید غامدی صاحب نے اپنے لیکچر میں فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے قدیم ترین رفقا نے کہا کہ مرزا صاحب مجدد تھے اور لاہوری جماعت اسی تعبیر پر وجود میں آئی۔ غالباً تاریخِ احمدیت غامدی صاحب کا موضوع نہیں ہے، اس لیے انہوں نے یہ ارشاد فرمایا۔ مرزا صاحب نے 23 مارچ 1889ء کو بیعت لینے کا آغاز کیا تو سب سے پہلے حکیم نور الدین صاحب نے بیعت کی۔ اُس وقت جماعت احمدیہ لاہور کے بانی امیر مولوی محمد علی صاحب لاہوری (1951-1874) انٹرنس کے طالب علم تھے۔ 1890ء میں انٹرنس پاس کرنے کے بعد جب مولوی محمد علی صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تو اپنے ایک سابق ہم جماعت منشی عبد العزیز کے ذریعے انہیں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے کا علم ہوا اور انہی کے ذریعے کتاب "ازالۂ اوہام” ان کو ملی، جس کو پڑھنے کے بعد وہ مرزا صاحب کی صداقت کے قائل ہو گئے۔ اسی طرح مولوی عبد الکریم سیالکوٹی مرزا صاحب سے اُس وقت سے متعارف تھے جب ثانی الذکر سیالکوٹ کی کچہری میں اہلمند تھے۔ انہوں نے بھی جلد ہی بیعت کرلی۔ وہ جامع مسجد مبارک قادیان کے امام اور خطیب تھے اور مرزا غلام احمد قادیانی ان کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے تھے۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں کہ مولوی عبد الکریم سیالکوٹی نے 1900ء میں مرزا صاحب کی موجودگی میں ایک خطبہ جمعہ پڑھا جس میں مرزا صاحب کے لیے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کیے… جب جمعہ ہو چکا اور مرزا صاحب جانے لگے تو مولوی صاحب نے پیچھے سے مرزا صاحب کا کپڑا پکڑ لیا اور درخواست کی کہ اگر میرے اس اعتقاد میں غلطی ہو تو حضور درست فرمائیں۔ مرزا صاحب مڑ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا : مولوی صاحب! ہمارا بھی یہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا۔ ( تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیں "قادیانیت : مطالعہ و جائزہ”، ص 75 )۔ اسی طرح کی کیفیت مفتی محمد صادق، سابق ایڈیٹر اخبار "بدر” قادیان کی ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر جماعت احمدیہ لاہور کے رہنماؤں کو کس طرح مرزا صاحب کے قدیم ترین رفقا کہا جا سکتا ہے! یاد رہے کہ مولوی محمد علی لاہوری کے دستِ راست خواجہ کمال الدین صاحب (1870ء – 1932ء) نے 1893ء میں مرزا صاحب کی بیعت کی۔ خود محمد علی صاحب لاہوری اگرچہ 1890ء میں مرزا صاحب کی صداقت کے قائل ہو چکے تھے لیکن انہوں نے مرزا صاحب کی بیعت 1897ء میں کی۔ مرزا صاحب کے قدیم ترین رفقا حکیم نور الدین، مولوی عبد الکریم سیالکوٹی، مفتی محمد صادق وغیرہ کی تحریریں ریکارڈ پر ہیں۔ وہ بالصراحت مرزا صاحب کو نبی قرار دیتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری اور جماعت احمدیہ لاہور مرزا صاحب کو صرف مجدد نہیں مانتے بلکہ انہیں مسیح موعود بھی مانتے ہیں اور اس نکتے پر احمدیت کی دونوں شاخوں کا اتفاق ہو جاتا ہے۔

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی زندگی میں ان کے حکم پر ایک رسالہ "ریویو آف ریلیجنز” قادیان سے جاری کیا گیا اور ان کی ایما پر مولوی محمد علی لاہوری کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ یہ ذو لسانی مجلہ تھا۔ مولوی صاحب برسوں اس کے ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے اپنے بیسیوں مضامین میں مرزا صاحب کے لیے نبی اور رسول کا لفظ استعمال کیا اور اشارتاً بھی نہیں  لکھا کہ وہ ان الفاظ کو استعارے کے طور پر یا مجازی مفہوم میں استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے مضامین کے اقتباسات ہم آگے چل کر پیش کریں گے۔ پہلے عدالت میں مولوی محمد علی لاہوری کا ایک بیانِ حلفی ملاحظہ فرمائیے :

13 مئی 1904ء کو گورداسپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں مولوی محمد علی نے ایک بیان حلفی دیا جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب کرے وہ کذاب ہوتا ہے۔ اگر مرزا صاحب نے کذاب لکھا تو ٹھیک کہا۔ مولوی صاحب اس بیان میں لکھتے ہیں :

"مکذب مدعیٔ نبوت کذاب ہوتا ہے، مرزا صاحب ملزم مدعیٔ نبوت ہے، اس کے مرید اس کو دعوے میں سچا، دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔” (ماہنامہ فرقان قادیان، جلد 1، نمبر 1، جنوری 1942ء، ص 15، مباحثہ راولپنڈی، ص 272 )

مولوی محمد علی لاہوری نے احمدیہ بلڈنگز میں تقریر کرتے ہوئے کہا :

"مخالف کوئی معنی کرے مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے، صدیق بنا سکتا ہے اور شہید اور صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے مگر چاہیے مانگنے والا… ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ( یعنی مرزا غلام احمد) وہ صادق تھا، خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔” ( "الحکم” 18 جولائی 1908ء، بحوالہ ماہنامہ فرقان قادیان، جنوری 1942ء، جلد 1، نمبر 1، ص 11 )

مولوی محمد علی لاہوری کی تبلیغی تُرک تازیوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ دیکھیے وہ اپنے ایک مضمون میں ہندوؤں سے مرزا صاحب کا تعارف کس طرح کراتے ہیں :

"ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جلد وہ زمانہ آئے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کے دلوں سے پردے اٹھ جائیں اور ان کو اپنی مذہبی غلطیوں پر بصیرت اور معرفت حاصل ہو جائے اور ان کے سینے اس سچائی کو قبول کرنے کے لیے کھل جائیں جو دینِ اسلام تعلیم دیتا ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا، وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا ہے۔” ( ریویو آف ریلیجنز، جلد 3، نمبر 11، ص 409 تا 411، منقول از رسالہ تبدیلی عقائد مولوی محمد علی، ص 63، مولفہ محمد اسماعیل قادیانی )

مولوی محمد علی لاہوری اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں : "آنحضرت ﷺکے بعد خداوند تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دیے۔ مگر آپ ﷺ کے متبعین کامل کے لیے جو آپ ﷺ کے رنگ میں رنگیں ہو کر آپ ﷺ کے اخلاقِ کاملہ سے نور حاصل کرتے ہیں، ان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔” ( ریویو آف ریلیجنز، ج 4، ص 186، بحوالہ تبدیلی عقائد، مولوی محمد علی از محمد اسماعیل قادیانی ص 22، مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر قادیان )

1913ء میں جماعت احمدیہ کو اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود اپنے حامیوں پر مشتمل ایک تنظیم "انصار اللہ” قائم کر چکے تھے۔ وہ مولوی محمد علی لاہوری اور ان کے رفقا ( جن کی اکثریت لاہور سے تعلق رکھتی تھی ) کے خلاف تھے۔ اُس وقت قادیان کے اخبارات "بدر” اور "الحکم” مرزا بشیر الدین کے زیر اثر تھے۔ ان حالات میں مولوی محمد علی کے قریبی رفیق ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ نے ( جو بعد کو انجمن اشاعت اسلام لاہور المعروف جماعت احمدیہ لاہور کے معتمد مالیات منتخب ہوئے ) لاہور سے ہفت روزہ پیغامِ صلح جاری کیا۔ اس اخبار کی مالی اور اخلاقی مدد اُن تمام احمدیوں نے کی جو بعد کو جماعتِ احمدیہ لاہور میں شامل ہوئے۔ یہ شروع سے احمدیوں کے لاہوری فریق کا ترجمان رہا ہے۔ یہ اخبار لکھتا ہے :

"معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ھادینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلاة و السلام کے مدراج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے، حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔” ( پیغام صلح 16 اکتوبر 1913ء ص 2، بحوالہ ماہنامہ فرقان قادیان، جنوری 1942ء، ص 13 – 14)

اس حلفیہ بیان کے بعد لاہوری جماعت کے اصل عقائد سے ہر پردہ اٹھ جاتا ہے۔

مولوی محمد علی لاہوری انگریزی ریویو آف ریلیجنز میں لکھتے ہیں :

"The Ahmadiyya movement stands in the same relation to Islam in which Christianity Stood to Judaism"

( واضح رہے کہ یہ 1906ء کی تحریر ہے اور "مباحثۂ راولپنڈی” ص 240 و "تبدیلی عقائد مولوی محمد علی مولفہ محمد اسماعیل قادیانی، ص 12 سے نقل کی گئی ہے )

ترجمہ : "احمدیہ تحریک اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔”

یہ تحریر خود وضاحت کر رہی ہے کہ جس طرح عیسائیت اور یہودیت الگ الگ مذہبی اکائیاں ہیں، اسی طرح احمدیت اور اسلام بھی الگ الگ مذہبی اکائیاں ہیں۔ قارئین نوٹ کریں گے کہ مولوی محمد علی لاہوری کی یہ تحریریں 1914ء سے قبل کی ہیں۔ 13 مارچ 1914ء کو مرزا صاحب کے خلیفہ اول حکیم نور الدین کے انتقال کے بعد احمدیوں کی اکثریت نے مرزا صاحب کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ مولوی محمد علی نے مرزا بشیر الدین محمود کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور انہیں خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یاد رہے کہ مولوی محمد علی کی مستقل رہائش قادیان میں تھی۔ مرزا محمود کے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد مولوی صاحب کو سوقیانہ نعروں کا نشانہ بنایا جانے لگا اور انہیں مرزا محمود کی بیعت نہ کرنے پر کھلے عام فاسق کہا گیا۔ اس طرح مولوی صاحب کا قادیان میں رہنا مشکل ہو گیا۔ جب حالات بہت خراب ہوگئے تو وہ 20 اپریل 1914ء کو قادیان چھوڑ کر لاہور آ گئے، جہاں انہوں نے اپنے رفقا کے اشتراک سے الگ جماعت قائم کی۔ یہ تھا اصل اختلاف جس کے نتیجے میں جماعتِ احمدیہ لاہور کا قیام عمل میں آیا۔ ایک صاحبِ دانش کی رائے کے مطابق اپنی علیحدگی کے جواز کی فراہمی، جماعتِ قادیان سے بغض اور مسلمانوں کی ہمدردیوں کا حصول، وہ محرکات تھے جن کے تحت مولوی محمد علی لاہوری اور ان کی جماعت نے اپنے سابقہ عقائد اور تحریروں سے رجوع کا اعلان کیے بغیر یہ کہنا شروع کیا کہ ہم مرزا غلام احمد کو نبی نہیں بلکہ مجدد مانتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی اور محمد علی لاہوری کی تحریروں پر اپنے معروضات پیش کرنے کے بعد جاوید غامدی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اپنے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے واضح اعلان کریں کہ 7 ستمبر 1974ء کی آئینی ترمیم جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، قرآن اور سنت کے مطابق ہے۔ یہ اعلان اُن کی حق پرستی کا مظہر ہو گا اور وہ ہدیۂ تبریک کے مستحق قرار پائیں گے۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s