مولانا امین اللہ نگرنہسوی اور ان کا "قصیدہ عظمیٰ”


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مولانا امین اللہ انصاری نگرنہسوی عظیم آبادی برصغیر کے مشہور عالم، مدرس، منطقی ، ادیب و شاعر تھے۔ انہیں حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے تلمذ کا فخر حاصل تھا۔ ان کی فضیلتِ علمی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ” مدرسہ عالیہ ” کلکتہ کے صدر مدرس کا منصب تفویض کیا گیا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تالیف کیں اور ان سے طلاب علم کی ایک بڑی تعداد مستفید ہوئی۔ سیرت پر ان کی ایک منظوم کتاب ” قصیدہ عظمیٰ ” کا ذکر ملتاہے جسے اپنے دور میں بڑی مقبولیت ملی۔ یہاں اسی منظوم سیرت کا جائزہ لینا مقصود ہے مگر اس سے پہلے صاحبِ کتاب کے مختصر حالات حسبِ ذیل ہیں۔

مولانا امین اللہ نگرنہسوی

عظیم آباد پٹنہ ( حال ضلع نالندہ ) کے اطراف میں نگرنہسہ کے نام سے ایک معروف قریہ ہے۔ یہاں ایک انصاری خاندان آباد تھا جس کا سلسلہ نسب حضرت ابو درداء انصاری رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ اس خاندان میں متعدد ایسے با کمال اصحاب علم و فن پیدا ہوئے جنہوں نے نہ صرف اپنے اطراف و اکناف کو اپنے نورِ علم سے روشن کیا بلکہ ان کے علم و فضل نے ایک بڑے حلقے کو مستفید کیا۔ مولانا سلیم اللہ ، مولانا امین اللہ ، مولانا محمد ابراہیم ( تلمیذ شاہ محمد اسحاق دہلوی و خلیفہ سیّد احمد شہید) ، قاضی عبید اللہ (قاضی کمرکن  مدراس) ، مولانا تصدق حسین خلاقؔ ، مولانا علیم الدین حسین ( تلمیذ سیّد نذیر حسین دہلوی ) ، بیرسٹر نصیر الدین نصیؔر وغیرہم اسی خانوادہ عالی مرتبت کے اراکین تھے۔

مولانا امین اللہ بن سلیم اللہ بن علیم اللہ انصاری ابو الدردائی نگرنہسوی عظیم آبادی نگرنہسہ میں پیدا ہوئے۔ سالِ ولادت کا ذکر نہیں ملتا۔ اپنے والد کے زیرِ سایہ کسبِ علم کا آغاز کیااور متعدد کتابوں کی تحصیل کی۔ مولانا کے والدِ گرامی اپنے عہد کے اکابر علم و فضل میں سے تھے۔ 1191ھ میں ان کی وفات ہوئی۔[1] بعض کتبِ مختصرات مولانا جمال الدین بہاری سے پڑھیں۔ اس کے بعد مولانا نے الہ آباد کی طرف شدِ رحال کیا اور وہاں مولانا محمد قائم الہ آبادی سے منطق و فلسفہ کی کتابیں پڑھیں۔ پھر دہلی تشریف لے گئے جہاں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے فرزندِ ارجمند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے اکتساب علم کیا اور اسانید حدیث حاصل کیں۔ تکمیل علم کے بعد نگرنہسہ واپس آئے ۔ اس کے بعد کلکتہ تشریف لے گئے۔ جہاں ” مدرسہ عالیہ ” میں صدر مدرس کے فرائض انجام دینے لگے۔ اپنی وفات تک سلسلہ تدریس کو جاری رکھا۔

ایک طویل عرصے تک خدمت تدریس کے نتیجے میں طلاب علم کی ایک کثیر تعداد مستفید ہوئی۔ مولانا کے تلامذہ میں ان کے فرزند مولانا مدین اللہ، ان کے بھتیجے مولانا عبید اللہ بن غلام بدر ، قاضی فضل الرحمٰن بردوانی ، مولانا غلام مخدوم اولیاء ، مولانا علی اعظم وغیرہم شامل ہیں۔

مولانا صاحب تصنیف تھے۔ ان کی تحریر کردہ کتابوں میں تفسیر آیت کریمہ ” و لکم فی القصاص حیاۃ یاولی الالباب "، قصیدہ عظمیٰ ، حاشیہ میر زاہد ، حاشیہ میر زاہد شرح المواقف ، دیوان ( فارسی ) ………… وغیرہا کا ذکر ملتا ہے۔” شرح مسلم الثبوت ” کی تالیف میں مصروف ہی تھے کہ خود ان کی کتاب حیات کا اختتام ہو گیا۔ 27 ربیع الاول 1233ھ کو کلکتہ میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔[2]

مولانا کو اپنے عہد کی معاشرت اور سماجیات سے بھی دل چسپی تھی۔ مسلمانوں کے اجتماعی امور کی طرف بھی اپنی توجہ منعطف فرماتے تھے۔ برصغیر میں پہلے پہل کلکتہ ہی وہ مقام ہے جہاں فری میسن لاجز کا قیام عمل میں آیا۔ یہ دنیا کی ایک خطرناک قدیم ترین تحریک ہے۔ مولانا امین اللہ اپنے عہد میں کلکتہ کی سب سے بڑی درسگاہ کے صدر مدرس تھے۔ وہ اس تحریک سے بے خبر نہیں رہ سکتے تھے۔ نواب صدیق حسن خاں لکھتے ہیں :

” مدرسہ کلکتہ کے صدر مولوی امین اللہ صاحب نے اس تحریک کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کی اور قابلِ اعتماد لوگوں کو خاص طور پر اس تحریک کے اندرونی احوال معلوم کرنے کے لیے رکن بنوایا لیکن جب وہ لوگ اس کے رکن بن گئے۔انہوں نے ایک لفظ بھی اس رازِ سربستہ کے بارے میں نہیں بتلایا ۔” [3]

گو مولانا کو اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہو سکی مگر ان کی اس سعی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی نظر اپنے عہد کے مسائل پر کتنی گہری تھی۔

علامہ شمس الحق عظیم آبادی اپنی مشہور لیکن غیر مطبوعہ کتاب تذکرۃ النبلاء فی تراجم العلماء” [4] میں مولانا امین اللہ کے حالات میں لکھتے ہیں :

” وصف ایں شیخ اجل شہرہ آفاق بودہ است ، در علم ادب و بلاغت و فصاحت در عصر خود نظیری نداشت ، بعض قصائد مؤلفہ حضرت ایشان کہ در کتاب حدیقۃ الافراح موجود است شاہد ایں مدعاست و تصانیف مفیدہ دارد۔” [5]

مولانا کے ایک معاصر عالم و ادیب مولانا عبد القادر رام پوری جنہوں نے کلکتہ میں مولانا سے ملاقات کی تھی اپنے سفرنامے ( وقائع عبد القادر خانی[6] ) میں لکھتے ہیں :

” جناب مولوی امین اللہ صاحب کی خدمت فیض درجت میں جو اس وقت صدر مدرس تھے میں حاضر ہوا، سچ تو یہ ہے کہ اس  زمرے میں حق صدارت ان ہی کا تھا باوجود اس بلند مرتبہ ہونے کے شعر کے فن خسیس کو عزت بخشی، نواح عظیم آباد کے باشندے ، ذکی الطبع، وضعداری وجاہت اور با وقار تھے، جیسا کہ علماء کو ہونا چاہیے ایسے ہی تھے بہت سے لوگ جو خوش خلقی اور بد تمیزی میں فرق نہیں کرتے ان بزرگ کو کج خلق سمجھتے تھے۔”[7]

مولانا امین اللہ کی مشہور ترین تصنیف "قصیدہ عظمیٰ ” ہے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے حالات زندگی کو نظم کیا ہے، چونکہ مولانا اپنے عہد کے نہ صرف جید عالم و فاضل تھے بلکہ فصیح اللسان شاعر بھی تھے اسی لیے ان کی اس منظوم سیرت میں استناد اور ادبیت دونوں جمع ہو گئیں۔ ذیل میں اس کا مختصر جائزہ لینا مقصود ہے۔

قصیدہ عظمیٰ

” قصیدہ عظمیٰ ” کی پہلی طباعت کب ہوئی یہ کہنا مشکل ہے تاہم بقول عزیز الدین بلخی :” یہ قصیدہ چند بار چھپ چکا ہے۔” [8]

اس کی ایک عمدہ طباعت مطبع انصاری دہلی سے 1303ھ میں مولانا تلطف حسین عظیم آبادی کی سعی سے ہوئی ۔ کتاب 96 صفحات پر محیط ہے۔ شاعر نے اس میں نبی کریم ﷺ کی زندگی کے اہم ترین گوشوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی فہرست سے عناوینِ سیرت حسب ذیل ہیں تاکہ اس کے مشتملات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

آغاز حال مولد النبی ﷺ

آغازحال شیر خوارگی آں سرور

در شرح حال بالیدن و خرامیدن آں سرور

احوال سرور بعد از وفات مادرش تا دو از دہ سالگی

احوال حضرت بعد از دو از دہ سالگی

تمہید نکاح سرور با خدیجۃ الکبریٰ

ابتدای وحی

مامور شدن رسول ﷺ برائے دعوت خلق بسوئے ایمان

تمہید ہجرت اولیٰ کہ اکثر مسلمانان در حبشہ فتند

قصہ معجزہ قمر

آغاز قصہ معراج سرور

تمہید ہجرت ثانیہ کہ آں سرور بمدینہ نہضت فرمود

ذکر معجزہ شیر و شیدن سرور

بیان حلیہ مبارک آں سرور

احوال رسیدن سرور در مدینہ

آغاز کیفیت جہاد و قتال

آغاز قصہ جنگ بدر

ذکر فرزندان رسول ﷺ

آغاز قصہ غزوۃ السویق

ابتدای احوال سال سیوم ہجرت

تمہید جلا وطن شدن بنو قینقاع

احوال کشتہ شدن کعب بن اشرف شاعر کافر

آغاز قصہ جنگ احد

کیفیت شہید شدن دندان مبارک

ابتدای احوال سال چہارم ہجرت

تمہید کشتہ شدن شش اصحاب از دست عسفانیان

تمہید کشتہ شدن چہل کس از اصحاب صفہ

تمہید اجلای بنو نضیر از دیار شان

ذکر غزوہ ذات الرقاع و بدر صغریٰ

آغاز حال سال پنجم ہجرت

آغاز کیفیت جنگ مریسیع

قصہ افک کہ منافقان بر عایشہ رضی اللہ عنہا افترا کر دند

ابتدائے قصہ غزوہ خندق

ذکر معجزہ بسرور کہ در خندق روداد

ذکر معجزہ دیگر

تتمہ قصہ خندق

قصہ قتل بنو قریظہ و استیصال آنہا

آغاز احوال سال ششم ہجرت

ذکر غزوۃ الغابہ

آغاز قصہ صلح حدیبیہ

احوال نامہای سرور کہ بشاہان اطراف نوشت

قصہ جنگ خیبر

غزوہ وادی القریٰ

قصہ سفر مکہ برائے قضائے عمرہ کہ در حدیبیہ در سال گزشتہ ازاں باز ماندند

قصہ شہید شدن زید ابن حارثہ و جعفر طیار وغیرہ

قصہ فتح مکہ معظمہ

قصہ شکستن بُتہا کہ بیرون مکہ بودند

قصہ جنگ حنین

قصہ جنگ اوطاس

قصہ غزوہ طایف

شرح حال واقعات سال نہم

آغاز قصہ غزوہ تبوک

بیان معملہ رسول بازدواج مطہرات

ذکر ولادت ابراہیم فرزند رسول ﷺ

آغاز احوال سال دہم

قصہ حجۃ الوداع

در ذکر مرض وفات رسول ﷺ

قصیدہ کے اختتام پر مولانا امین اللہ کے حالات علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی غیر مطبوعہ کتاب "تذکرۃ النبلاء فی تراجم العلماء ” سے درج کیے گئے ہیں۔ کتاب کے آخر میں اس کی 3تاریخ طباعت درج کی گئیں ہیں۔ پہلاقطعہ تاریخ فارسی میں میر شاہجہاں دہلوی کے قلم سے ہے جو مشہور محدث سیّد نذیر حسین دہلوی کے داماد تھے۔ دوسرا قطعہ تاریخ فارسی میں علامہ شمس الحق عظیم آبادی کے قلم سے ہے۔ ان کی شہرت ایک مشہور محدث کی حیثیت سے اہل علم میں معروف ہے۔ ابتدائی عمر میں وہ شعر و سخن سے بھی مناسبت رکھتے تھے۔ فارسی زبان میں ان کا یہی ایک قطعہ دستیاب ہوا ہے۔ تیسرا قطعہ تاریخ اردو میں منشی عنایت اللہ صاحب کے قلم سے ہے۔

اس قصیدے کے چند ابتدائی اشعار حسب ذیل ہیں :

محذرات سرا پردہ ہائے قرآنی

چہ دلبر اند کہ دل می برند پنہانی

بہفت پردہ درخشاں چو دید ہائے نجوم

بنور حق ہمہ ہر ہفت کردہ پیشانی

فگندہ بر سر و رخسارہ معجز اعجاز

بخوش ادائی بر تر ز حد انسانی

بصورت ہمہ زیات صنع یزدان است

بمعنی ہمہ تصدیق ہائے ایمانی

نظم میں مختلف مباحث سیرت کی تحقیق نہ ممکن ہے اور نہ ہی یہ مولانا کا مقصود تھا۔ عمومی سیرت کے واقعات میں اہل علم میں زیادہ اختلاف بھی نہیں پایا جاتا، اصل اختلاف جزئیاتِ سیرت میں ہوتا ہے۔ مولانا نے نبی کریم ﷺ کی تاریخ ولادت پاک و ہند میں معروف عام روایت کے مطابق 12 ربیع الاول لکھی ہے۔[9] اسی طرح مولانا نے نسطورا راہب والی روایت کو بھی قبول کیا ہےاور اسے بصریٰ میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے مالِ تجارت لے کر جانے والے واقعے کے ساتھ منسلک کیا ہے۔[10]  بعض محقق سیرت نگار اس واقعے کو درست تسلیم نہیں کرتے۔

اس میں شبہ نہیں کہ مولانا کی منظوم سیرت علم و ادب کا شاہکار ہے۔ و نیز تحقیق و استناد کے اعتبار سے بھی غنیمت ہے۔ جس دور میں اس کی تالیف ہوئی اس  دور میں مولود ناموں کے نام سے نظم و نثر میں بے شمار موضوع روایات عام تھیں ۔مولانا نے اپنے عہد میں ایک قابل قدر کارنامہ انجام دیا۔ جسے اس زمانے میں عوام و خواص ہر دو طبقے میں مقبولیت ملی۔ مشہور محدث سیّد نذیر حسین دہلوی کو بہ قول ان کے سوانح نگار مولانا فضل حسین بہاری : ” یہ قصیدہ غالباً پورا ازبر تھا۔” [11]

علامہ شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں :

” قصیدہ عظمیٰ کہ دراں داد فصاحت دادہ و بہ تبیان احوال حضرت احمد مجتبیٰ محمد المصطفیٰ ﷺ ازبد و مولد تا وفات آن ﷺ بمرتبہ بلاغت رسایندہ۔”[12]

مولانا ابو الحسنات عبد الشکور ندوی لکھتے ہیں :

” ان کی ایک تصنیف قصیدہ عظمیٰ شائع ہو چکی ہے ، اس میں نعت اور معجزات اور دیگر واقعات حیات طیبہ نبوی کو نظم کیا ہے، صحت، حسنِ ترتیب ، اور اختصار بیان کا سر رشتہ لائق مصنف نے کسی موقع پر بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا، زبان فارسی ہے، اور وہ اس درجہ بلند کہ مصنف پر اہل زبان ہونے کا دھوکا ہوتا ہے، ایرانی بھی اس کو پڑھ کر جھومتے ہیں، مطلع یہ ہے :

محذرات سرا پردہ ہائے قرآنی

چہ دلبر اند کہ دل می برند پنہانی” [13]

[1]    مولانا سلیم اللہ نگرنہسوی کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو : نزہۃ الخواطر : 6/108

[2]    مولانا امین اللہ نگرنہسوی کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو : قصیدہ عظمیٰ ( بحوالہ تذکرۃ النبلاء ) : 94 ، نزہۃ الخواطر ( بحوالہ تذکرۃ النبلاء ) : 7/ 96-97، علم و عمل ( وقائع عبد القادر خانی ) : 1/138،  تاریخ شعرائے بہار :1/3، ہندوستان کی قدیم اسلامی درسگاہیں : 47-48 ، تذکرہ علمائے بہار :1/26-27

[3]   مجلہ الواقعۃ شمارہ 2 ، رجب 1433ھ ۔ نواب صاحب نے اپنی معروف کتاب ” الدلیل الطالب علیٰ ارجح المطالب ” میں فری میسن سے متعلق ایک فتویٰ دیا تھا ، اس فتوے کا اردو ترجمہ مولانا محمد اسماعیل نے کیا تھا جو مجلہ مذکور میں شائع ہوا۔

[4]      ” تذکرۃ النبلاء فی تراجم العلماء ” علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی علمائے ہند کے حالات پر علمی حلقوں میں معروف تصنیف ہے۔ تاہم افسوس ہے کہ زیور طبع سے آراستہ نہ ہوسکی۔ علامہ عظیم آبادی نے اس کا قلمی مسودہ مولانا حکیم عبد الحی حسنی کو ” نزہۃ الخواطر ” کی تالیف میں استفادے کی غرض سے بھیجا تھا ، اس عرصے میں علامہ عظیم آبادی کی وفات ہو گئی اور مسودے کی واپسی کی نوبت نہ آ سکی۔ اصل کتاب فارسی میں ہے ” نزہۃ الخواطر ” 6، 7 اور 8ویں جلد میں  جا بجا اس کے حوالے ملتے ہیں۔ اس کا قلمی نسخہ مولانا حکیم عبد الحی کے ورثاء کے پاس لکھنؤ میں موجود ہے۔

[5]    قصیدہ عظمیٰ ( بحوالہ تذکرۃ النبلاء ) : 94

[6]     ” وقائع عبد القادر خانی ” مولانا عبد القادر رام پوری ( م 1265ھ ) کا سفر نامہ ہے جس کا اردو ترجمہ مولوی معین الدین افضل گڑھی نے کیا اور اس پر ترتیب و حواشی کا فریضہ محمد ایوب قادری نے انجام دیا۔ یہ محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ مشرقی ہند کی علمی ، ثقافتی اور معاشرتی روّیوں کی تاریخ بھی ہے۔

[7]    علم و عمل ( وقائع عبد القادر خانی ): 138

[8]    تاریخ شعرائے بہار :1/3

[9]    قصیدہ عظمیٰ : 5

[10]    قصیدہ عظمیٰ : 9

[11]  الحیاۃ بعد المماۃ : 193

[12]  قصیدہ عظمیٰ : 94

[13]  ہندوستان کی قدیم اسلامی درسگاہیں : 48

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s