جذبہ ایثار اور ہمارے روّیے


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : سید عزیز الرحمٰن

اخلاق حمیدہ میں سے ایک ایثار بھی ہے، اور حضور اکرم نبی مکرم ﷺ کے جس اسوۂ حسنہ اور خلق عظیم کی اتباع کی ہمیں تاکید کی گئی ہے، ایثار کی صفت بھی اس کا ایک اہم جز ہے۔ ایثار کیا ہے ؟ ایثار دوسروں کی ضرورتوں کو اپنے اوپر ترجیح دینے اور انہیں اپنی ضرورتوں پر فوقیت دینے کا نام ہے خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلانا، خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو راحت پہنچانا۔ اس اعتبار سے یہ جود و سخا اور فیاضی کا اعلیٰ ترین اور سب سے آخری درجہ ہے۔

ایثار بھی دوسری صفات حسنہ کی طرح ایمان کی پہچان اور مومن کا شعار ہے، اس کی حیثیت محض اتنی ہی نہیں، یہ تبلیغ دین کا بھی ایک مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ جب انسان کسی دوسرے شخص کی مشکل وقت میں مدد کرتا ہے، تو اس کے دل میں یقیناً اپنے لیے نرم گوشہ بھی پیدا کر لیتا ہے، پھر جب مدد اور تعاون ایثار کے درجے میں ہو، تو اس کا تاثر زیادہ مضبوط اور دیر پا ہوتا ہے، اس معاملے کا یہی ایسا پہلو ہے جو ہمارے لیے دور جدید اور عصر حاضر میں اہم ہے اور ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے، خصوصاً اس کے دعوتی پہلو سے پہلوتہی اور صرف نظر کیا جا رہا ہے، حال آں کہ ابتدائے اسلام میں فروغ اسلام میں اس صفت نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایثار کے حوالے سے انصارِ مدینہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ اسی لیے قرآنِ حکیم نے بھی ان کے جذبے کو سراہا اور اسے قابلِ تقلید قرار دیا۔ جب بنو نضیر کی زمین مسلمانوں کے قبضے میں آئی اور اس کا بڑا حصّہ رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انہیں عطا کر دیا تو انصار نے اس فیصلے کو نہایت خوش دلی سے قبول کیا۔ قرآنِ حکیم میں ان کے اس جذبے کی ستائش کرتے ہوئے فرمایا گیا :

وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلۡإِيمَٰنَ مِن قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّونَ مَنۡ هَاجَرَ إِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمۡ حَاجَةٗ مِّمَّآ أُوتُواْ وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٩ ( الحشر : 9 )

” اور ان لوگوں کے لیے جو مہاجرین سے پہلے ہجرت کے گھر ( یعنی مدینے ) میں مقیم اور ایمان میں ( مستقل ) رہے اور جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش اور خلش نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ ہی مراد پانے والے ہیں۔ "

ملاحظہ کیجئے یہاں حضرات انصار کے صرف جود و سخا کا ہی ذکر نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے جذبۂ ایثار کا ذکر فرما کر ان کی تحسین فرما رہا ہے، اور قرآن کریم کے اسلوب میں یہ انداز امت کی تعلیم کے لیے اختیار فرمایا جاتا ہے۔

 ایک مرتبہ ایک شخص کو آنحضرت ﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان پھیلا ہوا ریوڑ عنایت فرمایا، وہ اس امر سے اس قدر متاثر ہوا کہ وہ اپنی قوم میں جا کر کہنے لگا :

یا قومی اسلموا ، فان محمداً یعطی عطاءً لا یخشی الفاقة۔ [1]

” اے لوگو ! اسلام لے آؤ کیونکہ محمد ﷺ اتنا دیتے ہیں کہ وہ اپنے فقیر ہونے کی بھی پروا نہیں کرتے۔”

رسول اﷲ ﷺ کی حیات طیبہ میں اس کے علاوہ ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں، جب آپ نے دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی حاجتوں پر ترجیح دی اور خود بھوکے رہ کر دوسروں کو نواز دیا ان واقعات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں یعنی صحابہ کرام سے ہے، مگر اس میں کوئی تفریق نہیں تھی، جیسا کہ اوپر بیان ہونے والے واقعے سے اندازہ ہوتا ہے۔

ایک بار ایک صحابی رسول ﷺ نے شادی کی، ولیمے کے لیے گھر میں کچھ ساما ن نہ تھا، رسول خدا ﷺ کو علم ہوا تو فرمایا کہ جاؤ اور عائشہ ( رضی اﷲ عنہا ) سے آٹا مانگ لاؤ، وہ گئے اور آٹا لے آئے۔ راوی کا بیان ہے کہ کاشانہ نبوت میں اس روز اس آٹے کے علاوہ شام کو کھانے کو کچھ نہ تھا۔[2] اور وہ بھی ایک ضرورت مند کو دے دیا گیا تھا۔

 ایسے ہی ایک واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک بار ایک غفاری قبیلے کا شخص آپ ﷺ کے ہاں آ کر مہمان ہوا، اس رات کاشانہ نبوت میں رات کے کھانے کی جگہ صرف بکری کا دودھ تھا، وہ آپ ﷺ نے اس مہمان کی نذر کر دیا اور نبی رحمت کے ہاں اس رات فاقہ رہا۔ ہمارے لیے مقام تفکر یہ ہے کہ اس سے پہلی شب میں بھی خانہ نبوت میں فاقہ ہی تھا۔[3]

ایثار کی ایک اس سے بھی بڑھ کر اعلیٰ قسم ہے کہ انسان اپنے اہل خانہ اور قریبی متعلقین کی جائز ضرورتوں پر عام لوگوں کی ضرورتوں کو ترجیح دے، نبی اول و آخر رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں اس کے بھی عمدہ عملی نمونے ملتے ہیں۔ ایک بار حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے آپ ﷺ سے کسی امر کی درخواست کی، آپ ﷺ نے ان کی یہ درخواست رد کر دی اور فرمایا :

لا اعطیکم و ادع اهل الصفة، تلوی بطونهم من الجوع ۔ [4]

” یہ نہیں ہو سکتا کہ میں تم کو تو دے دوں اور اہل صفہ کو اس حال میں چھوڑ دوں کہ وہ بھوک سے اپنے پیٹ لپیٹے پھریں۔ "

ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا کے ہم راہ آپ ﷺ سے درخواست کی کہ حضرت فاطمہ کے چکی پیستے پیستے اور آٹا گوندھتے گوندھتے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں۔ حالیہ غزوے کے مال غنیمت میں جو لونڈیاں آئی ہیں، ان میں سے ایک دو مل جائیں، باوجود یہ کہ آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ آپ کی صاحبزادی کس حالت اور فاقہ کشی و تنگ دستی کی کس کیفیت سے دوچار ہیں، مگر آپ ﷺ نے ان کی درخواست قبول نہیں فرمائی، بلکہ ان سے فرمایا :

و الله لا اعطیکما وادع اهل الصفة تطوی بطونهم، لا اجد ما انفق علیهم، و لکنی ابیعهم و انفق علیهم اثمانهم ۔ [5]

” خدا کی قسم میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ میں تمہیں کیسے دے دوں، حالانکہ اہل صفہ بھوکے بیٹھے رہیں۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ان پر خرچ کر سکوں، لیکن میں ان غلاموں کو بیچوں گا اور ان کی رقم اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔”

ایک جانب سیرت طیبہ کے یہ روشن واقعات ہیں اور دوسری جانب ہمارے تاریک اعمال اور ظلمتوں سے بھرے ہوئے طور و طریقے، جہاں ہر برائی بلا دلیل رواج پا سکتی ہے، مگر کسی اچھائی کو بار نہیں مل سکتا، صفت ایثار بھی ہمارے اسی طرز عمل کا شکار ہے۔ ہماری فیاضی میں کوئی شک نہیں، مگر اب وہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جواز ڈھونڈنے لگی ہے، اور ایثار کا تو ہماری زندگیوں میں کہیں دور سے بھی گزر نہیں۔

 اوپر کی سطور میں جو واقعات ذکر کیے گئے وہ تو بہت زیادہ اعلیٰ درجے کے ہیں، مگر ہم تو عام نوعیت کے معاملات میں بھی دوسروں کا حق مار کر خوش ہوتے ہیں اور دوسروں کو تکلیف پہنچا کر ہمیں راحت ملتی ہے۔ اگر سڑک پار کرتے ہوئے بزرگ، خواتین اور بچوں کو دیکھ کر ہم اپنی گاڑیاں روک لیں تو ہمیں کتنے لمحات کی قربانی دینی ہوگی ؟ اگر بل جمع کراتے ہوئے ہم قطار بنالیں تو سوچیے کہ فائدہ آخر کس کو ہوگا ؟ اگر آج آپ بغیر قانون کے گاڑی آگے بڑھا کر لے جاتے ہیں اور ساتھ والی گاڑی کو اس کے استحقاق کے باوجود راستہ نہ دے کر خوش ہوتے ہیں تو ذرا دل تھام کر سوچیے کہ کل یہ صورت حال آپ کے ساتھ پیش آ جائے تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا ؟ غلط اوور ٹیک کرنا، غلط جگہوں پر گاڑی پارک کرنا اور غلط راستے سے اپنی گاڑی نکال لینا بھی اس قسم کے معاملات ہیں، یہ تمام امور تھوڑا سا تحمل اور تھوڑا سا ایثار چاہتے ہیں۔ اگر ہم یہ فیصلہ کرلیں کہ ان تمام جگہوں پر تھوڑے سے تحمل اور تھوڑے سے ایثار کا مظاہرہ کرنے میں نہیں ہچکچائیں گے تو ہماری زندگی کے تقریباً چالیس فیصد لمحات خو ش گوار ہو سکتے ہیں، اتنے ہی فیصد ذہنی دباؤ اور پریشانی سے ہم نجات حاصل کر سکتے ہیں اور اس عمل کے بعد ہمارا وقت کس قدر بچتا ہے، یہ تجربے اور عمل ہی سے معلوم ہوگا۔

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس ایثار کا درس ہمیں سیرت طیبہ سے مل رہا ہے، وہ خود ہمارے لیے مفید ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے مذہب کا بھی حصہ ہے، سو کم از کم وہ حضرات جو دین کے ما شاء اﷲ بہت سے پہلوؤں پر نہایت دل جمعی، خشوع و خضوع اور نہایت اہتمام سے عمل پیرا ہوتے ہیں اگر اس پہلو کو بھی نظر انداز نہ کریں تو کم از کم 30، 40 فیصد معاشرہ تو ایثار پسند خود ہی ہو جائے۔

ایثار کا ایک اہم پہلو دوسروں کے کام آنا ہے، اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ وہ قربانی دینا جانتا ہے، اس کا عمل یہ بتائے کہ وہ اس لذت سے آشنا ہے جو کسی کی کوئی ضرورت پوری کرکے اور ایسے انداز میں ضرورت پوری کرکے اسے لذت حاصل ہوتی ہے جب وہ اپنی کسی ضرورت کی قربانی دیتا ہے یا کم سے کم اپنے آرام یا آسائش کو تج کر، مشقت اٹھا کر، اور اپنی آرام کی قربانی دے کر کسی کے کام آتا ہے اور اس کی ضرورتوں کی تکمیل کرتا ہے۔ یوں تو اپنے کام خود اپنے ہاتھ سے انجام دینا بھی اچھی اور محمود صفت ہے، لیکن یہ تو ہمارے معاشرے میں عام طور پر ہوتا ہی ہے، صرف اعلیٰ طبقے اور قائدین کی کلاس کے لیے یہ بات اہمیت رکھتی ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر اور صحیح معنی میں کرنے کا کام یہ ہے کہ انسان دوسروں کے کام آئے اور حسبِ استطاعت اور حسبِ توفیق دوسروں کے کام کرکے خوشی محسوس کرے، جن کی ادائیگی سے بہ وجوہ وہ قاصر ہوں، یا وہ بہ سہولت وہ کام نہ کر سکتے ہوں۔ رسول اﷲ ﷺ کی حیات طیبہ اور سیرتِ مطہرہ کا مطالعہ ہمیں اس پہلو کوبھی روشن مثالوں اور قابلِ تقلیدِ نمونوں سے روشن کرتا ہے۔ یہ بھی ایثار کی ایک قسم ہے۔

رسول اکرم ﷺ کا معمول اس میدان میں بھی ہماری رہ نمائی کرتاہے۔ حبشہ سے رسول اﷲ ﷺ کے پاس جو مہمان آتے تھے آپ ہمیشہ ان کی خود خدمت کرتے تھے۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی خواہش ہوتی کہ یہ کارخیر ہم انجام دیں، مگر آپ ﷺ فرماتے کہ ان کی خدمت میں خود کروں گا۔ کیونکہ انہوں نے میرے دوستوں کی خدمت کی ہے۔[6] اس میں ہجرتِ حبشہ کی طرف اشارہ تھا، جب صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے آپ ﷺ کے حکم پر حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور قریش مکہ کے لالچ دینے، خوشامد کرنے اور سیاسی، سفارتی دباؤ ڈالنے کے باوجود شاہ حبش نجاشی نے نہ صرف انہیں قریش مکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا، بلکہ انہیں رہائش وغیرہ کی بھرپور سہولتیں دے کر انہیں اپنے مہمان کی حیثیت سے اپنے ہاں ٹھہرایا تھا۔

اسی طرح حضرت خباب رضی اﷲ عنہ ایک معروف صحابی ہیں، انہیں ایک بار آپ ﷺ نے کسی مہم کے سلسلے میں روانہ کیا، ان کے گھر میں کوئی مرد نہ تھا اور نہ ان کے گھر کی خواتین کو دودھ دوھنا آتا تھا، اس لیے جب تک وہ واپس نہیں لوٹے، اس وقت تک آپ ﷺ پابندی سے ان کے ہاں جاتے اور دودھ نکالا کرتے تھے۔[7]

رسول رحمت ﷺ کا یہ رویہ اور انداز مہربانی و خدمت گزاری صرف اپنے ساتھیوں، رفقا، خدام اور صحابہ کرام ہی کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ آپ ﷺ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی یہی برتاؤ رکھتے تھے اور ان کے ساتھ بھی آپ کا برتاؤ اسی نوعیت کی مہربانی، ہم دردی اور خدمت گزاری والا ہوتا تھا۔ طائف کے اس سفر سے کون واقف نہیں ؟ کفارِ ثقیف نے نہ صرف یہ کہ آپ ﷺ سے تعاون نہیں کیا، بلکہ الٹا آپ ﷺ کی ایذا دہی کے درپے ہو گئے اور آپ کو اس قدر تکالیف دیں کہ آپ لہو لہان ہو گئے۔ سن 9 ہجری کا واقعہ ہے کہ یہی کفارِ ثقیف اپنا وفد لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس موقع پر آپ نے خود ان کی خدمت کی، انہیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا، اور ان کی میزبانی کے فرائض بہ نفس نفیس ادا کیے۔[8]

نبی کریم ﷺ کا یہ طرزِ عمل ہر ایک کے ساتھ بلا تفریق ہوتا تھا اور جیسا کہ اوپر تحریر کیا گیا اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں فرماتے تھے۔ نہ تو مرد اور عورت کی بنیاد پر، نہ جان پہچان کی بنیاد پر، نہ معزز و غیرمعزز کی بنیاد پر، بلکہ آپ ﷺ کا یہ ہمدردانہ اور تعاون و خدمت پر مبنی رویہ ان لوگوں کے ساتھ بھی تھا جو عقل و شعور کے اعتبار سے بھی کمزور حیثیت کے حامل تھے۔ اخلاقِ حسنہ، خلق عظیم اور عظمتِ انسانی کی یہ وہ معراج ہے، جس پر آپ ﷺ فائز تھے۔ ایک مرتبہ ایک خاتون نے جو مدینہ منورہ میں رہتی تھی اور اس کی ذہنی کیفیت درست نہ تھی، آپ ﷺ کی خدمت میں آ کر کہا کہ محمد! مجھے تم سے کچھ کام ہے، آپ ﷺ نے اس کی بات کا نہ صرف یہ کہ برا نہیں منایا، بلکہ اسے کہا کہ جہاں تم کہو، میں جانے کے لیے تیار ہوں چنانچہ وہ آپ ﷺ کو کچھ دور لے گئی اور وہاں جا کر بیٹھ گئی، آپ ﷺ بھی وہیں اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور پھر اس کا جو بھی کام تھا وہ پورا کیا، تب واپس لوٹے۔ [9]

اسی طرح ایک مرتبہ ایک بدو آیا اور آ کر اس نے پاس ادب کیے بغیر بدویانہ طریقے سے آپ ﷺ کا دامن مبارک تھام لیا اور کہا کہ میرا یہ کام رہ گیا ہے اسے آپ خود کر دیں، ایسا نہ ہو کہ میں اسے بھول جاؤں۔ آپ ﷺ اس وقت مسجد میں تھے اور جماعت تیار تھی، اس کے باوجود آپ ﷺ اس کے ساتھ باہر نکل آئے اور اس کا مطالبہ پورا کیا، پھر نماز ادا کی۔[10]

رسول اﷲ ﷺ کی پوری زندگی اور حیات طیبہ کے پورے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خواہ اپنا کام ہو یا کسی اور کی کوئی خدمت، جب بھی کبھی ایسا کوئی موقع سامنے آتا تو آپ ﷺ اس کی ادائیگی کے لیے دوسروں سے پہلے کھڑے ہوتے اور نہ صرف یہ کہ اپنے صحابۂ کرام کے ساتھ اپنے لیے کسی قسم کا امتیاز پسند نہیں کرتے تھے اور اپنے لیے ترجیحی بنیادوں پر کسی سلوک کے خواہش مند نہیں ہوتے تھے، بلکہ اس طرح کے ہر کام میں دوسروں سے بھی سبقت لے جاتے تھے۔ یہ صفت یقیناً انسانیت کی معراج ہے اور آپ ﷺ اکمل الخلق اور احسن الخلق ہونے کی وجہ سے اس معراج کی بھی آخری بلندی پر فائز تھے، لیکن کیا آپ ﷺ کے عطا فرمودہ اسوۂ حسنہ اور راہ عمل نے ہمیں بھی اس عمل کی کبھی تحریک بخشی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسری اور بہت سی اچھی صفات کی مانند اس صفت سے بھی ہم روز بہ روز دور ہوتے جا رہے ہیں۔

اس بعد کی سب سے اہم وجہ ہمارا افسرانہ کلچر ہے، جس میں خود اٹھ کر پانی پینا تو کجا، سامنے میز پر رکھے ہوئے گلاس کو اپنے ہاتھوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں تک لانا بھی خلافِ شان تصور کیا جاتا ہے۔ یہ اندازِ زیست ان سے منتقل ہو کر کلرکوں تک پہنچتا ہے، اور یہ کلاس جب اپنا آئیڈیل عملی طور پر کہیں نہیں پاتی تو گھر میں بادشاہی کے مزے لوٹتی ہے، اور اب دیکھا دیکھی یہ شان ہر طبقے کی کمزوری بن چکی ہے۔ نتیجتاً کوئی شخص بھی ( الا ما شاء اﷲ ) انہیں حدود اور اپنے اپنے دائرۂ کار میں اس وقت تک کچھ کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا، جب تک کہ اس کے سر پر نہ آ پڑے اور اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار ہی نہ رہ جائے۔

یہ صورتِ حالات تو اپنے کام کے بارے میں ہے، رہا دوسروں کے کام آنا، تو اس کا تو تصور بھی امرِ محال ہے۔ بلا ضرورت اور بے لوث طریقے سے دوسروں کے کام آنے کا تخیل بھی عنقا ہو چکا ہے، اور کبھی کہیں کوئی ایسا موقع آ جائے تو سب سے پہلے یہی سوال ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ یہ سوداگرانہ ذہنیت ہماری ایک نہیں کئی ایک برائیوں کی جڑ ہے۔خصوصیت کے ساتھ ہمارا مقتدر طبقہ جس میں حکمران، اہل ثروت، عمائدین، معززین اور سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں اور اہل طریقت بھی اور اہل شریعت بھی یہ سب اگر یہ فیصلہ کر لیں کہ رسول اﷲ  ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے، آج سے دن میں صرف ایک بار بے لوث طریقے سے کسی کے کام آئیں گے اور پھر اپنے اس نیک عمل کو اپنے ذہن سے مٹا دیں گے تو شاید چند ہی روز میں دوسروں کی شکایتیں کرنے والے خود ان کی شان میں رطب اللسان ہو جائیں۔

اس پہلو سے عمل کی راہیں منور کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت شاید ہمارے دین دار طبقے کو ہے، جس کی ذمہ داریاں اس حوالے سے ویسے بھی دو چند ہیں اور ان کا یہ پہلو کئی اعتبار سے کمزور بھی ہے، سو کیوں نہ اس کارِ خیر کا آج ہی سے آغاز کر دیا جائے۔

 اوپر صرف چند بنیادی پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایثار ایسی ہمہ جہت صفت ہے کہ زندگی کے ہر شعبے سے اس کا تعلق نکلتا ہے، غور و فکر کے در وا کیجئے اس کی عملی صورتیں خود بہ خود آپ کے سامنے آتی چلی جائیں گی۔ اﷲ تعالیٰ عمل کی راہ آسان فرمائیں، آمین۔

[1]   مسلم : ج 4، ص 35۔ رقم 2312

[2]   احمد : ج 4، ص 655۔ رقم 16141

[3]   احمد : ج 7، ص 544۔ رقم 26684

[4]   احمد : ج 1، ص 128۔ رقم 597

[5]   احمد : ج 1، ص 171۔ رقم 840

[6]   شرح الزرقانی

[7]   طبقات ابن سعد، ترجمہ خباب

[8]   قاضی عیاض۔ الشفاء

[9]   ابو داود۔ کتاب الادب

[10]   ابو داود۔ کتاب الادب

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s