ان شاء اللہ کے ساتھ مذاق


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : ایس ، اے ، ساگر

صبح سے شام تک انسان اپنی بول چال میں جانے کتنی مرتبہ کوئی وعدہ یا ارادہ کرتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ اس موقع پر یہ یقین کر لیا جائے کہ یہ اللہ کی مرضی کے بغیر بھلا کیسے ہو سکتا ہے، اسی نیت کے ساتھ مختصر سا جملہ ” ان شاء اللہ ” کہنے میں کچھ خرچ نہیں ہوتا ۔لیکن اس کا کیا کیجئے کہ بعض بدنیت قسم کے لوگوں نے اس کلمہ استثنا کو اپنی بد نیتی پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے مثلاً ایک شخص اپنے سابقہ قرضہ کی ادائیگی یا  نئے قرض کے لیے قرض خواہ سے ایک ماہ کا وعدہ کرتا ہے اور ساتھ ان شاء اللہ بھی کہہ دیتا ہے مگر اس کے دل میں یہ بات ہوتی ہے کہ اپنا کام تو چلائیں پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا اور جب مدت مقررہ کے بعد قرض خواہ اپنے قرض کا مطالبہ کرتا ہے تو کہہ دیتا کہ اللہ کو منظور ہی نہ ہوا کہ میرے پاس اتنی رقم آئے کہ میں آپ کو ادا کرسکوں وغیرہ وغیرہ عذر پیش کر دیتا ہے۔ ایسے بد نیت لوگوں نے اس کلمہ استثناء کواس قدر بدنام کر دیا ہے کہ جب کوئی اپنے وعدہ کیساتھ ان شاء اللہ کہتا ہے تو سننے والا فوراً کہتا ہے کہ اس کی نیت بخیر نہیں ہے جبکہ یہ اللہ کی آیات سے بد ترین قسم کا مذاق ہے جس کا کوئی صاحب ایمان شخص تصور بھی نہیں کر سکتا۔

قریش مکہ کے تین تاریخی سوال

در اصل کفار مکہ نے اہل کتاب سے پوچھ کر اور ان کے مشورہ سے آپ ﷺ سے کچھ سوالات پوچھے تھے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ آپ سے قرون گذشتہ کے متعلق کچھ ایسے تاریخی سوال کریں جن کا کم از کم مشرکین مکہ اور عام اہل عرب کو کچھ علم نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس معاملہ میں اہل کتاب کے عالموں سے مدد لی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ ﷺ سے ایسے سوال کرنے سے پتہ چل جائے گا کہ آیا یہ شخص فی الواقع نبی ہیں یا نہیں۔ اگر یہ جواب نہ دے سکے تو نعوذ باللہ آپ ﷺ کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا، اور اگر درست جواب دے دیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ اس کے پاس واقعی کوئی علم غیب کا ذریعہ موجود ہے۔ گویا ان سوالوں سے در اصل ان کا مقصود آپ کی نبوت کا امتحان لینا تھا۔ چنانچہ اہل کتاب نے جو سوالات قریش مکہ کو بتائے ان میں سر فہرست اصحاب کہف کا قصہ تھا پھر دوسرے نمبر پر قصہ موسیٰ و خضرعلیہم السلام اور تیسرے نمبر پر ذو القرنین کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اصحاب کہف کون تھے؟ قصہ خضر کی حقیقت کیا ہے؟ اور ذو القرنین کا کیا قصہ ہے؟ یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا۔ مگر اللہ تعالی نے صرف یہی نہیں کہ اپنے نبی ﷺ کی زبان سے ان کے سوالات کا پورا جواب دیا بلکہ ان کے اپنے پوچھے ہوئے تینوں قصوں کو پوری طرح اس صورتحال پر چسپاں بھی کر دیا جو اس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان در پیش تھی۔

ان شاء اللہ کہنے کی ہدایت

مختصر یہ کہ آپ ﷺ نے انھیں جواب دیا کہ میں کل ان کا جواب دوں گا۔ آپ ﷺ کا خیال یہ تھا کہ دریں اثنا جبرئیل علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ان سے پوچھ کر بتا دوں گا یا اللہ تعالیٰ از خود کل تک بذریعہ وحی مطلع فرما دیں گے۔لیکن متعینہ وقت تک ان دونوں میں کوئی بات بھی نہ ہوئی، پھر چند دن بعد جبرئیل علیہ السلام وحی کے ذریعہ اس سورہ کی آیات لے کر آئے اور ساتھ ہی آپ کے لیے یہ ہدایت بھی نازل ہوئی کہ کسی سے ایسا حتمی وعدہ نہ کیا کریں کہ میں کل تک یہ کام کر دوں گا اور اگر وعدہ کرنا ہی ہو تو ساتھ الا ما شاء اللہ ضرور کہا کریں۔ یعنی کہ اگر اللہ کو منظور ہوا تو فلاں وقت تک فلاں کام کروں گا اور اگر کبھی آپ یہ بات کہنا بھول جائیں تو جس وقت یاد آئے اسی وقت کہہ لیا کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر کام اللہ کی مشیت کے تحت ہی ہوتا ہے لہذا اس بات کو ہر وقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ یہ ہدایت اس لیے دی گئی تھی کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ کل تک یا فلاں وقت تک فلاں کام کرسکے گا یا نہیں، یا کسی کو غیب کا علم حاصل ہے اور نہ کوئی اپنے افعال میں خود مختار ہے کہ جو چاہے کر سکے، لہذا کوئی شخص خواہ پوری صدق دلی اور سچی نیت سے بھی کوئی وعدہ یا مستقبل کے متعلق بات کرے تو اسے ” ان شاء اللہ ” ضرور کہہ لینا چاہئے۔لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اس قدر مہتمم بالشان جملہ کو آج امت نے نہ صرف تقریری بلکہ تحریر طور پر بھی بد ذوقی کا شکار بنا لیا ہے جبکہ قرآن مجید کی یہ 18 ویں سورت مکہ میں نازل ہوئی۔

اللہ کے بھروسہ پر نکلنا

اصحابِ کہف کے متعلق بتایاگیا کہ وہ اسی توحید کے قائل تھے جس کی دعوت یہ قرآن پیش کر رہا ہے، اور ان کا حال مکہ کے مٹھی بھر مظلوم مسلمانوں کے حال سے اور ان کی قوم کا رویہ کفار قریش کے رویہ سے کچھ مختلف نہ تھا۔ پھر اسی قصہ سے اہل ایمان کو یہ سبق دیا کہ اگر کفار کا غلبہ بے پناہ ہو اور ایک مومن کو ظالم معاشرے میں سانس لینے تک کی مہلت نہ دی جا رہی ہو، تب بھی اس کو باطل کے آگے سر نہ جھکانا چاہئے بلکہ اللہ کے بھروسے پر تن بتقدیر نکل جانا چاہئے۔ اسی سلسلے میں ضمناً کفار مکہ کو یہ بھی بتایا کہ اصحاب کہف کا قصہ عقیدہ آخرت کی صحت کا ایک ثبوت ہے۔ جس طرح خدا نے اصحاب کہف کو ایک مدت دراز تک موت کی نیند سلانے کے بعد پھر جلا اٹھایا، اسی طرح اس کی قدرت سے وہ بعث بعد الموت بھی کچھ بعید نہیں ہے جسے ماننے سے تم انکار کر رہے ہو۔ اصحاب کہف کے قصہ سے راستہ نکال کر اس ظلم و ستم اور تحقیر و تذلیل پر گفتگو شروع کر دی گئی جو مکہ کے سردار اور کھاتے پیتے لوگ اپنی بستی کی چھوٹی سی نو مسلم جماعت کے ساتھ برت رہے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک طرف نبی ﷺ کو ہدایت کی گئی کہ نہ ان ظالموں سے کوئی مصالحت کرو اور نہ اپنے غریب ساتھیوں کے مقابلہ میں ان بڑے بڑے لوگوں کو اہمیت دو۔ دوسری طرف ان رئیسوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اپنے چند روز عیش زندگانی پر نہ پھولو بلکہ ان بھلائیوں کے طالب بنو جو ابدی اور پائیدار ہے۔

چار بڑے بڑے ا دوار

اس سورت کا نام پہلے رکوع کی نویں آیت اذ اوی الفتیة الی الکهف سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورت جس میں کہف کا لفظ آیا ہے۔یہاں سے ان سورتوں کا آغاز ہوتا ہے جو مکی زندگی کے تیسرے دور میں نازل ہوئی ہیں۔ مکی زندگی کو چار بڑے بڑے دوروں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کی تفصیل سورہ انعام کے مضمون میں مذکور ہے۔ اس تقسیم کے لحاظ سے تیسرا دور تقریباً 5 نبوی کے آغاز سے شروع ہو کر قریب قریب 10 نبوی تک چلتا ہے۔ اس دور کو جو چیز دوسرے ادوار سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے دور میں تو قریش نے نبی آخر الزماں محمد ﷺ اور آپ ﷺ کی تحریک اور جماعت کو دبانے کے لیے زیادہ تر تضحیک، استہزا، اعتراضات، الزامات، تخویف، اطماع اور مخالفانہ پروپیگنڈے پر اعتماد کر رکھا تھا مگر اس تیسرے دور میں انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار پوری سختی کے ساتھ استعمال کیے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ملک چھوڑ کر حبشہ کی طرف نکل جانا پڑا اور باقی ماندہ مسلمانوں کو اور ان کے ساتھ خود نبی ﷺ اور آپ کے خاندان کو شِعب ابی طالب میں محصور کرکے ان کا مکمل معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کر دیا گیا تاہم اس دور میں دو شخصیتیں : ابو طالب اور ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایسی تھیں جن کے ذاتی اثر کی وجہ سے قریش کے دو بڑے خاندان نبی ﷺ کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ 10 نبوی میں دونوں کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ دور ختم ہوگیا اور چوتھا دور شروع ہوا جس میں مسلمانوں پر مکہ کی زندگی تنگ کر دی گئی یہاں تک کہ آخر کار نبی ﷺ سمیت تمام مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کرنی پڑی۔ سورہ کہف کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تیسرے دور کے آغاز میں نازل ہوئی ہوگی جبکہ ظلم و ستم اور مزاحمت نے شدت تو اختیار کرلی تھی مگر ابھی ہجرت حبشہ واقع نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت جو مسلمان ستائے جا رہے تھے ان کو اصحاب کہف کا قصہ سنایا گیا تاکہ ان کی ہمت بندھے اور انہیں معلوم ہو کہ اہل ایمان اپنا ایمان بچانے کے لیے اس سے پہلے کیا کچھ کر چکے ہیں۔

کفر کا باعث

آج امت کی نہ صرف عام بول چال میں بلکہ تحریر ی اظہار خیال میں بھی اس جملہ کے ساتھ ایسی عدم توجہی پائی جاتی ہے کہ اگر کسی غیر کے ہاتھوں سرزد ہوتی تو غضب ہو جاتا۔ حتی کہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جنہیں ” ان شاء اللہ ” اور ” انشاء اللہ ” کے فرق کا بھی علم نہیں کہ ان میں سے کون سا لفظ درست ہے۔ جبکہ انشاء کا مطلب ہے تخلیق کیا گیا جبکہ اگر انشاء اللہ کا مطلب دیکھا جائے تونعوذبا اللہ اس کا مطلب ہوا کہ اللہ تخلیق کیا گیا۔اس طرح ” انشاء ” کو لفظ ” اللہ ” کے ساتھ لکھنا نہ صرف قطعی طور پر غلط ہے بلکہ کفر کا باعث بھی ہے۔کسی کو شک ہو تو وہ قرآن مجید سے رجوع کر سکتا ہے جس میں متعدد مقامات پر تنہا ” انشاء ” استعمال ہوا ہے۔و هو الذی انشاء لکم المومن 78،العنکبوت 20، اور الواقعہ 35 اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ انشاء کے ساتھ کہیں اللہ نہیں لکھا گیا کیونکہ یہ لفظ الگ معنی رکھتا ہے۔ان شاء اللہ کا مطلب ہے کہ ” اگر اللہ نے چاہا ” جبکہ عربی میں ” ان ” کے معنی ہیں ” اگر "، ” شاء ” کے معنی ہیں ” چاہا ” جبکہ اللہ اسم ذات ہے جس کا مطلب اللہ ہی ہے نیز ” نے ” اس میں مخفی ہے۔

قرآن و حدیث

لہذا ” ان شاء اللہ ” لکھنا درست ہے جیسا کہ کچھ آیات میں بھی واضح ہے جیسا کہ البقرہ 70، یوسف 99، الکہف 69، القصص 27 کی آیات سے ثابت ہے کہ لفظ ان شاء اللہ کا مفہوم ہے کہ ” اگر اللہ نے چاہا ” تو ایسے لکھنا درست ہے جبکہ اس کی مزید وضاحت کے لیے کچھ احادیث بھی پیش کی جا سکتی ہیں جن سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم بھی ان شاء اللہ لکھتے آئے ہیں۔صحیح بخاری 407، صحیح مسلم 295، سنن ابی داود 421 اور ترمذی 1451 احادیث اس کی واضح مثالیں ہیں۔

عربی اور عجمیوں کا فرق

عرب ممالک میں یہ لفظ درست لکھا جاتا ہے لیکن عجمی ممالک میں جہاں عربی نہیں بولی جاتی جن میں بر صغیر ہند، پاک اور بنگلہ دیش وغیرہ ممالک کے مسلمان لوگ کم علمی میں انشاء اللہ لکھتے ہیں جبکہ یہ قطعی طور پر غلط ہے۔ اس خطہ کے لوگ اپنے پیغامات میں ” انشاء اللہ ” لکھ دیتے ہیں جبکہ انہیں ” ان شاء اللہ ” لکھنا چاہئے۔ اللہ پاک کی رحیم و کریم ذات سے امید رکھنی چاہئے کہ وہ انجانے میں مرتکب اس غلطی کو معاف فرما دے کہ وہ بڑا بخشش فرمانے والا ہے۔

ان شاء اللہ کہنے کی خیر

مفتی صاحب سے زید نے رجوع کیا کہ دوسری شادی کرنے کے لیے میں اپنی بیوی کو ایک سال تک راضی کرتا رہا اور اس کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ میری خواہش تھی کہ وہ مجھے دوسری شادی کی اجازت دے، لیکن وہ اس بات کے لیے تیار نہ ہوئی۔ دوسری شادی کی صورت میں اس نے مجھے چھوڑ کر جانے کی دھمکی دی اور مجھ سے قرآن کی قسم لی کہ میں دوسری شادی نہیں کروں گا۔ میں نے مجبوراً قسم کھائی کہ میں نے دوسری شادی نہ کی ہے اور ان شاء اللہ کروں گا بھی نہیں۔ میری ہرقسم کی کوشش کے باوجود جب وہ راضی نہ ہوئی تو میں نے چھپ کر دوسری شادی کرلی۔ دوسری شادی کے بعد میں نے پہلی بیوی سے کہا کہ میرا دوست کچھ دن میرے پاس رہنے آ رہا ہے تم کچھ دنوں  کے لیے اپنی اماں کے گھر چلی جاؤ۔ اس کے جانے کے بعد میں نے دوسری بیوی کو اسی کے کمرے میں ٹھہرایا۔ بات چھپ نہ سکی اور سب کو معلوم ہوگیا کہ میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ہفتہ بھر بعد میں نے دونوں بیویوں کو الگ الگ گھر میں رکھنا شروع کر دیا اور مقدور بھر برابری اور انصاف کا برتاؤ کرتا ہوں۔اب میری پہلی بیوی کے گھر والے کہہ رہے ہیں کہ مجھے ان کی بیٹی سے شادی کرنے سے پہلے بتانا چاہئے تھا کہ میں مستقبل میں دوسری شادی کروں گا۔ ان کے مطابق میں نے انہیں دھوکہ دیا ہے۔ میں نے قرآن کی قسم بھی توڑی ہے۔ دوسری بیوی کو پہلی بیوی کے کمرے ٹھہرا کر میں نے پہلی پر ظلم کیا ہے۔براہ مہربانی راہنمائی کیجئے کہ کیا دوسری بیوی کو پہلی بیوی کے کمرے ٹھہرانا ظلم ہے ؟ جس مجبوری میں، میں نے قسم اٹھائی تھی کیا وہ قسم ہوئی ؟ اور کیا مجھے اس کے توڑنے کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا ؟ اس مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے ؟

کیا ملا جواب؟

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

دوسری بیوی کو پہلی بیوی کے کمرے میں چند دن ٹھہرانے سے پہلی پر کوئی ظلم نہیں ہوا۔ ایسا کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ اگر آپ ایک بیوی کے کہنے پر یا ایک کی وجہ سے دوسری بیوی کو گھر سے نکال دیں یا طلاق دے دیں تو یہ ظلم ہوگا اور عنداللہ آپ کی پکڑ ہوگی۔ اس لیے دونوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے دوسری سے زیادتی نہ کیجئے۔قسم دیتے وقت آپ نے ” ان شاء اللہ ”  کہا جس کی وجہ سے قسم لغو  ہو گئی۔ ایسی قسموں کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہوتا۔ حدیث مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہوئے یوں فرمایاکہ جو کسی بات پر قسم کھائے اور ان شاء اللہ کہے تو اس نے استثناء کرلیا۔[1]

مشروط اجازت

تیسری بات آپ نے پوچھی کہ مذکورہ مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے ؟ اس کے لیے پہلے اس حوالہ سے چند احکام شرعی کا جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ قرآن مجید فرقان حمید میں دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کے لیے عدل و انصاف شرط ہے : النساء 4 : 3 میں وارد ہے کہ ” تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار ( مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے ) پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم ( زائد بیویوں میں )  عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے ( نکاح کرو )۔” بلکہ حدیث مبارکہ میں تو ایک شادی بھی استطاعت کے ساتھ مشروط ہے، اگر کوئی شخص ایک بیوی کی بھی رہائش، کھانا پینا اور دیگر اخراجات پورے نہیں کر سکتا تو اسے روزے رکھنے کا کہا گیا ہے۔

نکاح کی فضیلت

حضرات عبدان، ابو حمزہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ  کے ساتھ تھے تو آپ نے یوں فرمایاکہ تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ نظر کو جھکاتا ہے اور شرمگاہ کے لیے اچھا ہے اور جو ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزہ رکھے کیونکہ یہ شہوت کو گھٹاتا ہے۔[2] اگر آپ دونوں بیویوں کے حقوق پورے کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو رہائش، کھانے پینے، ان کے ساتھ وقت گزارنے اور دیگر معاملات میں عدل و انصاف قائم رکھیں۔ کسی ایک کی طرف زیادہ مائل ہونے کی بجائے دونوں میں برابری کا برتاؤ کریں، ورنہ اس کے بارے میں وعید سنائی گئی ہے۔

حقوق کی تاکید

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف مائل ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ساقط ( گرا ہوا ) ہو گا۔[3] سلیمان بن داود، اسحاق بن راہویہ، عبد اللہ بن علی بن الجارود، علی بن علی بن ابو بکر اور دیگر محدثین نے بھی اس حدیث مبارکہ کو  روایت کیا ہے۔لہٰذا آپ کا فریضہ ہے کہ دونوں بیویوں کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کے درمیان عدل و انصاف قائم کریں۔ ان شاء اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔و اللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

ان شاء اللہ کہنا بھول جائے تو ؟

ایک موقع پرمسئلہ ان شاء للہ کہنے کے ضمن میں تاخیرہو جانے کی صورت میں دریافت کیا گیا ہے کہ اگر ان شاء اللہ کہنا بھول جائے تو کیا اس کےلیے جائز ہے کہ وہ طویل وقت کے بعد کہہ لے ؟

اس کے جواب میں رہنمائی کی گئی ہے کہ الکہف 24 میں اللہ تعالی کا فرمان و اذکر ربک اذا نسیت جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کریں۔

اس آیت میں علماء تفسیر کے دو قول معروف ہیں :

اول قول :

یہ آیت اپنے سے پہلی والی آیت سے متعلق ہے ، اور معنی یہ ہے :

اگر آپ نے کوئی کام کرنے کا کہا لیکن ان شاء اللہ کہنا بھول گئے، پھر آپ کویاد آیا توآپ اس وقت ان شاء اللہ کہہ لیں ، یعنی آپ کوئی بھی کام کرنے کا کہیں تو اسے اللہ تعالی کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے لیے ان شاء اللہ کہنا بھول جائیں تو جب یاد آئے تو کہہ لیں۔ یہی قول ظاہرہے اس لیے کہ اللہ تعالی کا اس سے پہلے والا فرمان اسی پر دلالت کر رہا ہے  :

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاْيۡءٍ إِنِّي فَاعِلٞ ذَٰلِكَ غَدًا ٢٣ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ

” اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز  ہرگز یہ کہنا کہ میں یہ کام کل کروں گا، مگر ساتھ ہی ان شاء اللہ کہہ لینا۔”

جمہور علماء کا قول بھی یہی ہے، اس قول کے قائلین میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور حسن بصری اور ابو العالی رحمہما اللہ تعالی وغیرہ ہیں۔

اصحاب کہف کا قصہ

سورہ الکہف میں یوں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ غار والوں اور کتبہ والوں کا معاملہ ہماری نشانیوں میں سے کوئی بڑی عجیب نشانی تھا ؟ جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تو کہنے لگے! اے ہمارے پروردگار! اپنی جناب سے ہمیں رحمت عطا فرما اور اس معاملہ میں ہماری رہنمائی فرما۔ تو ہم نے انہیں اس غار میں تھپکی دے کر کئی سال تک کے لیے سلا دیا۔ پھر ہم نے انھیں اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ ہر دو فریق میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک حساب رکھتا ہے۔ ہم آپ کو ان کا بالکل سچا واقعہ بتاتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انھیں مزید رہنمائی بخشی اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کر دیا جب انہوں نے کھڑا ہو کر اعلان کیا کہ: 

” ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور الٰہ کو نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو یہ ایک بعید از عقل بات ہوگی۔” ( پھر آپس میں کہنے لگے ) "یہ ہماری قوم کے لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو الٰہ بنا رکھا ہے تو پھر یہ ان کے الٰہ ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر تہمت لگائے۔ اور اب جبکہ تم لوگوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے اور ان کے معبودوں سے جنہیں یہ لوگ پوجتے ہیں، کنارہ کر ہی لیا ہے تو آؤ اس غار میں پناہ لے لو، تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے معاملہ میں آسانی پیدا کردے گا۔ آپ دیکھیں گے کہ جب سورج نکلتا ہے تو ان کی غار سے دائیں طرف سے ہٹا رہتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو بائیں طرف کترا کر غروب ہوتا ہے اور وہ نوجوان اس غار کی وسیع جگہ میں لیٹے ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پا سکتا ہے اور جسے وہ بھٹکا دے تو آپ اس کے لیے ایسا کوئی مددگار نہ پائیں گے جو اسے راہ راست پر لا سکے۔ ( اے مخاطب تو انہیں دیکھے تو ) سمجھے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں۔ ہم ان کی دائیں اور بائیں کروٹ بدلتے رہتے ہیں اور ان کا کتا اس غار کے دہانے پر اپنے بازو پھیلائے ہوئے ہے۔ اگر تو انہیں جھانک کر دیکھے تو دہشت کے مارے بھاگ نکلے۔ اسی طرح ہم نے انھیں اٹھایا تاکہ وہ آپس میں کچھ سوال جواب کریں۔ ان میں سے ایک نے کہا : ” بھلا تم کتنی مدت اس حال میں پڑے رہے؟ ” ان میں سے کچھ نوجوانوں نے کہاکہ: ” یہی کوئی ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔” اور بعض نے کہاکہ "یہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ تم کتنی مدت اس حال میں پڑے رہے۔ اب یوں کرو کہ اپنا چاندی کا روپیہ ( سکہ ) دے کر کسی ایک کو شہر بھیجو کہ وہ دیکھے کہ صاف ستھرا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ آپ کے لیے کچھ کھانے کو لائے اور اسے نرم رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کو آپ لوگوں کا پتہ چل جائے۔ کیونکہ اگر ان لوگوں کا تم پر بس چل گیا تو یا تو تمہیں سنگسار کر دیں گے یا پھر اپنے دین میں لوٹا لے جائیں گے۔ اندریں صورت تم کبھی فلاح نہ پاسکو گے۔ اس طرح ہم نے لوگوں کوان نوجوانوں پر مطلع کر دیا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت بپا ہونے میں کوئی شک نہیں جبکہ وہ آپس میں ان نوجوانوں کے معاملہ میں جھگڑا کر رہے تھے۔ آخر ان میں سے کچھ لوگ کہنے لگے کہ یہاں ان پر ایک عمارت بنا دو۔ ان کا معاملہ ان کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے۔ مگر جو لوگ اس جھگڑے میں غالب رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو یہاں ان پر مسجد بنائیں گے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نوجوان تین تھے، چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ یہ کہتے ہیں کہ وہ پانچ تھے، چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں۔ اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ آپ ان سے کہئے کہ میرا پروردگار ہی ان کی ٹھیک تعداد جانتا ہے جسے چند لوگوں کے سوا دوسرے نہیں جانتے۔ لہذا آپ سرسری سی بات کے علاوہ ان سے بحث میں نہ پڑئیے اور ان کے بارے میں کسی سے کچھ پوچھئے نہیں۔ نیز کسی چیز کے متعلق یہ کبھی نہ کہئے کہ میں کل یہ ضرور کر دوں گا۔اِلا یہ کہ اللہ چاہے۔ اور اگر آپ بھول کر ایسی بات کہہ دیں تو فوراً اپنے پروردگار کو یاد کیجئے اور کہئے کہ: امید ہے کہ میرا پروردگار اس معاملہ میں صحیح طرز عمل کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔ وہ نوجوان اپنے غار میں تین سو سال ٹھہرے رہے اور ( کچھ لوگوں نے ) نو سال زیادہ شمار کئے۔ آپ ان سے کہئے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے جتنی مدت وہ ٹھہرے رہے، اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں معلوم ہیں۔ وہ کیا ہی خوب دیکھنے والا اور سننے والا ہے۔ ان چیزوں کا اللہ کے سوا کوئی کارساز اور منتظم نہیں اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔”

حالات سے مطابقت

اللہ تعالیٰ نے ان تین سوالوں کا جواب ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ ایسے امور کی بھی ساتھ ساتھ وضاحت کر دی ہے جو انسانی ہدایت کےلیے نہایت ضروری ہیں جیساکہ قرآن کریم کے انداز بیان کا خاصہ ہے علاوہ ازیں ان قصوں کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ جو بہت حد تک قریش مکہ کے حالات سے مطابقت رکھتے تھے۔

اصحاب کہف کاغار میں پناہ لینا

عام روایات، کتب سیر اور قرآن کریم کے اشارہ کے مطابق یہ نوجوان سات تھے توحید پرست تھے اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کے معاشرہ میں ہر سو شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا اس وقت کا رومی بادشاہ دقیانوس Decius خود بت پرست اور مشرک تھا عیسائیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے معاملہ میں اس کا عہد بہت بدنام ہے۔ ان ایام میں عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث تا ہنوز وضع نہیں ہوا تھا یہ عقیدہ مدتوں بعد چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا لہذا ان ایام میں عیسائی توحیدپرست ہی ہوتے تھے ان نوجوانوں نے جب دیکھا کہ توحید پرستوں پر کس طرح سختیاں کرکے انہیں شرک و بت پرستی پر مجبور کیا جا رہا ہے تو انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے مناسب یہی سمجھا کہ لوگوں کی نظروں سے روپوش ہو جائیں چنانچہ انہوں نے ایک پہاڑ کی ایک کھلی غار میں روپوش ہو جانے پر اتفاق کر لیا اور اپنے گھر بار چھوڑ کر منتخب کردہ غار میں جا پناہ لی اور یہ طے کیا کہ ہم میں سے باری باری ایک شخص اپنا بھیس بدل کر شہر جایا کرے وہاں سے کچھ کھانے کو بھی لے آئے اور اپنے متعلق لوگوں کی چہ میگوئیاں بھی سن آئے اور موجودہ صورتحال سے باقی ساتھیوں کو بھی مطلع کرتا رہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اللہ سے دعا بھی کرتے جاتے تھے کہ ہمیں اس معاملہ میں ثابت قدم رکھ اور ہم پر اپنی رحمت فرما اور ہماری صحیح رہنمائی کے سامان بھی مہیا فرما۔

دعا کی قبولیت اور طویل مدت کے لیے نیند

یہ لوگ غار میں داخل تو اس نیت سے ہوئے تھے کہ گاہے گاہے ان میں سے ایک شخص بھیس بدل کر اشیائے خوردنی لایا کرے گا اور یہ معلوم کرے گا کہ اب ان کے متعلق لوگوں میں کیا چرچا ہو رہا ہے اور حالات کس رخ پر جا رہے ہیں مگر ہوا یہ کہ جب یہ لوگ اللہ سے دعا کرتے ہوئے غار میں داخل ہوئے تو آرام کرنے کی خاطر وہاں لیٹ گئے تو اللہ نے ان پر ایک طویل مدت کے لیے نیند طاری کر دی اور ان کے کانوں پر یوں تھپکی دی جیسے ماں بچے کو تھپک تھپک کر سلاتی ہے چنانچہ وہ سالہا سال تک اسی طرح پڑے سوئے رہے اور یہ ان کی دعا کی قبولیت کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے انہیں طویل مدت تک سلا کر حکومت کے ظلم و تشدد سے انھیں نجات دلائی۔

ایمان پر ڈٹ جانا

اسی حالت میں سوئے ہوئے انہیں صدیاں گزر گئیں پھر جب اللہ نے چاہا انہیں بیدار کر دیا۔ بیدار کرنے کے بعد ان کا آپس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ہم کو اس حالت میں سوئے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہوگا ؟ اس مدت کے تعین میں ان میں اختلاف واقع ہو گیا اس لیے کہ ان کے پاس یہ مدت معلوم کرنے یا اس کی تعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا سوا اس کے کہ وہ دھوپ سے وقت کے متعلق کچھ اندازہ کرسکیں۔ مزید رہنمائی سے مراد اپنے ایمان پر ڈٹ جانا ہے جیساکہ اگلی آیت میں ان کے اعلان سے معلوم ہو رہا ہے انہیں زبان سے کفر و شرک کا کلمہ کہنا اس قدر دشوار تھا کہ انہوں نے ایسی بات کہنے پر اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑنے کو ترجیح دی اور سوسائٹی کی نظروں سے روپوش ہو گئے۔

شرکیہ رسوم و رواج

جس زمانہ میں ان توحید پرست نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی اس وقت شہر اِفسْس جس کے یہ لوگ باشندے تھے، ایشیائے کوچک میں بت پرستی اور جادوگری کا سب سے بڑا مرکز تھا وہاں ڈائنا دیوی کا ایک عظیم الشان مندر تھا جس کی شہرت تمام دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور دور دور سے لوگ اس کی پوجا پاٹ کے لیے آتے تھے۔ وہاں کے جادوگر، عامل، فال گیر اور تعویذ لکھنے والے دنیا بھر میں مشہور تھے۔ شام و فلسطین اور مصر تک ان کا کاروبار چلتا تھا اور اس کاروبار میں یہودیوں کا بھی خاصا حصہ تھا  جو اپنے فن کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے شرک اور اوہام پرستی کے اس ماحول میں توحید پرستوں کا جو حال ہو رہا تھا اس کا اندازہ اس فقرے سے کیا جا سکتا ہے جو اگلے رکوع میں آ رہا ہے کہ اگر انہیں ہم پر اختیار مل گیا تو وہ لوگ یا تو ہمیں سنگسار کر ڈالیں گے یا پھر ہمیں اسی بت پرستی اور شرک والے مذہب میں واپس چلے جانے پر مجبور کر دیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں اپنے دامن رحمت میں لے کر صدیوں تک ان پر نیند طاری کر دی اور جب جاگے تو یہ توحید اور توحید پرستوں کا دشمن بادشاہ دقیانوس مر کھپ چکا تھا اور جو موجودہ بادشاہ تھا اس نے عیسائیت کا مذہب قبول کر لیا تھا اس بادشاہ کا نام قیصر تھیوڈوسیس Theodosius ثانی بتایا جاتا ہے۔ اس کے دور میں پوری رومی سلطنت نے عیسائیت کا مذہب قبول کر لیا تھا لہذا اب توحید پرستوں پر کوئی ایسی سختی نہ رہی تھی جو دقیانوس کے زمانہ میں تھی۔

غار کا محل وقوع

اس غار کا منہ شمال کی جانب تھا اور دوسری طرف کچھ چھوٹے موٹے سوراخ تھے لیکن وہ اتنے تنگ تھے کہ ان میں سے آدمی گزر نہیں سکتا تھا اس طرح غار میں ہوا کی آمدو رفت بھی رہتی تھی اور گاہے گاہے سورج کی روشنی اور دھوپ بھی اندر پہنچ جاتی تھی لیکن چونکہ اس کا دہانہ شمال کی جانب تھا لہٰذا دھوپ کی شدت اور تمازت سے یہ لوگ بالکل محفوظ تھے۔ سانس لینے کے لیے جس قدر تازہ ہوا یا آکسیجن کی ضرورت تھی وہ بھی انہیں مہیا ہو رہی تھی اور صحت کے لیے جتنی دھوپ ضروری تھی وہ بھی چھوٹے موٹے سوراخ سے اندر پہنچ جاتی تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ان توحید  پرستوں کو ایسے غار کی جانب رہنمائی کر  دینا پھر انہیں صدیوں تک سلائے رکھنا یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے تعلق رکھتی ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں راہ ہدایت پر ثابت قدم رکھا بلا شبہ جو شخص راہ ہدایت پر ڈٹ جانے کا عزم کر لیتا ہے تو اللہ اس کے لیے کوئی راہ پیدا فرما دیتا ہے جس سے اس کی مشکل آسان ہو جاتی ہے۔

پہرہ دار کتا

اگرچہ ان لوگوں پر گہری نیند کا غلبہ تھا تاہم ان کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں جس سے دیکھنے والے کو یہ شبہ پڑتا تھا کہ وہ جاگ رہے ہیں سوئے ہوئے نہیں ہیں پھر غار کے دہانے پر ان کا محافظ کتا بھی ایسے بیٹھا تھا جیسے جاگنے کی حالت میں کتے بیٹھتے ہیں۔ اس کی آنکھیں بھی کھلی تھیں اور ادھر سے کسی کا گزر ہوتا تو اسے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ غار کے اندر کوئی ڈاکو چھپے بیٹھے ہیں اور یہ کتا ان کی رکھوالی کر رہا ہے اگر کوئی ان کے نزدیک گیا تو یہ کتا پھاڑنے اور کاٹنے کو آئے گا اور اس کی آواز سے اس کا مالک خبردار ہو کر ممکن ہے حملہ کر دے گویا یہ ایسا وحشت ناک منظر اور تصور تھا کہ وہاں کوئی نزدیک جانے کی جرات بھی نہ کرتا تھا اور نیند کے اس طویل عرصہ کے دوران ان کی کیفیت بالکل ویسی ہی تھی جیسے ایک عام حالت میں سونے والے کی ہوتی ہے اور وہ حسب ضرورت اور بہ تقاضائے جسم نیند کی حالت میں دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں اپنی کروٹ بدلتا رہتا ہے۔

طویل نیند کے بعد بیداری

جس طرح ہم نے مشکل وقت میں ان پر ایک طویل عرصہ کے لیے نیند طاری کی تھی۔ اسی طرح جب حالات ان کے حق میں ساز گار ہوئے تو انہیں جگا بھی دیا جاگنے پر سب سے پہلا سوال جو ان کے ذہن میں آیا یہ تھا کہ ہم کتنا عرصہ سوئے رہے۔ انہوں نے اس عرصہ کو عام حالات پر قیاس کیا کہ انسان خواہ کتنا ہی تھکا ماندہ ہو ایک دن سے زیادہ سو نہیں سکتا جبکہ عام حالات میں یہی کوئی آٹھ نو گھنٹے سو لیتا ہے۔ لہذا کسی نے کہا کہ ہم دن بھر سوئے رہے ہیں اور کسی نے کہا اتنا کب سوئے ہیں بس کوئی چند گھنٹے ہی سوئے ہوں گے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آخر اس بحث کا کوئی فائدہ بھی ہے ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ ہم اس مدت کی صحیح تعیین کرسکیں یہ بات اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اب جو کرنے کا کام ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں بھوک ستا رہی ہے لہذا کھانا لانے کے لیے کسی کو شہربھیجو جو کسی صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھنے والے دکاندار سے کھانا لائے اور جو شخص بھی شہر جائے وہ بھیس بدل کر جائے اور اس سکہ کے بدلے جو کچھ بھی مل سکے وہ لے آئے۔ دوکاندار سے کچھ جھگڑا نہ کرے نہ کسی دوسرے آدمی سے کوئی بات یا جھگڑا کرے اور اگر اس نے ایسا نرم رویہ اختیار نہ کیا تو ممکن ہے کہ لوگوں کو ہمارا پتہ چل جائے تو وہ ہمارے لیے کوئی نئی مصیبت کھڑی کر دیں گے اور پہلے کی طرح ہمیں بت پرستی پر مجبور کر  دیں گے یا ہماری جان کے لاگو بن جائیں گے۔

سازگارحالات

جب کھانا لانے والا شخص شہر پہنچا تو وہاں دنیا ہی بدل چکی تھی۔ لوگوں کے تہذیب و تمدن، لباس اور وضع قطع میں نمایاں فرق واقع ہوچکا تھا۔ زبان میں خاصا فرق پڑ گیا تھا اور جب لوگوں نے اس نوجوان کو دیکھا تو سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے لیکن وہ ان سے گریز کرتا رہا پھر جب اس نے کھانا خریدنے کے وقت کئی صدیاں پہلے کا سکہ پیش کیا تو دوکاندار اور آس پاس والے سب آدمی اس نوجوان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگے ۔انھیں یہ شبہ ہوا کہ شاید اس شخص کو پرانے زمانے کا کوئی دفینہ مل گیا ہے، چنانچہ اسی شک و شبہ کی بنا پر لوگوں نے اسے پکڑ کر حکام بالا کے سامنے پیش کر دیا اور جب اس نوجوان نے بھی اپنا بیان دیا تو یہ معاملہ کھلا کہ یہ تو وہی پیروان مسیح ہیں جو کئی صدیاں پیشتر یکدم روپوش ہو گئے تھے اور جن کا ریکارڈ اب تک سرکاری دفتروں میں منتقل ہوتا چلا آ رہا تھا۔ یہ خبر آناً  فاناً ساری عیسائی آبادی میں پھیل گئی جس بات سے وہ لوگ بچنا چاہتے تھے اللہ نے سب لوگوں کو ان کے حال سے با خبر کر دیا۔ فرق یہ تھا کہ جب وہ مفرور اور روپوش ہوئے تھے اس وقت وہ معاشرہ اور حکومت کے مجرم تھے لیکن اس وقت وہ سب کی نظروں میں اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنے والے اور محترم تھے۔ راجح قول ہے کہ کھانا لانے والا بھی واپس غار میں چلا گیا وہ پھر پہلے کی طرح لیٹ گئے۔

اللہ اسباب کے پابند نہیں

اس واقعہ کا پہلا سبق یہ ہے کہ اگر خارج میں بد ترین ماحول ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتے ہیں اور اس میں وہ اسباب کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ ماورائے اسباب بھی اپنے بندوں کی مدد کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے یہ دنیا اسباب کے اصول پر بنائی تو ضرور ہے مگر وہ اس کے پابند نہیں۔ اسی طرح اسباب کی وجہ سے خدا کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ تو اسباب سے بلند تر ہے اور بار بار مداخلت کرکے یہ بتاتا رہتا ہے کہ یہاں اسباب سے بلند تر ایک ہستی موجود ہے۔

آخرت کو نہ بھولیں

یہ دنیا کی زندگی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل زندگی نہیں بلکہ وہ زندگی موت کے بعد شروع ہو گی جب سارے مردے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اصحاب کہف کا واقعہ اس بات پر یقین کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ چنانچہ تہذیب جدید کے اسباب اور دنیا کی رنگینیوں میں کھوکر خدا اور آخرت کوبھول جانے کا رویہ قطعاً درست نہیں۔ بلکہ ہر مشکل کو جھیل کر خدا پر بھروسہ کرکے اس کی پسند کی زندگی گزارنا ہی اصل مقصود ہے۔

فضول بحث سے اجتناب کا حکم

اصحاب کہف سے متعلق ایک بحث یہ بھی چھڑی ہوئی تھی کہ ان کی تعداد کتنی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بحث میں دلچسپی لینے سے منع فرما دیا اور یہ بھی فرما دیاکہ یہ بات کسی اور سے بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بحث اس لحاظ سے بالکل بے کار ہے کہ اس پر کسی عمل کی بنیاد نہیں اٹھتی۔ اسی سلسلہ کلام میں قصہ خضر و موسیٰ علیہم السلام کچھ اس انداز سے سنایا گیا کہ اس میں کفار کے سوالات کا جواب بھی تھا اور مومنین کےلیے سامان تسلی بھی۔ اس قصہ میں در اصل جو سبق دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت کا کارخانہ جن مصلحتوں پر چل رہا ہے وہ چونکہ تمہاری نظر سے پوشیدہ ہیں اس لیے تم بات بات پر حیران ہوتے ہو کہ یہ کیوں ہوا ؟ یہ تو بڑا غضب ہوا !  حالانکہ اگر پردہ اٹھا دیا جائے تو تمہیں خود معلوم ہو جائے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے ٹھیک ہو رہا ہے اور بظاہر جس چیز میں برائی نظر آتی ہے، آخر کار وہ بھی کسی نتیجہ خیر ہی کے لیے ہوتی ہے۔

بھروسہ کے لائق صرف اللہ

اس کے بعد قصہ ذو القرنین ارشاد ہوتا ہے اور اس میں سائلوں کو یہ سبق دیا  جاتا ہے کہ تم اپنی اتنی ذرا ذرا سی سرداریوں پر پھول رہے ہو حالانکہ ذو القرنین اتنا بڑا فرمانروا اور ایسا زبردست فاتح اور اس قدر عظیم الشان ذرائع کا مالک ہو کر بھی اپنی حقیقت کو نہ بھولا تھا اور اپنے خالق کے آگے ہمیشہ سرِ تسلیم خم رکھتا تھا۔ نیز یہ کہ تم اپنی ذرا ذرا سی حویلیوں اور باغیچوں کی بہار کو لازوال سمجھ بیٹھے ہو، مگر وہ دنیا کی سب سے زیادہ مستحکم دیوارِ تحفظ بنا کر بھی یہی سمجھتا تھا کہ اصل بھروسے کے لائق اللہ ہے نہ کہ یہ دیوار۔ اللہ کی مرضی جب تک یہ دیوار دشمنوں کو روکتی رہے گی اور جب اس کی مرضی کچھ اور ہوگی تو اس دیوار میں رخنوں اور شگافوں کے سوا کچھ نہ رہے گا۔اس طرح کفار کے امتحانی سوالات کو انہی پر پوری طرح الٹ دینے کے بعد خاتمہ کلام میں پھر انہی باتوں کو دہرا دیا گیا ہے جو آغاز کلام میں ارشاد ہوئی ہیں، یعنی کہ توحید اور آخرت سراسر حق ہیں اور تمہاری اپنی بھلائی اسی میں ہے کہ انہیں مانو، ان کے مطابق اپنی اصلاح کرو اور خدا کے حضور اپنے آپ کو جوابدہ سمجھتے ہوئے دنیا میں زندگی بسر کرو۔ ایسا نہ کرو گے تو تمہاری اپنی زندگی خراب ہوگی اور تمہارا سب کچھ کیا کرایا اکارت جائے گا۔ اس تحریر کے ذریعہ اگر ” انشاء اللہ ” کی وہ عظمت نصیب ہو گئی جو اللہ کو مطلوب ہے تو نہ صرف مطالعہ کی بلکہ لکھنے والی کی بھی گویا محنت وصول ہو گئی !

( بصیرت فیچرس )

*–*–*–*–*–*

[1]   احمد بن حنبل، المسند، 2 : 10، رقم: 4581، موسسۃ قرطبۃ، مصر،ابو داود، السنن، 3: 225، رقم: 3261، دار الفکر، ترمذی، السنن، 4: 108، رقم: 1531، دار احیاء التراث العربی

[2]   بخاری، الصحیح، 2: 673، رقم: 1806، دار ابن کثیر الامامۃ بیروت‘مسلم، الصحیح، 2: 1019، رقم: 1400، دار احیاء التراث العربی بیروت‘احمد بن حنبل، المسند، 1: 378، رقم: 3592‘ابو داؤد، السنن، 2: 219، رقم: 2046‘ابن ماجہ، السنن، 1: 592، رقم: 1845، دار الفکر بیروت

[3]   احمد بن حنبل، المسند، 2: 347، رقم: 8549، ابن ماجہ، السنن، 1: 633، رقم: 1969‘ابن حبان، الصحیح، 10: 7، رقم: 4207، موسسۃ الرسالۃ بیروت‘ابن ابی شیبۃ، المصنف، 4: 37، رقم: 17548، مکتبۃ الرشد الریاض‘بیہقی، السنن الکبری، 7: 297، رقم: 14515، مکتبۃ دار الباز مکۃ المکرمۃ

Advertisements

One thought on “ان شاء اللہ کے ساتھ مذاق

  1. محترمی و مکرمی

    سلامِ مسنون

    مندجہ زیل مکالمہ اردو فیڈز سے لیا گیا ہے. بلاگ پوسٹ پر اپنی رائے دینے کے
    لیئے اس کا شافی بخش جواب درکار ہے. برائے مہربانی جلد از جلد میری جی میل آئی
    ڈی پر بھیجیئے گا.

    شکریہ

    نازنین خان
    knazneen876@

    Quote
    گنجائشِ ترجمہ و تفسیر پر ایک چھوٹا سا مکالمہ

    بلاگستان فیڈز / ساجد قلم / 3 hours ago

    ڈاکٹر خضر یاسین صاحب، صاحبِ فکرو دانش ہیں، حقیقی سچ کی تلاش میں ان کی
    جدوجہد اور کوشش کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ایک بار عامر ہاشم خاکوانی
    صاحب نے اپنی پوسٹ میں ان کا ذکرِ خیر کیا تو ان کے حلقہِ دوستانِ فیس بک میں
    شامل ہونے کا شوق پیدا ہوا، خوش قسمتی سے ڈاکٹر عاصم اللہ بخش صاحب نے انہیں
    اگلے دن اسی پوسٹ کے کمنٹ میں ٹیگ کیا تو یہ شوق پورا ہو گیا- ان سے وقتاً
    فوقتاً کمنٹ باری چلتی رہتی ہے، ان سے بات کر کے ہمیشہ چیزوں کو دیکھنے کے
    مختلف زاویے پیدا ہوتے ہیں، ان سے آج ایک چھوٹا سا مکالمہ ہوا جسے بحثِ عامہ
    کیلئے یہاں پیش کر رہا ہوں

    ڈاکٹر صاحب: قرآن مجید کے ترجمہ, تفسیر اور خلاصہ کو قبول کرنا درحقیقت حضرت
    رسول اللہ علیہ السلام کی نبوت پر غیر کے تصرف کو قبول کرنا ھے.خبر بگیر کہ
    آواز تیشہ و دل است

    راقم: ترجمہ، تفسیر کو قائم مقام نہیں قبول کیا جا سکتا، لیکن فہم میں اس موقف
    کو تسلیم کر لینا گویا سمجھ اور علم کے دائرے کو حد درجہ تک محدود کرنا ہے

    ڈاکٹر صاحب: آپ بالکل درست سمجھے ھیں, یہاں سمجھ اور علم وھی ھے جو کچھ کتاب
    اللہ میں ھے بس وھی سمجھا جائے تو علم ھے ورنہ بے کار ھفوات ھیں.

    راقم: لیکن ایک سمجھ یا فہم کا نام ہی تفسیر ہے، کیونکہ تمام عقل انسانی برابر
    نہیں، اس لیے تفسیر و ترجمہ کی موجودگی کی گنجائشیں خود بخود پیدا ہو جاتی ہین

    ڈاکٹر صاحب: جس معنی کا ابلاغ متن نے کیا ھے اسی معنی کو دوبارہ بیان کرنے کی
    ضرورت فقط اس وقت پیش آتی ھے جب متن کو ابلاغ معنی میں ناکافی فرض کر لیا جاتا
    ھے. از سرے نو اسی معنی کو بیان کرنا اس بات کی علامت ھے کہ متن ناکام ھے یا
    از سرے نو بیان کرنے والا غلط ھے.

    راقم: اگر آپ کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ متن کو معنی دینے سے اس از
    سر نو بیان کی شکل پیدا ہو جاتی ہے تو فہم اور سمجھ کو آپ کس جگہ ٹھہرائیں گے؟
    یا متن کے ابلاغ کی حیثیت کیا ہوگی؟

    ڈاکٹر صاحب: متن بالذات ابلاغ ھے, آپ میری اس تحریر کو سمجھ رھے ھیں اور میرے
    مدعا کو از سرے نو بیان کرنے کی ضرورت نہیں. فہم انسانی کے لیے تحریر اور
    تقریر وسائل ابلاغ ھیں. تحریر و تقریر کو از سرے جدید تصنیف و تقریر میں لے
    آنا الگ شے ھے.

    راقم: میں آپ کی بات بالکل سمجھ چکا ہوں، اس کے باوجود فہم انسانی کو ضبط
    تحریر میں لانے کی گنجائش پھر بھی محسوس کرتا ہوں اس قطعی شرط کے ساتھ کہ وہ
    متن کا قائم مقام نہیں ہوتا چاہے جتنا مرضی قریب ہو جائے-

    ڈاکٹر صاحب: جزاک اللہ الخیر, انسان کے ذھنی محصولات ایک حقیقت ھیں, میں اس کا
    انکار نہیں کر رھا. مشکل یہ ھے کہ انہیں کس اعتبار اور لحاظ سے کلام اللہ کا
    آسان تر ابلاغ قبول کیا جائے؟

    راقم: دیکھیں جی آپ کا مقدمہ یہ ہے کہ ایک ہے متن جو انسان کو ایک فہم عطا
    کرتا ہے، پھر ایک فہم یا ترجمہ، تحریر کی شکل میں ڈھال دیا جائے تو وہ دوبارہ
    ویسا ہی عامل بن جاتا ہے جیسا کہ متن تھا- لیکن میں فہم یا ترجمے کو متن کے
    بجائے ایک فہم کی تحریری شکل تک محدود رکھ رہا ہوں جو کسی دوسرے انسان کے فہم
    میں معاون بن سکتی ہے- اس کی گنجائش تو خود صفہ کے چبوترے سے پیدا ہو گئی تھی
    اور وہ بھی ایسی صورت کہ قرآن کی زبان اور انسان کی زبان میں بھی کوئی فرق
    نہیں تھا- آخر ایک دوسری زبان کے حامل انسان کے لیے یہ گنجائش کیسے نا معقول
    کہی جا سکتی ہے.
    Unquote
    On 24 Jan 2016 21:43, "Al Waqia Magazine”
    wrote:

    > mtanzeel44 posted: "الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی 1437ھ از قلم : ایس ، اے
    > ، ساگر صبح سے شام تک انسان اپنی بول چال میں جانے کتنی مرتبہ کوئی وعدہ یا
    > ارادہ کرتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ اس موقع پر یہ یقین کر لیا جائے کہ یہ اللہ
    > کی مرضی کے بغیر بھلا کیسے ہو سکتا ہے، اسی نیت کے ساتھ ”
    >

    پسند کریں

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s