مولانا عبد السمیع جعفری صادق پوری


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

علمی و دینی حلقوں میں یہ خبر یقیناً حزن و ملال کے ساتھ سنی جائے گی کہ امارت اہل حدیث صادق پور پٹنہ ( ہند ) کے امیر ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے رکن ، ابو الکلام آزاد بیداری سینٹر کے رکن اور متعدد دینی و فلاحی اداروں و انجمنوں کے سرپرست و رکن مولانا عبد السمیع جعفری صادق پوری 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب کو انتقال فر ما گئے۔ وہ صادق پور کے مشہور انام مجاہد خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ انگریز دشمنی میں یہ خاندان خصوصی شہرت رکھتا تھا۔ سیّد احمد شہید کے شہادت کے بعد اسی خاندان کے معزز اراکین نے تحریک جہاد کی باگ دوڑ سنبھالی۔ مولانا ولایت علی ، مولانا عنایت علی ، مولانا عبد اللہ ، مولانا عبد الکریم وغیرہم جماعت مجاہدین کے امیر بنے۔ اندرونِ ہند بھی اسی خاندان کے دیگر اراکین نے تحریک کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ مولانا یحیٰ علی ، مولانا احمد اللہ ، مولانا عبد الرحیم کو اسی پاداش میں کالا پانی کی سزا ہوئی۔ انگریزوں نے ان پر سازش کے مقدمات قائم کیے۔ جائیدادوں کی ضبطی ہوئی۔ حتیٰ کہ خاندانی قبرستان تک کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کی  مجاہدانہ ترکتازیوں کا اعتراف ہر طبقہ فکر نے کیا۔ مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب ” جب ایمان کی بَہار آئی ” میں لکھتے ہیں :

” یہ پوری تاریخ مہم جوئیوں اور قربانیوں اور ایسے حوادث و مصائب اور ایذا رسانی و بربریت کی داستان ہے، جس کو سن کر رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، یہ مسلسل جنگوں اور معرکہ آرائیوں کا سلسلہ تھا۔ جو قتل و غارت گری ، املاک و جائیداد کی ضبطی ، طویل مقدمات ، جلا وطنی اور اخراج اور ایسی تحقیق و تفتیش پر مشتمل تھا جو قرون وسطی میں یورپ کی عدالتوں کے ساتھ مخصوص تھا اگر جاں نثاری ، ایثار و قربانی اور ہمت و جوانمردی کے وہ سارے کارنامے جو اس ملک کے جہاد حریت اور قومی آزادی کی تاریخ سے متعلق ہیں ۔ ایک پلرہ پر رکھے جائیں اوراہل صادق پور ( خاندان مولانا ولایت علی عظیم آبادی ) کے کارنامے اور قر بانیاں ایک پلرہ میں تو آخر الذکر کا پلرہ نمایاں طو ر پر بھاری ہوگا۔” ]جب ایمان کی بہار آئی : 256  [

مولانا عبد السمیع کے والد محترم مولانا حکیم عبد الخبیر ہندوستان کے مشہورِ عالم دین تھے۔ مولانا عبد الخبیر کے دادا مولانا احمد اللہ اور نانا مولاناعبد الرحیم کو انگریزوں نے کالا پانی کی سزا دی تھی۔ مولانا احمد للہ نے کالا پانی ہی میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے ۔ مولانا عبد الرحیم اپنی سزا بھگت کر 18 سال بعد رہا ہوئے اور پٹنہ واپس آئے۔ واپس آکر انہوں نے اپنی وہی رَوش دوبارہ اختیار کی اور بالاتفاق تحریک جہاد اندرون ہند کی ذمہ داریاں سنبھالنے لگے۔ 1924ء میں مولانا عبد الرحیم کی وفات ہوئی انہوں نے اپنے نواسے مولانا عبد الخبیر کو اپنا جانشین بنایا۔مولانا عبد الخبیر مشہور مجاہد آزادی تھے۔ اخلاص و للّٰہیت میں اپنے آباء کے وارث تھے۔ تقسیم ہند کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو اور مولانا ابو الکلام آزاد پٹنہ میں ان کے مطب میں ان سے ملنے آئے۔ گاندھی جی نے مولانا سے کہا کہ آپ کے آباء و اجداد نے جو قربانیاں دی ہیں وہ نا قابلِ فراموش ہیں ان کا صلہ تو نہیں دیا جا سکتا مگر یہ ایک لاکھ روپے کی رقم ، آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں اسے قبول کیجیے۔ مولانا کا کمالِ استغنا ملاحظہ کیجیے کہ انہوں نے یہ رقم واپس کر دی اور کہا  کہ ہمارے آباء و اجداد نے یہ قربانیاں اللہ کی رضا کی خاطر دی تھیں اس لیے میں ان قربانیوں کا کوئی بھی معاوضہ نہیں لے سکتا۔ ایسی بے غرضی و للّٰہیت یقیناً ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔

مولانا عبد السمیع 14 ستمبر 1936ء  کو صادق پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم والد مولانا عبد الخبیرؒ سے حاصل کرنے کے بعد اپنے آبائی مدرسے مدرسہ اصلاح المسلمین پتھر کی مسجد پٹنہ سے سند فراغت حاصل کی۔ دار العلوم ندوۃ العلماء سے عربی ادب میں تخصص کیا۔ مدرسہ اصلاح المسلمین پٹنہ سے تدریسی زندگی کا آغاز کیا، لیکن جلد ہی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور چار سال تک وہاں اعلی تعلیم کے حصول میں لگے رہے۔

 ان کی صلاحیتوں کے جوہر کھلے تو سعودی حکومت نے انہیں دعوت و ارشاد کی غرض سے نائجیریا بھیج دیا۔ لیکن  اپنے بچوں کی صحیح دینی تربیت کے پیش نظر دو سال بعد مکۃ المکرمہ لوٹ آئے اور یہاں جامعۃ ام القری کی مرکزی لائبریری میں خدمات انجام دینے لگے ۔

مولانا عبد الخبیر کی وفات 1973ء میں ہوئی۔ مولانا نے اپنی زندگی ہی میں اپنے صاحبزادے مولانا عبد السمیع کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا لہٰذا تمام حلقہ ارادت نے ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا عبد السمیع کو ان کا جانشین تسلیم کر لیا مگر اس وقت وہ ہندوستان میں نہیں بلکہ سعودی عرب میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ چنانچہ ان کے غائبانے میں ڈاکٹر عبد الحفیظ سلفی نے امارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

1985ء میں سعودی عرب کی ملازمت ترک کر کے واپس ہندوستان آ گئے ۔ یہاں انہوں نے اپنی خاندانی دینی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اسکول و یتیم خانے بنوانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بلا اختلاف مسلک انہوں نے مساجد کی تعمیر میں حصہ لیا۔ خود ایک ہسپتال بنوایا۔ مسلمانوں کی ہر ہر مشکل مقام پر رہنمائی کی۔ بلا تفریق مسلک و مشرب ان کی خدمات تمام مسلمانوں کے لیے ہوتی تھیں۔ اپنی پوری زندگی انتہائی سادگی کے ساتھ گزاری۔

مولانا خود فرماتے تھے کہ جب میں نے سعودی عرب سے ہندوستان آنے کا فیصلہ کیا توبہت سارے احباب و رفقاء منع کرنے لگے کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہے مجھے بھی تردد تھا کہ آرام و راحت کی زندگی چھوڑ کر ہندستان میں رہ پاؤں گا یا نہیں ؟ چنانچہ میں نے ایک دن اپنا کمرہ بند کیا ، کولر بند رکھا ، گدے بستر الگ کرکے فرش پر سویا ، تکیہ کی جگہ سرہانے اینٹ تھی ، مجھے نیند آ گئی تو مجھے یقین ہوگیا کہ میں ہندستان جاکر کام کرسکوں گا۔

مولانا واقعی بڑے صاحبِ عزیمت تھے۔ جیسے ہی ہندوستان وارد ہوئے اپنے آباء و اجداد کی علمی اور عملی وراثت کو بچانے، سنوارنے اور مستحکم کرنے میں ہَمہ تن مصروف عمل و حرکت ہو گئے۔ مدرسہ اصلاح المسلمین کو جامعہ اصلاحیہ بنا دیا۔ انہوں نے خدمت خلق کی غرض سے پٹنہ میں مریم اسپتال بھی کھولا تھا جو افسوس ہے کہ اپنوں ہی کی رسہ کشی کی نذر ہوگیا ۔

ان کی ذاتی زندگی بڑی المناک تھی۔ سعودی عرب کی پُر از راحت زندگی کے بعد ہندوستان آ کر ان کی آزمائش اور المناکی میں اضافہ ہی ہوا۔ حالات نے ان کی ہڈیوں کو گلا دیا تھا اور مسلسل امراض نے ان کی پیٹھ کو بستر سے لگا دیا تھا۔

مولانا عبد السمیع بڑے وسیع المشرب تھے۔ تنگ نظری و تعصب سے دور تھے۔ فروعی مسائل میں پُر تشدد  روّیے کو نا پسند کرتے تھے۔ ایک بار مجلس جمی ہوئی تھی بات نکلتے نکلتے تراویح کے مسئلے پر جا پہنچی۔ ایک صاحب نے مولانا سے سوال کیا کہ تراویح تو آٹھ ہی رکعت ہے پھر حنفی لوگ بیس کیوں پڑھتے ہیں ؟کہنے لگے آٹھ کے بعد ہی تو بیس  تک پہنچا جاتا  ہے، پھر اعتراض کیسا؟ آٹھ سے کم پڑھتے تب پوچھو۔ تاہم مولانا سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کی بہتری سنت ہی کی کامل اتباع میں ہے۔

مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ ، مولانا عبد السمیع پر لکھے گئے اپنے تعزیتی مضمون میں لکھتے ہیں :

” ایک موقع سے کسی موضوع پر مختلف تنظیموں کی طرف سے بیان آنا تھاوہ اپنی علالت کی وجہ سے مجلس میں تشریف نہیں لاسکے تھے ، ہم لوگ اعلانیہ لے کر ان کے پاس گئے ، بہت خوش دلی سے ملے او ر فرمایا کہ مسلکی معاملات الگ ہیں، لیکن ملت کے مفاد کا جو اجتماعی کام ہے ہم سب کو مل کرنا چاہئے ، اور مسلکی معاملات میں بھی ایسا کچھ نہیں کرنا چاہئے جس سے غیروں میں انتشار واختلاف کا پیغام جائے۔”

مولانا کی حق گوئی اور عالی ظرفی بھی مثالی تھی۔ مفتی ثناء الہدیٰ لکھتے ہیں :

” دوسری بڑ ی خوبی ان کے اندر یہ تھی کہ جس بات کو حق سمجھتے اسے برملا کہتے ، اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اخبار میں اعلان شائع کروا دیتے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک موقع سے حسب سابق امارت شرعیہ کے ساتھ چاند کی رویت کا انہوں نے اعلان کردیا ، لیکن دوسرے دن بھی عمومی رویت نہیں ہوئی ، ایک سربرآوردہ اور با اثر دانشورنے میٹنگ بلائی، قرب و جوار کے اضلاع سے بھی بعض لوگو ں کو طلب کیا گیا تھا، بندہ ان دنوں مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں ہوا کرتا تھا ، طلبی پر حاضر ہوا ، حضرت قاضی صاحب نور اللہ مرقدہ بھی مجلس میں تھے ، حضرت قاضی صاحب نے شرعی دلائل سے چاندکی رویت کے اعلان کو حق بجانب قرار دیا، مولانا عبد السمیع جعفری کو انشراح نہیں ہوا انہوں نے برملا مجلس میں اعلان کیا کہ اس معاملہ میں مجھ سے غلطی ہوگئی، چاندہی کا ایک اور موقع تھا ، امار ت شرعیہ کے اعلان کے ساتھ ان کے ادارہ کا نام کا اعلان نہ ہوسکا ، انہوں نے اس زمانہ میں شعبہ اردو کے ذمہ دار اور نمائندے جو امارت شرعیہ تشریف لائے تھے ان کو مورد الزام ٹھہرایا ، خبر یں اخبار میں بھی آگئیں ، ان صاحب نے مولانا کویقین دلایا کہ میں تو صرف ڈاکیہ تھا ریڈیو پر خبر کی ترتیب واشاعت سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، مولاناکو جیسے ہی یقین آیا کہ یہ سب بدگمانی کے نتیجے میں ہوا ہے ، فوراً ہی اخبار میں اعلان شائع کیا کہ یہ سارا کچھ بدگمانی کا نتیجہ تھا ، اور اللہ مجھے اس بدگمانی کے لیے معاف کر دے میں نے اپنی تدریسی اور تنظیمی زندگی میں ایسا شخص نہیں دیکھا جو اتنی آسانی سے نہ صرف اپنی غلطی تسلیم کرلیتا ہو بلکہ کھلے عام اعلان میں بھی اسے تامل اور جھجھک نہ ہو ۔”

مولانا عملیت پسند تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اپنی اصلاح کرے۔ کیونکہ فرد کی اصلاح سے ہی معاشرے کی اصلاح کی راہ کھلتی ہے۔

زکوۃ بیداری مہم کے بھی قائد تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بہار کے پسماندہ مسلمان ہر معاملے کے لیے حکومت کی جانب نظر حسرت سے نہ دیکھیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے بیشتر مسائل خود حل کریں۔ اس سلسلے میں اگر زکوۃ و صدقات کی اہمیت اور اس کا صحیح شعور  اجاگر ہو جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

آخری عمر میں  کولہے کی ہڈی کے ٹوٹنے کے بعد وہ معذور والی زندگی گزار رہے تھے ، ستمبر میں انہیں شری رام اسپتال کنکڑ باغ میں داخل کرایا گیا تھا ، کئی دنوں سے وہ انوی لیٹر پر تھے اور بالآخر وقت موعود آگیا۔

اپنے بے گناہ بھائی کے قتل اور بیٹیوں کے انتقال نے بھی انہیں مضمحل کردیا تھا لیکن اپنی فطری صبر و قناعت کے باعث اس پر بھی راضی برضا الہی تھے۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں۔

تقسیم ہند کے بعد دونوں ممالک کے دینی حلقوں میں جیسا  رابطہ رہنا چاہیے تھا افسوس کہ نہیں رہ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا عبد السمیع کی ذات سے پاکستان کے دینی و علمی حلقوں زیادہ واقف نہیں ۔دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ۔ آمین

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s