سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نظام احتساب


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا محمد یاسین شاد

خاتم النبین رسول اللہ ﷺ کے صحابی عشرہ مبشرہ میں شامل ، خلیفہ ثانی ، تمام غزوات نبوی کے ساتھی ، ابو حفص عمر بن خطاب القرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نظام حکومت کا اہم حصہ احتساب کا واقعہ تحریر کرنے سے قبل لفظ صحابی کی تعریف ، مقام و مرتبہ پیش ہے۔

الصحابی

” من لقی النبی مؤمناً و مات علی الاسلام ۔" [1]

” صحابی رسول وہ ہوتا ہے جس نے رسول اکرم ﷺ سے حالت ایمان میں ملاقات کی اور دینِ اسلام پر وفات پائی۔”

اصولِ حدیث کے مطابق صحابی وہ ہیں جن کو ایمان کی حالت میں نبی ﷺ سے ملاقات و آپ کا دیدار نصیب ہوا ہو اور ایمان پر ہی ان کی وفات ہوئی ہو۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ ” عادل ” ہیں۔ [2]

فضیلتِ صحابہ قرآن مجید سے

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱمۡتَحَنَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡ لِلتَّقۡوَىٰۚ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٌ عَظِيمٌ ٣

” در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں  کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے ، ان کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے۔” ( الحجرات : 3 )

تشریح

یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں پورے اترے ہیں اور ان آزمائشوں سے گزر کر جنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے دلوں میں فی الواقع تقویٰ ( پرہیز گاری ) موجود ہے۔ وہی لوگ اللہ کے رسول کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔ اس ارشاد سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے جو دل رسول اللہ ﷺ کے احترام سے خالی ہے وہ در حقیقت تقویٰ سے خالی ہے۔[3]

فضیلت ، تعلیم رسول سے

” اکرموا اصحابی فانهم خیارکم ۔[4]

” میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی عزت و تکریم ( تعظیم ) کرو بے شک وہ تم سب سے بہتر ہیں۔”

مختصر فضائل قرآن و سنت کے حوالہ سے گزارش ہے کہ خود اور اپنے وارثوں کو سیرت رسول کے واقعات بتاتے رہیں اور ان کے دلوں میں اصحاب محمد ﷺ کی عظمت و محبت کے نقوش گہرے کریں ان کے فضائل و مناقب بیان کریں اور ان کی تنقیص سے اپنے دامن کو محفوظ رکھیں اور ان کے لیے ہمیشہ یہ دعائے خیر کرتے رہیں:

رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا وَلِإِخۡوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِي قُلُوبِنَا غِلّٗا لِّلَّذِينَ 

ءَامَنُواْ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٞ رَّحِيمٌ ١٠ ( سورۃ الحشر : 10 )

فاروقی نظام احتساب

ہمارے ہاں پاکستان میں احتساب کے لیے قوانین بنتے رہتے ہیں۔ مالی و انتظامی ، بد دیانتی ، کرپش کرنے والے محفوظ طریقے سے بچ جاتے ہیں معاملہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب کسی کو عامل ( حکومتی عہدیدار ) مقرر کرتے

وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہوگا۔تو ایک جماعت کو گواہ بناتے جو انصار اور کچھ لوگوں پر مشتمل ہوتی اور اس پر چار شرطیں عائد کرتے:

  • باریک کپڑے نہیں پہنے گا۔
  • چھنے ہوئے آٹے کی روٹی یعنی سفید روٹی نہیں کھائے گا۔
  • لوگوں کے کاموں سے بچنے کے لیے اپنا دروازہ بند کر کے نہیں بیٹھے گا اور دربان مقرر نہیں کرےگا۔

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کسی مقام سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک شخص نے بآوازِ بلند کہا کہ کیا آپ صرف شرطیں عائد کر کے اللہ کے ہاں سے بچ جائیں گے  جب کہ مصر میں آپ کا مقرر کردہ عامل عیاض بن غنم باریک کپڑے پہنتا ہے اور اس نے دربان مقرر کر رکھا ہے ؟

اس پر آپ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا جن کو آپ عمال کی جانب سفیر بنا کر بھیجا کرتے تھے اور ان سے کہا کہ جاؤ اور عامل مصر عیاض بن غنم جس حال میں بھی ہو اسے میرے پاس لے آؤ۔ چنانچہ جب محمد بن مسلمہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ دروازہ پر دربان موجود ہے اور اندر گئے تو دیکھا کہ عیاض باریک قمیص پہنے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امیر المومنین نے آپ کو طلب کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ مجھے موقع دو کہ قبا پہن لوں۔ محمد بن مسلمہ نے کہا نہیں ، اسی طرح چلنا ہوگا۔ اور وہ اسی حال میں لے کر حضرت عمر کے اپس آ گئے۔ حضرت عمر نے انہیں ( گورنر مصر ) کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ قمیص اتار دو۔ اور آپ نے اون کا جبہ اور بکروں کا ریوڑ اور لاٹھی منگائی اور کہا یہ اونی جبہ پہنو، لاٹھی اٹھاؤ اور بکریاں چراؤ۔ اور اس کا دودھ خود بھی پیو اور جو تمہارے پاس سے گزرے اسے بھی پلاؤ اور جو افزائش ہو اسے ہمارے لیے محفوظ کر لو۔ کیا تم نے سن لیا ؟ اس نے کہا جی ہاں ، لیکن اس زندگی سے موت بہتر ہے۔

حضرت عمر دہراتے رہے کہ کیا تم نے سن لیا اور وہ یہی کہتے رہے کہ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔ پھر حضرت عمر نے کہا کہ تم اس زندگی کو برا نہ سمجھو تمہارا باپ بھی بکریاں چراتا تھا ، اس لیے اس کا نام غنم تھا۔ پھر آپ نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ مال ہے ؟ اس نے کہا کہ جی ہاں اے امیر المومنین  آپ نے کہا وہ ہمیں لادو۔

اس کے بعد آپ کے کسی عامل نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی۔[5]

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہی طرزِ عمل تھا جس نے ان کے زمانے کی بیورو کریسی کو اصول و قواعد کا پابند بنا کر ان کی وسیع سلطنت کو امن و امان کا گہوارہ بنا رکھا تھا۔ آج بھی کرپٹ معاشروں میں ایسے ہی حکمرانوں کی ضرورت ہے جو معاشرے سے ظلم و انصافی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو حضرت عمر ضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے والا حکمران عطا کرے ۔ آمین

٭  ٭  ٭  ٭  ٭

[1]   نخبۃ الفکر و مصطلح اھل الاثر

[2]   رسالہ اصولِ حدیث از مولانا اویس نگرامی ندوی

[3]    تفہیم القرآن از مولانا مودودی : 5/72

[4]    شرح السنۃ للامام البغوی ، حدیث نمبر 2253

[5]   کتاب الخراج از امام ابو یوسف ص 139 ، فقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ از ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی پروفیسر یونی ورسٹی آف پٹرولیم و معدنیات ظہران سعودی عرب ، مترجم ساجد الرحمٰن صدیقی ، ناشر ادارہ معارف اسلامی منصورہ ، طبع چہارم دسمبر 2010ء

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s