ذمی رعایا کے حقوق


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : علامہ شبلی نعمانی

ذمی سے وہ قومیں مراد ہیں جو مسلمان نہ تھیں لیکن ممالک اسلام میں سکونت رکھتی تھیں

حضرت عمر نے ذمی رعایا کو جو حقوق دیئے تھے اس کا مقابلہ اگر اس زمانے کی دوسرے سلطنتوں سے کیا جائے تو کسی طرح کا تناسب نہ ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمسایہ میں جو سلطنتیں تھیں وہ روم و فارس تھیں۔ ان دونوں سلطنتوں میں غیر قوموں کے حقوق غلاموں سے بھی بدتر تھے۔ شام کے عیسائی باوجودیکہ رومیوں کے ہم مذہب تھے۔ تاہم ان کو اپنی مقبوضہ زمینوں پر کسی قسم کا مالکانہ حق حاصل نہیں تھا بلکہ وہ خود ایک قسم کی جائیداد خیال کیے جاتے تھے۔ چنانچہ زمین کے انتقال کے ساتھ وہ بھی منتقل ہو جاتے تھے۔ اور مالک سابق کو ان پر جو مالکانہ اختیارات حاصل تھے وہی قابض حال کو حاصل ہو جاتے تھے۔ یہودیوں کا حال اور بھی بدتر تھا بلکہ اس قابل نہ تھا کہ کسی حیثیت سے ان پر رعایا کا اطلاق ہو سکتا۔ کیونکہ رعایا آخر کار کچھ نہ کچھ حق رکھتی ہے اور وہ حق کے نام سے بھی محروم تھے۔ فارس میں جو عیسائی تھے ان کی حالت اور بھی زیادہ رحم کے قابل تھی۔

پارسیوں اور عیسائیوں کا برتاؤ غیر قوموں کے ساتھ

حضرت عمر نے جب ان ممالک کو زیر نگیں کیا تو دفعۃً وہ حالت بدل گئی۔ جو حقوق ان کو دیئے گئے، ان کے لحاظ سے گویا وہ رعایا نہیں رہے بلکہ اس قسم کا تعلق رہ گیا جیسا کہ دو برابر کے معاہدہ کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ مختلف ممالک کی فتح کے وقت جو معاہدے لکھے گئے ہم ان کو اس مقام پر بعینہ نقل کرتے ہیں جس سے اس دعویٰ کی تصدیق ہو گی۔ اور ساتھ ہی اس بات کے موازنہ کا موقع ملے گا کہ یورپ نے اس قسم کے حقوق کبھی غیر قوم کو نہیں دیئے ہیں۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخوں میں جو معاہدے منقول ہیں ان میں بعض مفصل باقی مجمل ہیں۔ کیونکہ مفصل شرائط کا بار بار اعادہ کرنا تطویل عمل کا باعث تھا۔ اس لیے اکثر معاہدوں میں کسی مفصل معاہدے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بیت المقدس کا معاہدہ جو خود حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی موجودگی میں اور ان کے الفاظ میں لکھا گیا حسب ذیل ہے۔

بیت المقدس کا معاہدہ

هذا ما اعطیٰ عبد الله عمر امیر المومنین اهل ایلیا من الامان اعطاهم امانا لانفسهم و اموالهم و لکنائسهم وصلبانهم وسقیمها بریها و سائر ملتها انه لایسکن کنائسهم و لا تهدم و لا ینقض منها و لا من حیزها و لا من صلبهم و لا کن شئی من اموالهم و لا یکرهون علی دینهم و لا یضار احد من الیهود و علی اهل ایلیأ ان یعطوا الجزیة کما یعطی اهل المدائن و علیهم ان یخرجوا منها الروم و اللصوص فمن خرج منهم فهوا من علی نفسه و ماله حتی یبلغوا ما منهم و من اقام منهم فهوا من و علیه مثل اهلا ایلیأ من الجزیة و من احب من اهل ایلیأ ان یسیر بنفسه و ماله مع الروم و یخلی بیعهم و صلبهم فانهم آمنون علی انفسهم و علی بینعهم و صلبهم حتی یبلغوا ما منهم و علی مافی هذا الکتاب عده الله و ذمة رسوله و ذمة الخلفأ و ذمة الکومنین اذا اعطو الذی علیهم من الجزیة شهد علی ذلک خالد بن الولید و عمر بن العاص و عبد الرحمان بن عوف و معاویة ابی سفیان و کتب و حضر سنه 15 هجری۔[1]

"یہ وہ امان ہے جو خدا کے غلام امیر المومنین عمر نے ایلیا کے لوگوں کو دی۔ یہ امان ان کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے اس طرح پر کہ ان کے گرجاؤں میں نہ سکونت کی جائے گی۔ نہ وہ ڈھائے جائیں گے نہ ان کو اور نہ ان کے احاطہ کو کچھ نقصان پہنچایا جائے گا۔ نہ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا۔ نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ ایلیأ میں ان کے ساتھ یہودی نہ رہنے پائیں گے۔ ایلیأ والوں پر یہ فرض ہے کہ اور شہروں کی طرح جزیہ دیں گے اور یونانیوں اور چوروں کو نکال دیں۔ ان یونانیوں میں سے جو شہر سے نکلے گا اس کی جان اور مال کو امن ہے تا آنکہ وہ اپنی جائے پناہ میں پہنچ جائے اور جو ایلیأ ہی میں رہنا اختیار کرے اس کو بھی امن ہے اور اس کو جزیہ دینا ہوگا اور ایلیأ والوں میں سے جو شخص اپنی جان اور مال لے کر یونانیوں کے ساتھ چلا جانا چاہے تو ان کو اور ان کے گرجاؤں کو اور صلیبوں کو امن ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائیں اور جو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر خدا کا، رسول خدا کےخلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے۔ بشرطیکہ یہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔ اس تحریر پر گواہ ہیں خالد بن الولید اور عمرو العاص اور عبد الرحمٰن بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالٰی عنہم اور یہ 15 ہجری میں لکھا گیا۔”

اس فرمان میں صاف تصریح ہے کہ عیسائیوں کے جان، مال اور مذہب ہر طرح سے محفوظ رہے گا اور یہ ظاہر ہے کہ کسی قوم کو جس قدر حقوق حاصل ہو سکتے ہیں انہی تین چیزوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ گرجے اور چرچ کی نسبت یہ تفصیل ہے کہ نہ تو وہ توڑے جائیں گے نہ ان کی عمارت کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا جائے گا نہ ان کے احاطوں میں دست اندازی کی جائے گی۔ مذہبی آزادی کی نسبت دوبارہ تصریح ہے کہ لا یکرهون علی دینهم عیسائیوں کے خیال میں چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے صلیب دے کر قتل کیا تھا اور یہ واقعہ خاص بیت المقدس میں پیش آیا تھا۔ اس لیے ان کی خاطر سے یہ شرط منظور کی کہ یہودی بیت المقدس میں نہ رہیں گے۔ یونانی باوجود اس کے کہ مسلمانوں سے لڑتے تھے اور درحقیقت وہی مسلمانوں کے اصلی عدو تھے۔ تاہم ان کے لیے یہ رعایتیں ملحوظ رکھیں کہ بیت المقدس میں رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں اور نکل جانا چاہیں تو نکل کر جا سکتے ہیں۔ دونوں حالتوں میں ان کو امن حاصل ہو گا۔ اور ان کے گرجاؤں اور معبدوں سے کچھ تعرض نہ کیا جائے گا۔ سب سے بڑھ کر بیت المقدس کے عیسائی اگر یہ چاہیں گے کہ وطن سے نکل کر رومیوں سے جا ملیں تو اس پر بھی کچھ تعرض نہ کیا جائے گا۔ بلکہ ان کے گرجے وغیرہ جو بیت المقدس میں ہیں محفوظ رہیں گے۔ کیا کوئی قوم مفتوحہ ملک کے ساتھ اس سے بڑھ کر منصفانہ برتاؤ کر سکتی ہے ؟

سب سے مقدم امر یہ ہے کہ ذمیوں کی جان و مال کو مسلمانوں کی جان و مال کے برابر قرار دیا گیا۔ کوئی مسلمان اگر کسی ذمی کو قتل کر ڈالتا تو حضرت عمر فوراً اس کے بدلے مسلمان کو قتل کرا دیتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرۃ کے ایک عیسائی کو مار ڈالا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لکھ بھیجا کہ قاتل، مقتول کے وارثوں کو دیا جائے۔ چنانچہ وہ شخص مقتول کے وارث کو جس کا نام حنین تھا، حوالہ کیا گیا او ر اس نے اس کو قتل کر ڈالا۔[2]

مال اور جائیداد کے متعلق کی حفاظت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ جس قدر زمینیں ان کے قبضے میں تھیں اسی حیثیت سے بحال رکھیں۔ جس حیثیت سے فتح سے پہلے ان کے قبضے میں تھیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو ان زمینوں کا خریدنا بھی ناجائز قرار دیا گیا۔

بندوبست مال گزاری میں ذمیوں کا خیال​

مال گزاری جو مشخص کی گئی وہ نہایت نرم اور ہلکی پھلکی تھی۔ اس پر بھی حضرت عمر کو ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا  کہ کہیں ان پر سختی تو نہیں کی گئی۔ چنانچہ مرتے مرتے بھی یہ خیال نہ گیا۔ ہر سال یہ معمول تھا کہ جب عراق کا خراج آتا تو دس شخص کوفہ اور دس شخص بصرہ سے طلب کیے جاتے تھے اور حضرت عمر ان سے چار دفعہ بتاکید قسم لیتے تھے کہ مال گزاری کے وصول کرنے میں کچھ سختی تو نہیں کی گئی ہے۔[3] وفات سے دو تین دن پہلے کا واقعہ ہے کہ افسران بندوبست کو بلایا اور تشخیص جمع کے متعلق ان سے گفتگو کی اور بار بار پوچھتے رہے کہ جمع سخت تو نہیں مقرر کی گئی۔[4]

ذمیوں سے ملکی انتظامات میں مشورہ​

ایک بڑا حق جو رعایا کو حاصل ہو سکتا ہے یہ ہے کہ انتظامات ملکی میں ان کو حصہ دیا جائے۔ حضرت عمر  ہمیشہ ان انتظامات میں جن کا تعلق ذمیوں سے ہوتا تھا ذمیوں کے مشورہ اور استصواب کے بغیر کام نہیں کرتے تھے۔ عراق کا بندوبست جب پیش آیا تو عجمی رئیسوں کو مدینہ میں بلا کر مال گزاری کے حالات دریافت کیے۔ مصر میں جو انتظام کیا اس میں مقوقس سے اکثر رائے لی۔ [5]

جان و مال و جائیداد کے متعلق جو حقوق ذمیوں کو دیئے گئے تھے وہ صرف زبانی نہ تھے بلکہ نہایت مضبوطی کے ساتھ ان کی پابندی کی جاتی تھی۔ شام کے ایک کاشتکار نے شکایت کی کہ اہل فوج نے اس کی زراعت کو پامال کر دیا۔ حضرت عمر نے بیت المال سے 10 ہزار درہم اس کو معاوضہ میں دلوائے۔[6] اضلاع کے حکام کو تاکیدی فرمان بھیجتے تھے کہ ذمیوں پر کسی طرح کی زیادتی نہ ہونے پائے۔ خود بالمشافہ لوگوں کو اس کی تاکید کرتے رہتے تھے۔ قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج باب الجزیہ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر جب شام سے واپس آ رہے تھے تو چند آدمیوں کو دیکھا کہ دھوپ میں کھڑے ہیں اور ان کے سر پر تیل ڈالا جا رہا ہے۔ لوگوں سے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے؟ معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے جزیہ نہیں ادا کیا اس لیے ان کو سزا دی جاتی ہے۔حضرت عمر نے دریافت کیا کہ آخر ان کا کیا عذر ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ” ناداری ” فرمایا کہ چھوڑ دو، اور ان کو تکلیف نہ دو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے لا تعذبوا الناس فان الذین یعذبون الناس فی الدنیا یعذبهم الله یوم القیامة یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ” لوگوں کو تکلیف نہ دو، جو لوگ دنیا میں لوگوں کو عذاب پہنچاتے ہیں خدا قیامت میں ان کو عذاب پہنچائے گا۔”

ذمیوں کی شرائط کا ایفأ

حضرت ابو عبیدہ کو شام کی فتح کے بعد جو فرمان لکھا اس میں یہ الفاظ تھے۔

و امنع الکسلمین من ظلمهم و الاضراربهم و اکل اموالهم الا بحلها و وف لهم بشرطهم الذی شرطت لهم فی جمیع ما اعطیتهم۔[7]

"مسلمانوں کو منع کرنا کہ ذمیوں پر ظلم نہ کرنے پائیں، نہ ان کا مال بے وجہ کھانے پائیں اور جس قدر شرطیں تم نے ان سے کی ہیں سب وفا کرو۔”

حضرت عمر نے وفات کے قریب، خلیفہ ہونے والے شخص کے لیے ایک مفصل وصیت فرمائی تھی۔ اس وصیت نامہ کو امام بخاری، ابوبکر بیہقی، جاحظ اور بہت سے مؤرخین نے نقل کیا ہے۔ اس کا اخیر فقرہ یہ ہے۔

و اوصیه بذمة الله و ذمة رسوله ان یوفی لهم بعهدهم و ان یقاتل من ورائهم و ان لا یکلفوا فوق طاقتهم۔ [8]

"یعنی میں ان لوگوں کے حق میں وصیت کرتا ہوں جن کو خدا اور رسول کا ذمہ دیا گیا ہے ( یعنی ذمی ) کہ ان سے جو عہد ہے وہ پورا کیا جائے اور ان کی حمایت میں لڑا جائے اور ان کو ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔”

اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر مرتے وقت بھی ذمیوں کو نہ بھولے۔

غرفہ ایک صحابی تھے، ان کے سامنے ایک عیسائی نے جناب رسول اللہ ﷺ کو گالی دی۔ غرفہ نے اس کے منہ پر تھپڑ کھینچ مارا۔ عیسائی نے عمرو بن العاص کے پاس جا کر شکایت کی۔ انہوں نے غرفہ کو بلا بھیجا اور باز پرس کی۔ غرفہ نے واقعہ بیان کیا۔ عمرو بن العاص نے کہ ذمیوں سے امن کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ غرفہ نے کہا، نعوذ باللہ ان کو یہ اجازت ہرگز نہیں دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ کو اعلانیہ گالیاں دیں۔ ان سے یہ معاہدہ ہوا ہے کہ اپنے گرجاؤں میں جو کچھ چاہیں کریں اور اگر ان پر کوئی دشمن چڑھ آئے تو ہم ان کی طرف سے سینہ سپر ہو کر لڑیں اور ان پر کوئی ایسا بار نہ ڈالا جائے جس کے وہ متحمل نہ ہوں۔ عمرو بن العاص نے کہا ہاں یہ سچ ہے۔[9] اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ذمیوں کے حفظ حقوق کا کس قدر خیال رکھا جاتا ہے۔

مذہبی امور میں آزادی

مذہبی امور میں ذمیوں کو پوری آزادی تھی۔ وہ ہر قسم کی رسوم مذہبی ادا کرتے تھے۔ علانیہ ناقوس بجاتے تھے۔ صلیب نکالتے تھے۔ ہر قسم کے میلے ٹھیلے کرتے تھے۔ ان کے پیشوایان مذہبی کو جو مذہبی اختیارات حاصل تھے بالکل برقرار رکھے گئے تھے۔ مصر میں اسکندریہ کا پیٹر یارک بنیامین تیرہ برس تک رومیوں کے ڈر سے ادھر ادھر مارا مارا پھرا۔ عمرو بن العاص نے جب مصر فتح کیا، تو سنہ 20 ہجری میں اس کو تحریری امان لکھ کر بھیجی۔ وہ نہایت ممنون ہو کر آیا اور پیٹر یارک کی کرسی دوبارہ اس کو نصیب ہوئی۔ چنانچہ علامہ مقریزی نے اپنی کتاب (جلد اول صفحہ 492) میں واقعہ کی پوری تفصیل لکھی ہے۔ معاہدات میں اور امور کے ساتھ مذہبی آزادی کا بھی حق التزام کے ساتھ درج کیا جاتا تھا۔ چنانچہ بعض معاہدات کے اصلی الفاظ ہم اس موقع پر نقل کرتے ہیں۔ حذیفہ بن الیمان نے ماہ دینار والوں کو جو تحریر لکھی تھی اس میں یہ الفاظ تھے۔

لا یغیرون عن ملة و لا یحال بینهم و بین شرایعهم۔[10]

"ان کا مذہب نہ بدلا جائے گا اور ان کے مذہبی امور میں کچھ دست اندازی نہ کی جائے گی۔”

جرجان کی فتح کے وقت یہ معاہدہ لکھا گیا۔

لهم الامان علی انفسهم و اموالهم و ملکهم و شرايعهم و لا تغیر شئی من ذلك۔ [11]

"ان کے جان و مال اور مذہب و شریعت کو امن ہے اور اس میں سے کسی شے میں تغیر نہ کیا جائے گا۔”

آذر بائیجان کے معاہدہ میں یہ تصریح تھی۔

الامان علی انفسهم و اموالهم و شرایعهم۔ [12]

"جان مال، مذہت اور شریعت کو امان ہے۔”

موقان کے معاہدہ میں یہ الفاظ تھے۔

الامان علی اموالهم و انفسهم و ملتهم و شريعهم۔

"جان، مال، مذہب اور شریعت کو امان ہے۔”

حضرت عمر اسلام کے اشاعت کی اگرچہ نہایت کوشش کرتے تھے اور منصب خلافت کے لحاظ سے ان کا یہ فرض بھی تھا لیکن وہیں تک جہاں تک وعظ اور پند کے ذریعے سے ممکن تھا ورنہ یہ خیال وہ ہمیشہ ظاہر کر دیا کرتے تھے کہ مذہب کے قبول کرنے پر کوئی شخص مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ استق ان کا ایک عیسائی غلام تھا، اس کو ہمیشہ اسلام قبول کرنے کی ترغیب دلاتے تھے۔ لیکن جب اس نے انکار کیا تو فرمایا لا اکراه فی الدین یعنی مذہب میں زبردستی نہیں ہے۔[13]

مسلمانوں اور ذمیوں کی ہمسری

حقیقت یہ ہے کہ واقعات سے جو نتیجہ استنباط کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عمر نے ملکی حقوق کے لحاظ سے ذمیوں اور مسلمانوں میں کوئی تمیز نہیں رکھی تھی۔ کوئی مسلمان اگر ذمی کو قتل کرتا تو بے دریغ اس کے قصاص میں قتل کر دیا جاتا تھا۔ مسلمان اگر کسی ذمی سے سخت کلامی کرتے تھے تو پاداش کےمستحق ہوتے تھے۔ ذمیوں سے جزیہ اور عشور کے سوا کسی قسم کا محصول نہیں لیا جاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی۔ جس کی مقدار دونوں سے زیادہ تھی۔ اس کے سوا عشور مسلمانوں سے بھی وصول کیا جاتا۔ البتہ اس کی شرح بمقابلہ ذمیوں کے کم تھی۔ بیت المال سے والنٹیروں کو گھر بیٹھے جو تنخواہیں ملتی تھیں ذمی بھی اس میں بھی برابر کے شریک تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ ( اور درحقیقت صرف اسی ایک مثال سے اس بحث کا فیصلہ ہو سکتا ہے ) کہ یہ جو قاعدہ تھا کہ جو مسلمان اپاہج اور ضعیف ہو جاتا تھا اور محنت و مزدوری سے معاش پیدا نہیں کر سکتا تھا، بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر ہو جاتا تھا۔ اسی قسم کی بلکہ اس سے زیادہ فیاضانہ رعایت ذمیوں کے ساتھ بھی مرعی تھی۔ اول اول یہ قاعدہ حضرت ابو بکر کے عہد میں مقرر ہوا۔ چنانچہ خالد بن الولید نے حیرۃ کی فتح میں جو معاہدہ لکھا، اس میں یہ الفاظ تھے۔

و جعلت لهم ایما شیخ ضعف عن العمل او اصابه افة من الافات او کان غنیا فافتقر و صار اهل دینه یتصدقون علیه و طرحت جزیته و عیل من بیت مال المسلمین و عیاله ما اقام بدار الهجرة و دار الاسلام فان خرجوا الی غیر دار الهجرة و دار الاسلام فلیس علی المسلمین النفقة علی عیالهم ۔[14]

"اور میں نے ان کو یہ حق دیا کہ اگر کوئی بوڑھا شخص کام کرنے سے معذور ہو جائے یا اس پر کوئی آفت آئے یا پہلے دولت مند تھا پھر غریب ہو گیا اور اس وجہ سے اس کے ہم مذہب اس کو خیرات دینے لگیں تو اس کا جزیہ موقوف کر دیا جائے گا اور اس کو اور اس کی اولاد کو مسلمانوں کے بیت المال سے نفقہ دیا جائے گا جب تک وہ مسلمانوں کے ملک میں رہے لیکن اگر وہ غیر ملک میں چلا جائے تو مسلمانوں پر اس کا نفقہ واجب نہ ہوگا۔”

یہ قاعدہ حضرت عمر کے عہد میں بھی قائم رہا بلکہ حضرت عمر نے اس کو قرآن مجید کی آیت سے مستند کر دیا یعنی بیت المال کے داروغہ کو لکھ بھیجا کہ قرآن مجید کی آیت "انما الصدقات للفقراء و المساکین” ( صدقہ اور خیرات فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہے ) اس میں فقرأ کے لفظ سے مسلمان اور مسکین کے لفظ سے اہل کتاب یہودی اور عیسائی مراد ہیں۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر نے ایک پیر کہن سال کو بھیک مانگتے دیکھا۔ پوچھا کہ بھیک کیوں مانگتا ہے؟ اس نے کہا ” مجھ پر جزیہ لگایا گیا ہے اور مجھ کو ادا کرنے کا مقدور نہیں۔” حضرت عمر اس کو ساتھ گھر پر لائے اور کچھ نقد دے کر بیت المال کے داروغہ کو کہلا بھیجا کہ اس قسم کے معذوروں کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کر دیا جائے۔ اسی واقعہ میں آیت مذکورہ بالا کا حوالہ دیا، اور یہ بھی فرمایا کہ ” واللہ یہ انصاف کی بات نہیں کہ ان لوگوں کی جوانی سے ہم متمتع ہوں اور بڑھاپے میں ان کو نکال دیں۔” [15]

ذمیوں کی عزت کا خیال

ذمیوں کی عزت و آبرو کا اسی قدر استحفاظ تھا جس قدر مسلمان کی عزت و ناموس کا، ان کی نسبت کسی قسم کی تحقیر کا لفظ استعمال کرنا نہایت نا پسندیدہ خیال کیا جاتا تھا۔ عمیر بن سعد جو حمص کے حاکم تھے اور زہد و تقدس و ترک دنیا میں تمام عہدہ داران خلافت میں کوئی ان کا ہمسر نہ تھا۔ ایک دفعہ ان کے منہ سے ایک ذمی کی شان میں یہ لفظ نکل گیا۔ اخزاک اللہ یعنی خدا تجھ کو رسوا کرے۔ اس پر ان کو اس قدر ندامت اور تاسف ہوا کہ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہو کر نوکری سے استغفیٰ دے دیا اور کہا کہ اس نوکری کی بدولت مجھ سے یہ حرکت صادر ہوئی۔[16]

سازش اور بغاوت کی حالت میں ذمیوں کے ساتھ سلوک​

ایک خاص بات جو سب سے بڑھ کر لحاظ کے قابل ہے یہ ہے کہ ذمیوں نے اگر کبھی سازش یا بغاوت کی تب بھی ان کے ساتھ مراعات کو ملحوظ رکھا۔ آج کل جن حکومتوں کو تہذیب و ترقی کا دعوی ہے۔ رعایا کے ساتھ ان کی تمام عنایت اسی وقت تک ہے جب تک ان کی طرف سے کوئی پولیٹکل شبہ نہ پیدا  ہو۔ ورنہ دفعتاً وہ تمام مہربانی غضب اور قہر میں بدل جاتی ہے اور ایسا خونخوار اور پُرغیظ انتقام لیا جاتا ہے کہ وحشی قومیں بھی اس سے کچھ زیادہ نہیں کر سکتیں۔ بر خلاف اس کے حضرت عمر کا قدم کسی حالت میں جادہ انصاف سے ذرا نہیں ہٹا۔ شام کی آخری سرحد پر ایک شہر تھا جس کا نام عربسوس تھا اور جس کی سرحد ایشیائے کوچک سے ملی ہوئی تھی۔ شام جب فتح ہوا تو یہ شہر بھی فتح ہوا اور صلح کا معاہدہ ہو گیا۔ لیکن یہاں کے لوگ درپردہ رومیوں سے سازش رکھتے تھے اور ادھر کی خبریں ان کو پہنچاتے رہتے تھے۔ عمیر بن سعد وہاں کے حاکم نے حضرت عمر کو اس کی اطلاع دی۔ حضرت عمر نے ان کی اس کمینہ خصلت کا جو انتقام لیا وہ یہ تھا کہ عمیر بن سعد کو لکھا کہ جس قدر ان کی جائیدار، زمین، مویشی اور اسباب ہے سب شمار کر کے ایک ایک چیز کی دوچند قیمت دے دو، اور ان سے کہو کہ اور کہیں چلے جائیں، اگر اس پر راضی نہ ہوں تو ان کو ایک برس کی مہلت دو، اور اس کےبعد جلا وطن کر دو۔ چنانچہ جب وہ اپنی شرارت سے باز نہ آئے تو اس حکم کی تعمیل کی گئی۔[17]  کیا آج کل کوئی قوم اس درگزر اور عفو و مسامحت کی کوئی نظیر دکھلا سکتی ہے؟

ذمیوں کے ساتھ جو لطف و مراعات کی گئی تھی اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ ذمیوں نے ہر موقع پر اپنی ہم مذہب سلطنتوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ ذمی ہی تھے جو مسلمانوں کے لیے رسد بہم پہنچاتے تھے۔ لشکر گاہ میں مینا بازار لگاتے تھے۔ اپنے اہتمام اور صرف سے سڑک اور پل تیار کراتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کے لیے جاسوسی اور خبر رسانی کرتے تھے یعنی دشمنوں کے ہر قسم کے راز مسلمانوں سے آ کر کہتے تھے۔ حالانکہ یہ دشمن انہی کے ہم مذہب عیسائی یا پارسی تھے۔ ذمیوں کو مسلمانوں کے حسن سلوک کے وجہ سے جو اخلاص پیدا ہو گیا تھا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جنگ یرموک کے پیش آنے کے وقت جب مسلمان شہر حمص سے نکلے تو یہودیوں نے توریت ہاتھ میں لے کر کہا کہ ” جب تک ہم زندہ ہیں کبھی رومی یہاں نہ آنے پائیں گے۔ ” عیسائیوں نے نہایت حسرت سے کہا کہ ” خدا کی قسم تم رومیوں کی بہ نسبت کہیں بڑھ کر ہم کو محبوب ہو۔”

اخیر میں ہم کو ان واقعات کی حقیقت بھی بتانا ضروری ہے جن کی وجہ سے لوگوں کو یہ غلط خیال پیدا ہوا ہے یا ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر نے بلکہ خود اسلام نے ذمیوں کے ساتھ نا انصافانہ سلوک کیے۔

مخالف کی طرف سے اعتراض کی تقریر​

اس مسئلے کو مخالف اس طرح بیان کر سکتا ہے کہ حضرت عمر نے ذمیوں کے حق میں یہ حکم دیا کہ وضع اور لباس وغیرہ میں کسی طرح مسلمانوں کی تشبہ نہ کرنے پائیں۔ کمر میں زنار باندھیں۔ لمبی ٹوپیاں پہنیں۔ گھوڑوں پر کاٹھی کسیں۔ نئی عبادت گاہیں نہ بنائیں، شراب اور سور نہ بیچیں، ناقوس نہ بجائیں۔ صلیب نہ نکالیں۔ بنو تغلب کو یہ بھی حکم تھا کہ اپنی اولاد کو اصطباغ نہ دینے پائیں۔ اس سب باتوں پر یہ مستزاد کہ حضرت عمر  نے عرب کی وسیع آبادی میں ایک یہودی یا عیسائی کو نہ رہنے دیا اور بڑے بڑے قدیم خاندان جو سیکڑوں برس سے عرب میں آباد تھے، جلا وطن کر دیئے۔

بے شبہ، یہ اعتراضات نہایت توجہ کے قابل ہیں اور ہم ان کے جواب دینے میں کسی قدر تفصیل سے کام لیں گے۔ کیونکہ ایک زمانہ ممتد کے تعصب اور تقلید نے واقعیت کے چہرے پر بہت سے پردے ڈال دیئے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ حضرت عمر مسلمانوں کو غیر قوموں کی مشابہت اور غیر قوموں کو مسلمانوں کی مشابہت سے روکتے تھے۔ لیکن اس سے فقط قومی خصوصیتوں کو قائم رکھنا مقصود تھا۔ لباس کی بحث میں تحقیق طلب یہ امر ہے کہ حضرت عمر نے ذمیوں کو جس لباس کی پابندی کی تاکید کی تھی، آیا وہی لباس ذمیوں کا قدیم لباس تھا یا حضرت عمر نے کوئی نیا لباس بطور علامت تحقیر کے تجویز کیا تھا۔ جس شخص نے عجم کی تاریخ پڑھی ہے وہ یقیناً جان سکتا ہے کہ جس لباس کا یہاں ذکر ہے وہ عجم کا قدیم لباس تھا۔ حضرت عمر کا معاہدہ جس کو کنز العمال وغیرہ میں نقل کیا گیا ہے اگرچہ راویوں نے اس کو بہت کچھ کم و بیش کر دیا ہے۔ تاہم جہاں ذمیوں کی طرف سے یہ اقرار مذکور ہے کہ ہم فلاں فلاں لباس نہ پہنیں گے، وہاں یہ الفاظ بھی ہیں و ان تلزم زینا حیث ما کنا [18] یعنی ” ہم وہی لباس پہنیں گے جو ہمیشہ سے پہنتے آتے تھے۔” اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ جس لباس کا حضرت عمر نے حکم دیا تھا وہ عجم کا قدیم لباس تھا۔

زنار جس کا ذکر حضرت عمر  کے فرمان میں ہے اس کی نسبت ہمارے فقہأ نے اکثر غلطیاں کی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ انگلی برابر موٹا ایک قسم کا جنیو ہوتا تھا اور اس سے ذمیوں کی تحقیر مقصود تھی لیکن یہ سخت غلطی ہے۔ زنار کے معنی پیٹی کے ہیں اور عرب میں یہ لفظ آج کل بھی اسی معنی میں مستعمل ہے۔ پیٹی کو عربی میں منطقہ بھی کہتے ہیں اور اس لحاظ سے زنار اور منطقہ مرادف الفاظ ہیں۔ ان دونوں الفاظ کا مرادف ہونا کتب حدیث سے ثابت ہے۔کنز العمال[19] میں بیہقی وغیرہ سے روایت منقول ہے کہ حضرت عمر نے سرداران فوج کو یہ تحریری حکم بھیجا و تلزموهم المناطق یعنی الزنانیر اسی زنار کو کسیتج بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ جامع صغیر وغیرہ میں بجائے زنار کے کسیتج ہی لکھا ہے اور غالب یہ ہے کہ یہ لفظ عجمی ہے۔ بہر حال اہل عجم قدیم سے پیٹی لگاتے تھے۔ علامہ مسعودی نے کتاب التنبیہ و الاشراف[20] میں لکھا ہے کہ ” عجم کی اس قدیم عادت کی وجہ میں نے کتاب مروج الذہب میں لکھی ہے۔” ایک قطعی دلیل اس بات کی کہ یہ لباس ذمیوں کا قدیم لباس تھا، یہ ہے کہ خلیفہ منصور نے اپنے دربار کے لیے جو لباس قرار دیا تھا وہ قریب قریب یہی لباس تھا۔ لمبی ٹوپیاں جو نرسل کی ہوتی تھیں۔ وہی عجم کی ٹوپیاں تھیں۔ جس کا نمونہ پارسیوں کے سروں پر آج بھی موجود ہے۔ اس درباری لباس میں پیٹی بھی داخل تھی، اور یہ وہی زنار، یا منطقہ، یا کسیتج ہے جو عجم کی قدیم وضع تھی۔ منصور کے اس مجوزہ لباس کی نسبت تمام مؤرخین عرب نے تصریح کی ہے کہ یہ عجم کی تقلید تھی۔ اب یہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو لباس، حضرت عمر نے ذمیوں کے لیے قرار دیا تھا، وہ اگر کوئی جدید لباس تھا اور ان کی تحقیر کے لیے ایجاد کیا گیا تھا تو خلیفہ منصور اس کو اپنا اور اپنے دربار کا لباس کیونکر قرار دے سکتا تھا۔

صلیب اور ناقوس کی بحث

ذمیوں کو نئی عبادت گاہیں بنانے اور شراب بیچنے، صلیب نکالنے، ناقوس پھونکنے، اصطباغ دینے سے روکنا بے شبہ مذہبی دست اندازی ہے لیکن میں بیباکانہ اس راز کی پردہ دری کرتا ہوں کہ یہ احکام جن قیدوں کے ساتھ حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے جاری کیے تھے وہ بالکل مناسب تھے لیکن زمانہ ما بعد کے مؤرخوں نے ان قیدوں کا ذکر چھوڑ دیا۔ اس وجہ سے تمام دنیا میں ایک عالمگیر غلطی پھیل گئی۔

صلیب کی نسبت معاہدے میں جو الفاظ تھے اس میں یہ قید تھی۔

و لا یرفعوا فی نادی اهل الاسلام صلباً۔[21]

"یعنی مسلمانوں کی مجلس میں صلیب نہ نکالیں۔”

ناقوس کی نسبت یہ تصریح تھی یضربوا نواقیسهم فی اي ساعة شاؤ امن لیل او نهار الا فی اوقات الصلوة۔[22] یعنی ذمی رات دن میں جس وقت چاہیں ناقوس بجائیں، بجز نماز کے اوقات کے۔ سور کی نسبت یہ الفاظ تھے۔ و لا یخرجوا خنزیرا من منازلهم الي افینة المسلمین یعنی ذمی سور کو مسلمان کے احاطہ میں نہ لے جائیں۔

ان تصریحات کے بعد کس کو شبہ رہ سکتا ہے کہ صلیب نکالنا یا ناقوس بجانا عموماً منع نہ تھا بلکہ خاص حالات میں ممانعت تھی اور ان خاص حالات میں آج بھی ایسی ممانعت خلاف انصاف نہیں کہی جا سکتی۔

اصطباغ نہ دے سکنا

سب سے زیادہ قابل لحاظ امر بنی تغلب کے عیسائیوں کی اولاد کا اصطباغ نہ دینا تھا اور یہ گویا اس بات کی حفاظت ہے کہ آئندہ وہ کوئی اور مذہب قبول نہ کرنے پائے، بعینہ اس طرح جس طرح ہم مسلمانوں میں بچوں کا ختنہ کیا جاتا ہے، بے شبہ حضرت عمر کو عام طور پر اس رسم کے روکنے کا کچھ حق نہ تھا، لیکن اس زمانے میں ایک نیا سوال پیدا ہوا تھا۔ یعنی یہ کہ اگر عیسائی خاندان میں سے کوئی شخص مسلمان ہو جائے اور نا بالغ اولاد چھوڑ کر مرے تو اس کی اولاد کس مذہب کے موافق پرورش پائے گی ؟ یعنی وہ مسلمان سمجھی جائے گی یا ان کے خاندان والوں کو جو عیسائی مذہب رکھتے ہیں یہ حق حاصل ہو گا کہ اس کو اصطباغ دے کر عیسائی بنا لیں۔حضرت عمر نے اس صورت خاص کے لیے یہ قرار دیا کہ خاندان والے اس کو اصطباغ نہ دیں اور عیسائی نہ بنائیں اور یہ حکم بالکل قرین انصاف ہے۔ کیونکہ جب اس کا باپ مسلمان ہو گیا تھا تو اس کی نا بالغ اولاد بھی بظاہر مسلمان قرار پائے گی۔ علامہ طبری نے جہاں بنو تغلب کے واقعہ کا ذکر کیا ہے، شرائط صلح میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں علی ان لا ینصروا ولیداً ممن اسلم آبأهم یعنی بنو تغلب کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ جن کے باپ مسلمان ہو چکے ان کی اولاد کو عیسائی بنا سکیں۔[23]  ایک اور موقع پر یہ الفاظ ہیں۔ ان لا ینصروا اولادهم اذا اسلم ابائهم۔[24]

یہاں شاید یہ اعتراض ہو کہ حضرت عمر نے ایک فرضی صورت قائم کر کے معاہدہ کو کیوں سخت کیا۔ لیکن جواب یہ ہے یہ فرضی صورت نہ تھی بلکہ بنو تغلب میں بہت سے لوگ اسلام قبول کر چکے تھے، اس لیے ان کی خاص حالت کے لحاظ سے اس صورت کا ذکر ضروری تھا۔ بلکہ علامہ طبری[25] نے صاف تصریح کی ہے کہ تغلب میں سے جو لوگ اسلام لا چکے تھے خود انہی نے معاہدہ کے یہ شرائط پیش کیے تھے۔

اب ہر شخص انصاف کر سکتا ہے کہ امن عام میں خلل نہ واقع ہونے کے لیے عیسائیوں کو اگرچہ یہ حکم دیا جائے کہ وہ مسلمانوں کی مجلسوں میں صلیب اور سور نہ لائیں، خاص نماز کے وقت ناقوس نہ بجائیں، نو مسلم کی اولاد کو اصطباغ نہ دیں تو کیا کوئی شخص اس کو تعصب مذہبی سے تعبیر کر سکتا ہے۔ لیکن افسوس اور سخت افسوس یہ ہے کہ ہمارے پچھلے مؤرخوں نے ان احکام کی قیدوں اور خصوصیتوں کو اڑا دیا۔ بلکہ قدمأ میں بھی جو تعصب آمیز طبیعت رکھتے تھے، روایت میں ان خصوصیتوں کو چھوڑ جاتے تھے، یہ غلطیاں اگرچہ نہایت سخت نتائج پیدا کرتیں تھیں، لیکن چونکہ ظاہر میں خفیف تھیں۔ ابن الاثیر وغیرہ نے اس کا کچھ خیال نہیں کیا۔ رفتہ رفتہ یہ غلطیاں اس قدر پھیل گئیں کہ عربی زبان سرتاپا اس سے معمور ہو گئی۔ فقہأ چونکہ تاریخ سے بہت کم واقفیت رکھتے تھے، انہوں نے بے تکلف انہی روایتوں کو قبول کر لیا اور ان پر فقہ کے مسائل تفریع کر لیے۔

عیسائیوں کے جلا وطن کرنے کا معاملہ​

عیسائیوں اور یہودیوں کے جلا وطن کرنے کا معاملہ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہودی کسی زمانے میں مسلمانوں کی طرف سے صاف نہیں ہوئے۔ خیبر جب فتح ہوا تو ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ جس وقت مناسب ہوگا تم کو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت عمر کے زمانے میں ان کی شرارتیں زیادہ ظاہر ہوئیں۔ عبد اللہ بن عمر کو ایک دفعہ بالا خانہ سے دھکیل دیا جس سے ان کے ہاتھ میں زخم آیا۔ مجبوراً حضرت عمر نے عام مجمع میں کھڑے ہو کر ان کی شرارتیں بیان کیں اور پھر ان کو عرب سے نکال دیا۔[26] چنانچہ صحیح بخاری، کتاب الشروط میں یہ واقعہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔

نجران کے عیسائی یمن اور اس کے اطراف میں رہتے تھے اور ان سے کچھ تعرض نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے چپکے چپکے جنگی تیاریاں شروع کیں اور بہت سے گھوڑے اور ہتھیار مہیا کیے۔ حضرت عمر نے صرف اس ضرورت سے ان کو حکم دیا کہ یمن چھوڑ کر عراق چلے جائیں۔ [27]

غرض یہ امر تمام تاریخی شہادتوں سے قطعاً ثابت ہے کہ عیسائی اور یہودی پولیٹکل ضرورتوں کی وجہ سے جلا وطن کیے گئے [28] اور اس وجہ سے یہ امر کسی طرح اعتراض کے قابل نہیں ہو سکتا۔ البتہ لحاظ کے قابل یہ ہے کہ اس حالت میں بھی کس قسم کی رعایت ان کے ساتھ ملحوظ رکھی گئی۔ فدک کے یہودی جب نکالے گئے تو حضرت عمر نے ایک واقف کار شخص کو بھیجا کہ ان کی زمین اور باغوں کی قیمت کا تخمینہ کرے۔ چنانچہ جو  قیمت متعین ہوئی حضرت عمر نے ان کو بیت المال سے دلوا دی۔[29]  اسی طرح حجاز کے یہودیوں کو بھی ان کی زمین کی قیمت دلا دی۔ [30]

نجران کے عیسائیوں کو جب عرب کی آبادی سے نکال کر شام و عراق میں آباد کیا تو ان کے ساتھ نہایت فیاضانہ رعایتیں کیں۔ ان کو امن کا جو پروانہ دی اس میں یہ شرطیں لکھیں۔

1-عراق یا شام جہاں بھی یہ لوگ جائیں وہاں کے افسر ان کی آبادی اور زراعت کے لیے ان کو زمین دیں۔

2-جس مسلمان کے پاس یہ کوئی فریاد لے کر جائیں وہ ان کی مدد کرے۔

3-24 مہینے تک ان سے مطلقاً جزیہ نہ لیا جائے۔

اس معاہدے پر احتیاط اور تاکید کے لحاظ سے بڑے بڑے صحابہ کے دستخط ثبت کرائے۔ چنانچہ قاضی ابو یوسف صاحب نے کتاب الخراج میں اس معاہدہ کو بالفاظہا نقل کیا ہے۔[31]

ایک ایسی فوج ، جس کی نسبت بغاوت اور سازش کے ثبوت موجود ہوں، اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر اور کیا رعایت کی جا سکتی ہے۔

اب صرف جزیہ کا معاملہ رہ جاتا ہے۔ ہم نے اس بحث پر اگرچہ ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور وہ تینوں زبانوں ( اردو، انگریزی، عربی ) میں چھپ کر شائع ہو چکا ہے تاہم مختصر طور پر یہاں بھی لکھنا ضروری ہے۔

جزیہ کی بحث

جزیہ کا موضوع اور مقصد، اگرچہ شروع اسلام ہی میں ظاہر کر دیا گیا تھا کہ وہ حفاظت کا معاوضہ ہے لیکن حضرت عمر کے عہد میں یہ مسئلہ ایسا صاف ہو گیا کہ احتمال کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ اولاً تو انہوں نے نوشیروان کی طرح جزیہ کی مختلف شرحیں قائم کیں اور اس طریقے سے گویا صاف بتا دیا کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ وہی نوشیروانی محصول ہے۔ اس کے علاوہ موقع بہ موقع عملی طور پر اس بات کو ظاہر کیا کہ وہ صرف حفاظت کا معاوضہ ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں تم پڑھ آئے ہو کہ جب یرموک کے پرخطر معرکہ کے پیش آنے کی وجہ سے اسلامی فوجیں شام کے مغربی حصوں سے ہٹ آئیں اور ان کو یقین ہو گیا کہ جن شہروں سے وہ جزیہ وصول کر چکے تھے یعنی حمص و دمشق وغیرہ، وہاں کے باشندوں کی حفاظت کا اب وہ ذمہ نہیں اٹھا سکتے تو جزیہ سے جس قدر رقم وصول ہوئی تھی سب واپس کر دی اور صاف کہہ دیا کہ اس وقت ہم تمہارے جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔ اس لیے جزیہ لینے کا بھی ہم کو کوئی حق نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ قطعی شہادت یہ ہے کہ جن لوگوں سے کبھی کسی قسم کی فوجی خدمت لی گئی ان کو باوجود ان کے مذہب پر قائم رہنے کے جزیہ معاف کر دیا۔ حضرت عمر نے خود 17ھ میں عراق کے افسروں کو لکھ بھیجا کہ

یستعینوا بمن احتاجوا الیه من الا ساورة و یرفعوا عنهم الجزأ۔[32]

"یعنی فوجی سواروں میں سے جس سے مدد لینے کی ضرورت ہو اس سے مدد لے لو اور ان کا جزیہ چھوڑ دو۔”

یہاں تک کہ اگر کسی قوم نے صرف ایک دفعہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شرکت کی تو اس سال کا جزیہ اس کے لیے معاف کر دیا گیا۔ 22 ہجری میں جب آذربائیجان فتح ہوا تو اہل شہر کو یہ فرمان لکھ دیا گیا۔

و من حشر منهم فی سنة وضع عنه جزاء تلک السنة۔

"یعنی جو لوگ کسی سال فوج کے ساتھ کام دیں گے، اس سال کا جزیہ ان سے نہیں لیا جائے گا۔”

و علی اهل آرمینیة ان ینفروا لکل غارة و ینفذو الکل امر ناب او لم ینب راه الوالی صلاحا علی ان توضع الجزاء۔[33]اسی سال آرمینیہ کے رئیس شہر براز سے جو معاہدہ ہوا اس میں یہ الفاظ تھے :

اسی سنہ میں جرجان فتح ہوا اور فرمان میں یہ عبارت لکھی گئی :

ان لکم الذمة و علینا المنعة علی ان علیکم من الجزاء فی کل سنة علی قدر طاقتکم ومن استعنا به منکم فله جزائه فی معونة عوضا عن جزايه۔[34]

"یعنی ہم پر تمہاری حفاظت ہے اس شرط پر کہ تم کو ہر سال بقدر طاقت جزیہ ادا کرنا ہو گا۔ اور اگر تم سے اعانت لیں گے تو اس اعانت کے بدلہ جزیہ معاف ہو جائے گا۔”

غرض حضرت عمر کے اقوال سے، معاہدوں سے، طرز عمل سے، روز روشن کی طرح ظاہر ہو گیا تھا کہ جزیہ کا موضوع کیا ہے اور وہ کس غرض سے مقرر کیا گیا۔

جزیہ کا مصرف، فوجی مصارف پر محدود تھا۔ یعنی اس رقم سے صرف اہل فوج کے لیے خوراک، لباس اور دیگر ضروریات مہیا کی جاتی تھیں۔ چنانچہ حضرت عمر نے جہاں جہاں جزیہ مقرر کیا اس کے ساتھ جنس اور غلبہ بھی شامل کیا۔ مصر میں فی کس جزیہ کی تعداد دراصل چار دینار تھی۔ لیکن دو نقد اور باقی کے عوض گیہوں، روغن زیتون، شہد، سرکہ لیا جاتا تھا اور یہی اہل فوج کی خوراک تھی۔ البتہ آگے چل کر جب رسد کا انتظام مستقل طور پر ہو گیا تو کل جزیہ کی مقدار نقد کر دی گئی اور دو دینار کے بجائے چار دینار لیے جانے لگے۔[35]

[1]   دیکھو تاریخ ابو جعفر جریر طبری – فتح بیت المقدس 12

[2]   الدرایہ فی تخریج الہدایہ مطبوعہ دہلی صفحہ 360

[3]   کتاب الخراج ص 65

[4]   کتاب الخراج صفحہ 21 میں ہے: قال شهدت عمر بن الخطاب قبل ان یصاب بثلث او اربع واقفاً علی حذیفة بن الیمان عثمان بن حنیف و هو یقول لهما العلکما حملتما الارض مالا تطیق

[5]   مقریزی جلد اول صفحہ 74

[6]   کتاب الخراج صفحہ 68

[7]   کتاب الخراج صفحہ 82

[8]  صحیح بخاری صفحہ 187 مطبوعہ میرٹھ

[9]   اسد الغابہ تذکرہ غرفہ

[10]   طبری صفحہ 2633

[11]   طبری صفحہ 2658

[12]   طبری صفحہ 2662

[13]  کنز العمال بحولہ طبقات ابن سعد جلد پنجم صفحہ 49

[14]  کتاب الخراج صفحہ 85

[15]  کتاب الخراج صفحہ 72

[16]   دیکھو ازالۃ الخفاءصفحہ 203

[17]  فتوح البلدان بلاذری صفحہ 157

[18]    کنز العمال جلد 2 صفحہ 302

[19]    کنز العمال جلد دوم صفحہ 320

[20]    کتاب مذکور صفحہ 107

[21]   کتاب الخراج صفحہ 80

[22]   کتاب الخراج صفحہ 84

[23]  طبری صفحہ 2423

[24]  طبری صفحہ 2510

[25]  طبری 2509

[26]  فتوح البلدان بلاذری صفحہ 25 و کتاب الخراج 29

[27]  کتاب الخراج صفحہ 42

[28]   علامہ شبلی کی یہ رائے مطلقاً درست نہیں کہ عیسائیوں یا یہودیوں کو صرف سیاسی مصالح کی بناء پر سر زمین عرب سے جلا وطن کیا گیا۔ ان کی جلا وطنی میں نص قرآنی اور رسول اللہ ﷺ کی وصیت بھی پیش نظر تھی۔ علامہ سیّد سلیمان ندوی نے بھی اپنے مضمون ” ارض حرم اور اس کے احکام و مصالح – قرآن مجید کی نظر میں ” میں قرآنی نصوص کے تحت بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ جزیرہ عرب سے ان کا اخراج حکم قرآنی کا اقتضاء تھا۔ ( یہ مضمون مجلہ ” الواقعۃ ” کی اشاعت خاص برائے قرآن کریم میں شائع ہو چکا ہے ، شمارہ نمبر 20-21، محرم و صفر 1436ھ )

 و نیز رسول اللہ ﷺ کی وہ مشہور وصیت جس میں مشرکین اور یہودیوں کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ، جو مختلف اسناد کے ساتھ مختلف کتب حدیث میں موجود ہے، بھی صحابہ کرام کے پیش نظر تھا۔—– ( تنزیل )

[29]   فتوح صفحہ 29

[30]   فتوح صفحہ 29

[31]   کتاب مذکور صفحہ 41

[32]   طبری صفحہ 2497

[33]  طبری صفحہ 265

[34]  ایضاً

[35]   فتوح البلدان صفحہ 216

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s