یک نظر بر فتوحات عہدِ فاروقی


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا عبد الرحیم اظہر ڈیروی

نام و نسب

آپ کا نام عمر ، کنیت ابو حفص اور لقب فاروق تھا۔ الامام الحافظ المحدث ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد  بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی المالکی نے آپ کا نسب اس طرح بیان کیا ہے :

عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد العُزیٰ بن رباح بن عبد اللہ بن قُرط بن رزاح بن عدی بن کعب القرشی العدوی ابو حفص ، اُمّہ حَنتَمۃ بنت ھاشم بن المغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم۔[1]

عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، خطاب کے فرزند اور نفیل کے پوتے تھے۔ آٹھویں پشت میں سلسلہ نسسب نبی کریم ﷺ سے جا ملتا ہے۔ خاندانِ عمر زمانہ جاہلیت سے ممتاز حیثیت رکھتا تھا اور سفارت و مقدمات اسی خاندان کے سپرد تھے۔ آپ ننھیال کی طرف سے بھی نہایت معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی والدہ ہاشم بن مغیرہ کی دختر تھیں۔ حافظ بن عبد البر ولادت عمر کے بارے میں لکھتے ہیں :

” وُلد عمر بعد الفیل بثلاث عشرۃ سنۃ ۔” [2]

یعنی آپ کی ولادت واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد ہوئی۔

ابتدائی حالات

عمر فاروق بچپن ہی میں شجاع ، دلیر اور حق گو تھے۔ جوان ہوئے تو لکھنا پڑھنا سیکھا۔ سپہ گری ، شہسواری اور دوسرے جنگی کمالات میں نام پیدا کیا۔ اسی طرح خطابت میں بھی مہارت حاصل کی۔ ذریعہ معاش تجارت تھا جس کے لیے دور دراز ممالک کے سفر بھی کرتے۔ وہ معاملہ فہمی میں معروف تھے۔

قبولِ اسلام

عمر بن خطاب کے قبول اسلام سے متعلق مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری لکھتے ہیں :

” ظلم و طغیان کے سیاہ بادلوں کی اسی گھمبیر فضا میں ایک اور برقِ تاباں کا جلوہ نمودار ہوا جس کی چمک پہلے سے زیادہ خیرہ کن تھی ، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ 6 نبوی کا ہے۔ وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے صرف تین دن بعد مسلمان ہوئے تھے اور نبی ﷺ نے ان کے اسلام لانے کے لیے دعا کی تھی۔ چنانچہ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اسی طرح طبرانی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

” اللّٰهم اعز الاسلام باحب الرجلین الیک بعمر بن الخطاب او بابی جهل بن هشام۔”

” اے اللہ ! عمر بن الخطاب اور ابو جہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے سے اسلام کو قوّت پہنچا۔” [3]

المرام اینکہ عمر بن خطاب کے اسلام لانے سے متعلق اگرچہ مختلف روایات کتبِ احادیث اور کتبِ تواریخ میں ملتی ہیں ۔ ان جمیع روایات کو تطبیق دینے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ کے اسلام لانے سے اسلام کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا کیونکہ قبلِ ازیں فرزندانِ توحید مشرکین و مخالفینِ اسلام سے چھپ کر نماز پڑھتے تھے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا ہم برسرحق ہو کر کب تک پوشیدہ اور خفیہ عبادت کریں گے۔ آپ چالیس مسلمانوں کو ساتھ لے کر گئے اور سب کے سامنے نماز پڑھی۔ مشرکین نے مزاحمت کرنا چاہی لیکن حضرت عمر کی جرات و ہمت اور طاقت کے سامنے آنے کی ان کو ہمت نہ ہوئی۔

حضرت عمر نے اس موقع پر حق و باطل پر واضح طور پر دکھا دیا اس خدمتِ جلیلہ کے بدلے میں بارگاہ رسالت ﷺ سے آپ کو فاروق کا لقب ملا۔ [4]

ہجرتِ مدینہ

جب مسلمانوں کو مدینہ کی جانب ہجرت کی اجازت ملی تو حضرت عمر فاروق بھی اس سفر کے لیے تیار ہوئے ۔ نبی کریم ﷺ سے اجازت لے کر چند آدمیوں کے ہمراہ مدینہ کی طرف بڑی شان و شوکت سے روانہ ہوئے کہ پہلے مسلح ہو کر مشرکین کے مجمع میں گزرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچے۔ نہایت اطمینان سے طواف کیا اور نماز ادا کی پھر مشرکین سے کہا !

” اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس سے محروم ہو جائے اس کی بیوی بیوہ ہو جائے اور بچے یتیم ہو جائیں تو وہ اس وادی کے پار میرے مقابلہ کے لیے کھل کر سامنے آ جائے…………”

لیکن کسی کو ہمت و جرات نہیں ہوئی ۔ ان تمام واقعات سے عیاں ہوگا کہ انہوں نے ہر موقع پر دینِ اسلام کی ترقی و اشاعت اور نصرت کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ نے اکثر غزوات میں شریک ہوئے۔

عہدِ خلافت

خلافتِ صدیق کے دور میں عمر فاروق بطور مشیر بھی کام کرتے تھے ، خلیفہ اوّل ابوبکر صدیق کی دورِ خلافت کا عرصہ سوا دو سال ہے۔ جب آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگی یعنی وفات کے قریب خلیفۃ العصر نے صحابہ کرام سے فرداً فرداً مشورہ کیا اور عمر سے متعلق رائے دریافت فرماتے۔ عثمان غنی ، عبد الرحمٰن بن عوف اور دوسرے صحابہ کرام نے کہا کہ عمر خلافت کے لائق اور قابل ہیں۔ آپ کے بعد یہ خلافت کے نظام کو اچھے انداز میں سنبھال سکیں گے۔ آخر عمر فاروق خلیفہ چانی منتخب ہوئے۔ عہدِ فاروقی میں فتوحات کے حوالے سے کافی ترقی  ہوئی۔ انہوں نے بڑے بڑے شہروں اور صوبوں کو فتح کیا۔ ان میں چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔

جب عمر فاروق خلیفہ بنے تو انہوں نے خلیفہ اوّل کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے سب سے پہلے عراق کی مہم کی طرف توجہ دی۔ عرب کے تمام قبائل آپ کی بیعت کے لیے آنے لگے۔ آپ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کے سامنے جہاد پر تاثیر تقاریر کیں۔ اس وقت اہلِ عرب چونکہ مدت سے ایرانیوں سے خوف زدہ تھے انہوں نے کئی روز تک جہاد کے عنوان پر وعظ و تقریریں کیں۔ جب آپ نے چوتھے روز حاضرین سے پُر جوش خطاب فرمایا تو مثنیٰ بن حارثہ مجمع میں اٹھے اور عربوں کو غیرت دلائی اور کہا کہ اس محاذ کو دشوار نہ سمجھو۔ ایرانیوں کو حقیر سمجھو ہم ان کو آزما چکے ہیں وہ بہت پست ہمت ہیں ، ہم نے ان کو کئی بار شکست دی ہے۔ ان کے زرخیز علاقے ہمارے قبضہ میں ہیں۔ الغرض مثنیٰ بن حارثہ کی اس تقریر سے لوگ متاثر ہوئے۔ اسی طرح پھر امیر المومنین عمر فاروق نے پُر جوش تقریر فرمائی جس سے لوگ جہاد کے لیے تیار ہو گئے۔ اور ابو عبیدہ ثقفی کھڑے ہوئے اور اپنے آپ کو عراق کی مہم پر جانے کے لیے پیش کیا۔ اس کے بعد ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں کہ ہم بھی حاضر ہیں۔ خلیفہ ثانی نے سردار ابو عبیدہ بن مسعود ثقفی کو فوج کا سپہ سالار مقرر فرمایا اور تقریباً پانچ ہزار کا لشکر دے کر عراق روانہ کیا۔ قبل ازیں خلیفہ اوّل ابوبکر صدیق کے عہد میں عراق اور شام میں مسلمانوں نے کچھ علاقے فتح کر لیے تھے آخری جنگ یرموک کے مقام پر ہوئی جس میں سپہ سالار اعظم خالد بن ولید ، جو ایک عظیم اور زبردست جنگجو اور بہادر مسلم تھے، ان کی بہادری اور جنگی مہارت و قابلیت نے ایرانی و ساسانی بادشاہوں کو نہایت حیران کر دیا۔

بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ عظیم جرنیل خالد بن ولید یرموک جانے سے پہلے مثنیٰ بن حارثہ کو اپنا قائم مقام مقرر کر کے خود عراق سے روانہ ہوئے۔ خالد بن ولید کی عراق سے عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانیوں نے پھر مسلمانوں پر حملہ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مثنیٰ بن حارثہ کو علم ہوا تو وہ وقتی طور پر اپنا جانشین مقرر کرکے خود مدینہ پہنچے اور خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکر کو حالات سے آگاہ کیا۔ اس دن خلیفہ اوّل سخت بیمار تھے اور وہ ان کی زندگی کا آخری دن تھا۔ صدیق اکبر نے جب عمر کو کہا تھا کہ عراق کی مہم بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے فوج مہیا کر کے روانہ کرنا۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق نے خلیفہ اوّل کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے سب سے عراق کی مہم کی طرف توجہ دی۔

المختصر اینکہ لشکر اسلام عراق کی مہم پر روانہ ہوا ادھر ایرانیوں نے گزشتہ شکستوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے فوج کی از سر نو تنظیم کی، خراسان کا معروف مدبر اور بہادر سپہ سالار رستم کو مقرر کیا گیا۔ رستم نے ایرانیوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنا شروع کیا ، مذہب کے نام پر اس نے ایرانیوں کو مسلمانوں کے خلاف خوب بھڑکایا اور ملک میں ایک آگ سی لگا دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارے ایرانی مسلمانوں کے مقابلہ پر لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔

مقابلہ

ایرانیوں کی جدید تربیت یافتہ فوج سے لشکر اسلام کی کئی جھڑپیں ہوئیں۔ جس میں ایرانیوں کو کافی نقصان پہنچا۔حیرہ اور قادسیہ کے درمیان نمارق پر ابو عبیدہ کا ایرانی سپہ سالار جابان سے آمنا سامنا ہوا۔ شدید جنگ کے بعد ایرانیوں کو شکست فاش ہوئی۔ ان کا قائدِ فوج جابان گرفتار ہوا۔ مسلمان فوج نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے کسکر کے قریب مقام سقاطیہ پر پھر دشمنوں کی فوج کو شکست دی۔ ایرانی سپہ سالار نرسی میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ بے شمار مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ دوبارہ ایرانی افواج نئے حملہ کے لیے میدان آئی اور ابو عبیدہ ثقفی  

کی فوج دریائے فرات کو پار کر کے دشمن کے مقابلہ کے لیے نکلی۔ ایرانی لوگوں کے بڑے بڑے ہاتھی تھے۔ مسلمانوں کے پاس گھوڑے تھے مگر مسلمان بڑی بہادری سے لڑے۔ دونوں فوجوں میں شدید لڑائی ہوئی۔ ابو عبیدہ سب سے بڑے ہاتھی کی طرف بڑھے اور تلوار سے ہاتھی کی سونڈ پر وار کیا لیکن ہاتھی نے بڑھ کر حملہ کیا جس سے ابو عبیدہ گر پڑے اور ہاتھی کے پاؤں سے شہید ہوئے۔ مسلمانوں کو کافی نقصان ہوا۔ جب خلیفہ ثانی کو اس شکست کی خبر ملی تو انہوں نے جریر بن عبد اللہ بجلی کے زیر قیادت مزید کمک بھیجی اب مثنیٰ نے ایرانی فوج کو بویب کے مقام پر بری طرح شکست دی اور ایرانی سپہ سالار مہران قتل ہوا۔ مجاہدینِ اسلام کو بہترین کامیابی حاصل ہوئی جس سے بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا اور مسلمانوں کا رُعب ایرانیوں پر چھا گیا۔ معرکہ بویب میں بارہ  ہزار ایرانی مارے گئے اور مسلم شہداء کی تعداد صرف ایک سو تھی۔ [5]

جنگ قادسیہ

قادسیہ عراق کا مشہور شہر تھا۔ مجاہدین اسلام معرکہ بویب جو ماہِ رمضان میں پیش آیا تھا۔ اس میں فتح حاصل کرنے کے بعد چین و آرام سے بیٹھنا ان کے لیے مشکل تھا۔ مجاہدین اسلام کو علم ہو گیا تھا کہ ایرانی بڑے جوش و خروش سے جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس عرصے میں ایک پر جوش نوجوان شہزادہ یزدگرد ایران کے تختِ شاہی پر بیٹھا۔ اس نے مجاہدینِ اسلام کے لیے ایک لشکر تیار کر کے رستم نامی سپہ سالار کے زیرِ قیادت روانہ کیا۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تیاری میں مصروف تھے۔ آپ نے تمام اطرافِ ملک سے آزمودہ و تجربہ کار سپاہی جمع کر کے ایک فوج تیار کی اور جلیل القدر صحابی سعد بن ابی وقاص کی زیر کمان ایران کی طرف روانہ کی۔

جنگِ قادسیہ چار دن رہی دونوں جماعتوں میں لڑائی بھی خوب ہوئی مجاہدینِ اسلام نے اپنی بہادری اور دلیری کے مثالی جوہر دکھائے۔ رستم بڑی بہادری سے لڑتا رہا۔ آخر کار زخموں سے چور ہو کر میدان سے بھاگ گیا۔ ایک مجاہدِ اسلام ہلال بن علقمہ نامی نے تعاقب کر کے اسے قتل کر دیا۔ اسی چوتھے روز  جنگ کا فیصلہ ہوگیا۔ ایرانی سپاہیوں کے پاؤں اکھڑ گئے ۔ اس جنگ میں بے شمار مالِ غنیمت مجاہدین اسلام کے ہاتھ آیا۔

تاریخ عالم میں جنگِ قادسیہ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہ دنیا کی بڑی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ فتح قادسیہ نے سلطنت ایران کی کمر توڑ دی اور اگرچہ اس کے بعد بھی ایرانیوں سے کئی زبردست جنگیں ہوئیں ، لیکن در حقیقت جنگ قادسیہ کے بعد ایرانی فوج میں وہ سکت و ہمت اور جرات باقی نہ رہی۔ قادسیہ کی شکست نے ایرانی فوج کے حوصلے پست کر دیئے تھے۔ فتح قادسیہ دراصل ملک ایران اور ایشیائے کوچک کی فتح کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

بیت المقدس

137 قبل مسیح میں رومی شہنشاہ نے یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلا وطن کر دیا تھا۔ چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کرلی اور بیت المقدس میں گرجے تعمیر کیے۔ جب نبی کریم ﷺ معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اس وقت یہاں کوئی مسجد یا ہیکل نہ تھا۔ چنانچہ مسجد کی جگہ ہی کو مسجدِ اقصیٰ کہا گیا۔ 2ھ بمطابق 624ء تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ رہا حتیٰ کہ حکم الٰہی کے مطابق کعبہ ( مکۃ المکرمۃ ) کو قبلہ قرار دیا گیا۔ 17ھ بمطابق 639ء میں عہدِ فاروقی میں عیسائیوں سے ایک معاہدے کے تحت بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔[6]

بیت المقدس پر مسلمانوں کے قبضہ کی کچھ تفصیل اس طرح ہے ۔ اس کو یروشلم بھی کہتے ہیں اس کا قدیم نام ایلیا بھی ہے۔ یہ شہر فلسطین کا صدر مقام تھا۔ ابو عبیدہ نے اس پر خلیفہ ثانی عمر فاروق کے حکم سے لشکر کشی کی تو عیسائی شہر میں محصور ہو گئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد محصورین نے یہ خواہش ظاہر کی کہ امیر المؤمنین خود یہاں آ کر اپنے دست مبارک سے معاہدہ لکھیں تو ہم شہر حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے انتہائی شفقت کی توقع تھی۔ عمر فاروق نے اکابر صحابہ سے مشورہ کے بعد علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر فرمایا اور ماہِ رجب المرجب 16ھ میں مدینہ سے روانہ ہوئے۔[7]

بیت المقدس کا سفر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نہایت سادگی  سے طے فرمایا ایک  مختصر سی جماعت کو ساتھ کیا۔ جابیہ کے مقام پر افسروں نے استقبال کیا اور اسی مقام پر ہی بیت المقدس کا وفد آیا جن سے معاہدہ طے ہوا کہ تمام شہر والوں کو جان و مال کی امان دی جاتی ہے۔ ان کے گرجے و صلیبیں محفوظ ہوں گی۔ انہیں تبدیلیِ مذہب پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جو لوگ بیت المقدس سے باہر جانا چاہیں ان کو ہر طرح کا امن و امان حاصل ہوگا اور دوبارہ واپسی کی اجازت بھی حاصل ہوگی۔[8]

فتوحات شام کے واقعات میں مجاہدِ اسلام خالد بن ولید کی سبکدوشی ایک اہم واقعہ ہے ۔ وہ ایک بہترین اور مثالی فوجی سپہ سالار تھے۔ جنہوں نے عراق میں بھی سپہ سالاری کے فرائض بڑی بہادری سے انجام دیئے۔ انہوں نے اپنی جنگی قابلیت و مہارت سے دربارِ ایران اور ساسانی بادشاہی کو حیران اور مرعوب کر دیا تھا۔ ایسے مثالی کمانڈر کو ہٹانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟

اس بارے میں بعض معتبر مؤرخین کا خیال ہے کہ خالد بن ولید کو چونکہ ہر معرکہ میں فتح و نصرت حاصل ہوتی رہی ہے لہٰذا لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ تمام فتوحات خالد بن ولید کی سپہ سالاری ہی کی وجہ سے مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید کو معزول کر کے یہ ثابت کیا کہ مسلمانوں کی کامیابیاں اور فتح مندیاں کسی شخص سے وابستہ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ رب العزت کی مشیّت اور دینِ اسلام کی برکات ان فتوحات کا اصل سبب ہیں۔ [9]

المرام اینکہ بیت المقدس عہدِ فاروقی میں مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور کافی عرصہ تک رہا۔ آخر پھر ایک ایسا وقت آیا کہ بیت المقدس یہودیوں کے قبضہ میں چلا گیا ۔ چنانچہ پہلی جنگِ عظیم 1917ء کے زمانہ میں انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دیدی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا اور 14 مئی 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا۔ جو تاریخ کا ایک اندوہناک سانحہ ہے۔ جس سے مختلف سانحات نے جنم لیا اور جس کا المناک سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

مصر

ساتویں صدی عیسوی میں جب مجاہدینِ اسلام نے سلسلہ فتوحات کا آغاز کیا تو بیت المقدس اور شام کی طرح مصر بھی رومیوں کے قبضہ میں تھا وہاں کے باشندے قبطی کہلاتے تھے۔ یہ مذہباً عیسائی تھے۔ ان پر قیصر روم کی طرف سے ایک مصری نائب مقرر ہوتا تھا۔ جسے مقوقس کہتے تھے۔ قبطیوں کے ساتھ رومیوں کا سلوک اچھا نہ تھا۔ شام کے زیرِ نگیں ہونے کے بعد اس کے قریبی ملک مصر پر فوج کشی ہوئی۔ اس کی فتح کا سہرا عمرو بن العاص کے سر ہے۔ مصر پر حملہ کرنے کے مختلف اسباب تھے۔ مثلاً

  • ظہورِ اسلام سے قبل عمرو بن العاص اپنی تجارت کے سلسلے میں اکثر مصر آیا کرتے۔ مصر کی شادابی اور زرخیزی ان کی نگاہ میں تھی۔ یہ مصر پر حملہ کرنے کا ایک اہم سبب تھا۔
  • دوسرا سبب کچھ اس طرح ہے کہ مصر کی قبطی حکومت قیصر روم کے ما تحت تھی اور رومیوں کا اس پر مکمل اثر تھا۔ وہ نہایت آسانی کے ساتھ قبطیوں کے ذریعے شام میں شورش بپا کروا سکتے تھے۔ اس لیے شام کی حفاظت کے لیے مصر پر قبضہ ضروری سمجھا گیا۔ چنانچہ فتح شام کے بعد عمرو بن عاص نے خلیفہ ثانی سے مصر پر فوج کشی کی اجازت طلب کی۔ آپ نے احتیاطاً انکار کیا۔ لیکن عمرو بن العاص کے پیہم اصرار پر راضی ہو گئے۔
  • مصر پر حملہ کرنے کا تیسرا سبب یہ ہوا کہ رومی سردار اطربون فلسطین سے فرار ہو کر مصر چلا گیا تھا اور وہاں اپنی طاقت میں اضافہ کر رہا تھا۔ یعنی مصر میں آ کر اپنی فوج کو مضبوط بنانے کی کوشش میں رہنے لگا تھا۔
  • چوتھا سبب یہ ہے کہ قیصر روم مصر کی راہ سے شام پر حملہ کی تیاریاں کر رہا تھا۔
  • پانچواں سبب یہ کہ مصر پر رومیوں کا قبضہ تھا انہوں نے اہل مصر کو غلامی کے شکنجہ میں جکڑ رکھا تھا۔ مصر کو رومیوں سے چھین لینے کا خود وہاں کے باشندوں کو یہ فائدہ پہنچتا کہ ظالم حکمرانوں سے نجات پا جاتے۔
  • اسی طرح ایک سبب یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات مخفی نہ تھی کہ اہل مصر رومیوں کو نا پسند کرتے تھے۔ اسلامی حملہ کی صورت میں ان سے یہ توقع تھی کہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ بعد کے حالات نے فاتح مصر عمرو بن العاص کے اس اندازے کو صحیح ثابت کر دیا اور اہلِ مصر نہایت آسانی سے مغلوب ہو گئے۔

فتح اسکندریہ

یہ شہر سکندرِ اعظم نے آباد کیا تھا۔ یہ عیسائیوں کا مرکز رہا ہے اور یہاں ان کے عظیم گرجے اور مذہبی یادگاریں تھیں۔ قیصر روم خود یہاں آنا چاہتا تھا مگر اچانک مر گیا۔ عمرو بن العاص کے ساتھ کچھ قبطی رئیس بھی تھے۔ رومی ظالموں سے اہلِ مصر نالاں اور متنفر تھے۔ اسکندریہ تک مجاہدینِ اسلام آسانی سے بڑھے مگر اس کے مضافات میں پہنچ کر مقابلہ کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں مجاہدین نے اسکندریہ کا محاصرہ کر لیا۔  کافی عرصہ محاصرہ کرنے سے خلیفہ ثانی کو تشویش ہوئی تو انہوں نے عمرو بن العاص کو خط لکھا:

” معلوم ہوتا ہے کہ مصر کے قیام سے تم لوگ عیسائیوں کی طرح عیش و عشرت میں مبتلا ہو گئے ہو ورنہ اتنی دیر نہ ہوتی۔ میرا یہ خط پہنچتے ہی متفقہ حملہ کرو۔”

اس خط کے ملتے ہی عمرو بن العاص نے اسلامی فوج کے سامنے فضائل جہاد بیان کیے۔ عبادہ بن صامت کو سپہ سالار بنا کر بروز جمعۃ المبارک قلعہ پر زبردست حملہ کیا جس سے اسکندریہ فتح ہو گیا اور خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق کو فتح کی خوشخبری بھجوا دی گئی۔ اسکندریہ مصر  کی کنجی تھا کیونکہ اسکندریہ کا قلعہ مصر بھر میں مضبوط ترین قلعہ مانا جاتا تھا۔ اس پر رومیوں کو بھی بڑا فخر اور ناز تھا۔ بحری اور برّی دونوں راستوں سے رومیوں کو کمک اور سامان تیزی سے پہنچ رہا تھا۔ اس لحاظ سے اسکندریہ مصر کی کنجی کی حیثیت رکھتا تھا ۔ اس کو فتح کرنے سے باقی مصر آسانی سے فتح ہو گیا۔

فتح طرابلس

مصر کے بعد عمرو بن العاص نے مغرب کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے طرابلس کے مشہور مقام برقہ پر قبضہ کر لیا بعد ازاں طرابلس کے معروف قلعہ کو فتح کر لیا۔

المرام اینکہ

عہدِ صدیقی میں بھی مجاہدین نے مختلف علاقوں اور ملکوں کو فتح کیا اور عہدِ فاروقی میں بھی اہلِ اسلام نے مثالی فتوحات حاصل کیں وہ ملک اور علاقے فتح کیے جہاں کشت و خون اور ظلم و ستم عروج پر تھے جب وہ علاقے مسلمانوں کے زیر سایہ آئے تو وہاں کے لوگ مسلمانوں کے سلوک و اخلاق سے بہت متاثر ہوئے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگرچہ عمر فاروق خود کسی بھی جنگ میں شریک نہیں ہوئے لیکن تمام جنگیں ان ہی کی ہدایات و حکم سے ہوئیں۔ عہدِ فاروقی کی وسعتِ فتوحات کے بارے میں اہل فکر و دانش کی رائے ہے کہ تاریخ عالم میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ اتنے مختصر سے عرصے میں کسی فاتح نے اتنے وسیع علاقے کو فتح کیا ہو اور عدل و انصاف پر مبنی ایسی حکومت و خلافت کی ہو جس میں ایک واقعہ بھی منافی عدل نہیں ملتا ۔ [10]

[1]    الاستیعاب ، باب عمر رضی اللہ عنہ

[2]    الاصابہ فی تمییز الصحابہ و معہ الاستیعاب

[3]    مزید ملاحظہ ہو : الرّحیق المختوم ، تاریخ عمر بن الخطاب لابن الجوزی اور ترمذی ، ابواب المناقب : مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب

[4]   ملاحظہ ہو : البدایہ و النہایہ

[5]   ملاحظہ ہو : طبرانی ، تاریخ اسلام تالیف مورخ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی ، الفاروق وغیرہا

[6]   مزید ملاحظہ ہو : اٹلس سیرت نبوی ﷺ

[7]   تاریخ طبری

[8]   مسلم و ترمذی

[9]   ملاحظہ ہو : تاریخ اسلام از اکبر شاہ خاں نجیب آبادی

[10]  تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : فتوح البلدان للبلاذری ، تاریخ طبری ، البدایہ و النہایہ ، تاریخ الخلفاء للسیوطی ، تاریخ اسلام از اکبر شاہ خاں نجیب آبادی ، الاصابہ لابن حجر ، الاستیعاب لابن عبد البر وغیرہا

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s