سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : قیام نظامی

امیر المومنین ، عز الاسلام و المسلمین ، ابا الفقراء ، دعائے رسول سرور عالم ﷺ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی سے 40 سال قبل پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش اور بچپن کے حالات کا پتہ نہیں چلتا۔ صرف دو واقعات ایسے ہیں جن سے مختصر سی روشنی آپ کے بچپن پر پڑتی ہے۔ ” تاریخ دمشق ” میں حافظ ابن عساکر نے عمرو بن عاص کی زبانی لکھا ہے :

” میں چند دوستوں کے ساتھ ایک جلسہ میں بیٹھا تھا کہ دفعۃً ایک شور برپا ہوا ۔ وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ خطاب کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہےاور اس خوشی میں شور و ہنگامہ ہو رہا ہے۔ جب آپ بڑے ہوئے تو باپ نے اونٹ چرانے کا کام سپرد کیا۔ چرا گاہی قبیلہ عرب کا ایک عام مشغلہ تھا۔ یہ کوئی معیوب بات نہ تھی۔ اس کام میں آپ کے والد آپ سے خوب محنت کراتے تھے۔ جس میدان میں آپ اونٹ اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اس کا نام ضجنان تھا۔ اپنے دورِ خلافت میں ایک بار حضرت عمر فاروق کا گزر اس میدان کی طرف سے ہوا۔ آپ آبدیدہ ہوئے اور حسرت سے فرمایا : اللہ اکبر ایک وہ زمانہ تھا کہ میں نمدہ کا کرتا پہنے ہوئے اونٹ چرایا کرتا تھا۔ تھک کر بیٹھ جاتا تو باپ سے سزا پاتا اور مار کھاتا تھا۔ آج یہ دن کہ اللہ کے سوا میرے اوپر اور کوئی حاکم نہیں۔”

حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب عدی ، فہر ( قریش ) اور عدنان سے ہوتا ہوا حضرت ابراہیم علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضور اکرم ﷺ سے آٹھویں پشت پر جا کر مل جاتا ہے اور وہ اس طرح ہے :

 عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن رباح بن عبد اللہ قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک ۔

شرافت و ریاست اور حکومت و اقتدار قبیلہ قریش کے دس نامور خاندانوں میں تقسیم تھی۔ سفارت کا محکمہ حضرت عمر فاروق کے خاندان میں عدی کے زمانہ سے چلا آتا تھا۔اس کے علاوہ افضلیت کے فیصلے بھی آپ ہی کے خاندان کے سپرد تھا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم کے دادا نفیل بن عبد العزیٰ بڑے عالی مرتبت شخصیت کے مالک تھے اور قبیلہ نے جو ذمہ داری سونپی تھی اس کو بڑی مہارت سے انجام دیا کرتے تھے۔ آپ کے والد خطاب نے کئی شادیاں کی تھیں۔ جن میں سیدنا عمر فاروق کی والدہ خنتمہ ، ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں۔ مغیرہ ایک ممتاز اور بلند رتبہ آدمی تھے۔ جن کے ایک پوتے حضرت خالد بن ولید تھے۔

حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم کا پسندیدہ مشغلہ نسب دانی ، سپہ گری ، پہلوانی ، شہ سواری اور خطابت تھا۔ نسب دانی میں سیدنا عمر ان کے والد خطاب اور دادا نفیل تینوں کو مہارت حاصل تھی۔ بازار عکاظ کے میلہ میں ہر سال کشتی دانی کا جوہر دکھایا کرتے تھے۔ قبیلہ قریش میں صرف سترہ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ جن میں ایک حضرت عمر فاروق بھی تھے۔ قبائلِ عرب کے رواج کے مطابق آپ کا ذریعہ معاش بھی تجارت ہی تھا۔ آپ نے اس سلسلہ میں دور دراز ملکوں کا سفر کیا اور بڑے بڑے حکمرانوں ، تاجروں اور صاحب اقتدار لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ خودداری ، بند حوصلگی ، تجربہ کاری اور معاملہ فہمی میں آپ یکتائے روزگار تھے۔ اسلام لانے ے بعد آپ کی ان صلاحیتوں سے دینِ اسلام کو بہت فائدہ حاصل ہوا۔

سیدنا عمر فاروق اعظم کے چچا زاد بھائی زید بن عمرو بن نفیل نے بعثت نبوی ﷺ سے قبل ہی اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لے کر بت پرستی چھوڑ دی تھی اور موحد بن گئے تھے۔ بت پرستی اور رسوم جاہلیت کو اعلانیہ برا کہتے تھے اور دین ابراہیمی کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔ زید بن عمرو کے بیٹے سعید تھے۔ جن کی شادی حضرت عمر کی بہن فاطمہ سے ہوئی تھی۔ اس طرح حضرت سعید بن زید بن عمرو ، حضرت کے چچیرے بھتیجے اور سگے بہنوئی تھے۔ جب نبی آخر الزماں ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور دعوت اسلام دی تو حضرت عمر کے خاندان کے سعید بن زید ، فاطمہ بنت خطاب اور نعیم بن عبد اللہ نے اسلام قبول کیا۔

حضرت فاروق اعظم کی عمر اس وقت 27 سال تھی۔ آپ حضور نبی کریم ﷺ اور اسلام کے کٹر دشمن تھے۔ مسلمانوں کی ایذا رسانی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ آپ کو اپنے خاندان کے افراد کی اسلام میں داخل ہونے کی خبر نہ تھی۔ تمام تر ایذا رسانیوں اور مصیبتوں کے باوجود آپ ایک مسلمان کو بھی اسلام سے جدا نہ کر سکے۔ آخر آپ نے فیصلہ کیا کہ نئے دین کے بانی حضرت محمد ﷺ کا ہی      ( نعوذ باللہ ) خاتمہ کر دیا جائے۔ ایک دن تلوار اٹھائی اور حضور اکرم ﷺ کے قتل کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ ادھر حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور ارقم بن ارقم کے مکان میں سجدہ ریز تھے اور دعا فرما رہے تھے : ” اے اللہ ! عمر بن ہشام ( ابو جہل ) یا عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو سر بلند کر۔”سیدنا عمر ہاتھ میں ننگی تلوار لیے حضور ﷺ کی تلاش میں جا رہے تھے کہ سر راہ ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا اے عمر کہاں کا ارادہ ہے۔ آپ نے کہا : ” ( نعوذ باللہ ) محمد ﷺ کے قتل کا۔” اس شخص نے جواب دیا پہلے اپنے بہن بہنوئی کی تو خبر لو جو اپنا آبائی مذہب ترک کر کے اسلام قبول کر چکے ہیں۔ آپ نے فوراً بہن کے گھر کا رخ کیا۔ جس وقت آپ بہن کے دروازے پر پہنچے تو بہن آیاتِ قرآن کی تلاوت کر رہی تھیں۔ آپ نے بہن اور بہنوئی کی خوب پٹائی کی۔ یہاں تک کہ فاطمہ بنت خطاب کے سر سے خون جاری ہو گیا۔ انہوں نے اپنے بھائی عمر بن خطاب کو کہا : ” اے عمر ! تو مجھے جان سے بھی مار دے تب بھی میں محمد ﷺ کے دین کو نہیں چھوڑوں گی۔ بہن کے ان الفاظ نے آپ کی کایا پلٹ دی اور آپ نرم پڑ گئے۔ بہن سے کہا لاؤ وہ عبارت جو تم ابھی پڑھ رہی تھی۔ آپ نے جب آیاتِ قرآن کو پڑھا تو دل کی دنیا ہی بدل گئی ۔ وہ تلوار جو ہاتھ میں بے نیام لیے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ کے خون سے اپنا ہاتھ رنگنے نکلے تھے اپنی گردن میں لٹکالی اور صفا کی پہاڑی کے دامن میں واقع حضرت ارقم بن ارقم کے مکان دار الارقم پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ کے قدموں میں سر رکھ دیا اور مسلمان ہو گئے۔ اس خوشی کے موقع پر اللہ کے پیارے حبیب ﷺ اور ان تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایک ساتھ اللہ اکبر کا فلک شگاف نعرہ لگایا جس سے صفا اور مروہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں۔ کوہِ صفا کے دامن میں دار الارقم وہ مکان تھا جو حضرت ارقم کی رہائش گاہ تھا اور جہاں سے حضرت محمد ﷺ بعثت کے ابتدائی دنوں میں پوشیدہ طور پر تبلیغ دین کا کام انجام دیا کرتے تھے ۔ اب دار الارقم موجود نہیں۔ مسجد الحرام کی توسیع کے بعد یہ جگہ حرم میں داخل ہو گئی ہے۔ اس وقت ٹھیک اس جگہ پر جہاں دار الارقم تھا خود کار زینہ ہے۔ جس سے حرم کی بالائی منزل پر جایا جاتا ہے ۔ زینہ کے گیٹ پر حضرت ارقم کے نام سے ایک پتھر کی تختی نصب ہے۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جس طرح اسلام قبول کرنے سے حضرت محمد ﷺ کے اور دینِ اسلام کے کٹر دشمن تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد اس سے زیادہ حضور ﷺ کے سچے شیدائی اور دین کے مجاہدِ اعظم ثابت ہوئے۔ اب تک نبی کریم ﷺ تبلیغ دین کا کام پوشیدہ طور پر انجام دے رہے تھے اور مسلمان ارکانِ دہین یعنی نماز وغیرہ چھپ کر ادا کیا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے بعد دین اسلام کو بڑی تقویت حاصل ہوئی اور اعلانیہ تبلیغ کا کام شروع کیا گیا۔ آپ نے پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کے ساتھ خانہ کعبہ میں نماز پڑھی اور کفارِ قریش مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک نہیں سکے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ہوا تو حضرت عمر نے دوسرے 20 مسلمانوں کے ساتھ علی الاعلان مکہ المکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی۔ جہاں حضرت عتبان بن مالک انصاری کو آپ کا دینی بھائی بنایا گیا ۔ آپ نے تمام غزوات میں حضور ﷺ کے ساتھ شرکت کی اور ثابت قدم رہے۔

سیدنا فاروق اعظم مزاجِ شناس وحی تھے۔ اللہ جل شانہ اور اس کے پیارے حبیب حضور نبی کریم ﷺ کو بھی آپ کی رائے اور مشورہ بہت پسند تھا۔ کئی موقع پر آپ کی رائے کے مطابق رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی وحی نازل ہوئی اور جو مشورہ سیدنا عمر نے دیا وحی الٰہی نے اس کی تائید کی۔

جنگ بدر کے موقع پر حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قیدیوں کے قتل کا مشورہ دیا تو آیت ” لو لا کتاب من الله ” نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے مشورے کی تائید فرمائی۔

آپ کو امہات المومنین کا بے حجاب نکلنا پسند نہ تھا اور آپ نے انہیں پردہ کا مشورہ دیا تو آیت حجاب نازل ہوئی۔ یعنی سورہ احزاب کی آیت 33۔

آپ نے نبی کریم ﷺ کے حضور مقام ابراہیم پر نماز پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ” و اتخذوا من مقام ابراهیم مصلی” ” مقام ابراہیم کو اپنی نماز کی جگہ بناؤ۔” نازل ہوئی۔

عبد اللہ بن ابی بہت بڑا منافق تھا۔ بظاہر مسلمان تھا لیکن باطنی طور پر اسلام کا دشمن تھا۔ جب وہ مرا تو اس کا لڑکا ( جو خود ایک سچا مسلمان تھا ) حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نمازِ جنازہ پڑھانے کی درخواست کی ۔ حضور اکرم ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف لے گئے۔ راستے میں حضرت عمر نے حضور ﷺ سے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ آپ ﷺ اس منافق کی نمازِ جنازہ نہ پڑھائیں۔ جنازہ پڑھانے کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صادر ہوا کہ آئندہ ان منافقین میں سے کوئی مر جائے تو آپ ﷺ نہ اس کی نماز پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ( سورہ توبہ آیت 80 ) ۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق سیدنا فاروق اعظم مسند خلافت پر رونق افروز ہوئے۔ آپ کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ میں نہایت روشن اور انتہائی تابناک ہے۔ حق و صداقت اور انساف پسندی کے آپ پیکر تھے۔ آپ کے دورِ خلافت میں فتوحات کا تانتا بندھ گیا۔ اسلامی حکومت میں نئے نئے بکثرت اصلاحات ہوئے۔ اسلامی ریاستیں دور دراز علاقوں تک قائم ہوئیں۔ نئے شہر آباد ہوئے۔ سن ہجری تاریخ لکھنے کا رواج آپ ہی کے دورِ خلافت میں شروع ہوا۔

حضرت سیدنا عمر فاروق کو بحالتِ نماز ایک پارسی غلام ابو لولو فیروز نے مسجد نبوی میں 26 ذی الحجہ 23ھ کو زہر آلود خنجر سے شدید زخمی کیا۔ اس زخم سے 3 دن بعد یکم محرم الحرام بروز ہفتہ کو آپ نے وصال فرمایا اور روضہ رسول پاک ﷺ میں حضرت ابوبکر صدیق اکبر کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر شریف تقریباً 63 برس تھی۔ آپ کا زمانہ خلافت 10 سال رہا۔

حضور سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کا حضرت عمر کی شان میں فرمان ہے :

” میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے ، آسمان پر فرشتے عمر کا وقار کرتے ہیں اور زمین کا ہر شیطان اس سے ڈرتا ہے۔”

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا :

” عمر ارادہ کی پختگی ، ہوش مندی اور دلیری سے پُر ہیں۔”

ایک بار حضرت عمر کو کپڑا اوڑھے دیکھ کر حضرت علی نے فرمایا :

” اس کپڑا اوڑھے شخص سے زیادہ مجھے کوئی عزیز نہیں۔”

امام جعفر صادق کا قول ہے :

” میں اس شخص سے بیزار ہوں جو ابوبکر و عمر کو بھلائی سے یاد نہ کرے۔”

حضرت علی ، حضرت معاویہ کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :

” بلاشبہ اسلام میں سب سے افضل اور اللہ و رسول کے لیے سب سے زیادہ مخلص صدیق تھے۔ پھر ان کے بعد خلیفہ فاروق تھے۔ اسلام میں ان کا رتبہ بہت بڑا ہے۔ ان کی وفات سے اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ اللہ ان دونوں پر رحمت فرمائے اور ان کے اچے اعمال کی جزا دے۔ ” ( شرح نہج البلاغہ )

حضرت عمر فاروق نے کئی شادیاں کی تھیں اور آپ کی نسل خوب پھلی پھولی شیوخِ فاروقی کی بکثرت شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی خواہش تھی کہ خاندانِ اہل بیت رسول ﷺ میں آپ کی شادی ہو اور ان کا شمار اہل بیت رسول میں ہو جائے ۔ آپ نے حضرت علی کی خدمت میں ان کی صاحبزادی سیّدہ ام کلثوم بنت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے شادی کا اظہار فرمایا۔ حضرت سیدہ اس وقت بہت کم سن تھیں لیکن سیدنا علی نے سیدنا عمر کے جذبے کا احترام کرتے ہوئے اس پیشکش کو قبول کر لیا۔ 17ھ میں حضرت سیدہ ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر فاروق سے ہوا ۔ آپ نے 40 ہزار درہم مہر ادا کیا۔ حضرت ام کلثوم بنت فاطمہ کے بطن سے حضرت عمر فاروق کی دو اولادیں سیدنا زید اور حضرت سیدہ رقیہ تھیں۔ بقیہ اولادیں حضرت عمر فاروق کی دوسری ازواج سے تھیں۔ حضرت عمر فاروق کے وصال کے بعد سیدہ ام کلثوم کا دوسرا نکاح حضرت محمد بن جعفر طیار سے ہوا۔

خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں صحابہ کرام کے لیے وظیفہ مقرر کیا۔ حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباس کو سالانہ دو لاکھ درہم ملا کرتا تھا اور آپ ﷺ کے دوسرے قرابت داروں کو بھی درجہ کے مطابق وظیفہ دیا گیا۔ تمام امہات المومنین میں سے ہر ایک دس دس ہزار درہم ماہانہ ۔ صرف حضرت عائشہ کو بارہ ہزار درہم ملا کرتا تھا۔ حضرات حسنین کو پانچ پانچ ہزار درہم دیا گیا۔

حضرت عمر فاروق اعظم نے وصال سے قبل حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر مشتمل ایک چھ رکنی مجلس شوریٰ منتخب فرما دی تھی تاکہ یہ افراد آپس کے مشورے سے کسی ایک کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب فرما لیں۔ حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص خلافت سے دست بردار ہوگئے ۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے حضرت علی اور حضرت عثمان سے فرمایا کہ آپ دونوں میرے انتخاب کو قبول کرنے کی رضا مندی دیدیں تو میں بھی خلافت سے دست بردار ہو جاتا ہوں۔ دونوں بزرگوں نے اپنی رضا مندی دے دی۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے وقت کے جید صحابہ کرام کے مشورے کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر کے آپ کا انتخاب فرمایا۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s