خلافت فاروقی میں آراضی کی تنظیم و تقسیم


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا محمد تقی امینی

ذرائع پیداوار کی صحیح تنظیم و تقسیم ہی پر مملکت کی خوشحالی  و فارغ البالی موقوف ہے، اور اس میں آراضی کے مسئلہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اس لیے ہدایت الٰہی نے حسب دستور اس مسئلہ میں بھی مقصد پر زیادہ زور دیا ہے کہ مخلوق کے لیے بسہولت خورد و نوش کا سامان مہیا اور بلاتخصیص مذہب و ملت حسب ضرورت و صلاحیت اس کی تقسیم کا بندوبست ہوتا رہا، اس لیے مفاد عامہ کے پیش نظر اس نے تنظیم و تقسیم کی کوئی خاص صورت متعین نہیں کی ہے بلکہ خلافت کو اختیار دیا ہے کہ وہ حسب حاجت و مصلحت تنظیم و تقسیم کا اس طرح نظام قائم کرے کہ عدل و انصاف کے ساتھ خلق اللہ کو رزق حلال پہنچا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوشی اور اللہ کے روبرو سرخوئی حاصل کرسکے۔

اس اہم مقصد کے حصول کے لیے خلافت پر یہ بندش نہیں ہے کہ وہ ذرائع پیداوار کو افراد کے سپرد کرے یا جماعتوں کے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ذرائع پیداوار جس کے سپرد کیے جائیں اس کی حیثیت محض امین کی ہو اور اسی وقت تک ان کو اس کے استعمال و انتقاع کا حق حاصل ہو جب تک وہ حصول مقصد میں خلافت کا ہاتھ بٹاتے رہیں اور ایسی فضاء  پیدا کرنے میں مددگار بنیں جو عام مخلوق کی خوشحالی و ترقی کی ضامن ہو۔

یہاں اس امر کی وضاحت غیر ضروری ہے کہ خلافت پوری مملکت کی ذمہ دار اور خدا کی حاکمیت و جلال و جبروت کے آگے جواب دہ ہوتی ہے، جیسا کہ فاروق اعظم نے ایک موقع پر فرمایا تھا :-

” لو مات کلب علی شاطئ الفرات جوعا لکان عمر مسئولا عنه یوم القیٰمة۔” [1]

"فرات” کے کنارے اگر کتا بھی بھوک سے مرجائیگا تو قیامت کے دن "عمر” سے اس کے متعلق باز پرس ہوگی۔

جواب دہی کے اس بنیادی تصور کے پیش نظر خلافت نہ خود سرچشمہ رزق پر قابض ہو کر من مانی کارروائی کرنے کا مجاز ہے اور نہ ذرائع پیداوار اس انداز میں دوسروں کے پاس رکھ سکتی ہے کہ وہ ذاتی وقار و اقتدار کے لیے کمزوروں کو اپنی غلامی پر مجبور کرسکیں۔

ذیل میں چند وہ صورتیں ذکر کی جاتی ہیں جو مذکورہ مقصد و مفاد عامہ کے پیش نظر خلافت فاروقی میں بروئے کار لائی گئی تھیں اور کسی ایک طریق کی پیروی ضروری نہیں قرار دی گئی تھی۔

(1)عراق و شام فتح ہونے کے بعد آراضی کی تنظیم و تقسیم کے بارے  میں مشورہ ہوا۔ مجلس شوریٰ میں دو قسم کے رائے رکھنے والے تھے، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف و حضرت بلال وغیرہ کی رائے یہ تھی کہ مفتوحہ زمین فوجیوں میں تقسیم کر دی جائے، اور حضرت علی  و حضرت عثمان و حضرت معاذ بن جبل وغیرہ کی رائے تھی کہ خلافت کے زیر اہتمام اصل باشندوں کے پاس رہنے دی جائے، فوجیوں میں نہ تقسیم کی جائے۔

چونکہ اس بارہ میں رسول اللہ ﷺ کا  طرز عمل مذکورہ مقصد اور مفاد عامہ کے پیش نظر مختلف تھا، اس بناء پر دونوں فریق اپنی رائے کی تائید میں آپ کے طرز عمل سے استدلال کرتے تھے، ایک فریق کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا وہ طرز عمل تھا جو آپ نے بنو نضیر و بنو قریضہ کی کل زمین اور خیبر کے کچھ حصے کے بارے میں اختیار فرمایا تھا کہ یہ زمینیں آپ نے فوجیوں میں تقسیم کر دی تھیں، اور دوسرے فریق کے سامنے وادی القریٰ اور مکہ کے کل زمین اور خیبر کی بقیہ زمین تھی کہ آپ نے مفاد عامہ کے پیش نظر اصل باشندوں کے پاس رہنے دی تھی، فوجیوں میں نہ تقسیم کی تھی۔[2]

رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل کی بناء پر ہر فریق اپنی جگہ مضبوط اور دلائل میں قوی تھا۔ اس لیے مجلس میں بڑی گرما گرم بحث کے باوجود کوئی قطعی فیصلہ نہ ہوسکا اور حضرت عمر کو دوبارہ مجلس شوریٰ طلب کرنا پڑی جس میں آپ نے حالات کی نزاکت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مجلس شوریٰ کے ممبروں کے علاوہ انصار کے دس معزز آدمیوں کو بھی خصوصی دعوت پر شریک کیا تھا۔

اس اجلاس میں حضرت عمر نے مجلس کے سامنے چند بنیادی "نکات” پیش کیے اور اپنی مدلل تقریر کے ذریعہ سب کو ان "نکات” میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی جس کا خلاصہ یہ ہے۔[3] آپ نے حمد وثنا کے بعد فرمایا :-

” میں نے آپ حضرات کو اس لیے تکلیف دی ہے کہ جس "بار امانت” کو آپ ہی لوگوں نے میرے سر پر رکھا ہے اس کے اٹھانے میں میری مدد کریں۔ اس وقت مجلس میں میری پوزیشن خلیفہ کی نہیں ہے ، بلکہ آپ میں کے ہر فرد جیسی ہے، ہر فرد کو اپنی رائے پیش کرنے کا بھی پورا اختیار ہے۔ ابھی تھوڑی دیر کی بات ہے کہ اس معاملہ میں مشورہ  ہو چکا ہے، مجلس کے کچھ لوگوں نے میری رائے کی مخالفت کی ہے اور کچھ نے موافقت کی ہے۔

میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ لوگ میری مرضی کا اتباع کریں، اور حق بات کو چھوڑ دیں بلکہ میں صرف حق بات کی طرف آپ حضرات کی توجہ مبذول کرانا  چاہتا ہوں جس طرح میرے پاس اللہ کی کتاب ہے، ویسے ہی آپ لوگوں کے پاس بھی ہے، جو ناطق بالحق ہے، اسی کو سامنے رکھ کر مشورہ دیجئے ، جو کچھ اس میں موجود ہے اس پر عمل کرنا ہم سب کا فرض ہے۔”

حضرت عمر فاروق نے اس موقع پر "آیات فے” سے استدلال کیا تھا، جن میں بلا تخصیص و ترجیح مفتوحہ زمین میں سب لوگوں کا حق بیان کیا گیا ہے فوجیوں کی تخصیص نہیں ہے۔

آیات فے یہ ہیں :

مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ كَيۡ لَا يَكُونَ دُولَةَۢ بَيۡنَ ٱلۡأَغۡنِيَآءِ مِنكُمۡۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ 

٧ لِلۡفُقَرَآءِ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ ٱلَّذِينَ أُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَأَمۡوَٰلِهِمۡ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ 

أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّٰدِقُونَ ٨ وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلۡإِيمَٰنَ مِن قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّونَ مَنۡ هَاجَرَ إِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمۡ حَاجَةٗ مِّمَّآ أُوتُواْ وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٩ وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا وَلِإِخۡوَٰنِنَا 

ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِي قُلُوبِنَا غِلّٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٞ رَّحِيمٌ ١٠ ( سورہ حشر )

” اللہ نے جو فے ( مال مفتوحہ ) بستی والوں سے اپنے رسول کو عطا فرمایا ہے وہ اللہ و رسول کے لیے اور اقرباء، یتیم، مسکین اور مسافر کے لیے ہے تاکہ تم سے دولتمندوں کے درمیان سمٹ کر نہ رہ جائے اور جو کچھ رسول ﷺ تمہیں دیں اس کو لے لو اور جس سے وہ منع کریں ( نہ دیں ) اس کو چھوڑ دو، اور اللہ سے  ڈرو۔ بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے، وہ مال ان  مفلس مہاجروں کے لیے بھی ہے  جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے ہوئے، اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی ڈھونڈھنے کے لیے اللہ و رسول ( دین ) کی مدد کرنے کے لیے تمہارے پاس آئے ہیں وہی لوگ سچے ہیں، اور ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو اس گھر ( مدینہ ) میں ایمان کے حالت میں مہاجرین کے پہلے سے ٹھہرے ہوئے ہیں، وہ لوگ ان مہاجرین سے محبت کرتے ہیں، ان کے آنے سے اور ان کی خاطر تواضع کرنے سے اپنے دلوں میں تنگی نہیں محسوس کرتے ہیں اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ ان پر فاقہ ہی کی نوبت آ جائے، اور جو لوگ اپنے نفس کو لالچ سے بچا لیے گئے وہی مرد پانے والے ہیں، اور ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان کے بعد یہ کہتے ہوئے  آئے کہ اے ہمارے رب بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں مومنوں کی طرف سے کھوٹ نہ کر، اے ہمارے رب آپ ہی نرمی کرنے والے اور مہربان ہیں۔”

حضرت عمر فاروق نے سلسلے تقریر جاری رکھتے ہوئے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پر اجمالی روشنی ڈالی اور مقصد کو زیادہ واضح الفاظ میں اس طرح بیان کیا :

” کیا آپ حضرات نے ان لوگوں کی باتیں نہیں سنیں جو مجھے اس معاملہ میں شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، شاید ان کا خیال ہو کہ میں ان کی حق تلفی کرنا چاہتا ہوں، حالانکہ کسی فرد کی بھی حق تلفی کرنا میرے نزدیک صریح ظلم ہے، معاذ اللہ ! خدا شاہد ہے کہ میں نے کبھی کسی معاملہ میں ان پر ظلم کیا ہو یا اب ظلم کرنے کا ارادہ ہو، لیکن  یہ غور طلب ہے کہ عراق و شام فتح ہونے کے بعد اور کون سی زمین رہ گئی ہے جس کی آمدنی سے خلافت کا انتظام سنبھالا جائے گا، یہ تو محض اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے کسریٰ کے اموال، زمین، جائداد اور جفاکش کام کرنے والوں پر ہمیں غلبہ عطا فرمایا ہے۔

آپ لوگ خود اس کے شاہد ہیں کہ اموال منقولہ میں نے فوجیوں میں تقسیم کر دیا ہے خمس ( مال غنیمت کا پانچواں حصہ ) بھی مناسب محل پر صرف کر دیا گیا ہے۔ اب صرف زمین ( جائداد غیر منقولہ ) باقی بچی ہے، اس کے متعلق خیال ہے کہ اس کو اس کے آتش پرست  مالکوں ہی کے پاس رہنے دیا جائے اور زمین پر ٹیکس ( خراج ) اور مالکوں پر ان کے جان و مال کی حفاظت کا معاوضہ ( جزیہ ) مقرر کر دیا جائے، تاکہ یہ سب آمدنی اجتماعی مفاد کے کاموں میں خرچ کی جائے اور اس کے ذریعہ فوجیوں کی تنخواہوں اور موجودہ اور بعد کے آنے والے لوگوں کا بندوبست کیا جائے۔

آپ ہی بتایئے! کیا یہ ممالک سرحدوں کی حفاظت کے بغیر بیرونی حملوں سے محفوظ رہ سکیں گے؟ کیا جزیرہ، کوفہ، بصرہ، عراق، شام اور مصر وغیرہ کے بڑے بڑے شہروں میں ان کی حفاظت کے لیے فوجی چھانیوں کی ضرورت نہ ہوگی، اگر زمین تقسیم کر دی جائے تو فوجیوں کی تنخواہیں، پھتے اور دوسرے لوگوں کے وظیفوں کی رقم کہاں سے آئے گی؟”

فاروق اعظم کی اس بصیرت افروز تقریر سے تمام ممبر متاثر ہوئے اور انھوں نے ان الفاظ میں تائید کی :ـ

"فقالوا جمیعاً الرائ رایک فنعم ما قلت و مارایت۔” [4]

"سب نے کہا کہ بس آپ ہی کی رائے اس معاملہ میں زیادہ درست ہے۔”

حضرت عمر کی تقریر اور شوریٰ کے فیصلہ میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ خلق اللہ کا مفاد اور احساس ذمہ داری ہے۔ دراصل رب العٰلمین کے سامنے جوابدہی کا حقیقی تصور خلافت کو گوشہ تنہائی میں بھی حق تلفی سے باز رکھتا ہے ، اور ذرائع پیداوار کو اس طرح استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ کی مخلوق کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے، نہ کوئی چیز بیکار رہنے پائے اور نہ ضائع ہو۔

حضرت عمر کی رائے اور مجلس شوریٰ کے فیصلہ پر اسلامی عدالت کے قاضی القضاۃ   امام ابو یوسف  تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

"و الذی رائ عمر رضی الله عنه من الامتناع من قسمة الارضین بین من افتتحها عند ما عرفه الله ما کان فی کتابه من بیان ذٰلک توفیقا من الله کان له فیما صنع و فیه کانت الخیرة لجمیع المسلمین و فیما رآه من جمع خراج و قسمته بین المسلمین عموم النفع لجماعتهم لان هذا لو لم یکن موقوفا علی الناس فی الاعطیات و الارزاق لم تشحن الثغور و لم تقو الجیوش علی اسیر فی الجهاد و لما امن رجوع اهل الکفر الی مدنهم اذا خلت من المقاتلة و المرتزقة۔” ( الخراج لابی یوسف ص 27 )

"حضرت عمر کی یہ رائے کہ آپ نے مجاہدین اور فاتحین کے درمیان زمین تقسیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی تائید میں قرآن حکیم سے دلائل پیش کیے، یہ سب محض توفیق الٰہی کا نتیجہ تھا، اور کتاب اللہ پر بصیرت حاصل ہونے کی بناء پر تھا، جس حقیقت کو حضرت عمر نے پا لیا تھا، اسی میں جماعتی لحاظ سے تمام مسلمانوں کی بھلائی تھی۔ لگان کی آمدنی کو ایک جگہ جمع کرکے عام ضروریات پر خرچ کرنا یہ اس سے کہیں زیادہ بہتر تھا زمین کو چند لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا اور وہی اس سے فائدہ اٹھاتے رہتے۔ اگر لگان کی آمدنی لوگوں کی تنخواہوں اور وظیفوں کے لیے وقف نہ ہوتی تو سرحدوں کی حفاظت اور فوجیوں کی کفالت کس سے کی جاتی اور ظاہر ہے کہ کوئی ملک اس قسم کے انتظامات کے بغیر حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔”

(2)مصر فتح ہونے کے بعد بھی زمین کی تنظیم و توسیم کے بارے میں مشورہ ہوا تھا، حضرت زبیر بن العوام اور ان کے ہم خیال لوگوں کی رائے تھی کہ زمین فوجیوں میں تقسیم کردی جائے، اور حضرت عمرو بن العاص ( والی مصر ) اور دوسرے لوگوں کی رائے یہ تھی کہ خلافت کے زیر انتظام اصل باشندوں کے پاس زمین رہنے دی جائے، فوجیوں میں تقسیم نہ ہو۔

حضرت زبیر کی تقریر کا خلاصہ ہے :-

” اس زمین کو اللہ نے ہماری محنت و مشقت سے فتح کرایا ہے، ہ گھوڑ سوار لڑے ہیں ہم نے پیادہ پا جنگ لڑی ہے، اس طرح ہم نے پورے مصر پر قبضہ پایا ہے ، اس میں نہ والی مصر ( عمرو بن العاص ) کو کچھ اختیار ہے، اور نہ امیر المومنین حضرت عمر کو اختیار ہے، جس طرح  اموال منقولہ  غازیوں میں تقسیم کیے گئے ہیں، اموال غیر منقولہ بھی انھیں کا حق ہے۔ "

حضرت عمرو بن العاص کی تقریر کا خلاصہ ہے :-

” خلافت کے زیر اہتمام اصل باشندوں کے پاس زمین رہنے دینے کی تجویز پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ جب معاملہ باہمی مشورہ سے نہیں طے ہو رہا ہے تو ایسی اختلافی صورت میں امیر المومنین سے رائے لینا ضروری ہے، جب تک ان کا کئی قطعی فیصلہ میرے پاس نہیں آجائے گا اس وقت تک کسی قسم کا اقدام نہیں کرسکتا۔”

(2)”مصر” فتح ہونے کے بعد بھی زمین کی تنظیم و تقسیم کے بارے میں مشورہ ہوا تھا ، حضرت زبیر بن العوام اور ان کے ہم خیال لوگوں کی رائے تھی کہ زمین فوجیوں میں تقسیم کر دی جائے اور حضرت عمرو بن العاص ( والی مصر  ) اور دوسرے لوگوں کی رائے یہ تھی کہ خلافت کے زیر انتظام اصل باشندوں کے پاس زمین رہنے دی جائے ، فوجیوں میں نہ تقسیم ہو۔

حضرت زبیر کی تقریر کا خلاصہ ہے :-

"اس زمین کو اللہ نے ہماری محنت و مشقت سے فتح کرایا ہے ، ہم گھوڑ سوار لڑے ہیں ہم نے پیادہ پا جنگ کی ہے ، اس طرح ہم نے پورے مصر پر قبضہ پایا ہے، اس میں نہ والی مصر ( عمرو بن العاص ) کو کچھ اختیار ہے اور نہ امیر المومنین حضرت عمر کو اختیار ہے جس طرح اموال منقولہ غازیوں میں تقسیم کیے گئے ہیں اموال غیر منقولہ بھی انہیں کا حق ہے۔”

حضرت عمرو بن العاص کی تقریر کا خلاصہ :-

"خلافت کے زیر انتظام اصل باشندوں کے پاس زمین رہنے دینے کی تجویز پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ جب معاملہ باہمی مشورہ سے نہیں طے ہو رہا ہے تو ایسی اختلافی صورت میں امیر المومنین سے رائے لینا ضروری ہے ، جب تک ان کا کوئی قطعی فیصلہ میرے پاس نہ آ جائے گا اس وقت تک کسی قسم کا اقدام نہیں کر سکتا۔”

آخر کار اجلاس میں یہ تجویز پاس ہوگئی کہ مجلس شوریٰ کی پوری کارروائی لکھ کر امیر المومنین کے پاس بھیجی جائے، چناچہ حضرت عمرو بن العاص نے امیر المومنین کو شوریٰ کی کارروائی لکھ بھیجی اور انھوں نے اس کا جو جواب دیا اس کا مضمون یہ تھا :-

"خط ملا، شوریٰ کی کارروائی معلوم ہوئی، کیا آپ لوگ مسلمانوں کے وظیفوں، غازیوں کی تنخواہوں اور پھتوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، فرض کیجئے کہ میں فوجوں میں زمین تقسیم کر دینے کا حکم دیدوں تو بعد کے مسلمانوں کے لیے کیا چیز باقی بچے گی جس کی مدد سے وہ اسلام کی حفاظت کرسکیں گے اور دشمنان اسلام پر غلبہ پاسکیں گے۔

میرے سامنے عام مسلمانوں، کمزوروں، قرض داروں اور بعد کے مجاہدوں کا معاملہ اور ان کا انتظام نہ ہوتا تو میں ضرور زمین تقسیم کرنے کا حکم دیتا، ایسی حالت میں میں ایسا نہیں کرسکتا، اس لیے آپ لوگ زمین چھوڑ دیجئے تاکہ وہ عام مسلمانوں کے لیے وقف ہو جائے اور بعد کے لوگ بے دست پا ہو کر نہ رہ جائیں۔” [5]

مصر میں فاروق اعظم کی یہ مصلحت بینی اور دور اندیشی عام طور پر پسند کی گئی اور آپ کے فرمان کے مطابق مفاد عامہ کے پیش نظر خلافت کے زیر اہتمام زمین اصل باشندوں کے قبضہ میں رہنے دی گی۔

یہ مثالیں تو اس کی تھیں کہ مفاد عامہ کےپیش نظر خلافت کے زیر اہتمام اصل باشندوں کے پاس زمینیں رہنے دی گئی تھیں، اور فوجیوں میں انفرادی طور پر تقسیم نہیں کی گئیں، لیکن خلافت فاروقی میں اس کی مثال بھی موجود ہے کہ خلق اللہ کے مفاد کے پیش نظر لوگوں کو دی ہوئی زمینیں واپس لے لی گئیں، اورشخصی مفاد پر جماعتی مفاد کو مقدم رکھا گیا تھا، چناچہ :

(3)” خالصہ زمین” کاکچھ حصہ فاروق اعظم نے قوم بجیلہ کو دے دیا تھا، دو تین سال تک ان لوگوں کے قبضہ و تصرف میں رہا، پھر جب خلافت نے واپس لینا چاہا تو انھوں نے بلا پس و پیش واپس کر دیا، قیس بن حازم کے بیان کے مطابق واقعہ کی تفصیل یہ ہے :-

” جنگ قادسیہ ( جو ایرانیوں سے ہوئی تھی ) میں اسلامی فوج میں قوم بجیلہ کے لوگوں کی تعداد چوتھائی تھی۔ حضرت عمر نے ان لوگوں کو "سواد” کا چوتھائی حصہ دے دیا، دو تین سال تک یہ زمین ان کے قبضہ میں رہی، ایک مرتبہ اس قبیلے کے چند افراد عمار بن یاسر اور جریر وغیرہ کسی ضرورت سے حضرت عمر کے پاس آئے، حضرت عمر نے ان سے کہا کہ آپ لوگ اس زمین کو عام مفاد کے لیے خلافت کے حوالہ کر دیجئے، اس ارشاد پر ان لوگوں نے بلا تامل زمین خلافت کے حوالہ کر دی، اس کے بعد حضرت عمر نے سرکاری خزنہ سے جریر کو  اسی دینار عطا کیے۔”[6]

اس واقعہ کی خبر قوم بجیلہ کی ایک عورت ام کرز کو ہوئی تواس نے اپنے حصہ کی زمین واپس کرنے میں پس و پیش کیا اور حضرت عمر کے پاس آ کر عرض کیا :-

” یا امیر المومنین ان ابی هلک و سهمه ثابت فی السواد و انی لم اسلم فقال لها یا ام کرز ان قومک قد صنعوا ما قد علمت فقالت ان کانوا قد صنعوا ما صنعوا فانی لست اسلم حتی تحملنی علیٰ ناقة ذلول علیها تطیفۃ حمراء و تملاء کفی ذهبا قال ففعل عمر ذٰلک فکانت الدینار نحوا من ثمانین دیناراً۔” [7]

"اے امیر المومنین میرے والد کی وفات ہو گئی ہے، "سواد” کی زمین میں ان کا بھی حصہ تھا ( جو ترکہ میں مجھے ملا ہے ) اس کو واپس نہ کروں گی، حضرت عمر  نے فرمایا کہ اے ام کرز تیری قوم نے بلا چوں و چرا واپس کردی ہے اور تجھے اس کا اچھی طرح علم ہے، اس نے جواب دیا کہ قوم نے جو کچھ کیا ہے مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے، میں تو اپنی زمین اس وقت تک نہ  واپس کروں کی جب تک آپ مجھے ایک فرمانبردار اونٹنی نہ دیں  جس پر سرخ رنگ کی گرم چادر پڑی ہو اور زرو مال سے میرا ہاتھ نہ بھردیں، چنانچہ حضرت عمر نے اس کی یہ خواہش پوری کر دی اور اسی  دینار کے قریب نقد عطا کیے۔”

اس واقعہ سے جس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ خلافت مفاد عامہ کے پیش نظر جب چاہے زمین واپس لے سکتی ہے ، اسی طرح یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ واپسی کی صورت میں ہر شخص کے ذاتی مفاد کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ اجتماعی مفاد کے ساتھ ذاتی حقوق کی پائمالی بھی نہ ہو۔

لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ خلافت کی جانب سے صاحب زمین کو بطور امداد جو کچھ دیا جائے اس کی حیثیت لازمی طور پر معاوضہ کی ہوگی، یا مفاد عامہ کے پیش نظر جب زمین واپس لینے کا سوال ہو تو خلافت کو بلا معاوضہ زمین لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اسی طرح یہ نتیجہ بھی صحیح نہیں ہے خلافت کی جانب سے اس قسم کے جو تصرفات کیے جائیں ان میں صاحب زمین کی رضامندی ضروری ہے، ذیل کی تصریحات سے اس پر روشنی پڑتی ہے۔

ابو عبید کہتے ہیں :-

"جو لوگ مفتوحہ زمین کو اصل باشندوں کے قبضہ میں رہنے دینے کے مسئلہ میں فوجیوں کی رضامندی ضروری سمجھتے ہیں ( جیسا کہ امام شافعی کا خیال ہے ) ان کے لیے یہ واقعہ کیسے دلیل بن سکتا ہے، جب کہ اس قسم کے واقعہ عراق و شام میں اصل باشندوں کے پاس زمین رہنے دینے کی جب حضرت بلال وغیرہ نے مخالفت کی تھی اور اس کو فوجیوں میں تقسیم کرنے پر اصرار کیا تھا تو حضرت عمر نے ان کے متعلق فرمایا تھا  ” اللهم اکفینهم ” ( اے اللہ تو ہی ان کے لیے کافی ہے ) اس  وقت ان لوگوں کی رضامندی کہاں حاصل کی گئی تھی کہ جس کی بنا پر کہا جائے کہ مذکورہ واقعہ میں حضرت عمر ام کرز کو راضی کرنا چاہتے تھے اور صاحب زمین کی رضا مندی کے بغیر انھیں بے دخل کرنے کا کوئی حق نہ تھا۔”[8]

ابوبکر جصاص قوم بجیلہ کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد کہتےہیں :-

"اس میں قوم بجیلہ کی رضامندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ حضرت عمر نے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ زمین کی واپسی کے بغیر چارہ نہیں ہے، اور اسی میں لوگوں کی بھلائی ہے، رہا ام کرز کا معاملہ تو اس کو حضرت عمر نے سرکاری خزانہ سے ( بطور امداد ) رقم دی تھی ( لازمی طور سے اس کی حیثیت معاوضہ کی نہ تھی ) کیوں کہ خلیفہ کو اس کا اختیار تھا کہ زمین واپس لیے بغیر بھی سرکاری خزانہ سے اس عورت کو عطیہ دے سکتا تھا۔” [9]

اس کا حاصل یہ ہے کہ مفاد عامہ کے پیش نظر جب خلافت کسی صاحب زمین کو بے دخل کرنا چاہے تو نہ اس کی رضامندی ضروری ہے اور نہ معاملہ کی شکل میں مخصوص رقم ادا کرنا لازمی ہے، البتہ اس شخص کے جائز حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ خلافت کے تصرف سے وہ پائمال نہ ہونے پائیں، خواہ اس کی صورت معاوضہ کی ہو یا امدادی عطیات کی ہو۔

دراصل زمین کے معاملہ میں خلافت کے اختیارات بہ نسبت اموال منقولہ کے زیادہ وسیع ہیں، خلافت راشدہ کے بہت سے تصرفات و واقعات سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ اس کی تفصیل کےلیے راقم کی کتاب ” اسلام کا زرعی نظام” مطالعہ کرنا چاہئے۔

ذیل کی تصریحات سے بھی مذکورہ حقیقت ثابت ہوتی ہے، مثلاً

ایک موقع پر حضرت عمر نے فرمایا:-

” لنا رقاب الارض۔” [10]

"زمینیں ہماری ( خلافت ) کی ہیں۔”

حضرت علی نے ایک شخص کے اسلام قبول کرنے کے بعد فرمایا:-

” ان ارضک فلنا۔” [11]

"بے شک تیری زمین ہماری ( خلافت کی ) ہے۔”

امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں :-

” ان نواحی دار الاسلام تحت ید امام المسلمین۔” [12]

"دار الاسلام کے اطراف ( جملہ حصے ) خلیفۃ المسلمین کے زیر اقتدار ہوتے ہیں ۔”

امام مالک کا ارشاد ہے :-

” تصیر الارض للسلطان۔”

"زمین وقت حاکم ( خلافت ) کی ہوتی ہے۔” [13]

ایک موقع پر علامہ عینی لکھتے ہیں :-

” ان حکم الاراضی الی الامام۔” [14]

"زمین کا معاملہ خلیفہ ( خلافت ) کے سپرد ہے۔”

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں :-

” و الارض کلها فی الحقیقة بمنزلة مسجد او رباط جعل وقفاً علی ابناء السبیل و هم شرکاء فیه فیقدم الا سبق فالاسبق و حق الملک فی الادمی کونه احق بالانتفاع من غیره۔” ( حجۃ اللہ البالغہ ج 1 )

"پوری زمین بمنزلہ مسجد اور سرائے کے ہے جو مسافروں پر وقف ہوتی ہے اور سب لوگ اس میں برابر کے شریک ہوتے ہیں ، اسی لیے ہر پہلے آنے والوں پر ترجیح ہوتی ہے ، زمین پر آدمی کی ملکیت کا صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ قابض کو بہ  نسبت دوسرے کے اس سے زیادہ انتفاع کا حق ہے۔”

ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے آراضی کے معاملہ میں خلافت کے اختیارات بہت وسیع ہیں، اور خلیفہ کے لیے مفاد عامہ کے پیش نظر موقوفہ آراضی میں بھی واقف کی مقرر کردہ شرطوں کی مخالفت جائز ہے، چنانچہ آراضی موقوفہ کی بحث میں فقہا نے کہا ہے:-

” ان السطان یجوز له مخالفة الشرط اذا کان غالب جهات الوقف قری و مزارع فلیعمل بامره و ان غایر شرط الوقف لان اصلها لبیت المال۔” ( در المختار ج 1 )

"جب وقف کی اکثر جہات گاؤں اور مزروعہ زمینیں ہوں تو خلافت کو اپنی صوبدید کے مطابق اس کا انتظام کرنا چاہئے، خواہ اس میں واقف کی شرطوں کی مخالفت پائی جاتی ہو کیونکہ گاؤں اور زمینیں دراصل بیت المال ( خلافت ) کی ہوتی ہے۔”

زمین کے باب میں اصل اصول وہی ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ نے فرمایا ہے کہ خلافت الہیہ میں زمین و جائداد پر کسی کے قبضہ ہونے کا صرف یہ مطلب ہے کہ قابض کو بحیثیت امین کے اس سے انتفاع کا حق حاصل ہے۔ اور یہ امانت اسی وقت تک اس کے قبضہ میں رہے گی اور اس سے انتفاع کا حق اس وقت تک رہے گا جب تک خلق اللہ کے مفاد میں وہ خلافت کا ہاتھ بٹائے اور ایسی فضا پیدا کرنے میں مددگار بنے جو مخلوق کی خوشحالی اور ترقی کی ضامن ہو لیکن جب اس کی خلاف ورزی یا امانت میں خیانت ہونے لگے تو اس خلافت کو بے دخل کرنے یا جو مناسب صورت اس کی سمجھ میں آئے اس پر عمل کرنے کا پورا اختیار ہے، جیسا کہ امام ابو یوسف نے ہارون الرشید کو مخاطب کر کے فرمایا ہے:-

” و اعمل بما تری انه اصلح للمسلمین و اعم نفعا لخاصتهم و عامتهم و اسلم لک فی دینک۔” [15]

"جس میں عام خاص تمام مسلمانوں کی بھلائی ہو اور ان کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔ اس میں آپ کو پورا اختیار ہے اور وہ آپ کے دین کے لیے بھی زیادہ محفوظ صورت ہے۔”

خلافت کے اس اختیار میں نہ حقوق ملکیت کا "گورکھ دھندا” حائل ہوتا ہے اور نہ محض جذباتی چیزیں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

چونکہ خلافت کے ہر تصرف و فیصلہ میں اشخاص کے ذاتی مفاد کا لحاظ ضروری ہے اس لیے ایسے تمام مواقع میں وہ ذاتی مفاد کا پورا لحاظ رکھتی ہے لیکن ذاتی اور جماعتی مفادات کے ٹکر کی صورت میں وہ جماعتی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔


[1]
   توفیق الرحمٰن ص 34 بحوالہ اسلام کا زرعی نظام ص 88یہ واضح رہے کہ خلافت کے مذکورہ بالا وسیع اختیارات اس کی ذمہ داریوں  کی بناء پر اس کو حاصل ہیں، دوسری حکومتیں اسی وقت ان سے استدلال کرسکتی ہیں جب وہ بھی خلافت کی ذمہ داریاں قبول کریں۔ ہر حکومت اس کی مجاز نہیں ہے۔

[2]   فوجیوں میں زمین کی تقسیم و عدم تقسیم کا معاملہ اس دور کی معاشرتی و سماجی مصالح کی بناء پر تھا اس لیے موجودہ دور میں نہ تقسیم کو بنیاد بنا کر ملکیت زمین کی آڑ میں زمیندار و جاگیرداری کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے اور نہ عدم تقسیم سے اسلام کے ذرعی نظام کو اشتراکیت کے ذرعی نظام میں محدود کرنے کی گنجائش نکلتی ہے، بلکہ ان دونوں صورتوں سے صرف ان کی اصل روح اور مقصد میں استفادہ کیا جا سکتا ہے تاکہ حالات کے تقاضہ کے مناسب زمین کی تنظیم و تقسیم کا نظام قائم ہوسکے۔

[3]   پہلے اجلاس کی مفصل کارروائی راقم کی کتاب "اسلام کا زرعی نظام ” میں مطالعہ کرنا چاہیے۔

[4]    پوری بحث کے لیے ملاحظہ ہو کتاب الاموال ص 58 و 59 و کتاب الخراج لابی یوسف ص 25 و 26 و کتاب الخراج یحیٰ ص 44 و بخاری شریف ج 2

[5]   شرح معانی الآثار و طبقات ابن سعد بحوالہ اسلام کا زرعی نظام

[6]  کتاب الخراج ج 45 و 46 و کتاب الاموال ص 61 و 62

[7]    کتاب الخراج یحیٰ ص 45 و 46 و کتاب الاموال ص 61 و 62

[8]  کتاب الاموال ص 62 و 63

[9]  احکام القرآن ج3 ص 531 و 533

[10]    کتاب الاموال ص 279

[11]   احکام القرآن ج 3 ص 532

[12]    المبسوط ج 1 ص 93

[13]   المحلی ج 8 بحوالہ اسلام کا زرعی نظام ص 131

[14]   عینی ج 6 ص 29

[15]   کتاب الخراج ص 59 و 60

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s