مشاہیر فاروقی


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی اولادو احفاد کا تذکرہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں متعدد نکاح کیے۔ ان کا پہلا نکاح زینب بنت مظعون سے ہوا ، جو مشہور صحابی رسول حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔ حضرت زینب نے اسلام قبول کیا ، ان کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔ ان کے بطن سے ام المومنین حفصہ ، عبد اللہ اور عبد الرحمٰن الاکبر پیدا ہوئے۔

دوسری اہلیہ قریبۃ بنت ابی امیہ المخزومی تھیں جو حضور اکرم ﷺ کی اہلیہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں ۔ یہ چونکہ اسلام نہیں لائیں اور مشرکہ عورت سے نکاح حرام قرار دیا گیا تھا اس لیے صلح حدیبیہ کے بعد 6ھ میں ان کو طلاق دیدی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں متعدد نکاح کیے۔ ان کا پہلا نکاح زینب بنت مظعون سے ہوا ، جو مشہور صحابی رسول حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔ حضرت زینب نے اسلام قبول کیا ، ان کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔ ان کے بطن سے ام المومنین حفصہ ، عبد اللہ اور عبد الرحمٰن الاکبر پیدا ہوئے۔

حضرت عمر کی تیسری اہلیہ ملیکۃ بنت جرول الخزاعی تھیں۔ ان کی کنیت ام کلثوم تھی یہ بھی اسلام نہیں لائیں ، 6ھ میں انہیں طلاق دیدی گئی۔ ان کے بطن سے عبید اللہ پیدا ہوئے جنہوں نے حضرت عمر فاروق کے قاتل ابو لؤلؤ کی بیٹی، حضرت عمر کے قتل کی سازش میں شریک ہرمزان اور جفینہ نامی ایک ایرانی کو قتل کیا۔

حضرت عمر نے 7ھ میں ایک معزز انصاری صحابی عاصم بن ثابت کی صاحبزادی جمیلہ سے نکاح کیا۔ ان سے ایک صاحبزادے عاصم پیدا ہوئے ، تاہم بعد میں کسی وجہ سے حضرت عمر نے جمیلہ بنت عاصم کو طلاق دیدی۔حضرت عاصم کے نواسے مشہور اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز تھے۔

12ھ میں حضرت عمر نے اپنی چچیری بہن عاتکہ بنت زید بن عمرو سے نکاح کیا۔ زید بن عمرو کا شمار ان حنفاء ( موحدین ) میں ہوتا ہے جو زمانہ رسالت ﷺ سے قبل دینِ حنیف پر قائم تھے۔ و نیز حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ، جو عشرہ مبشرہ میں شامل تھے۔ عاتکہ بنت زید کا پہلا نکاح حضرت ابوبکر صدیق کے فرزند عبد اللہ سے ہوا تھا۔ عاتکہ کے بطن سے حضرت عمر کے ایک صاحبزادے عیاض پیدا ہوئے۔

حضرت عمر کی ایک اہلیہ سعیدہ بنت رافع تھیں جن سے حضرت عمر کے ایک صاحبزادے عبد اللہ الاصغر پیدا ہوئے۔

حضرت عمر کی ایک اہلیہ ام حکیم بنت حارث بن ہشام المخزومی تھیں جن سے ایک صاحبزادی فاطمہ پیدا ہوئیں۔

آخر میں حضرت عمر کو خواہش ہوئی کہ وہ خانوادہ نبوت سے رشتہ قائم کریں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت علی سے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنی صاحبزادی اور نواسی رسول ( ﷺ ) ام کلثوم ان کے حبالہ عقد میں دے دیں۔ حضرت علی نے پہلے پہل تو ام کلثوم کی صغر سنی کے باعث انکار کیا لیکن جب حضرت عمر کے شوق و جذبہ پر نظر گئی تو یہ رشتہ قبول کر لیا۔ 17ھ میں یہ نکاح ہوا، حق مہر 40 ہزار قرار پایا۔ ام کلثوم سے حضرت عمر کے ایک صاحبزادے زید اور ایک صاحبزادی رقیہ پیدا ہوئیں۔

حضرت عمر کی ام ولد فکیہہ سے ایک صاحبزادے عبد الرحمٰن الاصغر اور ایک بیٹی زینب پیدا ہوئیں۔

حضرت عمر کی ایک دوسری ام ولد لہیۃ سے عبد الرحمٰن الاوسط پیدا ہوئے۔

حضرت عمر کی اولاد و احفاد میں اللہ نے بڑی برکت دی ۔ ان کے نسل سے مشاہیر علماء ، مجاہد ، فضلاء پیدا ہوئے جنہوں نے دینِ اسلام کی خدمت میں اپنی زندگیاں گزار دیں۔ گو یہ تعداد بہت بڑی ہے جن کا احصاء ممکن نہیں تاہم ذیل میں چند مشاہیر فاروقی کا ذکر خیر پیش خدمت ہے۔

ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا

حضرت عمر کی تمام اولادوں سب سے افضل ان کی صاحبزادی حفصہ ہیں جنہیں ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہوا۔ انہیں کے نام پر حضرت عمر کی کنیت ابو حفص ہے۔ حضرت حفصہ کا پہلا نکاح خنیس بن خدافہ سے ہوا جو مہاجرین صحابہ میں سے تھے۔ خنیس جب غزوہ احد میں شہید تو 3ھ میں حضرت حفصہ کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے ہوا۔ حضرت حفصہ سے متعدد احادیث مروی ہیں۔ بعض اکابر صحابہ نے ان سے احادیث روایت کیں ہیں۔ 45ھ میں 63 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ

حضرت عمر کے صاحبزادوں میں سب سے افضل عبد اللہ تھے۔ خود ان کا شمار اکابر صحابہ میں ہوتا ہے۔ ہجرت سے 10 برس قبل ولادت ہوئی۔ مکہ مکرمہ ہی میں اسلام قبول کیا۔ اکثر غزوات میں نبی کریم ﷺ کے ہمرکاب رہے۔ علم و فضل میں ممتاز اور حق گوئی و بیباکی میں انتہائی نڈر تھے۔ بکثرت احادیث روایت کیں۔ زہد و توقویٰ میں بھی ممتاز تھے۔ جب حضرت علی اور حضرت معاویہ کے مابین اختلاف عروج پر تھا تو لوگ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ تمام مسلمان آپ کی خلافت پر راضی ہیں ، اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ ہم آپ کی خلافت پر بیعت کر لیں۔ حضرت عبد اللہ بن انکار کیا اور کہا کہ میں مسلمانوں کے خون سے خلافت خریدنا نہیں چاہتا۔

عبد اللہ بن عمر نے 73ھ میں مکہ معظمہ میں وفات پائی ، مقام ” فسخ " میں مدفون ہوئے۔ انہوں نے 84 برس کی عمر پائی۔ مکہ میں وفات پانے والے وہ آخری صحابی رسول تھے۔

عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ

عبید اللہ بہت بہادر تھے۔ یہ قوی اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ حضرت عمر کی شہادت پر انہوں نے ابو لؤلؤ کی بیٹی ، قتل کی سازش میں شریک ہرمزان اور ایک ایرانی جفینہ کو اپنی تلوار کی گھاٹ اتارا۔ حضرت عثمان نے خلیفہ بننے کے بعد اس کی دیت اپنے ذاتی مال سے ادا کی۔ 37ھ میں وفات پائی۔

عاصم بن عمر

عاصم بن عمر مردِ صالح اور صاحب خیر تھے۔ اپنے خانوادہ بہت ہر دلعزیز تھے۔ انہوں نے 70ھ میں وفات پائی۔انہیں عاصم کے نواسے خلیفہ عمر بن عبد العزیز تھے۔

سالم بن عبد اللہ بن عمر

سالم بن عبد اللہ حضرت عمر کے قابل فخر پوتے تھے۔ علم و فضل میں یہ پایہ تھا کہ ان کا شمار مدینہ کے فقہائے سبعہ میں ہوتا تھا۔ جن کے فتوے کے بغیر کوئی قاضی فتویٰ دینے کا مجاز نہ تھا۔ انہوں نے مدینہ میں 106ھ میں وفات پائی اور امومی خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔

حفص بن عاصم بن عمر

حفص بن عاصم بن عمر روات حدیث میں سے تھے۔ اپنے والد ، عبد اللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کرتے تھے۔ خود ان کے تلامذہ میں زہری جیسے اکابر شامل ہیں۔ ابن حبان نے لکھا ہے کہ یہ مدینہ کے فضلاء میں سے تھے۔

حمزہ بن عبد اللہ بن عمر

حمزہ بن عبد اللہ بن عمر یہ بھی روات حدیث میں سے تھے۔ اپنے والد ، ام المومنین حفصہ ، ام المومنین عائشہ کے شاگرد تھے۔ خود ان سے زہری اور ایک جماعت نے احادیث روایت کیں۔

عبید اللہ بن عمر

عبید اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب مدینہ کے جید علماء و فقہاء میں سے تھے۔ 147ھ میں مدینہ میں وفات پائی۔

عبد اللہ بن عبد العزیز

عبد اللہ بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب ، مکہ میں مقیم تھا۔ انتہائی زاہد و عبادت گزار تھے۔ 184ھ میں وفات پائی۔

عبد الحمید العمری

ابو عبد الرحمٰن عبد الحمید بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عمر ، حضرت عمر کے پڑ پوتے تھے۔ نہایت بہادر و شجیع اور عابد و صالح تھے۔ مصر میں سکونت پذیر ہے۔ ان کے متبعین و مستفدین کی ایک بڑی جماعت تھی۔ 259ھ میں وفات پائی۔

امام فخر الدین رازی

مشہور متکلم مزاج مفسر قرآن امام فخر الدین رازی مشہور ہے کہ صدیقی النسب تھے لیکن امام رازی کے سوانح نگار مولانا عبد السلام ندوی کے بقول امام رازی نے خود تصریح کی ہے کہ وہ نسباً فاروقی ہیں۔[1] امام رازی کی "تفسیر کبیر " اہل علم میں صدیوں سے مروج و مشتہر ہے۔544ھ میں ولادت ہوئی۔ امام رازی نے متعدد کتابیں لکھیں۔ انہیں سلاطین و امراء سے بھی قریبی تعلق رہا۔ سلطان شہاب الدین غوری مستقل انہیں اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی امام رازی بڑے حق گو واقع ہوئے تھے اور اس معاملے میں سلاطین کا لحاظ بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کے زمانے میں ایک گمراہ فرقہ کرامیہ پیدا ہوا جس کی تردید میں امام صاحب نے بڑی خدمات انجام دیں۔ امام رازی 606ھ میں ہرات میں وفات پائی۔

شیخ رضی الدین حسن الصغانی

شیخ رضی الدین حسن بن محمد الصغانی ، حضرت عمر کی براہ راست نسل سے تھے۔ علم حدیث اور لغت کے امام تھے۔ حدیث کی مشہور کتاب ” مشارق الانوار " کے مؤلف تھے۔ عالم اسلام میں ان کی کتابوں کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ 650ھ میں وفات پائی۔

بابا فرید الدین گنج شکر

شیخ فرید الدین مسعود بن سلیمان بن شعیب ، المعروف بہ گنج شکر ۔ پاک و ہند کے مشاہیر اولیاء میں سے تھے۔ حضرت عمر سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دادا شعیب پہلے پہل ہندوستان تشریف لائے اور ملتان کے اطراف میں اقامت گزیں ہوئے۔ یہیں بابا فرید کی ولادت 567ھ میں ہوئی۔ بابا فرید نے مختلف بلادِ اسلامی کی سیر کی اور وہاں کے علماء و مشائخ سے استفادہ کیا۔ جن میں شیخ شہاب الدین سہرورودی ، شیخ سیف الدین باخزری ، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی وغیرہم شامل ہیں۔ خود ان سے حضرت نظام الدین اولیاء ، مخدوم علاء الدین صابر کلیری ، مولانا بدر الدین اسحاق دہلوی وغیرہم نے استفادہ کیا۔ 664ھ میں وفات پائی۔  

ابن فضل اللہ العمری

مؤرخ اسلام شیخ احمد بن یحیٰ بن فضل اللہ العمری اپنے زمانے میں انہیں تاریخ  و رجال اور اقالیم و بلدان کے علم میں درجہ امامت حاصل تھا۔ ” مسالک الابصار و ممالک الامصار ” ان کی مشہور کتاب ہے۔ ان کا مولد و مسکن و مدفن دمشق ہے۔ 700ھ میں ولادت ہوئی اور 748ھ میں وفات پائی۔

شیخ عبد الحق ردولوی

شیخ عبد الحق احمد بن عمر ردولوی مشاہیر علماء و زہاد میں سے تھے۔ نسباً فاروقی تھے۔ ردولی ،  اودھ کا ایک مقام ہے۔ 836ھ میں وفات پائی۔

شیخ حسام الدین مانک پوری

شیخ حسام الدین کا شمار بھی مشاہیر ہند میں ہوتا ہے۔ ہندوستان کے شمال مشرقی خطے میں ان کی تبلیغی مساعی رہیں۔ جون پور سے لے کر بنگال تک ان کے مستفدین پھیلے ہوئے تھے۔ 853ھ میں وفات پائی۔

شیخ سلیم چشتی

شیخ سلیم چشی کا سلسلہ نسب بابا فرید گنج شکر کے توسط سے حضرت عمر فاروق سے جا ملتا ہے۔ شیخ سلیم چشتی نے طویل عمر پائی۔ انہوں مختلف بلادِ اسلامی کی سیر و سیاحت کی۔ دو مرتبہ حج بیت اللہ کا شرف حاصل کیا۔ فرزند و جانشین تھے۔ مختلف علماء و مشائخ سے استفادہ کیا۔ آخر عمر میں فتح پور سیکری میں اقامت اختیار کی۔ سلاطین و امراء بھی ان کے عقیدت مند تھے۔ مغل بادشاہ اکبر اعظم ان کا خاص عقیدت مند تھا۔ 979ھ میں وفات پائی۔

شیخ جلال الدین تھانیسری

کبار مشائخ عظام میں سے تھے۔ نسباً فاروقی تھے۔ شیخ عبد القدوس گنگوہی کے تلمیذ رشید تھے۔ سلف صالحین کے طریقہ کی پیروی کرتے تھے اور جہال صوفیاء سے انہیں سخت نفور تھا۔ 987ھ میں وفات پائی۔

مجدد الف ثانی

شیخ احمد بن عبد الاحد فاروقی سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی 14 شوال 971ھ کو پیدا ہوئے۔ تجدید و احیائے دین میں ان کا خاص مقام ہے۔ عہدِ اکبری کی بدعات کا خاتمہ کرنے میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ سنت کا نشر و شیوع ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ رد رافضیت میں بھی ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔ ان کے مکاتیب علم و حکمت کا خزینہ ہیں۔ 1034ھ میں وفات پائی۔ ان کے سلسلہ اولاد و احفاد میں بھی مشاہیر علماء گزرے جنہوں دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کیں۔

عبد الرحمٰن المرشدی العمری

ابو الوجاھۃ عبد الرحمٰن بن عیسیٰ المرشدی العمری مکہ مکرمہ میں 975ھ میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار حجاز کے عالی مرتبت علماء ، ادباء و شعراء میں ہوتا ہے۔ انہیں حرم مکی میں امامت ، خطابت اور افتاء کے فرائض انجام دینے کا شرف عظیم بھی حاصل ہوا۔ 1037ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔

ملا محمود جون پوری

ملا محمود بن محمد فاروقی جون پوری علوم حکمت و ادب میں یگانہ عصر تھے۔ ” شمس بازغہ” فلسفہ و حکمت میں ان کی مشہور زمانہ کتاب ہے۔ 1062ھ میں وفات پائی۔

ملا ابو الوعظ ہرگامی

ملا ابو الوعظ بن صدر الدین فاروقی ہرگامی اپنے وقت کے مشاہیر علماء میں سے تھے۔ سلطان ہند اورنگ زیب عالمگیر کے اتالیق تھے۔ ” فتاوی ٰ عالمگیری " کی ترتیب و تالیف میں بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہرگام ہی میں وفات پائی۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

شیخ الاسلام ، امام الہند ، شاہ ولی اللہ بن عبد الرحیم فاروقی دہلوی 1114ھ کو ولادت ہوئی۔ علم و فضل ، زہد و تقویٰ میں یگانہ تھے۔ ملکہ اجتہاد حاصل تھا۔ ان کی تصانیف کو بڑی مقبولیت ملی۔ قرآن کریم کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ حجۃ اللہ البالغہ ، التفہیمات الالٰہیہ ، قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین ، المسوی ، المصفیٰ ، ازالۃ الخفاء ، الانصاف فی بیان سبب الاختلاف ، عقد الجید ، اللمحات وغیرہا ان کی اہم کتابیں ہیں۔ ان کے صاحبزادگان و احفاد میں مشاہیر علم و فضل پیدا ہوئے۔ برصغیر کا کوئی گھرانہ علوم دین میں ان کا ہمسر نہیں۔ 1176ھ میں وفات پائی۔ بر صغیر میں علم حدیث کے تقریباً تمام سلاسل شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہی سے جا ملتے ہیں۔

عصام الدین  العمری

عصام الدین عثمان بن علی بن عمر العمری ، مؤرخ ، ادیب و شاعر تھے۔ 1134ھ میں موصل میں پیدا ہوئے۔ سرکاری عہدوں پر بھی فائز ہوئے اور عتاب شاہی کا بھی شکار ہونا پڑا۔ آخر عمر میں قسطنطنیہ میں اقامت اختیار کی وہیں 1193ھ میں وفات پائی۔

شاہ رکن الدین عشؔق

شاہ رکن الدین بن محمد کریم فاروقی اپنے عصر کے زہاد و صالحین میں سے تھے۔ 1103ھ میں ولادت ہوئی اور 100 برس عمر پاکر 1203ھ میں عظیم آباد میں وفات پائی۔ اردو و فارسی کے بلند پایہ شاعر تھے۔ تذکرہ نگاروں نے احسن الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے۔

شاہ رفیع الدین  دہلوی

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فرزند ہیں۔ قرآن کریم کا لفظی اردو ترجمہ کیا ۔ متعدد کتابیں تالیف کیں۔ زیادہ عمر نہیں پائی۔ 1233ھ میں وفات پائی۔

شاہ عبد العزیز دہلوی

شاہ عبد العزیز ، شاہ ولی اللہ کے فرزند و جانشین تھے۔ 1159ھ میں ولادت ہوئی۔ کثیر الدرس عالم تھے۔ تصانیف میں تفسیر فتح العزیز ، بستان المحدثین ، عجالہ نافعہ ، تحفہ اثناء عشریہ ، فتاویٰ عزیزی علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ 1239ھ میں وفات پائی۔

شاہ عبد القادر دہلوی

یہ بھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فرزند ہیں۔ قرآن کریم کا با محاورہ اردو ترجمہ کیا جو 18 برس کی مدت میں تکمیل پذیر ہوا۔ اور اسے برصغیر میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ 1242ھ میں وفات پائی۔

شاہ اسماعیل شہید

شاہ محمد اسماعیل شہید ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے حفید سعید تھے۔ ان کے والد کا نام شاہ عبد الغنی تھا۔ 1193ھ میں ولادت ہوئی۔ رد شرک و بدعت میں ان کی مشہور کتاب "تقویۃ الایمان " ہے ، جسے بے مثال شہرت ملی۔ اس کے علاوہ عبقات ، منصب امامت ، ایضاح الحق وغیرہا ان کی علمی یادگار ہیں۔ سید احمد شہید رائے بریلوی کے دست پر بیعت جہاد کیا اور سکھوں اور انگریزوں کے خلاف جہاد میں نمایاں حصہ لیا۔ 1246ھ میں بالاکوٹ میں شہادت پائی۔

شاہ محمد اسحاق دہلوی

شاہ محمد اسحاق بن افضل فاروقی دہلوی ، شاہ عبد العزیز دہلوی کے نواسے تھے۔ اپنے نانا کے بعد ان کی مسند علمی کے وارث ہوئے۔ ہندوستان میں ان کے شاگردوں کا بہت بڑا حلقہ تھا۔ 1258ھ میں ہندوستان سے ترک سکونت کر کے حجاز مقدس چلے گئے۔ وہیں مسند تدریس آراستہ کی۔ 1262ھ میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔

مولانا سخاوت علی جون پوری

مولانا سخاوت علی بن رعایت علی فاروقی جون پوری 1225ھ میں پیدا ہوئے۔ محدث ، فقیہہ و زاہد و عابد تھے۔ شاہ اسماعیل شہید کے شاگرد اور سید احمد شہید کے خلیفہ تھے۔ 1272ھ میں ہندوستان سے ترک سکونت کر کے حجاز مقدس چلے گئے۔ وہیں مکہ مکرمہ میں 1274ھ میں وفات پائی۔

مولانا فضل حق خیر آبادی

مولانا فضل حق بن فضل امام خیر آبادی منطق و معقولات کے امام تھے۔ فاروقی النسب تھے۔ 1212ھ میں پیدا ہوئے۔ فلسفہ و منطق پر ان کی متعدد کتابیں ہیں جو اہل علم میں مروج و مشتہر ہیں۔ شاہ اسماعیل شہید سے علمی مناقشات رہے۔ 1278ھ میں کالا پانی میں وفات پائی۔

علامہ محمد بشیر سہسوانی

علامہ محمد بشیر بن بدر الدین فاروقی سہسوانی اپنے زمانے کے جید علماء و فضلاء میں سے تھے۔ قبر پرستی کی تردید  میں ” صیانۃ الانسان ” لکھی جسے عرب دنیا میں بڑی مقبولیت ملی۔ علامہ رشید رضا مصری نے بھی اس کتاب کو اپنے مقدمہ کے ساتھ شائع کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی سے دہلی میں مناظرہ کیا حتیٰ کہ مرزا قادیانی کو فرار اختیار کرنا پڑی۔ 1326ھ / 1908ء کو دہلی میں وفات پائی۔

مولانا وحید الزماں لکھنؤی

مولانا وحید الزماں بن مسیح الزماں لکھنؤی، حضرت عبد اللہ بن عمر سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔ کان پور میں 1267ھ میں پیدا ہوئے۔ مختلف علماء سے کسب علم کیا۔ مختلف بلادِ اسلامی کی سیر کی۔ کثیر التصانیف تھے۔ پہلے پہل کتب احادیث کے اردو تراجم کیے۔ جنہوں آج بھی مقبولیت حاصل ہے۔ فاروقی النسب ہونے کے باوجود حیدر آباد دکن میں بعض شیعی فکر امراء سے تعلق کے اثر سے آخر عمر میں تفضیلی ہو گئے تھے۔ 1338ھ میں وفات پائی۔

مولانا ابوبکر شیث جون پوری

مولانا ابوبکر شیث بن محمد بن سخاوت علی بن فاروقی جون پوری 1297ھ میں پیدا ہوئے۔ جید و وسیع النظر عالم تھے۔ بلند پایہ مدرس تھے۔ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں اسلامیات کے پروفیسر رہے۔ 1359ھ میں وفات پائی۔

 

[1]   امام رازی :1

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s