صفت امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : نواب صدیق حسن خاں

” بلوغ العُلیٰ بمعرفۃِ الحُلیٰ ” سے سراپائے فاروقی کی ایک جھلک

یہ سخت سفید رنگ تھے کچھ سرخی ان پر ظاہر ہوتی تھی۔ ( طبقات واقدی )

عیاض بن خلیفہ کہتے ہیں میں نے عمر کو عام الرمادہ[1] میں دیکھا وہ کالے ہو گئے تھے حالانکہ پہلے سفید تھے۔ ( طبقات واقدی )

ان کا رنگ بدل گیا تھا تیل کھانے سے۔ (طبقات واقدی )

سخت اصلع ہو گئے تھے یعنی موئے پیش سر  ]سر کے درمیان کے بال [ جاتے رہے تھے۔ (طبقات واقدی )

دونوں آنکھیں سخت سرخ تھیں رخسار ہلکے پھلکے تھے۔ ( ریاض النضرۃ )

ریش ] داڑھی [ شریف انبوہ ] گھنی [ و مدور ] دائرہ نما ، گول [ تھے۔ ( ریاض النضرۃ )

مونچھوں میں بال بہت تھے اور اطراف سبلت ] کناروں [ میں سرخی تھی۔ ( ریاض النضرۃ)

جب غضب میں آتے اپنی بروت ] داڑھی [ کو دہن ] منہ [ میں لیتے اور پھنکارتے ] گہری سانس لیتے [۔ ( طبقات واقدی )

اور تاؤ دیتے ۔ ( طبقات واقدی )

داڑھی کو زرد رکھتے اور سر کے بالوں میں حنا ] مہندی [ لگاتے۔ ( طبقات واقدی )

اور دونوں ہاتھ سے کام کرتے۔ ( نہایہ ابن اثیر )

ان کی ران پر ایک سیاہ تل تھا۔ ( طبقات واقدی )

دونوں پاؤں کے بیچ میں کشادگی تھی۔ (طبقات واقدی )

برہنہ پا ] ننگے پیر [ چلتے لوگوں میں اونچے نظر آتے گویا کہ کسی جانور پر سوار ہیں۔( طبقات واقدی )

فربہ تن ] لحیم شحیم [ جسم البدن تھے گویا کہ رجال بنی سدوس سے ہیں۔ ( طبقات واقدی )

لوگوں پر طول ] لمبائی [ میں فائق ] بڑھ کر[ تھے۔ ( طبقات واقدی )

ایں چہ بالا ست بیا سایہ بگلشن افگن

سرو را در بغل رخنہ دیوار طلب

[1]     رمادہ کا لغوی مطلب راکھ ہے ، یعنی وہ مادہ جو جل کر خاکستر ہونے کے بعد باقی رہ جاتا ہے۔ خلافتِ فاروقی میں آنے والی خشک سالی کو بھی رمادۃ کہا جاتا ہے۔ اس خشک سالی میں پورے جزیرۃ العرب میں نو ماہ تک بارش کا ایک قطرہ نہیں برسا۔ آتش فشاں پہاڑ پھٹنے لگےجس سے زمین کی فصلیں اور اس کی روئیدگی تباہ ہو گئی۔ جب ہوا چلتی تو پوری فضا گرد آلود ہو جاتی۔ گویا راکھ فضا میں بکھر جاتی اس لیے اس سال کا نام ہی لوگوں میں عام الرمادۃ پڑ گیا۔

مورخین میں عام الرمادۃ کے تعین میں تھوڑا سا اختلاف ہے کہ عام الرمادۃ کونسا سال تھا۔ ایک منفرد قول بلاذری کا ہے جس کے مطابق 21ھ عام الرمادۃ تھا تاہم مورخین اسے درست تسلیم نہیں کرتے۔ ذہبی ، سیوطی ، ابن العماد حنبلی اور محمد بن حبیب بغدادی کے مطابق 17ھ عام الرمادۃ تھا۔ لیکن جمہور مورخین کی رائے مطابق 18ھ عام الرمادۃ تھا۔ ان مورخین میں ابن سعد ، ابن خیاط ، طبری ، ابن الجوزی ، ابن اثیر ، ابن خلدون ، ابن الوردیٰ ، شبلی نعمانی وغیرہم شامل ہیں۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : معالم الریادۃ فی مآلم الرمادۃ  – یعنی – حضرت عمر کا قائدانہ کردار – از – قاری روح اللہ مدنی ) — ادارہ

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s