مشاہیر فاروقی


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی اولادو احفاد کا تذکرہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں متعدد نکاح کیے۔ ان کا پہلا نکاح زینب بنت مظعون سے ہوا ، جو مشہور صحابی رسول حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔ حضرت زینب نے اسلام قبول کیا ، ان کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔ ان کے بطن سے ام المومنین حفصہ ، عبد اللہ اور عبد الرحمٰن الاکبر پیدا ہوئے۔

پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

حضرت عمر کا محاذ جنگ پر بھیجا گیا ایک مجاہدانہ مکتوب


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : رحمت بانو

خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کے عہد میں مسلمانوں کی فتوحات کا آغاز ہو گیا تھا۔ حضرت عمر فاروق جب خلیفہ بنے تو ان کے سامنے سرحدوں پر جنگی محاذ زور و شور سے جاری تھیں۔ حضرت عمر ہی کے عہد میں مسلمانوں نے ایسی جنگیں لڑیں جو نہ صرف تاریخ اسلام کی بلکہ تاریخ عالم کی فیصلہ کن جنگیں تھیں۔ جنگِ یرموک اور جنگ قادسیہ کا شمار بلا شبہ ایسی ہی جنگوں میں ہوتا ہے۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ، حضرت خالد بن ولید ، حضرت عکرمہ ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم وغیرہم مستقل محاذ جنگ پر مصروف عمل تھے اور مرکز خلافت سے مسلسل رابطے میں تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا حافظ جلال الدین احمد جعفری

حضرت عمر بن الخطاب کے حالات

ایام جاہلیت میں بھی آپ کا خاندان نہایت ممتاز تھا۔ آپ ہجرت سے 40 سال قبل پیدا ہوئے۔ اسلام سے قبل آپ نے سپہ گری ، پہلوانی، شہسواری سیکھ لی تھی۔ نسب دانی میں بھی آپ کو مہارت تھی۔ لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔ منصب سفارت پر مامور تھے۔ قبائل عرب میں جب کوئی رنج پیدا ہو جاتا تو آپ سفیر بن کر جاتے۔آپ کا نام عمر اور ابو حفص کنیت اور فاروق لقب تھا۔ آپ کے والد کا نام خطاب تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مقام اجتہاد


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

” اجتہاد " اسلامی قانون و شریعت کی اہم ترین بنیاد ہے۔ اجتہاد ہی ہے جو شریعت کو جامد و ساکت ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اجتہاد ہی کے ذریعے تمدنی ضرورتوں اور مختلف زمانے کے تہذیبی روّیوں کی تکمیل شریعت کے مطابق ہوتی ہے۔ اجتہاد ہی کے ذریعے سے مختلف زمانوں میں مختلف احوال و ظروف کے دائرے میں رہ کر شرعی قوانین وضع کیے جاتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کو  ہر شخص کے لیے قابلِ عمل بنایا جاتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صفت امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : نواب صدیق حسن خاں

” بلوغ العُلیٰ بمعرفۃِ الحُلیٰ ” سے سراپائے فاروقی کی ایک جھلک

یہ سخت سفید رنگ تھے کچھ سرخی ان پر ظاہر ہوتی تھی۔ ( طبقات واقدی )

عیاض بن خلیفہ کہتے ہیں میں نے عمر کو عام الرمادہ[1] میں دیکھا وہ کالے ہو گئے تھے حالانکہ پہلے سفید تھے۔ ( طبقات واقدی )

ان کا رنگ بدل گیا تھا تیل کھانے سے۔ (طبقات واقدی )

پڑھنا جاری رکھیں