فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اور موجودہ مسلمان


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

درس آگہی

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

online urdu

کچھ لوگ تاریخی عظمت و وقار اور قوم کی عزت و ارجمندی کا بند ہوتے ہیں۔ تاریخ کی ایسی مضبوط شخصیتیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں، اور جو اس لیے پیدا نہیں ہوتے کہ کہ وقت اور حالات ان کی زندگی کا تعین کریں بلکہ اس لیے کہ وہ خود وقت اور حالات کو ایک نئی جہت دیں۔ یہ تاریخ کی ایسی مضبوط شخصیتیں ہوتی ہیں جو معاشرے کے طویل عرصے کے قدرتی زوال کے ظہور و نتائج کے سامنے ایک بند کی طرح ہیں جب تک موجود رہتی ہیں ادبار و پستی کو پنپنے کا موقع نہیں دیتیں اور جب جاتی ہیں تو گویا وہ مضبوط بند ٹوٹ جاتا ہے اور معاشرتی زوال کے آثار سمندر کی شوریدہ لہروں کی طرح اٹھتی ہیں اور قوموں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہیں۔

تاریخ کی ایک ایسی ہی مضبوط شخصیت اور زوالِ معاشرہ کے سیلاب کے آگے ایک مضبوط بند — فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ ہیں۔

دنیا میں بڑے بڑے شاہانِ مملکت گزرے ہیں۔ بڑے بڑے فاتح گزرے ہیں۔ تاریخ میں مضبوط شخصیتیں بھی گزری ہیں ، جنہوں نے تاریخ کا رُخ موڑ دیا ، قوموں کو نئی زندگی دے دی۔ سکندر اعظم ، قسطنطین اعظم ، اشوک اعظم ،چنگیز خاں ، تیمور لنگ ، بابر ، اکبر اعظم ………تاریخ ان کی عظمت کے گیت گاتی اور ان کی رفعت و منزلت پر قصیدے لکھتی ہے۔ مگر تاریخ کے ان تمام "اعظموں ” میں کیا کوئی ہے جو ہمارے فاروق اعظم کی بھی برابری کر سکے ؟ کیا محض زمین روند کر لوگوں کو مغلوب کر لینا ہی فاتح کی شان ہے ؟ یا ان کے قلوب کی تسخیر بھی لازم ہے۔ اور اگر یہ لازم ہے تو کونسا فاتح ہے جو فاروق اعظم کی طرح دلوں کا فاتح ہو؟

کیا سکندر اعظم کی زندگی میں ایسا کوئی واقعہ ملتا ہے کہ اس نے اپنی عوام کے لیے بھی کچھ کیا ہو ؟ کیا ہزاروں انسانوں کو موت کی گھاٹ اتار کر اور لاکھوں زندگیوں کو برباد کرنے کے بعد تائب ہونے والے اشوکا نے دنیا کو کوئی ایسی مثال دی جس سے عوام کی فلاح و بہبودی کا کوئی سبق حاصل کیا جا سکے ؟

ایران کو نوشیروان کی عدل گستری پر بڑا ناز ہے ، لیکن جس کے عدل و انصاف کی عظمت کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں کیا وہ بھی فاروقِ اعظم کی عدل گستری کو پہنچ سکتا ہے ؟ جس نے اپنے سگے بیٹے کو بھی رائج سزا سے بڑھ کر سزا دی تآنکہ موت سے ہمکنار ہوا۔ کیا دنیا کا ایسا کوئی بادشاہ ہے جس نے عدل و انصاف کے میزان میں اپنے قریبی رشتوں کا بھی لحاظ نہ رکھا ہو۔ کیا نوشیروان بھی کبھی راتوں کو اٹھ کر لوگوں کو غلہ پہنچاتا تھا یا اس نے بھی کبھی وہی غذا کھائی جو اس کی عوام کھاتی تھی۔

تاریخ کے یہ تمام ” اعظم ” عوام کی فلاح و بہبود ، قلوب کی تسخیر اور قوم کی دل سوزی میں مفلس ہی رہے۔ دنیا کو دینے کے لیے ان کے پاس کچھ ” خاص ” نہیں۔ مگر مغرب میں آج بھی قانونِ عمر چلتا ہے۔ ذمی رعایا کو جو حقوق فاروق اعظم نے دیئے ، دنیا آج بھی اس سے زائد دینے سے قاصر ہے۔

دنیا میں عظمت و کردار اور رفعت و منزلت کی یہ ساری مثالیں کبھی پردہ حقیقت پر مرتسم نہ ہو پاتیں اگر کاشانہ نبوت کے تربیت یافتگان کا ظہور تاریخ میں نہ ہوتا ۔ دنیا میں روشن مثالوں کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی محمد ﷺ کا نام سب سے اوپر ہوگا اور ان کے تربیت یافتگان ان روشن مثالوں کی عمل نظیر کے طور پر پیش ہوں گے۔

کیاصرف مملکت کا حکمران بن جانا ہی حکمرانی کی علامت ہے ؟ یا ارضِ مملکت میں نظم مملکت اور عوام کی فلاح و بہبود بھی ضروری ہے ؟ تو کونسا حکمران ہے جس کا دل کاشانہ نبوت کے پروردہ عمر کے دل کی طرح اپنی امت کی دل سوزی میں ہمہ وقت مچلتا ہو ؟

اگر کردار و عظمت ، عزم و حوصلہ ، عدل و مساوات بھی تاریخ کی مضبوط شخصیتوں کے لیے لازم قرار پائیں تو تاریخ کے یہ تمام "اعظم ” فاروقِ اعظم کی گردِ پا کو بھی نہیں پہنچ سکتے ۔

وہ راتوں کو جاگتے تھے تاکہ لوگ سکون کی نیند سوئیں۔ وہ اپنی پیٹھ پر لوگوں کے لیے غلہ لاد کر لے جاتے تھے تاکہ بھوکوں کا پیٹ بھر سکیں۔ وہ پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے تاکہ لوگوں کے ضرورت لباس کی تکمیل ہو سکے۔

مسجد کے صحن میں بلا کسی ٹیک لگائے ، ہاتھوں میں مسواک پکڑے ، پیوند لگے کپڑے پہننے والے اس عظیم انسان کی ہیبت و عظمت کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ کے دربار اس کا نام سن کر لرزتے تھے اور ان ممالک کے سفراء اس بوریہ نشیں خلیفہ کے دربار میں کانپتے تھے۔

اس کے ہزاروں کے لشکر کے سامنے دشمن کی لاکھوں کی فوج بے بس ہو جاتی تھی۔

کپڑوں پر پیوند لگے ہیں ، تلواریں بھی ٹوٹی ہیں

پھر بھی دشمن کانپ رہا ہے ، آخر لشکر کس کا

آج مسلمانوں کو یہ شاید اپنی یہ تاریخ بیگانہ لگے کیونکہ اپنے کردار و عمل کی نحوست کے ساتھ ہم ادبارِ زوال کی جس سطح پر پہنچ چکے ہیں وہاں فاروقِ اعظم جیسے کردار محض گوشہ خیال ہی میں آتے ہیں کیونکہ

عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کہ تقدیر کا بہانہ

ہم جسے اپنی تقدیر سمجھ بیٹھے ہیں ، وہ ہماری تقدیر نہیں ، ہمارے کردار و عمل کے نتائج و عواقب کی حقیقی تصویر ہے۔ اگر ہمیں اپنے اسلاف سے کوئی نسبت ہوتی تو کیا آج ہمارا یہ حال ہوتا ؟

مسلمان دنیا میں اس لیے نہیں آیا کہ اپنی مظلومیت کا رونا روئے یا دنیا کے سامنے حسرت و یاس کی تصویر بنا پھرے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آج

چمن کی صورت بگڑ گئی ہے ، امید افزا فضا نہیں ہے

گُلوں میں بھی پھوٹ پڑ گئی ہے ، کلی میں بھی حوصلہ نہیں ہے

لیکن ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ایمان کی تخلیق ہی شک و ارتیاب کے ہر کانٹے کو دور کر کے کردار و عمل کے تیقن سے ہوتی ہے۔

جب مسلمان غیروں سے رحم کی بھیک مانگنا ترک کر دیں گے اور کاشانہ نبوت کے پروردہ عظمت و رفعت کے ان روشن میناروں کو اپنے لیے مثال بنا لیں گے تو ان کے ادبار و نکبت کی سیاہی کے داغ بھی دھل جائیں گے۔ جب مسلمان پردہ سیمیں پر جلوہ گر اداکاروں کو اور کھیل کے میدان میں کھیلتے کھلاڑیوں کو نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات پر ابھرتے اور زندگی کے میدان میں باطل قوتوں سے لڑتے ان عظیم انسانوں کو اپنا راہنما بنائیں گے تو ان کی تاریخ بھی بدلے گی اور ان کی زندگی بھی۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s