شرع و آئین پر مدار سہی


07 Shara wa aaieen titleonline urdu

جمادی الاول و جمادی الثانی1436ھ/ مارچ و اپریل2015ء شمارہ 36 اور 37

لمحہ فکریہ

ابو الحسن

شرع و آئین پر مدار سہی …………

محبوباؤں کی محبوبیت کا ایک انداز و راز ان کی رعونت و مطلق العنانی ہے۔ کسی قانون و ضابطے کی پابندی ، شرع و آئین کی پاسداری ، ضابطہ اخلاق کی بندش ، ان کے حسن و شباب کے مجازات کے منافی ہے۔ ان کی محفلِ ناز میں وہی سرخرو ہے جسے وہ چاہیں وہاں ہنر و استحقاق لا یشفع عندہ الا باذنہ کے حکم میں داخل ان امور کے ایک رازداں کا بیان ہے :

” رسم و راہ کوچہ عشق کے واقف کار جانتے ہیں کہ یہاں حق و ہنر کا سوال کام نہیں دیتا بلکہ اس دنیا کا سارا دارو مدار محض بخشش و کرم پر ہے۔ اس کی نظریں جس پر پڑ جائیں اور اس کی بے نیازی جس کو سرفراز کر دے ، وہی سب سے زیادہ مستحق اور اسی میں سب سے بڑا ہنر ہے۔ استحقاق اور ہنر دکھلا کر چاندی اور سونا لیا جا سکتا ہے لیکن محبت کی نظریں اور پیار کی ادائیں نہیں خریدی جا سکتیں۔ ارسطو اگر لیلیٰ کے خیمہ کا پردہ اٹھاتا اور قیس کی دیوانگی کے مقابلے میں اپنے فن منطق کو پیش کرتا تو آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کیا جواب ملتا :

معمورہ دلے اگرت ہست باز گوئے

کاینجا سخن بہ ملک فریدوں نمی رود”

محبوب جس طرح بخشش و سرفرازی میں آزاد ہے ، سرزنش و تعزیر میں بھی خود مختار۔ دونوں کا مدار صرف اس کی رضا پر ہے۔ اس کی مرضی بجائے خود آئین ہے ، شرع ہے ، قانون ہے۔ اس بات کو وہ خوب جانتا ہے اور ہر کوئی اسے مانتا ہے پھر احتجاج و مرافعہ کی کیا گنجائش ؟

غیور پاکستانی عوام کے محبوب قائدین بھی محبوباؤں کی اس صفت کے حامل ہیں۔ اسی وجہ سے منطقی ارسطو ، فلسفی برگسان ، شاعر حکیم گوئٹے کی بزم دانش کے راز داں قرض پر لی ہوئی ٹیکسی چلاتے نظر آتے ہیں۔ غالؔب و میؔر اور سعدؔی و حاؔفظ کی شاعری کے سخن فہم گنے کی شربت کے سر راہ میکدوں کی ساقی گری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں کچھ چاندی سونا مل ہی جاتا ہے۔ لیکن محبت کی نظروں اور پیار کی اداؤں کے مستحق وہ ہیں جو جرم و معصیت کی دیوانگی کا شکار ، جہالت و شقاوت کے علم بردار ہوتے ہوئے بھی ایوان اقتدار اور نظم و نسق کے دربار کی اونچی اونچی کرسیوں پر رونق افروز ہیں۔

ایک محبوب کی ایک شوخی نگاہ نے ایک صوفی کو بت کدے میں پہنچا دیا تو ایک صنم کو خانقاہ میں۔ یہ ایک شاعر کی روایت ہے :

شوخی نے تیری کام کیا اک نگاہ میں

صوفی ہے بت کدے میں صنم خانقاہ میں

شاعری کے محبوب کی شوخی نگاہ نے ایک صوفی کو بت کدے میں اور صنم کو خانقاہ میں پہنچا دیا تو کوئی بڑی بات نہیں۔ سیاست کے محبوب تو اپنے نا اہل اور بدکار محبوباؤں کو کتنی ہی پُر وقار مسندوں پر متمکن کر دیتے ہیں اور اپنے تقاضائے محبت سے مجبور ہو کر ہر ضابطہ اخلاق اور ہر نظام قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔

کسی معاشرے میں سیاسی نطام کی ہیئت ترکیبی ، نظام قانون و انصاف رسانی ، معاشی نظام ، ضابطہ اخلاق اور عقائد مذہب و اعمال شریعت ایک ہی زنجیر کی مربوط کڑیاں ہوتی ہیں۔ ایک کا جائزہ لا محالہ دوسری کڑیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ خوشیوں کی محفل میں قیامت کا ذکر چھڑ جائے تو بات خرام و قامت یار سے ہوتے ہوئے ” اس ” کی جوانی کے ذکر تک ضرور پہنچتی ہے ۔

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

بات پہنچی تری جوانی تک

قانون کی خلاف ورزیوں کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود قانون کی ۔ یہ خلاف ورزی صرف مجرموں کی طرف سے نہیں ہوئی قانون کے محافظ اور منصفوں نے بھی اس جرم کا ارتکاب کیا۔ زوال آمادہ ، بد عنوان معاشروں میں انصاف کی دیوی نے ہمیشہ اپنا ایک ہاتھ بلند رکھا اس ہاتھ میں عدل کا ترازو عوام کی نگاہوں کا مرکز بنا رہا۔ لیکن انصاف کی دیوی کا دوسرا ہاتھ تو پشت پر رہتا ہے اس کی آستین میں ایک خون آشام خنجر چھپا رہتا ہے۔ وہ کبھی اس خنجر سے کسی حق پسند کو قتل کر کے اس کی لاش ترازو کے ایک پلڑے میں ڈال دیتی ہے تو دوسرے پلڑے میں حکمرانوں کی مفاد پرستی ، جھوٹے الزامات اور قانون کی غلط تاویل کے باٹ رکھ کر دنیا کو بتلا دیتی ہے کہ دونوں پلڑے برابر ہیں۔ لیکن بے گناہ کا قتل ایک فرد کا قتل نہیں ہوتا خود قانون و انصاف کا قتل ہوتا ہے اور اس قتل کے قصاص میں قانونِ الٰہی اس معاشرے کے لیے موت کا حکم سناتا ہے اور اس سزا کی تعمیل اسی بد عنوان معاشرہ کے افراد سے کرواتا ہے۔ آج بھی سقراط کی قبر کھو دی جائے تو اس میں سے یونانی معاشرت و سیاست اور اصول قانون کی بوسیدہ ہڈیاں بر آمد ہوں گی۔

انیسویں صدی کا ایک امریکی ماہر تعلیم ہوریس مان Horace Mann لکھتا ہے :

” عوامی ذہن ایک بار مکمل طور پر بد عنوان و بد نہاد ہو جائے تو ضبط تحریر میں لائے گئے آئین و قانون کے ذریعے مال و جان اور آزادی کے تحفظ کی تمام کوششیں اس مطبوعہ فہمائش نامہ ( نوٹس ) کی طرح بے اثر ہوتی ہے جو باغ کے کسی درخت پر لٹکایا جائے اور اس کے ذریعے کیڑوں کو خبر دار کیا جائے کہ وہ باغ کے پودوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔”

تقریباً 600 ق م میں سیتھین حکیم اناکارسس Anacharsis نے اپنے دور کے نظام قانون و انصاف رسانی کے متعلق کہا : ” ان تحریری قوانین کی سطریں مکڑی کے جالے کے تار ہیں۔ جس میں حقیر و کمزور پھنستے ہیں امیر و قوی ایک حقارت کی نگاہ ڈالتے ہوئے اس میں سے گزر جاتے ہیں۔”

اس قول پر زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ سیتین قوم دوسری قوموں کی غلامی میں گرفتار ہوئی اور پھر ہلاکت کے اندھیرے میں گم ہوگئی۔ ناموسِ الٰہی اور قانونِ تاریخ نے اس کے خلاف اپنا فیصلہ صادر کیا تھا اور رسول کریم ﷺ نے اس قانون کی نشاندہی فرمائی۔ بخاری میں الشفاعۃ فی الحدود کے عنوان کے تحت روایت ہے : قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری میں ماخوذ ہو گئی۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے سفارش کرنے کے لیے حضرت اسامہ کو آمادہ کیا جن کو رسول اللہ ﷺ بہت عزیز رکھتے تھے لیکن جب اس واقعہ کے متعلق آپ سے سفارش کی گئی تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا :

” تم سے پہلے قومیں اس لیے ہلاک کی گئیں کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری ( یا کوئی جرم ) کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی معمولی آدمی چوری کرتا تو اس کو سزا دیتے۔ خدا کی قسم ! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹتا ۔”

یہ صرف زبانی اعلان نہ تھا اسلامی معاشرے کا دستور العمل تھا۔ حضرت فاطمہ نے چوری کی نہ ان کا ہاتھ کاٹا گیا لیکن اس اصولِ قانونِ مساوات پر اس عہدِ خیر القرون میں عمل کیا گیا ۔ قانون کی حکم رانی اور انسانی مساوات کے وی – آئی – پی کی آلودگیوں سے پاک تصورات پر عمل آوری کے یہ نمونے ہمیشہ مینارہ نور رہے اور اسی لیے ہمارے دور کے فلسفی و مفکر برٹرینڈ رسل نے کہا : ” معاشرہ بغیر قانون و انصاف کے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ۔”

نا انصافی اور ظلم کرنے والے ظالم ہی معاشرے کے دشمن نہیں ہوتے۔ مظلوم کی بے بسی اور محروم کے غصہ و نفرت کو جذبہ انتقام میں بدل کر انہیں بھی معاشرہ کا دشمن بنا دیتے ہیں۔ اس طرح ظالم و مظلوم دونوں معاشرے کی ہلاکت کا خاموش عمل شروع کر دیتے ہیں۔ سب سے پہلے حق و انصاف ، شرافت و دیانت پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ قانون کی بالادستی کے بجائے قوت کی بالا دستی کا تصور دلوں میں جا گزیں ہو جاتا ہے۔ یہ تصور صرف نظریاتی بنیاد پر نہیں ہوتا اس کی بنیاد مشاہدہ اور تجربہ پر ہوتی ہے اسے درس و بحث سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ گروہی تعصبات ، آپسی قتل و غارت گری اور خانہ جنگی کا عمل شروع ہو کر قوم کی ہلاکت پر منتج ہوتا ہے۔ قوم کاکوئی طبقہ جذبہ انتقام میں بیرونی دشمنوں کا آلہ کار بننے میں نہیں جھجکتا ۔ محرومی کا احساس ایسے فعلِ قبیح کا جواز فراہم کر کے مطمئن کر دیتا ہے ۔

ہمارے ملک میں ہر چیز غیر یقینی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس ملک میں قانون آزاد ہے نہ عدلیہ نہ عاملہ۔ سب کے ہاتھ سیاسی مصلحتوں اور مجبوریوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ سب کے پاؤں مفاد پرستی ، موقع شناسی کی زنجیروں سے گراں بار۔ سب کے سر پر سیاسی انتقام اور بلیک میلنگ کا پھندا لٹک رہا ہے۔ سب کے سینے کی طرف نا معلوم مقامی و بیرونی قاتلوں کے پستول کی نال رخ کیے ہوئے ہے۔

ہمارے ملک کی باگ جن ہاتھوں میں ہے ان کے دل میں ہر داغ ہے داغِ ندامت کے سوا۔ ندامت کا احساس ضمیر کی زندگی کی دھڑکنوں کی علامت ہے اور اس کا نہ ہونا ضمیر کی موت کا ثبوت۔

مجرموں اور ڈاکوؤں کو سیاسی و حکومتی سر پرستی کوئی راز نہیں۔ ہمارا طرزِ سیاست اس ملک پر بذات خود ایک ڈاکہ ہے۔ مرّوجہ سیاسی نظام نے پورے ملک کو اس کے وجود کو اس کے مستقبل کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔

ہمارے ارباب اقتدار ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور مجرموں کو ملک کے کونے کھدروں سے نکال کر ختم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ لیکن وہ اس حقیقت سے نا واقف ہیں کہ اصلی "قابلِ احترام ” مجرم ملک کے کونے کھدروں میں ، جنگلوں میں اور غاروں میں چھپے ہوئے نہیں ہوتے وہ حکومتی اداروں ، پولیس کے محکموں ، اقتدار کے ایوانوں اور منتخب اداروں میں جلوہ فرما ہوتے ہیں۔ جب تک ان کا خاتمہ نہیں ہوتا ملک سے دہشت گردی اور جرم کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ اس کے بغیر دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے کے عزائم کو کیا کہا جائے ؟ سادہ لوحی ؟ تجاہلِ عارفانہ ؟ یا کچھ اور ؟

اڈمنڈ برک نے کہا تھا : ” تعلیم قوموں کا سستا دفاع ہے۔” نپولین نے کہا تھا : ” کسی حکومت کا اوّلین فریضہ عوام کی تعلیم ہے ۔” یہی وجہ ہے کہ ملک میں خواندگی کی شرح گھٹ رہی ہے اور حکومت یہی چاہتی ہے۔ عوام کی جہالت وڈیرہ شاہی اور علماء کی بادشاہی کی بقاء کی ضامن ہے ۔وحی الٰہی کے اوّلین لفظ ” اقراء ” کے نام پر لگائے جانے والے ٹیکس کے غلط استعمال کی کچھ تو پھٹکار پڑے گی۔

شیخ سعدی کی گلستاں کا ایک قطعہ یاد آتا ہے :

گلے خوشبوے در حمام روزے،

رسید از دست محبوبے بدستم

بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری

کہ از بوئے دلآویز تو مستم

بگفتامن گل نا چیز بودم

و لیکن مدتے باگل نشستم

جمال ہم نشیں در من اثر کرد

و گرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

اور یہ بیت تو بزرگوں سے بارہا سنا:

پسر نوح بابداں بنشست

خاندان نبوتش گم شد

ہمارے ہاں جس ہیرو کے انتظار میں کام رکا ہوا ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں وہ خود بخود انجام پا گیا۔ آزادی کے بعد بھارت نے صدیوں قدیم جاگیرداری نظام کو پُر امن طریقے سے ختم کر دیا۔ ہم بھارت سے نفرت کرتے ہیں اس کی پیروی نہیں کر سکتے۔ ہم مغرب کے گرویدہ ہیں تو ہمارے سامنے انقلاب فرانس کا نمونہ ہے جہاں شاہیت ، جاگیر داری اور کلیسا تینوں متحدہ طور پر استحصالی نظام کی بقاء چاہتے تھے لیکن فنا کے گھاٹ اتارے گئے۔ لیکن فرانس میں انقلاب لانے والے ہیرو کون تھے؟ شاہی خاندان کا کوئی شہزادہ ، فوج کا کوئی بڑا عہدہ دار ، کوئی کروڑ پتی امیر و صنعت کار ؟ مذہبی پیشواؤں کے طبقہ کا کوئی فرد ؟ نہیں

کامل اس فرقہ زہاد سے اٹھا نہ کوئی

کچھ ہوئے تو یہی رندانِ قدح خوار ہوئے

یہ رندانِ قدح خوار دو اشخاص تھے۔ ایک رجسٹرار کا بیٹا والیٹر۔ دوسرا ایک گھڑیاں بنانے اور عورتوں کو ناچ سکھا کر پیٹ پالنے والے کا لڑکا روسو۔

ان دو کی تحریروں سے انقلاب فرانس کی صورت گری ہوئی۔ ان تحریروں نے غریب عورتوں کے جنے ہوئے غریب اور کچلے ہوئے عوام کو ہیرو بنا دیا۔ وہ کسی ہیرو کا انتظار نہ کر سکتے تھے ۔ انہیں تاریخ کا شعور تھا۔

والیٹر نے کہا : ” دماغی تربیت سے بڑھ کر کوئی ذریعہ آزادی نہیں۔ جب قوم سوچنے لگ جائے تو منزل مقصود سے اسے روکنا نا ممکن ہے۔” والیٹر کے ظہور کے ساتھ فرانس نے سوچنا شروع کیا اور دنیا کی کوئی قوت اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکی۔ اپنے دور کے مذہبی علماء سے متعلق اس نے کہا : ” ان کاہنوں کے علوم و معارف کیا ہیں ؟ دراصل ہماری سادہ لوحی اور زود اعتقادی ہی ان کے معارف ہیں۔”

اور روسو نے کہا تھا : ” دنیا میں ہر شخص کا ایک کام ہوتا ہے۔ میرا کام یہی ہے کہ میں تلخ مگر مفید سچائی عوام پر ظاہر کردوں۔ جہاں تک میری استطاعت میں تھا میں نے انسانیت ، شرافت اور رواداری کی دعوت دی ہے اگر دنیا نے نہیں سنا تو یہ میرا قصور نہیں ہے۔ میں نے اپنے لیے ایک قاعدہ بنا لیا ہے۔ میں عالم گیر سچائیوں کا ساتھ دوں گا ۔ میں کسی پر الزام نہیں لگاتا کسی کی تضحیک نہیں کرتا کسی معین شخص پر حملہ نہیں کرتا ۔ میرا حملہ انسانوں پر ہے میں کسی خاص فعل کو برا نہیں کہتا میں ” شر ” کو برا کہتا ہوں۔”

والیٹر اور روسو کی تحریروں نے فرانس کے غریب ، مظلوم طبقات کے عوام کو ہیرو بنا دیا ۔ روسو کی کتاب کے متعلق ایک مجلسِ علمی میں انقلاب فرانس کے وقائع نگار ، ادیب کارلائل نے کہا : ” حضرات ! کچھ عرصہ گزرا کہ اس دنیا میں ایک شخص تھا روسو۔ اس نے ایک کتاب لکھی تھی۔ جب یہ کتاب شائع ہوئی تو بہت سے آدمیوں نے اس کی ہنسی اڑائی۔ لیکن جب اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو اس کی جلد باندھنے کے لیے انہی لوگوں کے جسم کا چمڑا استعمال کیا گیا تھا جنہوں نے اس کی ہنسی اڑائی تھی۔”

والیٹر اور روسو کے پاس نہ دولت تھی نہ حکومت نہ اسلحہ۔ان کے پاس صرف قلم تھا اور اخلاص۔ انہوں نے اہلِ اقتدار اور حاشیہ نشین ، منقبت سرا بن کر مراعات حاصل نہیں کیں۔ ان کی جھیلی ہوئی صعوبتوں کی کسوٹی پر ان کا اخلاص کھرا ثابت ہوا۔

بھارت میں جاگیر داری ختم ہوئی تو کسی جاگیر دار کا سر نہیں کٹا۔ جاگیر دار اپنی زمینوں کا معاوضہ لے کر صنعت کار بن گیا۔ فرانس میں جاگیر داری ختم ہوئی تو کسی جاگیر دار کا سر نہیں بچا۔

روسو کی کتاب ” سوشل کنٹریکٹ ” کا مستعار نام ہم سن رہے ہیں۔ اس سے پہلے ماؤ کے لانگ مارچ کے نام کا ستعمال اور اس کے نتائج دیکھ چکے ہیں۔ سائے کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتے۔

عوام کی بے کسی اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ملک و قوم کا ” ہیرو ” آسمان سے نہیں اترے گا۔ کسی دانشور صحافی ، اہل قلم مخلص اللہ کے بندے کو ہی قوم کا نجات دہندہ بننا پڑے گا۔ عوام اور مستقبل کا مؤرخ اس نجات دہندہ کے انتظار میں ہیں کہ وہ آئے اور معاشرہ کو مجرموں سے پاک کرے مگر  انتظار غیر معینہ وقت کا نہیں ہوتا اور وقت تیزی سے نکلا جا رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

أَلَمۡ نُهۡلِكِ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٦ ثُمَّ نُتۡبِعُهُمُ ٱلۡأٓخِرِينَ ١٧ كَذَٰلِكَ نَفۡعَلُ بِٱلۡمُجۡرِمِينَ ١٨  (المرسلات : 16 – 18 )

” کیا ہم نے پہلی قوموں کو ( پاداشِ عمل میں) ہلاک نہیں کیا، اور بعد کی قوموں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا۔ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا کرتے ہیں۔”

اور مجرم قوم کی ہلاکت کا یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ ہر روز کا ہر اخبار دیکھو وہ اخبار نہیں قوم کے خلاف ایف – آئی – آر ہے جس میں ہر قابل تصور جرم کے ارتکاب کی خبریں ہیں۔ بظاہر معصوم بیان یا تقریر بھی ایک جرم ہی ہے کہ قوم کے چھوٹے بڑے قائد ، وزیر کا ہر بیان جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے۔ ہلاکت کے اس عمل میں ڈاکو بھی ہے اور ڈاکٹر بھی۔ منشیات اور ملاوٹ کا تاجر بھی ہے اور اسکول چلانے والا بھی۔ وہ فنکار بھی جو فسق و فجور پھیلا رہا ہے اور ہر سیاسی مذہبی جماعت کے جیالے جانباز مجاہدین بھی۔ سیاسی قائدین اور سرکاری عہدہ دار تو قوم کے سردار ہوتے ہی ہیں۔

پھر علماء کیا کر رہے ہیں ؟ مجھے نہیں معلوم وہ کون ہیں ۔ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں ۔ شاید

ہوگا کسو دیوار کے سائے میں پڑا میر

کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s