تبصرہ کتب


10 tabsara kutub تیتلع

online urduجمادی الاول و جمادی الثانی1436ھ/ مارچ و اپریل2015ء شمارہ 36 اور 37

تبصرہ: ابو محمد معتصم  باللہ

تبصرہ کتب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے متعلق

مستشرقین کے اعترافات

مؤلف : حمیداللہ خان عزؔیز

صفحات : 230

طبع ( اوّل ) : نومبر 2013ء

ناشر : ادارہ تفہیم الاسلام ، رحمان آباد ، احمد پور شرقیہ ، بہاول پور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی سیرت تاریخ انسانی کی عظیم ترین سیرت تھی جس کے جلوہ ہائے روشن نے انسانی تاریخ کے تمام تاریکیوں کو ظلمت کی تیرگی سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے منور کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی سیرت نے زندگی کے ہر موڑ پر راہنمائی کی ، ہر مشکل مقام پر عملی ہدایات دیں ۔ قرآن نے آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی زندگی کو اسوہ حسنہ قرار دیا۔ آپ کی سیرت اس اسوہ حسنہ کی عملی مظہر بنی۔

فضیلت اصلاً وہی ہے جس کا اعتراف مخالفین بھی کرنے پر مجبور ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی سیرت ایسی ہی سیرت ہے جس کی فضیلت کا اعتراف دشمن کی زبانیں بھی بے اختیار کر اٹھتی ہیں۔

یہاں اس حیرت انگیز حقیقت کو بھی سمجھنا چاہیے کہ عموماً دنیا میں بہت سی قابل تعریف ہستیاں گزری ہیں جن کا اعتراف ہر سطح پر کیا جا تا ہے مگر اس اعتراف کی نوعیت زندگی کے چند مخصوص دوائر تک محدود ہوتی ہے۔ اس کے بَرعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی زندگی پوری انسانیت کے اسوہ حسنہ بنائی گئی تھی یہی وجہ ہے کہ ہمیں زندگی کے ہر گوشے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی زندگی کے درخشاں پہلو نظر آتے ہیں اور ان پہلوؤں کا اعتراف ہر منصف زبان کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔

ہٹلر جب جنگ کے میدان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوتا ہے تو اسکی زبان بے اختیار کہہ اٹھتی ہے :

I wish I would have the Power like Mohammad صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم

مشہور فلسفی مزاج مفکر و مصنف کارلائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی عظمت و سادگی کا ان الفاظ میں معترف ہوتا ہے :

” اگر محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کا کردار بلند نہ ہوتا ، تو قوم ان کو اس طرح دل سے نہ چاہتی ۔ دنیا میں کسی شہنشاہ کے احکام کی کبھی ایسی اطاعت نہیں کی گئی ، جیسے گڈری میں لپٹی اس عظیم ہستی کی کی گئی۔ ان کا تئیس سالہ دورِ نبوت ایک ہیرو کی تمام صفات اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔”

زیرِ تبصرہ کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم سے متعلق ایسے ہی اعترافات پر مشتمل ہے۔ لائقِ تکریم مؤلف نے کتاب کو بڑے سلیقے سے مرتب کیا ہے گو ابھی بھی سیرت رسول کے بہت سے گوشے آنے سے رہ گئے ہیں۔ مؤلف نے کتاب کو مرتب کر کے نہ صرف اپنے حسنات میں اضافہ کیا ہے بلکہ کتبِ سیرت میں بھی ایک عمدہ اضافہ کیا ہے۔

کتاب اچھے کاغذ پر طبع کی گئی ہے۔ معیار طباعت بھی عمدہ ہے۔ سیرت پر عام قاری کے لیےاس کتاب کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔

*************************************

انبیاء کے دیس میں

مؤلفہ : ثمینہ ضیاء پھلواروی

صفحات : 104

طبع ( اوّل ) : اگست 2014ء

ناشر : اسلامک ریسرچ اکیڈمی ، کراچی

ارض قدس کی زیارت یقیناً دورِ حاضر کے اصحابِ ایمان کی اہم ترین خواہشات میں سے ایک ہے مگر بدقسمتی سے فلسطین پر یہودیوں کے غاضبانہ قبضے کے بعد اس خواہش کی تکمیل آسان نہیں رہی۔ تاہم خوش نصیب ہیں وہ افراد جو ان حالات میں بھی اس سعادت کو حاصل کر سکیں۔ محترمہ ثمینہ ضیاء انہیں خوش نصیب افراد میں سے ایک ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ انبیاء کے اس دیس کا سفر کرنے کی عزت بخشی ۔

محترمہ ثمینہ ضیاء نے نہ صرف اس سفر کی سعادت حاصل کی بلکہ اپنے اس سفر کی روداد لکھ کر محروم سعادت رہ جانے والوں کو بھی روحانی طور پر شریک سفر ہونے کا موقع فراہم کیا ہے ۔

سفرنامہ بہت طویل نہیں ہے اور کتاب کے محض 55 صفحات پر محیط ہے صفحہ 67 سے 104 تک مشاہدات سفر کی یادگار رنگین تصاویر کی شکل میں دی گئیں ہیں۔ ان تصاویر کو دیکھ کر ارض قدس کی طرف شد رحال کا جذبہ مزید قوی ہو جاتا ہے۔ اللہ تمام مسلمانوں کو جن کے دل ارض قدس کی محبت سے سرشار ہیں اس مقام کی زیارت کی توفیق عطا فرمائے اور ارض قدس کو یہودیوں کے غاضبانہ قبضے سے نجات دے آمین۔

مولفہ کی کوشش رہی ہے کہ وہ ہر تاریخی مقام سے منسلک تاریخی واقعات کو بطور استشہاد پیش کریں ۔ مولفہ نے صفحہ 34 پر قبۃ الصخرہ کے ذیل میں لکھا ہے :

” یہ وہ مقام ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم معراج سے واپس آئے تھے اور اس جگہ آپ نے پہلا قدم رکھا تھا …….اس جگہ کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ …. یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اس جگہ کو چھو رہی ہوں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے قدم مبارک کے نشان ہیں۔”

تاہم عرض ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم سے ایسے کسی معجزے کا ثبوت کسی صحیح حدیث سے نہیں ملتا۔

امام ابن تیمیہ نے اپنے فتاویٰ ( جلد 27 ص 13 ) میں اس کی تردید کی ہے۔ علامہ محمد بن یوسف شامی نے ” سبل الہدیٰ و الرشاد ” میں لکھتے ہیں :

” بہت سے متأخر نعت گویوں نے ذکر کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم جب پتھر پر چلتے تھے تو آپ کے دونوں قدم اس میں دھنس جاتے تھے ، لیکن حدیث کی ایک بھی کتاب میں اس کا سرے سے ذکر نہیں ہے۔” ( 2/ 106 – 108 )

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے بھی اپنے ملفوظات میں اسے بے اصل قرار دیا ہے۔ (ملفوظات شاہ عبد العزیز دہلوی : 23 ) نواب صدیق حسن خاں ” دلیل الطالب علیٰ ارجح المطالب ” ( ص 778 ) لکھتے ہیں :

” میں یہ نہیں کہتا کہ پتھر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کا نقش قدم پڑ جانے کا معجزہ کسی مسلمان کے نزدیک محال اور مشکل ہے ، کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم سے آسمان پر شق القمر کا معجزہ صادر ہو سکتا ہے تو زمین کے پتھر پر آپصلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کا نقش قدم پڑ جانے کی کیا وقعت ؟ ہماری بحث تو نص شرعی ، دلیل سنت اور محدثین کی شہادات کے ذریعہ اس معجزہ کے اثبات سے ہے۔ پھر اگر یہ معجزہ ان دلائل سے ثابت بھی ہو جائے تو ہماری بحث کسی خاص شہر میں جہاں کے لوگ اس معجزہ کے دعویدار ہیں وہاں سند متصل کے ذریعہ اس کے وجود اور تعیین کے بارے میں ہے۔ پھر اگر یہ بھی متعین ہو جائے تو بھی اس کے بوسہ دہی اور اس کے آب غسل سے شفا یابی کے ثبوت کی بحث باقی رہ جاتی ہے۔”

مشہور محدث سید نذیر حسین دہلوی نے اس موضوع پر ” الدلیل المحکم فی نفی اثر القدم ” کے عنوان سے بڑی محققانہ کتاب لکھی۔

آثار پرستی کی ذہنیت ہی کا نتیجہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے نقوش قدم کی زیارتیں عام ہیں ۔ محمد ایوب قادری لکھتے ہیں :

"افسوس کہ امت مسلمہ جو دنیا میں توحید کی سب سے بڑی مبلغ اور علم بردار تھی آج قدم کے نقوش و آثار کی پرستش میں مبتلا ہے۔” (حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت : 242 )

اس جملہ معترضہ سے قطع نظر مولفہ کی کاوش لائق تحسین ہے ۔ کتاب کے قاری کو وہ جگہ جگہ عمل پر ابھارنی کی سعی کرتی ہیں۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s