مغرب کا تکبر اور سر پر منڈلاتی جنگ


06 maghrib ka takabur TITLEonline urdu

جمادی الاول و جمادی الثانی1436ھ/ مارچ و اپریل2015ء شمارہ 36 اور 37

عالم اسلام اور مغرب

ڈاکٹر فیروز محبوب کمال/مترجم : سیف اللہ خان

مغرب کا تکبر اور سر پر منڈلاتی جنگ

The western arrogance and the war at doorsteps

نفرت پر مبنی مہم

شاغلی ایبدو پر حملے میں بارہ افراد کی ہلاکت سے مغرب کو زبردست دھچکا پہنچا۔ سلامتی سے متعلق خدشات اور خطرات اب ہر جگہ ہی زیادہ محسوس کیے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شاغلی ایبدو کے اسلام دشمن کارٹونسٹ ہی نہیں، مغرب کے سیاست دان اور امن و سلامتی کے ذمہ دار افسران وسوسوں کے مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک لا وارث بیگ لندن ، پیرس ، برلن ، برسلز اور روم کے زیرِ زمین ریلوے اسٹیشن کو کئی گھنٹے تک مفلوج رکھنے کے لیے کافی ہے۔ اب وہاں کی حکومتیں تمام افراد کی ایک ایک ای میل پر نظر رکھنے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔ وہاں اب کسی مرد یا عورت کی زندگی نجی نہیں۔ مغرب کی سامراجی طاقتیں قبضے اور لوٹ مار کی جنگیں کسی اور کی سر زمین پر لڑنے کی عادی تھیں اور ان کے گھر محفوظ رہتے تھے۔ لیکن اب جنگ کے خطرات ان کے سر پر منڈلارہے ہیں۔ مغرب نے الجزائر، افغانستان، عراق، مالی اور تیسری دنیا کے دیگر ملکوں سے اپنی فوج واپس بلالی، لیکن جنگ ہے کہ ان کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی۔ اب وہ اپنی گلیاں محفوظ بنانے کے لیے بھرپور جنگی تیاریاں کر رہے ہیں۔ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام پسندوں سے لڑنے کے لیے ملک بھر میں دس ہزار پانچ سو فوجی تعینات کریں گے۔ سابق صدر نکولس سرکوزی نے شاغلی ایبدو پر حملے کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے ’’تہذیبوں کے درمیان جنگ‘‘ چھیڑنے کا اعلان کیا۔ اس طرح ، ساری مغربی دنیا دیکھتے ہی دیکھتے بڑی اور خوفناک جنگ میں گِھر گئی ہے۔

جنگ اچانک شروع نہیں ہو جاتی۔ کسی بیماری کی طرح، اس کی نظریاتی اور سماجی وجوہات ہوتی ہیں۔ جنگ کے لیے لوگوں کی نفسیات میں نظریاتی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کے کام نظریاتی سپاہی ہی کرتے ہیں۔ ماضی میں صلیبی جنگوں کے سپاہیوں نے مسلمانوں کے خلاف یہ کام بڑے پیمانے پر کیا۔ صلیبی جنگ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ جاری رہی ہے۔ نفرت و عناد کو ہوا دینا یورپ کا قدیم سیاسی اور حربی فن ہے۔ کسی اور براعظم کے لوگوں سے موازنہ کیا جائے تو یورپی اقوام نے دنیا بھر میں نسل کشی کے لیے مظالم کی خاص تاریخ رقم کی۔ یورپ میں یہودی اور اسپین میں مسلمان ہی یورپ کے مظالم کا شکار نہیں رہے۔ امریکا میں ریڈ انڈینز اور ان کی تہذیب کے لوگ، آسٹریلیا کے قدیم قبائلی اور نیوزی لینڈ کے ماوری قبائل نے بھی یہی سب کچھ سہا۔ ماضی قریب میں ہٹلر اور اس کے ساتھیوں، استعمار اور سامراجی قوتوں نے بھی یہی جرائم کیے لیکن ذرا مہارت کے ساتھ۔ دو عالمی جنگوں میں سات کروڑ پچاس لاکھ سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی جڑ بھی یہی مرض ہے۔ اب اس پرانے مرض یعنی تشدد پسندی میں کمی آ رہی ہے۔ اب اس کام کا بیڑہ اسلام سے خائف مصنفوں، کالم نویسوں، کارٹونسٹ حضرات، جنگ پسندوں اور سیاست دانوں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ مغرب میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ جن کا ہدف اسلام اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہوگا کہ جارج ڈبلیو بش کی جانب سے 2001ء میں شروع کی گئی صلیبی جنگ کو اس وقت اچھی خاصی قوت حاصل ہوگئی ہے۔

کسی بھی خونی جنگ کے لیے یہ ضروری ہے کہ نشانہ بننے والے لوگوں کے خلاف نفرت کی آگ کو ہوا دی جائے۔ جرمن سیاست دانوں، مصنفین اور پریس نے دوسری جنگ عظیم سے پہلے یہودیوں کے خلاف اسی نفرت کی پرورش کی۔ ہٹلر اس جنگ کا اکیلا کردار نہیں تھا۔ اس جرم میں اُس کے شراکت داروں کی طویل فہرست ہے۔ اسی لیے ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتلِ عام جرمن قوم کے لیے اخلاقی طور پر قابلِ قبول ہے۔ اب مسلمانوں کو اسی طوفان کا سامنا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ مظالم کی توثیق کے لیے اسی طرح کی مستعدی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ جب کسی کی اخلاقی موت واقع ہوجائے تو وہ جرائم کو جرائم نہیں سمجھتا۔ مغرب کی اخلاقی موت کے آثار بھی اب ظاہر ہونے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر اسرائیل اور امریکا نے بمباری کرکے غزہ اور کوبانے کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔ غزہ میں 2000 سے زیادہ معصوم بچے، خواتین اور بزرگں کا قتلِ عام کیا گیا۔ حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے اسکولوں پر بھی بم برسائے گئے۔ لیکن امریکا اور اس کے یورپی شراکت دار اسرائیلی مظالم کو جنگی جرائم قرار دینے کے لیے تیار نہیں۔ امریکا نے ایسے سنگین جرائم کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد منظور ہی نہیں ہونے دی۔ اسی اخلاقی موت کے باعث امریکا نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے اور اب مالی طور پر اسرائیلی بربریت کی سرپرستی کررہا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان مظالم کے خلاف جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں مقدمات چلیں۔

دہرا معیار

مغرب میں تمام اکائیوں کو ایک جیسی آزادی حاصل نہیں۔ لیکن انہوں نے شاغلی ایبدو جیسے جرائد کو یہ آزادی دے رکھی ہے کہ وہ مسلمانوں کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ کے نازیبا خاکوں کی اشاعت کے لیے تمام حدیں عبور کرجائیں۔ مغربی رہنماؤں نے بھی ان گستاخوں سے مکمل اظہار یک جہتی کے لیے (Je Suis Charlie) ’’میں شاغلی ہوں‘‘ کے نعرے لگائے۔ لیکن انہوں نے دوسروں کو (Je Suis Palestine) ’’میں فلسطینی ہوں‘‘ کے نعرے لگانے کی اجازت نہیں دی۔ مشرقی بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمان ڈیوڈ وارڈ نے 11؍جنوری کو ہوئے پیرس مارچ میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی شرکت پر غصے کا اظہار کیا اور ٹوئٹر پر Je suis Palestine ( میں فلسطین ہوں )  کا پیغام بھیجا تو ہر جانب سے مذمت کی گئی۔ لندن میں اسرائیلی سفیر نے ہی ڈیوڈ وارڈ کے عمل کی مذمت نہیں کی، اسلام سے خائف برطانوی میڈیا اور سیاست دانوں نے بھی کھل کر ان کی مخالفت کی۔ ڈیوڈ وارڈ برطانوی پارلیمان کے وہ واحد رکن ہیں، جنہوں نے اعلان کیا تھا کہ ’’اگر میں غزہ میں ہوتا تو اسرائیل پر راکٹ داغتا۔‘‘ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے دوران اس طرح کا جرأت مندانہ موقف اختیار کرنے پر برطانوی وزیراعظم، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے ان کی سرزنش بھی کی۔ پارٹی کے پارلیمانی نمائندے نے ڈیوڈ وارڈ کو بیان واپس لینے پر مجبور کیا۔ برطانیہ کی سیاست میں اس طرح کی منافقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہاں اسرائیل کے غیرقانونی قیام کی کھل کر حمایت کی جاتی ہے۔

مغربی قائدین نے اسرائیل کے جنگ پسند رہنماؤں کو فلسطینیوں پر ہر طرح کے مظالم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ملکوں نے بھی یہی آزادی ویتنام، الجزائر، عراق، افغانستان اور دیگر مقبوضہ ملکوں میں لاکھوں افراد کے قتلِ عام میں استعمال کی۔ لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا اور وہ 60 برس سے زائد عرصے سے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ کیا ان جرائم کی مذمت کے لیے آسمان سے کوئی اترے گا؟ لیکن مغرب کا ضمیر اتنے خوف ناک مظالم کے بعد بھی نہیں جاگتا، اسی لیے جنگی جرائم کی کبھی مذمت نہیں کی گئی۔ اس کے بجائے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں اور احتجاج کرنے والوں کو سزا دی گئی۔ مغرب نے ایسے لوگوں کو اسلامی انتہا پسند قرار دیا۔ فرانس کے سیاہ فام کامیڈین ڈین ڈون یا لندن کی فنس بیری پارک مسجد کے امام ابو حمزہ نے کسی کو قتل کرنے کے لیے کبھی اسلحہ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے اظہار رائے کی آزادی کا حق استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ افغانستان اور عراق میں امریکا اور برطانوی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ جس کی پاداش میں انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ دوسری جانب پیرس کے شاغلی ایبدو، لندن کے ڈیلی میل اور ڈیلی سن، یورپ کے دیگر اخبارات اور جرائد مغرب کی نفسیات میں کھلے عام نفرت کا زہر گھول رہے ہیں۔

ریاستی پشت پناہی میں گستاخیٔ رسول

شاغلی ایبدو نے حملے کے بعد جریدے کی پہلی اشاعت میں ایک بار پھر گستاخانہ خاکے سرورق پر شائع کیے۔ سرکار کی پشت پناہی میں جریدے کی اس قدر بڑے پیمانے پر اشاعت بلاشبہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت شاغلی ایبدو نے پہلی بار نہیں کی۔ دعووں کے برعکس یہ فرانسیسی جریدہ غیرجانبدار بھی نہیں۔ شاغلی ایبدو نے اسلامی تعلیمات، شریعت، جہاد اور خلافت کے خلاف انتہائی بدنما پروپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے۔ حضرت محمدﷺ کے خلاف اس کی زہر آلود اور گستاخانہ مہم کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ گستاخانہ خاکوں کی آڑ میں غیر اخلاقی، نازیبا اور بیہودہ کارٹون کی اشاعت ہی شاغلی ایبدو کا اصل مقصد ہے۔

جن لوگوں نے (Je Suis Charlie) ’’میں شاغلی ہوں‘‘ کے نعرے لگائے، انہوں نے اس نعرے کی آڑ میں اپنے دل کی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مرنے والے کارٹونسٹ کی طرح وہ بھی نبی آخرالزماںﷺ کا ( نعوذباللہ ) تمسخر اڑا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان زہر آلود اور گستاخانہ خاکوں کو اسلام اور اس کی عظیم شخصیات کے خلاف نظریاتی جنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایسا کوئی شخص جس کے دل میں نبیٔ آخری الزماں ﷺ کے لیے ذرا سا بھی احترام ہو، وہ ایسے زہرآلود اور غلیظ خاکے آگے پھیلاسکتا ہے۔ یہ عریاں اور گستاخانہ خاکے شائع کرکے کارٹونسٹس نے اظہار رائے کی آزادی کا حق استعمال نہیں کیا۔ اصل میں انہوں نے الزام تراشی کی آزادی کا حق استعمال کیا۔ ایک مسلمان کس طرح شاغلی ایبدو کی حمایت کرسکتا ہے؟ مسلمان تو زندگی کی ہر ہر سانس میں حضرت محمد ﷺ  کا فرماں بردار اور تابع ہوتا ہے۔ وہ اپنی جان سے زیادہ اپنے محبوبؐ کو چاہتا ہے۔ یہ ایزدی تقاضا ہے۔ اس لیے حضرت محمد ﷺ کا مذاق اڑانا ہر مسلمان کے مذاق اڑانے جیسا ہے۔ اس طرح کے تعصب پر مبنی، گھٹیا اور زہرآلود گستاخانہ خاکے کسی ملک کو ناختم ہونے والی خونی جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔ فرانس میں 65 لاکھ مسلمان بھی آباد ہیں اور یہ ملک تیزی سے جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے اقدامات کے بعد کسی ملک میں امن اور آسودگی کس طرح ممکن ہوسکتا ہے۔ تمام علامات اس بات کی جانب اشارہ کررہی ہیں کہ یہ جنگ فرانس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی۔ پڑوسی ملک بلجیم میں 16؍جنوری کو دو مسلمان قتل اور کئی حراست میں لیے گئے۔ اس معاملے میں فرانسیسی حکومت کا کردار بھی جلتی پر تیل چھڑکنے سے کم نہیں۔ فرانسیسی پارلیمان نے 488 ووٹوں کے ذریعے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دی۔ بحیرۂ روم میں فرانس کا ایک طیارہ بردار جہاز پہلے ہی شام کے ساحل کے قریب پہنچ گیا ہے، جو داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں میں امریکا کی مدد کررہا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تین ہزار یورپی مسلمانوں نے عراق اور شام میں جاری جنگ لڑنے کے لیے داعش میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ہزاروں افراد کو اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت سے روکنے کے لیے سرحدی چیک پوسٹس اور ہوائی اڈوں پر سفری پابندیاں سخت کردی گئی ہیں۔ فرانس نے اب ان جنگجووں کے لیے اپنی سرزمین پر نئے محاذ کھول دیے ہیں۔

اسلام اور اس کے آخری پیغمبرؐ کے خلاف نفرت پر مبنی گھناؤنی مہم میں شاغلی ایبدو اکیلا نہیں۔ مغربی قائدین نے اس کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔ چالیس سے زیادہ ملکوں کے سربراہان نے 11؍ جنوری 2015ء کو پیرس کی سڑکوں پر مارچ کر کے شاغلی ایبدو سے اظہار یکجہتی کیا۔ مغرب کے قائدین اپنے اقدار اور ثقافت کے تحفظ کے لیے جنگ لڑنے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن مغرب کا اقدار اور ثقافت آخر ہے کیا؟ کیا مسلمانوں کو مغربی اقدار اور ثقافت سیکھنے کے لیے کسی لیکچر کی ضرورت ہے؟ کیا مغرب کئی صدیوں سے دنیا بھر میں اسی اقدار اور ثقافت کا مظاہرہ تو نہیں کررہا؟ کہیں یہ اقدار اور ثقافت فوجی جارحیت، ملکوں پر قبضے، نوآبادیات، استعماریت، نسل کشی، غلاموں کی تجارت، قتل عام، عالمی جنگیں، گیس چیمبر، ایٹم بموں کے حملے، واٹر بورڈنگ، خلیج گوانتانامو، ابوغریب، صابرہ، شتیلا اور غزہ تو نہیں؟ انہوں نے دونوں عالمی جنگوں میں سات کروڑ پچاس لاکھ انسان مار دیے۔ ان کی سفاکیت کا موازنہ کس سے لگایا جاسکتا ہے؟ مسلمانوں کے ملکوں میں موجود ان کے اڈّوں سے اب تک سامان حرب واپس نکالا نہیں گیا۔

مغربی قائدین دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بات کرتے ہیں۔ کیا مسلمانوں کو دہشت گردی کا مطلب سمجھنے کے لیے کسی لیکچر کی ضرورت ہے؟ مسلمان اس وقت سے دہشت گردی کا بدترین نشانہ بن رہے ہیں، جب ان کے ملکوں پر مغربی نوآبادیات کی آمد ہوئی تھی، مسلمانوں کی بیشتر مملکتوں پر قبضہ کرلیا گیا اور لاکھوں افراد نے ان دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوائیں۔ صرف فلسطین میں ان دہشت گردوں نے 40 لاکھ افراد کو بے گھر کیا۔ اس موقع پر دہشتگردوں کو مغرب کے پیسے، ہتھیاروں اور سفارتکاری کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ ان چند غنڈوں اور بدمعاشوں کی نظر میں لوگوں کو مہلک ہتھیاروں سے دہشت زدہ کرکے سیاسی اور عسکری فوائد حاصل کرنا کوئی جرم ہی نہیں رہا۔ یہ سب عالمی طاقتوں کی پیچیدہ جنگی حکمتِ عملی ہے۔ مغرب کے یہ ریاستی دہشت گرد عالمی امن کے لیے اصل خطرہ ہیں۔ ان کے دل اسلام، اس کے آخری پیغمبرﷺ اور عام مسلمانوں کے لیے نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لوگ نفرت کا پرچار کرنے والے شاغلی ایبدو کے کارٹونسٹس سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

ان ریاستی دہشت گردوں کا اوّلین مقصد مسلمانوں کی سرزمین پر قبضہ، وسائل کی لوٹ مار اور وہاں کے لوگوں کو اسلام سے دور کرنا ہے۔ اس طرح کے سامراجی مقاصد ان کی ثقافت اور اقدار میں ضم نظر آتے ہیں جو ملکوں پر قبضے کی جنگ، شہروں کی تباہی، مقامی آبادی کی نسل کشی جیسی ریاستی دہشت گردی کا مظہر ہیں۔ انہیں یہ سب کرنے کے لیے نا صرف بڑی تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہوجاتی ہے بلکہ اسے طول دینے کے لیے لوگ رضاکارانہ خدمات بھی پیش کرتے ہیں۔ اسی لیے عراق اور افغانستان پر قبضے کے بعد سابق صدر جارج بش کی امریکا میں مقبولیت تیزی سے بڑھی۔ دونوں ملکوں پر امریکا کا قبضہ مضبوط نہ ہونے اور امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت صدر بش کی ناکامی کی وجہ بنے، آزاد ملکوں پر قابض ہونے کا انہیں کسی نے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا۔ امریکا کے عوام کسی غیر سرزمین پر اپنے لوگوں کی اس بے توقیری کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ اسی مغربی ذہنیت کے باعث اسرائیل، جس کا شمار انسانی تاریخ کے سفاک ترین ملکوں میں کیا جاتا ہے اور گھناؤنی نوآبادیات پالیسیوں کا تسلسل ہے، مغرب میں اسی طرح کی حمایت اسے حاصل ہے۔ اسی ذہنیت کی وجہ سے 40؍ لاکھ افراد نے پیرس کی سڑکوں پر نکل کر اسلام کے آخری پیغمبرﷺ اور مسلمانوں کے خلاف شاغلی ایبدو کی نفرت سے بھری مہم کی حمایت کی۔ حقیقت میں یہی مغرب کا اصل مسئلہ ہے۔ اسلام دشمنی ان کے دل و دماغ میں راسخ ہے۔ اس لیے اگر امن درکار ہے تو مغرب کو مزید جنگیں لڑنے کے بجائے اپنی ذہنیت کو ’ایک سو اسّی‘ کے زاویے پر تبدیل کرنا ہوگا۔ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے انہیں مزید کام کرنا ہوگا۔ اس وقت ان کے دل و دماغ میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو نفرت بھری ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں شاغلی ایبدو جیسے مزید کارٹونسٹ پیدا ہوں گے۔ ابو غریب ، خلیج گوانتا نامو ، واٹر بورڈنگ جیسے واقعات بڑھیں گے اور عقوبت خانوں میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح کے ماحول میں عسکریت پسندوں کو پنپنے کا موقع ملے گا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ان جنگوں اور دفاعی صنعت پر کھربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں تیرہ سال اور عراق میں آٹھ برس تک جنگ لڑی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کوئی جنگ نہ جیت سکے اور ذلیل ہوکر وہاں سے نکلے۔ کوبانی جیسے چھوٹے سے قصبے پر امریکا، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور اردن کے لڑاکا طیاروں نے ایک ماہ تک بمباری کی لیکن اتحادی فوج کو کوئی کامیابی نہ ملی۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ چند ہزار سیکولر کرد، یا شیعہ ملیشیا اسلام پسندوں کے خلاف ان کی جنگ لڑیں گے، تو وہ ’احمقوں کی جنت‘ میں رہتے ہیں۔

انسانیت کے نام پر دغابازی

مغربی ملکوں کے قائدین اکثر انسانیت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی بات کرتے ہیں۔لیکن دستیاب شواہد ان کے اس دعوے کو جعلی ثابت کرتے ہیں۔ مغرب کی جانب سے غیرقانونی طور پر قبضے میں لی گئی زمین پر اسرائیل کا قیام، اس کی غاصبانہ اور نسل کشی پر مبنی پالیسیوں کی مستقل حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ فلسطین کے اصل مکینوں کو ان کے آبائی گھروں سے نکال کر امریکا اور یورپ سے آنے والے یہودیوں کے مکان بنا دیے گئے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کو ان کی اپنی سرزمین پر جانے کی اجازت نہیں۔ ایسا کوئی بین الاقوامی ادارہ نہیں جہاں جاکر وہ انصاف مانگ سکیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی ان غاصب سامراجی قوتوں کا قبضہ ہے۔ سلامتی کونسل نے بھی غیرقانونی طور پر ہتھیائی گئی سرزمین پر غیرقانونی ریاست کی تشکیل تسلیم کرلی ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اپنی سرزمین کو قابضین سے خالی کرنے کی کسی بھی کوشش کو دہشت گردی کا نام دیا جارہا ہے۔ مغرب کے ان قائدین نے شاغلی ایبدو کے کارٹونسٹس کی یاد میں چند منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ عراق اور افغانستان کی حالیہ جنگوں میں مغرب کی سامراجی قوتوں نے دس لاکھ سے زیادہ افراد کو قتل کیا۔ مغربی قائدین نے کیا ان مقتولین کے لیے بھی چند لمحوں کی خاموشی اختیار کی؟ فرانس نے ساٹھ کی دہائی میں الجزائر پر قبضے کے دوران پندرہ لاکھ افراد کو قتل کیا۔ کیا پیرس نے وہاں بے دردی سے قتل کیے گئے معصوم لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ الجزائر کے معصوم لوگوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ استعماری قوتوں سے آزادی کا مطالبہ کررہے تھے۔ حال ہی میں ’سینٹرل افریقن ری پبلک‘ میں عیسائیوں نے ہزاروں مسلمانوں کا قتل کیا۔ مغربی رہنمائوں نے وہاں نسل کشی کا نشانہ بننے والے معصوم لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کیا؟ نسل کشی کا شکار بننے والے مسلمان تھے، کیا اس وجہ سے وہ کسی احترام اور رحم دلی کے قابل نہیں؟ انہوں نے ایک آواز ہو کر Je suis charlie ( میں شاغلی ہوں ) کے نعرے لگائے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ شاغلی ایبدو کی طرح وہ بھی غیرمہذب اور پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ سے ( نعوذ باللہ ) نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ اس بے ہودگی سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے نہ صرف شاغلی ایبدو سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ سفاک اسرائیل کا بھی کھل کر ساتھ دے رہے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے غزہ کے جلاد، اسرائیلی وزیراعظم کا پیرس میں بھرپور خیرمقدم کیا۔ صرف اسی اخلاقی عارضے کے باعث وہ فلسطین پر اسرائیل کے غیر قانونی قیام کی حمایت کرسکتے ہیں۔

شاغلی ایبدو کے چیف ایڈیٹر، جیرالڈ بائیرڈ جو چھٹی پر ہونے کی وجہ سے حملے میں محفوظ رہے، لکھتے ہیں ’’شاغلی کا دین سے کوئی تعلق نہیں، اس میگزین نے کسی بھی نبی یا ولی سے زیادہ معجزے تکمیل تک پہنچائے ہیں۔‘‘ ( گارجین ، اشاعت ، 14 جنوری 2015ء )۔ یہاں چیف ایڈیٹر کی مراد کس معجزے سے ہے؟ یقیناً انہوں نے تاریخ رقم کی ہے۔ صرف پیرس میں چالیس لاکھ یورپین نے ایک آواز ہوکر ’’میں شاغلی ہوں‘‘ کے نعرے لگائے۔ یورپ کے دیگر حصوں میں بھی لاکھوں افراد نے یہی کیا۔ لیکن یہ کوئی معجزہ نہیں۔ یہ یورپ کا عارضہ ہے۔ یہ سب نفرت انگیز مہم چلانے والوں سے یکجہتی کا بدنما مظہر ہے۔ یقیناً یہ کسی اگلے ہولوکاسٹ کا نسخہ ہے۔ مغرب نے اس اخلاقی عارضے کے باعث ماضی میں کئی گھناؤنے جرائم کیے۔ دو عالمی جنگوں میں سات کروڑ پچاس لاکھ افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد کوریا، ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں میں بھی لاکھوں افراد مارے گئے۔ دو لاکھ افراد بوسنیا میں قتل کیے گئے۔ لیکن ان مظالم کی مذمت کے لیے کتنے یورپین سڑکوں پر آئے؟ کتنے یورپی شہریوں نے سڑکوں پر Je suis Bosnian ( میں بوسنیا ہوں ) کے نعرے لگائے؟ کتنے لوگوں نے Je suis Palestine ( میں فلسطین ہوں )  کہا؟ اسپین میں چُن چُن کر مسلمانوں کا صفایا کیا گیا۔ یورپی اقوام اس نسل کشی کے خلاف اور مظلوموں سے اظہار یکجہتی کے لیے کبھی سڑکوں پر نہیں آئیں۔ مصر، شام، عراق، لبنان اور فلسطین میں کبھی مذہب یا نسل کے نام پر غیرمسلموں کا قتل عام نہیں کیا گیا، حالاں کہ چودہ سو سال سے وہاں دس سے پندرہ فیصد غیرمسلم آباد ہیں۔ لبنان میں غیرمسلم آبادی تیس، پینتیس فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن نام نہاد مقدس رومن سلطنت میں اس طرح نسل کشی کی گئی کہ یورپ میں غیر عیسائیوں کی شرح اعشاریہ صفر صفر ایک بھی نہ رہی۔ ایسا ہی کچھ اسپین میں ہوا جب عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف فتح حاصل کی۔ مذہب کے نام پر ایسے جرائم کسی مسلم ملک میں رونما نہیں ہوئے۔ غیرمسلموں کے خلاف مسلمانوں پر اس طرح کا خبط بھی کبھی سوار نہیں ہوا اور نہ ہی مسلمانوں کے ملکوں میں غیرمسلموں نے کبھی ایسا کچھ کیا۔ لیکن اب مسلمان ہی نہیں، عیسائی بھی ان مسلم ملکوں کو چھوڑ رہے ہیں۔ امریکی جارحیت اور بڑے پیمانے پر بمباری نے مسلم ملکوں کو ہر کسی کے لیے غیرمحفوظ بنادیا ہے۔ یہ بم کسی کا عقیدہ نہیں دیکھتے، ان کا نشانہ صرف ہدف ہوتا ہے۔

آزادی کا غلط استعمال

کچھ کارٹون نگاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلام کے خلاف نہیں، وہ صرف اس کے انتہا پسند نظریات کے خلاف ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کا نہیں، ( نعوذ باللہ ) صرف حضور نبی کریم ﷺ کے کردار کا مذاق اڑایا۔ یہ دلیل انتہائی بھونڈی اور سراسر جھوٹی ہے۔ حضرت محمد ﷺ اسلام کے بنیادی عقیدے اور نظریات کا مجسم نمونہ ہیں۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کو عملی مظاہرہ پیش کیا کہ کس طرح اسلام کو مکمل ضابطۂ اخلاق میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ کیا کوئی نبی کریم ﷺ کے کردار کو اسلام کے نظریے سے الگ کرسکتا ہے؟ اسلامی ریاست کا قیام، دعوت و تبلیغ، شریعت پر عمل، جہاد کی مہمات، شہادت کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی، شوریٰ کا قیام، حدود ( شرعی قوانین ) اور غیرمسلموں سے جزیے کی وصولی ان کی زندگی کا حصہ تھے۔ یہ سب ان کے نظریات تھے۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ کی کردار کشی کا مطلب کسی بھی طرح اسلام کے نظریات کا مذاق اڑانے سے کم نہیں۔ کیا کسی بھی مسلم ملک کے اخبار نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس طرح کا نازیبا رویہ اختیار کیا ہے؟

مغربی ملکوں کے قائدین دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ مسلمان ہی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار رہے ہیں۔ نائن الیون میں تین ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔ لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ میں امریکا نے دس لاکھ سے زیادہ افراد قتل کردیے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، عراق پر 16؍جنوری کو امریکی بمباری سے 50 سے زیادہ شہری مارے گئے۔ ( آر ٹی ٹی وی کی رپورٹ ) اس سے زیادہ دہشت گردی کیا ہوگی؟ ماضی ہو یا حال، الجزائر، عراق، افغانستان، بوسنیا، بھارت، مصر، شام، میانمار، وسطی افریقا اور سری لنکا میں مسلمان ہی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار رہے۔ بعض بدمعاشوں کے لیے دہشت گردی اب جرم نہیں رہا۔ تکبر پسند عسکری قوتیں عالمی سیاست کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے اب بڑے پیمانے پر جنگوں کا سہارا لے رہی ہیں۔ عراق اور افغانستان میں امریکا کی جنگیں اور غزہ پر اسرائیل کا قبضہ، قاہرہ، اسکندریہ اور دیگر شہروں میں مصر کی فوج کے ہاتھوں قتلِ عام بدترین دہشت گردی ہے۔ غیر ریاستی عناصر بھی اتنے وسیع پیمانے پر دہشت گردی کا سوچ نہیں سکتے۔

واحد راستہ

بھیڑیے غاروں میں بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں پا سکتے۔ انہیں بھی خطرات سے بچنے کے لیے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل یہی معاملہ سامراجی قوتوں کے ساتھ بھی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر میں بے پناہ جرائم کیے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں انہوں نے جنگوں کے ذریعے نسلوں کا صفایا کیا۔ انہوں نے کمزوروں پر ایٹم بم، نیپام بم، کلسٹر بم، کیمیائی بم، میزائل برسائے اور ڈرون سے حملے کیے۔ اب جنگ ان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ کھربوں ڈالر خرچ کرکے بھی امریکا اور اس کے اتحادی اس طرح کے حالات کی توقع نہیں کررہے تھے۔ اسی لیے وہ انتہائی غصے اور مایوسی کی حالت میں ہیں۔ مظالم کے شکار معصوم لوگوں کا غصہ بھی اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔ جو لوگ پہلے سے ہی شہادت کی آرزو لیے بیٹھے ہیں، ان پر مزید تشدد یا انہیں قتل کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ عمومی طور پر یورپی باشندہ بھی اس حقیقت کو سمجھتا ہے۔ پیرس میں چالیس لاکھ یورپی افراد کا مارچ اس خوف کا مظہر ہے اور شاغلی ایبدو سے اس کا کوئی خاص تعلق نہیں۔ اس کا مقصد شاغلی ایبدو پر حملے میں مارے گئے بارہ افراد سے یکجہتی کا اظہار کرنا بھی نہیں تھا۔ جب 60 لاکھ یہودی گیس چیمبروں میں جلا کر مار دیے گئے، کسی یورپی شہر میں ان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نہیں نکالی گئی۔ درحقیقت، یورپی اقوام نے کبھی اپنی سرزمین پر یہودیوں سے جنگ نہیں لڑی۔ لیکن اب حالات تبدیل ہورہے ہیں، وہ اپنے درمیان اس طرح کی جنگ محسوس کر رہے ہیں۔

اب مغرب میں مسلمانوں اور غیرمسلمانوں کے پُرامن بقائے باہمی کے لیے ایک ہی راستہ رہ گیا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ یورپ میں اسی طرح کی نسل کشی دوبارہ کی جائے جو اسپین میں پندرہویں صدی کے دوران کی گئی۔ اب یورپ میں دو کروڑ سے زیادہ مسلمان موجود ہیں، صرف فرانس میں مسلمانوں کی تعداد 65 لاکھ ہے۔ شاید کچھ لوگ اب بھی نسل کشی والے راستے کو ہی ترجیح دیں۔ لیکن اس کے سوا جو بہترین راستہ بچتا ہے، وہ یہی ہے کہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی تذلیل کے بجائے ان سے مفاہمت کی جائے۔ شریعت، خلافت، جزیہ اور حدود مغرب میں مسئلہ نہیں۔ لیکن مسلم اکثریتی ملکوں میں اسلام کی ان بنیادی چیزوں پر عمل کی اجازت ہونی چاہیے۔ جیسا کہ تمام مسلم ملکوں میں مغرب کے نوآبادیاتی دور سے پہلے ان پر عمل کیا جاتا تھا۔ مغرب کو چاہیے کہ وہ خلافت جیسے بنیادی سیاسی ادارے کی دوبارہ تشکیل میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ اس طرح کے رکاوٹی ہتھکنڈے جنگ کو ناگزیر بنا دیں گے۔

عیسائی اور یہودیوں کی طرح مسلمان بگڑے ہوئے یا تبدیل شدہ نظام زندگی کو قبول نہیں کرسکتے۔ اس طرح کا عمل مسلمانوں کے لیے صراطِ مستقیم سے دور لے جانے کے سوا کچھ نہیں۔ نبی کریمﷺ قرآن پاک کی تعلیمات پر پختہ یقین رکھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے تھے، ہر مسلمان بھی اسی نوعیت کا بنیاد پرست بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ پسند ناپسند کا مسئلہ نہیں، ایک احساس ذمہ داری ہے۔ مغرب کو مسلمانوں کے اس پختہ یقین کے بارے میں مصلحت سے کام لینا چاہیے۔ دوسری صورت میں تہذیبوں کا تصادم ناگزیر ہے۔ لیکن ظاہری طور پر لگتا یہی ہے کہ مغرب نے پیغمبر اسلام ﷺ  سے عداوت کا راستہ جان بوجھ کر اختیار کیا۔ انہوں نے پہلے ہی نبی کریمﷺ کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے سے اظہارِ یکجہتی کا اعلان کر رکھا ہے۔ ’’میں شاغلی ہوں‘‘ عداوت کی اس جنگ کا نعرہ بن گیا ہے۔

اسلام میں شریعت پر عمل واجب ہے۔ جس نے بھی اسے نظرانداز کیا، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے تین القابات کے ذریعے اس پر ملامت کی۔ ایسا شخص کافر، ظالم اور فاسق ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: "جس نے شریعت کے مطابق عدالتی فیصلے نہ دے وہ کافر، ظالم اور فاسق ہے۔” ( سورہ المائدہ ، آیات 44، 45 اور 47 )۔ اسی لیے مسلم ملک میں سیکولر قوانین اور عدالتی نظام کی گنجائش نہیں۔ مسلم ریاست میں عیسائی، یہودی، بدھ مت کے ماننے والوں، ہندو، لادین اور دیگر عقیدوں کے ماننے والوں کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی چودہ سو سال طویل تاریخ موجود ہے۔ اس دور میں دیگر عقیدوں کے ماننے والے مسلمانوں کے مذہبی عقائد کی ضروریات کو سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان غیر مسلموں نے کبھی شریعت، خلافت، شوریٰ، حدود اور دیگر بنیادی عقائد کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ ہندوستان اور اسپین کی طرح دیگر ملکوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، انہوں نے کبھی شریعت پر عمل کے لیے احتجاج نہیں کیا۔ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے بجائے انہوں نے پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کیا۔

تکبر

لیکن ماضی کی طرح مغرب کے موجودہ قائدین میں وہ دانائی اور حکمت نظر نہیں آتی۔ معاشی، عسکری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں واضح برتری نے انہیں مغرور بنا دیا ہے۔ مغربی طاقتیں ان ملکوں میں بھی شرعی نظام کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی نوے فیصد سے زیادہ ہے۔ جیسے شریعت ان کا ذاتی مسئلہ ہو۔ افغانستان پر قبضے کے بعد جرمن وزیرِ خارجہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں اب شرعی نظام دوبارہ نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کیا یہ مسلمانوں کے ذاتی معاملے میں کھلم کھلا مداخلت نہیں؟ افغان عوام کو ان کی پسند کے مطابق قانون کے انتخاب کی آزادی کہاں گئی؟ امریکا کے صدر براک اوباما نے شرعی نظام کو قرونِ وسطیٰ کی بربریت قرار دیا۔ یہ کیسا تکبر ہے؟ کیا کوئی مسلمان اسلام کے خلاف اس گھمنڈی پن کو برداشت کرسکتا ہے؟

اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف مغرب کی ہٹ دھرمی و دشمنی ہی اس تعطل کی وجہ ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے اسلام پر عمل سے روکنے کے لیے پہلے ہی تہذیبوں کے تصادم کے نام پر جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ مغرب چاہتا ہے کہ مسلمان قرآن کے نظام سے ہٹ جائے اور اسلام کی تعلیمات سے دور ہوجائے۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کے ساتھ پُرامن انداز میں رہنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی کیمپ میں اسلام کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ شدت سے کیا جاتا ہے۔ مسلم ملکوں کے ظالم حکمرانوں اور سیکولر دانشوروں نے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا ہے۔ وہ بھی شریعت اور خلافت کے اتنے ہی مخالف ہیں جتنے غیر مسلم ہیں۔ عراقی اور شامی کرد، عراقی اور ایرانی شیعہ، مصر کی فوج، بنگلادیش کے سیکولر نے بھی ان کے راستے پر چلتے ہوئے اسلام پسندوں کا قتلِ عام شروع کردیا ہے۔ مغربی قائدین کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مصری، سعودی، قطری، بحرینی، پاکستانی، بنگلادیشی اور امت مسلمہ کے دیگر سیکولر، ظالم حکمرانوں کے خراب عقائد سے اصل اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ ان مطلق العنان حکمرانوں سے اتحاد کرکے مغرب کو اسلام کے خلاف جنگ میں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس طرح کے اتحاد سے ان کے بارے میں اسلام کے دشمن ہونے کا تاثر پختہ ہوگا۔ اس طرح کا نقطۂ نظر پہلے سے جاری جنگ کو مزید قوت دینے کی وجہ بنے گا۔

( بشکریہ ” معارف فیچر سروس ” کراچی)

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s