دنیا پر حکومت کا امریکی خواب


12 Dunya me amriki hukumat TITLE

ربیع الاول، ربیع الثانی1436ھ

جنوری، فروری2015ء شمارہ 34 اور 35

امریکا

دنیا پر حکومت کا امریکی خواب

حسن اقبالonline urdu

 حال ہی میں امریکی صدر اوباما نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے امریکہ کے داخلی اور خارجی معاملات کے بارے میں پالیسی بیانات جاری کیے۔ اس میں 2015ء اور 2016ء کے دوران کیے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر نقاط کا تعلق امریکہ کے داخلی معاملات سے ہے لیکن دو اہم نقاط ایسے ہیں جن کا تعلق نہ صرف پاکستان سمیت پوری دنیا سے ہے بلکہ اس سے امریکہ کی آئندہ خارجہ حکمت عملی بھی جھلکتی ہے۔ ان نقاط میں:

امریکہ کہیں بھی ان دہشت گردوں کے خلاف یکطرفہ طور پر کارروائی کرے گا جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنیں گے۔

انہوں نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور آن لائن معلومات کی بڑھتی ہوئی چوری کے تدارک کے لیے قانون سازی کرے۔

امریکہ کو یہ بات یقینی بنانا ہو گی کہ کوئی دوسرا ملک اور ہیکر امریکی نیٹ ورکس کو بند کرنے، اس کے تجارتی راز چرانے اور امریکی شہریوں کی نجی معلومات چرانے کے قابل نہ رہے۔ یہ نقاط اس لحاظ سے اہم ہیں کہ اس سے قبل بھی امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تباہی اور روک تھام کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔یہ جنگ 9/11 کے بعد شروع کی گئی۔ سب سے پہلے پوری دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ عراق کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر بڑے پیمانے پر کارروائی کی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ بڑے پیمانے پر جنگی ہتھیاروں کا استعمال ہوا۔ بالآخر امریکی اور تحادی فوجیں عراق میں داخل ہو گئیں لیکن اس کے بعد امریکہ اور اتحادیوں نے جس بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بننے والے ہتھیاروں کی وجہ سے حملہ کیا تھا ان کا کہیں نام نشان تک نہ ملا لیکن اس کے باوجود امریکہ اور اتحادی آگے بڑھے اور افغانستان پہنچ گئے۔ ان کی افواج کی ایک بہت بڑی تعداد نے افغانستان میں 12/13 سال تک قیام کیا۔ اگرچہ اس خطاب میں صدر باراک اوباما نے دعویٰ کیا کہ ہم نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سمیت اس خط میں ابھی تک امن نہیں ہو سکا اور پاکستان اور دیگر ممالک دہشت گردی کا شکار ہیں۔

امریکہ کے جانے کے بعد یہ ممالک اپنے طور پر دہشت گردی سے نبرد آزما ہیں۔ امریکی صدر کی اس تقریر پر انہیں ان کے اپنے ملک میں بھی تنقید کا سامنا ہے اور ان کے ترقیاتی پروگراموں اور سوشل پروگراموں کی کامیابی کے حوالے سے بارہا جواب دینا پڑا ہے۔ خاص طور پر روس نے ان کی تقریر پر سخت تنقید کی۔ روسی وزیر خارجہ سیر گئی لاورف نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکیوں نے تصادم کا راستہ اختیار کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے اقدامات کا تنقیدی جائزہ سرے سے لیا ہی نہیں جبکہ امریکی فلسفے کا مرکزی نقطہ ایک ہی ہے کہ وہ پہلے نمبر پر ہیں اور باقی سب کو یہ تسلیم کرنا چاہیے۔ امریکہ دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے جبکہ یہ فلسفہ اب پرانا ہو چکا ہے اور جدید حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔‘‘

روس کے اس ردعمل میں کافی حد تک حقیقت بھی ہے۔ اگر صدر اوباما کی تقریر کا تجزیہ کیا جائے تو انہوں نے چین کے حوالے سے بطور خاص کہا : ’’ چین دنیا کی تیز ترین اقتصادی قوت بننے کی کوشش کر رہا ہے لیکن دنیا کیسے ترقی کرے گی؟ اس کا تعین چین نہیں امریکہ کرے گا۔‘‘ حالانکہ حقائق کے مطابق چین کی اقتصادی قوت اب دنیا میں تسلیم شدہ ہے اور دوسرے اس کی معیشت کی وسعت امریکہ کی دہشت سے آگے بڑھ چکی ہے لیکن صدر اوباما  کا برتری کا یہ دعویٰ امریکی عزائم کی غمازی کرتا ہے۔ صدر اوباما نے ایران سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کا اپنی تقریر میں ذکر کسی نہ کسی حوالے سے کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب اپنے ارادوں میں کھل کر سامنے آ گیا ہے کہ وہ دنیا پر اپنی برتری ہر طرح سے منوانے کی کوشش کرے گا۔ امریکی صدر نے براہ راست روسی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ کے براہ راست تصادم سے گریز کی حکمت عملی کے نتیجہ میں روس عالمی برادری میں تنہا رہ گیا ہے اور اس کی معیشت زوال پذیر ہے جبکہ اس کے برعکس امریکہ اپنے اتحادیوں کے ہمراہ دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔‘‘ اگرچہ روس کے علاوہ دیگر ممالک کی طرف سے اتنے بڑے دعووں کے بارے میں ردعمل نہیں آیا لیکن بعض مبصرین نے امریکہ کی دہشت گردی کے متعلق پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ آج بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا آغاز صدر بش نے 9/11 کے بعد کیا تھا۔ یعنی ’’یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے مخالف۔‘‘ یعنی کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ آزادانہ پالیسی اپنائے۔ بعض مبصرین اور بعض فرانسیسی سیاسی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ فرانس نے امریکہ کی بعض پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔ جس کی سزا اب انہیں دہشت گردی کے واقعات کی صورت میں دیکھنی پڑ رہی ہے اور یہ دہشت گردی بھی اس شکل و صورت کی ہے کہ انہیں براہ راست مسلمانوں سے لڑانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ داعش اور اس جیسی تنظیموں کو ختم کرنے کے بہانے اپنی طاقت کے پھیلاؤ کی پالیسی آج بھی جاری ہے اور اس کا اظہار کھل کر امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کیا۔ خاص طور پر یہ پالیسی کہ امریکہ ایسی تنظیموں کے خلاف یک طرفہ کارروائی کرے گا اقوام متحدہ کے چارٹر سے بھی براہ راست متصادم ہے۔ جس کا اقوام متحدہ کو بھی نوٹس لینا چاہیے۔ ایسے موقع پر اس قسم کے بیانات کے بارے میں مبصرین یہ رائے دے رہے ہیں کہ اس سے دنیا میں امن و سکون اور ریاستوں کے درمیان تعاون کی فضا پیدا ہونے کی بجائے مزید کھچاؤ بڑھنے کے آثار نظر آتے ہیں جن سے امریکی صدر کو پرہیز کرنا چاہیے تھا۔ خاص طور پر ان ممالک کے بارے میں کسی ایسی نرم پالیسی کا تذکرہ ضروری تھا جنہوں نے طویل عرصہ امریکہ کا ہر طرح سے دہشت گردی کی جنگ میں ساتھ دیا۔

امریکہ اس وقت پوری دنیا میں فوجی اور اقتصادی طاقت کے اعتبار سے اعلیٰ سطح پر ہے۔ اس کی یہ حیثیت اب تسلیم شدہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ روس اقتصادی لحاظ سے کہیں پیچھے چلا گیا ہے۔ اس کے ٹکڑے ہونے سے اس کی فوجی طاقت بھی بکھر چکی ہے۔ جس کا اندازہ روس کو بخوبی ہے۔

جہاں تک چین کا تعلق ہے اس کی پالیسی ابھی تک محدود ہے۔ اگرچہ چین اقتصادی طور پر تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس کی معیشت امریکہ کی معیشت سے بھی آگے نکلنے کو ہے لیکن فوجی اعتبار سے ابھی بہت پیچھے ہے۔ دنیا اس وقت ہر لحاظ سے امریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اگر امریکہ نے ایسی پالیسیاں اپنائیں جن سے دنیا کو فائدہ ہوا تو اس کا اثر رسوخ اور حیثیت بہت دیر تک قائم رہے گی لیکن اگر امریکہ نے ماضی کی طرح سخت پالیسیاں اپنائیں تو اس کا کسی صورت میں ردعمل بھی آ سکتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کے فیصلے بڑے سخت ہوتے ہیں۔ تاج برطانیہ کی مثال پوری دنیا کے سامنے ہے کہ اس کی سلطنت اتنی بڑی ہو گئی تھی کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور اب سکڑ کر اس قدر چھوٹی رہ گئی ہے کہ دھوپ آنے سے پہلے چلی جاتی ہے۔ فرانس نے بھی دور دور تک اپنی کالونیاں قائم کر رکھی تھیں لیکن بالآخر وہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ دنیا میں دیرپا پالیسی صرف ایک رہی ہے کہ ’’ جیو اور جینے دو ‘‘ اس کے علاوہ باقی پالیسیاں کسی نہ کسی وقت کمزور ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔ تاریخ میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جو ان حقائق کی تائید کرتے ہیں۔

موجودہ فکری طاقت” نئی فکری قیادت نے جو افراد دنیا کو عطا کیے ہیں وہ ایمان و یقین سے خالی ، ضمیر انسانی سے محروم ، حاسہ اخلاقی سے محروم ، محبت اور خلوص کے مفہوم سے نا آشنا ، انسانیت کے شرف و احترام سے غافل ہیں وہ یا تو لذت و عزت کے فلسفے سے واقف ہیں یا صرف قوم پرستی اور وطن دوستی کے مفہوم سے آشنا ہیں ، اس نوعیت اور صلاحیت کے افراد خواہ جمہوری نظام کے سربراہ ہوں یا اشتراکی نظام کے ذمے دار کبھی کوئی صالح معاشرہ ، پُر امن ماحول اور خدا ترس و پاک باز سوسائٹی قائم نہیں کر سکتے۔ اور ان پر خدا کی مخلوق اور انسانی کنبے کی قسمت کے بارے میں کبھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔”

مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی

بشکریہ روزنامہ’’نوائے وقت‘‘

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s