سانحہ پشاور—-اسباق ، احتیاط اور تقاضے


09 Saniha peshawar TITLE

ربیع الاول، ربیع الثانی1436ھ

جنوری، فروری2015ء شمارہ 34 اور 35

 پاکستان

سانحہ پشاور—-اسباق ، احتیاط اور تقاضے

رحمت بانوonline urdu

کسی بھی قوم کے مستقبل کا انحصار اس قوم کے بچوں پر ہوتا ہے۔ بچے ہی قوم کے معمار ہیں۔ انسانی زندگی کی شادمانیاں انہیں سے وابستہ ہیں۔

اسی طرح جنگی ضابطہ اخلاق میں بھی بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جاتا ہے اور جو قومیں اس کا خیال نہیں رکھتی ہیں دنیا بھر میں ہر سطح پر ان کی مذمت کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے لیے دسمبر کا مہینہ پُر از آزمائش ہی رہا ہے۔ اسی مہینے میں پاکستان دو لخت ہوا ، اسی ماہ میں پاکستان کی سابق وزیر اعظم کو قتل کیا گیا اور اسی مہینے میں کراچی میں ایک بہت بڑی مارکیٹ نذر آتش کی گئی۔ خدانخواستہ میں نحوستِ ایام کی قائل نہیں بلکہ محض ایک تاریخی اتفاق کی طرف اشارہ کر رہی ہوں۔ اس اتفاق میں عالمی سازشی طاقتوں کا بھی دخل ہو سکتا ہے جسے کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ دشمن ہمیشہ حملہ کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے دن اور تاریخ کا انتخاب سوچ سمجھ کر ہی کیا کرتا ہے۔ اس لیے اگر ماہِ دسمبر پاکستان کے دشمنوں کے لیے کوئی خاص اہمیت رکھتا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 16 دسمبر ہی کی تاریخ تھی جب دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔ اس بار بھی دشمنوں نے 16 دسمبر ہی کی تاریخ کا انتخاب کیا اور ہماری قوم کے معماروں کو اپنا نشانہ بنایا۔ اہل پاکستان 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکہ کے عنوان سے یاد رکھتے تھے اب ان کے قلب پر 16 دسمبر کی تاریخ کے حوالے سے ایک نیا زخم سانحہ پشاور کے حوالے سے ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا ہے۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں جو سانحہ رونما ہوا یہ جدید انسانی تاریخ کے بد ترین سانحات میں سے ایک ہے۔ قراردادِ مذمت کر کے اس سانحے کی شدت میں کمی نہیں کی جاسکتی اور اشکباری کا فریضہ انجام دے کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اس سانحے کے اسباب و عوامل کو بغور دیکھنا ہوگا اور آئندہ کے لیے احتیاط و تقاضوں کو سمجھنا ہو گا۔

آرمی پبلک اسکول میں 134 بچوں سمیت 147 افراد محض چند گھنٹوں میں لقمہ اجل بن گئے ہم ان کی اس مظلومانہ شہادت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ پاکستان کئی برسوں سے حالتِ جنگ میں ہے اور اس جنگ کی بھاری قیمت ان بچوں اور ان کے اساتذہ نے ادا کی ہے۔ ان کی یاد سے کوئی پاکستانی اپنے دل کو کبھی محروم نہیں کر سکے گا۔ لیکن بحیثیت قوم ہمیں بھی اس سانحے پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔

سب سے پہلے دشمن کا تعیّن ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرمی پبلک اسکول کے حملہ آوروں کے جسموں پر شیطانی Tatos بنے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ کسی مسلمان کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ اس سے قبل بھی بعض دہشت گردوں کے جسموں پر ایسے ہی شیطانی نشانات پائے گئے تھے۔ مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہماری میڈیا اس کے ذکر سے اعراض کر گئی۔1972ء میں جب پاکستان دو لخت ہوا تو اس سے قبل بھی بھارت نے پاکستان میں سازشوں کے تانے بانے بنے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔ آج اس کے ثبوت میسر آ رہے ہیں۔ ہم سانحہ پشاور میں بھارتی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے امکانات کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہاں بھی افسوس ہوتا ہے کہ بھارتی میڈیا اپنے یہاں ہونے والی ہر چھوٹی بڑی کارروائی کا الزام پاکستان اور آئی ایس آئی پر ڈال دیتی ہے مگر ہماری میڈیا شواہد کے باوجود بھی امن کی آشا لیے بیٹھی ہے۔ سانحہ پشاور میں بھارتی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے امکانات کو اس لیے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی دخل اندازی اس شبے کو تقویت دیتی ہے۔ ہمیں عالمی طاقتوں نے دہشت گردی کی جنگ میں شامل کر لیا مگر فرنٹ لائن اتحادی بن کر ہمیں اس شمولیت کی جو قیمت ادا کرنی پڑی اس صداقت کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

اس سانحے سے جو اسباق ہمیں لینے چاہیے وہ ہمارے خیال میں حسبِ ذیل ہیں :

سب سے پہلے دشمن کا تعیّن کر لینا چاہیے۔ اور وہ تمام طاقتیں جو اس دشمن کی پشت پر ہیں انہیں بھی دشمن ہی سمجھنا چاہیے۔

یہ ٹھیک ہے کہ اسکول جیسی جگہوں پر دہشت گرد کارروائیوں کا خیال عمومی طور پر نہیں آتا مگر آرمی پبلک اسکول پر حملے کے حوالے سے دو ڈھائی ماہ پیشتر ہی ہماری ایجنسیوں نے با خبر کیا تھا۔ متعلقہ ذمہ دار اہلکاروں سے تفتیش کی جانی چاہیے اور جس کی غلطی ثابت ہو اسے قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔

ملک کے تحفظ کو یقینی بنانے والے اداروں میں موجود اہلکاروں کی جانچ پڑتال ہونی چاہیے تاکہ کوئی کالی بھیڑ ہماری صفوں میں داخل نہ ہونے پائے کیونکہ آرمی پبلک اسکول جیسے سانحات ملی بھگت کے بغیر انجام نہیں پا سکتے۔

دہشت گرد اور انتہا پسند جیسی اصطلاحات کے معنی متعین کیے جانے چاہئیں۔

سیاسی لیڈران اپنی سیاست چمکانے کی غرض سے ایک دوسرے پر دہشت گرد اور انتہا پسند جیسے الزامات عائد کرتے ہیں اس پر پابندی عائد کی جانی چاہیئے اور الزام لگانے والے سے ثبوت کا مطالبہ کرنا چاہیئے  کیونکہ ایسے الزامات کی تکرار ملک میں انتشار اور افتراق کا باعث بنتی ہے۔

اس سانحے نے ہمارے لیے احتیاط اور تقاضوں کی جن جہات کو متعین کیا ہے اس پر عمل در آمد بھی ضروری ہے۔ مثلاً

ہمارے سیاستدانوں ، وزراء ، اور سرکاری افسران کی سیکیورٹی کے لیے جتنی بھاری نفری لگائی جاتی ہے ان میں کمی کرکے مساجد ، اسکولز اور ہسپتالوں کی سیکیورٹی بڑھائی جانی چاہیے۔

سیکیورٹی نظام کو جدید آلات سے لیس کرنا چاہیئے۔ اور عوام میں بھی اس حوالے سے شعور کو بیدار کرنا چاہیئے۔

عوام کس طرح اپنا اور اپنے ملک کا تحفظ کر سکتے ہیں اس حوالے سے میڈیا کو پروگرام نشر کرنا چاہئیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ناچ گانوں کے پروگرام کے مقابلے میں ایسے پروگراموں کی ریٹنگ کم ہوگی مگر میڈیا کو اپنا قومی فریضہ ضرور انجام دینا چاہیئے۔

نجی اور ذاتی نوعیت  کے سوا قاتل خواہ کوئی بھی ہو اسے دہشت گرد ہی سمجھنا چاہیئے۔ مسلک یا فرقہ کی بنیاد پر تفریق کرنا ملک کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

سانحے ہر قوم میں آتے ہیں لیکن اگر ان سانحات کے اسباق ، احتیاط اور تقاضوں کو سمجھ لیا جائے تو آئندہ کے لیے ان سانحات کی تعداد کم ضرور ہو سکتی ہے۔ آرمی پبلک اسکول میں ہونے والا سانحہ کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا اس کا درد ہر صاحب اولاد شخص اپنے دل میں محسوس کر سکتا ہے۔ ہم بحیثیت قوم اب ایسے کسی بھی سانحے کا رسک نہیں لے سکتے اس لیے ہمیں اس سانحے سے سبق سیکھنا ہی پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

عبادات اور مادیات

” شریعت نے عبادات کا حکم دیا ہے ، جن کا مقصد اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا اور بندے اور مادیات کے درمیان تعلق کو معقول حد میں رکھنا ہے، بندے اور مادیات کے درمیان تعلق کو ختم کرنا شریعت کا منشا نہیں ہے ، شریعت نے کہیں نہیں کہا کہ مادی زندگی سے لوگ تعلق ختم کر دیں ، بلکہ شریعت نے اس تعلق کو ختم کرنے کو نا پسند کیا ہے، بے شمار احادیث اس مضمون کی موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس فکر اور عمل کو ناپسند فرمایا ہے۔ اس لیے عبادات کا مقصد اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر بنانا اور مادیات سے تعلق کو معقول حدود کے اندر رکھنا ہے۔”

ڈاکٹر محمود احمد غازی کی

” خطبات کراچی ” سے ایک اقتباس

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s