سورج کے آنسو


محرم و صفر 1436ھ

نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور    33گوشہ خاص14 soraj k aanso title

سورج کے آنسو

محمد احسن اللہ عظیم آبادیonline urdu

عظیم سیاستدانو! دانشورو !

آؤ آج تمہیں سنائیں اپنے غموں کی داستان ، اپنے آلام کی درد بھری کہانیاں ، ظلمت کے دس سالوں کی کہانیاں ۔

دیکھو یہ نرگس ہے ، یہ سوسن ہے ، یہ مریم ہے ، یہ دخترانِ عفت و پارسائی ہیں ، پاک دامن ، پاک سیرت ، یہ اپنی عمروں کی منزلوں پر منزلیں طے کر رہی ہیں مگر افسوس ابھی تک ان کے ہاتھوں میں مہندی رچ نہ سکیں۔

ادھر دیکھو یہ کلثوم ہے ، یہ گلشن ہے ، یہ شہناز ہے ، ان کی کہانیاں بھی بڑی رقت انگیز ہیں ، دکھوں سے بھرپور یہ جوان بیوائیں ہیں جن کے سہاگ ان کے سامنے اجڑے ہیں ۔ ان کے شوہر ان کی نگاہوں کے سامنے بڑی بے دردی سے شہید ہوئے ہیں ۔

اور انہیں دیکھو یہ منّا ہے ، یہ گڈّو ہے ، یہ شبن ہے ، آہ آج نہ انہیں پیار کرنے والا باپ ہے ، نہ گود میں لینے والی مائیں ، کون انہیں سینوں سے لگائے گا اب ۔ آج دھرتی کے دل پر یہ یتیم اور لاوارث ہیں ، ان کا مستقبل سیاہ ہے اور دربدر کی ٹھوکریں ان کا مقدر ۔

ان سے ملو یہ حیدر ہے ہے ، یہ جبار ہے ، یہ شہاب ہے ، کبھی یہ قوم کے مستقبل تھے ، وطن کے معمار تھے ، ان میں کوئی شاعر تھا فکر رَساں ، کوئی ادیب تھا پیام بر ، کوئی فنکار تھا تخیلات کا خالق اور کوئی فلسفہ کا طالب علم تھا ۔ کوئی تاریخ کا استاد ، تو کوئی ابھرتا ہوا ڈاکٹر تھا تو کوئی ماہر تعمیرات —-مگر آج یہ حزن و ملال کی زندہ تصویر ہیں ، فکروں سے نڈھال ، غموں سے چور چور ۔ نہ انہیں اپنی خوشی کا جینا نصیب ہے نہ اپنی مرضی کا کام۔

انصاف کا نام لینے والو ! ذرا ان بوڑھیوں کو دیکھو جنہیں سیکڑوں غموں نے وقت سے پہلے ہی اپاہج اور ناتواں بنا دیا ہے ، آج ان کے لیے خود ان کا وجود بارِ گراں ہے ان پر ۔

عدل و مساوات کی باتیں کرنے والو ! ان بوڑھوں سے بھی مل لو ، یہ کرار ہے ، یہ درانی ہے ، یہ شجاع ہے ، جن کے فولادی بازؤں نے تحریکِ پاکستان میں باکمال جوہر دکھائے تھے ، انہوں نے حریفوں سے ہمیشہ دادِ شجاعت لی تھی ، یہ وہ ہیں جن کے جوان عزائم نے یکتائے پاکستان کے لیے موت کو دستک دی تھی ۔ جن کے ولولوں نے پاکستان کی سالمیت کو سہارا دیا تھا —- مگر آج ، آج ان کی تلواریں ٹوٹ گئیں ہیں ، ان کے عزائم تاریکی میں ڈوب گئے ہیں اب یہ بے سہارا اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سہارا لیے زندگی کے دن گزار رہے ہیں ، اک حسرت و یاس کی زندگی ۔ بے کیف اور ویران ۔

انسانی حقوق کی باتیں کرنے والو ! آؤ آج ہم تمہیں بتائیں کہ کون ہیں ہم ۔ سنو ہم نے قیام پاکستان میں شانہ بشانہ ملّت اسلامیہ کا ساتھ دیا ہے ۔ ہم نے قیام پاکستان میں بے دریغ اپنے خوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ اس ملک خداداد کی بنیاد میں امرتسر سے گوہاٹی اور دربھنگہ سے راس کماری تک ہمارا خون ہی خون ہے ، سرخ اور گرم خون۔ ہم نے اپنے پیچھے باپ ، بیٹوں اور بھائیوں کو خون میں تڑپتے چھوڑا ہے۔ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے لاشوں کے انبار چھوڑے ہیں۔ پاکستان تاجِ برطانیہ کا کوئی تحفہ نہیں ، اس کے لیے ہم نے پاکستان پر حیدر آباد ، جونا گڑھ اور بھوپال کو نچھاور کیا  ہے ، تاج محل اور لال قلعہ کو قربان کیا ہے۔ اگر تم کو یقین نہ آئے تو بھارت کے چپہ چپہ سے قربانیوں کی کہانیاں سن لو ۔

——-اور جب 1971ء میں دبے پاؤں ایک انقلاب آیا اور دھیرے سے مشرقی پاکستان میں گھس آیا تو عظیم پاکستان کے در ودیوار لرز اٹھے ۔ پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ گئی ۔ اس وقت

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

دنیا جانتی ہے ایسے نازک وقت میں ہم نے محب وطن پاکستان کی طرح ملک کی سالمیت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ۔ ہم نے بابائے قوم کو یہی یقین دلایا تھا کہ اپنا آخری قطرہ کون تک وطن کی سلامتی کے لیے پیش کر دیں گے اور ہم نے ایسا ہی کر دکھایا ۔

دنیا والو ! زمانہ کی ستم ظریفی بھی دیکھ لو ۔ آج پاکستانی سیاستدان ہمیں نہیں پہچانتے ، ان کی نگاہوں میں ہماری بے لوث حب الوطنی کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ بابائے قوم کے تمام وعدے اسلام آباد کے سرد خانوں میں محفوظ کر دیئے گئے ہیں۔ ہمارے لیے وطن عزیز کے دروازے بند کر دیئے گئے ، کیا ہم نے اسی لیے پاکستان کا ساتھ دیا تھا —–؟

انسانیت کے پجاریو ! ہم دس سال تک سچائی کی تلاش میں سرگرداں رہے مگر افسوس ہمیں ہر گھاٹی پر ، ہر ڈگر پر موت ، افلاس ، بھوک اور ذلت کے سوا کچھ بھی نہ ملا ۔ آج اللہ کی اس بستی میں انسانیت مجروح ہو چکی ہے ، انصاف مردہ ہو چکا ہے ، کیا تم چاہتے ہو کہ ہم اسی طرح سسک سسک کر فنا ہو جائیں اور انسانیت دنیا سے رخصت ہو جائے ؟ آج اس سرزمین پر ہماری سب ہی چیزیں فنا ہو چکی ہیں :

زباں ضبط ، قلم ضبط ، فغاں ضبط

واعظین محراب و منبر ہمیں اللہ کا حکم سناتے ہیں :

” اگر مسلمانوں کے دو گروہ لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرادو پھر اگر ایک گروہ دوسرے پر ظلم کرے تو ظلم کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرے ۔”

رسول ﷺ کا فرمان بتاتے ہیں :

” ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرے نہ اسے بے سہارا چھوڑ دے ۔”

1971ء میں ہم پر قیامت خیز طوفان آیا اور آ کر گزر گیا ۔ دس سال سے ہم ظلمت اور تاریکی میں ڈوبتے چلے گئے مگر 90 کروڑ مسلم امہ میں سے کس نے اللہ کا حکم مانا ؟ کس نے نبی کریم ﷺ کے فرمان پر عمل کیا ؟

ان کی بے اعتنائیوں نے ہمیں اس سرحد پر کھڑا کر دیا ہے جہاں سے دو ہی رواستے نکلتے ہیں : خود کشی یا اللہ کے دین سے انحراف ۔

مجھے دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے

وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے

علامہ اقبال

مگر ہمیں یہ دونوں راستے منظور نہیں ۔

اللہ کے بندو ! سنو بھوک نے ہمیں زندگی بخشی ہے ، خوف نے توانائی عطا کی ہے ، موت نے جینا سکھایا ہے اور ذلت و خواری نے شعور زیست دی ہے ۔

شناور ڈوب کر دریا سے پار جاتے ہیں

وہ بازی جیت جاتے ہیں جو بازی ہار جاتے ہیں

یہ سن کر سورج اداس ہو گیا ، بہت اداس ، اس نے ویران سی ایک آہ کھینچی پھر حسرت سے دنیا پر نگاہ ڈالی اور بڑی افسردگی سے بولا :

” جو قومیں انصاف کا تقاضا پورا نہیں کرتیں وہ تا دیر زندہ نہیں رہتیں۔ یہی قانونِ قدرت ہے یہی آئینِ خداوندی۔ میں ہزاروں سال سے یہ تماشا دیکھتا رہا ہوں۔”

پھر اس کی اداس آنکھوں سے دو گرم گرم آنسو ٹپکے اور اسلام آباد کی زمین میں جذب ہو گئے ۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s