تقسیم پاکستان کا المیہ اور عالمی سازشی طاقتیں


محرم و صفر 1436ھ

نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور 33

گوشہ خاص

تقسیم پاکستان کا المیہ اور عالمی سازشی طاقتیں

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی09  Taqseem e Pakistan Title

online urdu

بر صغیر پاک و ہند کی تاریخ کا یہ خاص پہلو ہے کہ جب بھی مسلمانوں کو سیاسی اعتبار سے کسی بہت بڑے سانحے کا سامنا کرنا پڑا تو اس کی تہہ میں لازماً عالمی سازش کاروں کا بھی خفیہ ہاتھ تھا۔ یہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔

ٹیپو سلطان شہید ہندوستان پر مسلّط و غاضب استعماری قوتوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ ان کی موجودگی میں انگریز متحدہ ہندوستان پر اپنے اقتدار کی تکمیل نہیں کرسکتے تھے۔ اپنوں کی بے وفائیوں اور غیروں کی سازشوں سے بالآخر انہیں ناکامی ہوئی اور 1799ء کو سرنگا پٹم میں انگریزوں سے لڑتے ہوئے انہوں نے اپنی جان آزادی اور استخلاص وطن کے لیے قربان کر دی۔ لیکن ان کی اس ناکامی کے پیچھے عالمی فری میسنری کا بھی بھرپور کردار تھا ۔ جناب بشیر احمد اپنی کتاب  ” فری میسنری ” میں لکھتے ہیں :

” میسور کی دوسری لڑائی 1780- 1784ء میں حیدر علی کے خلاف فری میسن لاجوں میں سازشیں تیار ہوتی تھیں ۔ ایسے ہی شیر میسور ٹیپو سلطان کی برطانوی سامراج کے خلاف میسور کی جنگ 1799ء میں نظام کی افواج کی کمان جس انگریز جنرل آرتھر ولزلے کے پاس تھی وہ فری میسن تھا اور لارڈ ولزلے گورنر جنرل کا چھوٹا بھائی تھا ۔ ٹیپو سلطان نے برطانوی سامراج کو شکست دینے کے مجاہدانہ عزم کے لیے ایک تو فرانس کی مدد لی دوسرے وہ فرانس کی ایک انقلابی جماعت جیکوبن کلب Jacobin Club کے ممبر بنے ۔ اس کلب کے انقلابی نظریات کے باعث فری میسن اس کے سخت مخالف تھے ایسا معلوم ہوتا ہے فرانسیسی گرینڈ اورینٹ ٹیپو سلطان کو شکست دلوانے میں پوری پوری دلچسپی رکھتی

تھی ۔”[1]

غور فرمائیے ! فری میسنری نے ٹیپو سلطان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی محض زبانی تائید سے کام نہیں لیا بلکہ ہر طرح کی مدد کی حتیٰ کہ میدانِ حرب میں بھی ساتھ نہیں چھوڑا۔

ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد سیّد احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی تحریک جہاد کے خلاف بھی عالمی سازش کار متحرک رہے ۔ اوّلاً تو ان کی تحریکِ جہاد کے خلاف مذہبی و سماجی سطح پر رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی ۔ ان پر کفر کے فتوے لگوائے اور ہر طرح سے وابستگانِ تحریک کو بدنام کرنے کی مہم شروع  کی ۔ سیّد احمد شہید نے سب سے پہلے سکھوں کے خلاف جہاد کیا ۔ جس پر بعض مؤرخین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیّد احمد شہید انگریزوں کے ایجنٹ تھے اور انہوں نے سکھوں کی حکومت کے خلاف انگریزی ایماء پر جہاد کا آغاز کیا ۔ مگر یہ دعویٰ واقعات کے بالکل بر عکس اور حقائق پر ظلم کے مترادف ہے ۔ رنجیت سنگھ انگریزوں کا خاص نمائندہ تھا ۔ اس کا دربار یہودی اور عیسائی جنرلوں سے بھرا پڑا تھا ۔[2] 1831ء کی جنگ بالاکوٹ جس میں سیّد احمد

شہید اور شاہ اسماعیل شہید اپنے رفقاء کے ساتھ مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے ۔ اس جنگ میں سکھ فوج کی قیادت جنرل ونطورا کے سپرد تھی جو فرانسیسی فری میسن سے وابستہ اور نسلاً یہودی تھا ۔ ڈبلیو ، جی ، آسبرن لکھتا ہے :

” بعض مورخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ونتورا یہودی نسل سے تھا اور ان کا اصلی نام ربن بن تورا تھا ۔” [3]

بشیر احمد لکھتے ہیں :

” انگریز کے دور میں پنجاب میں فری میسنری تیزی سے پھیلی ، یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کے فرانسیسی افسر جنرل ونطورا Ventura اور جنرل الارڈ Allard فری میسن تھے اور فرانسیسی فری میسنری سے وابستہ تھے۔ انہوں نے سیّد احمد شہید کی تحریکِ جہاد کو کچلنے میں سکھ جنرل شیر سنگھ کی مدد کی جس کے نتیجے میں بالاکوٹ میں مجاہدین آزادی نے جام شہادت نوش کیا ۔” [4]

اس کے بعد تقریباً صد سالہ کامل استعماری دور میں برصغیر میں متعدد سازشیں پروان چڑھیں ، عالمی سازش کاروں نے فساد فی الارض کے متعدد بیج بوئے ، انہیں پروان چڑھایا جو بعد میں تناور درخت بن گئے ۔ عالمی سازش کار ایک ہشتِ پا کی طرح ہیں جنہوں نے بری طرح سے مسلمانانِ برصغیر کو جکڑ رکھا ہے ۔ یہاں اٹھنے والی ہر تحریک اور ہر اہم شخصیت پر ان کی نگاہِ خاص رہتی ہے ۔

تاریخ کی شہادت یہ جواز فراہم کرتی ہے کہ تقسیم پاکستان کے المیے کو بھی اس تناظر میں دیکھا جائے ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بر صغیر میں ابتداً جن مقامات پر فری میسن لاج قائم ہوئے ان میں بنگال سر فہرست ہے ۔

ہندوستان میں فری میسنری کو متعارف کرانے والے برطانوی فوجی افسران تھے۔ انہوں نے فورٹ ولیم بنگال میں 1728ء میں پہلی انگلش فری میسن لاج قائم کی ۔ اسی سال گرینڈ لاج انگلینڈ نے جارج پمفرٹ George Pomfret کو بنگال روانہ کیا تاکہ میسنری کو ترقی دی جائے۔ اس نے بنگال کی سیاسی صورتحال کی روشنی میں فری میسنری کا کردار متعین کیا اور ایک رپورٹ تیار کیا ۔ 1730ء میں کلکتہ میں 72 بنگالی لاجز کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ کیپٹن رالف فارونٹر Ralf Farewinter پہلا صوبائی گرینڈ ماسٹر بنا ۔[5]

قیام پاکستان کے وقت تک یہ لاجز بہت متحرک ہو چکے تھے ۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت سابق مشرقی پاکستان کے بڑے بڑے شہروں ڈھاکہ ، چٹا گانگ ، مرشد آباد وغیرہ میں فری میسن لاجز قائم تھیں ۔ ان کا تعلق براہ راست گرینڈ لاج انگلینڈ سے تھا۔ [6]

1948ء سے 1968ء کے دو عشروں میں فری میسنری بھرپور طور پر پاکستان میں کام کرتی رہی ۔[7]

1965ء میں پاک بھارت جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست ہوئی ۔ بھارت کی یہ ناکامی اصلاً عالمی سامراجی طاقتوں کی ناکامی تھی۔ جو کسی بھی طرح عالمی سازش کار برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست اسلامی اصولوں پر گامزن ہو اور کامیابی کے منازل طے کرے یہ عالمی استعماریت کے لیے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا تھا۔

یہودیوں کے بابائے قوم بن گورین نے جون 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیرس    ( فرانس ) میں یہودیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا ، یہ خطاب لندن سے شائع ہونے والے ایک یہودی جریدے ” جیوش کرانیکل ” Jewish Chronicle میں 9 اگست 1967ء کی اشاعت میں شائع ہوا تھا ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے جہاں یہودیوں کو ارض مقدس میں اسرائیلی تسلط کی مبارک باد دی وہیں ان کے لیے آئندہ کے اہداف بھی مقرر کیے ۔ اس میں سر فہرست ایک ہدف پاکستان بھی تھا ۔ اپنے خطاب میں پاکستان کے لیے موصوف نے جو کچھ فرمایا ، ملاحظہ کیجیے :

” یہودی تحریک کو پاکستان سے جو خطرہ لاحق ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور ہمارے ( اسرائیل کے ) وجود کے لیے ایک چیلنج ، اب ہمارا نشانہ پاکستان ہونا چاہیے۔ پاکستانی قوم یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے محبت کرتی ہے ، عالمی یہودی تحریک کا یہ فرض ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری اقدامات کرے ، ہندوستان کے باشندے ہندو ہیں ، ان کے دلوں میں پاکستان کے خلاف ہمیشہ نفرت بھری رہی ہے۔ اس لیے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ہندوستان کار آمد اڈہ بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس اڈے سے فائدہ اٹھائیں اور یہودیت اور صہیونیت کے دشمن پاکستان کو کاری ضرب لگا کر کچل دیں ، یہ کام نہایت رازداری اور خفیہ پلاننگ سے سر انجام دینا چاہیے ۔ ” [8]

بن گورین کے یہودی پیروکاروں نے اس نصیحت پر لمحہ بھر تاخیر کے بغیر عمل درآمد شروع کر دیا ۔ یہ بات کچھ کم حیرت انگیز نہیں کہ جس قوم نے 1965ء میں خود  سے چار گنا زیادہ طاقت رکھنے والے ملک کو ذلت آمیز شکست سے ہمکنار کیا تھا وہ قوم صرف 6 برس کے عرصے میں اس قدر کمزور کیسے ہو گئی کہ نتیجہ تقسیم ملک تک جا پہنچا ۔

یہودیوں نے محض بھارت کو اپنا فوجی اڈہ ہی نہیں بنایا بلکہ 1971ء کی جنگ میں تمام تر عسکری امداد بھی فراہم کی ۔ مدیر ” حکایت ” جناب عنایت اللہ مرحوم رقمطراز ہیں :

” بن گورین نے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بھارت کو اڈہ بنانے کی جو بات کی تھی اسے یہودی عملی شکل دے چکے ہیں ۔ یہ 1971ء کا واقعہ ہے۔ بھارت نے اپنی کمانڈو فورس جس کی تعداد پچاس ہزار سے اسّی ہزار کے درمیان تھی۔ بنگالی مسلمانوں کے بہروپ میں مشرقی پاکستان میں داخل کر دی تھی۔ اس فورس کو مشرقی پاکستان کے جنگلوں ، دلدلی علاقوں ، آبی رکاوٹوں اور نشیب و فراز سے بھرپور خطے میں گوریلا جنگ لڑنے کی ٹریننگ اسرائیلیوں نے دی تھی اور اس کا کمانڈر ایک یہودی جرنیل جنرل جیکب تھا جو اسرائیل نے بھارت کو بھیجا تھا۔ مشرقی پاکستان میں گوریلا اور کمانڈو آپریشن جنرل جیکب نے لڑایا تھا۔ پلاننگ بھی اسی کی تھی۔ اسے  مشرقی پاکستان جیسے جنگلاتی اور ندی نالوں کی افراط والے علاقوں کی جنگ کا ماہر تسلیم کیا جاتا ہے۔ دسمبر 1971ء میں جنرل نیازی کے پاس ہتھیار ڈلوانے کی دستاویز جنرل جیکب ہی لے کر ڈھاکہ گیا تھا۔” [9]

خورشید وارثی اپنی کتاب ” پاکستان اور ہشت پا ” میں لکھتے ہیں :

” اصل میں پاکستان کے دو لخت ہونے کا سانحہ اس سازش کا نقطہ عروج تھا جس کی داغ بیل یہودی مفکرین نے پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد ہی پاکستان میں اپنی فری میسن تنظیم کے گماشتوں کے ذریعہ ڈال دی تھی ۔ سول انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز فری میسن تنظیم کے ارکان نے شروع سے ہی مشرقی پاکستان کو اپنی نو آبادی بآور کرانا شروع کر دیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کے عوام میں احساس محرومی کو ابھارا جائے تاکہ اس کے رد عمل میں بنگالی قومیت کی تحریک کی نشو و نما ہو سکے۔ اس سے پہلے سلطنت عثمانیہ کی شکست و ریخت کرنے کے لیے یہ نسخہ آزمایا جا چکا تھا اور کامیاب ہوا تھا ۔ اب پھر وہی حربہ استعمال کیا گیا۔ اوّل بنگالی قومیت کو ایک منصوبے کے تحت پرورش کیا گیا ، پھر مشرقی پاکستان پر فوج کشی کروائی گئی تاکہ نفرتیں اپنی انتہا تک پہنچ جائیں اور پھر ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ مستانہ لگا کر دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کو جو لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں سے وجود میں آیا تھا اور عالمی صہیونیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا تھا ، دو لخت کر دیا گیا ۔ ” [10]

جناب نصرت مرزا کا ایک مضمون ” سقوطِ مشرقی پاکستان – علیحدگی کے عوامل اور کراچی ” کے عنوان سے روزنامہ ” نوائے وقت ” کراچی کی اشاعت بابت 4 جنوری 1996ء میں طبع ہوا تھا ۔ اس میں انہوں نے تقسیم پاکستان کے سانحے میں عالمی سازش کاروں کے کردار کی طرف بھی واضح اشارہ کیا ہے ۔ اس سے ان عالمی طاقتوں کے اغراض و مقاصد کیا تھے ، اس پر بھی مرزا صاحب نے روشنی ڈالی ہے ، لکھتے ہیں :

” اکثر لوگ سقوطِ مشرقی پاکستان کو سقوطِ ہسپانیہ یا اسپین سے متشابہ قرار دیتے ہیں اور کچھ لوگ اسے سقوطِ اسپین سے بھی بڑا المیہ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس المیہ سے امت مسلمہ کے نشاۃِ ثانیہ کی طرف بڑھتے ہوئے قدم رکے اور ایسا کرنے میں عالمی سازش کار فرما تھی ۔ جس کی تصدیق اب اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے حال ہی میں کر دی ہے کہ امریکہ پاکستان کی تقسیم میں دلچسپی رکھتا تھا ۔ جو لوگ سازش تھیوری کا مزاق اڑاتے ہیں وہ یا تو جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں یا صرف سطحی معاملات ان کے سامنے ہوتے ہیں یا جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں ، یا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ دوسرو ں کو دشنام دینے سے بہتر اپنے عیبوں پر نظر اور ان کو درست کرنا ضروری ہے ۔ میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بیج ہندوستان اور ہندوؤں نے پاکستان بننے کے وقت ہی بو دیئے تھے اور اس بیج کے اثرات کا احاطہ کرنے میں ہمیں ناکامی ہوئی۔ درست ہے ، لیکن ہمارے تضادات اور ہندوستان کا دباؤ مشرقی پاکستان کو توڑنے کے لیے کافی نہیں تھا ۔ اگر عالمی سازش کار فرما نہ ہوتی ، انٹر نیشنل سازش نے بھارت کو مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے اور ہماری حکومت کو اس سازش کو مکمل کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کرنے اور پاکستان کو حکومتی عمل سے تنہا اور کوئی امداد نہ ملنے کے عمل پر عمل پیرا کیا اور ایسے حالات پیدا کیے کہ پاکستانی فوج ہتھیار ڈالے :

پہلے منزل ، پس منزل ، پس منزل اور پھر

راستے دوب گئے عالم تنہائی میں

اور یہ ہوا کہ

اکیلے پار اتر کر نا خدا نے کہا

مسافرو ! یہی قسمت شکستہ ناؤ کی تھی

عالمی سازش اس وجہ سے کی جا رہی تھی کیونکہ اس وقت پاکستان کی مضبوطی کا تصور اجاگر ہو رہا تھا ۔ نہ صرف یہ بلکہ اس تصور کی وجہ سے عربوں کی دولت کے کچھ حصے نے پاکستان کی طرف رخ کیا ۔ جس میں بی سی سی آئی کے حسن عابدی نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ چنانچہ سقوطِ پاکستان کا مقصدپاکستان کی مضبوطی کے تصور کو توڑنا اور عربوں کی دولت کو پاکستان کی طرف رخ کرنے سے روکنا تھا ۔ 65ء کی جنگ بھی اس وجہ سے ہوئی اور کشمیر میں پاکستانی مداخلت بھی شاید اسی سازش کا حصہ ہو یا بن گیا اور جب 65ء کی جنگ سے پاکستان کی مضبوطی کا تصور نہیں توڑا جا سکا تو 71ء کی جنگ میں یہ حاصل کیا گیا ۔ اب پھر سے پاکستان کے بارے میں سازشیں ہو رہی ہیں ۔ بقول شاعر

اب روشنی ہوتی ہے کہ گھر جلتا ہے دیکھیں

شعلہ سا طواف در و دیوار کرے ہے

اس وقت پاکستان کی مضبوطی کے تصور کو توڑنا اور عرب دولت کے پاکستان کی طرف رخ کو موڑنا تھا ۔ آج پھر پاکستان کے ایٹم بم کے حوالے سے مضبوطی کے تصور کو توڑنا مقصود نظر آتا ہے۔” [11]

اسی طرح کموڈور ( ریٹائرڈ ) طارق مجید صاحب نے اپنے مضمون ” صہیونی سازش اور پاکستان ” ( مطبوعہ روزنامہ ” جنگ ” لاہور بابت 4 فروری 1993ء ) میں تقسیم پاکستان کے المیے کو عالمی یہودی سازش کا نتیجہ قرار دیا تھا ۔ چنانچہ بن گورین کے 9 اگست 1967ء کے بیان کو نقل کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں :

” کیا اس اعلانِ جنگ میں آپ پاکستان کے خلاف امریکہ ، روس اور برطانیہ کا حقیقی کردار اور 1971ء کی شکست کے اصل اسباب نہیں دیکھ سکتے ؟  کیا عالمی صہیونی ٹولی کے نمائندے بن گوریان نے واضح نہیں کر دیا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور فوجی قوت کو ختم کروانے اور اس ملک کی معیشت اور اس کی بنیادی ضروریات کے قومی اداروں اور صنعتوں کو یہودی سرمایہ داروں کے سپرد کروا دینے کا کام کون کر رہا ہے اور کس لیے کر رہا ہے ؟ "[12]

71-1970ء کے پاکستانی اخبارات اس امر کے گواہ ہیں کہ اس وقت کے مقتدر سیاسی رہنما ، محب وطن دانشوران اور ارباب علم مستقل ملک میں بیرونی سازشوں کا ذکر کر رہے تھے۔ عالمی سازش کار اور ان کے اندرونی گماشتوں کی نشاندہی ان اخبارات کی مدد سے بآسانی کی جا سکتی ہے ۔

تقسیم پاکستان کے المیے کے اصل اسباب کو جاننا بہت ضروری ہے ۔ ہم ان حقیقتوں کو  محض ایک مفروضہ قرار دے کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے ۔ اُس وقت قوم جن حالات سے گزر رہی تھی آج تشتت و افتراق میں اس سے کہیں بڑھ کر بری صورتحال کا سامنا ہے ۔ اُس وقت صرف بنگالیوں میں احساسِ محرومی پائی جاتی تھی اب پوری قوم ہی احساسِ محرومی کا شکار ہے ۔ حکمران طبقے نے اپنی شاہ خرچیوں سے قوم پر قرضوں کا بوجھ لاد دیا ہے ۔ ظلم کی کثرت ہی کثرت ہے اور انصاف کا وجود عَنقا ہو چکا ہے ۔دوسری طرف عالمی سازش کار ایک بار پھر پاکستان پر اپنی حریصانہ نظریں گاڑے بیٹھے ہیں ۔

اس وقت پاکستان کی ایٹمی قوت عالمی سازشی طاقتوں کے لیے عذابِ جانکاہ بنی ہوئی ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی بربادی ان کا اہم ترین مقصد ہے اس مقصد کے حصول کے لیے ان کی کوششیں بھی بالکل ظاہر ہیں ۔ 1974ء میں جب پاکستان نے ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ کا آغاز کیا تو 9 اگست 1976ء کو لاہور میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت کے پاکستانی وزیرِ اعظم ذو الفقار علی بھٹو کو دھمکی دی کہ پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام سے باز آجائے ورنہ ہم پاکستان کو عبرتناک مثال بنا دیں گے ۔ We will make a horrible example of you.

جنوری 1978ء میں برطانوی وزیر اعظم جیمز کالا ہان نے بھی پاکستان کو ایٹمی پلانٹ کی خریداری نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ اس وقت یہ حقیقت بالکل واضح ہو گئی کہ صرف امریکا ہی نہیں بلکہ دیگر عالمی طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ پاکستان ایٹمی پاور کے حصول سے باز رہے ۔

جون 1978ء میں عالمی طاقتوں کے اشارے پر فرانس کی کونسل آف فارن نیو کلیئر پالیسی نے پاکستان کے ساتھ کیے گئے ہر قسم کے ایٹمی معاہدے توڑ دیئے ۔

پاکستان عسکری اعتبار سے بہترین صلاحیتوں کا حامل ملک ہے مگر اس کے فوجی جوانوں کی قربانیاں سیاسی محاذ پر عالمی سازشی طاقتوں کے زیرِ اثر رائیگاں چلی جاتی ہے۔

یہ وہ ظاہر حقیقتیں ہیں جن سے ہم کسی بھی طرح صرفِ نظر نہیں کر سکتے ۔

گو صورت حال بہت ہی مایوس کن ہے لیکن آج ایک ایسی چیز ہماری قوم میں پروان چڑھ چکی ہے جو شاید 1971ء میں نہیں تھی ۔ وہ پاکستان میں عالمی سازشی خطرات کا ادراک ہے ۔ 1971ء میں یہ ادراک محض چند فیصدی طبقے کو حاصل تھا ۔ اب گو قوم اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار نہیں مگر اسے بخوبی اندازہ ہے کہ پاکستان میں جو کچھ انتشار و افتراق جنم لے رہا ہے اس کے پس پردہ عالمی سازشی طاقتیں ہیں ۔

اگر ہماری قوم اس ادراک کی قوت جان لے اور اپنی بساط کے مطابق ہی سہی عمل کا فریضہ انجام دینے کی ٹھان لے ۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ شامل کرے اور اس کی تخریب میں نہ صرف یہ کہ کوئی کردار ادا نہ کرے بلکہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف ڈٹ جائے ۔  تو ہم پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام کر سکتے ہیں ۔

راقم الحروف نے مجلہ الواقعہ میں طبع ہونے والے اپنے ایک داریے بعنوان ” پاکستان – تاریخ کے دوراہے پر ” کے اختتام پر لکھا تھا ، اور اسے ہی اپنے اس مضمون کا اختتامیہ بھی بنا رہا ہوں کہ

” آج پاکستان اپنی تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے ۔یہ ہم سب کا پاکستان ہے جسے ہم نے بے شمار قربانیوں ، ان گنت سسکتی لاشوں اور شرم و حیا کی مقدس عصمتوں کو لٹا کر حاصل کیا ہے ۔ کیا ہم اسے تباہ و برباد ہونے دیں گے ؟ ہمیں من حیث القوم اسے بچانا ہوگا ۔ اس کے لیے نہ ہمیں ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی کا آلہ کار بننے کی ضرورت ہے ۔ ضرورت ہے تو صرف ایک ذمہ دار پاکستانی بننے کی۔ صرف شعور و آگہی کا حصول کریں اور اسے  عام کر دیں۔ یقین جانیے ہم تاریخ بدل دیں گے۔ ” [13]

[1]      فری میسنری : 139 – 140

[2]   تفصیل کے خواہشمند ڈبلیو ، جی ، آسبرن کی کتاب “The court and camp of Ranjeet Singh” ملاحظہ کریں ، جس کا اردو ترجمہ مالیر کوٹلہ کے نواب ذو الفقار علی خاں نے کیا تھا ۔ 2009ء میں اس کا ایک ایڈیشن آتش فشاں پبلی کیشنز لاہور سے طبع ہوا ۔

[3]    رنجیت سنگھ کا دربار : 125

[4]     فری میسنری : 141 – 142

[5]    فری میسنری : 138

[6]     فری میسنری : 257

[7]   فری میسنری : 258

[8]    بحوالہ فلسطین اور بین الاقوامی سیاسیات : 516 – 517 از پروفیسر حبیب الحق ندوی

[9]     ” حکایت ” ( لاہور ) : ستمبر 1982ء ، مجلہ ” الواقعۃ ”  (  کراچی ) شمارہ نمبر 17 شوال 1434ھ

[10]     پاکستان اور ہشت پا : 3 / 115

[11]    پاکستان اور ہشت پا : 1 / 91 – 93

[12]     پاکستان اور ہشت پا : 1 / 89

[13]   مجلہ ” الواقعۃ ” کراچی شمارہ نمبر 3 بابت شعبان المعظم 1433ھ / جون جولائی 2012ء

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s