کچھ گوشہ خاص کے بارے میں


محرم و صفر 1436ھ

نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور 33

گوشہ خاص

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

کچھ گوشہ خاص کے بارے میں

08 kuch gosha khas Title

online urdu

بنگلہ دیش کا قیام

بنگلہ دیش کا قیام ، دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کو توڑ کر عمل میں آیا۔ یہ اسلامی تاریخ کے بڑے سانحات کے زمرے میں آتا ہے ، مگر بد قسمتی سے عوام الناس تو کجا ، خواص اور اشرافیہ نے بھی کبھی اس سانحے کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہیے تھی۔ اس سانحے کے پس پردہ محرکات پر بھی نظر نہیں ڈالی گئی اور نہ ہی اس سانحے کے نتائج و عواقب ہی کو ضروری سمجھا گیا ، گو اس سانحے کے متعدد عوامل ہیں لیکن ہمارے نزدیک اس سانحے کے تین بنیادی محور ہیں :

سانحے کے تین بنیادی محور

بنگلہ دیش کے قیام کے مختلف سیاسی محرکات تھے ، بنگالیوں کی احساسِ محرومی جو بغاوت پر منتج ہوئی ، مکتی باہنی اور بھارت کا گٹھ جوڑ اور ان کی مشترکہ سازشیں وغیرہا۔ مگر ان سب سے اہم اس کے پس منظر میں عالمی سازشی طاقتیں بھی ملوث تھیں۔ عالمی سازش کار اور ان کے اندرونی گماشتوں نے تقسیم کی راہ آسان کی۔ وگرنہ بھارت اور مکتی باہنی مل کر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کو دولخت کرنے کی نہ ہمت رکھتے تھے اور نہ ہی طاقت۔

جن لوگوں نے بنگلہ دیش کی سرزمین میں بیٹھ کر پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔ ان کے مستقبل کے بارے میں نہ پاکستانی سیاستدانوں نے کبھی زحمتِ تفکر گوارا کی اور نہ ہی پاکستانی افواج نے۔ یہ عام افراد تھے ، جنہیں اب ” محصورینِ پاکستان ” یا ” بہاری ” کہا جاتا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت ان کی ذمہ داری نہیں تھی۔ مگر یہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کے لیے افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ نتیجے کے طور پر انہیں جس ظلم و بہیمیت کا سامنا کرنا پڑا وہ تاریخ سے پوشیدہ نہیں۔ آج 43 برسوں بعد بھی جب کہ دنیا گردش لیل و نہار کی نا معلوم کتنی ہی ساعتیں دیکھ چکی ہے مگر ان محصورینِ پاکستان کی زندگی ساکت و جامد ہے۔ پاکستان کے جائز وارثوں کو سرزمین پاکستان میں جگہ نہ ملی۔ آج پاکستان میں ان سے کہیں زیادہ کی تعداد میں دوسرے غیر ملکی آباد ہیں۔ یہ تقدیر کا انتقام ہے اور قوموں کے ساتھ الٰہی ضابطہ۔

تقسیم پاکستان کا سانحہ رونما ہوا اور گزر گیا ۔ اس کے کیا اثرات مستقبل میں اثر پذیر ہو سکتے تھے اس پر قوم کے سنجیدہ طبقوں نے کبھی غور و فکر نہیں کیا۔ ارباب اقتدار آج بھی انہیں ہی اپنا دست و بازو سمجھتے ہیں جنہوں نے عین محاذِ جنگ میں دھوکہ دیا۔ جو حالات تقسیم پاکستان کے المیے کا جواز بنے۔ اب دوبارہ ویسے ہی حالات رونما ہو رہے ہیں۔ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتی ہیں ، تاریخ کی بے رحم سیاہی بھی ان کی تقدیر پر خطِ تنسیخ پھیرنے میں دیر نہیں کرتی۔ ہمیں بہر صورت تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا ، ہمیں ہر حال میں جاگنا ہوگا ، دوسرا کوئی راستہ نہیں۔

—- —- —-

محمد احسن اللہ ڈیانوی عظیم آبادی

محمد احسن اللہ ڈیانوی عظیم آبادی ( 1921-1995ء ) علمی اعتبار سے مشہورِ انام ، دولت و ثروت کے اعتبار سے مستحکم اور جاہ و حشم کے اعتبار سے بہار کے معروف خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے دادا بزرگوار علّامہ شمس الحق عظیم آبادی عالم اسلام کے مشہور و معروف محدث و محقق تھے۔ انہوں نے سنن ابی داود کی ایک شرح ” عون المعبود ” کے نام سے لکھی جو اس قدر مقبول و متداول ہوئی کہ ایک عرصہ سے اس کا درس کعبۃ اللہ میں دیا جا رہا ہے۔ ان کے تلامذہ میں عرب و حجاز کے متعدد علماء شامل ہیں ، جن میں امام مسجد نبوی ﷺ شیخ صالح بن عثمان بھی شامل ہیں۔

محمد احسن اللہ کا نانہیالی نسب نامہ مغلیہ دور کے آخری گورنر بہار سے جا ملتا ہے۔ ان کے پر نانا مولانا حکیم ارادت حسین صادق پوری ، سیّد احمد شہید کے جانشین مولانا ولایت علی صادق پوری کے خلیفہ اور بھتیجے تھے۔ تحریکِ جہاد کی عالمی سطح پر سفارت کی غرض سے مکہ مکرمہ ہجرت کر گئے تھے وہاں انہوں نے حرمین شریفین کے لیے مختلف خدمات انجام دیں اور وہیں جنت البقیع میں امّ المومنین سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی قبر کے برابر آسودہ لحد ہوئے۔

جناب محمد احسن اللہ نے زندگی کی بیشتر نعمتوں سے دست کش ہو کر ان محصورین پاکستان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان  کے المیوں کو اپنے لفظوں کی زندگی عطا کی۔ ان کی یہ تحریریں محض یہ نہیں کہ محصورین کے غموں کی آواز ہیں بلکہ اردو ادب میں بھی ایک قابلِ قدر اضافہ ہیں۔ افسوس کہ زیادہ تر تحریریں اب دسترس میں نہیں۔ جو ہیں ان میں سے بیشتر منتشر ہیں اور کچھ غیر مطبوعہ ہیں۔ ان تحریروں میں سے چند منتخب تحریریں اس گوشہ خاص کا حصہ بنائی جا رہی ہیں۔ یہ تحریریں 1978ء تا 1980ء کے دوران لکھی گئیں۔ ان کی تحریریں اخبارات و جرائد میں جاوید میر پوری کے نام سے شائع ہوئی تھیں جو محمد احسن اللہ کی شخصیت کا سابقہ عنوان ہے۔

ان تحریروں میں زندگی کی کئی حقیقتیں مستور ہیں۔گو ہمیں علم ہے کہ یہ تحریریں اگر صفحہ ہستی پر ثبت بھی ہو جائیں تو ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ، اب ریت دنیا بدل چکی ہے ، اب علمی ٹکسال کے طور طریقے بدل چکے ہیں ، یہاں چڑھتے سورج کی نہیں بلکہ چڑھ جانے والے سورج کو سلامی دی جاتی ہے ، ان تحریروں میں خواہ زندگی کی کتنی ہی ٹھوس حقیقتیں کیوں نہ پنہاں ہوں مگر یہ غم و الم کا ترانہ ہیں ، حسرت و یاس کی تصویر ہیں ، اور یہاں

کون بہتے ہوئے اشکوں پر نظر کرتا ہے

لوگ ہنستے ہوئے چہروں کو دعا دیتے ہیں

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s